Machine transcription
19
آتے رہتے ہیں جن کی تعداد ہزارہا کی ہے میں صرف اسکا قاعدہ درج کرتا ہوں کہ مظلوم
کی فریاد اعلحضرت کے گوش مبارک تک کیونکر پہونچتی ہے ناظرین کو اس سے یقین طور پر ظاہر ہو
جائے گا کہ ایسا قاعدہ مقرر کرنا ہے منصف مزاج بادشاہ کا کام ہے اور نیز اس قاعدہ
کے معلوم ہونے سے اہل ہندوستان کو یہ بھی فائدہ پہونچے گا کہ بعض اہل کاروں نے دولت
خداداد افغانستان کی عام طور پر جو مشہور کر رکھا ہے اور لوگوں کا اُسکا یقین ہو گیا ہے۔
کہ ہندوستان سے کوئی خطہ یا کسی کی شکایت وغیرہ کی درخواست بغیر اُن کی توسل کے
اعلیٰ حضرت تک نہیں پہونچ سکتی ۔ ڈاک خانہ پشاور سے ایسے خطوط یا تو چاک کر دئے جاتے
ہیں یا اُن کے ملاحظہ کے واسطے بھیج دئیے جاتے ہیں وہ اُنکو ملاحظہ کرنے کے بعد یا تو چاک
کر دیتے ہیں یا اعلیٰ حضرت کے حضور میں روانہ کر دیتے ہیں بغرض جیسا اُنکے نزدیک مناسب
معلوم ہوتا ہے وہ کرتے ہیں۔ یہ محض غلط اور فضول ہے کسی کی مجال نہیں ہے کہ اعلیٰ حضرت
کے نام کا خط یا درخواست کوئی اہل کار کھول سکے۔ اسکا یقین کرنا ایسا ہے جیسا کہ بعض
حضرات حضرت جبریل علیہ السلام کے نام خط لکھ دیتے ہیں کہ میت حاملہ خط ہذا کو بموجب خط
ناپ کر جنت میں زمیں دے دیجئے گا۔
ہم نہایت ادب سے اُن ظلم رسیدہ حضرات کو جو ایسے اہلکاروں کے پنجۂ ظلم میں گرفتار
ہوئے ہوں یا اس وقت یا کبھی آئندہ ہوں مشورہ دیتے ہیں کہ بقاعدہ ذیل مقررہ دولت
خداداد افغانستان وہ اپنی چارہ جوئی کریں ۔
قاعدہ
ایک اشتہار اعلیٰ حضرت کی جانب سے اہل افغانستان اور دیگر ممالک کے لوگوں کو اطلاع
دہی کی غرض سے شائع کیا گیا ہے کہ اگر اُن کو کسی ایسے شخص سے جو دولت خداداد افغانستا
ن
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
