Afghanistan Digital Library adl0233 http://hdl.handle.net/2333.1/prr4xh8q This is a PDF version of an item in New York University's Afghanistan Digital Library (http://afghanistandl.nyu.edu/). For more information about this item, copy and paste the "handle" URL above into a web browser. When referring to or citing this item please use the "handle" URL and not this document or the URL from which you downloaded it. All works presented on New York University's Afghanistan Digital Library website are, unless otherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely reproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial. NYU Libraries, Digital Library Technical Services, dlts@nyu.edu
ZIKR I- SHAH I- I SLAM
Zekr-e Shâh-e eslâm 1906 Delhi par Mohammad Khân, hâjji
[BLANK PAGE]
[BLANK PAGE]
Zekr -e shâh -e Islam [HA] Delhi, 1906
[BLANK PAGE]
جناب مستطاب معظم مکرم القاب شیم و امثال تو رسالمد ماب مابد توقیع نظر مربیع لایق دولت علیه خداداد افغانستان [ILL] تعالی من جميع عوارضات تلوّثات مسیح در یح [؟] سته اوی رنگ سنگ ح ح ح ح ح شیخ سعدی شیرازی علیه الرحم در لان [؟] عذابت نبران [؟] [ILL] Asad [ILL] a A شلاع [؟]
[BLANK PAGE]
الله هو نشان دولت قوی شوکت خدا داد افغانستان ذکر شاه اسلام یعنے اعلیحضرت سراج الملة والدین امیرالمومنین ہز مجسٹی امیر حبیب اللہ خان پادشاه دولت خداداد افغانستان خلد الله ملکہ کے مختصر حالات مولفہ حاجی محمد خان ولد عبداللہ خان رئیس خوجہ مصنف ناول طلسم صادق و معراج المومنین و اصول تجارت ناول آئینہ نجات وغیره در مطبع نظامی دہلی باہتمام محمد سید سلیمان انجام یافت
[BLANK PAGE]
التماس و عذر مؤلف بسم الله الرحمن الرحیم اعلیٰ حضرت ہزمیجسٹی سراج الملۃ والدین امیرالمومنین امیر حبیب اللہ خان پادشاہ دولت خداداد افغانستان خلد اللہ ملکہ۔ بطور مہمان ہمارے سرکار والا تبار یعنی دولت العالیہ برطانیہ ہندوستان تشریف لاتے ہیں۔ اس لئے میرا خیال تھا کہ اعلیٰ حضرت سراج الملۃ والدین خلد اللہ ملکہ و اقبالہ کے اوصاف و حالات میں کسی لایق اور قابل شخص کی تالیف ضرور شایع ہوگی کیونکہ اعلیٰ حضرت کا ہندوستان میں قدم رنجہ فرمانا کوئی معمولی امر نہیں ہے۔ ہمکو معلوم نہیں ہوتا کہ کبھی کوئی تاجدار ہندوستان میں بطور مہمان آیا ہو۔ یہ فخر ہندوستان کو اول ہی مرتبہ حاصل ہوتا ہے لیکن اسوقت تک ہمکو معلوم نہیں ہوا کہ کوئی ایسی کتاب شایع یا طبع ہوئی ہے۔ لہٰذا بندہ نے یہ خیال کر کے کہ ایسے ہر صفت موصوف پادشاہ اسلام کے اوصاف حمیدہ کا جسکا وجود مبارک نہ صرف افغانستان بلکہ اسلام کے واسطے رحمت الٰہی ہے۔ اہل ہند کو معلوم نہ ہونا قابل افسوس امر ہے کیونکہ ہر شے کی وقعت اسکی معرفت سے ہوتی ہے ایسا قصد کیا ہے گو یہ امر میری قابلیت اور گنجایش وقت کے بالکل خلاف ہو نہ اب وہ تصاویر فراہم ہو سکتی ہیں جو اعلیٰ حضرت کے دربار کے شاہی شان و شوکت کا نظارہ دکھا سکیں ۔ نہ اب ایسے مضامین کی فراہمی ممکن ہے جسے پورے طور پر اوصاف ذات اقدس شاہانہ معلوم ہوں ۔ کیونکہ تالیفات میں حالات صحیحہ کا معلوم
۲ ہونا ضرور ہے۔ ذہنی ایجادات کی اس میں گنجایش نہیں ہے نہ میں اس کام کے واسطے تیار ہوں۔ اگر مجھکو پہلے سے ایسا خیال ہوتا تو تمام سامان مذکورہ بآسانی کابل میں فراہم کر لیتا لیکن دراصل میں اسی خیال میں رہا کہ اعلیٰ حضرت کے وہ لایق اور قابل نمک خوار جو ہندستان اور اُردو زبان سے خوب واقف ہیں ایسے ضروری امر کو فروگذاشت نہ کرینگے کیونکہ مہمان کی شان و شوکت اُسی پر منحصر ہے کہ اُسکے گھر کے حالات اور اوصاف حمیدہ ظاہر ہوں۔ لیکن یہ اتفاقی امر ہے کہ ان حضرات کا خیال اس طرف نہیں گیا (شاید یہ ایشیا ہونیکا باعث ہے یورپ میں تو ایسے عظیم الشان امر پر صدہا کتابیں تالیف و تصنیف ہو جائیں) اور مجھ سے ناقابل اور ناواقف کو یہ خدمت انجام دینی پڑی۔ میں سخت حیران ہوں کہ لکھوں تو کیا لکھوں مضمون نگاری کا مجھکو سلیقہ نہیں۔ صدہا اوصاف جو ذات اقدس شاہانہ کے سنے تھے۔ وہ یاد نہیں رہے۔ اور جو اُن میں سے چند یاد ہیں اُن میں بھی اکثر کے بیان کرنیوالوں کے نام یاد نہیں رہا۔ اور بلا ثبوت اس زمانہ میں کسی تحریر کا اعتبار نہیں۔ کابل میں میرے قیام کی مدت بہت کم سوائے چند امور کے زیادہ مشاہدہ کا موقع ہی نہیں ملا۔ ایسی حالت میں یہی مناسب تھا کہ میں بھی خاموشی اختیار کرتا اور کسی ذاتی فائدہ کے فکر میں مصروف ہوتا۔ لیکن طبعیت کے تعلق کو کیا کروں بقول شخصے۔؎ محبت ہست که دل را نمی دهد آرام * وگرنه کیست که آسودگی نمی خواهد لہذا مجبوراً ناظرین کے اوصاف حمیدہ اور خلق پر بامید عیب پوشی تکیہ کر کے جو کچھ بھی مجھے معلوم ہے اپنی ٹوٹی پھوٹی قصابی زبان میں تحریر کر کے ہدیہ ناظرین کرتا ہوں کیونکہ نہ ہونے سے ہونا پھر بھی بہتر ہے بقول شخصے۔ گندم اگر بہم نرسد جو غنیمت است * المکلف حاجی محمد خان ساکن مورجہ ۲۹۔ شوال المکرم ۱۳۲۴ ہجری *
٣ دیباچه مؤلف ۶۱۹۰۵ء مسلمانان ہندوستان کے واسطے کیسا مبارک سال ہے جس میں یہ ایک بادشاہ اسلام اور اپنی فرمانروا شہنشاہ کی قلبی اتحاد کی عملی تصویر دیکھتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اگر بنظر غَور دیکھا جائے تو لا انتہا مسرت کا باعث ہے اسلئے کہ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ ہر ایک انسان کو اپنے مذہب سے قلبی تعلق ہوتا ہے ایسی حالت میں مسلمانوں کی طبیعت کا میلان پادشاہ اسلام کی طرف فطری امر ہے۔ اسی طرح انسانی طبیعت کا یہی خاصہ ہے کہ جس کی سایہ عاطفت میں پرورش پاتا ہے زندگی آرام و آسایش سے گزارتا ہے اُس کے وجود مبارک سے بھی اسکا تعلق فطری اور قلبی ہوتا ہے۔ جہانتک ہم غور کرتے ہیں ہم کو ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ تاج برطانیہ تمام عالم میں عدل و انصاف اور رعایا پروری کے نور کا چمکتا ہوا ستارہ ہے ہم مسلمانوں نے بلکہ تمام اہل ہند نے اپنے پیارے شہنشاہ کے سایہ عاطفت میں بڑے آرام و اطمینان سے زندگی بسر کی ہے اسلئے ہر نیک دل اور منصف مزاج ہندوستانی کو تاج برطانیہ کے ساتھ قلبی محبت کا ہونا لازمی امر ہے۔ مذکورہ بالا بیان سے صاف ظاہر ہے کہ اہل اسلام ہندوستان کو اپنے شہنشاہ اور بادشاہ اسلام سے فطری تعلق اور محبت ہے۔ اب اس سے زیادہ اور کیا خوشی ہو سکتی ہے جب وہ دونون کا اتحاد قلبی
دیکھیں اور آئندہ اُس کی اور مضبوط اور مستحکم ہونے کی اُمید ہزارہا خوش کن خیالات پیدا کرتی ہو۔ اللّہم زد فزد ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ہم ہزمیجسٹی پادشاہ افغانستان کی تعریف و توصیف کریں یا اُن سے جائز تعلق رکھیں تو ہماری گورنمنٹ کی ناراضی کا باعث ہوگا۔ ہمارے نزدیک یہ خیال نہایت غلط معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگر بنظر غور دیکھا جائے تو افغانستان کی اِس عزت اور ترقی کا بڑا باعث ہماری گورنمنٹ ہی کی امداد ہے نہایت تعجب خیز امر ہے کہ خود ہی گورنمنٹ اُنکی عزت افزائی کرتی ہو اُنہیں مہمان بناتی ہو اپنا دوست بناتی ہے۔ پھر جو اُنکی عزت کریں گے اُنہیں محبت کی نظر سے دیکھیں گے گورنمنٹ کے مخالف تصور کئے جائیں گے چہ خوش گفت است سعدی در زلیخا + یہ کونسے ملک کا فلسفہ ہو کہ دوست کا خیر خواہ مخالف ہوتا ہے + اعلیٰ حضرت کا ہندوستان میں بطور مہمان تشریف لانا گورنمنٹ کی دوستی کا قاطع ثبوت ہے۔ بقول حضرت ضیاء الملۃ والدین خُلد آشیان علیہ الرحمۃ = میں چاہتا ہوں کہ خود ہندوستان جاکر وائیسرائے دوستانہ ملاقات کروں تاکہ تمام دنیا کو معلوم ہوجائے کہ جس حالت میں کہ امیر افغانستان ایک خود مختار اور آزاد حکمران خلاف معمول اپنے ملک سے باہر جاکر صرف ایک مختصر باڈی گارڈ کے ساتھ نائب نیزہ پر ملکہ انگلستان کے ملنے لئے ہندوستان جاتا ہو تو ضرور ہے کہ ان دونوں قوموں میں نہایت اختلاط و اتفاق ہے اور ایک کو دوسرے پر کامل اعتبار و اعتماد ہو اِس فضیحت سے تمام جھوٹی افواہوں کی تردید ہوجائے گی اور ثابت ہو جائیگا کہ مابین سلطنت انگلستان و افغانستان سچی خالص دوستی ہے۔ گورنمنٹ انگلیشیہ کی عظمت اور دبدبہ زیادہ ہو جائیگا اور عام طور پر ظاہر ہو جائیگا کہ ہندوستان و افغانستان کی حفاظت اور مضبوطی اِسی پر منحصر ہو کہ دونوں میں باہم اتحاد و اتفاق ہے۔ الخ = سالے ترک عبد الرحمانی جلد دوم صفحہ ۱۱۵۔
۵ بعض حضرات کا یہ مقولہ ہو کہ شاید آیندہ نااتفاقی ہو جائے ایسے حضرات کا فلسفہ اور شاید بعینہ اس ملازم کے فلسفہ اور شاید کے مطابق ہو جو کہ اپنے مریض آقا کی خدمتگذازی پر معمور تھا جنکا مکالمہ ذیل میں درج ہے = آقا = مجھے اسوقت تکلیف ہے جاکر ڈاکٹر کو بلا لاؤ = = ملازم = شاید ڈاکٹر اسوقت مکان پر نہوں = = آقا = میں جانتا ہوں کہ وہ مکان پر ہیں = = ملازم = اگر مکان پر بھی ہوں تو شاید آئیں یا نہ آئیں = = آقا = ضرور آئیں گے = = ملازم = شاید اُن کے پاس دوا نہو = = آقا = اُن کے پاس دوا بھی ہے = = ملازم = شاید دوا اثر نہ کرے = = آقا = ضرور اثر کرے گی = = ملازم = اور جو شاید آپ کو مرض الموت ہو = = آقا = مرض الموت نہیں ہے = = ملازم = آخر مرنا ہی یا نہیں جب مرنا ضرور ہے تو اسمیں فرق ہی کیا ہو دو روز پہلے مرے یا دو روز پیچھے اگر تھوڑی دیر کیواسطے بفرض محال ایسے حضرات کے فلسفہ اور شاید کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو ہم کہتے ہیں جب گورنمنٹ سے نہ اتفاقی ہو جائیگی تو ہمارے تعلقات بھی منقطع ہو جائینگے۔ اگر اس شاید پر عمل کیا جائے تو تمام امورات دینی و دنیاوی ترک کر دینا چاہیئے کیونکہ شاید کا امکان ہر کام میں ممکن ہے۔ لہذا ہر پہلو سے اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنی پیاری گورنمنٹ کے معزز مہمان کے اوصاف حمیدہ اور حالات ناظرین کے سامنے پیش کئے جائیں ۔
بسم الله خلد الله ملکه الرحمن الرحیم ذکر شاه سراج الملة والدین اسلام السلطان ظل الله فی الارض ومن اکرمه اکرمه الله ومن اهانه اهانه الله حضرت سراج الملة والدین امیر المومنین خلد الله ملکه و اقباله نسلاً اعلیٰ حضرت ضیاء الملة والدین امیر المومنین امیر عبد الرحمٰن خان خلد آشیان رحمۃ الله علیہ کے فرزند رشید ہیں اور حکومت مآب اعلیٰ حضرت احمد شاہ درانی خلد آشیان علیہ الرحمۃ کے پوتے اور تاریخاً حضرت جلالت مآب محمود غزنوی خلد آشیان رحمۃ اللہ علیہ کے پرپوتے ہیں۔ حضرت سراج الملة والدین خلد الله ملکه کی ولادت ۱۲۸۸ھ میں ہوئی اسوقت عمر مبارک کا پینتیسواں سال ہے۔ تعلیم و تربیت اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت ضیاء الملة والدین خلد آشیان کے سایہ عاطفت میں پائی جن کی عقل و فراست کا تمام عالم کو اعتراف ہے بقول مؤلف تزک عبد الرحمانی = میرے نزدیک اس امر کے ثابت کرنے میں وقت ضایع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ امیر عبد الرحمٰن خان اس زمانہ کے بزرگ ولایق ترین اشخاص میں سے ہیں۔ اُن تمام مدبروں نے جو کہ اُلٹے ملے ہیں یہی رائے قایم کی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ وہ عجیب غریب نادر کامیابی جو اُنہیں افغانستان ایسے ملک کو جو کہ اُنکے زمانہ سے پیشتر ایک ویران خطہ زمین وحشی لہ دیباچہ مولف تزک عبد الرحمانی صفحہ ۷۔
قوموں سے آباد تھا ایک مضبوط اور رتبہ اسلامی سلطنت بنائی اور صنعت وحرفت و زمانہ حال کے نئی معلومات کا مرکز بنانے میں ہوئی ہے اپنی آپ نظیر ہے اور اُن کی غیر معمولی قدرتی فہم و ذکا کے ثبوت کے لئے کافی ثبوت ہے۔ الخ - ۱۲ فی الواقع خداے عز وجل نے حضرت ضیاء الملۃ والدین خلد آشیاں کے وجود مبارک میں دینی و دنیاوی دونوں قسم کی اعلیٰ قابلیت پیدا کی تھی اور وجود مبارک کو اس شعر کا مصداق پیدا کیا تھا۔ شعر ۔ او د ہر اللہ سے وصل اید ہر مخلوق کے شامل * خواص اوس برنج کا ہیں تھا حرف مشدد کا اعلی حضرت ضیاء الملۃ والدین خلد آشیاں علیہ الرحمۃ والغفران کا مختصر حال بے دلچسپی ناظرین اور اسلئے ہم تحریر کرتے ہیں جس سے ذات اقدس شاہانہ حضرت سراج الملۃ والدین خلد اللہ ملکہ کی اعلیٰ قابلیت کا جو بوجہ تعلیم و تربیت خلد آشیاں حاصل ہوئے انداز ہو سکے ۔ مختصر حال خلد آشیاں اول ہم چند اشعار ایک ولی کامل کی تصنیف سے جو اعلی حضرت خلد آشیاں کی توصیف ثنا میں ارشاد فرماتے ہیں عرض کرتے ہیں ۔ ۱۲ آمده سروری از دودۂ عالی افغان * قوم ابدال شرف یافت از و قطب زمان آن ضیا ملت دین زیب سریر کابل * حامیٔ دین متین نائب سردار رسل ظل یزدان بزمین خدمے اہل ایمان * مظہر رحمت حق ماہر شرع و عرفان اعلی حضرت کی حمیت اور غیرت اسلامی کا اندازہ ترک عبدالرحمانی کے اکثر مقامات سے ہوتا ہے ہم صرف ایک مقام کی عبارت بطور نمونہ تحریر کرتے ہیں جو اسی بزرگ اور مدبر جود مبارک کی زبان اور قلم سے نکلی ہے ۔
جفاکشی سے مجھے مطلق تکلیف نہیں ہوتی۔ بلکہ مجھے اُس سے الفت ہے اور میں کبھی نہیں تھکتا اس لئے کہ مجھے کام ومحنت کا ازحد شوق ہے آمیں شک نہیں کہ ہر شخص میں ایک نہ ایک قسم کی اولوالعزمی ہوتی ہے اور میری عالی حوصلگی یہی ہے کہ حتی الامکان مشقت و محنت کرون جسقدر کام میں کرتا ہوں وہ اپنی سلطنت کے انتظام کو مکمل کرنے کی غرض سے ہے۔ یہ ذوق و شوق و محنت خداوند تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ میری زندگی کی بڑی آرزو اور خواہش یہی ہے کہ جس انسانی گلے کو خدا نے مجھہ ناچیز غلام کے سپرد کیا ہے اُس کی نگرانی وحفاظت کروں۔ رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے ۔ اذا اراد اللہ شیء حیاءتہ الخ چونکہ خدا کو منظور تھا کہ افغانستان کو بیرونی حملوں اور اندرونی شورش سے بچائے اس لئے اُس نے اس حقیر کو ایسی ذمہ داری کا رتبہ دے کر عزت افزائی کی اور وہی اسکا باعث ہے کہ میں رفاہ عام کے خیال میں غرق رہتا ہوں اُسی نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ اہل افغانستان کی ترقی کا دل سے کوشان رہوں۔ اور اُن کی بہبودی اور اُس مقدس نبی محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے مذہب کے لئے جان تک دینے سے دریغ نہ کرون ۔ الخ۔ اعلیٰحضرت خلد آشیان علیہ الرحمۃ کے بلند مرتبہ اور تقدس کے ثبوت میں اپنا دانتہ عرض کرتا ہوں سنہ ۱۸۹۶ء میں اعلیٰحضرت خلدآشیان نے بندہ کو طلب فرمایا بموجب امر مبارک پابوسی کا قصد کیا۔ لیکن یہ امر مین نے ایک بزرگ کی رائے اور اجازت پر منحصر رکھا جنکو میں کیا خدا پرستوں کا بڑا گروہ ولی کامل اور محدث جانتا تھا۔ بغرض تزک عبدالرحمانی جلد دوم صفحہ ۷۹۔
