Machine transcription
۵۷
اندر جاکر امیر خسرو و حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے مزارات پر فاتحہ پڑی
خدام نے تبرکات پیش کیے جنین ایک قرآن مجید نہایت خوش قلم
خانقاہ کی ملکیت تھا اُسے وقف فرما کر درگاہ مین دے دیا۔
بائیس اشرفیان بخارا کے سکہ کی خانقاہ مین عطا کین بعدہ مقبرہ
ہمایون کا ملاحظہ کیا۔ وہان کے محافظ کو پانچ اشرفی مرحمت فرمائین وہان سے
قطب مینار گئے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار پر فاتحہ پڑہی۔
چوالیس اشرفی درگاہ مین دین۔ واپسی مین صفدر جنگ کا مقبرہ دیکھا۔
۲۲ جنوری ۱۹۰۷ع - کرنال مین بطون کا شکار کھیلا۔ شہر سے ۲۲ میل پر جھیل تھی
نواب رستم علی خان نے قابل تعریف انتظام کیا تھا اعلیحضرت اُن کے
انتظام سے مسرور اور اُن کی خدمات کے مشکور ہوئے۔
واپسی مین اسٹیشن پانی پت چند منٹ ٹھہرے۔ عمائد و عوام کا
بڑا ہجوم تھا۔
متولیان و مجاوران مزارات پانی پت تبرکات لیے حاضر تھے صرف
ایک حمائل تحفہ مین قبول فرمائی۔ باقی بزر گوار اپنے اپنے تحایف پیش کرن
سے قاصر رہے۔ وقت کافی نہ تھا۔ دہلی پہنچکر اُسی شب اجمیر شریف روانہ ہوکر
۲۳ جنوری ۱۹۰۷ع۔ آج پونے نو بجے اجمیر پہنچے اسٹیشن پر صاحب کمشنر و دیگر
برٹش افسرون نے استقبال کیا۔ باہر دروازہ اسٹیشن کے ممبران میونسپل و آنریری مجسٹریٹیان
وغیرہ کا بڑا ہجوم تھا۔ پہلے خیال تھا کہ ہر میجٹی اول قیامگاہ پر جائینگے وہان سے درگاہ آئینگے
لیکن سوار ہوتے ہی دہلی دروازہ سے گذر کر درگاہ پہنچے زینہ درگاہ پر دیوان جی بلند
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
