Machine transcription
۱۵۶
کلرک سے لیکر وایسرایے تک کو یہ خیال مدنظر تھا کہ کوئی بات شبہے سے بھی ایسی
نہ پیدا ہونے پائے جو محترم مہمان کی برہمی مزاج و بے لطفی طبیعت کا باعث ٹھہرے
یہ فرض جس خوبی۔ باخبری اور مستعدی سے ادا کیا وہ حقیقت مین اسی حکمران
شایستہ قوم کے ممبران کا حصہ ہے۔
بمبئی مین ایک موقع پر اعلحضرت امیر کچھ مکدر پائے گئے۔ نہ معلوم کیا بات
تھی۔ حاضرین مین ہر شخص بجائے خود متفکر و پریشان تھا۔
لیڈی جنکنسن نے جن کی قابلیت و سلیقہ شعاری قابل متد ہی ہز مجسٹی کو مخاطب
بناکر عرض کیا کہ یور مجسٹی مجھے اپنا رومال عطا فرماسکتے ہین ؟ آپ نے دریافت
کیا کہ کیون چاہیے لیڈی موصوفہ نے جواب دیا کہ آپ کے تکدر مزاج نے
مجھہ مین سے ضبط کی قدرت سلب کرلی ہے قریب ہے کہ میرے آنسو نکل پڑین
یہ سنکر آپ مسکرائے۔ باتون باتون مین ملال خاطر رفع ہوگیا۔
اس صورت مین امیر کا شاہانہ اخلاق۔ اسلامی اوصاف ۔ ملکی ضرورتین
پولیٹیکل مصالح ۔ رموز مملکت کیونکر باز رکھتے کہ وہ اسلامی محکم۔ قانون کی
باخبری کے ساتھ غیر اقوام اور خصوصاً ہمسایہ میزبانوں کے مقابلہ مین اتحاد
و مدارات و قبول دعوت و شرکت مجالس مین بخل فرماتے۔ جو کچھہ او نہون نے
برتاؤ روارکھا وہی ان کی شان کے شایان۔ اسلامی اخلاق اور انسانی
مروت کی رو سے مناسب بلکہ انسب تھا۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
