Machine transcription
۳۰
۱۰۱۶ھ میں تعمیر کی۔ اسکے صحن کے سامنے کسی قدر بلندی پر سنگ مرمر کی چار دیواری
ہے جس کے اندر سلطان محمد ظہیر الدین بابر خلد آشیان کا مزار ہے جس کے تعویذ پر
اشعار ذیل کندہ ہیں
پادشاہے کز جبینش یافتے نورالہ : آن ظہیر الدین محمد بود بابر پادشاہ
با شکوہ و دولت و اقبال عدل داد دین : داشت از توفیق فیض و فتح و فیروزی سپاہ
عالم اجسام را بگرفت و شد روشن روان : بہر فتح عالم ارواح چون نور نگاہ
شد چو فردوسش مکان رضوان برین تاریخ جست : گفتش فردوس دایم جای بابر پادشاہ
مزار مبارک سے واہنی طرف ابوالمظفر نور الدین محمد جہانگیر پادشاہ ابن جلال الدین محمد اکبر
پادشاہ کا مزار ہے جس کے تعویذ کی عمارت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بطور سیر و شکار
یہان تشریف لائے تھے۔ اسی جگہ بقضائے الٰہی ۱۰۳۷ ہجری میں انتقال فرمایا۔ بائیں
طرف مزار شریف کے خدیجہ الزمانی و خلد آشیانی نواب گوہر النسا بیگم بنت فردوس
آرام گاہ عالمگیر ثانی پادشاہ کا مزار ہے جن کے سال وفات ۱۱۲۳ ہجری ہیں۔ اس
خانقاہ کی چہار دیواری سے چند گز کے فاصلہ پر باغ کی چہار دیواری ہے اس کی
پشت پر ایک عظیم الشان کوہ ہے۔ جسپر قلعہ بنا ہوا ہے زیر کوہ شہر کابل آباد ہے۔
مختصر حال از پشاور تا کابل
پشاور ایک مشہور شہر ہے اسکے تاریخی واقعات اور آبادی وغیرہ سے ہم بحث نہیں کر سکتے
۱؎ بعض لوگ اس پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ شاہ موصوف کا مزار نواح لاہور میں ہے۔ میں تاریخی واقعات
سے انکار نہیں کرتا۔ میں نے تو تعویذ مزار کی عبارت نقل کی ہے۔ باقی واللہ اعلم بالصواب :
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
