{"book":"adl0234","page":26,"text":"۱۷\n\nسرحد کشمیر ترکستان ۔ سندہ ۔ بلوچستان و خراسان کو اپنی سلطنت میں شامل کر کے خراج\nلیا ۔ تیمور نے قندہار کے بجاے کابل کو اپنا پایہ تخت قرار دیا۔ اس نے بتیس سال تک\nنہایت شان سے سلطنت کی۔ اسکے مرتے ہی سلطنت میں بدملی پھیلی۔ اسکے سات بیٹے\nہمایون شاہ ۔ محمود شاہ ۔ زمان شاہ ۔ عباس شاہ ۔ شجاع الملک ۔ شاہ پور ۔ فیروز الدین تھے\nمنجملہ انکے زمان شاہ تیسرے بیٹے کو سردار پائندہ خان بارک زئی کی امداد سے تخت کابل\nنصیب ہوا۔ اگرچہ ہمایون و عباس نے مخالفت بھی کی مگر سردار پائندہ خان وغیرہ کی کوشش\nسے زمان شاہ کی سلطنت قایم ہو گئی اندرونی جھگڑوں سے نجات پاکے۔ زمان شاہ نے\nدومرتبہ ہندوستان کا رخ اور پنجاب میں اپنی حکومت کو مضبوط کیا۔ مہا راجہ رنجیت سنگہ کی حکومت\nکی بنا بھی اِسی کے ہاتھ سے پڑی۔ لیکن جب وہ ہندوستان آتا تھا شاہزادہ محمود علم بغاوت بلند\nکئے بغیر نہ رہتا تھا۔ بالاخر سردار پائندہ خان کے مشورہ سے زمان شاہ نے طرفداران محمود شاہ کا\nقلع قمع کرنا شروع کیا ۔ یہ دیکھکر مخالف سہم گئے اور پائندہ خان سے انتقام لینے پر آمادہ ہوئے\nزمان شاہ نے حاسدوں کے اغوا سے اپنے محسن و مددگار وزیر کو مروا ڈالا ۔ ایسوجہ سے\nسردار فتح خان پسر سردار پائندہ خان نے محمود شاہ پسر تیمور شاہ کو برانگیختہ کر کے زمان شاہ کو\nمعزول اور محمود شاہ کو تخت نشین کیا۔\n\nمحمود شاہ و شجاع الملک | شیر محمد خان جو پائندہ خان کا حریف تھا۔ یوں سردار فتح خان کو چوے\nکار آتا اور اپنی وزارت کو جاتا دیکھ نہ سکا۔ اوس نے شجاع الملک فرزند پنجم تیمور شاہ کو ہمراہ لیکر\nمحمود شاہ پر فوج کشی کی کئی لڑائیاں ہوئیں ۱۸۰۳ء میں شجاع الملک و شیر محمد خان محمود شاہ\nپر غالب آئے شجاع الملک تخت نشین ہو کر شاہ شجاع کہلائے ۔ کچھ عرصہ کے بعد اپنے\nصوبہ دار کشمیر پر چڑھائی کی۔ اتفاق دیکھئے صوبہ دار کے ہاتھ سے مغلوب ہونا پڑا اب سردار\nفتح خان کو پہر موقع ملا۔ اوس نے پھر محمود شاہ کو بادشاہ بنا دیا۔ شاہ شجاع کو ملک سے\nنکال دیا اسوقت ہرات فیروز الدین فرزند ہفتم تیمور کے قبضہ میں تھا ہرات کی خواہش کامران\n\n۳","chars":1745,"image":"https://storage.googleapis.com/adl-page-images/adl0234/00026.jpg","first_page":1,"last_page":293,"title":"Ḥabīb حبيب","permalink":"https://afghanpress.org/book/adl0234/26","canvas":"https://afghanpress.org/iiif/adl0234/canvas/26","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/books/adl0234/","source_pdf":"https://afghanistandl.nyu.edu/pdf/adl0234_download.pdf","rights":{"image":{"statement":"Public domain. NYU states: \"All works presented on this website are, unless otherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely reproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\"","uri":"http://rightsstatements.org/vocab/NoC-US/1.0/","holder":"New York University Libraries","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/about.html","delivery":"Images are served from a copy mirrored by this project, not from NYU's servers, under the reproduction terms above.","endorsement":"This is an independent project. It is not affiliated with, endorsed by, or reviewed by New York University."},"text":{"statement":"Machine-generated transcription, dedicated to the public domain under CC0 1.0. No warranty of accuracy: see the provenance block on every page.","uri":"https://creativecommons.org/publicdomain/zero/1.0/","holder":"Steps Ventures"}},"provenance":{"text_produced_by":"gemini-3.1-pro-preview","thinking_level":"low","read_completed":"2026-08-09","per_page_confidence":null,"per_page_confidence_note":"Not recorded during the corpus run. No calibrated per-page score exists, and none is estimated here.","human_reviewed":false,"accuracy_context":"Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting.","primary_source":"The page image. The text is an index into it."}}