{"book":"adl0234","page":28,"text":"۱۹\n\nروس او فرانس متفقه کوششوں سے ہند پر حملہ آور ہونے والے ہیں۔ یہ خبر انگریزوں کے لئے\nمتوحشانہ تھی فوراً مسٹر الفنسٹن کی صدارت میں ایک سفارتی کمیشن کابل روانہ ہوا ۱۸۰۹ء\nمیں شاہ شجاع سے عہد نامہ ہوا جس میں تحریر تھا کہ وہ روسیوں کو روکے اور انگریز اس کی امداد کریں بیچارہ\nشاہ شجاع کو سلطنت کی اہلیت نہ تھی۔ اس بار گران کو کیا اٹھا سکتا تھا۔ کچھ عرصہ تک افغانستان\nواقعی حکمران سے خالی رہنے کے بعد امیر دوست محمد خان بارک زئی کے زیر نگین آگیا۔\n\nمحمود شاہ کے زمانہ سے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بہت زور پکڑ لیا تھا۔ دوسری طرف سے\nفتح علی شاہ قاچار شاہ ایران افغانستان کے فتح کے درپے ہورہا تھا۔ تیسری جانب سے روس\nبڑھا چلا آتا تھا۔ ناچار حوصلہ مند امیر دوست محمد خان کو بھی ایسے حامی کی ضرورت محسوس ہوئی\nجس کی امداد سے وہ افغانستان کو تمام دشمنوں سے بچا سکے اسلئے اونہوں نے انگریزون\nسے باہمی دوستی کی سلسلہ جنبانی کی۔ ان دنوں لارڈ آکلیلنڈ ہندوستان کے گورنر جنرل تھے\nانکو خط لکھا۔ با وجود دانشمندی کے مال کار کو نہ سمجھے اور وہ امیر دوست محمد خان کو معزول\nکرنے اور شاہ شجاع کے بادشاہ بنانے پر مستعد ہو گئے۔ اس غرض سے پچیس ہزار سپاہ\nسر جان کین کے ماتحت قندہار پر چڑھی ۱۸۳۹ء میں پھر شاہ شجاع تخت نشین کئے گئے\nجب غزنی چھن گئی اور شاہ شجاع کابل پر قابض ہوگئے۔ امیر دوست محمد خان ہندوکش\nکے دوسری جانب بھاگ گئے۔ اوسوقت ایڈورڈ کین ہندوستان کو لوٹ آیا۔ آٹھ ہزار\nفوج سرولیم میکناٹن وغیرہ کے زیر کمان چھوڑ آیا۔ دوسال شاہ شجاع انگریزوں کی مدد سے\nکابل و قندہار پر قابض رہا۔ ۱۸۴۰ء میں امیر دوست محمد خان نے خود اپنے آپکو انگریزوں\nکے سپرد کر دیا امیر دوست محمد خان ہندوستان آئے۔ شاہ شجاع افغانستان میں نیکن نام\nو ہردلعزیز نہ تھا۔ محمد اکبر خان خلف امیر دوست محمد خان نے بلوہ کر کے شاہ شجاع کو ہلاک\nاور انگریزی فوج متعینہ کابل کو جو بغرض حفاظت شاہ شجاع تھی تباہ و برباد کر دیا بہت چھوٹا حصہ\nبچ کر ہندوستان پہونچا ۱۸۴۲ء میں زیر کمان جنرل پلوک انگریزی سپاہ کا ایک بڑا زبر دست","chars":1746,"image":"https://storage.googleapis.com/adl-page-images/adl0234/00028.jpg","first_page":1,"last_page":293,"title":"Ḥabīb حبيب","permalink":"https://afghanpress.org/book/adl0234/28","canvas":"https://afghanpress.org/iiif/adl0234/canvas/28","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/books/adl0234/","source_pdf":"https://afghanistandl.nyu.edu/pdf/adl0234_download.pdf","rights":{"image":{"statement":"Public domain. NYU states: \"All works presented on this website are, unless otherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely reproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\"","uri":"http://rightsstatements.org/vocab/NoC-US/1.0/","holder":"New York University Libraries","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/about.html","delivery":"Images are served from a copy mirrored by this project, not from NYU's servers, under the reproduction terms above.","endorsement":"This is an independent project. It is not affiliated with, endorsed by, or reviewed by New York University."},"text":{"statement":"Machine-generated transcription, dedicated to the public domain under CC0 1.0. No warranty of accuracy: see the provenance block on every page.","uri":"https://creativecommons.org/publicdomain/zero/1.0/","holder":"Steps Ventures"}},"provenance":{"text_produced_by":"gemini-3.1-pro-preview","thinking_level":"low","read_completed":"2026-08-09","per_page_confidence":null,"per_page_confidence_note":"Not recorded during the corpus run. No calibrated per-page score exists, and none is estimated here.","human_reviewed":false,"accuracy_context":"Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting.","primary_source":"The page image. The text is an index into it."}}