Machine transcription
٧٦
و اسباب بادشاہ کے تصرف اور قبضے میں تھا ، اور جیسے کہ آجکل بھی دنیا میں
رسم و رواج ہے خاندان شاہی کا اثاث البیت اور زیب و زینت کا اسباب
انکے برسر حکومت ہونے کی وجہ سے انکے تصرف میں ہُوا کرتا تھا۔ لیکن
اس سب مال موہوبہ کی حقیقی مالک ملت تھی ، لہٰذا مذکورہ اشیاء
حکومت کا مال ہے اور ہماری اصطلاح میں مسلمانوں کے بیت المال کا مال ہے۔
اس لحاظ سے کہ اسکی بابت افغانستان میں کوئی صحیح اصول اور درست مانع قانون
موجود نہ تھا۔ گذشتہ شاہی خاندان اس تمام مال و متاع کو اپنی ذاتی ملکیت جانکر
اپنے عین المال میں شمار و داخل کرلیتا۔ اعلحضرت امیر شہید نے اس نکتے
اور دقیق مسئلے کو کامل طور پر سمجھ لیا تھا چنانچہ خود امان اللہ خان اور افغانستان کے
سب کار داروں کو جن میں سے اکثر زندہ ہیں معلوم ہے کہ اعلحضرت شہید نے
ان تمام بیش قیمت اشیاء اور گرانبہا جواہرات کو دفتر کے حساب کتاب میں
داخل کر دیا تھا اور ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ مال ہمن حکومت افغانستان کا مال ہے
اور صرف چند روز کیلئے شاہی حرم کو عاریتاً دیا گیا ہے ، اب جبکہ خود امان اللہ خان
اس کیفیت اور حقیقت سے واقف ہے اسکو کس طرح حوصلہ ہو ا کہ ایسی لایعنی
درخواست افغانستان کے بادشاہ اور حکومت کی خدمت میں پیش کرے ۔
پھر امان اللہ خان نے جہاں کہیں اسکو کارخانہ نظر آیا اور جہاں کہیں اس نے
حکومت کے سود مند ذرائع اور پُر منفعت وسائل دیکھے انکو عین المال کا نام دیکر
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
