BrowseTardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ → page 28

Page 28

Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ · pages 1–125


Page image — the source of record

Scanned page 28 of Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ

Machine transcription

٢٥ (امان اللہ کیوں ملت کو جواب دینے سے کنی کتراتا ہے ؟) ١٣٠٩ کے ”لویہ جرگہ“ میں امان اللہ کے متعلق وکلائے ملت نے جو کچھ کہا ہے وہ در اصل اسکی اپنی درخواست کا جواب تھا۔ امان اللہ نے اپنے مکتوب میں مطالبہ کیا تھا کہ وہ زمینیں اور کارخانے جن کو وہ اپنی ذاتی ملکیت سمجھے بیٹھا تھا اسکو واپس کر دئے جائیں۔ جرگے نے اس پر اعتراض اٹھایا کہ امان اللہ کی نام نہاد زمینیں کسی وجہ سے بھی امان اللہ کی شخصی ملک نہیں ہوسکتیں۔ دلیل یہ ہے کہ اگر کوئی بادشاہ اپنی رعایا کے کسی فرد کی جائداد ضبط کرلے اور اسکو اپنی شخصی ملکیت بنالے ظالم وجابر ہے۔ طرفہ تو یہ ہے کہ ہم نے تمام کارخانوں کی قیمت بیت المال کے خزانے سے ادا کی ہے اب کس استحقاق اور سند سے امان اللہ کا عین المال قرار دیا جاسکتا ہے؟ بلکہ اس کے برعکس ہماری ملت کا دعویٰ ہے اور اس میں حق بجانب بھی ہے کہ امان اللہ خان افغانستان کے خزانے کے جواہرات کو جنکو وہ اکٹھا کر کے اپنے ساتھ لیگیا ہے اور اب عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے ملت کو واپس کردے۔ اگر امان اللہ اپنے قول کے مطابق واقعی ملت کا غمخوار، وطن دوست اور ترقی پرور ہے تو اسکو چاہئیے کہ بیت المال کے مال کو بدون حیل وحجت اور لیت و لعل کے بغیر فوراً لوٹا دے۔ امان اللہ خان اس روشن مسئلے کے ذکر سے تو احتراز کرتا ہے اور کارخانوں اور اپنے خرید کردہ سلعے کے (امان الله خان چرا جواب ملت را نمیگوید) در لویه جرگه ١٣٠٩ آنچه وکلا در باب امان الله خان گفتند ، راجع به درخواست او بود در باب استرداد اراضی و فابریکات که عین المال خود میشناخت ، جرگه اعتراض کرد که اراضی امان الله خان بهیچ وجه عین المال آن شخص نیست ، اگر پادشاهی مال و ملک کسی را ضبط کند . و آنرا عین المال خود قرار بدهد آن پادشاه ظالم است ، فابریکات را تماماً از پول بیت المال خریداری کرده ایم ، چطور عین المال امان الله خان شد ؟ ملت میخواهیم جواهرات خزینه افغانستان را از امان الله خان بگیریم ، امان الله خان آنها را جمع کرده با خود برده است باید بملت بسپارد اگر امان الله وطنخواه و ترقی پرور است، پس مال بیت المال را واپس تسلیم کند . امان الله خان ازین مسئله هیچ بیانی نمیکند و مسائل فابریکات

Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.


Cite this page
Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ, page 28. Afghanistan Digital Library, New York University Libraries. Machine-transcribed text: Afghan Press Archive, https://afghanpress.org/book/adl0111/28 (accessed [date]).
Permalink
https://afghanpress.org/book/adl0111/28
Machine-readable
JSON · IIIF manifest · Canvas
Source
Afghanistan Digital Library record