Machine transcription
۷۵
۱۵-فروری ۱۹۰۷ء- احمد دلوجی نجار کے کارخانہ فرنیچر مین ایک نہایت نفیس سیاہ
چوبی فرنیچر جو ایک ہندوستانی والی ریاست کی فرمایش سے کارخانہ نے تیار کیا
تھا اُس کی قیمت دریافت کر کے آپ نے فرمایا کہ فرنیچر کابل بھیج دینے کے
لیے فروخت کر دیا جاوے اور مسکرا کر ارشاد فرمایا کہ ایسا بڑا کارخانہ ہندستان
والی ریاست کے محل کے لیے فرنیچر کا دوسرا سٹ بہت جلد تیار کر سکتا ہے
عرض کیا کہ سٹ بہت جلد کابل بھیجہ یا جاویگا۔
آپ اور آپ کے ہمراہی ہندوستانیون کو لکڑی کے کام مین ایسا ماہر
اور اعلیٰ درجہ کا صناع و کاریگر پا کر بہت خوش ہوئے اور وعدہ فرمایا
کہ وقت ملا تو پھر کارخانہ مین ہم آئینگے۔
بعدہ جامع مسجد مین نماز جمعہ ادا فرمائی۔ وہان سے ٹریجر اینڈ
کمپنی کے کارخانہ مین گئے پھر قیامگاہ پر تشریف لائے۔
۱۶- فروری ۱۹۰۷ء- آج عربی گھوڑون کے صطبل کا معائنہ فرمایا بارہ گھوڑے
خریدے۔ وہان سے گھور ڈور مین تشریف لائے۔ رات کو مسٹر سر
اچبالڈ ہنٹر کے یہان مہمان ہوئے۔
۱۷- فروری ۱۹۰۷ء- آج پونا تشریف لیگئے۔ اول یہان گنیش کنڈ مین اُترے بعدہ
روشرول تشریف لیگئے۔ جو دریا کے کنارے واقع ہے اور پونا کا بہترین مقام ہو شام کو
واپس بمبئی ہوئے اور شب کو پھر چیف جسٹس کے مہمان ہوئے۔
۱۸- لغایت ۲۰- فروری ۱۹۰۷ء- غرضنکہ بمبئی مین خوب سیر کی سرکس کا تماشہ دیکھا دوکانون مین
آزادانہ جا جا کر ضروری اور خوشوضع و خوبصورت چیزین خرید فرمائین۔ مختلف لباسون
مین اپنی تصویرین اُتروائین۔ اعلیٰ عہدہ داران برٹش کے مہمان ہوئے خوش ہوؤ اور اُن کو
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