مذکورہ حاضر حضور ہوکر اپنا قصہ عرض کیا جس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ اس کا جواب کل دیا جائے گا چنا نچہ دوسرے روز بعد نماز فجر ارشاد فرمایا تجھو شب کو معلوم ہوا کہ تمام عالم حضرت ضیاء الملتہ والدین کے وجود مبارک کے نور سے منور ہے جاؤ قدم بوسی حاصل کرو خدا مبارک کرے ۔ یہ سنکر میں خاموش ہو رہا کیونکہ اس ارشاد سے میرے قلب میں خطرات پیدا ہوئے جن کا عرض کرنا خلاف ادب سمجھا لیکن حضرت نے خود ہی فرمایا کہ کیا اس میں تمہیں کچھ شبہہ ہے۔ میں نے دست بستہ عرض کیا کہ قلب میں خطرہ کا پیدا ہونا اختیاری امر نہیں ہے میں معذور ہوں ۔ فرمایا کچھ مضائقہ نہیں خطرہ کا اظہار کرو۔ مینے حکم کی تعمیل کی اور عرض کیا کہ اعلیٰ حضرت ضیاء الملتہ والدین نبی تو ہو نہیں سکتے۔ نبوت ختم ہو گئی۔ اب جتنے درجہ باقی ہیں وہ سب نبوت سے کم ہیں نبیوں کا یہ حال ہے کہ ایک وقت اور ایک ہی زمانہ میں متعد د نبی عالم میں موجود ہوتے تھے ۔ جب چند وجود ہونگے تو نور اور اُن کے فیض میں تفریق ضرور ہوگی یہ تو جناب سرور عالم خاتم نبیا حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شان ہے کہ سارے عالم اُن کے وجود مبارک سے پر نور اور منور ہوں بموجب ارشاد جناب باری عزاسمہ وما ارسلناك الا رحمة اللعالمین۔ اسکے جواب میں ارشاد فرمایا کہ یہ خطرہ میرے قلب میں بھی آیا تھا لیکن غور کرنے سے رفع ہو گیا اس لئے کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے صاف ظاہر ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جو ایک سنت نبوی کو زندہ کرے گا۔ اُسکو ایک سو شہداء کرام کا ثواب اور درجے ملے گا یہ وہی زمانہ ہے تو اب غور کرو جس کے وجود مبارک سے ساری شریعت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ اور جاری و نافذ ہوئی ہے اُسکے مرتبہ کی کیا انتہا ہو سکتی ہے جسکو سوائے خدا کے کوئی نہیں جان سکتا ۔ علاوہ ازین تفریق کے یہی
۱۰ معنی میں جیسا کہ تم نے کہا کہ عالم میں دو وجود مقابل ہوں تو نور میں تفریق ہو مثلاً عالم میں دو آفتاب ایک وقت موجود ہون تو ضرور نور میں تفریق ہوگی اور جب دوسرا وجود مقابل پر موجود ہی نہیں ہے تو سارے عالم مین اُسی ایک وجود کا نور ہوگا جو یکتا زمانہ ہے۔ اب غور کرو تمام عالم میں سوائے اعلیٰ حضرت ضیاء الملۃ والدین کے کوئی اور دوسرا بھی ایسا پادشاہ اسلام موجود ہے کہ اُسکی عملداری میں احکام شریعت اسلام جاری و نافذ ہوں اور جب نہیں تو پھر خطرہ بے محل ہے۔ یہ سنکر اطمینان کامل ہو گیا۔ اعلیٰ حضرت ضیاء الملۃ والدین خلد آشیان کی انصاف پسندی اور قلب میں خدائے عز وجل کی عظمت و ہیبت کا انداز اس امر سے ظاہر ہے۔ بندہ ۱۸۹۶ء میں بغرض پابوسی اعلیٰ حضرت خلد آشیان حاضر حضور ہوا۔ اور عالیجناب فیض مجسم مرزا محمد حسین خان صاحب مستوفی الممالک کے دولت خانہ پر ٹھہرایا گیا۔ ایک روز اثناء گفتگو میں محمد یوسف خان صاحب برادر مستوفی صاحب نے فرمایا کہ اعلیٰحضرت ضیاء الملۃ والدین کے آپ کو خلق اور الطاف خسروانہ کی انداز ہی کا موقع ملا ہے ۔ آپکو اگر غضب شاہی کے دیکھنے کا موقع ملے تو پریشان ہوجائیں خدا پناہ میں رکھے اگر دریا سامنے ہو تو خشک ہو جائے۔ شیرون کا پتہ تہلیل ہو جائے یہ ہو جائے وہ ہو جائے۔ میں خاموش سنتا رہا جب وہ بہت کچھ فرمانے لگے تو میں بھی اپنی عادت سے مجبور تھا بقول شاعرے شیخ محفل میں جو رندونکی کبھی آئے گئے ٭ خوسے لاچار تھے کچھ وعظ بھی فرمائے گئے آخرالامر وہ اس طرح نکلوائے گئے ٭ پابستے دگرے دست بدستے دگرے مجھ کو بھی اسکا ہزار مرتبہ تجربہ ہوا ہے اور سخت پریشانیاں اُٹھانی پڑی ہیں لیکن اپنی عادٔ
سے باز نہیں آتا اور نہیں خیال کرتا کہ یہ عام مقولہ ہے کہ سچی بات دیوانہ کہے یا مستانہ باوجود تجربہ کے پھر بھی میں نے عرض کیا کہ حضرت یہ آپ کیا فرماتے ہیں یہ صفات تو غضب الہی کے ہیں کہ اُس سے سمندر خشک ہو جائے دوزخ و جنت کا نام و نشان مٹ جائے آسمان پھٹ جائیں زمین دھس جائے انسان کی اس ضعیفی اور محتاجی پر جو اظہر من شمس ہے ایسا بیان کرنا زیبا نہیں۔ خان صاحب نے ترش ہو کر فرمایا۔ آپ کیا جانیں جیسا میں نے عرض کیا وہ بالکل صحیح اور درست ہے۔ میں نے بھی اسی لب و لہجہ میں عرض کیا ۔ حضرت سمندروں اور دریاؤں کا خشک ہونا تو درکنار میں ایک پیالہ پانی بھر کر اعلیٰ حضرت کے روبرو رکھے دیتا ہوں اعلیٰ حضرت اپنے غضب کی تقویت کے تمام سامان یعنے توپ تفنگ فوج فرہ جو کچھ بھی ہو وہ سب مہیا فرمالیں اور تمام قوت غضبیہ کا خاتمہ اس پیالہ پر فرمادیں اگر غضب کے اثر سے اُس پیالہ میں سے ایک قطرہ بھی پانی کا خشک ہو جائے تو آپ میرا رو سیاہ کر کے گلی میں جوتیوں کا ہار ڈال کر گدھے پر سوار کر کے سارے شہر میں گشت کرائیے گا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر آپ کو بجائے میرے ایسا کرنا ہو گا مستوفی صاحب بھی اس گفتگو کو سُن کر تبسم فرما رہے تھے۔ اُنہوں نے اس بات کو رفع دفع کر دیا۔ اسکے بعد بندہ حاضر دربار ہوا دربار برخاست ہونے کے بعد ذات اقدس شاہانہ کے ہمراہ طعام میں شریک ہوا اعلیٰ حضرت خلد آشیان مسند آرائے سریر خلافت تھے بندہ اور مستوفی صاحب اور عالیجناب احمد شاہ خان صاحب ملک التجار زیر سریر شاہی اعلیٰ حضرت خلد آشیان کے طبع مبارک فطرتاً ظریفانہ واقع ہوئی تھی۔ اس لئے خوش کن گفتگو بھی ہوتی جاتی تھی عالیجناب مستوفی الممالک صاحب نے موقع پا کر بیر[؟] اور اپنے بھائی کا قصہ فرمانا شروع کیا جس کو اعلیحضرت خلد آشیان نہایت غور سے سنتے
جاتے تھے اور طبع مبارک پر اسکا اثر ہوتا جاتا تھا۔ جب وہ ختم کر چکے تو آبدیدہ ہو کر فرمایا کہ جس کی نظروں میں اور قلب میں ایک ذرہ کے برابر خدائے عزوجل کی عظمت اور ہیبت سما جاتی ہے تو پھر اُسکے قلب اور نظروں میں کیسی ہی عظیم الشان اور جلیل القدر شے ہو اسکی عظمت اور ہیبت کا اثر نہیں ہوتا چہ جائے کہ انسان کی جو ایک مشت خاک ہو اور ایک ناپاک قطرہ سے بنایا گیا ہے۔ اعلیٰ حضرت خلد آشیان کا قیافہ ایسا درست اور صحیح ہوتا تھا کہ لوگوں کو خرقہ عادات کے شبہ میں ڈال دیتا تھا چنانچہ مجھ کو خود اسکا تجربہ ہوا ہے بندہ اعلیٰ حضرت خلد آشیان علیہ الرحمۃ و الغفران اُردو میں عرض کیا کرتا تھا اور اعلیٰ حضرت شاہِ اسلام فارسی میں ارشاد فرمایا کرتے تھے اسلئے میں یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ حضور والا کی قابلیت اُردو زبان میں کیسی ہے اس وجہ سے اگر کوئی ضروری بات ہوتی تھی تو میں فارسی میں تحریر کراکر حضور میں پیش کر دیا کرتا تھا۔ ایک روز میں یہ تحریر کراکر لیگیا کہ افغانستان سے بغرض تعلیم صنعت و حرفت کچھ لوگ یورپ بھیجے جائیں اعلیٰ حضرت خلد آشیان نے کمال شفقت خسروانہ سے اس احقر کو سریر مبارک کے روبرو قالین پر بیٹھنے کا فخر بخشا تھا چنانچہ میں اپنی جگہ مقررہ پر با ادب حاضر تھا اعلیٰ حضرت اہل دربار سے کچھ ارشاد فرمارہے تھے بعد سکوت مینے موقع پاکر جیب سے لفافہ نکالا۔ اعلیٰ حضرت نے اُسے دیکھا لیکن پھر کسی کام میں مصروف ہو گئے میں نے اُسے جیب میں رکھ لیا اُس کام سے فارغ ہو کر میری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی ہندوستانی کا یہ خیال ہو کہ افغانستان سے کچھ لوگ بغرض تعلیم صنعت و حرفت یورپ بھیجے جائیں۔ اُس کا یہ خیال ہندوستان کے باشندوں کے واسطے تو مناسب ہے لیکن اہلِ افغانستان کے واسطے درست نہیں ہے اس لئے کہ ہندوستان ایک آزاد ملک ہو اور افغانستان
میں احکام شریعت اسلام جاری ہیں یہاں کوئی شراب نہیں پی سکتا کوئی زنا وغیرہ نہیں کرسکتا اس لئے اگر یہاں کا آدمی آزاد ملک میں جائے گا تو اُسکے خراب و برباد ہونے کا اندیشہ ہے جب انسان کسی مذہب کا پابند نہیں رہتا اور آزاد مشرب ہو جاتا ہے تو اُسکے اخلاق و عادات خراب ہوجاتے ہیں اسلئے اہل یورپکا بغرض مذکورہ افغانستان میں آنا بہتر ہے ۔ میں یہ سنکر نہایت متحیر ہوا کہ اعلیٰ حضرت کو لفافہ کے اندر کا حال کیونکر معلوم ہوگیا مجھ کو متحیر دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ میرے نزدیک ولی اور عقلمند آدمی میں صرف اتنا فرق ہے جیسا ٹیلی فون اور تار میں یعنے ٹیلی فون میں انسان کو عقل و غور کی زیادہ ضرورت نہیں ہے جیسا کسی نے کہا آواز آگیا لیکن تار میں عقل و غور اور علم کی ضرورت ہے یعنے اُسکے اصطلاحات کا معلوم ہونا کھٹکا صحیح معلوم کرنا اسی طرح ولی کو بذریعہ الہام وحی معلوم ہو جاتا ہے کہ آئندہ ایسا ہوگا یا ایسا ہوا۔ عقلمند زمانہ کے حالات و رفتار سے معلوم کر لیتا ہے کہ آئندہ ایسا ہوگا۔ ان تمام مذکورہ بالا امور سے ظاہر ہے کہ جب ایسے عقلمند و مدبر و بزرگ شاہ اسلام کے زیر نگرانی وہ حصہ عمر کا گذرا ہو جو تعلیم کے واسطے مخصوص ہے تو اُن تمام خوبیوں کا جو اعلیٰ حضرت خلد آشیان کے وجود مبارک میں قدرت نے پیدا کی تھیں حضرت سراج الملہ والدین خلداللہ ملکہ کے وجود مبارک میں ہونا ضروری امر ہے کیونکہ طبیعت انسانی کا خاصہ ہے کہ جوعادتیں یہ بضرورت اختیار کرتا ہے وہ رفتہ رفتہ اس کی طبیعت ثانیہ ہو جاتی ہیں۔ بقول حضرت سعدی رحمۃ اللہ علیہ ؎ گلے خوشبوئے در حمام روزی ٭ رسید از دست محبوبی بدستم ٭ بدو گفتم کہ مشکے یا عبیری ٭ کہ از بوئے دلاویز تو مستم ٭ بگفتا من گل ناچیز بودم ٭ ولیکن مدتی با گل نشستم ٭ کمال ہمنشین در من اثر کرد ٭ وگرنہ من ہمان خاکم کہ ہستم ٭
۱۴ حضرت سراج الملة والدین خلداللہ ملکہ کی عمر مبارک کا وہ تمام حصّہ یعنے تیس سال جو ہندوستان عقلاؤں کے نزدیک تعلیم کا انتہائی زمانہ ہے زیر سایہ و نگرانی اعلیٰ حضرت خلد آشیان گزرا ہے ۔ دانشمندانِ ہند کے خیال میں تیس سال کے بعد انسان کے عادات و اطوار میں تغیّر و تبدل نہایت دشوار بلکہ ناممکن ہے ۔ وہ کہتے ہیں بیس پچیس ۲۵ تیس ۳۰ برس کے اندر پُوت۔ کپُوت۔ سپُوت ۔ بنے سو بنے ۔ یعنی انسان جو خصلتیں بُری یا بھلی اختیار کرتا ہے وہ تیس برس کے اندر اُس کی طبعیت ثانیہ ہو جاتی ہیں جنکا تبدل ناممکن بقول شخصے ۔ جیل گرد و جبلت نگردد اعلیٰ حضرت خلد آشیان نے عنانِ حکومت اپنی زندگی میں حضرت سراج الملة والدین خلداللہ ملکہ کے سپرد کر دی تھی چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں حبیب اللہ خان میرے سب سے بڑے لڑکے کو وہ تمام کام کرنے پڑتے ہیں جو کہ میں خود یا سابق امیران افغانستان کیا کرتے تھے صرف چند نئے محکمے و سرر شتے اُنکے سپرد نہیں ہیں جیسا کہ صیغہ خارجہ جس کا انتظام میں نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے حبیب اللہ خان کا دستورالعمل یہ ہے ۔ دس بجے صبح دربار کرتے ہیں اور چار پانچ بجے سہ پہر کو اُسے برخاست کرتے ہیں بروز دوشنبہ پنجشنبہ اُنکے دربار کے سکرٹری تمام درخواستیں خطوط جو بذریعہ ڈاک یا قاصد ۔ ہرات ۔ قندہار بلخ ۔ غزنی ۔ جلال آباد ۔ ہندوستان و دیگر مقامات سے موصول ہوں انہیں پڑھ کر سناتے ہیں مختلف محکموں کے روزانہ اخراجات کے احکام بنام خزانہ جاری کئے جاتے ہیں۔ اور گورنروں و فوجی وملکی اہلکاروں و مہتممان کارخانجات و میگزین و محکمہ عمارات امال کی رپورٹوں پر احکام صادر کئے جاتے اور حکام متعلقہ کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ یہی سکرٹری درخواستوں کے جوابات و دیگر کاغذات وغیرہ پر اُن سے مہر و دستخط کراتے ہیں ؂۱ تزک عبدالرحمانی جلد دوم صفحہ ۹۵ ۔
۱۵ پھر بذریعہ ڈاک اُن کو روانہ کرتے ہیں۔ اس سبکے ختم ہونے کے بعد وقت آرام تک اور جو کچھ کام آجائے اُسے انجام کرتے ہیں اور صرف اسپ سواری اور ہوا خوری کے لئے تھوڑا وقت نکال لیتے ہیں۔ سونے سے پہلے وہ میرے دربار میں چند منٹ کے لئے آتے ہیں اور اگر ضرورت ہو تو صبح کے وقت بھی جبکہ میں بیدار ہوؤں شنبہ کے روز وہ فوجی دربار کرتے ہیں جس میں تمام فوجی افسروں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ فوج کے لئے تازہ سپاہی وہی مقرر کرتے ہیں۔ اور تمام فوجی معاملات اُن کے متعلق ہیں۔ فوجی جرایم و تنازعات وغیرہ کا تصفیہ بھی اُنکے سپرد ہے۔ چہارشنبہ کو ملکی حکام موجودہ کابل کا دربار ہوتا ہے اور جو مقدمات ملکی اُسوقت پیش ہوں اُنہیں طے کرتے ہیں۔ بروز شنبہ مقدمات فوجداری فیصل کرتے ہیں۔ اور مجرموں کو سزا قید دیتے یا رہا کرتے ہیں اُسی روز کوتوال بھی مقدمات پیش کرے یا کسی اور ذریعہ سے آئیں۔ اور اپیلیں وغیرہ بھی سنتے ہیں۔ اتوار کے دن تمام کارخانجات و کابل کے مختلف میگزینون کا معاینہ کرتے ہیں کاریگرون کی درخواستیں سنتے ہیں اور اُن کی لیاقت کے مطابق اُنہیں ترقی پنشن۔ رخصت وغیرہ دیتے ہیں۔ جمعہ یوم الراحت ہے جسے یا تو وہ میرے ساتھ گزارتے ہیں یا شکار میں جمعہ کی نماز مسجد میں پڑھتے ہیں اور اپنی ماؤں و خویش و اقارب سے ملتے ہیں۔ الخ۔ لیکن باضابطہ تخت نشین اعلی حضرت ضیاء الملۃ والدین کی وفات کے بعد ہوئی۔ وفات حسرت آیات شاہ اسلام نے تمام عالم کے مسلمانون کے قلوب کو ہلا دیا۔ گورنمنٹ عالیہ برطانیہ کے تمام قلمرو میں جھنڈے نصف سرنگوں کر دئے گئے مسلمانان عالم کے صدمہ اور گورنمنٹ عالیہ کے رنج کا بدل خداوند عالم نے اعلیٰ حضرت سراج الملۃ
