تردید (شایعات باطله شاه مخلوع) (عریضه ٥ - لویه جرگه ١٣٠٤) معرفی اعضاء وشرکاء وناقلین سوء و عکس های متعلقه آن
هو العلیم تردید (شایعات باطلۀ شاه مخلوع) (عین فیصلۀ ٥ لویه جرگۀ ١٣٠٩) افغانستان معرفی اعضاء و شرکا و سامعین موقره عکس های متعلقۀ آن شاه مخلوع کی باطله اشاعت کی تردید مع لویه جرگه کا فیصله عکس اور اسکی اعضاء و عموم حاضرین کی معرفی اور اسکی متعلقه عکس مورخه ١ اول حمل ١٣١٠
[BLANK PAGE]
بسم الله الرحمن الرحیم تردید شایعات باطله امان الله خان امان الله خان درین روزها اعلانی شایع کرده و بعض اعتراضاتی را که تا هنوز از مطبوعات وطن خارج نشده وسهو و خطای نظریات و عملیات خودش نامیده میشود، تردید میکند و قهر حقیقی لویه جرگه را که در آتی عیناً شایع میشود جواب نداده سرسری میگذرد، بر شخص نامور و ذات حمید صفات نادر شاه که مجسمه دیانت و اخلاق است تعرض و هرزه سرائی میکند، ما بدون مبالغه و مداهنه میتوانیم بگوئیم. امروز نادر شاه افغان در دنیای بشریت صفات ستوده و پسندیده دارد که بجز امان الله خان وحبیب الله دزد هیچکس صفات این قهرمان ملت نجیب امان الله خان کی باطله اشاعت کی تردید حال ہی میں امان اللہ خان نے ایک اعلان شائع کیا ہے اور اس میں وہ بعض اعتراضات کی تردید کرتا ہے جن پر ابھی تک ہماری داخلی مطبوعات نے قلم نہیں اٹھایا بلکہ وہ اسکے اپنے اعمال اور نظریات ہیں جنکو ہم اسکی سہو و خطا قرار دیتے ہیں۔ امان اللہ خان لویه جرگه (شوری کبیر) کے حقیقی اور ٹھوس اعتراض کا جواب نہیں دیتا اور سرسری گذر جاتا ہے آئندہ اسکی بعینہ اشاعت کر دی جائینگی محمّد نادر شاہ کی نامور شخصیت اور ذات حمیدہ صفات پر جو دیانت اور مکارم اخلاق کا پتلا ہے نہایت لغو اور بے شرما تعرض ہم مبالغہ یا در شاہ کے بغیر کہ سکتے ہیں کہ آج عالم انسانیت میں افغانوں کے نجیب ملت کے اس می آور فرمانروا محمد نادر شاہ افغان میں پسندید صفات
۲ اغفال را انکار کرده نتوانسته است امان الله خان اور ستوده خصائل موجود ہیں کہ کوئی فریب بھی گران اللہ خان در اعلان خود مینویسد که : ڈا کو حبیب اللہ کے سوا ان محامد و محاسن بیگانہ ہیں کہ امان الله خان اپنے اعلان میں قمطر از ہے کہ :۔ " فتوحات نادر شاہ ازین بود " نادر شاہ کے موقع وظفر کا سہرا صرف اسوجہ ہے کہ که در ظاهر بنام امان الله خدمت میکرد اپنے ملک کے میلان کو دیکر کہ وہ امان اللہ کی طرف دار ہے و ملت را طرفدار امان الله دیده اعلان ظاہراً یہ اعلان کیاکہ وہ امان اللہ کعالم ورحمت پیرس کی کرده بود که برای قیام دوباره سلطنت سلطنت اور اسکے تخت و تاج کو دوبارہ بحال کرنے امان الله جهد میکند، ازین رو ملت همراه کیلئے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ سب جو ملت نادر شاہ و همدست نادرشاه شد و نادرشاه بخودا ساتھ دیا اور نادر شاہ نے کو شکست دینے اور اسکے غلبے کو شکست داده محو ساخت " فنا کرنے میں کامیاب ہو سکا" (جواب) (جواب) {امان الله