{"book":"adl0234","page":27,"text":"۱۸\n\nپھر محمود شاہ کو ہوئی۔ سردار فتح خان کے ذریعہ سے ہرات فتح ہوا ۔ با عذابے فیروز الدین کے\nمحمود شاہ نے اپنے مہربان دمددگار سردار فتح خان وزیر کو اندھا کراکے قتل کرا دیا ۔ جب\nیہ خبر عام ہوئی تو خاندان بارک زئی موجودہ حکمران کے اجداد کو غصہ آیا نہیں بھائی\nفتح خان کے موجود تھے جنہین ایک سے ایک بہادر و قابل تھا ۔ اور دوست محمد خان اپنے\nسب بھائیوں میں ممتاز بہادر تھے یہ سب اپنے بارک زئی قبیلہ کو ہمراہ لیکر انتقام پر آمادہ ہوے\nمحمود شاہ کو مارکر بھگا دیا اوس نے ایران مین جاکر پناہ لی پھر شاہ شجاع کو پنجاب سے بلا کر بادشہ\nبنا دیا ۔ شاہ شجاع نے تخت پر بیٹھتے ہی اپنے محسنون کو کاروبار سلطنت سے بیدخل\nکرنا چاہا ۔ اسپر تلوار چلی ۔ شاہ شجاع افغانستان چھوڑ کر لدھیانہ مین انگریزون کی پناہ میں آئے\nاور خواہاں امداد ہوئے ۔ بعد شاہ شجاع کے تیمور کے ایک بیٹے کو تخت نشین کیا جو اپنی غلطی\nسے معزول ہوا ۔ اسوقت افغانستان کو بے بادشاہ کے دیکھکر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے\nزور پکڑا اور پشاور کا رخ کیا ۔ محمد اعظم خان و دوست محمد خان دونون فوج لیکر مقابلہ پر آئے\nمگر نوشہرہ پر شکست کھا کر واپس ہونا پڑا۔ یون بہت سا علاقہ افغانستان کا سکھوں کے ہاتھ گیا\nاسکے بعد افغانستان مین طوائف الملوکی ہوئی ۔ جو جہان تھا خود سر بن بیٹھا ۔ قندہار و غزنی\nدوست محمد خان اور اونکے بھائیون کے قبضہ مین تھے لیکن باہم سلوک نہ تھا۔ اس لئے\nپھر شاہ شجاع نے سر نکالا مگر شکست کھا کر لدھیانہ چلا آیا ۔ دوست محمد خان نے رفتہ رفتہ\nاپنا اقتدار حاصل کیا اور افغانوں نے او نھین اپنا امیر بنالیا۔\n\nدوست محمد خان اور انکے جانشین\nشاہ شجاع کئی دفعہ افغانستان کا بادشاہ ہوا چونکہ اوسمین افغانون کی\nدلداری و نظمی صلاحیت بالکل نہ تھی اسلئے اوسے ہر دفعہ معزول\nاور افغانستان سے دست بردار ہونا پڑا۔ اوسے تخت پر بیٹھتے ہی ایسے حامی کی تلاش تھی\nجو وقت پر مدد دیسکے اسی زمانہ مین روس ہندوستان کی جانب رخ کر رہا تھا۔ زار روس\nونپولین بونا پارٹ کے باہم اعلیٰ درجہ پر دوستی ویکجہتی کے مراسم تھے اسلیے مشہور ہوا کہ","chars":1749,"image":"https://storage.googleapis.com/adl-page-images/adl0234/00027.jpg","first_page":1,"last_page":293,"title":"Ḥabīb حبيب","permalink":"https://afghanpress.org/book/adl0234/27","canvas":"https://afghanpress.org/iiif/adl0234/canvas/27","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/books/adl0234/","source_pdf":"https://afghanistandl.nyu.edu/pdf/adl0234_download.pdf","rights":{"image":{"statement":"Public domain. NYU states: \"All works presented on this website are, unless otherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely reproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\"","uri":"http://rightsstatements.org/vocab/NoC-US/1.0/","holder":"New York University Libraries","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/about.html","delivery":"Images are served from a copy mirrored by this project, not from NYU's servers, under the reproduction terms above.","endorsement":"This is an independent project. It is not affiliated with, endorsed by, or reviewed by New York University."},"text":{"statement":"Machine-generated transcription, dedicated to the public domain under CC0 1.0. No warranty of accuracy: see the provenance block on every page.","uri":"https://creativecommons.org/publicdomain/zero/1.0/","holder":"Steps Ventures"}},"provenance":{"text_produced_by":"gemini-3.1-pro-preview","thinking_level":"low","read_completed":"2026-08-09","per_page_confidence":null,"per_page_confidence_note":"Not recorded during the corpus run. No calibrated per-page score exists, and none is estimated here.","human_reviewed":false,"accuracy_context":"Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting.","primary_source":"The page image. The text is an index into it."}}