Machine transcription
۲۰
دستہ افغانستان بھیجیا گیا جسنے جاکر فتنہ و فساد کو بالکل مٹا دیا لیکن انگریزوں کو معلوم ہوگیا
کہ کوئی کمزور آدمی افغانستان پر حکومت نہیں کر سکتا اور نہ اوس سے روس کی روک کیجا سکتی
ہے کسی نئے شخص کے بجائے امیر دوست محمد خان کو ہی بصیرت تمام کابل پہونچا دیا
وہ ہر فرمان روائے کابل ہوئے ۱۸۵۰ء میں باہم امیر دوست محمد خان و گورنمنٹ انگلشیہ
کے عہد نامہ ہوا۔ دوست محمد خان امیر تسلیم کئے گئے اور اس عہد نامہ کی رو سے امیر افغانستا
نے انگریزوں کی دوستی کا اعتراف اور روسیوں کی سد راہ ہونے کا اقرار کیا اس معاوضہ
میں بارہ لاکھ روپیہ سالانہ وظیفہ افغانستان کو دیا جانا منظور کیا گیا ۱۸۶۳ء تک امیر
دوست محمد خان انگریزوں کے دوست رہے۔
امیر شیر علیخان بعد وفات امیر دوست محمد خان کے امیر شیر علیخان جانشین ہوئے۔ آپسمین
بھائیوں میں خانہ جنگیاں ہوئیں اونکے بھائی امیر محمد افضل خان نے ایکمرتبہ امیر شیر علیخان سے
کابل و قندہار چھین لئے۔ اعظم خان برادر حقیقی امیر محمد افضل خان کی ناقص تدبیروں و کوتا
اندیشیوں نے شیر علی خان کو مایوس ہونے دیا وہ برابر لڑتا رہا۔ یہانتک کہ امیر محمد افضل خان
کا انتقال ہوا۔ امیر اعظم خان و امیر عبد الرحمن خان کو افغانستان چھوڑنا پڑا۔ چچا و بھتیجے
ایران پہونچے جہان اونکا شاہانہ استقبال کیا گیا۔ اعظم خان مشہد مقدس سے طہران کا اراد
کر رہے تھے کہ داعی اجل لبیک پکارا۔ اور امیر عبد الرحمن تنہا رہ گئے۔ اونہوں نے ایران چھوڑ کر
روس کا قصد کیا۔ روس نے انکو ہاتھوں ہاتھ لیا اور ہر طرح کی امید دلائی ۱۸۶۸ء میں امیر شیر علیخان
نے اپنی حکومت کو مستحکم کر لیا۔ انگریزوں نے اونکو امیر تسلیم کیا ۱۸۶۹ء مین لارڈ میو وائسرائے ہند
نے امیر شیر علی خان کو انبالہ میں شاہانہ دعوت دی۔ بعد ازاں امیر شیر علیخان نے کابل میں روسی
ایلچی کا خیر مقدم اعزاز کے ساتھ کیا۔ برٹش مشن کو سرحد پر روک دیا۔ اسپر لارڈ لٹن نے اعلان
جنگ کر دیا ۔ فوج افغانستان کی طرف بڑہی۔ ایک مقام سرحدی پر قبضہ کر لیا ۔ جب امیر
شیر علیخان نے دیکھا کہ انگریز کابل پر چڑ ہے چلے آتے ہیں۔ تو روس کی امداد کی سلسلہ
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
