BrowseTardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ → page 44

Page 44

Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ · pages 1–125


Page image — the source of record

Scanned page 44 of Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ

Machine transcription

٤١ ایک طرف تو باقیات کی بخشش کا اعلان کیا اور دوسری طرف انگریزوں کے خلاف جنگ کا اعلان دیا۔ لیکن ٹھیک اسی اثنا میں سرکاری پیادے تھے جو کابل کے ہر گلی کوچے میں باقیدہ اشخاص پر مقرر تھے اور جو لوگوں پر سخت ظلم کرتے تھے اور انکی آبرو ریزی کے درپے رہتے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابتدائے سلطنت سے ہی سینکڑوں لوگ اس سے بیزار ہو گئے۔ ۲:- امان اللہ اپنی حکومت کے شروع ہی سے اپنے آپ کو رشوت ستانی کا دشمن بتاتا تھا چنانچہ انہی پہلے دو مہینوں میں مہمان خانہ کے باغ میں ایک عاجز ، سفید ریش کلرک کو جس نے شاید صرف ۳ قران (قریباً ایک ہندوستانی روپیہ) رشوت میں لئے تھے ڈاڑھی سے لٹکا کر پھانسی دیدی لیکن ٹھیک اسی رات عبدالعزیز خان زیرِ داخلہ نے مرزا محمد سرور خان کے ذریعے جو ان دنوں تحصیلی پر مقرر تھا صرف ایک باقیدہ شخص سے (۲۰) ہزار روپے رشوت میں لئے۔ بواسطہ رشوت دیدی گئی تھی! روپئے کو ۱۸۰۰۰ مبلغ ۱۲۰۰۰ در اصل یہ

Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.


Cite this page
Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ, page 44. Afghanistan Digital Library, New York University Libraries. Machine-transcribed text: Afghan Press Archive, https://afghanpress.org/book/adl0111/44 (accessed [date]).
Permalink
https://afghanpress.org/book/adl0111/44
Machine-readable
JSON · IIIF manifest · Canvas
Source
Afghanistan Digital Library record