{"book":"adl0234","page":31,"text":"۲۲\n\nامیر عبدالرحمن خان ابہی یہ ترددات پیش تھے کہ دفعۃً امیر عبدالرحمٰن کے روس سے نکلنے اور\nاور سرحد افغانستان پر پہونچنے کی خبر ملی اسکا خلاصہ یہ ہے کہ امیر عبدالرحمٰن خان دس بارہ سال\nتک روسی وعدون پر مختلف شغلون میں اپنا وقت گزارتے رہے جسکی تفصیل کی بیان\nگنجائیش نہیں۔ بارہا آپنے زار روس کو ایفای وعدہ پر متوجہ کیا لیکن جواب کہی تأمل\nاطمینان نہ ملا زار نے اپنی فوج افغانستان مین بھیجنی ہی چاہی تو اس شان سے کہ خود مالک\nبنجائے۔ مگر اسطرح مسلمانون کا کشت و خون اونہوں نے پسند نہ کیا۔ جب کہا تو یہ کہا\nکہ دو ہزار روسی فوج اور چند توپین معہ سامان حرب کے ملجائے فتح افغانستان کے لئے مجھے\nیہی کافی ہے۔ اس عنایت کے صلہ مین ہمیشہ روس کا مین ہوا خواہ و دوست رہونگا۔ زار\nایفای عہد کو ٹالتا رہا۔ کیونکہ جس بات کا وعدہ امیر عبدالرحمٰن کرتے تھے اوس سے زیادہ\nشیر علیخان کی حکومت سے بغیر ہاتھ پاؤن ہلائے حاصل تھا۔ امیر شیر علیخان نے\nروسی گورنمنٹ سے ایسے وعدے کر ہی رکھے تھے امیر عبدالرحمٰن کو روسی امداد سے بالکل\nمایوسی تھی کہ اتنے مین خبر لگی کہ افغانستان مین ایک اندھیر مچ رہا ہے اوسوقت اس زیرک\nو دور اندیش بہادر نے والی ترکستان کو واسطہ گردانکر روسی گورنمنٹ سے وطن کی اجازت\nحاصل کی اور بسم اللہ کہکر بالکل بے سر و سامانی کے ساتھ افغانستان کا رخ کیا سابق\nوفاداروں نے خیر مقدم کیا رؤسا و قبائل ساتھ ہوتے گئے۔ تھوڑے دنوں مین ایک\nجرار فوج جمع ہوگئی۔ اقبال نے یاوری کی۔ سعادت ہمرکاب ہوئی۔ انگریزوں کے لئے بھی\nیہ موقع اظہار مخالفت کا نہ تھا۔ اسی مین مصلحت دیکھی کہ امیر عبدالرحمٰن خان کو جو کسی کے\nروکے نہ روکین گے خود ہی بلایا جائے۔ خط لکھا گیا۔ بلایا گیا۔ اور خود کابل چھوڑ کر چلے آئے۔\n۲۰ جولائی ۱۸۸۰ء کو جایز وارث حکومت افغانستان امیر عبدالرحمٰن خان سریر آرائے\nسلطنت ہوئے تمام افغانوں نے اونہیں اپنا بادشاہ تسلیم کیا۔ جسوقت اہل افغانستان\nنے آپکو اپنا حکمران تسلیم کیا اوسوقت آپکا ایک جوابی مراسلہ سر لیپل گریفین کے پاس","chars":1707,"image":"https://storage.googleapis.com/adl-page-images/adl0234/00031.jpg","first_page":1,"last_page":293,"title":"Ḥabīb حبيب","permalink":"https://afghanpress.org/book/adl0234/31","canvas":"https://afghanpress.org/iiif/adl0234/canvas/31","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/books/adl0234/","source_pdf":"https://afghanistandl.nyu.edu/pdf/adl0234_download.pdf","rights":{"image":{"statement":"Public domain. NYU states: \"All works presented on this website are, unless otherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely reproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\"","uri":"http://rightsstatements.org/vocab/NoC-US/1.0/","holder":"New York University Libraries","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/about.html","delivery":"Images are served from a copy mirrored by this project, not from NYU's servers, under the reproduction terms above.","endorsement":"This is an independent project. It is not affiliated with, endorsed by, or reviewed by New York University."},"text":{"statement":"Machine-generated transcription, dedicated to the public domain under CC0 1.0. No warranty of accuracy: see the provenance block on every page.","uri":"https://creativecommons.org/publicdomain/zero/1.0/","holder":"Steps Ventures"}},"provenance":{"text_produced_by":"gemini-3.1-pro-preview","thinking_level":"low","read_completed":"2026-08-09","per_page_confidence":null,"per_page_confidence_note":"Not recorded during the corpus run. No calibrated per-page score exists, and none is estimated here.","human_reviewed":false,"accuracy_context":"Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting.","primary_source":"The page image. The text is an index into it."}}