Machine transcription
مذکورہ حاضر حضور ہوکر اپنا قصہ عرض کیا جس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ اس کا جواب کل
دیا جائے گا چنا نچہ دوسرے روز بعد نماز فجر ارشاد فرمایا تجھو شب کو معلوم ہوا کہ تمام عالم
حضرت ضیاء الملتہ والدین کے وجود مبارک کے نور سے منور ہے جاؤ قدم بوسی حاصل کرو
خدا مبارک کرے ۔ یہ سنکر میں خاموش ہو رہا کیونکہ اس ارشاد سے میرے قلب میں
خطرات پیدا ہوئے جن کا عرض کرنا خلاف ادب سمجھا لیکن حضرت نے خود ہی فرمایا کہ
کیا اس میں تمہیں کچھ شبہہ ہے۔ میں نے دست بستہ عرض کیا کہ قلب میں خطرہ کا پیدا ہونا
اختیاری امر نہیں ہے میں معذور ہوں ۔ فرمایا کچھ مضائقہ نہیں خطرہ کا اظہار کرو۔
مینے حکم کی تعمیل کی اور عرض کیا کہ اعلیٰ حضرت ضیاء الملتہ والدین نبی تو ہو نہیں سکتے۔
نبوت ختم ہو گئی۔ اب جتنے درجہ باقی ہیں وہ سب نبوت سے کم ہیں نبیوں کا یہ حال ہے
کہ ایک وقت اور ایک ہی زمانہ میں متعد د نبی عالم میں موجود ہوتے تھے ۔ جب چند وجود
ہونگے تو نور اور اُن کے فیض میں تفریق ضرور ہوگی یہ تو جناب سرور عالم خاتم نبیا
حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شان ہے کہ سارے عالم اُن کے وجود مبارک
سے پر نور اور منور ہوں بموجب ارشاد جناب باری عزاسمہ وما ارسلناك الا رحمة
اللعالمین۔ اسکے جواب میں ارشاد فرمایا کہ یہ خطرہ میرے قلب میں بھی آیا تھا لیکن غور
کرنے سے رفع ہو گیا اس لئے کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے صاف ظاہر ہے کہ
ایک زمانہ ایسا آئے گا جو ایک سنت نبوی کو زندہ کرے گا۔ اُسکو ایک سو شہداء کرام
کا ثواب اور درجے ملے گا یہ وہی زمانہ ہے تو اب غور کرو جس کے وجود مبارک سے ساری
شریعت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ اور جاری و نافذ ہوئی ہے اُسکے مرتبہ کی کیا انتہا
ہو سکتی ہے جسکو سوائے خدا کے کوئی نہیں جان سکتا ۔ علاوہ ازین تفریق کے یہی
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
