Machine transcription
۳۱
نقل و حرکت اعلیحضرت مجسٹی امیر افغانستاً
۴ جنوری ۱۹۰۷ع - آج ہز مجسٹی امیر صاحب رونق افروز لنڈی کوتل ہوئے۔ یہ مقام
پشاور سے تیس میل کے فاصلہ پر پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع میدان میں واقع
ہے۔ اعلیحضرت کے استقبال کے لئے سر ہنری میکمہرن اور اونکا پولیٹکل اسٹاف میجر روس پپل
پولیٹکل افسر خیبر اور اونکا ملٹری اسٹاف اور سواروں کا ایسکورٹ نو بجے سے قبل لنڈی کوتل سے روانہ
ہوکر افغانستان و ہندوستان چھاٹیپر یہی مقام ہے جہان دونون سلطنتین ملتی ہین ۔
اول امیر صاحب کی پلٹن ہمراہی آئی۔ منتظرین کو خیال گذرا کہ شاید خود بدولت امیر صاب
ہین۔ مگر فوراً معلوم ہو گیا کہ یہ فوج ہراول ہے۔ اسکے بعد ایک دوسرا دستہ آیا۔ تیسرا دستہ
شتر سوار ونکا جسکی نگرانی میں مہمانون کا اسباب تھا۔ چوتھے ہاتھیون کی قطار۔ پانچوان
دستہ کے ساتھ خزانہ شاہی۔ چھٹا میدانی ہسپتال کا سامان۔ ساتوان گھوڑوں کی ایک
لمبی قطار کا دستہ۔ آٹھوین دستہ مین خود بدولت اعلیحضرت نہایت آہستہ آ رہے تھے۔
سر ہنری میکمہرن نے آگے بڑھکر سلام و مزاج پرسی کی رسم ادا کی اور وایسرائے کی طرف
سے خوش آمدید کہا ایک لمحہ توقف کے بعد سب خیبر کی طرف روانہ ہوئے اور بڑی شان
تجمل سے سرحد میں داخل ہوئے۔ امیر صاحب فوجی لباس و خاکی وردی مین تھے
تپش آفتاب سے بچنے کے لئے انگریزی وضع کی ٹوپی زیب فرق مبارک تھی جسکو
دھوپ کے وقت آپ اکثر استعمال فرماتے ہین کیمپ کے نزدیک پہونچکر داخل خیمہ ہوگئے
سر ہنری میکمہرن نے اپنے پولیٹکل اسٹاف کے ممبران میجر ڈاکٹر برڈ ۔ میجر بروک کپٹن
ریمرے۔ لفٹنٹ فیلڈ ۔ مسٹر وابس کو امیر صاحب کے سامنے پیش کیا ۔ آپ
ہر ایک سے بخندہ جبین ملے ڈاکٹر برڈ سے شفقت کے پیرایہ مین گفتگو کی ۔ اور فرمایا
کہ مین دوست کو کبھی نہیں بھولتا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ میجر برڈ منجانب گورنمنٹ امیر صاحب کے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
