Machine transcription
۶۲
۲۶ جنوری ۱۹۰۷ء کو دہلی سے روانگی ہوئی راستہ مین شام کا کھانا جلیسر روڈ پر ہوا۔
۲۷ جنوری ۱۹۰۷ء صبح کی چار پہر واری ضلع الہ آباد مین نوش فرمائی۔ الہ آباد
اسٹیشن پر چند منٹ گاڑی ٹھہری۔ لیکن پلیٹ فارم پر کوئی اترا نہین
البتہ اسٹیشن نینی پر اُترے۔
سہ پہر کی چار دلدار نگر مین اور شب کا کھانا دانا پور مین ہوا۔
۲۸ جنوری ۱۹۰۷ء صبح ہز مجسٹی رونق افروز کلکتہ ہوے گو یہان کی آمد پرائیویٹ
تھی۔ مگر ریلوے اسٹیشن پر نہایت سرگرمی و جوش سی استقبال ہوا۔ ریلوے کمپنی نے
شاہی رونق افروزی کو شاندار بنانے مین کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا تھا۔ تمام دیوارین
پھولون پتون۔ و جھنڈیون سے مزین تھین اسٹیشن سے پُل تک سڑک جھنڈیون
پریون پھولون و سبزے سے آراستہ کیگئی تھی۔ پلیٹ فارم پر یورپین
جنٹلمینون و لیڈیون کا ہجوم تھا۔ ہوڑا کے پُل پر ایک سرے سے دوسرے
سرے تک تماشائیون کا انبوہ کثیر نظر آتا تھا۔ جسوقت ٹرین پلیٹ فارم پر پہنچی ورود
کا نشان بلند ہوتے ہی۔ فورٹ ولیم سے توپون کی سلامی سر ہوئی۔ برٹش حکام
و میونسپل کمشنران۔ گارڈ آف آنر نے اپنے اپنے فرایض ادا کیے عام لوگون نے
اپنی مسرت کا اظہار بڑے جوش سے کیا۔
ہز مجسٹی کی سواری پُل ہوڑا سے سٹرنیڈ روڈ۔ نیپیر روڈ سینٹ جارج روڈ
سر کلر روڈ۔ کورٹ روڈ ہوتی ہوئی ہیسٹنگز ہوس مین پہونچی۔ یہان
سیزدہم راجپوت کے ایک سو سپاہیون کا گارڈ آف آنر
و موسیقی نواز دستہ موجود تھا۔ جس کا معائنہ فرماتے ہوئے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
