Machine transcription
۲۴
کے مناسب حال ہو۔ مہمان خانہ سے اپنے ہمراہ لے جاتا ہے۔ مہمان خانہ میں متعدد ہال
ہیں۔ اور مہمان کی آسایش و آرام کے واسطے ہر شے مہیا رہتی ہے اسی جگہ ایشک اقاصی
آداب شاہی کی تعلیم دیتا ہے جو یہ ہیں ۔ اعلیٰ حضرت امیرالمؤمنین کے روبرو ادب سے جانا چاہیئے
اور قریب پہونچکر قلب پر ہاتھ رکھ کر بغیر سر وگردن خم کئے سلام وعلیکم یا امیرالمؤمنین عرض
کرنا چاہیئے۔ کیونکہ سر خدائے عزوجل کے حضور میں خم کیا جاتا ہے ۔
امیرالمؤمنین اُس ذات اقدس کے بندگان میں سے ہیں۔ گفتگو صاف اور بلا تصنع ہو کوئی
لفظ مثل خداوند وغیرہ کے خلاف شریعت اسلام نہ ہو بلکہ سلیس صرف اسقدر ادب کے
ساتھ جیسے اپنے کسی بزرگ خاندان سے کی جاتی ہے۔ اگر اعلیٰ حضرت نشست کیواسطے
ارشاد فرمائیں تو کرسی پر جو اسی غرض سے زیر سر مبارک بچھی ہوئی ہیں بیٹھ جانا چاہیئے۔
ورنہ کھڑے رہنا چاہیئے بلا ہاتھ باندھے ہوئے۔ غرض کوئی امر ایسا نہو جو مشابہ
ہوجائے اُس ادب کی جو مخصوص ہے خدائے عزوجل احکم الحاکمین ومالک الملک لاشریک لہ
کے واسطے۔ اس کے بعد اگر پیش ہونے والا کچھ سامان نظر کے واسطے لایا ہے تو غلامان
اُس کو پیش ہونے والے کے ہمراہ لے چلتے ہیں ورنہ صرف ایشک اقاصی اسی کو دربار
میں لے جاکر حضور میں پیش کرتا ہے۔ اعلیٰ حضرت زیب سریر خلافت ہوتے ہیں ۔ جو
قوسی شکل کا بنا ہوا قد آدم بلند ہے جس کی سقف صرف ستونوں پر قایم ہے اور ہر
چہار طرف سے کشادہ ہے۔ سقف وستون وغیرہ سنہری کام سے مغرق ہیں۔
اعلیٰ حضرت کرسی پر دربار فرماتے ہیں۔ ایک خوشنما سنہری میز معہ ضروری سامان کے
روبرو ہوتی ہے۔ ایک غلام بچہ پشت مبارک کی جانب سے چوکری یا مورچھل جو کچھ
اُس خوشنمائے کا نام رکھا جائے جو اعلیٰ درجہ کے خوشنما جانوروں کے پروں سے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
