BrowseTardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ → page 8

Page 8

Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ · pages 1–125


Page image — the source of record

Scanned page 8 of Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ

Machine transcription

باخته است اینقدر هم نمیداند ، که در موقعیکه پادشاه افغانستان بود ، سقوزاده را بر او ترجیح دادند و او را از مملکت خارج کردند، چه طور میشود که بعد از سقو او را دوباره انتخاب کنند ، آیا امان الله تا امروز معنی این انقلاب را هم نفهمیده که یک ملت باین بزرگی بجان و مان خود بی سبب آتش میزند و هیچ نقطه نظری نداشته یکدفعه برای نفی امان الله افغانستانرا سرد چار آتش سوزان میسازد، و با امان الله را انتخاب میکند ، حال آنکه این ملت انقلاب کبیر افغانستان را سنجیده و دیده و دانسته بروی کار کرد ، تا از پنجه بی دیانتی و قبایح اخلاقی و سوء اداره نجات یابد ، امان الله خان هر چه میخواهد بگوید ، اما حق ندارد ملت ما را یک ملت بی اراده به دنیا معرفی کند ! ( اسرار چهره ها برها میقده ) اگر امان الله ما را بهر زه پرا خود مجبور ساخت ، ممکن است تمام مسائل اخلاقی او را که با ستناد و فوتوگرافی های افغانستان کا مطلق العنان بادشاه تھا اور اسکا طوطی بول رہا تھا ملت نے سقہ زادہ کو اس پر ترجیح دی اور اسکو اپنے ملک سے نکال باہر پھینک دیا ۔ پس اب یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ سقے کے بعد پھر اسکو دوبارہ انتخاب کریں ؟ کیا امان اللہ نے اس خانمان سوز انقلاب کے معانی پر ابھی تک غور نہیں کیا کہ ایک اتنی بڑی ملت اپنی جان و مال کو بے سبب ہلاکت کے گڑھے میں کیسے دھکیل سکتی ہے اور اپنے گھر بار اور املاک عزیز کو بے دلیل کس طرح نذر آتش کر سکتی ہے ؟ اور کسے ہو سکتا ہے کہ اسکا کوئی نقطۂ نظر ہی نہ تھا ؟ بھلا ایک طرف تو وہ امان اللہ کو افغانستان سے نکالنے کیلئے آگ میں پڑتی ہے اور دوسری طرف اسی امان اللہ کو انتخاب کر کے سلطنت کی باگ ڈور اسکے ہاتھ میں دے دیتی ہے حالانکہ اس ملت نے انقلاب کبیر افغانستان کے نتائج کو اچھی طرح سوچ لیا تھا اور دیدہ و دانستہ اسلئے تلخ تجربے کے لئے آمادہ ہوئی تھی ، اس کی محرک یہ بات تھی کہ بددیانتی ، بدچلنی اور بدانتظامی کے تسلط اور برے اثر سے نجات پائے ۔ امان اللہ خان کے دل میں جو کچھ آئے کہ لے ، لیکن اس کو کوئی حق حاصل نہیں کہ دنیا میں ہماری ملت کا تعارف اسطرح کرائے کہ ملت افغانستان ایک بے ارادہ ملت ہے اور اسکو برے بھلے کی کوئی تمیز نہیں۔ ( امان اللہی دربار کے اسرار ) اگر امان اللہ نے اپنی یاوہ گوئی اور ہرزہ سرائی سے ہمیں افشائے راز پر مجبور کیا ، ممکن ہے کہ ہم اس کے

Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.


Cite this page
Tardīd-i shāyiʻāt-i bāṭilah-ʼi shāh-i makhlūʻ, page 8. Afghanistan Digital Library, New York University Libraries. Machine-transcribed text: Afghan Press Archive, https://afghanpress.org/book/adl0111/8 (accessed [date]).
Permalink
https://afghanpress.org/book/adl0111/8
Machine-readable
JSON · IIIF manifest · Canvas
Source
Afghanistan Digital Library record