Machine transcription
۱۷۴
نصاب تعلیم نو درجون پر منقسم تھا۔ پہلے درجہ مین طالبعلمون کے دلون مین شبہات
پیدا کرنے اور اپنے اُستاد پر انکے حل کر سکنے کا اعتقاد رکھنے کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس غرض
سے اُسکو قرآن کے لفظی معنون سے مہمل مطلب دکھلاتے تھے۔ پوشیدہ اشارون
سے اُسے سمجھایا جاتا تھا کہ اس پوست کے اندر ایک شیرین اور غذائیت بخش مغز
چھپا ہوا ہے۔ لیکن یہ تعلیم آگے نہیں چلتی تھی۔ جب تک شاگرد سخت قسمین کھا کر
جاہلون کے پکے عقیدہ کے ساتھ اپنے استاد کی مطلق اطاعت کا پابند نہین ہو جاتا
تھا۔ دوسرے درجہ مین امامون یا ہادیون کو پہچاننا سمجھایا جاتا تھا جن کو خدای تعالےٰ
نے ہر قسم کے علوم کا سرچشمہ بنایا ہے۔
تیسرے درجہ مین اُسکو اُن متبرک امامون کی تعداد بتائی جاتی تھی۔ یہ تعداد
سات کا طلسمی عدد تھا۔
چوتھے مین اُسکو اطلاع ہوتی تھی کہ خدا نے دنیا مین سات واضعان شرع
بھیجے ہیں۔ ہر ایک کے ساتھ مددگار سات تھے جو امم کہلاتے تھے۔ درحالیکہ
واضعان شرع کو ناطق کہا جاتا تھا۔
پانچوین مین اُس کو اطلاع ہوتی تھی کہ ان مددگارون مین سے ہر ایک کے بارہ
رسول تھے۔ چھٹا درجہ اس تخت مرید کی آنکہون کے سامنے جو اسدرجہ تک ترقی
کرچکا تہا قرآن کے مسائل پیش کرتا تھا اور اسکو یہ تعلیم دی جاتی تھی کہ تمام مذہبی
اصول قواعد فلسفہ کے ماتحت ہونے چاہئیں۔ اوسکو افلاطون اور ارسطو کے مذہب
کی بھی تعلیم دی جاتی تھی ساتوین درجہ مین ہمہ اوست کا پُر اسرار مطلب شامل تھا۔
آٹہوین درجہ مین اُسکے سامنے شرع محمدی کے بنیادی اصول پیش کیے جاتے
تھے اور اُسکا صحیح اندازہ اُن کی ذاتی وقعت پر کیا جاتا تھا۔
آخر کار نوین درجہ مین جیسا کہ تمام پہلی باتون کا لازمی نتیجہ ہونا چاہیے اُس کو اس امر
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
