BrowseTardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ → page 11

Page 11

Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ · pages 1–125


Page image — the source of record

Scanned page 11 of Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ

Machine transcription

۸ اولین بیوفا و نمک ناشناس امان الله خان بود امان اللہ خان سب سے بڑھکر بیوفا و نمکحرام تھا آیا برای حکمرانیکہ بانتخاب ملت تعیین میشود، قبول پادشاهی نمک ناشناسی و بیوفائی است! پس خود امان الله بمقابل اعلحضرت شہید نمک ناشناس و بی و فاترین آدمہای دنیاست، در اسلام وفا و بیوفائی، نمک شناسی و ناشناسی را شرائط معین دارد، حقوق پادشاہ و رعیت را در اسلام شرح مفصل داده است، بیعت بیک پادشاہ تا وقتی ساقط نمیشود، که پادشاه با شرائطیکه اسلام تعیین کرده پابند باشد، وقتیکه از حد و آن تجاوز و ترک پابندی کرد، حق بیعت او ساقط میگردد، ما ملت به پادشاهان افغانستان ہمیشہ باین شرائط بیعت کردہ ایم، که به اسلام و شریعت و اخلاق خیانت نکنند، وعلاوه علم حقوق هم امروز در دنیا پادشاہ، رئیس جمهور و کافه مأمورین یک ملت را نمک خوار ملک و ملت آیا اس حکمران کیلئے جو ملت کے متفقہ انتخاب اور اصرار سے مقرر ہوتا ہے پادشاہی کا قبول کرلینا نمکحرامی اور بیوفائی کے معنی رکھتا ہے ؟ اس استدلال سے ثابت ہوتا ہے کہ اعلحضرت خلد آشیاں امیر شہید کے مقابلے میں خود امان اللہ دنیا کے بڑے بڑے نمکحراموں اور غداروں سے بھی بازی لیگیا ہے۔ جاننا چاہیئے کہ دین اسلام میں وفاداری و بیوفائی، نمکحلالی اور نمکحرامی کیلئے خاص خاص شرطین معین کی گئی ہیں، اسلام نے پادشاہ اور رعیت کے حقوق کی پوری تفصیل کے ساتھ تشریح کی ہے کسی بادشاہ کی بیعت اس وقت تک ساقط و فسخ نہیں ہوسکتی جبتک کہ وہ اسلام کی قایم کردہ شرائط کا پابند ہے۔ لیکن جونہی اس نے ان حدود سے تجاوز کی اور انکی پابندی سے منہ موڑا اسکی بیعت کا حق ساقط ہوجاتا ہے، ہماری ملت نے افغانستان کے کل بادشاہوں کی ہمیشہ ان شرائط پر بیعت کی ہے کہ وہ دین اسلام کے پابند رہینگے، شریعت پر چلینگے پاکیزہ اخلاق اور اعمالِ حسنہ سے ہمیشہ آراستہ رہینگے اور اپنی ذمہ داریوں میں کبھی خیانت نہیں کرینگے اس کے علاوہ آج دنیا میں علم حقوق بھی ایک ملک کے پادشاہ اور رئیس جمہور اور جملہ ملازمین کو ملک و ملت کا نمکخوار قرار دیتا ہے۔ امان اللہ کو

Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.


Cite this page
Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ, page 11. Afghanistan Digital Library, New York University Libraries. Machine-transcribed text: Afghan Press Archive, https://afghanpress.org/book/adl0111/11 (accessed [date]).
Permalink
https://afghanpress.org/book/adl0111/11
Machine-readable
JSON · IIIF manifest · Canvas
Source
Afghanistan Digital Library record