Machine transcription
۲۲۲
حکمای یونان میں ایک نامور حکیم کا طرز تعلیم یہ تھا کہ بُرائی سے بھلائی
نکالتی ۔ پارسائی کی تعلیم کے لیے اپنے شاگردوں کو فسق و فجور کے مقاموں
میں لے جاتا۔ علم و فضل کی ہدایت کے واسطے جاہل اور ناشایستہ لوگوں
کی صحبت دکھاتا۔ بالضد علاج بھی ایک طریقہ ہے۔
اہل فقر میں بھی دو گروہ ہیں۔ ایک فارغ مشغول۔ جس کے حالات
تارک الدنیا لوگوں سے مشابہ ہیں۔ جو دنیا سے فراغت حاصل کر کر
تنہائی میں عبادات الہی بجا لاتے ہیں۔
دوسرے مشغول فارغ ۔ جو باوصف محرکات دنیاوی اپنے نفس پر
پوری قدرت رکھتے ہیں۔ اور جادہ اعتدال سے باہر نہیں ہوتے
یہ مشکل مرتبہ اسلام زیادہ تر اسی طریقہ تعلیم پر مدار کرتا ہو۔
اور امیر اسکے مصداق ہیں۔
جہان تک ہماری یاد ہم کو مدد دیتی ہے ہمنے کسی تاریخی
کتاب میں دیکھا ہے امیر تیمور صاحبقران ایک بزرگ
صاحب نسبت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب اُن سے ملے
تو اُن کی قوت روحانیت نے ایسا بے اختیار کیا کہ کمر سے
تلوار کھولکر اُن بزرگ کے سامنے رکھدی اور استدعا کی کہ مجھ کو
حلقہ مریدی میں لیکر تعلیم درویشی فرمائے۔
وہ بزرگ مسکرائے اور فرمایا کہ آپ کی خواہش کا کل جواب دیا جائیگا
شب کو عالم رویا میں امیر تیمور نے دیکھا کہ دربار حضور سرور عالم
صلی اللہ علیہ وسلم منعقد ہے جس میں ہزارہا متبرک صورتیں حاضر
ہیں ۔ وہ بزرگ بھی جن سے امیر نے استدعا بیعت کی تھی موجود
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