۱۶ والدین امیر المومنین خلد الله ملکه وسلطنته واقباله کو زیب سریر دولت خداداد افغانستان فرما کر کر دیا : اشعار دعائیہ یا خدا جب تک کہ یہ عالم رہے : آدمی کے دم میں جب تک دم رہے خلق میں جب تک بہے آب روان : اور جب تک گریہ شبنم رہے ہو ترقی دولت داد خدا : شاہ اوس کا شاد اور خرم رہے بڑھتے بڑھتے ماہ کامل ہو سراج : دنگ جس کو دیکھ کر عالم رہے حُب نصر اللہ نائب سلطنت : شاہ کے دل میں صدا قایم رہے نور چشم شاہ معین السلطنت : جگمگاتا خلق میں دایم رہے با ضابطہ تخت نشینی اعلیٰ حضرت سراج الملۃ والدین خلد الله ملکه یکم اکتوبر ۱۹۰۱ء کو سریر آرای دولت خداداد افغانستان ہوئے اور مارچ ۱۹۰۴ء میں با ضابطہ تخت نشینی کو تمام افغانی سرداروں اور عالموں اور گورنمنٹ آف انڈیا نے تسلیم کر لیا۔ عنان حکومت دست مبارک میں لینے کے بعد ۱۹۰۷ء میں اپنا ولی عہد اور نائب السلطنت ایسے شخص کو کیا کہ جس کی پیشانی کا چمکتا ہوا نور ہر دیکھنے والے کو بتا دیتا ہے کہ یہ شخص صفات ملکوتی رکھتا ہے جس کا وجود مبارک دولت خداداد افغانستان اور اسلام کے واسطے رحمت الٰہی ہے اور یہ جناب خاتم الانبیاء محمد مصطفےٰ صلے اللہ علیہ وسلم کی اُس صفت سے مستفیض اور اُس کا مظہر ہے جس کی بابت جناب باری عزاسمہ ارشاد فرماتا ہے وما ارسلناک الا رحمت اللعالمین ۔ نائب السلطنت کے وجود مبارک سے اعلیٰ حضرت سراج الملۃ
والدین خلد اللہ ملکہ اور تمام اہل افغانستان کو قلبی محبت ہے انہیں پر منحصر نہیں بلکہ ہر مسافر اور اُس شخص کو جو ایک مرتبہ بھی پابوسی حاصل کر لیتا ہے وجود مبارک سے قلبی تعلق پیدا ہو جاتا ہے آپکا نام مبارک نصر اللہ خان ہے۔ زبان پہ بار خدا یا یہ کس کا نام آیا * کہ میری نطق نے بوسہ میری زبان کے لئے نائب السلطنت صاحب اعلی حضرت سراج الملۃ والدین خلد اللہ ملکہ کے برادر خورد ہیں اور شہزادہ عنایت اللہ خان معین السلطنت فرزند اکبر اعلی حضرت نائب السلطنت صات کے ولی عہد ہیں جن کے خلق اور قابلیت کا تجربہ اور پابوسی کا شرف تھوڑا ہی عرصہ ہوا۔ اہل ہندوستان کو حاصل ہو چکا ہے۔ صفات ذات شاہانہ اعلی حضرت سراج الملۃ والدین امیر المومنین خلد اللہ ملکہ واقبالہ اول درجہ کے شجاع اور نہایت رحم دل و منصف مزاج و خندہ پیشانی اور خلیق اور بیدار مغز اور مستعد ہیں ہر ایک صفت کے ثبوت میں ایک ایک واقعہ بطور نمونہ عرض کیا جاتا ہے۔ شجاعت بمقام جلال آباد اتفاقاً بندوق کا فیر کرتے وقت اُس کے شق ہو جانے سے انگشتان مبارک میں صدمہ پہونچا جس کی قطع برید کی نوبت آئی حضور وایسرے بہادر سابق نے جو ڈاکٹر برائے علاج روانہ فرمایا تھا اُس نے عمل جراحی کے وقت بیہوش کرنا چاہا جسکو ایسا کرنے سے منع فرمایا اور دست مبارک اُسکی طرف بڑھا کر فرمایا کہ اپنا کام شروع کرو۔ اور دوسرے ہاتھ میں اخبار لیکر ملاحظہ فرمانا شروع کیا۔ عالیجناب مرزا عبد الرشید خان صاحب نے دست مبارک جسپر عمل جراحی کرنا مقصود تھا تھام لیا۔ عمل کے شروع ہونے پر
۱۸ مرزا صاحب کا ہاتھ کانپنے لگا۔ اعلیٰ حضرت نے مسکرا کر فرمایا مرزا کیا ہے مرزا صاحب کے آنسو نکل آئے اور معذور سمجھکر ہٹا دیئے گئے۔ ڈاکٹر نے ہر دو انگشتان مبارک کو جنہیں صدمہ پہونچا تھا قطع کیا اور نہایت سہولیت اور اطمینان کے ساتھ اپنا کام انجام دیا۔ اس تمام عرصہ میں اعلیٰ حضرت اخبار ملاحظہ فرماتے رہے نہ جبین مبارک پر چین آئی نہ دوسرے ہاتھ پر کسی قسم کا اثر پڑا نہ خیال پر اسکا اثر ہوا۔ ڈاکٹر نے یہ شجاعت و استقلال دیکھ کر فرمایا کہ میری نظر سے ایسا بہادر شخص نہیں گذرا انگلیاں قطع کی جائیں اور اُسکا اثر خیال تک پر نہ ہو * رحم دلی اگست ۱۹۰۷ء میں اعلیٰ حضرت شکار کو تشریف لے گئے دور بین سے جنگل کا ملاحظہ فرماتے وقت نظر کیمیا اثر ایک ٹوٹے سے جھونپڑہ پر گئی جسمیں ایک مرد ضعیف کٹی کاٹ رہا تھا اُسکے پاس خود تشریف لیجا کر کمال شفقت خسروانہ سے دریافت فرمایا کہ تم اس ضعیفی میں کیون اسقدر مشقت کرتے ہو کیا کوئی وارث نہیں ہے اُس نے دست بستہ عرض کیا کہ صرف ایک لڑکا ہے وہ شاہی فوجی خدمت انجام دیتا ہے ۔ اعلیٰ حضرت اپنی فرودگاہ پر اُسے لے آئے اپنے ساتھ کھانے میں شریک کیا اور اُس کے فرزند کو طلب فرما کر ضعیف کی خدمت پر معمور کیا اور دو ہزار روپیہ نقد مرحمت فرمائے ۔ انصاف اسکے ثبوت میں کسی واقعہ کے درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ایسے واقعات پیش ۱۲ اس زمانہ میں بندہ کابل میں موجود تھا۔ اول یہ قصہ عزیز القدر عبدالکریم خان پسر عالیجاہ عبدالغفور خان مرحوم نبرہ عالی جناب حبیب اللہ خان مستوفی الممالک مرحوم نے مجھ سے فرمایا ۔ اس کے بعد اکثر اشخاص سے اسکی تصدیق ہوئی ۔
19 آتے رہتے ہیں جن کی تعداد ہزارہا کی ہے میں صرف اسکا قاعدہ درج کرتا ہوں کہ مظلوم کی فریاد اعلحضرت کے گوش مبارک تک کیونکر پہونچتی ہے ناظرین کو اس سے یقین طور پر ظاہر ہو جائے گا کہ ایسا قاعدہ مقرر کرنا ہے منصف مزاج بادشاہ کا کام ہے اور نیز اس قاعدہ کے معلوم ہونے سے اہل ہندوستان کو یہ بھی فائدہ پہونچے گا کہ بعض اہل کاروں نے دولت خداداد افغانستان کی عام طور پر جو مشہور کر رکھا ہے اور لوگوں کا اُسکا یقین ہو گیا ہے۔ کہ ہندوستان سے کوئی خطہ یا کسی کی شکایت وغیرہ کی درخواست بغیر اُن کی توسل کے اعلیٰ حضرت تک نہیں پہونچ سکتی ۔ ڈاک خانہ پشاور سے ایسے خطوط یا تو چاک کر دئے جاتے ہیں یا اُن کے ملاحظہ کے واسطے بھیج دئیے جاتے ہیں وہ اُنکو ملاحظہ کرنے کے بعد یا تو چاک کر دیتے ہیں یا اعلیٰ حضرت کے حضور میں روانہ کر دیتے ہیں بغرض جیسا اُنکے نزدیک مناسب معلوم ہوتا ہے وہ کرتے ہیں۔ یہ محض غلط اور فضول ہے کسی کی مجال نہیں ہے کہ اعلیٰ حضرت کے نام کا خط یا درخواست کوئی اہل کار کھول سکے۔ اسکا یقین کرنا ایسا ہے جیسا کہ بعض حضرات حضرت جبریل علیہ السلام کے نام خط لکھ دیتے ہیں کہ میت حاملہ خط ہذا کو بموجب خط ناپ کر جنت میں زمیں دے دیجئے گا۔ ہم نہایت ادب سے اُن ظلم رسیدہ حضرات کو جو ایسے اہلکاروں کے پنجۂ ظلم میں گرفتار ہوئے ہوں یا اس وقت یا کبھی آئندہ ہوں مشورہ دیتے ہیں کہ بقاعدہ ذیل مقررہ دولت خداداد افغانستان وہ اپنی چارہ جوئی کریں ۔ قاعدہ ایک اشتہار اعلیٰ حضرت کی جانب سے اہل افغانستان اور دیگر ممالک کے لوگوں کو اطلاع دہی کی غرض سے شائع کیا گیا ہے کہ اگر اُن کو کسی ایسے شخص سے جو دولت خداداد افغانستا ن
۲۰ کی رعیت یا اُس کا ملازم یا ایجنٹ ہو کوئی نقصان پہونچے تو اُس کی اطلاع بغرض انصاف بقاعدہ مندرجہ اشتہار اعلیٰ حضرت کو کرسکے ۔ اس اشتہار کا نام عریضہ خریداری ہے اور یہ سرکاری طور پر مثل اسٹامپ قیمت ایک عباسی یعنے نصف روپیہ کابلی کو جو برابر چار آنہ دولتِ عالیہ برطانیہ ملتا ہے۔ ایک طرف اس اشتہار کے تمام قواعد وضوابط لکھنے اور اُسکے ارسال کرنے کی اور اُسکے جواب کی انتہائی مدت اور قیمت ٹکٹ جو درخواست چسپان کرنا چاہئیے۔ وغیرہ درج ہیں اسی اشتہار کی پشت پر سایل کو اپنی درخواست تحریر کر کے دس روپیہ کابلی کا ٹکٹ چسپان کر کے خاص اعلیٰ حضرت کے یا نایب السلطنت صاحب کے یا معین السلطنت صاحب کے حضور میں ارسال کرنا چاہئیے صرف یہ تین مقام مذکورہ اسکے واسطے مقرر ہیں ۔ درخواست رجسٹر پر چڑھ کر نمبر وار اعلیٰ حضرت کے خاص حضور میں پیش ہوتی ہے اور اُس کا معقول اور مدلل جواب اعلیٰ حضرت کا خاص دستخطی اور لکھا ہوا ہوا تاریخ ارسال درخواست سے چالیس یوم کے اندر سایل کو دیا جاتا ہے۔ اگر پیر و نجات سے درخواست ارسال کی جائے تو محصول ڈاک سایل کے ذمہ ہے اگر سائل نے اپنا دعویٰ ثابت کر دیا تو علاوہ اُس سزا کے جو اُس جرم میں ملزم کو برداشت کرنی ہوگی ٹکٹ درخواست وغیرہ خرچ بھی ملزم سائل کو ادا کریگا۔ خندہ پیشانی شبیہ مبارک سے چہرہ کی بشاشت اور خندہ پیشانی اس طرح ظاہر ہے جیسے آفتاب سے نور علاوہ ازین جولائی ۱۹۰۶ء میں مجھکو خود اعلیٰ حضرت کے دربار میں پیش ہونے کا موقع ملا۔ دربار کی شان وشوکت سرداران افغانستان کی زرق برق وردیان اور انکی شاندار اور پُر وجاہت صورتیں ننگی تلواروں کی چمک دمک یہ ایسی چیزین ہیں کہ اعلیٰ درجہ کے بہادر
۲۱ کے قلب پر بھی اثر کئے بغیر نہیں رہ سکتیں ۔ وہ پیش ہونے سے پہلے مترد ہوتا ہے کہ دیکھئے کیا پیش آتا ہے اعلیٰ حضرت کیا پوچھتے ہیں اور اپنی زبان سے کیا نکلتا ہے ۔ خدا جانے وہ کیا پوچھیں زبان اپنی سے کیا نکلے۔ لیکن اعلیٰ حضرت کے وجود مبارک پر نظر پڑتے ہی وہ بشاش صورت خندہ پیشانی ان خیالات خوف کو ایسی دور کر دیتی ہے جیسے نور ظلمت کو اور خوشی رنج و غم کو ۔ خلق یہ عام طور پر مشہور ہے کہ اعلیٰ حضرت نہایت خلیق ہیں غور کرنے سے یہ امر صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ خلق صفات جبلیہ کو کہتے ہیں اور یہ ظاہر امر ہے افعال اختیاری تابع صفات ہیں۔ جیسے انسان میں صفت ہوتی ہے ویسے افعال سرزد ہوتے ہیں مثلاً اگر سخاوت ہے تو داد ودہش کی نوبت آئے گی ۔ شجاعت ہے تو معرکہ آرائی اور بزدلی ہے تو پسپائی ظہور میں آئیگی علیٰ ہذا القیاس تو جب تعلیم و تربیت کا یہ حال ہو کہ تمام عمدہ عادتیں طبیعت ثانیہ ہو گئی ہوں ۔ جیسا کہ ہم ثابت اور بیان کر آئے ہیں تو ظاہر ہے کہ اعلیٰ حضرت کا خلیق ہونا لازمی امر ہے۔ مجھکو اسکا تجربہ ہوا ہے جب میں اول مرتبہ حضور اقدس میں پیش ہوا سلام مسنون عرض کیا تو نہایت الطاف خسروانہ سے پیارے لہجہ میں اُسکے جواب ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ نہایت خلق سے مزاج پرسی فرما کر ارشاد فرمایا کہ تم میرے عزیز ہو میرے دوست ہو میرے مہمان ہو۔ مجھ کو ہندوستانیوں کو دیکھکر مسرت ہوتی ہے ۔ بیدار مغزی غالباً گذشتہ حالات پڑھکر ناظرین کو خود معلوم ہوگیا ہو گا کہ ایسے جامع کمال ذی علم وجود مبارک کے بیدار مغز ہونے کے کیا معنے تمام گذشتہ واقعات اور نظام سلطنت و
۲۲ دولت خداداد افغانستان حبیس کالج و شفاخانہ اور سڑکوں کا انتظام راہ میں اعلی درجہ کی سراؤں کا تعمیر کرنا ہر قسم کے کارخانجات روز افزوں ترقی یہ تمام ثبوت بیدار مغزی کا ہے حضور یکلنسی رائیٹ انزیل گلبرٹ جان الیٹ ہری کینین مونڈل ارل آف منٹو ویسرے کشور ہند بہادر دام اقبالہ نے بھی بمقام پشاور اعلیٰ حضرت کے بیدار مغزی کی تعریف کی- جو درج اخبارات ہوچکی ہے۔ مستعدی اعلیٰحضرت شب روز میں بہت کم آرام فرماتے ہیں سلطنت کے ضروری کاموں میں انتظام میں مصروف رہتے ہیں۔ کبھی کسی حالت میں نماز قضا نہیں فرماتے۔ عالیجناب مرزا عبد الرشید خان صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ ہر وقت اور ہر حالت میں اعلیٰ حضرت کے ہمرکاب رہتا ہوں- میں نے اپنی عمر میں نہیں دیکھا کہ اعلیٰ حضرت نے کبھی نماز قضا کی ہو۔ یہانتک کہ ایک مرتبہ ایسے علیل ہوئے کہ حس حرکت کی قوت باقی نہیں رہی۔ ایسی حالت میں بھی نماز قضا نہیں کی نہ کبھی روزہ ترک فرماتے ہیں۔ بغیر شد ضرورت کے تمام احکام خداوندی نہایت مستعدی سے ادا فرماتے ہیں۔ کیسا ہی سخت سفر پیش آئے وجود مبارک پر تکان کا اثر نہیں ہوتا چنانچه ماه جولائی ۱۹۰۵ء میں جب میں کابل پہونچا تو اعلی حضرت جبل سراج تشریف لیگئے تھے۔ ایک روز میں عالیجناب خلق مجسم قابل فخر افغانستان کرنل حبیب اللہ خانضا ۵ خان صاحب موصوف نہایت قابل صد لایق اور ہمہ دان شخص ہیں۔ آپ کو ترکی عربی پشتو - فارسی اور انگریزی وغیرہ زبانوں پر ایسی قدرت ہے جیسی اپنی مادری زبان فارسی پر۔ آپ سلطان المعظم کے یہان پچیس سال بعهده سپرنٹنڈنٹی پولیس بمقام شام معمور رہ چکے ہیں۔ اب اعلیٰ حضرت نے اپنی خدمت میں طلب فرمالیا ہے- آپ نہایت خلیق با مروت مسافر نواز اور بزرگ شخص ہیں۔ اور سچ تو یوں ہے کہ ایسے ہی شخص دولت کو فخر اور نیک نامی کا باعث ہوتے ہیں۔
۲۳ نائب عسس کی خدمت میں حاضر تھا۔ ایک غلام بچہ کرنل صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیان کیا کہ کل اعلیٰ حضرت جمعہ کی نماز دارالسلطنت کابل میں ادا فرماویں گے لیکن اُسی روز یعنے جمعرات کی شام کو تمام شہر کابل توپوں کی آواز کی گرج سے گونج اُٹھا دریافت سے تحقیق ہوا کہ اعلیٰ حضرت پچیس میل کا سفر بسواری اسپ طرّے فرماکر داخل دارالسلطنت کابل ہوئے۔ اس سے زیادہ کیا مستعدی ہوسکتی ہے۔ خداوند عالم اعلیٰ حضرت کے وجود مبارک کو اہل اسلام کے سر پر قائم رکھے۔ اور تمام آفات ارضی و سماوی اور اُن حضرات کے اثر سے محفوظ فرمائے۔ جو ایسے مقدس وجود کو جو کروڑہا بندگان خدا کی حفاظت کی غرض سے پیدا کیا گیا ہے لہو اور لعب میں مصروف کرنا چاہیں۔ ع زندہ نماند ہرکہ نہ جوید فلاح او ؂ دربار کے مختصر حالات اعلیٰ حضرت اکثر روزانہ دربار باغ ارگ میں فرماتے ہیں یہ باغ شہر کے کنارہ پر متصل قلعہ ارگ واقع ہے اسکے درمیان میں نہر ہے اس کی سرسبزی اور شادابی کی نسبت اتنا کہنا کافی ہے وہ تراوٹ کا اثر ہے کہ دمِ سیر چمن ؂ پانی دینے لگے یوسف کا یہان چاہ ذقن ہفتہ وار فوجی دربار سلام خانہ میں ہوتا ہے۔ روزانہ دربار کا یہ قاعدہ ہے۔ دروازہ باغ سے شروع ہوکر تختِ شاہی تک دورویہہ فوجی سپاہی زرق برق وردیاں پہنے کھڑے رہتے ہیں پیش ہونے والے کو ایشک آقاصی ملکی یا فوجی یا اور کوئی ایشک آقاصی جیسا کہ پیش ہونیوالے لہ تخت شاہی قوسی شکل میں مثل اُس کھلی اور کشادہ جگہ کی ہے جو دربار دہلی سنہ ۱۹۰۳ء میں تیار کی گئی تھی بلے دیار سے ایشک آقاصی کے معنے متروک عبدالرحمانی میں میر عرض بیان کئے ہیں ۔ اور غیاث اللغات میں داروغہ دیوانخانہ لیکن غیاث نے ظاہر کردیا ہے کہ یہ لغت نہیں ہے۔ بلکہ مصطلحات میں سے ہے اور دو لفظوں سے مرکب ہے۔ ایک ایشک جس کے معنے فضائی دروازہ ہیں اور دوسرا آقاصی جس کے معنے سردار کے ہیں۔
