Machine transcription
۲۳۳
لارڈ منٹو کی حالات
تصویرین ہمیشہ نیم رخ رہتی ہے۔ اگر محض مہمان کے حالات پر اکتفا کیا جاوے اور
میزبان یا قایم مقام معظم میزبان کا حال فرو گذاشت کر دیا جاوے۔ تقاضائے تکمیل بیان
ہے کہ ہم مختصر حالات اپنے معزز میزبان لارڈ منٹو وایسرائے کشور ہند زیب قلم کرین
یہ نامور وایسرائے کریم ابن کریم ہے۔ برخلاف اُن کامیاب وایسرایون کے
جن کو حسن کارگذاری یا محض حسن اتفاق نے اس مرتبہ اعلیٰ پر پہونچایا۔ اسلیے ضرور
ہے کہ ان جیسے دو قسم کے حکمرانون مین گو اصول سلطنت ایک ہون مگر طریقہ عمل
مین فرق ہوگا۔
لارڈ کرزن با وجود تمام قابلیتون اور کامیابیون کے اعلیٰ حضرت شاہ
افغانستان کی شرف مہانداری سے محروم و مایوس رہے۔ لارڈ منٹو کے اخلاق
شاہانہ کا یہہ آسان نتیجہ تھا۔ اور کیون نہ ہو۔ اقتدار ان کا ترکہ خاندانی ہے ان
کے جد امجد ۱۸۰۷ء مین گورنر جنرل ہند تھے۔ اور ۱۹۰۵ء مین ٹھیک ایک صدی
کے بعد اب وایسرائے حال اُسی منصب پسند پر متمکن ہین جو اس امر کی دلیل
واضح ہے کہ فضل عظمت اس خاندان مین کوئی امر اتفاقی نہین بلکہ ایک عنصر کیطرح
ہر ایک ممبر خاندان مین سرایت کیے ہوئے اور مسلسل بات ہے۔
یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ مسند حکومت اُن کی آبائی اور اجدادی عظمتون سے صد گونا
فیضیاب ہے جس آسانی اور فراخ حوصلگی سے رسوم مہانداری ادا کی گئین اُس سے
معلوم ہوتا ہے کہ مراسم شاہانہ سے کسقدر وقوف ہے۔ اعلیحضرت کے دلپر جو اثر
اس کشادہ دلی اور خلوص حسن اخلاق اور مہانداری کا ہوا وہ اُس وداعی تقریر سے
۳۰
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
