BrowseTardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ → page 36

Page 36

Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ · pages 1–125


Page image — the source of record

Scanned page 36 of Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ

Machine transcription

۳۳ وا مان الله مانع شد ، یک چیز مضحک است اگر اینطور بود، چرا اهل و عیال ثانی خود و تمام خاندان خویشس را بانو امیس ملت در پنجه وحشت سقاوی گذاشت؟ آیا در صورتیکه پیر هفتاد ساله و طفل دوازده ساله برای فدا کردن بر کاب امان الله حاضر بودند امان الله چرا خضیه خود را خلع کرد؟ و خیمه قندها رقرار نمود؟ لازم بود با پیران هفتاد ساله و طفلان دوازده ساله مشوره میکرد و برای آنها یک راه نجات و انمود میساخت . آیا امان الله خان با وزرا ی خویش و اهل کابل مشوره و یا لاقل وداعی هم کرده است ؟ از کی در باب فرار خود بطرف قندهار پرسیده بود ؟ امان الله میخواهد باین بهانه های خام بزدلی خویش را رحمدلی بدنیا معرفی کند، دنیا چشم و گوش دارد، حیف است که هنوز هم با کلام طفلانه خود را رسوا و واقعہ بیان کو پڑھتے ہیں کہ ملت تو میرے لئے قربانی دیتی ہوتی تھی لیکن میں نے خونریزی کے خیال سے اسکو منع کیا " اچھا اگر ایسا ہی تھا تو کیوں امان اللہ اپنی دوسری بیوی اور اپنے خاندان کے اہل عیال کو اور اپنی جان نثار و وفادار ملت کے ناموس دعوت کو سقے کے پنجہ ظلم و وحشت میں پھنسا گیا ؟ جس صورت میں ستر سال کا بوڑھا اور بارہ سال کا لڑکا امان اللہ کی رکاب میں اپنا خون بہانے کیلئے حاضر اور تڑپ رہا تھا بھگوڑا امان اللہ کیوں چپکے سے تخت سے دستبردار ہوگیا؟ اور چھپکر قندھار بھاگ گیا انسانیت اور احسان کی جزا کا تو یہ تقاضا تھا کہ ہفتاد سالہ فدا کار بوڑھوں اور دوازدہ سالہ جان نثار بچوں کے ساتھ صلاح و مشورت کرتا اور انکو ایک نجات کا راستہ بتاتا۔ (اجی کیا کہنے ۔ وفادار ملت کو عجب دلداری ملا تھا ؟) کیا امان اللہ نے اپنے وزیروں ، اہلکاروں اور کابل کے باشندوں کے ساتھ مشورہ کرنا تو درکنار چھو الوداع بھی کہی؟ آیا کسی سے پوچھا کہ میں کابل کو چھوڑ کر قندھار بھاگ جاؤں یا نہ ؟" امان اللہ چاہتا ہے کہ ایسے ایسے بودے بہانے اور عذر لنگ تراشکر اپنی بزدلی اور بیوقوفی رحمدلی اور وفاداری کا جامہ پہنائے حالانکہ خود اسکی موجودگی میں اور اس کے بھاگ جانے کے بعد افغانستان کی ملت خاک وخون میں لوٹتی نظر آتی ۔ دنیا کے کان سنتے ہیں اور آنکھیں دیکھتی ہیں۔ لیکن حیف ہے کہ امان اللہ اب بھی اپنی طفلانہ حرکات ، اپنے بھدے خیالات اپنی بھونڈی دلیلوں اور اپنی کچی باتوں سے اپنی مٹی پلید کر رہا ہے ۔ اسکو تو چاہیے کہ چلو بھر پانی میں ڈوب

Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.


Cite this page
Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ, page 36. Afghanistan Digital Library, New York University Libraries. Machine-transcribed text: Afghan Press Archive, https://afghanpress.org/book/adl0111/36 (accessed [date]).
Permalink
https://afghanpress.org/book/adl0111/36
Machine-readable
JSON · IIIF manifest · Canvas
Source
Afghanistan Digital Library record