۲۴ کے مناسب حال ہو۔ مہمان خانہ سے اپنے ہمراہ لے جاتا ہے۔ مہمان خانہ میں متعدد ہال ہیں۔ اور مہمان کی آسایش و آرام کے واسطے ہر شے مہیا رہتی ہے اسی جگہ ایشک اقاصی آداب شاہی کی تعلیم دیتا ہے جو یہ ہیں ۔ اعلیٰ حضرت امیرالمؤمنین کے روبرو ادب سے جانا چاہیئے اور قریب پہونچکر قلب پر ہاتھ رکھ کر بغیر سر وگردن خم کئے سلام وعلیکم یا امیرالمؤمنین عرض کرنا چاہیئے۔ کیونکہ سر خدائے عزوجل کے حضور میں خم کیا جاتا ہے ۔ امیرالمؤمنین اُس ذات اقدس کے بندگان میں سے ہیں۔ گفتگو صاف اور بلا تصنع ہو کوئی لفظ مثل خداوند وغیرہ کے خلاف شریعت اسلام نہ ہو بلکہ سلیس صرف اسقدر ادب کے ساتھ جیسے اپنے کسی بزرگ خاندان سے کی جاتی ہے۔ اگر اعلیٰ حضرت نشست کیواسطے ارشاد فرمائیں تو کرسی پر جو اسی غرض سے زیر سر مبارک بچھی ہوئی ہیں بیٹھ جانا چاہیئے۔ ورنہ کھڑے رہنا چاہیئے بلا ہاتھ باندھے ہوئے۔ غرض کوئی امر ایسا نہو جو مشابہ ہوجائے اُس ادب کی جو مخصوص ہے خدائے عزوجل احکم الحاکمین ومالک الملک لاشریک لہ کے واسطے۔ اس کے بعد اگر پیش ہونے والا کچھ سامان نظر کے واسطے لایا ہے تو غلامان اُس کو پیش ہونے والے کے ہمراہ لے چلتے ہیں ورنہ صرف ایشک اقاصی اسی کو دربار میں لے جاکر حضور میں پیش کرتا ہے۔ اعلیٰ حضرت زیب سریر خلافت ہوتے ہیں ۔ جو قوسی شکل کا بنا ہوا قد آدم بلند ہے جس کی سقف صرف ستونوں پر قایم ہے اور ہر چہار طرف سے کشادہ ہے۔ سقف وستون وغیرہ سنہری کام سے مغرق ہیں۔ اعلیٰ حضرت کرسی پر دربار فرماتے ہیں۔ ایک خوشنما سنہری میز معہ ضروری سامان کے روبرو ہوتی ہے۔ ایک غلام بچہ پشت مبارک کی جانب سے چوکری یا مورچھل جو کچھ اُس خوشنمائے کا نام رکھا جائے جو اعلیٰ درجہ کے خوشنما جانوروں کے پروں سے
۲۵ بنی ہوتی ہے جلتا رہتا ہے۔ تخت مبارک کے دونون بازؤں اور پشت کا افسران فوجی و غلام بچه زرق برق وردیان زیب تن کئے ہوئے حلقہ کئے رہتے ہیں۔ جو دور سے دیکھنے والے کو بقول شاعر یہ معلوم ہوتا ہے ع ماہ کا مائہ میں ہوتا ہے چکورون کو یقین + کبھی انگڑائی جو وہ رشک قمر لیتا ہے ہفتہ وار دربار سلام خانہ میں ہوتا ہے جو ایک نہایت خوشنما قدیم مغلیہ خاندان کی طرز کی عمارت کے مشابہ ہے۔ اسکا درمیانی ہال یعنے کمرہ اسقدر وسیع ہے جسمیں پندرہ سو کرسیان آجاتی ہیں۔ اس ہال کے صدر مقام پر وہی عمارت تخت مذکورہ بالا مختصر پیمانہ پر بنی ہوئی ہے جس پر شاہی کرسی ہوتی ہے باقی سر یہ مبارک سے قریب چھہ فٹ کے فاصلہ چھوڑ کر اراکین سلطنت و افسران فوج و حکام ملکی منصب داران وغیرہ کی درجہ بدرجہ سیدھی قطار میں کرسیان ہوتی ہیں۔ سلام خانہ کا باڈی گارڈ شاہی اور دیگر فوجی پلٹن کے سپاہی زرق برق وردیان پہنے برہنہ تلواریں لئے احاطہ کئے رہتے ہیں۔ صحن سلامخانہ میں فوجی باجہ بجتا رہتا ہے۔ جس قدر فوج یا جن لوگوں کا ملاحظہ فرمانا منظور ہوتا ہے اُن کو بقاءدہ فوجی ایک دروازہ سے لیجا کر نظر کیمیا اثر کے روبرو ہوتے ہوئے نائب السلطنت حبیب یا معین السلطنت صاحب دوسرے دروازہ سے واپس لاتے ہیں۔ نائب السلطنت صاحب زاد الله شوکته و حشمته و اقبالہ اس موقع پر بجائے اُس اپنے مقدس لباس عبا قبا کے فوجی وردی جس کی چک دمک نظر کو خیرہ کرتی ہے زیب تن فرمائے ہوئے ہوتے ہیں۔ سلام خانہ کے جنگلے کے باہر خلقت کا ہجوم ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ جب ہو لیتا ہے تب قابچی کھانا لاتے ہیں۔ اور وہ تمام اراکین سلطنت و افسران فوجی و غیرہ جو ہال کے اندر ہوتے ہیں اعلیٰ حضرت کے ہمراہ شریک طعام ہو کر سرفرازی حاصل
Kâbol, capitale (26-30) en urdu, hélas! Seulement Bâgh-e Bâbur est décrit en détail (28-30)
[BLANK PAGE]
کرتے ہیں۔ اس موقعہ پر میری طبیعت پر ایک خاص اثر ہوا۔ حضرت ضیاء الملۃ والدین خلد آشیان کی شبیہ مبارک آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ اور وہ تمام عنایات خسروانہ لینے اپنے ہمراہ چند مرتبہ کھانہ میں شریک فرمانا خاص الش اپنے دست مبارک سے مرحمت فرمانا یاد آکر طبیعت بھر آئے ۔ اور ایک خاص کشش محسوس ہوئی جو مزار مبارک کھینچ کر لے گئی۔ رشتہ در گردنم افگندہ دوست میبرد ہر جا کہ خاطر خواہ اوست اس لئے اس کے بعد کے واقعات میں نہیں بیان کر سکتا۔ غالباً اس کے بعد دربار برخاس ہو جاتا ہے۔ مختصر حالات کابل دار السلطنت افغانستان شہر کابل کی آبادی اور وسعت مثل دہلی کی ہے اکثر بازار پٹے ہوئے ہیں لینے ان کی سقف ہی مثل اون بازاروں کے جیسے مکہ معظمہ اور جدہ شریف کے ہیں فرق صرف مقصد کا ہے۔ یہاں سردے اور برف کی غرض سے ایسا کیا گیا ہے۔ اور وہاں گری اور تمازت آفتاب کی غرض سے ۔ بازاروں میں خلقت کی ہجوم کی وجہ سے چلنا دشوا ہوتا ہے۔ سردے و انگور۔ سیب وغیرہ میوہ جات کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔ علی درجہ سردے کا نرخ دو پیسہ فی اثار رہتا ہے جس کی شیرینی کا مقابلہ بلا مبالغہ قند سے ہو سکتا ہے۔ علی ہذا انگور کی ارزانی کی بھی یہی کیفیت ہے سیب کی ارزانی سے بڑھی ہے یہانتک کہ بعض وقت ایک پیسہ کے دس ملتے ہیں۔ بادام ۔ آلوچہ و زردالو وغیرہ بھی بہت ارزاں ہیں۔ ان کی کابل میں یہی کیفیت ہے جیسے ہمارے یہاں لینے
۲۷ دہلی میں ھولی گاجر کی۔ کابل کا حُسن اور فارسی زبان کی شیرینی مسلمہ ہے۔ ان تمام امور مذکورہ بالا خیال کر کے ناظرین خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ بازاروں کی رونق اور دلچسپی کس درجہ پر ہوگی۔ میرے نزدیک تو اہل افغانستان کا یہ عام مقولہ کہ کابل گوشہ جنت نشان است نہایت صحیح اور درست ہے۔ افغانستان کے عام باشندون کے اطوار و عادات کے لحاظ سے میں دعویٰ کے ساتہ کہہ سکتا ہوں کہ بعد مکہ معظمہ و مدینہ منورہ بیت المقدس اسی ملکا درجہ ہے۔ ہر وقت کان میں اللہ رب العالمین کے نام مبارک کی آواز آتی رہتی ہے کھیتوں کی حفاظت کیجاتی ہے تو بآواز بلند کلمہ طیبہ پڑھا جاتا ہے۔ آپس کی گفتگو ہے تو ہر فقرہ میں یہ پیارا نام مبارک شامل ہے۔ لڑکوں کا کھیل ہے تو یہی ایک جا جمع ہو کر آیاتِ قرآنی پڑھے جاتے ہیں اور خوش الحانی کی بحث ہوتی ہے بوجہ احکام شریعت اسلام جاری و نافذ ہونے کے بدی کی طرف کسی کا خیال بھی نہیں جاتا۔ نیک عادات ان کی طبعیت ثانیہ ہو گئی ہیں۔ جیسا کہ طبائع انسانی کا خاصہ ہے کہ جو عادت بضرورت اختیار کیجاتی ہے وہ رفتہ رفتہ طبعیت ثانیہ ہو جاتی ہے بعض افغانی سردار یا اہل کار سرکاری یا عام لوگوں کی کوئی حرکت دیکھ کر اہل ہندوستان کا یہ خیال کر لینا کہ افغانستان میں بھی یہی حالت ہوگی۔ نہایت غلط ہے یہ سب ہندوستان کی آزاد آب و ہوا کا اثر ہے۔ اور اگر شاذ و نادر ایسے اشخاص افغانستان میں بھی پائے جائیں تو ایسی چند مستثنے مثالوں سے قاعدہ کلیہ نہیں ٹوٹ سکتا۔ اور اگر بے یا نیک لوگوں کا انتخاب کیا جائے تو یقینی افغانستان میں فیصدی نیک اور پابند شریعت اسلام نوے قرار پائیں گے۔ اور ہندوستان اور دیگر از او ممالک میں فیصدی ایک نیک اور پابند مذہب انسان کا ملنا دشوار ہے ۔ ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا * عمارات شاہی اور باغات شاہی وغیرہ شہر کابل و نواح کابل میں اس کثرت سے ہیں کہ اگر
۲۸ اس کا مفصل حال لکھا جائے تو اسکے پڑھنے اور لکھنے کو بہت زیادہ وقت کی ضرورت ہے۔ عمارت کی طرز بجائے اسکے کہ میں بیان کروں۔ اعلیٰ حضرت ضیاء الملة والدین خلد آشیان کی تحریر نقل کئے دیتا ہوں جس سے ناظرین اندازہ کر لیں گے۔ میرے محل ایسے موقعوں پر بنائے گئے ہیں جہان سے ہر طرف نہایت خوشنما منظر دکھائی دیتا ہے۔ جگہ کشادہ و ہموار ہے چہاروں طرف باغ و پھول ہیں اور اس انداز سے بنے ہوئے ہیں کہ ایک ہی عمارت میں موسم سرما میں گرم کروں کا انتظام ہو سکے اور گرما میں کھلے برآمدوں اور بڑی بڑی کھڑکیوں سے ٹھنڈا رہے۔ کرون کی ترتیب ایسی ہے کہ موسم بہار میں کلیون کا چٹکنا اور پھولوں کا کھلنا۔ خزان کی شاندار مختلف زرد رنگ موسم سرما کی چمکتی ہوئی برف اور شبہای ماہتاب کا خوبصورت و دلربا منظر ان محلوں کا رہنے والا بآسانی دیکھ سکتا ہے۔ الخ ۔ اور باغات میں سے صرف ایک باغ بابر کا حال میں بیان کرتا ہوں جس میں اعلیٰ حضرت سراج الملة والدین خلد اللہ ملکہ نے کمال شفقت خسروانہ سے اس احقر کو برائے قیام ارشاد فرمایا تھا اسی پر ناظرین اور باغات کو قیاس فرمائیں۔ باغ بابر کی نسبت یہ کہنا ؎ اگر فردوس بروئے زمین است ٭ ہمین است و ہمین است و ہمین است بالکل درست اور واقع کے مطابق ہے۔ یہ باغ شہر کابل سے ایک میل کے فاصلہ پر زیر کوہ واقع ہے اس کی چہار دیواری چوبیس فٹ بلند ہے اس کی ساخت لاہور کے شالامار باغ سے ملتی جلتی ہوئی ہے۔ اسکے بارہ درجہ ہیں اور ہر ایک درجہ نیچے کے درجہ سے نو فٹ بلند ہے دروازہ کے اندر قدم رکھتے ہی سرسری نظر سے شاہی ٹھاٹھ معلوم ہوتا ہے جس کے ہر درجہ میں سبز مخمل کا فرش بچھا ہوا ہے اور اُس پر مختلف رنگ کے ریشم کے پھولوں کا مشجر بنا ؎۱ ترک عبدالرحمانی جلد دوم صفحہ ۹۹ ۔
۲۹ ہوا ہے۔ جابجا قرینہ سے بلوری بیٹھیک کے جھاڑ رکھے ہوئے ہیں سبز مخمل کی چھت گیری ہے۔ جس میں انگور کے خوشے لٹک رہے ہیں بمناسب موقعوں پر سفید رنگ کے ستون قایم ہیں۔ جن کے اوپر کا حصہ جو چھت گیری سے باہر نکلا ہوا ہے درخت نما ہے جس کے پتے پشت کی جانب سفید اور سامنے کی طرف سبز ہیں۔ لیکن پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو اور سرسبزی اور شادابی کا اثر اور فواروں کا خوش آیندہ آواز اور بید مجنوں کے درخت کی شاخوں کا ہوا سے لہرا کر کسی قدر باریک آواز پیدا کرنا اور چنار کے درخت کے پتوں کا جو چھت گیری لیئے انگور کی بیل سے باہر نکلے ہوئے ہیں ہوا کے صدمہ سے ٹوٹ ٹوٹ کر اوڑنا تھیٹر کے خیال کو غلط ثابت کرتا ہے۔ امور مذکورہ قدرت کی فیاضی اور انسان کی صناعی کا بین ثبوت اور نمونہ پیش کر کے ناظر کے خیال میں اس باغ کی عظمت اور وقعت پیدا کرتے ہیں۔ ہر درجہ کی شان اور ساخت جداگانہ ہے گیارھویں درجہ پر خوشنما کوٹھی ہے جو مالک باغ کی شاہی شان اور شوکت کا ثبوت ہے۔ کوٹھی کے سامنے خوشنما سنگ مرمر کا حوض ہے جس میں فوارے چھوٹ رہے ہیں۔ فواروں کا پانی حوض میں گر کر نیچے کے درجوں کے فواروں کو جاری رکھتا ہے اس حوض پر سے پلٹ کر دیکھنے سے جہانتک نظر کام کرتی ہے باغ کی وسعت معلوم ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ نواح کابل اس درجہ سرسبز و شاداب ہے کہ اُس کی زمین کا ایک حصہ بھی میوہ دار درختوں سے خالی نہیں۔ اس جگہ کے دیکھنے سے دیوار باغ جس نے صحرائی حصہ اور باغ میں تفریق پیدا کی تھی نظر سے چھپ جاتی ہے اس لئے جہانتک نظر کام کرتی ہے باغ ہی معلوم ہوتا ہے۔ بارھویں درجہ پر سنگ مرمر کی خوشنما مسجد ہے جس کی پیشانی کی عبارت بتا رہی ہے کہ ابوالمظفر شہاب الدین محمد صاحب قران ثانی شاہجہان بادشاہ نے مبلغ چالیس ہزار روپیہ کے خرچ سے
۳۰ ۱۰۱۶ھ میں تعمیر کی۔ اسکے صحن کے سامنے کسی قدر بلندی پر سنگ مرمر کی چار دیواری ہے جس کے اندر سلطان محمد ظہیر الدین بابر خلد آشیان کا مزار ہے جس کے تعویذ پر اشعار ذیل کندہ ہیں پادشاہے کز جبینش یافتے نورالہ : آن ظہیر الدین محمد بود بابر پادشاہ با شکوہ و دولت و اقبال عدل داد دین : داشت از توفیق فیض و فتح و فیروزی سپاہ عالم اجسام را بگرفت و شد روشن روان : بہر فتح عالم ارواح چون نور نگاہ شد چو فردوسش مکان رضوان برین تاریخ جست : گفتش فردوس دایم جای بابر پادشاہ مزار مبارک سے واہنی طرف ابوالمظفر نور الدین محمد جہانگیر پادشاہ ابن جلال الدین محمد اکبر پادشاہ کا مزار ہے جس کے تعویذ کی عمارت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بطور سیر و شکار یہان تشریف لائے تھے۔ اسی جگہ بقضائے الٰہی ۱۰۳۷ ہجری میں انتقال فرمایا۔ بائیں طرف مزار شریف کے خدیجہ الزمانی و خلد آشیانی نواب گوہر النسا بیگم بنت فردوس آرام گاہ عالمگیر ثانی پادشاہ کا مزار ہے جن کے سال وفات ۱۱۲۳ ہجری ہیں۔ اس خانقاہ کی چہار دیواری سے چند گز کے فاصلہ پر باغ کی چہار دیواری ہے اس کی پشت پر ایک عظیم الشان کوہ ہے۔ جسپر قلعہ بنا ہوا ہے زیر کوہ شہر کابل آباد ہے۔ مختصر حال از پشاور تا کابل پشاور ایک مشہور شہر ہے اسکے تاریخی واقعات اور آبادی وغیرہ سے ہم بحث نہیں کر سکتے ۱؎ بعض لوگ اس پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ شاہ موصوف کا مزار نواح لاہور میں ہے۔ میں تاریخی واقعات سے انکار نہیں کرتا۔ میں نے تو تعویذ مزار کی عبارت نقل کی ہے۔ باقی واللہ اعلم بالصواب :
۳۱ البتہ مختصر حال سفارت ہم بیان کرینگے جس کا تعلق دولت خداداد افغانستان سے ہے اس شہر کے مشہور بازار قصہ خوانی میں دولت خداداد افغانستان کا ڈاک خانہ ہے اور اُسی سے ملے ہوئے دیگر ضروریات کے مکان و مہمان خانہ وغیرہ ہے۔ اسوقت ڈاک خانہ وغیرہ کا انتظام عالیجناب غلام حیدر خان صاحب کے سپرد ہے جو ایک قابل اور ہوشیار نوعمر شخص ہیں۔ خان صاحب موصوف نہایت دیانت دار اور زمانہ حال کے ضروریات سے پورے واقف اور دولت خداداد افغانستان کے نہایت خیر خواہ ہیں۔ افغانستان کو ہفتہ میں دو مرتبہ ڈاک روانہ ہوتی ہے۔ قافلہ بھی دو مرتبہ یعنے پنجشنبہ اور دوشنبہ کو جاتا ہے سرکاری سامان کی روانگی کا بندوبست قافلہ باشی کرتا ہے اور باقی بطور خود سواری اور سامان کے واسطے اکثر گھوڑے کرتے ہیں۔ لیکن شتر اور گدھے پر بھی سامان جاتا ہے۔ پشاور میں مسافروں کے قیام کے واسطے سرائے و ہوٹل وغیرہ مثل دھلی یا جس طرح اور شہروں کا دستور ہے سب کچھ موجود ہے۔ بیرون شہر ایک سرکاری سرائے ہے جسمیں مسافر قیام نہیں کر سکتے صرف مال رکھ سکتے ہیں۔ ایک کوٹھری کا کرایہ چھ پیسہ چوبیس گھنٹہ کے واسطے مقرر ہے۔ اس سرائے کی چھت اور دروازہ وغیرہ پر سرکاری پہرہ رہتا ہے۔ سامان کے چوری جانے کا بالکل اندیشہ نہیں ہے قافلہ پشاور سے روانہ ہو کر جمرود ٹھیرتا ہے جو نو میل پر واقع ہے۔ جمرود تک ریل بھی گئی ہے۔ اس جگہ سرکاری قلعہ اور ایک بہت بڑی سرائے مسافروں یعنے قافلہ کے واسطے بنی ہوئی ہے۔ علی الصباح جمرود سے قافلہ روانہ ہوتا ہے سرکاری محصول ہر شخص کو ادا کرنا ہوتا ہے جو فی نفر چار آنہ اور فی اسپ ایک روپیہ۔ خواہ سواری کا ہو یا اُس پر سامان ہو یا کوتل ہو مقرر ہے اس جگہ سے قافلہ کے ہمراہ سرکاری