خان بطرف افغانستا} ملت افغانستان امان الله خان کو قت {منفور است . } نفرت کی نگاہ دیکھتی ہے { ما بر عقل و دانش امان الله خان خیلی افسوس میکنیم ہم امان اللہ کی عقل و دانش پر جسقدر افسوس ملیں تو ھوکریں و میگوئیم ، ملت افغانستان بار دیگر برعقل و دانش کم ہے اور ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان کی امان الله خان فریب نمی خورد هنوز صحائف جرا زخم خورده ملت امان اللہ خان کی فریب کاریوں اور و کتب تازه ترین دنیا از میان مفقود نگردیده عام عیاریوں کا بار دگرشکار نہیں بن سکتی ۔ دنیا کے نبالرات ن از احوال روز مره جنگ ملت دامان اور کام بیبوقی جن کے صفحات پر جلی حروف میں سرخیاں لکھی جاتی تھیں ار اناسنا پرنٹیڈ یپ پریس (۲۵۰۰) (ستمبر نمبر )
۳ تنفر اهالی افغانستان از امان الله بـاندازه نبوده که شخص نادرشاه در موقع ورود بخاک افغان حرفی از امان الله خان بزبان آورد و میتوانست در کابل خلع امان الله و فرار او بقندهار و بعد از شکست غزنی فرارش به ایتالیا همه‌یک منظره دلبریابی ملت و امان الله را بدنیا ظاهر ساخت ! فرد فرد ملت میداند که طول ایام مجادلات سمت جنوبی و صفحاتی محض ازین بود، که ملت نسبت به نادرشاه اشتباه داشت، که مبادا خدمات نادرشاه منسوب به امان الله شود تعجب است، چنین یک دروغ سیاه چه طور از قلم امان الله برآمده توانست، اگر امان الله محبوب ملت بود، انقلاب کبیر افغانستان چرا بمیان آمد؟ خاندان افغانستمان بآتش انقلاب سوخت؟ امان الله میگوید :- بنابر اینکه نادرشاه وعده فرمود بود که نه خود و نه خاندان نادری اراده کے خونین انقلاب پر نادرترین کتابیں ابھی روۓ زمین پر گم نہیں ہوئیں اور سارا جہان ملت اور امان کی باہمی کشمکش اور ہولناک جنگ کے روزمرہ واقعات کما حقہ آگاہ ہے۔ افغانستان کے باشندوں کے دل و دماغ میں امان اللہ سے اس حد تک نفرت کراہیت جاگزین ہوچکی تھی کہ محمد نادر شاہ افغان جسوقت افغانستان کی خاک میں وارد ہوتا ہے امان اللہ کی حمایت اور طرفداری کا دم بھرنا تو درکنار اسکا نام بھی زبان پر نہیں لاسکتا۔ امان اللہ کا کابل میں تخت سے دستبردار ہونا اور پھر قندھار کو فرار کرنا اور پھر غزنی کی شکست کے بعد دل ہار دینا اور نیست نابود ہوجانا اور پھر ایسا سر پر پاؤں رکھکر بھاگنا کہ سیدھے اٹلی ہی میں جاکردم لیا ایسے جالب توجہ واقعات اور پرلطف حقایق ہیں کہ ملت اور امان اللہ کے باہمی تعلقات کی تار وپود کو دنیا کے سامنے بکھیرکر رکھدیتے ہیں۔ ملت کا ہر فرد اس کھلے راز سے اچھی طرح واقف ہے کہ سمت جنوبی اور مغول کے محاربات کا اتنی مدت تک طول کھینچنا صرف اسوجہ سے تھا کہ ملت کو محمد نادر شاہ افغان کی نسبت یہ شبہ اور بدگمانی تھی کہ وہ امان اللہ کے تخت و تاج کی حمایت میں جان لڑارہا ہے۔ ہمیں تعجب ہے کہ امان اللہ کو ایسے صریح جھوٹ لکھنے کی کیسے جرات ہوئی ؟ کیا اسکے قلم نے میدانِ قرطاس پر غوطہ زنی کھانی ہوگی ؟ اگر امان اللہ کو یہ مغالطہ ہو کہ ملت اسکو چاہتی تھی اس پر ہزار جان سے فریفتہ و شیفتہ تھی تو افغانستان میں اتنا عظیم انقلاب کیوں برپا ہوا ؟ افغانستان کا خان و مان کیوں اس انقلاب کی شعلہ زن آتش سے جل کر راکھ ہوگیا؟ (امان اللہ کہتا ہے):- "چونکہ نادر شاہ نے وعدہ کیا تھا کہ نہ وہ خود اور نہ ہی اسکا خاندان پادشاہی کی
