Machine transcription
۵۴
اول اونی کارخانے مین قدم رنجہ فرمایا۔ دستکاری سے خام اون کے کپڑے
بنتے دیکھے جن کی عمدگی کی تعریف فرمائی۔ پہر کوپر الن کے کارخانے کو
دیکھا۔ بوٹ و شو و دیگر چرمی فوجی سامان کو بنتے دیکھ کر نہایت دلچسپی
ظاہر کی۔ یہان فیکٹری کے ایک کاریگر نے تیس منٹ مین بوٹ تیار کر دیا
اس پر کوئی تعجب نہین ہوا۔ فرمایا کہ کابل مین بتیس منٹ مین تیار
ہو جاتا ہے۔ ہر ایک چیز کو ہر جگہ بغور دیکھا۔ ملون کے انجینرون سے
متعدد سوالات کئے۔ پانچ ہزار بوٹون کی فرمایش دی اور بھی بہت سا
سامان خرید فرمایا۔ ایک کارخانے مین ایک برش ہاتہہ مین لیکر دیکھنے
لگے ایجنٹ نے احتیاطاً و ادباً عرض کیا کہ یہ سور کے بالون کا ہے ہنسکر
جواب دیا کہ خشک بالون کے چھونے مین کچھ ہرج نہین۔
ایک اسلامی ڈیپوٹیشن پیش ہوا۔ حافظ محمد حلیم نے ایک قلمی
کلام اللہ و دلائل الخیرات پیشکش کئے قرآن مجید کی نسبت عرض کیا کہ
عہد عالمگیر مین عارف ہروی نے لکھا تھا جس کے صلہ مین یاقوت رقم
خطاب پایا۔ ان ہدایہ کو اعلیحضرت نے بطیب خاطر قبول فرمایا۔
شام کو نمایش خیمہ کا معائنہ کیا جس مین قسم قسم کے صنعتی اشیاء
کے نمونے دکھلاے گئے بعدہٗ شب کو ٹرین روانہ گوالیار ہوئی۔
۱۸۔ جنوری ۱۹۰۷ء کو ہزمیجسٹی رونق افروز گوالیار ہوئے۔ ہزہائینس
مہاراجہ صاحب گوالیار نے معہ اپنے سرداران کے شاہانہ استقبال
کیا۔ اپنے سردارون کو پیش کیا۔ سلامی سر ہوئی۔ ہزمیجسٹی کو خود
مہاراجہ صاحب نے سونے کے پھولون کا ہار پہنایا۔ ریلوے اسٹیشن
سے محل تک رجمنٹ رسالہ و ریاست کا کیڈٹ کور کا اسکورٹ ہمراہ
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
