Machine transcription
۲۶۹
سب سے بڑے مقنن نبی برحق محمد مصطفیٰ صلعم نے قایم کیا تھا یہ جمہوری سلطنت کا
اصول تھا ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل تھا اور غلبہ آرا کی پیروی کیجاتی تھی
(۲۴) آخرین یہ کہونگا کہ اگر خدا نے مجھے چند سال اور زندہ رکھا یا میرے بعد
افغانستان خانگی جھگڑوں اور بیرونی حملوں سے محفوظ رہا اور میرے بیٹے وجانشین
میری ہدایت و نصیحت کے موافق چلے تو دولت افغانستان کا انجام بہت اچھا ہوگا
اور مجھے امید ہے کہ انشااللہ یہ دنیا میں ایک عظیم الشان سلطنت ہوگی۔
اب یہاں چند تجاویز پیش کیجاتی ہیں
بڑی ضرورت اسکی ہے کہ ملک میں جو جگہ مناسب ہو ایک سالانہ اجتماع کانفرنس
کی شکل میں ہونا چاہیے جسمیں بڑے بڑے سرداران قبائل عموماً اور طبقہ علماء و ملا کو خصوصاً
شرکت کی تحریک کیجائے تاکہ تبادلہ خیالات کا لوگوں کو موقع ملے اجنبیت دور ہو کر
یکجہتی کی بنیادیں مستحکم اور خاندانی و قبایلی عداوتیں رفع ہوں۔ کانفرنس کے ساتھ ضرورتاً
ملک کے لحاظ سے ایک نمائش کھولی جائے اور جسقدر اشیاء ملک کی قدرتی و صنعتی
بہم پہونچ سکتی ہیں وہ وہاں لائے جائیں۔ اسکے علاوہ جن ضرورتوں کو ملک نہیں پورا
کرتا ہے اور جو اشیاء ممالک غیر سے منگوائی جاتی ہیں وہ بھی اس نمائش میں فراہم
کی جاویں تاکہ اہل ملک کو انکے بنانے کی جانب رغبت ہو اور ترغیب دی جاوے
اس ذریعہ سے ضرورت کی چیزیں بآسانی ایک جگہ سالانہ مل سکیں گی۔
مسلمانوں کی حالت آئیڈیل نہیں کے فرق سے ہر ایک ممالک میں یکساں ہے
لیکن ہر شخص اس قوم کا اپنے ملک سے دوسرے ملک کے مسلمانوں کو اچھی حالت
میں خیال کرتا ہے اسکا بڑا سبب یہ ہے کہ تبادلہ خیالات اور ایک کو دوسرے کے
صحیح حالات کا اندازہ نہیں ہوتا۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
