Machine transcription
۲۴۱
ان کا خاص حصہ ہے ۔
اکثر مقدس بزرگوار ان کی آزاد حالت و بے تکلفانہ رنگ سے نارضامند ہیں ۔ اُن
کے زندہ دل ۔ رنگین مزاج ۔ خوش مذاق طبیعت دار ہونیکا ہمکو بھی اعتراف ہے ۔
انسان کی ریائی حالت سے یہہ رنگ بدرجہا بہتر ہوا کرتا ہے ۔ اس سے کسی کو دھوکہ
نہیں ہوتا ۔ ہم بھی پبلک کے سامنے فرشتہ کی شان یا مجتہد کی حیثیت سو اُن کو
پیش کرنا نہیں چاہتے ۔ وہ انسان ہیں اور بحیثیت انسان اُن پر اس قسم کے اعتراض
ہونے آسان ہیں ۔ مگر اُن کے خوش عقیدہ مسلمان ہونے میں کیطرح ہمکو شک نہیں ۷
وضع صفی نہ پوچھو اک رند پارسا ہے لب پر صنم صنم ہے دلمیں خدا خدا ہے
وہ با اقبال ۔ صاحب تدبیر خوش نصیب ہیں ۔ مگر اپنے احباب کی طرف سو خوش
قسمت نہیں ۔ اور تعجب یہہ ہے کہ جسقدر زیادہ جس شخص سے اُنکا واسطہ خصوصیت پا
اُتنا ہی زیادہ اُس سے وہ مایوس ہوتے ہیں ۔ اس موقع پر بھی اُن کو خاص احباب سے
شکایت کا پہلو ہاتھ آیا اور ان کے احباب میں سے کسی نے خبر اُڑائی کہ ہز مجسٹی امیر
اپنے سفیر سے نارضامند ہیں ۔ کسی نے مشہور کیا کہ وہ اس عہدہ پر اب قایم نہیں رہ سکتی
کسی نے شہرت دی کہ جوابدہی کے لیے کابل طلب ہونگے ۔ غرضکہ بہت
سی افواہیں اُڑائیں ۔ مگر ۳ ۔ مارچ ۱۹۰۷ع کو بمقام لاہور ہز مجسٹی امیر نے اپنے
سفیر سے برٹش افسران کی موجودگی میں فرمایا ۔
”لوگوں نے یہہ خبر غلط مشہور کی ہے کہ ما بدولت آپ سے ناخوش ہیں ۔
آپ کو معلوم ہے کہ کون اس کا باعث ہے “
سفیر نے گزارش کیا کہ جس اپنے ملازم پر نظر عنایت باد شاہ ہوتی ہے
اُس کے ہزاروں حاسد ہو جاتے ہیں ۔ میں کس کا نام عرض کروں ۔ “
البتہ ہمنے یہہ ضرور سُنا کہ سفیر صاحب برای چند یوم دامنی اپنی خدمات
۳۲
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
