{"book":"adl0234","page":235,"text":"۲۲۶\n\nماخوذ از رساله بغداد مصنفه خواجہ محمد عباداللہ صاحب ناظم بی اے اسلامی\n\nجزو اس سر خارج ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ جو طریقہ ممکن ہو اُس طریقہ سے وہ صرف خاص خود اعلحضرت متروک فرمائین جبتک مالی حالت ملک کی اجازت نہ دے اُس صرف کو حیز التوا مین رکھین۔\n\nاسباب معیشت مین لطافت وحسن جسقدر دلکش امر ہے اُسیقدر یہ ضروری ہو کہ اخراجات کسی حالت مین اندازہ امکان معقول سے باہر نہ جانے پائین۔ یہ بات ایک حد تک تسلیم کرنے کے قابل ہو کہ ترقی یافتہ ملکون کا جس جانب میلان اور حکمران و دولتمند قومون کا جسطرف رجحان ہوتا ہے ہر ترقی کرنیوالی قوم کی توجہ اُس پر مبذول ہو جاتی ہے یہی موقع مال کا سوچنے اور اعتدال ملحوظ رکھنے کا ہے۔\n\nعرب نے تمدن مین نمایان ترقی کی تھی۔ اسلام نے عرب کی طاقت کو متفق کر دیا تھا مدینہ طیبہ اس متفقہ طاقت کا مرکز تھا جزیرہ نما عرب کا وہ حصہ جسے حجاز کہتے ہیں اور جہان مدینہ منورہ واقع ہے خشک زمین مین ہے بنی امیہ نے دمشق کو دار الحکومت قرار دیا دمشق نے اہل عرب کو ایک زرخیز و نہایت سرسبز و شاداب ملک مین جمع کیا او نہین دیگر اقوام سے ملایا۔ اس میل جول نے کچھ اور ہی گل کھلایا بنی امیہ کے بعد حکومت نے پہلو بدلا اور بنی عباس کی نوبت آئی۔ بغداد دارالخلافہ قرار پایا۔ تمدن اپنا کام کر رہا تھا عرب نے نا شایسے کیسا تہ اسکو انتہائی درجہ پر پہنچنے کے لیے قدم بڑھایا جو کچھ اثر اسلام نے اُن کی طبائع پر کیا وہ اُن کے تمدن پر غالب رہا۔ اسکے ساتنہ وہ بھی سب قومونپر غالب رہے لیکن جون جن مدنی اُڑتا گیا وہ تمدن مین حیرت انگیز ترقی کرتے گئے یہی وہ زمانہ ہے جب اُن کا زوال شروع ہوا۔\n\nتمدن جسکا اظہار فخر کے ساتہ کیا جاتا ہے اسلام اُس کو اعتدال سے زیادہ نہین پسند کرتا۔ چاندی سونے اور جواہرات کا زیورات کی طرح استعمال ریشمی کپڑون اور رنگ نما لباس مصوری۔ بُت تراشی کی ممانعت ہے اور یہی اسباب ہین جنپر عرب\n\nایک قوم کا تمدن نات\nاب نے جسقدر تمد\nپر رکھنے کے لیے\nوقت اُس سے\nپراُس کو دنیا نہیں\nتھا اپنی تسید ورہن\nو جنیوا زمین و آسمان\nپہنچتی تھی قناعت ز\nجذب صادق کو م\nبان اس غرض سے\nاس لیے ہر ایک شا\nخراب بلکہ نقش و\nمدنظر رکھا ہے\nہم بعض حالتون م\nہم بھی اپنا کام پرین\nبا وجود کوتاہی معن\nتحقیق شوق و خلو\nکا بخروش سنگد لو\nتاریخ عالم\nاپنے اور ان است\nکی تجویذ پر پینیتی","chars":1952,"image":"https://storage.googleapis.com/adl-page-images/adl0234/00235.jpg","first_page":1,"last_page":293,"title":"Ḥabīb حبيب","permalink":"https://afghanpress.org/book/adl0234/235","canvas":"https://afghanpress.org/iiif/adl0234/canvas/235","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/books/adl0234/","source_pdf":"https://afghanistandl.nyu.edu/pdf/adl0234_download.pdf","rights":{"image":{"statement":"Public domain. NYU states: \"All works presented on this website are, unless otherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely reproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\"","uri":"http://rightsstatements.org/vocab/NoC-US/1.0/","holder":"New York University Libraries","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/about.html","delivery":"Images are served from a copy mirrored by this project, not from NYU's servers, under the reproduction terms above.","endorsement":"This is an independent project. It is not affiliated with, endorsed by, or reviewed by New York University."},"text":{"statement":"Machine-generated transcription, dedicated to the public domain under CC0 1.0. No warranty of accuracy: see the provenance block on every page.","uri":"https://creativecommons.org/publicdomain/zero/1.0/","holder":"Steps Ventures"}},"provenance":{"text_produced_by":"gemini-3.1-pro-preview","thinking_level":"low","read_completed":"2026-08-09","per_page_confidence":null,"per_page_confidence_note":"Not recorded during the corpus run. No calibrated per-page score exists, and none is estimated here.","human_reviewed":false,"accuracy_context":"Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting.","primary_source":"The page image. The text is an index into it."}}