سلطنت دارند، ملت بنادرشاه خواہش رکھتا ہے تب ملت نے نادرشاہ کی امداد کرد و به امرا و با سقاوه ظل محانه امداد پر کمر باندھی اور اسکے حکم سے سقے کے ساتھ شد بالآخر نادرشاه وعده خود را لڑائی شروع کردی۔ لیکن آخر کار نادر شاہ نے ایفا نکرد " اپنے وعدے کو وفا نہ کیا “ (جواب) (جواب) اعمال شنیعه امان الله خان در امان اللہ خان کی سیا کاریوں او اعمال افغانستان آتش افروخت شنیعہ نے افغانستان میں آگ سلگائی راست است که از طرف اعلحضرت محمد نادرشاه یہ حقیقت ہے کہ جبوقت لوگ اعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ افغان کو مجبور کرتے تھے کہ وہ اپنی پادشاہی کا در اوقاتیکه او را مجبور میکردند که اعلان پادشاهی اعلان کردیں انہوں نے صاف انکار کر دیا ، اور محمد نادر شاہ افغان ہمیشہ یہی اظہار فرماتے رہے کند ، محمد نادرشاه اظهار میفرمود که من برای کہ نہ تو مجھے پادشاہی کی ہوس ہے اور نہ میں اسکے لئے آیا ہوں بلکہ میں اور میرا خاندان یہ چاہتا ہے پادشاهی افغانستان نیامده ام بلکه من خاندانم کہ ہم اپنے پیارے وطن افغانستان کی خدمت بجا لائیں اور آرزو رکھتے ہیں کہ ملک کو سقے کی نگو شت میخواهیم خدمت افغانستانر ایجا آریم و وحشت سقاوا داستیلا سے پاک کریں اور اپنے برادران وطن کو اسکے پنجہ ظلم و بربریت سے نجات دلائیں اور پھر دور کرده با نتخاب تمامی اہالی افغانستان پادشا سب افغانستان کے باشندوں کے انتخاب اور اتفاق آرا سے ایک پادشاہ مقرر کریں “ افغانستان را تعیین کنیم " اگر امان الله خان ازین اعلان پس اگر امان اللہ خان نے الغازی محمد نادر شاہ افغان کے اس بے لوث اعلان اور بیغرض اظہار سے و اظهار نادر شاه اینطور فهمیده بود که بعد از امحای یہ نتیجہ نکالا ہے کہ سقے کے غلبے اور حکومت کے استیصا و امحا کے بعد ملت افاغنہ کے انتخاب کا قرعہ امان اللہ حکومت سقوی منتخب ملت امان الله خواهد بود ، کے نام پر پڑیگا تو یہ کہنا بیجانہ ہو گا کہ امان اللہ اپنے تمام ہوش و حواس کو کھو بیٹھا ہے کیونکہ پس جای تعجب نیست که بگویم امان الله تمام عقل و نکرود اب اسکو اتنا بھی شعور نہیں رہا کہ یقینی رائے میں
باخته است اینقدر هم نمیداند ، که در موقعیکه پادشاه افغانستان بود ، سقوزاده را بر او ترجیح دادند و او را از مملکت خارج کردند، چه طور میشود که بعد از سقو او را دوباره انتخاب کنند ، آیا امان الله تا امروز معنی این انقلاب را هم نفهمیده که یک ملت باین بزرگی بجان و مان خود بی سبب آتش میزند و هیچ نقطه نظری نداشته یکدفعه برای نفی امان الله افغانستانرا سرد چار آتش سوزان میسازد، و با امان