۳۴ فوجی گارد مسلح ہوتا ہے۔ اور راہ میں جابجا گارد کے واسطے چوکیاں بنی ہوئی ہیں جنیر مسلح گار درہتا ہے۔ صرف سڑک ہماری گورنمنٹ یعنے گورنمنٹ عالیہ برطانيہ کے قبضہ میں ہے۔ اور اُس کا گردونواح خود سر آفریدیوں کے قبضہ میں ہے مسافروں کو کسی قدر راستہ میں پانی کی تکلیف ہوتی ہے۔ جس کے رفع کے واسطے پشاور سے مشکیزہ یا گلی کوزہ لے لیئے جاتے ہیں۔ جمرود سے لنڈی کوتل قریب بیس میل کے ہے۔ دو بجے قافلہ لنڈی کوتل پہونچتا ہے۔ نصف راہ پر علی مسجد واقع ہے جس کی نسبت عوام میں مشہور ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بنائی ہوئی ہے اس مقام پر چشمہ پانی کا جاری ہے۔ لنڈی کوتل میں بھی سرکاری قلعہ اور سرائے ہے اس جگہ سے بھی علی الصباح قافلہ روانہ ہوتا ہے۔ اور پانچ میل پر پہونچکر روات خدا داد افغانستان کی فوجی گارد کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اسی مقام سے عملداری افغانستان شروع ہوتی ہے۔ اسی جگہ سے قریب سات میل کے دکّہ ہے یہ ایک چھوٹا سا موضع ہے جس میں عظیم الشان سرائے اور مہمان خانہ بنا ہوا ہے ایک کمانیر یعنے سرہنگ معتین سو سواروں کے رہتا ہے یہ لب دریائے لنڈا واقع ہے جو وسعت اور پانی کی افراط کے لحاظ سے گنگا و جمنا سے بڑا ہے۔ یہاں ضروریات کی ہر شے ملتی ہے اور صرف مال پر محصول سرکاری لیا جاتا ہے اس جگہ سے قافلہ کی ضرورت نہیں رہتی۔ جس کا جب جی چاہے چلا جائے۔ راہ میں کسی قسم کا خوف نہیں ہے۔ دکّہ سے کابل تک چھ چھ کوس کے فاصلہ پر عظیم الشان سرائے بنی ہوئی ہے جس کی وضع قلعہ جیسی ہے اور دو ہزار فوج یا مسافر بآرام بسر کر سکتے ہیں کرایہ سرائے فی نفرد و پیسہ ہے۔ ضرورت له راہ کابل میں سب سے زیادہ سخت اسی جگہ کا سفر ہے اگر پشاور سے گھوڑا گاڑی میں جائے تو ارام سے طے ہو جاتا ہے۔ پوری گاڑی کے واسطے چھ روپیہ ہے اور فی سواری دو روپیہ ہے *
۳۳ کی ہر جگہ ہر شے ملتی ہے اگر ایک ایک منزل کی جائے تو جلال آباد تک راہ میں دو جگہ ٹھیرنا پڑتا ہے۔ ایک باسول دوسری گردی کش۔ جلال آباد میں چھاونی ہے۔ اعلیٰ حضرت کا عظیم الشان باغ اور کوٹھی ہے۔ جلال آباد سے کابل کے دو رستہ ہوگئے ہیں۔ ایک اُوپر کا رستہ کہا جاتا ہے دوسرا نیچے کا۔ اوپر کا راستہ سرد ہے۔ لیکن نہایت سخت ہے۔ اس کی منزلیں یہ ہیں۔ جلال آباد سے فتح آباد۔ گندمک۔ جگدلک۔ بارکو سیح ملاں عمر۔ بت خاک۔ کابل۔ نیچے کا رستہ صاف وہموار ہے۔ اور دریا کے کنارہ کنارہ کابل تک برابر سڑک بنی ہوئی ہے۔ یہ ہندوستانیوں کے واسطے بہتر ہے اس کی منزلیں یہ ہیں۔ جلال آباد سے۔ کچ محمد علی خان۔ کاکچہ۔ سروبی۔ گوگامونڈہ پل چرخی۔ کابل۔ شہر کابل میں ناواقف مسافر کو سرائے میں قیام کرنا چاہئیے جو کہ کثرت سے موجود ہیں۔ اور کم خرچ سے اُس میں مسافر بآرام بسر کر سکتا ہے۔ شروع شروع میں کھانے کی احتیاط چاہئیے میوہ جات یا گوشت وغیرہ کثرت سے نہ کھانا چاہئیے۔ جو صاحب سگرٹ وغیرہ کی عادت رکھتے ہوں اُنہیں بقدر ضرورت ہندوستان سے اپنے ہمراہ لیجانا چاہئے۔ کابل میں بہت زیادہ قیمت پر بکتے ہیں اگر اہل ہند کو کسی قسم کی دقت یا تکلیف ہو تو اُس کا دفعیہ حضرت مولانا مولوی نجف علی صاحب انسپکٹر مدرسہ حبیبیہ کا وجود مبارک ہے مولانا صاحب نواح لاہور کے رہنے والے ہیں اور بغیر کسی طمع کے صرف محبت وطن کی وجہ سے اہل ہند کو بہت زیادہ آرام پہونچاتے ہیں۔ بندہ کو باوجود مہمان شاہی اور ہر قسم کا سامان مہیا ہونے کے حضرت موصوف کی ذات بابرکات سے بہت کچھ آرام پہونچا جس کا میں انشا اللہ تعالیٰ تا زیست ممنون و مشکور رہوں گا۔
۳۴ میرے ذاتی تعلقات افغانستان سے الحمد للہ بندہ کو اعلیٰ حضرت ضیاء الملة والدین خلد آشیان اور حضرت سراج الملة والدین خلد اللہ ملکہ اور حضرت نائب السلطنت صاحب زاد اللہ شوکتہ و حشمتہ کی قدمبوسی کا فخر حاصل ہے جس کے ثبوت میں ہر ایک وجود مقدس کے فرمان مبارک کی ایک ایک نقل درج ذیل ہے * نقل فرمان مبارک اعلیحضرت ضیاء الملة والدین خلد آشیان علیہ الرحمتہ عالیجاہ عزت مند صداقت شعار خیر خواہ حاجی محمد خان تجار ساکن خوجہ علاقہ دہلی واضح اینکه عریضہ ارسالی شما که مشتملبر تعریف یک عدد انجن اعلیٰ بود بحضور اقدس والا رسید معروض داشته بود که در اخبارات دیده شده که یک عدد انجن از مال دولت خدا داد در موضع خیبر افتاده شکسته بنابران یک عدد انجن که تیار موجود در نزد خود داشتم پیشکش حضور والا نمودم بکدام کاردار تحویل شود و نیز سه عدد انجن که در زیر کار است و تیتا تیار شد آنهم پیشکش حضور وانمال دولت قوی شوکت می باشد فقط عالیجاها دانسته خاطر ہمایونی گردید ضمیر پاک سلمانی و دینداری و خیر خواہی شماه رای جهان مطاع گردید از خداوند تبارک و تعالی جل علیٰ شانہ خواسته ام در هر دو دنیا از برای شماه اجر عظیم عطا فرماید انشاء اللہ تعالیٰ ببرکت دین متین سرور کائنات با چنین شخصی مسلمان در هر دو دنیا نعمت عظمیٰ نصیب است و رباب همان انجن که افتاده شکسته بود بدار السلطنت آورده شد آباد گردید که حالی چالان است و کامرسید بر کارخانجات دولت خدا داد قوی بنیا از فضل خداوندی از هر قسم کارخانه موجود و مهیا است که از هیچ اسباب کمی ندارد و در باب انجن شماه
۳۵ البته اگر حاجت و ضرورت شود در گرفتن آن هیچ حرفی نبود۔ لاکن از همه اقسام کارخانه حاضر است آوردن آن ما موجب تکلیف و زحمت می شد فقط۔ در اول بهار از همه کاریگرہای فہمیدہ و قابل نزد خود شده که هر کار بدانند بحضور مبارک ارسال کنید و تنخواہ ہر کدام شان را بقدر لیاقت شان خود شاہ بفرستید که در اینجا نگهداشته شود و کاریگرہای کابلی از انہا چیزی یاد بگیرد بقرار تجویز خود شاه از برای شان تنخواه مقرر شود باقی معزز باشند. تحریر یوم پنجشنبه ۱۲ شهر جمادی الثانی۔ ۱۳۱۴ طرا نشان مہر مبارک [Seal] دستخط محمد اسلم ضیائی میرزا پوری
۳۶ نقل فرمان حضرت سراج المله والدین خلد الله ملکه و اقباله ہو عزتمند اخلاص شعار دولت خداداد افغانستان حاجی محمد خان ساکن خورجه ضلع بلند شہر ہندوستان را واضح خاطر باد۔ عریضه مورخه ۲۳ ماه ربیع الاول ارسالی شما بشرف ملاحظه سرکار همایون والا پیوست معروضداشته بودید که اینجانب قبل ازین چند قسم نقشه های ماشین ها را که از چغندر انگور و سروه قند برآورده می سازند و از ملک جاپان و امریکه خواسته بودم بحضور مبارک ارسال داشته بودم از حضور گذارش نیافته و حال چند تکه نمونه های پارچه بافی ابریشمی و پشمی را که حساب ساخت و فروش آن در پارچه ها مندرج است و از ماشین های جاپانی مصنوع شده است که از قوت برقی یا بذریعه انجن کا مید هند نزد اینجانب موجود است هرگاه برای کارخانه جات دولت خداداد افغانستان بکار باشد انشاء الله تعالی بآسانی یک ست آن بکابل میرسد چون اینجانب خود را مسلمان میدانم و میخواهم که فائدہ های کلی بدولت خداداد اسلام عاید گردد و باعث سعادت دارین فدوی گردو از مضمون عریضه شما سرا پا اطلاع حاصل گردید و تکه های پارچه نمونه های ارسالی شما بحضور انور والا رسید۔ عزت منداسر کار والا از طریقه مسلمانی و
۳۷ دینداری شما شکر کامل و خورسندی تمام حاصل گردید البته کسی که مسلمان است باید در ترقی باقی مسلمانان ساعی باشد. در باب سررشته خواستن ماشین بافت بافی و غیره ماشین ہائے شما تا یک دفعه خود شما بدارالسلطنت کابل بحضور مشرف نہ شوید ایں امر مراسلات و جواب که از حضور در آنولا با شما کرده شود ممکن ندارد آمدن خود شما یک دفعه بحضور مبارک ضرور است چوں درین وقت ہوائے افغانستان ہم خوب مے باشد. یک دفعه ضرور مع الینر عازم دارالسلطنت کابل مے شوید. و از حضور مبارک یک قطعه فرمان باسم عالیجاه میرزا غلام حیدر خان سررشته دار ڈاک خانہ اسلامیه پشاور اصدار گردیده که ہروقت که شما عازم حضور شوید از پشاور رشته آمدن شما را نام برده کرده و شما را بحضور مبارک بدارالسلطنت کابل روانه بدارد انشاء اللہ تعالیٰ بحضور که حاضر شدید در باب ماشین ہا مواجہتاً با شما حرف زده خواهد شد فقط ۔ فی تحریر پنجشنبه ماه ربیع الثانی یوشرم ۱۳۲۷ = سراج الملة والدین امیر افغانستان
۳۸ نقل فرمان مبارک نائب السلطنت صاحبان اللہ شوکہ حشمتہ ہو عالیجاه عزت نشان میرزا غلام حیدر خان سررشتہ دار ڈاک خانہ اسلامیہ پشاور را واضح خاطر باد که عزتمند حاجی محمد خان خوجه ملک هندوستان را از حضور حضرت سراج الملۃ والدین مرخص شده بوطن خود میرود در وطن خود رسیده از کوائف ماشین ها و غیره بذریعہ عرایض وقتاً فوقتاً بحضور مبارک سرکار والا یا بحضور عالی نائب السلطنت ما اطلاع خواهد داد انشاء اللہ تعالیٰ و بعض اسباب را بذریعہ پارسل بطور نمونه بحضور سرکار والا یا بحضور عالی ما ارسال خواهد نمود. و بعض مراسلات خاص ضروری را بدست آدم خود بجهت شما ارسال خواهد نمود۔ لہذا برای شما امر و ارشاد می شود که مراسلات و یا پارسل ہائے مرسولہ عزتمند موصوف را بلا معطلی روانہ دارالسلطنت نمایند۔ و فرامین ای عزتمند موصوف فرستاده شود آنها را بذریعہ ڈاک انگریزی ارسال بدارید و درین باب انشا اللہ تعالیٰ تاکید بدانید فقط یوم شنبه ۲۵ ماہ رجب المرجب ۱۳۲۴ ھ۔ نصر اللہ نائب السلطنت۔
۳۹ نقل اشتهار اعلی حضرت سراج الملۃ والدین خلد اللہ ملکہ جو ہندوستان کی تشریف آوری کے متعلق مشتہر کیا گیا نشان دولت قوی شوکت خدا داد افغانستان بر ضمایر اخلاص مظاہر معتبرین و منصب داران و صاحبان منصبان نظامی و ملکی و خوانین و جمیع رعایای دولت خداداد افغانستان پوشیده و مخفی نماناد چون سرکار و آلا ما شما مردم افغانستان را تخم شریک دین شریک دولت شریک دانسته و میدانیم و نمیخواهیم که در هیچ امور ملکی و ملتی شمایان نا واقف بوده باشید چنانچه در سنه گذشته میلان سل ۱۳۲۳ هجری که دوست محبت نشان سرلویس ڈین با جمعیتی از طرف دولت هم عهد شما برای استحکام عهد نامه سابقه شما بحضور انور والای ما حاضر شده و استحکام مذکور را بعنوان سابق از طرفین محکم نمودیم و از برای استحضار خاطر
شمایان بطریق اختصار اطلاع داده بودیم که جمیع شما اقوام از فقره مذکوره آگاه خواهید بود حال چون از راه اتحاد و هم عهدی دولتی از طرف دولت هم عهد شما که دولت بهیه برطانیه باشد خط و مراسله بقسم دعوت دوستانه و مهمانی و سیر و شکار علاقه ہند برین مضمون رسیده که چون عهد نامه طرفین در سال گذشته تمام شده و استحکام پذیرفته هرگاه از راه اتحاد دوستی و دولتی و هم عهدی تشریف آور باین علاقه شده بعد از ملاقات دوستانه و سیاحت هندوستان و شکار بازگشت مراجعت در علاقه خودها خواهد نمودید- لہذا چون قبولی چنین دعوت و ادائی آن از طرف دولت و ملت ضروری باشد لہذا دعوت شان را رو نموده قبول فرمودیم و وعده نمودیم که انشا الله خدا بخواہد در غره ماه ذیقعدہ الحرام ۱۳۲۴ ہجری از مقام جلال آباد روانہ شدہ چند یوم ادائے آن ضیافت را نموده بخیر باز گشت در مسکن مقام خودها انشاء اللہ تعالیٰ خواهد فرمودیم- لہذا لازم و ضرور دانسته شمایان را ازین دعوت واقف نموده بسیار خاطر جمعی میدهیم که الحمداللہ عهد نامہ شمایان و مطالب دولتی آنچه کہ بودہ در سال گذشته تمام شده این دعوت و قبولی صرف از برائے دوستی می باشد زیاده از خداوند تعالیٰ بہر حال شمایان را مرفه الاحوال خواهانم فقط تحریر یوم سہ شنبہ سلخ ماه جمادی الثانی سنه ۱۳۲۴ ہجری نبوی۔ ناظرین سے امید ہے کہ عبارت کے نقص اور چھپائی و غیرہ کی غلطیوں کو معاف فرمائینگے۔ کیونکہ صرف دوروز میں مسودہ لکھ کر کاتب کو دیا گیا اور ایک ہفتہ میں کتاب چھپ کر تیار ہوگئی ۔ فقط اللهم تمم بالخیر حاجی محمد خان ساکن خورجہ مؤلف کتاب ہذا ۔
بسم الله الرحمن الرحیم ترجمه ذکر شاه اسلام التماس و عذر مولف الحمدلله که حضرت پادشاه دین پناه السلطان ظل الله سراج الملة والدین امیرالمومنین حبیب الله خان والی دولت خداداد افغانستان خلدالله تعالی ظلال خلافته مهمان شهنشاه دولت عالیه برطانیه گشته ملک هندوستان را از قدوم میمنت لزوم خود رشک ارم گردانیده است و گورنمنت برطانیه عالیه به مهمانی آن اعلی حضرت نقد و جنس را فرش خاک ساخته و ضیافت را بحد کمال رسانیده است لہذا خیال بنده همین بود که شخصی قابل و لایق در اخلاق ستوده و اوصاف پسندیده آن امیرالمومنین چیزی تالیف نمود و مسلمانان ہند را خوش وقت و مسرور گرداند که تشریف آوری امیر المومنین امری معمولی نیست بنده خیر خواه ہر دو دولت عالیه را تا ایندم معلوم نشده است که احدی از تاجداران عالم باین صولت و حشمت مهمان هندوستان شده باشد لله الحمد که این فخر اولاً ہندوستان را حاصل شده است لیکن تا ایندم نه شنیده ام که احدی از افراد مردمان قابل و لایق اوصاف و اخلاق آنحضرت را تالیف نموده شایع کرده باشد لہذا فدوی خاص را همین خیال دامن گیر شد که بر اوصاف چنین ذات که بہمہ اوصاف موصوف است و وجود مبارکش نه افغانستان بل سائر مسلمانان را نمونه رحمت الهی است لہذا بحکم کل شی یعرف باوصافها به نوشتن حالات آن
۲ انحضرت قصد نمودم اگرچه بنده قابل تالیف اوصاف آن عالی صفات نیست و وقت هم کمتر است که چنین تصاویر را فراهم نماید که شان و شوکت بارگاه شاهی ازان ظاهر شود و نه در قلم مضامینی دارم که اوصاف ذات اقدس را محیط شوند و در تالیف معلوم بودن حالات صحیحه امر ضروریست و ایجابات ذهنی را درو دخلی نیست و نه بنده برای این کار اہم آمده بود اگر پیش ازین دانستی همه اسباب مذکوره را به سهولت در دارالخلافت کابل فراهم می ساخت لیکن دانسته بودم که احدی از نمک پروردگان دولت علیه که در ملک هندوستان هستند و از زبان اردو هم واقعیت کامل میدارند درین کار تساهل نخواهند کرد لیکن امر اتفاقی است که آن نمک پروردہ دولت علیه باین طرف توجه نه نمودند پس من نا قابل نا واقف را فراگرفتن انجام این خدمت افتاد بغایت متحیر هستم که چگونه اوصاف حمیده آنحضرت را در ضبط تحریر آرم که مضمون نگاری را سلیقه ندارم و آن اوصاف شاہانه را که در اقامت کابل شنیده بودم از حفظ من بدر رفته است و چیزی ازان محفوظست نام راویان ایشانرا یاد ندارم و درین زمانه هیچ تحریر و تقریر بلا ثبوت اعتباری ندارد پس درین حالت چنین مناسب بود که مثل ایشان خموشی کردی و فوائد ذاتی فکر کردی لیکن تعلق طبیعت را که بآن دولت علیه هست چکنم بقول شاعر که گفته است ع محبت است که دل را نمیدهد آرام اوگر نه کیست که آسودگی نمیخواهد لهذا از ناظرین خود امید عیب پوشی داشته انچه که مرا معلوم است بزبان ناقص خود تحریر مینمایم که وجود شی از عدم آن بهتر است- (بنده حاجی محمد حسن)
