Machine transcription
۸۸
درگذر کی روشن مثالین یہ ہین کہ جلا روطن و فراری افغان اسی صفت کی بدولت افغانستان
مین جلیل القدر مناسب پر معمور ہین۔
ایک دانشمند بادشاہ کی حکایت ہے کہ تین مجرم ایک ہی جرم کے اُس کے روبرو
پیش ہوئے۔ بادشاہ نے تینون مجرمون کے قیافہ کو بغور دیکھا۔ اُن مین سے ایک
شخص سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ یہ بات تمہارے لیے نازیبا تھی۔ دوسرے کو خفیف
سرزنش کی۔ تیسرے کو پوری سزادی۔ دوسرے دن معلوم ہوا کہ جسے زبانی فہمائش
کی تھی وہ مر گیا۔ جسکو خفیف سزادی تھی اُس نے جلاوطنی اختیار کی۔ اور جسکو پوری
سزا دی تھی وہ شہر مین خوش پھر رہا تھا۔
اعلیحضرت کا درگذر ایسے لوگون کے ساتھ ہے کہ جو اپنے معافی قصور کی قدر کرتے ہین
نہ اُن گنہگارون کے ساتھ جو معافی کے بعد جسارت کرین۔
ترحم امیر عبدالرحمن خان مرحوم کی نسبت داستانین قہاری و جباری کی مبالغہ
کے ساتھ مشہور تھین مگر وہ حقیقت مین ایسے نہ تھے۔ افغانستان کی حکومت جس حالت
مین اُن کو ملی تھی اوسکا اقتضا اور ملکواری کا تقاضا یہ تھا کہ کسیقدر سختی سے کام لین
اسوجہ سے امیر مرحوم کی نسبت شہرتین رحم کے خلاف تھین۔ لیکن ہز مجسٹی امیر
موجودہ شروع سے ہی رحیم مشہور ہین جو مجرم امیر مرحوم کے سامنے آنے مین خوف
کرتے تھے اُن کو موجودہ امیر کا رحم درگذر کے لیے حاضر کر دیتا ہے۔
آپ کے رحم کی ایک حکایت قابل سُننے کے ہے۔ اگست ۱۹۰۳ء مین ہنگام
شکار ایک ضعیف العمر شخص کو اپنے اپنے ہاتھ سے کٹی کرتے دیکھا۔ اُس کے پاس
جا کر از راہ مراحم شاہانہ فرمایا کہ تم اس عالم پیری مین کیون اتنی تکلیف گوارا کرتے
ہو۔ کیا کوئی اولاد نہین۔ اُس نے عرض کیا کہ مین گھر مین تنہا ہون۔ ایک لڑکا
ہے وہ فوجی خدمت انجام دیتا ہے۔ یہ سُننے کے بعد آپ اُس کو اپنے ساتھ جاری کیا
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
