Machine transcription
۸۵
فرماتے ہیں، آگرہ کا ذکر ہے کہ حضور وایسرائے نے تقریر کی ہز میجسٹی کا ترجمان اس کا
ترجمہ فارسی میں سنانے لگا اور وایسرائے کے ہر قول کے آغاز میں کہا کہ وایسرای عرض
میکند تو امیر نے سرزنش کی کہ بگو فرمانروای ہند می فرمایند۔ دوبارہ ٹوکنے پر ترجمان
سنبھلا اور اس نے عرض میکند نہ کہا۔
جو اعلیٰ خطاب برطانیہ عظمہ و ملک معظم قیصر ہند ایڈورڈ ہفتم کیطرف سے امیر کو دیا جانا
قرار پایا تھا وہ اعلیٰ خطاب خود وایسرائے کو حاصل نہ تھا اس اعتبار سے وایسرای عطا
خطاب کا منصب نہ رکھتے تھے۔ لہذا فارن سکریٹری نے ملک معظم ایڈورڈ ہفتم کا ایک
خاص فرمان پڑھا جس میں حضور وایسرائے کو بہ نیابت خود خطاب دینے کا اختیار دیا گیا
تھا جب فرمان پڑھا جا چکا اور فارن سکریٹری نے فرمان حضور وایسرائے کو دے دیا
تو لارڈ کچنر و لفٹنٹ جنرل سر چارلس ایجرٹین ہز میجسٹی کو عطاے خطاب میں مدد دینے کو
حسب ایما ر وایسرائے اُٹھے۔ اُس وقت ہز مجسٹی اپنے تخت سے جو حضور وایسرائے کی
دہنی جانب تھا ایک دو سیڑھی نیچے اُترے اور بآواز بلند انگریزی زبان میں یہ فقرہ فرمایا
کہ ”یہ تعظیم ملک معظم ایڈورڈ ہفتم کے لیے ہے۔“ جو لوگ رموز سلطنت و کلام ملوک سے
واقف ہیں وہ اس بر محل فقرہ کا مطلب بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔
یورپ کے شاہان ہم عصر بھی ایسے موقعوں پر عطا کنندہ خطاب پادشاہ کا اسی طرح
احترام کرتے ہیں۔ اپنی لاعلمی کی وجہ سے عوام کا کوئی دوسرا خیال ہو تو اُن کی نادانی کا نتیجہ ہے
دلیری اور شجاعت امیر مرحوم اپنی تزک میں لکھتے ہیں کہ جب میں قندہار اور ہرات کے قضیوں
کو پاک کرکے کابل پہنچا تو مجھے پروانہ خان و حبیب اللہ خان کی خدمات سے نہایت خوشی
ہوئی۔ ان دنوں حبیب اللہ خان بالکل بچہ تھا لیکن اس نے بڑا کام کیا کہ میری غیبت
میں سپاہیوں میں جاکر میری طرف سے جوش دلایا۔ نہ پریشان ہوا نہ لڑائی کا خوف کیا بلکہ
ہر بات و مشورے میں پروانہ خان عبدالحمید خان و دیگر افسروں کے جن کو میں نے اسکی
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