دیباچہ مؤلف ۱۹۰۷ء برائے مسلمانان ہندوستان بسامیمون و مبارک است کہ اہل ہند مابین بادشاہ اسلام و شہنشاہ خود و انگلستان مودت قلبی و اتحاد ذاتی را عیاناً می بیند نزد اہل بصیرت این امر باعث مسرت بے اندازہ است زیرا کہ ہر یکے از مذہب خود تعلق قلبی میدارد پس در چنین حالت میلان طبیعت مسلمانان بطرف بادشاہ اسلام امرے فطری است و همچنین خاصہ طبیعت انسانی این است کہ در سایہ عاطفت کسے کہ پرورش می یابد و حیات مستعار را براحت و آرام میگزار و از وجود او تعلق قلبی میدار د و این امر اظہر من الشمس است کہ تاج برطانیہ بہمہ اکناف عالم روشن و منور ستاره عدل و انصاف است بہمہ اہل ہند خصوصاً مسلمانان در ظل عاطفت شہنشاہ برطانیہ براحت و اطمینان عمر خود میگزارند بدینوجہ ایشانرا با دولت علیہ برطانیہ مودت و اتحاد قلبی امر لازمی است پس ازین معلوم میشود کہ مسلمانان اہل ہند را با ہر دو سلاطین اتحاد خاص و محبت قلبی است و ازین هیچ بر تر است کہ میان ہر دو شاہان اتحاد و یگانیت را عیاناً مشاہدہ میکنند و خیال بعض نا عاقبت اندیشان همین است کہ اگر ملیان در تعریف و توصیف امیرالمؤمنین چیزے بر ایند یا از ایشان تعلق دارند پس باعث ناراضی دولت علیہ برطانیہ باشد نزد ما این خیالات هیچ وقعتی ندارند زیرا کہ این عزت و ترقی افغانستان از امداد و توجہ دولت برطانیہ است پس در نیصورت بسا تعجب است بر عقل آن مدبران کہ چنین تعلقات میان ہر دو دولت می بینند و این خیالات فاسدہ را در دل میدارند با اینکه دولت برطانیہ ایشانرا جہان خود کردہ است و در اعزاز و اکرامش هیچ امرے فرو نگذاشتہ است پس اگر مردمان ہندوستان جہان شہنشاہ خود را عزت و احترام
۴۴ کنند و به نظر محبت بیند چگونه ایشان مخالف دولت برطانیہ شمار کرده شوند بقول حضرت ضیاء الملته والدین خلد آشیان علیہ الرحمتہ قصد دارم که بیملک ندوستان روم و از ویسراے تعلقات دوستانه پیدا کنم تا که بر همه عالم آشکارا شود که امیر افغانستان باینکه خود مختار حکمران است خلاف معمول با قلیل جمعیت از ملک خود سفر کرده براے ملاقات نائب و پسر ملکہ انگلیشه به هندوستان میرود تا که ازین ظاهر شود که میان هر دو اقوام چه قدر اتحاد و تفاق است و ہر یکے را بر دیگری اعتبار و اعتماد کلی است ازین تردید افواه خواهد شد و ظاهر میشود که میان سلطنت افغانستان و انگلستان مودت صادق و اتحاد خالص است و ازین امر صولت و عظمت دولت انگلیشه زیادہ میشود و عموماً این امر آشکارا شود که حفاظت و استحکام ہندوستان و افغانستان بر این منحصر است که میان ہر دو دولت اتفاق و اتحاد قایم ماند۔ الخ۔ بعضی از مردمان چنین میگویند که این اتحاد و اتفاق که میان ہر دو دولت قایم است چه عجب که آینده منقطع شود پس نزد ما فلفه ایشان مطابق آن ملازم است که برائے تیمار داری آقای خود معمور بودی مکالمه هر دو درج ذیل است۔ آقا۔ درین وقت ناجور هستم ڈاکٹر را بیارید۔ ملازم ۔ چہ عجب کہ ڈاکٹر بخانہ نباشد۔ آقا۔ میدانم که او بخانه هستند۔ ملازم ۔ اگر بخانه باشند چه عجب که آیند یا نه آیند۔ آقا۔ یقیناً می آیند۔ ملازم۔ چه عجب که نزد ایشان دوائی نباشد۔ له تزک عبد الرحمانی جلد دوم صفحه ۱۱۵
۵ - آقا - دوا هم میدارند - - ملازم - چه عجب که دوا اثری نکند - - آقا - یقیناً اثری کند - - ملازم - چه عجب که جناب را مرض الموت باشد - - آقا - میدانم که مرا مرض الموت نیست - - ملازم - آخر شما را از دنیا مفارقت ضروری است یا نه اگر هست پس باین امر چه فرق است که دُوروز قبل میرند یا دوروز بعد اگر فلسفه و چه عجب ایشان را بفرض محال تسلیم کرده شود پس مایان آن محبت و اتحاد را که از دولت افغانستانی داریم بوقت نا اتفاقی ہر دو دولت منقطع خواهیم کرد و اگر بر چه عجب هر عملی که کرده شود پس همه امورات دینی و دنیاوی را ترک باید کرد زیرا که در هر کاری امکان عجب ممکن است لہٰذا از ہر نوع مناسب معلوم میشود که اخلاق حمیده و اوصاف ستوده آن مہمان عالی را برای ملاحظه ناظرین پیش کرده شوند خالی از دلچسپی نباشد فقط
ذکر شاه اسلام اعلی حضرت امیرالمؤمنین خلدالله ملکه سلفاً فرزند رشید حضرت ضیاء الملة والدین امیرعبدالرحمن خان خلدآشیان علیه الرحمة و حکماً نبیره احمد شاه درانی و تاریخاً نوه سلطان محمود غزنوی هستند. ولادت حضرت امیرالمؤمنین خلدالله ملکه دوشنبه ۲۸ ساله شده است حالا عمر مبارکش سی و پنج ساله است تعلیم و تربیت در سایه عاطفت حضرت امیرالمؤمنین ضیاء الملة والدین خلدآشیان علیه الرحمة یافته که بعقل و فراستش همه عالم معترف اند بقول مؤلف تزک عبدالرحمانی نزد من در ثبوت این امر که امیرعبدالرحمن خان از لایق و بزرگ ترین اشخاص زمانه هستند ضرورت تضیع اوقات نیست زیرا که آن همه مدیران زمانه که با علی حضر شرف باریابی حاصل کرده اند معترف به بزرگی و مدبری ایشان شده اند و حق امنیت که آن کامیابی ها که ایشان را بزمانه خود حاصل شده است نظیری ندارد زیرا که ملک افغانستان پیشتر خطه ویران و پر از اقوام وحوش بود لیکن آن اعلی حضرت علیه الرحمة از قابلیت و لیاقت خداداد خود ملک افغانستان را منبع صنعت و حرفت و مرکز علوم جدیده ساخته و اقوام افغانیان را از زیور تهذیب و اخلاق و مدبری و دانش مزین کرده و سلطنت را سلطنت اسلامی ساخت - الخ فی الحقیقت خدای عزوجل در وجود مبارکش اعلی قابلیت از امور دینی و دنیاوی آفریده است از اینجا مختصراً حالات آن جلالت مآب خلدآشیان امیرعبدالرحمن خان برای دلچسپی ناظرین و برای اینکه ازین اندازه مدبری و جهانداری اعلی حضرت امیرالمؤمنین امیر حبیب الله خان خلدالله ملکه که بسبب تعلیم و تربیت اعلی حضرت خلدآشیان ایشانرا حاصل شده است بر همه عالم ظاهر گردد.
۷ مختصر از حالات خلد آشیان اولاً آن اشعاری چند در وصف اعلیٰ حضرت خلد آشیان که از تصنیف یکی از اهل الله هستند تحریر میکنم:- آمده سروری از دودۀ عالی افغان قوم ابدال شرف یافت از آن قطب زمان آن ضیا ملۃ دین زیب سریر کابل حامی دین متین نائب سردار رسل ظل یزدان بزمین خسرو اهل ایمان مظہر رحمت حق ماہر شرع و عرفان اندازۀ جمعیت و غیرت اسلامی آن اعلیٰ حضرت علیه الرحمة اکثر از صفحات تزک امیری ظاهر میشود بنده در اینجا برائے ملاحظه ناظرین عبارتی از تزک عبد الرحمٰنی که از قلم زبان معجز بیان اعلیٰ حضرت که به تحریر آمده است نقل میکنم:- مطلقاً مایان را از جفاکشی تکلیف نمی رسد بلکه با الفتی دارم و هرگز از و خسته و رنجوری شوم زیرا که مارا از محنت و مشقت بی رغبتی است و درین خلاف نیست که همۀ افراد بنی آدم نوعی از انواع الوالخرمی میدانند والوالخرمی ما همین است که از محنت و مشقت رو نگردانم و هر کاری که میکنم آن بغرض تکمیل انتظام سلطنت میباشد:- و این همه ذوق و شوق محنت و مشقت من جانب خداوندی است و اعلیٰ ترین آرزوی حیات من همین است که آن افراد نوع انسان که خداوندی تعا من بنده را بر جان و مال ایشان حاکم گردانیده است در نگرانی و حفاظت ایشان بدل و جان کوشان باشم و از منکرات و منہیات ایشانرا باز دارم رسول اکرم علیہ الصلوة و السّلام ارشادی فرمایند اذا اراد الله شیاً الخ و در علم باری تعالیٰ این بود که افغانستان را از آفات بیرونی و اندرونی نجات دهد بدین وجه این حقیر را به چنین کاری مامور ساخته بر افغانستان حاکم گردانیده است و این از تائید رب العزت است که من بخیال
رفاہ عام همه دم مستغرق میمانم و آن رب العزت بر دل من افگنده که من برای ترقی اهل افغانستان کوشان باشم و در ترقی مذهب رسول اکرم علیه الصلوة والسلام از جان و مال خود دریغ نکنم الخ۔ بنده در ثبوت تقدس و بلند مرتبه آن اعلیحضرت ظل سبحانی علیه الرحمة واقعه خود نقل میکنم در اثناء آن مظهر فیوض یزدانی من بنده را بحضور خود طلب نمود بموجب امر عالی در حضور ظل سبحانی قصد حاضری کردم لیکن این امر را برای وا بازی یکی از اهل الله که همه علماء و مشائخ بعلم وبفضل ایشان معترف بودند منحصر داشتم پس بخدمت ایشان حاضر شدم و واقعه مذکوره عرض نمودم ارشاد فرمود که فردا جواب میدهم لهذا بروز دیگر بنده بعد نماز فجر بخدمت ایشان حاضر شدم فرمود که امشب مرا معلوم شده است که همه عالم از نور حضرت امیر المومنین ضیاء الملة والدین روشن و منور گشته است برو که از قدم بوسی آن اعلیٰ حضرت شما را ضفتی حاصل گردد هر آئینه این کلمات را از لسان مبارکش شنید خاموش ماندم زیرا که خطرات ناقصه ازین کلمات در دل پیدا گشته بود لیکن آنحضرت قدسی صفت ارشاد فرمودند آیا درین امر شک و شبهه داری پس دست بسته عرض نمودم که مرا معذور دارید زیرا که پیدا شدن خطرات امری اختیاری نیست ارشاد فرمود مضائقه نیست هر چه در دل داری بگو عرض کردم که سلسله نبوت بر حضرت خاتم المرسلین محمد مصطفیٰ علیہ الصلوٰة والسلام ختم شده است و هر مراتب بزرگی در تحت نبوت هستند و هر آئینه احوال انبیا نیست که در وقت واحد و زمانه واحد متعدد شده اند پس بسبب متعدد وجود در نور و فیوض ایشان تفریقی لازم می آید و این شان مخصوص بسرور کونین علیہ الصلوٰة والسلام است که همه عالم از نور مبارکش روشن و منور هست و در و تفریقی نیست بموجب ارشاد جناب باری عزاسمه و ما ارسلناک الا رحمت اللعالمین پس بچه طور تسلیم کنم که همه عالم از نور امیر المومنین امیر
عبدالرحمن خان منور گشته است زیرا که حضرت امیرالمومنین نبی مرسل نیستند پل شاد کرد که اول این خطره در دل من پیدا شده بود لیکن از فکر و غور کردن زائل گشت زیرا که از حدیث بنوی ظاهر میشود سیکون من بعدی زمانا من یحییٰ سنته واحداً الخ پس این زمانه همین است و مخبر صادق خبر او داده است پس چقدر بلند مرتبه باشد آن شخص که به شریعت نبوی علیه السلام از او زنده و جاری شده باشد و حق انیست که مرتبه این چنین اشخاص غیر از خدائے رب العزت کسے نمیداند علاوه ازین معنی تفریق همین است چنانکه تو گفته بودی که اگر در عالم دو وجود متقابل باشند پس درمیان نور هر واحد تفریقی لازم آید مثلاً اگر در عالم دو آفتاب در یک وقت موجود باشند لازمی است که میان نور هر واحد تفریقی پیدا شود و اگر وجود دیگر مقابل نباشد پس در همه عالم فیض نور آفتاب یکسان باشد پس از نظر غور و فکر به بینید که در همه عالم احدی از پادشاهان هست که در مملکت او احکام شریعت نبوی علیه السّلام بتمامه جاری و نافذ باشند الا این فخر حضرت امیرالمومنین ضیاء الملة والدین را من جانب خدائے رب العزت حاصل شده است پس باید که این خطرات را در دل خود جاگزین نکنید پس بنده را به شنیدن این کلمات اطمینان کلی حاصل گشت و ازین اندازه می شود که چقدر در دل امیرالمومنین عظمت و هیبت خداوند تعالیٰ و پابندی احکام شریعت و انصاف پسندی بودند و بنده در سنه ۱۳۱۹ بغرض پابوسی عالی حضرت خلدآشیان حاضر شد و بدولت خانه عالی جناب فیض مجسم مرزا محمد حسین خان صاحب مستوفی الممالک فروکش از جانب دولت گردانیده شدم روزی در اثنائی گفتگو محمد یوسف خان برادر مستوفی الممالک فرمود که خلق و الطاف خسروانہ ضیاء الملة والدین در دل گرفته اگر حقیقت حال غضب شاہی و صولت امیری را بیابی بسیار پریشانی دامنگیر خواهد شد دریا از هیبت او خشک می شود زہرۂ شیر را غضب او تحلیل مینماید بهرگونه
از هول او آگاهی داد و گفت که این میشود و آن میشود این بنده خاموش میشنود و تا راه ضبط کردن ندانستم دامن صبر راگرفتن نتوانستم مجبور بمصداق قول شاعر شیخ از محفل رندان که همین داشت سری آمدی پند همین داد که بدخوی گری آخرالامر بدین گونه شد از در بدری پابدی دگری دست بدی دگری در زبان باز کردم و سخن آغاز بنده که هزار بار به تجربه آورده بود و در پریشانیهای گوناگون سر نهاده بود از عادت مجبور و در خیال محصور مقوله عام است که سخن راست از زبان دیوانه بر می آید یا از دهان مستانه با وجود تجربه جرأت عرض نمودم که هرچه از زبان جناب سر می زند این همه از صفات غضبیه باریتعالی است که بحر خشک شود و دوزخ و جنت از غضب او تعالی نام و نشان از صفحه هستی محو کند آسمان پاره گردد زمین فرورود انسان که ضعیف البنیان و محتاج است همچنین صولت و هیبت از اوصاف آن در بیان آوردن نازیبا است خانصاحب موصوف چین بجبین شده فرمود همچنان که از زبان ما گفته شد راست است بنده هم بهمون طریقی که عادی بودم زبان عرض کشودم که اگر کلام حضرت راست است بحر و دریا را خشک شدن یکسو نهیم یک پیاله آب را روبروی آن اعلیحضرت جا دهم اعلیحضرت از تمامی قوت غضبیه و توپ و تفنگ سامان حربیه با فوج بسیار پیاده سوار چندان مهیا شود توجه بفرمایند اگر بآثار غضبیه یک قطره از ان ربایند جناب روئی مرا سیاه کرده و طوق پا پوش در گلو انداخته بپشت خر سوار کرده بهر کوچه و بازار تشهیر نمایند و اگر خلاف این سر زند جناب هم سزای خود را بهمین منوال قبول فرمایند مستوفی الممالک صاحب هم سخن ما یاران بتبسم داد میداد آخرالامر این کلام برفع و دفعه رو نهاد زان بعد بنده حسب عادت شرف حضوری دربار شاهی حاصل نمود و عزت هم طعامی اعلیحضرت خلد آشیان میرسند خلافت سریر آرا می بودند و مستوفی صاحب و عالی جناب احمد شاه خان صاحب ملک التجار زیر سرپنایی
