{"book":"adl0234","page":123,"text":"۱۱۴\n\nساتهه مذہبی کتابین بهی معدوم ہوتی چلین ۔ علم سفینہ منحصر علم سینہ بہ سینہ پر ہو گیا۔ مرور دہور نے جب\nورق زمانہ کا پلٹا اور بودھ مت کی حکومت کو مذہب قدیم ہنود نے پیچھے ہٹایا تو اسوقت بهی یا توعلماء\nبراہمہ نے قصداً یا محض غفلت وسہل انگاری و یا بہ مجبوری اپنی مذہبی کتابون کو نہ توجمع کرنیکی تکلیف\nاُٹھائی اور نہ مفید طور پر مذہبی فلسفہ کو شائع کیا۔ صد ہا سال یہ حالت تمد رہی خاص خاص مشہو\nعبادتگاہون مین بعض بعض متبرک پنڈتون درومی علم بچاریون کو مذہبی کتابوں کا متفرق طور پر احکام\nو سائل کے کچهہ اشلوک یاد تهے یہ بهی مُمکن ہو کہ کسی مہاتما مارکنڈیا کے پاس بعض مذہبی کتابیں تو ان ہون\nمگر وہ ایسی نایاب تہیں کہ عموماً اہل مذہب کا اُن کتابونپر کمان دسترس ہوتا۔ خاص خاص براہہ بهی\nاس سے مستفید نہ تھے تعجب یہہ ہو کہ اس ابتدائی زمانہ سے لیکر مسلمانوں کے زمانہ بلکہ اس سے\nصدہا سال بعد تک بهی اسی ہندوستان کے اکثر حصوں میں بڑے بڑے راجہ مہاراجہ فرمان روا\nگذرے جنکو واقعی اپنے مذہب کا بڑا جوش سہی تہا۔ لیکن کسی نے بھی اپنی مذہبی کتابون کی تدوین\nکی ضرورت نہ دیکہی اور یہہ نہ سوچا کہ آگے بڑہکر عام اہل ہنود کے بے ٹہور ٹهکانے اعمال مذہبی کو\nدیکہکر لوگوں کے دلونپر کیسا برا اثرپڑیگا اورعوام ہی کے اعمال کو لوگ عین مذہب سمجھکر اس فلسفیانہ\nمذہب کو جاہلانہ مذہب سمجھنے لگیں گے۔ بغرضیکہ باوجود اختیار و با اقتدار وصاحب ثروت ہو نیکے\nہندو بہائیوں نے دیوہرے اورمندر تو خوب بنوا دیئے اور لاکهون روپیہ کے اوقاف بهی کردیے\nلیکن جس سے جڑ مذہب کی قائم ہوتی یعنی کتب کا مرتب کرکے شائع کرنا یہ کسی ایک سہی عمل میں نہ آیا\nاگرمعدومیت کتب فلسفہ مذہب کی یہی نوبت آج تک باقی رہ جاتی تو اس روشن زمانہ مین اس\nمذہب کا کیا حال ہوتا ۔\nیہ اکبر اعظم کا احسان ہے کہ بہزار کوشش و کاوش سری بہاگوت۔ راماین۔ مہا بهارت\nجوگ بشست اور گیتا کی سی نادر کتابوں کو جمع کیا۔ اور نہایت سلیس ترجمہ کراکے عوام مین\nپھیلا دیا۔ چنانچہ مذکورہ بالاکتابین جو آج ہمارے ہموطن بھائیوں کو مطالعہ مین ہین یہ اسی فیاض\nشہنشاہ کا فیض عمیم ہے۔","chars":1772,"image":"https://storage.googleapis.com/adl-page-images/adl0234/00123.jpg","first_page":1,"last_page":293,"title":"Ḥabīb حبيب","permalink":"https://afghanpress.org/book/adl0234/123","canvas":"https://afghanpress.org/iiif/adl0234/canvas/123","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/books/adl0234/","source_pdf":"https://afghanistandl.nyu.edu/pdf/adl0234_download.pdf","rights":{"image":{"statement":"Public domain. NYU states: \"All works presented on this website are, unless otherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely reproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\"","uri":"http://rightsstatements.org/vocab/NoC-US/1.0/","holder":"New York University Libraries","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/about.html","delivery":"Images are served from a copy mirrored by this project, not from NYU's servers, under the reproduction terms above.","endorsement":"This is an independent project. It is not affiliated with, endorsed by, or reviewed by New York University."},"text":{"statement":"Machine-generated transcription, dedicated to the public domain under CC0 1.0. No warranty of accuracy: see the provenance block on every page.","uri":"https://creativecommons.org/publicdomain/zero/1.0/","holder":"Steps Ventures"}},"provenance":{"text_produced_by":"gemini-3.1-pro-preview","thinking_level":"low","read_completed":"2026-08-09","per_page_confidence":null,"per_page_confidence_note":"Not recorded during the corpus run. No calibrated per-page score exists, and none is estimated here.","human_reviewed":false,"accuracy_context":"Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting.","primary_source":"The page image. The text is an index into it."}}