Machine transcription
۱۱۵
اورنگ زیب کا بڑا بھائی دارا شکوہ اس بارہ مین اکبر اعظم سے بڑہا ہوا تھا۔ اکبر اعظم نے با وجود
تسلط تمام صرف چند ہی مذہبی کتابوں کے ترجمے کرائے جو بلا شبہ نہایت کمیاب تھین لیکن
اُلو العزم دارا شکوہ نے تو وہ کام کیا کہ شاید ہی کسی عملہ دوست سے بن پڑے۔ اُسنے سوچا۔ کہ
مذہب ہندو اسوقت تک طعام بے نمک ہے جبتک اس مذہب کی کتابہائے مقدس جمع کر کے حس بخوبی
نہ شائع ہو۔ اُسنے خیال کیا کہ اصل اصول مذہب ہنود یہی توحید ہے اور وید کے معدوم ہو جانیے چونکہ توحید
ہی اس مذہب سے رخصت ہو گئی یا ہوتی جاتی ہو اسلیے بہت سی غلط فہمیان ہندوؤں کو مسلمانوں اور مسلمانوں کو
ہندوؤں کی مذہب سے ہو گئی ہیں اور یہی بڑا سبب ان دونون قومون کے تفرقہ کا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی
مثنوی کے ایک شعر مین کہتا ہے ع
کفر و اسلام در رهش پویان
وحده لا شریک له گویان
اور یہ اشارہ ہے وید مقدس کے اس فقرہ کی طرف:۔" ایکو برہم دوتیو ناستی" یہ فقرہ
بعینہ لا الہ الا اللہ کا ہم معنی ہے۔
دارا شکوہ عنفوان شباب زمانہ ولیعہدی میں اپنے آسایش و آرام سے دست بردار ہو کر
محض نیک نیتی اور ایک قوم کی فلاح مذہبی کی دہن میں بنارس آیا۔ مدتون قیام کر کے زبان سنسکرت
کو حاصل کیا۔ پنڈتون اور مہاتماؤن کو بڑے بڑے وظیفے اور بیش قرار جاگیرین مرحمت کین جسکے پاس
جتنے اشلوک زبانی یا تحریری وید کے تھے سبکے لیے فقط اتنی ہی محنت اور جفاکشی پر قناعت نہین
کی بلکہ جب کاشی سے اس دولت بے بہا کو جمع کر چکا تو دکن، کشمیر و کوہستانی شمالی ہند کے سفر کی
برسون زحمت گوارا فرمائی۔ اور جس مہاتما تارک الدنیا کوہ وصحرانشین سے جو جو اشلوک پائے سب جمع
کیسے اور نہایت وقت نظر دسیکڑون حکمای مذہب براہمہ کی اعانت سے چارون ویدون کی تدوین کرکے
اسکا ترجمہ زبان مروجہ مینی فارسی مین کیا اور ستر اکبر نام رکھا جس سے یہ بات کھل گئی کہ ہند و مسلمانون
کے با ہم جتنا تفرقہ نسبت اصل اصول مذہب سمجھا گیا ہے وہ صحیح نہیں چنانچہ سر اکبر کی دیباچہ
مین خود لکھتا ہے۔ طالعہ قدیم ہند را بر وحدت انکاری و بر موحدان گفتاری نیست۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