۱۱ بودند اعلیٰحضرت خلد آشیان که طبع ظریفانه میداشتند سخنهای زنگارنگ را بگوش حق نیوش پایے افراشتند عالیجناب مستوفی الممالک فرصت انگاشته و موقع وقت را پنداشته و قصه ما و برادر خود را که با هم گذشته بود آغاز کرد و در قصه ہا نه و اعلیٰجناب خلد آشیان به توجه و غورش می پرداخت و خاطر مبارکش را آن کلام پر اثر مے ساخت حتیٰ که مستوفی صاحب کلام خود را باتمام رسانید و اعلیٰحضرت را آب دیده گردانید بعد ازان از زبان فیض ترجمان اعلیٰحضرت این کلام جاری شد هر کس که در نظر و قلب او یکذره عظمت و ہیبته خدائے عزوجل جا میگزیند ہرگز در نظر و قلب او از شان کسے عظیم وجلیل القدر ہیبت نمی نشیند چه جائیکه انسان ضعیف البنیان که از یک مشت خاک و یک قطره نا پاک آفریده شده و اعلیٰحضرت خلد آشیان آنچنان قیافه صحیح میداشت که کسانرا خرق عادات او در شبه مے انداخت چنانچه در تجربه من بنده آمده است این احقر از اعلیٰحضرت خلد آشیان علیہ الرحمة والغفران بزبان اردو عرض مے نمود و آنجناب بفارسی ارشاد مے فرمودے من بنده قابلیت زبان اردو اعلیٰحضرت اندازه کردن نمے توانستم بدین جہت انچه که ضروری عرض مے داشتم بفارسی مے نگاشتم روزے این عریضه که از دارالایمان افغانستان برائے حصول علم صنعت و حرفت چند کسانرا که قابل و لایق این باشند در ممالک یورپ فرستاده شوند اگر در رائے فیض انجلائے والا مناسب آید بهتر است بزبان فارسی نوشته حاضر خدمت فیض اقدس شدم اعلیٰحضرت خلد آشیان بکمال شفقت و عطوفت خسروانه این احقر را رو بروئے سر پر مبارک بر قالین اشارت فرمود چنانچه این بنده مودب جائے خود اختیار کرد۔ اعلیٰحضرت یکے از اراکین حکمت خود بمعاملتی کلام میداشتند که این بنده محل عرض یافته لفافه از جیب بیرون نہاد و اعلیٰحضرت بگوشہ چشم قبول جا داده بدیگر کارہا پرداختند ۔ من آن لفافه را بجیب باز گرفتم بـعد
۱۲ ساعتی اعلیٰ حضرت ارشاد فرمودند که اگر کسے از اهل هندوستان این خیال دارد که بغرض تعلیم صنعت وحرفت کسانرا یورپ باید فرستاد این خیال برائے اهالیان هند مناسب است نه که افغانیان را زیرا که هندوستان از احکام شرعی آزاد است وافغانیان پابند احکام شریعت هستند اینجا از شراب و زنا و جمیع ممنوعات شریعت احتراز نمودن است و در هندوستان از همه آزاد بودن اگر کسے از افغانستان در ممالک زاد فرستاده شود همه تقویٰ و پرهیز گاری برباد دهد هر که از او مشرب میشود همه اخلاق وعادات قدسیه را بر باد میدهد بدین جهت بهتر است که اهل یورپ در مملکت ما در آیند - من این کلام را شنیده متحیر شدم که اعلیٰ حضرت از احوال اندرون لفافه چگونه آگاهی یافتند پس حیرت مرا دریافته ارشاد فرمودند که نزد من در میان ولی وعقلمند همین قدر فرق است انچه در میان ٹیلیگراف وٹیلیفون فرق است بذریعہ ٹیلیفون انسان را در فهمیدن سخن بعقل وغور ضرورت نے افتد همچنانکه گفته شود بگوش مے آید لیکن دریافت کردن سخن بذریعہ ٹیلیگراف درین بعقل وغور وعلم ضرورت مے افتد یعنے اصطلاحات ٹیلیگر را علم حاصل کرده و دست وکوب اور اصحیح دریافتن ضروریست همچنین ولی اللہ را بذریعہ الہام وغیرہ معلوم میشود که چنین گذشته شد و چنان خواهد گزشت وعقلمند از حالات و رفتار زمانہ مےشناسد کہ آیندہ چنین پیش خواہد آمد- ہمہ وجوہات مذکورہ ظاہر است هر گاه که آنحضهٔ زندگانی کہ برائے تعلیم وتربیت مخصوص است بحضوری چنین عقلمند و مدبر حمیده صفات شاه اسلام خلد آشیان را بوجود خود قدر تاموجود میداشت صرف شدہ باشد آن همہ اوصاف جمیلہ در وجود مبارک سراج الملۃ والدین خلد اللہ ملکہ بالضرور پیدا شدہ باشند زیرا که طبع انسان خاصتہ چنین واقع شده است کہ عادت ہر گاہے کہ بضرورت اختیار میکند رفتہ رفتہ آن عادت ہم طبیعت ثانیہ میشود بقول سعدی علیہ الرحمہ والغفران -
۱۳ گلی خوشبوی در حمام روزی رسید از دست محبوبی بدستم بدو گفتم که مشکی یا عبیری که از بوی دلاویز تو مستم بگفتا من گلی ناچیز بودم ولیکن مدتی با گل نشستم جمال ہمنشین در من اثر کرد وگرنہ من همان خاکم که هستم حضرت سراج الملتہ والدین خلد اللہ ملکہ بہ سی سال کہ در ای عقلاء هند حصّہ بیش قیمت تمامی عمر و منتہای زمانہ تعلیم و تربیت است زیر سایہ و نگرانی اعلیٰ حضرت خلدآشیان بسر کردہ و نزد دانشمندان بعد سی سال بعادات و اطوار انسان تغییر و تبدل دشوار بلکہ از ناممکنات است۔ گفتہ می آید کہ بعمر بیست ۔ و بیست و پنج۔ و سی سال پسر پسر عاقل۔ پسر کامل۔ شد انچہ شدنی است یعنی خصائل انسان نیک و بد انچہ کہ اختیار میکند ہمہ اندر سی سال طبیعت ثانیہ او میشوند کہ تغییر در ان ممکن نیست از امثال است۔ کہ جبل گردد و جبلت نگردد۔ اعلیٰ حضرت خلدآشیان عنان حکومت خود را در حیات خود بدست حضرت سراج الملتہ والدین خلد اللہ ملکہ عطا فرمودہ بودند چنانچہ خود رقم فرمودہ اند کہ حبیب اللہ خان از بزرگ ترین پسران ما است آن ہمہ کار کہ من یا امیران افغانستان پیشتر بدست خود میداشتند حالا امیر حبیب اللہ خان بکار می آرند صرف بعض محکمہ جات و سررشتہ جات چنانچہ صیغہ خارجیہ است کہ انتظام او من بدست خود میدارم بسپردگی امیر حبیب اللہ خان نیستند حبیب اللہ خان ہمین دستورالعمل می آرند کہ بوقت ده ساعت صبح در بار میکنند۔ و بوقت سہ یا چہار ساعت بوقت عصر برخاست میکنند۔ بروز دوشنبہ و پنجشنبہ سکرٹڑی دربار آن ہمہ درخواستہا و خطوط کہ بڈاک میرسند یا بذریعہ قاصد از ہرات و قندہار و بلخ و غزنی و جلال آباد و ہندوستان و از دیگر مقامات کہ موصول می شوند رو بروی او میخوانند برای محکمہ جات مختلف ل۱ تزک عبدالرحمانی جلد دوم صفحہ ۹۵
حکمہائے اخراجات بنام خزانہ جاری میشوند و بنام گورنران و اہلکاران فوجی و ملکی و مهتمان کارخانه جات و میگزین و محکمه جات عمارت و مال وغیرہ ہر پروژہا احکام صادر میشوند و بنام حکام متعلق او ارسال میکند سکرٹری مذکور به جوابات درخواستہائے و دیگر کاغذات وغیرہ مہر حبیب اللہ خان ثبت کناینده بذریعه ڈاک او را روانه میکند بعد ختم این همه کار ہا تا قوت آرام دیگر کارہا کہ میرسند اور اہم با انجام میرساند صرف برائے ہو اخوری و سواری اسپ فرصت قلیل نگا ہداره قد قبل از خواب بدر بار ما برائے ساعتی حاضر میشوند و بشرط ضرورت وقت صباح ہم اگر من بیدار میشوم بروز سه شنبه در بار فوج هم میکند و به همراه تمامی افسران فوج طعام میخورند و برائے فوج سپاہی نوہم مقرری سازند و همه محمالات فوج به ایشان تعلق میداند و تصفیه جرائم و منازعات فوجی هم بدست شان هستند. بروز چهار شنبه در بار حکام ملکی موجوده کابل میشود آنچه مقدمات ملکی در ان وقت پیش میشوند آنرا تصفیه میدهند - بروز شنبه مقدمات فوجداری فیصل میکنند و مجرمان را سزائے قید یار ہائی میدہند و انچہ کہ از کوتوال شہر یا بذریعہ دیگر مقدمات میرسند و اپیلہائے وغیرہ پیش کرده میشوند. بروز یک شنبه همه کارخانه جات و مختلف میگزین ہائے کابل را معائنہ میکنند و عرائض اہل حرفه که میرسند مطابق لیاقت او شانرا ترقی پنشن یا رخصت و غیره میدهند - جمعه که روز تعطیل و راحت است او را به همراه ما میگزارند یا در شکار ۔ و نماز جمعه را در مسجد میگزارند و پیش مادران و خویشان عزه و اقارب خود را حاضر میدارند. الخ لیکن با ضابطه تخت نشینی اعلیٰ حضرت بعد از وفات اعلیٰ حضرت ضیاء الملة والدين شده است - وفات حسرت ناک شاہ اسلام دلبہائے اسلامیان را بجنبانید
۱۵ ونصف الم ہائے تمام قلمرو گورنمنٹ عالیہ برطانیہ سرنگون گردانیده صدمات مسلمانی جہان و رنج برطانیہ عظمی را ذات اعلیحضرت امیر المومنین سراج الملتہ والدین خلد اللہ ملکہ وسلطنتہ واقبالہ را خدا وند تعالیٰ بنعم البدل زیب سریر دولت خدا داد افغانستان فرمود= اشعار دعائیہ اے خداوند دو عالم تا قیام این جہان تادمی باشد درین عالم بقای مردمان تادمی در آب سیلانی بود تا دمی این گریہ شبنم بود خرمی این شاہ ما را کن عطا باد در دولت ترقی اے خدا این سراج دین ما را ساز بدر با ترقی روز شب افزاے قدر حب نصر اللہ نائب سلطنت تا قیامت این بماند در دلت نور چشم شاہ معین السلطنت تا ابد روشن بود در مملکت باضابطہ تخت نشینی اعلیحضرت صاحب قران اسکندر مکان مرکز دائرہ امن و امان حضرت امیرالمومنین سراج الملتہ والدین خلد اللہ ظلال خلافتہ الزاہرہ یکم اکتوبر در بر سریر دولت خدا داد افغانستان متمکن شدند و ہمون وقت بموجب ارشاد عز وجل ان الله یامربالعلم والاحسان بجانب عدل و انصاف توجہ نمودند قطعه شکر خدا کہ شام امید زمانہ را صبح طرب ز مطلع عز و طرب دمید
١٦ هر ناوک دعا که کشودند اهل راز | از بازوی نیاز همه بر هدف رسید لیکن بضابطه تخت نشینی آن امیرالمؤمنین سراج الملة والدین را همه اصاغر و اکابر و علما و افغان و گورنمنت هندوستان مارچ در سنه ۱۹۰۱ء بجان و دل تسلیم کردند و برضا و رغبت اظهار مهر و وفا نمودند بعد گرفتن عنان حکومت برادر خورد را (یعنے حضرت امیر نصر الله خان) ولیعهد دولت و نائب سلطنت خود ساختند که صیت مکارم اخلاق سنیه و اوصاف رضیه مرضیه در اطراف آفاق شایع گشته و باستماع اقاصی و ادنی رسیده - و از جبین مبارک آن ذات ملکی صفات آثار و اطوار سعادت ظاهر و باهر است و وجود مبارکش برای افغانستان و مسلمانان عالم نمونه رحمت الهی است و از ذات آن والا صفات اعلیحضرت امیرالمؤمنین و همه اهل افغانستان را چنین مودت و محبّت است که از احاطه قلم بیرون است همه مسافران و سیاحان که از دور و دراز می آیند بعد تقبیل انامل دریا فواصل از اوامیده اش بے گرویده میشوند و همیشه دعا ترقی حیات و دولت میدهند. دگر شهزاده عالمیان و نقاوه زمره آدمیان امیر عنایت الله خان صاحب معین السلطنت بزرگ ترین فرزند اعلیحضرت خلد الله ملکه و ولیعهد نائب السلطنت هستند بے نگذاشت که اهل هند از شرف پابوسی آن معین السلطنت تجربه خلق و قابلیت ایشانرا مشاهده کرده اند. صفات ذات شاہانه اعلیحضرت سراج الملة والدین خلد الله ملکه و اقباله بنهایت مرد شجیع و رحیم الطبع
۱۷ و منصف مزاج و خنده پیشانی و بیدار مغز و مستعد هستند لہذا در ثبوت هر صفتی از اوصاف مذکوره یک یک واقعه پیش کش ناظرین میکنم شجاعت روزی در جلال آباد بوقت سر کردن بندوق لولش شق شده انگشتان مبارک شان صدمه سخت رسید تا که انکه نوبت قطع و برید افتاد داکتری که حضور وایسرائی سابق برای معالجه آن اعلیحضرت فرستاده بود بر وقت عمل جراحی ادویه بیهوشی را پیش نهاد اعلیحضرت از استعمال ادویه بیهوشی انکار نمودند و دست مبارک را بطرف او دراز کردند و فرمودند که در کار خود مشغول شو و بدست دگر اخبار گرفته ملاحظه فرمودن گرفت ۱؎ جناب مرزا عبدالرشید خان صاحب که دست مبارک شان گرفته بود جهت بریدن انگشت اعلیحضرت لرزه بر اندام مرزا صاحب افتاد اعلیحضرت بر حالش تبسم کردند و فرمودند که مرزا دستت چرا می لرزد مرزا صاحب چشم پر آب شدند هندا معذور داشته علیحده نشستند و داکتر هر دو انگشت صدمه رسیده را برید و بسهولت کار خود را با نجام رسانید و درین عرصه اعلیحضرت چنین بدیدن اخبار مشغول بودند که ازین حادثه چین برجبین شان نیافتاد داکتر شجاعت و استقلال امیر المومنین را دیده متحیر گشت و گفت که از نظر من تا ایندم کسی شجاع و دلیر مثل امیر المومنین نگذشته است که انگشتان بریده و هیچ اثری تغیر و تبدل بر خیال ظاهر نشود۔ ۱؎ با من این واقعه را عالیجناب مرزا عبدالرشید خان صاحب بیان فرمودند۔
۱۸ رحم دلی امیر المومنین ۱شفقت بر عامه رعایا و مرحمت و رفق بر کافه برایا بر ملوک عظیم الشان و سلاطین رفیع المکان لازم است چه که زیر دستان ودایع حضرت آفریدگار عز و جل هستند روزی امیر المومنین بعزم شکار بصحرا رفته بودند بدست مبارک دور بینی گرفته نظاره صحرای مرغ زار کرده بودند که ناگاه نظر کیمیا اثر بر قواره رسید که در و مرد ضعیف و ناتوانی علفی برای جانوران خود همیکوفت امیر المومنین مرکب بتیز رفتار سوار شده خود را نزد آن ضعیف و ناتوان رسانیدند - و از کمال شفقت و مرحمت خسروانه فرمودند که درین حالت ضعیفی همین قدر زحمتی بر خود چرا گرفته مرد ضعیف دست بسته بعرض حاشیه بوسان عالی رسانید که فرزندی دارم سیکین او در افواج شاهی خدمتی را بانجام میدهد - امیر المومنین ازین سخن متاثر شده آنرا بر فرودگاه خود آوردند و همراه خودتان در تناول طعام شریک گردانیدند و فرزند او را طلبیده بر خدمت آن ضعیف مامور ساختند و دو هزار روپیه از جیب خاص مرحمت فرموده رخصت کردند قطعه ببخشای ببخشائید بر تو در از غیب بکشانید بر تو اگر رحمت ز حق داری تمنا تو هم بر دیگری رحمی بفرما ۱ بنده درین ایام بکابل موجود بودم اولاً این قصه را از عزیز القدر عبد الکریم خان پسر عالیجاه عبدالغفور خان مرحوم نبیره عالیجناب حبیب الله خان مستوفی الممالک مرحوم با من گفته بود بعد از ان دیگری هم تصدیق کردن-
۱۹ عدل و انصاف حضرت امیرالمومنین ثبوت عدالت و انصاف حضرت امیرالمومنین بحکایتی احتیاج ندارد زیرا که چنین امور شب و روز پیش می آیند که شمارش دشوار است اما طریقه را که فریاد مظلوم بگوش مبارک شان بچه طور میرسد درج میکنم تا آنکه در قلوب ناظرین عیاناً ظاهر گردد که چنین قاعده کلیه بستن که همه مظلوم دستم رسیده بغیر توسط احدی اظهار مدعا بتوان کرد و بعد معلوم شدن این قاعده کلیه بهمه باشندگان هندوستان معلوم گردد که بعضی اہلکاران دولت افغانستان چنین مشهور کرده اند و بدرجه یقین رسانیده اند که بغیر توسط و وسیلہ مایان احدی عرایضات و شکایات کے و خطوط و غیره وغیره از امور ضروریه بحضور امیرالمومنین نمی رسند زیرا که ڈاک خانه پشاور چنین خطوط و عرایضات را چاک میکنند یا برای ملاحظه نزد اہلکاران دولت العالیه می فرستادند بعد ملاحظه آن اہلکاران اکثر را چاک میکنند و بعضی را بحضور امیرالمومنین می فرستند این همه وجوه غلط است کسی را مجالی نیست که خطوط یا عرایض دادخواه که باسم مبارک حضرت امیرالمومنین باشند چاک کرده بر و مطلع شوند یا ضائع کنند و مردمان که این اخبار را مشهور کرده اند ایشان مثل آن بزرگان هستند که گفته اند که بغیر خط مایان ہیچ جای در جنّت یافتی نمیشود و خطی بنام جبریل علیہ السّلام اجرت از ورثا ء میت گرفته می نویسند که این میت بهمن خط در جنت ببرند ۔ پس من بنده مودبانه بخدمت مظلومان و ستم رسیدگان مشوره میدهم که اگر در چنگال کسی اہلکاران یا مردمان رعایہ یا اجنٹ دولت العالیہ افغانستان گرفته شوند یا اندیشہ گرفتار شدن باشد بقاعده ذیل از دولت خداداد افغانستان
