Machine transcription
۲۱
جنبانی شروع کی ۔ روسی ترکستان کے حاکم سے مدد مانگ بھیجی جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزوں
نے اپنی پیشقدمی روک دی۔ اسکے بعد امیر شیر علی خان آخر زندگی تک انگریزوں کے
خلاف اور روسیوں کی طرف مائل رہا۔ علی الاعلان روسی وفد کو کابل بلایا جس نے
کابل پہونچکر روسی گورنمنٹ اور حکومت افغانی کے مابین ایک معاہدہ کر دیا اس عہد نامہ
میں امیر شیر علیخان نے وعدہ کیا کہ وہ ہمیشہ روس کا طرفدار دوست رہے گا یہ وفد کابل ہی
میں تھا کہ انگریزوں نے پھر اپنا ایک کمیشن معاملات سلجھانے کے لئے افغانستان روانہ
کیا۔ امیر شیر علیخان نے کمیشن کی بار دہی سے انکار کر دیا۔ ناچار انگریزوں کو افغانستان
کی ملتوی شدہ جنگ کی از سر نو تجدید کرنی پڑی ۔ امیر شیر علیخان شکست کھا کر کابل سے
بھاگ گئے اور ۱۸۷۹ء میں بلخ میں قضا کی انکی وفات کے ساتھ ہی جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔
امیر یعقوب خان | انکے بعد امیر یعقوب خان سر برآراء حکومت ہوئے ۔ امیر شیر علیخان
مرحوم کے زمانہ میں کوئی برٹش ایجنٹ نہ تھا۔ امیر یعقوب خان کے حکومت کا ابتدائی زمانہ
تھا وہ دوست و دشمن سے ناآشناے محض تھے ۔ رعایا پر پورا تسلط نہوا تھا کہ میجر گناری
جو پیشاور میں ڈپٹی کمشنر تھے اور بر بنا و واقفیت سرحدی ہر طرح کابل کے لئے مناسب
تھے نگرانی کے لئے روانہ ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ برٹش افسر مارے گئے انکے ساتھی بھی ہلاک
ہوئے ۔ اسپر تیسری جنگ افغانستان شروع ہوئی اور ۱۸۸۰ء تک قایم رہی۔ انگریزی
فوج کی کمان لارڈ رابرٹس کے ہاتھ میں تھی افغانی فوج کو شکست ہوئی۔ امیر یعقوب خان
نظربند ہو کر ہندوستان آئے۔ انہی لارڈ رابرٹس کی کامیابی و فتحمندی کو بہت دن نگذرے
تھے کہ افغانی قبائل نے انگریزی فوج کو آگھیرا اور لارڈ موصوف نرغہ میں آ گئے۔ بمشکل
سر سٹوارٹ کی کوشش سے لارڈ موصوف نے فوج محاصرہ سے نجات پاسکی۔ انگریزینکو
یقین ہو گیا کہ افغانستان ایک بار نہیں سو دفعہ فتح ہو جائے۔ مگر افغانوں پر حکومت کرنا
کوئی آسان کام نہیں ۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
