{"book":"adl0233","page":40,"text":"۲۷\nدہلی میں ھولی گاجر کی۔ کابل کا حُسن اور فارسی زبان کی شیرینی مسلمہ ہے۔ ان تمام امور\nمذکورہ بالا خیال کر کے ناظرین خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ بازاروں کی رونق اور دلچسپی کس\nدرجہ پر ہوگی۔ میرے نزدیک تو اہل افغانستان کا یہ عام مقولہ کہ کابل گوشہ جنت نشان است\nنہایت صحیح اور درست ہے۔ افغانستان کے عام باشندون کے اطوار و عادات\nکے لحاظ سے میں دعویٰ کے ساتہ کہہ سکتا ہوں کہ بعد مکہ معظمہ و مدینہ منورہ بیت المقدس\nاسی ملکا درجہ ہے۔ ہر وقت کان میں اللہ رب العالمین کے نام مبارک کی آواز آتی رہتی ہے\nکھیتوں کی حفاظت کیجاتی ہے تو بآواز بلند کلمہ طیبہ پڑھا جاتا ہے۔ آپس کی گفتگو ہے\nتو ہر فقرہ میں یہ پیارا نام مبارک شامل ہے۔ لڑکوں کا کھیل ہے تو یہی ایک جا جمع ہو کر آیاتِ\nقرآنی پڑھے جاتے ہیں اور خوش الحانی کی بحث ہوتی ہے بوجہ احکام شریعت اسلام جاری و\nنافذ ہونے کے بدی کی طرف کسی کا خیال بھی نہیں جاتا۔ نیک عادات ان کی طبعیت\nثانیہ ہو گئی ہیں۔ جیسا کہ طبائع انسانی کا خاصہ ہے کہ جو عادت بضرورت اختیار کیجاتی\nہے وہ رفتہ رفتہ طبعیت ثانیہ ہو جاتی ہے بعض افغانی سردار یا اہل کار سرکاری یا عام\nلوگوں کی کوئی حرکت دیکھ کر اہل ہندوستان کا یہ خیال کر لینا کہ افغانستان میں بھی یہی حالت ہوگی۔\nنہایت غلط ہے یہ سب ہندوستان کی آزاد آب و ہوا کا اثر ہے۔ اور اگر شاذ و نادر ایسے اشخاص\nافغانستان میں بھی پائے جائیں تو ایسی چند مستثنے مثالوں سے قاعدہ کلیہ نہیں ٹوٹ سکتا۔ اور اگر\nبے یا نیک لوگوں کا انتخاب کیا جائے تو یقینی افغانستان میں فیصدی نیک اور پابند شریعت\nاسلام نوے قرار پائیں گے۔ اور ہندوستان اور دیگر از او ممالک میں فیصدی ایک نیک\nاور پابند مذہب انسان کا ملنا دشوار ہے ۔ ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا *\nعمارات شاہی اور باغات شاہی وغیرہ شہر کابل و نواح کابل میں اس کثرت سے ہیں کہ اگر","chars":1561,"image":"https://storage.googleapis.com/adl-page-images/adl0233/00040.jpg","first_page":1,"last_page":93,"title":"Z̲ikr-i Shāh-i Islām muʼallifah-i Ḥājjī Muḥammad Khān ذکر شاه اسلام","permalink":"https://afghanpress.org/book/adl0233/40","canvas":"https://afghanpress.org/iiif/adl0233/canvas/40","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/books/adl0233/","source_pdf":"https://afghanistandl.nyu.edu/pdf/adl0233_download.pdf","rights":{"image":{"statement":"Public domain. NYU states: \"All works presented on this website are, unless otherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely reproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\"","uri":"http://rightsstatements.org/vocab/NoC-US/1.0/","holder":"New York University Libraries","source":"https://afghanistandl.nyu.edu/about.html","delivery":"Images are served from a copy mirrored by this project, not from NYU's servers, under the reproduction terms above.","endorsement":"This is an independent project. It is not affiliated with, endorsed by, or reviewed by New York University."},"text":{"statement":"Machine-generated transcription, dedicated to the public domain under CC0 1.0. No warranty of accuracy: see the provenance block on every page.","uri":"https://creativecommons.org/publicdomain/zero/1.0/","holder":"Steps Ventures"}},"provenance":{"text_produced_by":"gemini-3.1-pro-preview","thinking_level":"low","read_completed":"2026-08-09","per_page_confidence":null,"per_page_confidence_note":"Not recorded during the corpus run. No calibrated per-page score exists, and none is estimated here.","human_reviewed":false,"accuracy_context":"Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting.","primary_source":"The page image. The text is an index into it."}}