{"book":"adl0234","page":36,"text":"۳۴\nبنکر اپنے خلوص کا ثبوت دیا۔ ہز مجسٹی نسباً ۔ ابدالی النسل قبیلہ درانی صدوزی کے\nبھتیجے ۔ بارک زی کے چشم و چراغ ہین ۱۸ء مین بزمانہ قیام امیر مرحوم سلطنت روس مین\nپیدا ہوئے۔ اب سن مبارک پینتیس سال کا ہے۔ خداوند عالم نے جوانی مین پیرانہ\nتدابیر اور انجام بینی کا خاص مادہ آپ کو عطا فرمایا ہے۔\nلارڈ کرزن کی دعوت اور انکار کرنے کے اسباب جس زمانہ مین منجانب لارڈ کرزن پیام دعوت\nلارڈ منٹو کا پیام مانی اور قبول کرنیکے وجوہ اعلیحضرت کو دیا گیا ضیا ء الملته والدین امی عبد المران\nکی وفات اور سراج الملت والدین کی تخت نشینی کو زیادہ مدت نگذری تھی گو\nشورتین یا مخالفتین بظاہر کمین پائی نہ جاتی تھین مگر شہر تین ان کے خلاف تھین اخباران\nمین خبریں مشتہر ہوتی تھین کہ باہم بھائون کے سلوک نہین۔ مادر و فرزند مین کشیدگی ہے\nاگر چہ انکا وجود نہ تھا لیکن ملکی حالات و خیالات کی بنا پر جو خلاف را بے قایم کیجاوے\nوہ بعید القیاس نہین ہو سکتی یہ بھی ممکن ہے کہ اوس زمانہ مین تمام قبائل وجرگون کی طرف\nسے اطمینان کامل نہوگا۔ پس اس صورت مین ملک سے جدا ہونا۔ ایک دور اندیش\nحکمران کے لئے کسی پہلو سے مناسب نہ تھا اسکے علاوہ پیام دعوت کے الفاظ خصوصیت\nو محبت کے حدود سے بیگانہ تھے۔ لہذا امیر صاحب نے مصلحت وقت پر نظر ڈا لکر\nاحتیاط سے کام لیا اور قبول دعوت بین عذر کیا ۔ لارڈ کرزن وایسراے کو ایسا رد دعوت\nاہانت امیز اشتعال تھا۔ اسپر مغایرانہ و دلشکن کارروائی کی گئی جو واب محبت و دایره\nسلاطین سے دور۔ دور اندیشی سے بعید ایک آزاد قوم کو خود مختار فرمان روا کے لئے\nبرہمی مزاج کا باعث تھی خوف یا ضرر کے خیال سے دعوت کا منظور کرنا معمولی حیثیت کے\nآدمی کے ذمے بہت کچھ مکر وہ الزامات قایم کرا دیتا ہے ۔ چہ جائیکہ ایک ایشیائی\nبادشاہ کے حق مین۔\nجہان تک سنا گیا انکار دعوت پر بحث محدود نہ رہی بلکہ وہ رقم کثیر جو گورنمنٹ ہند کی طرف","chars":1590,"image":"https://storage.googleapis.com/adl-page-images/adl0234/00036.jpg","first_page":1,"last_page":293,"title":"Ḥabīb حبيب","permalink":"https://afghanpress.org/book/adl0234/36","canvas":"https://afghanpress.org/iiif/adl0234/canvas/36","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/books/adl0234/","source_pdf":"https://afghanistandl.nyu.edu/pdf/adl0234_download.pdf","rights":{"image":{"statement":"Public domain. NYU states: \"All works presented on this website are, unless otherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely reproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\"","uri":"http://rightsstatements.org/vocab/NoC-US/1.0/","holder":"New York University Libraries","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/about.html","delivery":"Images are served from a copy mirrored by this project, not from NYU's servers, under the reproduction terms above.","endorsement":"This is an independent project. It is not affiliated with, endorsed by, or reviewed by New York University."},"text":{"statement":"Machine-generated transcription, dedicated to the public domain under CC0 1.0. No warranty of accuracy: see the provenance block on every page.","uri":"https://creativecommons.org/publicdomain/zero/1.0/","holder":"Steps Ventures"}},"provenance":{"text_produced_by":"gemini-3.1-pro-preview","thinking_level":"low","read_completed":"2026-08-09","per_page_confidence":null,"per_page_confidence_note":"Not recorded during the corpus run. No calibrated per-page score exists, and none is estimated here.","human_reviewed":false,"accuracy_context":"Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting.","primary_source":"The page image. The text is an index into it."}}