Machine transcription
۲۵۷
اپنے اعلیٰ پڑوسی کی مدد سے مستغنی ہے یا اُسکو مشتعل کرکے اپنے کو بری ازخطر
سمجھے ۔ یہ قیاس پوری قوت سے امورِ سلطنتہائے متقارببین سے تعلق رکھتا ہو
بڑی سے بڑی سلطنت یہ نہ سمجھے کہ اُسکو خواہ ابقائے سلطنت میں یا اقویٰ
سلطنت کے معاملات میں اپنے غیرمساوی ہمسایہ اور اقرب سلطنت کی
ضرورت نہ پڑے گی ۔ چہ جائیکہ سلطنت متوسط کو جسے جانبین کی دو سلطنت
اُس سے قوی تر اور غیر موافق الاصول سے واسطہ ہو ایسی صورت میں سلطنت
متوسط کو کسقدر ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے جانبین کی اقویٰ سلطنتوں
میں امتیاز کرتا رہے کہ کس کی شرکت قابلِ اعتبار اور اُسکے ملک کی صلاح و
فلاح کے لیے انسب و اولیٰ ہے۔
اسیطرح ہر سلطنت اعلیٰ اس امر کی حاجتمند ہے کہ جس سلطنت کو وہ اپنا
معاون بنائے اُس کے ساتہہ روابط ومراسم میں کسدرجہ خلوص کام میں لانا
چاہیئے۔ ہمکو اُن مدبرون کے ساتہہ ہرگز اتفاق نہیں جو غیر ملکوں کے ساتہہ
برتاؤ میں محض خودغرضی ملحوظ خاطر رکھتے ہیں ۔ اور تمام تعلقات ومعاملات کو
ایک امر سرسری صرف مشکلات موجودہ کے حل کرنے کے لئے قرار دیتے ہیں۔ دنیا
کے تمام اصول جن پر بقائے صلاح وفلاحِ عالم ہے۔ صدق وراستی پر مبنی ہیں۔
تلمیع معاملت گو اہل معاملت کے لیے تھوڑی دیر کے واسطے ایک کو کامیاب اور
دوسرے فریق کو خاسر بنائے مگر یہہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ کتاب میں
ایک باب یا چپٹر کے غلط ہونے سے تمام کتاب غلط ہو جاتی ہے۔
اور باعتبار اصول اخلاق جس طرح گلاب کے حوض میں ایک قطرہ نجاست
پڑنے سے تمام حوض ناپاک ہوجاتا ہے۔ اسی طرح قوم کی زندگی میں کسی قرن
میں مدبران سلطنت سے خودغرض پالیسی کیوجہ سے کوئی غلطی عمداً یا ارادتاً
۳۳
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
