{"book":"adl0234","page":122,"text":"۱۱۳\n\nسنسکرت کا عنصر موجود ہے جسمین دونون کے بلکہ اورون کے لٹریچر وخیالات کے سمانے کی گنجایش\nہے جسمین بڑھنے پھیلنے اور ہر قسم کی صلاحیت ہے اُسے نہ مٹائین ضد کو چھوڑین۔ یہ پچھلی\nغلطیون کی تلافی کا وقت ہے۔ یہ تدبیر اتفاق کی بہت آسان و مفید ہے۔ آسانی تو ظاہر ہے کہ\nزبان کے لحاظ سے دونون قومین ایک حالت مین ہین اور مفید اسلئے ہے کہ اس سے دونون\nقومون مین بہت جلد مضبوط اتحاد کی توقع ہے۔ اسکے سوا پرانے قصّون کو فسانہ سمجھین۔ محمود غزنوی کی\nحملون کو مہابھارت سے بھی پہلے کا خیال کر کے بھولجائین۔ بزرگان دین طرح بادشانِ سلام کی\nتوہین سے احتراز کرین۔ ہر محبتی شاہ افغانستان کے اخلاق سے سبق لین۔\nبابر۔ ہمایون۔ اکبر عظم۔ جہانگیر۔ شاہجہان کے پچے ایک اورنگ زیب کا تذکرہ ہی کیا۔\nاگر اورنگ زیب ہی کو یاد کرنا ہے تو اسطرح یاد کیجئے کہ اُسکے سفری خیمہ گاہ کے ہمراہ کم وبیش\nتیرہ سو ہند وامراء واہل دفتر ہمیشہ رہتے تھے جن کو مناصب یکصدی ذات سے لیکر چار ہزاری\nپنجہزاری ششہزاری ہفتہزاری ہوا کرتے تھے۔ اورنگ زیب نے بیشتر امراء ہنود کو بات کی\nبات مین دس دس لاکھ روپیہ اور اشرفیان انعام مین دیدین۔ کابل کے صوبہ پر راجہ جسونت سنگھ\nکو حکمران کر دیا۔ جس نیک نیت راجہ نے اپنے لیاقت واخلاق سے اہل کابل کو دلون کو تسخیر کر لیا۔\nسلاطین بابریہ نے نہ فقط ہمارے ہموطن بھائی ہنود کے اجداد کو مثل امراء اسلام کے\nمناصب عالی پر ترقی دیگر ان کا اعزاز و پایہ اعتبار بڑھا دیا نہ فقط ایک بڑے رقبہ ملک پر انکو حکمرانی\nفرمانروا بنا دیا نہ فقط لکھو کہا اہل ہنود کو راج کے راج۔ تعلقہ کے تعلقہ دواماً عطا کر کے زر مالگزاری\nو مطالبہ سے ہمیشہ کیلئے بری کر دیا جسکی وجہ سے آجتک ہمارے ہموطن ہندو بھائی راج کرج رہے ہین\nبلکہ انہین سلاطین نے مذہب ہنود کی بنیاد کو سجدہ قومی اور دنیا مین نمودار کر دیا۔\nسب کو معلوم ہوکہ اہل ہنود مین مذہبی تعلیم براہمنہ کے علاوہ اورون کیلئے ممنوع تھی اسلیئے\nعام طور پر نہ اسکا رواج تھا۔ نہ مذہبی کتابون کی اشاعت۔ یہان تک کہ جب بودھ مت کی حکومت\nہندوستان مین چار طرف پھیلی اور جابجا جنگ جدل نے مذہب قدیم کا تسلط معدوم کر دیا تو اُس کی\n\nماخوذ از پیام اودہ نمبر ۴۱۹\nمورخہ ۲۷ ماہ اپریل مجریہ حبیب شاہ\nعظیم آبادی\n\n۱۵","chars":1888,"image":"https://storage.googleapis.com/adl-page-images/adl0234/00122.jpg","first_page":1,"last_page":293,"title":"Ḥabīb حبيب","permalink":"https://afghanpress.org/book/adl0234/122","canvas":"https://afghanpress.org/iiif/adl0234/canvas/122","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/books/adl0234/","source_pdf":"https://afghanistandl.nyu.edu/pdf/adl0234_download.pdf","rights":{"image":{"statement":"Public domain. NYU states: \"All works presented on this website are, unless otherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely reproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\"","uri":"http://rightsstatements.org/vocab/NoC-US/1.0/","holder":"New York University Libraries","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/about.html","delivery":"Images are served from a copy mirrored by this project, not from NYU's servers, under the reproduction terms above.","endorsement":"This is an independent project. It is not affiliated with, endorsed by, or reviewed by New York University."},"text":{"statement":"Machine-generated transcription, dedicated to the public domain under CC0 1.0. No warranty of accuracy: see the provenance block on every page.","uri":"https://creativecommons.org/publicdomain/zero/1.0/","holder":"Steps Ventures"}},"provenance":{"text_produced_by":"gemini-3.1-pro-preview","thinking_level":"low","read_completed":"2026-08-09","per_page_confidence":null,"per_page_confidence_note":"Not recorded during the corpus run. No calibrated per-page score exists, and none is estimated here.","human_reviewed":false,"accuracy_context":"Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting.","primary_source":"The page image. The text is an index into it."}}