Machine transcription
٣٤
موم دنیا می سازد .
امان الله میگوید :
« مقاله که بنام میرزا میر غلام خان
شایع شده از قلم او نیست ، و
ریو تر خبر عیسوی شدن امان الله
و خانم او را که شایع کرده آنهم
از طرف ریو تر نیست »
مرے ۔
امان اللہ کہتا ہے :۔
”جو آرٹیکل کہ میرزا میر غلام خان کے
نام پر شائع کیا گیا ہے وہ در اصل اسکے
اپنے قلم سے نہیں ہے ۔ اور امان اللہ
اور اسکی اہلیہ کے دین عیسوی قبول
کرنے کی خبر بھی جو ریو ٹر کیطرف
منسوب کی گئی ہے وہ ریوٹر نے
شائع نہیں کی“۔
جواب
(مقاله میر غلام نمونه از حسیّات ملّی است)
میرزا میر غلام خان را هر کس می شناسد
و در کابل بہمہ قارئین معلوم است ، مقاله که در راد
امان الله آتش زده از میرزا میر غلام خان است
یا نه ؟ محمد نادر شاه مگر کاری ندارد که محض اوقات
عزیز خود را بمقاله نویسی و آنهم برضد امان الله صرف کند
مگر امان الله را در غیاب نادر شاه ملت ندید
و از اعمال و عقائد او مطلع نیست ؟ محمد نادر شاه
که پنج سال از مملکت دور مانده است از بسیار
جواب
(میر غلام کا مضمون اصل قومی جذبات کا نمونہ ہے)
میرزا میر غلام خان کی شخصیت ایسی نہیں جو مجہول
او مجمل ہو اسکو کابل میں ہر خورد و کلان اچھی طرح
پہچانتا ہے ۔ آیا قارئین مضمون کی طرز تحریر ادرا ہ سے
اندازہ نہیں لگا سکتے کہ اسکے لکھنے والا میرزا
میر غلام خان ہے یا کوئی اور شخص ؟ کیا محمد نادر شاہ
افغان کو اتنی بڑی سلطنت کے کاموں سے اتنی
فراغت مل سکتی ہے کہ وہ اپنے قیمتی اور
مفید وقت کو مضمون نگاری کی نذر کر دے؟
اور پھر وہ بھی امان اللہ جیسے شخص کے
خلاف ۔ کیا ملت نے امان اللہ کو محمد نادر شاہ کی
غیبوبت میں نہیں دیکھا ہے اور اسکے اعمال
و عقائد سے واقف نہیں ہے ؟ محمد نادر
شاہ افغان جو پانچ سال اپنے وطن سے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
