Machine transcription
۲۶۱
کافی نہین تنزل موجودہ اُسکی حالت بحران نامحمود کی سی بنائے ہوئے ہے
صرف برٹش سلطنت اس قابل معلوم ہوتی ہے کہ اس سے نفع اُٹھایا جائے
نہ صرف اِس لیے کہ دونون ہند و افغانستان متفق الاغراض ملک ہیں۔ بلکہ
اس بنیاد پر کہ برٹش گورنمنٹ کی تہذیب دنیا کی اوّل تہذیبون مین سے ہے اور
جو نفع افغانستان کو پہونچ سکتا ہے وہ آسان سے آسان طریقہ سے برٹش
گورنمنٹ ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔
اس امر مین تہذیب انگلستان کا کسی قسم کا خود غرضانہ بخل اوتنا ہی
افسوسناک ہو گا جتنا کہ افغانستان کا کسی تنگ خیالی سے انگلستان کی تہذیب
و اتحاد سے نفع نہ اُٹھانا۔
برٹش گورنمنٹ کی یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ افغانستان اُس کی سلطنت کا
سید با بازو ہے۔ اُس کی قوت سے اس سلطنت کی قوت اور اُسکے ضعف سے
برٹش سلطنت کا ضعف ہے۔ اور افغانستان کے لیے برٹش گورنمنٹ لے تحا
سب سے سیدھا راستہ اُسکی ترقی اور آیندہ صلاح و فلاح کا ہے۔ افغانستان
کی ہر طرح بہتری اِس مین ہے کہ وہ برٹش سلطنت کی دوستی کو غنیمت جانے
مدبران سلطنت برطانیہ کا دلی منشاء ہے کہ عملداری افغانستان مستحکم ہو کر اُسکے
اور روس کے درمیان حائل رہے۔ روس برخلاف اس کے ہمیشہ یہ چاہتا
ہے کہ افغانستان سد راہ ہے درمیان سے اُٹھ جائے۔
امیر دوست محمد خان مرحوم ہندوستان مین بحیثیت نظر بند کے کچھ زمانہ
رہے۔ یہ حالت ایسی ہے کہ انسان کو چندان تجربہ نہین حاصل ہونے دیتی
تاہم امیر موصوف جنگ افغانستان کے خاتمہ پر جب کابل جا رہے تھے
تو اُنہون نے رخصت ہوتے وقت گورنر جنرل سے بیان کیا تھا کہ ہندوستا
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
