Machine transcription
کرتے ہیں۔
اس موقعہ پر میری طبیعت پر ایک خاص اثر ہوا۔ حضرت ضیاء الملۃ والدین خلد آشیان
کی شبیہ مبارک آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ اور وہ تمام عنایات خسروانہ لینے اپنے ہمراہ
چند مرتبہ کھانہ میں شریک فرمانا خاص الش اپنے دست مبارک سے مرحمت فرمانا یاد آکر
طبیعت بھر آئے ۔ اور ایک خاص کشش محسوس ہوئی جو مزار مبارک کھینچ کر لے گئی۔
رشتہ در گردنم افگندہ دوست میبرد ہر جا کہ خاطر خواہ اوست
اس لئے اس کے بعد کے واقعات میں نہیں بیان کر سکتا۔ غالباً اس کے بعد دربار برخاس
ہو جاتا ہے۔
مختصر حالات کابل دار السلطنت افغانستان
شہر کابل کی آبادی اور وسعت مثل دہلی کی ہے اکثر بازار پٹے ہوئے ہیں لینے ان کی
سقف ہی مثل اون بازاروں کے جیسے مکہ معظمہ اور جدہ شریف کے ہیں فرق صرف
مقصد کا ہے۔ یہاں سردے اور برف کی غرض سے ایسا کیا گیا ہے۔ اور وہاں گری
اور تمازت آفتاب کی غرض سے ۔ بازاروں میں خلقت کی ہجوم کی وجہ سے چلنا دشوا
ہوتا ہے۔ سردے و انگور۔ سیب وغیرہ میوہ جات کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔ علی درجہ
سردے کا نرخ دو پیسہ فی اثار رہتا ہے جس کی شیرینی کا مقابلہ بلا مبالغہ قند سے ہو سکتا
ہے۔ علی ہذا انگور کی ارزانی کی بھی یہی کیفیت ہے سیب کی ارزانی سے بڑھی ہے
یہانتک کہ بعض وقت ایک پیسہ کے دس ملتے ہیں۔ بادام ۔ آلوچہ و زردالو وغیرہ
بھی بہت ارزاں ہیں۔ ان کی کابل میں یہی کیفیت ہے جیسے ہمارے یہاں لینے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
