Machine transcription
۴۱
جگہ نہین نکوئی اور صورت حفاظت ہے مزید برآن اوسکا آہنی زیرین حصہ
سنجون و قابلون سے بٹا ہوا سطح دریا سے سو فیٹ سے بھی زیادہ بلندی پر واقع
ہے۔ اوسوقت یورپین وافغان رفقا کی حیرت واضطراب کی کوئی انتہا
نہ رہی لیکن کوئی تنفس مداخلت کی جرات نہ کر سکتا تھا۔ پھر وہ جگہ چھوڑ کر اگلی
محراب کے آہنی شہتیر پر روانہ ہوئے جس خطرناک حالت میں ہز مجسٹی امیر
استادہ تھے اسے تبدیل کئے بغیر سر ہنری میکموہن سے گفتگو میں مصروف
ہو گئے۔ اور اسکے بعد ہی بخیر و عافیت گاڈی میں تشریف لے آئے۔
تیسری مرتبہ ہز مجسٹی کی اسپیشل ٹرین سہ پہر کو راولپنڈی میں ٹھہری کمانڈنگ
راولپنڈی ڈویزن اور اونکے اسٹاف نے استقبال کیا۔ باقاعدہ ریویو کے ساتھ
سپاہ نے مارچ پاسٹ کیا جسکو امیر نے نہایت شوق سے ملاحظہ فرمایا۔ توپخانہ
دیکھا۔ پھر چاء آئی ہز مجسٹی نے سپاہ راولپنڈی کی معمول سے زیادہ تعریف کی۔
چوتھی مرتبہ مندرا کے اسٹیشن پر ٹرین رکی اور مغرب کی نماز ادا کی یہان اعلیحضرت
امیر کی خواہش پر تماشائیوں میں سے کچھ غریب مسلمان بھی جماعت نماز میں شامل
ہوئے۔
۸ جنوری ۱۹۰۷ء سر ہند سے ایکسو میل کے فاصلہ پر علی الصباح کھڑکی سے
امیر نے دیکھا تو آسمان کو ابر آلود اور زمین کو بارش سے تر پایا اسوقت خفیف ترشح ہو رہا
تھا۔ جب ٹرین سر ہند کے اسٹیشن پر پہونچی تو آفتاب نکل آیا تھا ریاست پٹیالہ
کیطرف سے ہز مجسٹی کی مہمانداری کے لیے شاہانہ اہتمام کیا گیا تھا۔ اس جگہ
تشریف آوری کی وجہ مزار حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانیؒ پر فاتحہ خوانی تھی۔ اعلیحضرت
کو یہان صدف بارہ گھنٹے قیام فرمانا تھا ہندوریاست نے مسلمان بادشاہ کی
خاطر و مدارات میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا ہز مجسٹی امیر نے بھی اسپر اظہار مسرت
کیا۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
