Machine transcription
۱۱۷
و دعا گو تھے جب ان کو دارا شکوہ کے حالات کی خبر ملی تو بیحد صدمہ ہوا۔ اور اپنے بہیخواہون مین
اورنگ زیب کے مظالم اور دارا شکوہ کی نیکیان بپیرایہ مظلومیت کے مضامین مین داخل کر کے گانا شروع کر دیا۔
اسکی خبر اورنگ زیب کو لگی۔ چنانچہ تاریخ مراۃ العالم مین لکھا ہے ۔
ہنگامیکہ رایات ظفر آیات باستئصال شورش شہزادہ شجاع بہ سمت دیار شرقی بحرکت آمد کہ
اند میان وظیفہ خواران و خیرطلبان شاہزادہ دارا شکوہ اند معتقدان خود را با ظہار مظالم پادشاه بحجانه
ببیت واعانت شهزاده شجاع می کشند و شجاع نیز با ایشان رسل و رسائل دارد۔ قہر غضب
سلطانی زبانه کشیدن گرفت به منعم خان سپه سالار حکم محکم به نفاذ پیوست که بتعجیل هرچه تمامتر با فوج
قاهره رویه شهر بنارس آورده آن بیچارگان را با تمامی بنگیده ہا باخاک عدم برابر سازد. بهار امل جسارت
نموده عرض کرد که اگر همان بتکده با و پنڈتان را بیاسار سند که مرتکب این هنگامه پردازی و فساد اند
قرین انصاف است عرض او پذیرایی یافت ۔ باصفای این خبر مصیبت اثر کل مشلغان و برہمنان
بمقتضای الفرار مما یطاق بتکده ها را خالی گذاشته رو بپای ادبار شدند منعم خان چند بتخانه ها را
که مشتهر به وظیفه مالی بود شکسته از سنگ خشت آنها مسجد آراست -
اس بیان سے بخوبی ثابت ہے کہ بنارس کے بعض بتخانون کے توڑ ڈالنے کا سبب بہی
مذہبی تعصب نہیں بلکہ پولٹیکل وجہ تھی ! اسکے ساتھ ہی یہہ ہویدا ہے کہ سردار بہارامل کی
وجہی استدعا قبول ہوکر حدود انصاف کے اندر کارروائی کا حکم دیا گیا اور پھر بتخانہ کے بجای
بہی عبادتگاہ ہی تعمیر ہوئی ۔
لہذا حرکات مورث اختلاف سے پرہیز۔ خلوص محبت کی حاجت ۔ اور منافقانہ دوستی
سے حذر واجب ہے ۔ اتفاق ناممکن ہے جب تک ہمارے دل صاف نہ ہون ۔
ہندو مسلمانون کے پولٹیکل اغراض و حقوق یکسان نہین ۔ اگر کوئی فریق بلا مزاحمت و ضرر
رسانی دوسرے کے اپنے حقوق کے تحفظ کی معقول تدبیر کرے تو وہ مورد الزام نہین تمدن
و معاشرت مین برادرانہ تعلقات ہون اور اتنا لحاظ ہمیشہ رہے کہ بالقصد ہم دوسرون کو
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
