{"book":"adl0234","page":125,"text":"۱۱۶\n\nغرض اسوقت جو وید مقدس کے ترجمون کی اشاعت اس کثرت سے ہے اور مذہب ہنود\nکے فلسفہ کو رونق وہ سب اسی محسن بنی نوع انسان شہزادہ داراشکوہ کو گران بہا احسان کیسبب ہا ہے\nمذکورہ بالاگو اگرچہ اور بھی شواہد و سندین ہین لیکن طوالت کو خوف سے صرف کتاب اکبہ پرکاش\nمؤلفہ رای کنہیا لال الکھہ وہاری کے دیباچہ کے چند فقرات نقل کیے جاتے ہین وہ کتاب مذکور کے صفحہ ۱۲\nمین لکھتے ہین ”جب ہند سے سنسکرت کی تعلیم و تلقین جاتی رہی سمجھنا چاہیے کہ وہ بیجو بے مفقود ہوگئی تھی\nاس عرصہ مین ہزارون راجے مہاراجے ہندوپت ہو گذرے مگر کسی کو اسطرف توجہ نہ ہوئی کہ اس آبحیات کو\nخاص و عام کیواسطی سبیل کرتا۔ آفرین صد آفرین شہزادہ عالی ہمت اور بلند مرتبت داراشکوہ بہادر دارین کو\nکہ جونعمت و دولت پہلے خاصون کو نصیب نہ تھی وہ عام کو بے منّت بخشد ی یعنی تمام اوپنکھدون کا\nجو گیان کے متعلق تھین محنت گوارا۔ لاکھوں روپیہ خرچ اور صد ہا پنڈت اور سنیاسیون کو جمع کر کے شہر\nکاشی کی سیرسیاحت اور تعصبان کے طعن کو متحمل کرکے سنسکرت سے فارسی مین ترجمہ کیا گویا دسترخوان\nصل کل عام و خاص کیواسطے بچھا دیا اور دروازہ جیون مکت و بد یہیکت کا کس و ناکس کیلئے کھول دیا۔\nاور نفسانیت کو مطلق دخل نہ دیا اور مجلس کو شہنشاہ دارین کا بنا دیا اور اپنے پردادا اکبر بادشاہ کے نام\nکو روشن کیا“\nناظرین انصاف دوست ملاحظہ کرین کہ مذکورہ بالا بے تعصبی و رفاہ طلبی سے بڑھکر کیا ہو سکتاہے\nکہ غیر مذہب کی بنیاد باوجود تخالف اعتقادات کے اسطور سے ہزار کوشش و کاوش جما جائے کہ\nابدالاباد تک قایم و دایم رہے۔\nاگر سیواجی عالیشان مندر تعمیر کر جاتا اور کرورون روپیہ کی جائداد اُن کے لیے وقف کر دیتا\nتو بھی اس مسلمان شہزادہ کے اس نہایت پائدار و مفید کام سے بڑھکر نہ ہوتا۔ کاش جہان جہان کسی\nمسلمان بادشاہ کے تعصبات مذکور کیے جاتے ہین وہان اس گرانقدر حال کو بھی یاد رکھین تو\nبعید از انصاف نہین ہے اورنگ زیب پر مذہبی عناد و تعصب کا الزام دلیل کوتاہ نظری اور تاریخ\nسے بیخبری کی ہے۔ اسکو سنے۔ پنڈت و پجاری نظیف خوار داراشکوہ کے بے انتہا مصارف","chars":1759,"image":"https://storage.googleapis.com/adl-page-images/adl0234/00125.jpg","first_page":1,"last_page":293,"title":"Ḥabīb حبيب","permalink":"https://afghanpress.org/book/adl0234/125","canvas":"https://afghanpress.org/iiif/adl0234/canvas/125","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/books/adl0234/","source_pdf":"https://afghanistandl.nyu.edu/pdf/adl0234_download.pdf","rights":{"image":{"statement":"Public domain. NYU states: \"All works presented on this website are, unless otherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely reproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\"","uri":"http://rightsstatements.org/vocab/NoC-US/1.0/","holder":"New York University Libraries","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/about.html","delivery":"Images are served from a copy mirrored by this project, not from NYU's servers, under the reproduction terms above.","endorsement":"This is an independent project. It is not affiliated with, endorsed by, or reviewed by New York University."},"text":{"statement":"Machine-generated transcription, dedicated to the public domain under CC0 1.0. No warranty of accuracy: see the provenance block on every page.","uri":"https://creativecommons.org/publicdomain/zero/1.0/","holder":"Steps Ventures"}},"provenance":{"text_produced_by":"gemini-3.1-pro-preview","thinking_level":"low","read_completed":"2026-08-09","per_page_confidence":null,"per_page_confidence_note":"Not recorded during the corpus run. No calibrated per-page score exists, and none is estimated here.","human_reviewed":false,"accuracy_context":"Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting.","primary_source":"The page image. The text is an index into it."}}