۲۰ چاره جوئی میتوان کرد۔ قاعده اشتهاری منجانب حضرت امیرالمؤمنین برای اهل افغانستان ساکنان ممالک غیر طبع کرده شایع گشته است که اگر ایشانرا از رعایه یا ملازم وغیرہ دولت افغانستان نقصانی یا ظلمی رسیده باشد پس اطلاع آنه بغرض انصاف بقاعده مندرجه اشتهار دولت العالیه را اطلاع دهند (نام این اشتهار عریضه خریداری است) و این بطریقه سرکاری مثل استامپ بقیمت یک عباسی (یعنے نصف روپیه کابلی که برابر چهار آنه دولت العالیه برطانیه است) یافته میشود پس یک طرف این اشتهار تمام قواعد و ضوابط نوشتن عرايض و ارسال نمودن عرايض و انتهای مدت جواب وغیرہ وغیرہ از امور ضروریه بزبان فارسی درج اند و پشت همین اشتهار سائل و دادخواه با شد که جمیع اغراض و درخواست ہائے خود را تحریر کند و ٹکٹ دہ روپیہ کابلی که برابر پنچرد پیسه دولت العالیه برطانیه است چسپان کرده در لفافه انداخته بذریعه ڈانک بحضور حضرت امیرالمؤمنین یا بحضور نایب السلطنت صاحب یا بحضور معین السلطنت صاحب فرستاده کنند پس همه درخواست ها درج رجستر شده بحضور امیرالمؤمنین پیش کش میشوند بعد ملاحظه اعلیٰ حضرت جواب معقول و مدلل نوشته بدستخط یا مہر اعلیٰ حضرت مزین شده اندر مدت چہل یوم نزد سائل فرستاده میشود اگر بیرون جات عرايض که پیش کش اعلیٰ حضرت کرده باشند پس محصول ڈانک بذمه سائل است اگر سائل دعویٰ خود را ثابت کند پس علاوہ آن سزائی کہ برائے مجرم از
۲۱ قانون دولت العالیه مقرر است محصول تکٹ و غیره از مجرم گرفته نزد مدعی فرستاده میشود۔ خنده پیشانی اعلیٰ حضرت امیر المومنین از روئے مبارک حضرت امیرالمومنین سراج الملتہ والدین در هر آن انوار فیض آثار چنان ظاهر میشود که از آفتاب عالم تاب فیضان نور همه دم بر همه عالم میشود جولای در ۱۳۲۶ م من بنده را بحضور بارگاه سلطان ظل الله اتفاق حاضری افتاد شان وشوکت بارگاه حضرت امیرالمومنین و زرق وبرق پوشش سرداران افغانسان و چهره پرو جاهت وشاندار ولمه شمشیر آبدار ایشان این هم چنین اسبابے اند کہ بر دل مردمان شجاع و دلیر بغیر اثر کرده نمی ماند کسے را کہ اتفاق حاضری بارگاه عالی می افتد قبل از پیش شدن متردد و خایف میشود و در دل خود میگوید که دیده باید چه دیده می آید لحظه حضرت چه احکام جاری و نافذ فرمایند خدا علیم و دانا است که چه پرسند و از زبان کمترین مان یان چه برمی آید۔ لیکن وقتیکہ نظر بذات مبارک شان می افتد پس خنده پیشانی آن امیرالمومنین این همہ خیالاتے کہ در دل بسبب مخوت و دهشت می آیند همه وقت بدر می روند چنانکه نور آفتاب ظلمت و تاریکی را و خوشی و خرمی الام و احتمام را بر طرف می سازد۔
۲۲ خلق اعلی حضرت امیر المومنین من ندیدم در جهان جستجو هیچ اهلیت به از خلق نکو نزد همه اصاغر و اکابر مشتهر است که السلطان ظل الله امیر المومنین سراج الملة والدین خلد الله ملکه هم چنان کافه رعایا را دوست میدارند که پدر فرزند را و هر چه بر خود نه پسندند بر ایشان هم نه پسندند و نیز جان مال خود را از وی دریغ ندارند بلکه از شفقت و خلق عام و مرحمت مالا کلام رعیت را از مرتبه رعیتی بدرجه دوستی رسانیده اند لہذا جمیع مسلمانان را باید که برای ذات اقدس شاهانه دائماً دست بدعا باشند ايدالله نوال عاطفته و رافته بین الانام الی ساعة القیام ۔ من بنده اقل مرتبه بحضور اقدس پیش شدم و سلام مسنون و دعای ترقی حیات و دولت عرض نمودم پس از الطاف خسروانه به لهجه خوش جواب سلام دادند بلکہ بر این اکتفا نه فرمودند و از زبان معجز بیان همچو من بنده را مزاج پرسی کردند و فرمودند که عزیز و مهمان من ہستی مایان اهل هندوستانرا دیده خوشوقت و مسرور میشویم خلد الله تعالیٰ ملکہ و اجری فی بحار السلطنة فلکه‌ - بیدار مغزی اعلی حضرت امیر المومنین از اوصاف و حالات گذشته حضرت امیر المومنین بر جملہ ناظرین ظاہر میشود که خداوند تعالیٰ در ذات شان حسن تدبیر و لیاقت جهانداری و بیدار مغزی بدرجہ کمال
۲۳ عطا فرموده است هر کسی که از حالات دارالخلافت کابل قدری آگاهی می دارد اندازه این امر میتوان کرد که پیشتر افغانستان ملک غیر آئین بو د مگر بیدار مغزی آن اعلیٰحضرت از جمله علوم جدیده وفنون صنعت وحرفت قوم افاغنه ماهر شدند مملکت شان از کالج ها و شفاخانها و مهمان سرائی و صفائی رابہا وترقی کارخانجات صنعت وحرفت اراسته و پیراسته است و روز افزون رو بترقی می نماید و این همه امور بر لیاقت خداداد و مدبری حضرت امیر المومنین شہادت میدہند- علو همتی اعلیٰحضرت امیرالمومنین حق سبحانه تعالیٰ ذات امیرالمومنین را بظغرای ان الله یحب معالی الامور بے مزین کرده است که احتیاج بیانی ندارد اعلیٰ حضرت المومنین در شب روز کمتر استراحت میگیرند و همه دم در امورات ضروری سلطنت و انتظام مملکت متغرق میباشند با وجود این همه امورات ضروریه نماز را که فریضه خداوندی است با وقات مقرره ادا میکنند- روزی عالیجناب مرزا عبدالرشید خان صاحب بمن گفته بودند که من بنده همه اوقات خود را بهمرکابی حضرت امیرالمومنین میگزارم و گاہی ندیده ام که احدی از نماز فریضہ فوت کرده باشند وقتی در چنین مرضی گرفتار شده بودند که حس و حرکت بدشواری میکردند تا هم درین حالت نماز فوت نشد و همین طور پابند صیام هستند که در سفر و حضر انرا ترک نمیکنند غرضکه همه امورات شرعیہ فرضیه ومسنونه را بغایت اہتمام و خوش اسلوبی ادامی نمایند-
۲۴ و این امر بر عالی ہمتی شان دلالت میکند کہ از سفر سخت و دشوار رنجور نمی شوند چنانچہ واقعہ کہ من او را مشاہدہ کردم انیست کہ بندہ در جولای سنہ ۱۹۰ عیسوی بدارالخلافت کابل رسیدم و در آن زمان اعلیٰ حضرت امیرالمومنین بکبل سراج تشریف میداشتند روزی این بندہ بمقصد ملاقات عالی جناب خلق مجسم فخر افغانستان کرنیل حبیب اللہ خان نائب عسس حاضر شدم اتفاقاً یکے از غلام بچہا حاضر شدہ عرض کرد کہ اعلیٰ حضرت امیرالمومنین فردا نماز جمعہ بمسجد جامع در دارالخلافت کابل ادا مینمایند پس بوقت شام بروز پنجشنبہ کہ ناگاہ صدای اتواپ شنیدم پس از تحقیق کردن معلوم شد کہ حضرت امیرالمومنین سراج الملة والدین معہ الخیر والعافیت بسواری اسپ تیز رفتار سفر پنجاہ وپنج میل طے کردہ بدارالخلافہ رسیدہ اند لہٰذا برای سلامی شان این اتواپ سر کردہ اند پس ازین زیادہ چہ مستعدی شد کہ سفر پنجاہ و پنج میل را بر اسپ طے کردند ای خدا وند رب العالمین و اے ارحم الراحمین ذات ملکی صفات چنین بادشاه عادل با انصاف را کہ برای محافظت و دایع خود افریدہ است بر کافہ مسلمانان جهان تادیر قایم و دایم دارا و و از اثر ناقص آن حضرات که (از صفات ذمیمہ کہ بسبب غلبہ قوت بہیمہ خود) بلہو و لعب مشغول دارند محفوظ دارا و بقول شاعر زندہ نہ ماند آنکہ نہ جوید فلاح او= و ہر آن از لطف [Footnote] اے خان صاحب موصوف نہایت قابل ولایق انداز زبان ترکی و عربی و فارسی و انگریزی وغیرہ مہارت کلی دارند و منجانب سلطان المعظم خلد اللہ ملکہ بیست و پنج سال بعہدہ جلسلیہ ممتاز بودند ایشان بسیار خلیق و مسافر نواز ہست اند و حق این است کہ همچنین اشخاص باعث افتخار دولت ونیک نامی می باشند
۲۵ عام وکرم مالاکلام بهروربفرما و بی ثباتی عالم فانی و بقائے عالم جاویدانی را در دلش انما بفرما وای سامع الدعوات دعائے است از ما و از جمله مسلمانان که این پادشاه ما که بنده فرمان بردار تست از همه آفات دینی و دنیاوی محفوظ داراد- خاتمه وجود اعلیٰ حضرت سراج الملتہ والدین امیر المومنین خلدالله ملکه و اقباله از برکات آسمانی و افضال یزدانی است. (۱) سلطنت را بخلافت و امامت اسلامی مبدل کرد- و درین شکی نیست که بعد از قرون ثلثه وجود خلافت درین زمان خیر توام مشهود گشته و انقراض دول اسلامیه از شامت سلطنت بود زیرا که خزانه و سپاه همش از آن شخصی واحد میباشد. قوم را با وجهد ردی نباشد مگر بهمان قدر که منافع افراد قوم با و تعلق دارد دیگر آنکه بموت آن سلطان سلطنت می میرد و بحیاتش زنده می باشد برائے این معنی اعدائے جانستان در پئے جان سلطان میباشند و برائے اعدام سلطنت و اعدام سلطان منتظر موقع میباشند در نیصورت
۲۶ سلطان در پی تحفظ جان خود چه مشقت ها میکشد و از اوج ازادی انسانیت بحضیض قید حیوانیت می افتد. و هرگاه که اعدا می دانند که یک یک از افراد قوم سلطان است و بانتخاب قوم این شخص بکرسی مملکت نشسته است اعدام این را بیکاری دانسته در پی جان او می باشند. دیگر اینکه انسان تا وقتیکه بقید انسانیت است از خطاکاری و ابتلای لذات و شهوات و غفلت کاری از مهام سلطنت مامون نیست گاهی خزانه سلطنت بلولیان می بخشد و گاهی بمدح سرای شعرا عطیه جزیله عطا می فرماید و گاهی در تعیش و اسباب تنعم خود خزانه خالی میکند پس درینصورت لا محاله سپاه جان نثار و مردان کاردان و اموزگار را رنجی و حسد و تنفری پیدا میشود و همدردی بسلطنت مبذول نمی نمایند و بکسی دیگر که منافع خود از و متوقع می شمارند در گرایند و خصوصاً در آن زمان که دشمنی صعب رو مینماید اظهار خیانت میکنند. دیگر اینکه طائفه علما و صلحا که افراد قوم زیر حکم ایشان میباشند ازین سلطان از بیهودگی های او اعراض نموده قوم را در اعانت او تحریک نمی نمایند بلکه بعض اوقات وجود این سلطان را موجب خسران و ضعف اسلام تصوریده بر خلاف او فتوی میدهند پس در دولت انقلاب عظیم پیدا می شود لہذا این فسادات را ملحوظ فرموده بنای دولت اسلامیه بر پای خلافت
۲۷ استوار کرده اند وخلیفه وقت بجز آن کفافی که از قوم باو معین شده بود بر یک پول سلطنت بغیر مرضی قوم اقتدار نداشت وجمله قوم سلطنت را سلطنت خود پنداشته و فوائد ومضار دولت را فوائد ومضار خود تصوریده باعانت دولت بجان و دل میکوشند و ازین سبب در زمانه خلفاء پرچم اسلام از مغرب تا مشرق می جنبید و ازینجا دول یورپیه در تمامی مملکت سلطنت جمہوریه پیدا کرده اند تا که جمله افراد قوم در درجه مساوات بوده باهتمام کارهای دولت به پردازند. اعلیحضرت امیر المومنین سراج الملته و الدین خلد الله ملکه اوّل آن سلاطین اند که شخصیت را بجمهوریت متغیر کرده اند. ازین سبب بوقت جلوس بر سریر مملکت افغانستان هیچ قتال وحرب واقع نشد. و علماء و صلحا و سرداران قوم که هر یک بجای خود سرغنه جماعت کثیر اند بحسن ارادت و اخلاص نیت بر دست اعلیٰ حضرت امیرالمؤمنین سراج الملته والدین بیعت کردند. حالا سلطنت کابل همان سلطنت نیست که پیش ازین بود هر طائفه و هر گروه بدل معین دولت است وزیر رایت دولت قتال و حرب را باعث عصمت ننگ و ناموس دینی و دنیاوی خود می پندارند و ازین سبب اعلیٰ حضرت امیر المومنین را فرصت داد که بخطره بمهمانی سلطنت انگلیشیه تشریف شریف ارزانی فرموده لطف سیر سیاحت و ملاحظه اتقان
۲۸ و احکام سلطنت غیر میفرمایند و ازین شجره بسیاری از بسیار فوائد جلیله همراه خود بدولت خدا داد خواهند برد = (۲) اعلیحضرت امیر المؤمنین همچون دول متمدنه زمام امور عظام بر قواعد نظم دول به هر یک شخص قابل تفویض فرموده اند و زمام همه بدست خود میدارند = (۳) اعلی حضرت امیر المؤمنین در استحکام این خلافت شب و روز کوشان اند و برای استحکام خلافت طائفه انام از خواص و عوام محتاج بعلم اند که کم از کم حقوق شخصی و حقوق دولت و فرایض خلافت را و فوائد استحکام دولت را کما ینبغی فهم نمایند و طائفه خاصه در صنایع و و اختراع امور عجیبه که درین زمان استحکام دول در حرب و ضرب و در زمانه امن ترقی تجارت و مالیت بآنها مربوط است مهارت تامه بدست آرند و نیز اراکین مجلس شوری از طوائف اہل علم و خیر اندیشان میر آیند و شب و روز هر یک در استحکام و ترقی دولت افکار مفیده را بدل راه میدهد و در مملکت آثار تمدن و سروت پدید آید که فتنه و رهزنی و با همی حرب و ضرب یکلخت دور افتد و جمیعت دست پدید آید و هم برای استحکام این معنی وکلا رو سفر ار دیندار خیر اندیش که از السنه اجنبیه هم بهره وافر داشته باشند بدول دیگر ارتباط مستحکم ساخت از فوائد و صنائع دیگران بهره وافر بر دارند ۔ و از خدای
۲۹ جهان دعا است که در چند ایام این دولت بر دول ترقی یافته در تمدن قدم سبقت پیش خواهد نهاد زیرا که وجود همچنین پادشاه برای ملک رحمتی است از خدای عالم التماس بخدمت ناظرین والا تمکین مختصرأ حالات دربار امیر المومنین وحالات دارالخلافت کابل و عظمت و بزرگی رعایای افغانستان و حالات عمارات شاهی و باغات انها و حالات راه کابل پشاور که تعلق آنها بدولت خداداد افغانستان است و توصیف عالی جناب فیض مآب خیر خواه دولت خدا داد افغانستان غلام حیدر خان صاحب سر رشته دار ڈاک خانه اسلامیه پشاور و تعریف جناب حضرت مولانا مولوی نجف علی صاحب انسپکٹر مدرسه اسلامیه حبیبیه و غیره و غیره آن کتاب که بزبان اردو چاپ شده شائع گشته است مندرج اند و درین ترجمه کتاب بسبب آنکه گنجایش وقت نیافتم که آن همه مضامین را که در اصل کتاب اردو موجود اند نقل کنم زیرا که
اعلیٰ حضرت امیرالمومنین سراج الملة والدین خلداللہ ملکہ و اقباله بتاریخ ۳ جنوری ۶۹۰اء رونق افروز هندوستان میشوند و مقصود تالیف کتاب این است که پیش از تشریف آوری شان این کتاب را تقسیم کنم تا که اهل هندوستان از اوصاف حمیدهٔ شان و شوکت شاہی اعلیٰ حضرت امیر المومنین و از دیگر حالات واقف شوند ـ از ناظرین خواستگار معافی هستم که ما را بسبب قلت وقت گنجایش تالیف این کتاب را نبود ترجمه اش کجا چنانچه در شروع کتاب خود من بنده این همہ امور پیش کش ناظرین کرده ام لہٰذا ہر کسے را کہ اشتیاق دیدن جملہ حالات مذکوره باشد پس اصل کتاب را که بزبان اردو چاپ شده است و ہمراه این ترجمه هست ملاحظہ بفرمایند ـ علاوه ازین اہل افغانستان را چندان ضرورت دانستن آن حالات نیست زیرا ازین همہ امور آن جملہ حضرات بخوبی واقف هستند لہٰذا از ناظرین کتاب ہٰذا امید عفو داشته بدعاء ترقی دولت خداداد افغانستان و شاہ اسلام ختم میکنم ـ شعر ـ الہی در جہا باشی با قبال جوان بخت و جوان دولت جوان سال الہم تمم بالخیر فقط وعاگو شاہ اسلام حاجی محمد خان ساکن خورجہ
[BLANK PAGE]
[BLANK PAGE]
[BLANK PAGE]
[BLANK PAGE]
[BLANK PAGE]
٨ دلو ١٣٢۴ برای امروز گل محمد قیمت یک [؟] در سر سراج که ٧٠ هزار افغانی بود برای گل محمد خان نقد داده شد ۶ شش هزار افغانی
[BLANK PAGE]
[BLANK PAGE]
[BLANK PAGE]
[BLANK PAGE]