Machine transcription
۹۵
جاتا مگر اثر وصورت کے لحاظ سے ایسی سزائین عبرتناک اور حقیقت مین زیادہ مؤثر
ومفید ہوتی ہیں۔
ظرافت باوجود علم وفضل ومتانت مزاج مین خوش طبعی بھی ہے۔ باتون مین ظریفانہ
جھلک پائی جاتی ہے۔ پشاور مین بموقع دعوت سر ہر لڈ ڈین چیف کمشنر باجہ بجانیوالے
امیر صاحب کی کرسی کے پیچھے کھڑے تھے۔ سر ایڈورڈ ہیرو نے عرض کیا کہ مجھے امید ہے
کہ یور مجسٹی کو یہ باجہ ناگوار خاطر نہ ہوا ہوگا۔ اعلحضرت نے فرمایا کہ نہین کابل مین میرے
یہان ایسے باجہ بجانیوالے موجود ہین مین اسکو پسند کرتا ہون لیکن مسکرا کر فرمایا کہ مین
اپنی کرسی کے اسقدر قریب نہین کھڑا ہونے دیتا۔
موقعہ دربار عید مقام دہلی رائے بہادر شیو پر شاد مینیجنگ ڈائرکٹر ہند و بسکٹ فیکٹری سے
فرمایا کہ کل آپ نے ہمین عمدہ بسکٹ کھلائے ۔ یہ حسن اتفاق تھا کہ اشتہا کے وقت
ہمارا جانا کارخانہ بسکٹ مین ہوا۔ جس سے آنکھ اور پیٹ دونون کو راحت پہنچی۔ اگر
لوہے یا لکڑی کے کارخانہ مین جاتے تو وہان کیا کھا سکتے تھے نہ لکڑی نہ لوہا۔
دہلی مین مزار حضرت نظام الدین اولیا پر باولی مین لڑکون کے کودنے کا تماشہ معائنہ
فرمارہے تھے از راہ مذاق ایک معزز یورپین حاکم کو لڑکون کی جانب دہکا دیکر فرمایا
کہ حوالہ شما کردم جس سے حاضرین و بچے بیحد مسرور ہوے۔ ساتھ ہی متانت و وقار
بھی اس پایہ کا ہے کہ با وصف ظرافت کے مخاطب حدود ادب سے قدم باہر
نہیں رکھ سکتا۔
پابندی مذہب اعلحضرت کی پابندی مذہب ایک راستباز و صاف باطن مسلمان کی سی
ہے ۔ زمانہ حال مین امارت و پابندی مذہب ایک دوسرے کی ضد خیال کیے جاتے
ہیں۔ اس زمانہ کے امرا ر اپنے آپ کو اگر شریعت سے مستثنیٰ نہین بیان کرتے۔ تو
عملاً مستثنیٰ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ جس کے مذہبی عقائد ٹھیک نہین
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
