Machine transcription
۷۵
(امان اللہ کی خواہش کے متعلق لويہ جرگہ کے فقره (۵) کی صوابدید)
بحضور مبارک اعلیحضرت پادشاه معظم غازی!
والاحضرت صدر اعظم صاحب نے امان اللہ خان کا تار جو اس نے ذات شاہانہ کی
خدمت میں بھیجا ہے اور اسکا وہ خط جو اس نے والاحضرت وزیر مختار لندن کو لکھا تھا
”لویہ جرگہ“ کی مجلس میں پڑھا --
آپ کے ملوکانہ حضور سے امان اللہ خان کا یہ مطالبہ بھی ان بڑی بڑی بے انصافیوں
اور ظلموں میں سے ہے جس سے کہ وہ ہماری ستم رسیدہ ملت کے ان زخموں پر نمک
چھڑک رہا ہے جو خود شاہ مخلوع کی بدرفتاریوں اور بد کرداریوں کی وجہ سے ہمیں پہنچے ہیں ۔ان
اس خواہش سے وہ متمدن دنیا کی نظروں میں بھی اپنے آپ کو گرا رہا ہے۔ پیشتر
اسکے کہ امان اللہ خان حکومت سے یہ بیجا مطالبہ کرتا اسکو سوچنا چاہئیے تھا کہ اسکی
تمام تنہا و ذاتی جائداد جو افغانستان میں عین المال کے نام سے مشہور اور موجود تھی
کس راس المال سے بنی تھی اور وہ کونسی آمدنی تھی جس سے اسکا سرمایہ ہر روز بڑھتا
جا رہا تھا؟ کیا اسکی روز افزونی تجارت کے وسیلے سے تھی یا زراعت کے
ذریعے سے ؟ کیا وہ سرمایہ کارخانوں کی آمدنی سے بھر پور ہو رہا تھا یا صنعت وحرفت
کے واسطے سے ؟ آخر اس عین المال کے سرچشمے کونسے تھے کہ افغانستان میں
تخت وحکومت کے ملنے کے بعد عین المال کی ثروت وحیثیت اول درجے پرپہنچ گئی؟
ظاہر ہے کہ حکومت کے خزانے میں سے تمام گرانبہا جواہرات اور وہ سُرمئیں قیمتی مال
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
