Machine transcription
۱۴۱
یہ حالت دیکھکر اُس عورت کا وہ خیال باطل دل سے جاتا رہا۔ وہ سہ پا را برقعہ منہ پر
ڈالکر چلدی جب میر اساتھی واپس آیا تو اسنے مجھہ مین رونے کے آثار پائے پوچھا
کہ یہہ کیا حال ہے۔ مینے اول کچھہ نہ بیان کیا مگر اُس نے نہ مانا تب اصل واقعہ کا ذکر کیا
وہ سنکر مبہتہ رونے لگا۔ مین نے پوچھا کہ تو کیون روتا ہے جواب دیا کہ ڈرتا ہوں
کہ اگر یہہ امر مجھے پیش آئے تو مین ہرگز ایسا نہ کرسکون گا۔
پھر جب ہم مکہ معظمہ پہنچے طواف و سعی سے فرصت پاکر مین ایک حجرے مین سوگیا۔ عالم
رؤیا مین ایک نہایت حسین و جمیل کشادہ رو بلند بالا کو دیکھا۔ مین نے پوچھا کہ آپ کون ہین
فرمایا کہ مین یوسف ہوں مین نے عرض کیا کہ عزیز کی عورت کیساتھ آپکا قصہ عجیب غریب
ہے فرمایا کہ زن اعرابی کے ساتھ تیرا قصہ عجیب تر ہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام
کو جہان شان نبوت و صفت معصومیت بھی موجود تھی وہان حضرت زلیخا کے ساتھ
کیا واقعہ پیش آیا۔
فی الحقیقت شباب مین اپنی حفاظت کرنا بڑی مردانگی ہے۔ جوانی مین پارسا
امیری مین خلیق۔ صاحب حکومت ہوکر عادل و رحیم ہونا۔ خدا کے دوستونکی علامتین
ہین۔ اعضاے انسانی امانت پروردگار ہین۔ آنکھہ امانت ہے مشاہدۂ قدرت کے
لئے۔ کان کلام حق سننے کی خاطر۔ زبان کلام شیرین کی غرض سے۔ ہاتھہ بندگان
خدا کی نفع رسانی۔ پائون راہ ہدایت چلنے کے واسطے وقف علیٰ ہذا۔
امیر کی صفات پرعموماً مسلمانون کو ناظرین امیر کے واقعات سیاحت سے پتہ لگائیں کہ
فخر و مباہات کا موقع حاصل ہے اُنہون نے ان امانتون مین سے کوئی خیانت روارکھی
ہر منصف مزاج اسکا جواب نفی مین دیگا۔ ایک تاریخی واقعہ سینئے۔
بعد فتح انطاکیہ۔ فتح نامہ مین حضرت ابو عبیدہ سپہ سالار لشکر اسلام نے حضرت عمرفر
کو یہہ بھی لکھا تھا کہ یہان کی آب و ہوا کا اثر لشکریون پر یہہ پڑا ہے کہ وہ حرام کی طرف
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
