Machine transcription
۳۴
فوجی گارد مسلح ہوتا ہے۔ اور راہ میں جابجا گارد کے واسطے چوکیاں بنی ہوئی ہیں جنیر مسلح
گار درہتا ہے۔ صرف سڑک ہماری گورنمنٹ یعنے گورنمنٹ عالیہ برطانيہ کے قبضہ میں ہے۔
اور اُس کا گردونواح خود سر آفریدیوں کے قبضہ میں ہے مسافروں کو کسی قدر راستہ میں
پانی کی تکلیف ہوتی ہے۔ جس کے رفع کے واسطے پشاور سے مشکیزہ یا گلی کوزہ لے لیئے جاتے
ہیں۔ جمرود سے لنڈی کوتل قریب بیس میل کے ہے۔ دو بجے قافلہ لنڈی کوتل پہونچتا ہے۔
نصف راہ پر علی مسجد واقع ہے جس کی نسبت عوام میں مشہور ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ
عنہ کی بنائی ہوئی ہے اس مقام پر چشمہ پانی کا جاری ہے۔ لنڈی کوتل میں بھی سرکاری قلعہ
اور سرائے ہے اس جگہ سے بھی علی الصباح قافلہ روانہ ہوتا ہے۔ اور پانچ میل پر پہونچکر
روات خدا داد افغانستان کی فوجی گارد کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اسی مقام سے عملداری
افغانستان شروع ہوتی ہے۔ اسی جگہ سے قریب سات میل کے دکّہ ہے یہ ایک چھوٹا
سا موضع ہے جس میں عظیم الشان سرائے اور مہمان خانہ بنا ہوا ہے ایک کمانیر یعنے
سرہنگ معتین سو سواروں کے رہتا ہے یہ لب دریائے لنڈا واقع ہے جو وسعت اور
پانی کی افراط کے لحاظ سے گنگا و جمنا سے بڑا ہے۔ یہاں ضروریات کی ہر شے ملتی ہے اور
صرف مال پر محصول سرکاری لیا جاتا ہے اس جگہ سے قافلہ کی ضرورت نہیں رہتی۔
جس کا جب جی چاہے چلا جائے۔ راہ میں کسی قسم کا خوف نہیں ہے۔ دکّہ سے کابل
تک چھ چھ کوس کے فاصلہ پر عظیم الشان سرائے بنی ہوئی ہے جس کی وضع قلعہ جیسی ہے
اور دو ہزار فوج یا مسافر بآرام بسر کر سکتے ہیں کرایہ سرائے فی نفرد و پیسہ ہے۔ ضرورت
له راہ کابل میں سب سے زیادہ سخت اسی جگہ کا سفر ہے اگر پشاور سے گھوڑا گاڑی میں جائے تو ارام سے طے
ہو جاتا ہے۔ پوری گاڑی کے واسطے چھ روپیہ ہے اور فی سواری دو روپیہ ہے *
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
