{"book":"adl0234","page":75,"text":"۶۶\n\n۲-فروری ۱۹۰ء- ہزمیجسٹی سر ہنری میکمہن اور ذاتی اسٹاف کے ممبرون کے ساتھ مینا بازار مین تشریف لائے۔ ان کی وجہ سے مینا بازار مین بڑا ہجوم تھا۔\nچند منٹون موسیقی نواز دستہ کا ترانہ سنگر ہزمیجسٹی وایسرایگل دکان کی طرف تشریف لے گئے جہان لیڈی منٹو سے ملاقات ہوئی۔ ہر اِکسلنسی نے دُکان کی عمدہ چیزین بہ نفس نفیس دکھلائین آپ بہت خوش ہوئے۔\nفیاضی سے اشیاء خریدین۔ ایک خوبصورت ایرانی قالین بھی خرید کیا۔\nلیڈیز وائلٹ۔ ڈربی ایلٹ۔ اور ڈیوک اور ڈچز آف مانچسٹر بھی جبکہ ہز مجسٹی خرید اشیاء مین مصروف تھے۔ اس دوکان پر آگئے۔ فوٹو گرافرون کے خاص فائدے کے لیے ہز مجسٹی امیر و ہرا کسلنسی لیڈی منٹو وایسرایگل دوکان کے سامنے تھوڑی دیر کیلئے ٹھر گئے۔\nبعدہ دوکان فوٹوگرافرون کا معائنہ کیا۔\nپہر لیڈی منٹو کے ساتھ قہوہ خانہ مین چاء پی۔ شب کو لارڈ کچنر کے ساتھ کھانا تناول فرمایا۔\nسرحد انگریزی مین داخل ہونے کے بعد صرف لارڈ کچنر ہی ایسے عہدہ دار ہین جن سے اور ہز مجسٹی سے تپاک کی گفتگو و ملاقات ہوتی ہے۔\n۳۔ فروری ۱۹۰ء کا دن ہز مجسٹی نے حضور وایسرائے کے ساتھ بارک پور مین بآرام بسر کیا شام کو منٹو مینا بازار مین گئے دکانون سے اشیاء خرید فرمائین۔\n۴۔ فروری ۱۹۰ء آج ہز مجسٹی نے نوُ ہزار سے زائد کے اشیاء منٹو مینا بازار مین خرید فرمائین۔\nدوپہر کے بعد چورنگی مین وائٹ اوے اینڈ لیڈ لا کی دُکانپر گئے\n\n۱۔ لیڈی منٹو کی دوکان سے ۳۱ ہزار روپیہ کی چیزیں خریدی گئے ایک دراسات سو کی بہترین قالین۔ آئی اوردو کالا قانون بھی ایک ایک ہزار کی قیمت سے زیادہ خریدی ایک گلوبند و ایک چوغہ بھی خرید کیا ہراکسلنسی منٹو وایسرائیل برآمد کو بڑھا کر اُن کے علاوہ قیمت کا دو سو روپیہ بھی دِیا۔ ہز مجسٹی نے ایک پیش بہا ہما یہیں بھی لیڈی منٹو کو دی جس کی قیمت نو ہزار روپیہ تھی علاوہ ہز مجسٹی کے اور دُکانداروں نے سامان نہایت قیمتی بازار مذکور میں بیچے تھے۔ اور دوکانداروں کو بھی انعام دیا ہز مجسٹی امین دوم اشرقیاں انعاماً دیں شکر داد کو سات سو پچھتر اشرفیاں اور طرابیت کیں مینا بازار میں خانہ تر بیت کی چند بنانے کے صلہ میں سو روپیہ چندہ مرحمت فرمایا۔","chars":1797,"image":"https://storage.googleapis.com/adl-page-images/adl0234/00075.jpg","first_page":1,"last_page":293,"title":"Ḥabīb حبيب","permalink":"https://afghanpress.org/book/adl0234/75","canvas":"https://afghanpress.org/iiif/adl0234/canvas/75","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/books/adl0234/","source_pdf":"https://afghanistandl.nyu.edu/pdf/adl0234_download.pdf","rights":{"image":{"statement":"Public domain. NYU states: \"All works presented on this website are, unless otherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely reproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\"","uri":"http://rightsstatements.org/vocab/NoC-US/1.0/","holder":"New York University Libraries","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/about.html","delivery":"Images are served from a copy mirrored by this project, not from NYU's servers, under the reproduction terms above.","endorsement":"This is an independent project. It is not affiliated with, endorsed by, or reviewed by New York University."},"text":{"statement":"Machine-generated transcription, dedicated to the public domain under CC0 1.0. No warranty of accuracy: see the provenance block on every page.","uri":"https://creativecommons.org/publicdomain/zero/1.0/","holder":"Steps Ventures"}},"provenance":{"text_produced_by":"gemini-3.1-pro-preview","thinking_level":"low","read_completed":"2026-08-09","per_page_confidence":null,"per_page_confidence_note":"Not recorded during the corpus run. No calibrated per-page score exists, and none is estimated here.","human_reviewed":false,"accuracy_context":"Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting.","primary_source":"The page image. The text is an index into it."}}