الله را انتخاب میکند ، حال آنکه این ملت انقلاب کبیر افغانستان را سنجیده و دیده و دانسته بروی کار کرد ، تا از پنجه بی دیانتی و قبایح اخلاقی و سوء اداره نجات یابد ، امان الله خان هر چه میخواهد بگوید ، اما حق ندارد ملت ما را یک ملت بی اراده به دنیا معرفی کند ! ( اسرار چهره ها برها میقده ) اگر امان الله ما را بهر زه پرا خود مجبور ساخت ، ممکن است تمام مسائل اخلاقی او را که با ستناد و فوتوگرافی های افغانستان کا مطلق العنان بادشاه تھا اور اسکا طوطی بول رہا تھا ملت نے سقہ زادہ کو اس پر ترجیح دی اور اسکو اپنے ملک سے نکال باہر پھینک دیا ۔ پس اب یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ سقے کے بعد پھر اسکو دوبارہ انتخاب کریں ؟ کیا امان اللہ نے اس خانمان سوز انقلاب کے معانی پر ابھی تک غور نہیں کیا کہ ایک اتنی بڑی ملت اپنی جان و مال کو بے سبب ہلاکت کے گڑھے میں کیسے دھکیل سکتی ہے اور اپنے گھر بار اور املاک عزیز کو بے دلیل کس طرح نذر آتش کر سکتی ہے ؟ اور کسے ہو سکتا ہے کہ اسکا کوئی نقطۂ نظر ہی نہ تھا ؟ بھلا ایک طرف تو وہ امان اللہ کو افغانستان سے نکالنے کیلئے آگ میں پڑتی ہے اور دوسری طرف اسی امان اللہ کو انتخاب کر کے سلطنت کی باگ ڈور اسکے ہاتھ میں دے دیتی ہے حالانکہ اس ملت نے انقلاب کبیر افغانستان کے نتائج کو اچھی طرح سوچ لیا تھا اور دیدہ و دانستہ اسلئے تلخ تجربے کے لئے آمادہ ہوئی تھی ، اس کی محرک یہ بات تھی کہ بددیانتی ، بدچلنی اور بدانتظامی کے تسلط اور برے اثر سے نجات پائے ۔ امان اللہ خان کے دل میں جو کچھ آئے کہ لے ، لیکن اس کو کوئی حق حاصل نہیں کہ دنیا میں ہماری ملت کا تعارف اسطرح کرائے کہ ملت افغانستان ایک بے ارادہ ملت ہے اور اسکو برے بھلے کی کوئی تمیز نہیں۔ ( امان اللہی دربار کے اسرار ) اگر امان اللہ نے اپنی یاوہ گوئی اور ہرزہ سرائی سے ہمیں افشائے راز پر مجبور کیا ، ممکن ہے کہ ہم اس کے
که تا هنوز چشم بشریدن آنطور اعمال خلاف تقاضای بشری شنا نشده شایع کنیم، و پیش نظر دنیا بگذاریم که آیا دارای چنین دیانت و اخلاق، قابل پادشاهی نوع بشر است؟ ملت مسلمان افغان حق بجا نیست که او را از خطه افغانستان خارج کند؟ می کنیم هنوز هم نادر شاه مانع افشای اینگونه رازها میباشند ورنه نشر اسرار در بار امان الله از اسرار جمیع در بارهائیکه تا امروز نوشته شده قبیح تر است. حکومت نادری منتخب عموم ملت است آیا اعلیحضرت نادر شاه وقتیکه در کابل پادشاه انتخاب شد، سمت مشرقی، جنوبی، قندهار، هرا مزار شریف، قطغن و بدخشان، میمنه و فراه که هنوز در دست نادر شاه نبودند، و عسکر و افسر نادر شاه در تمام افغانستان حکمفرما نبود چه طور به مهربانی خدا بیعت فرستادند، و چگونه جنگ و جدال داخلی افغانستان بفضل خدا بمجرد اعلان اخلاقی مسائل کو شایع کریں، انکی تصدیق میں پوری پوری شہادتیں بہم پہنچا سکے اور ایسے فوٹو دکھائے کہ انسان کی آنکھ نے ابھی تک ایسے حیا سوز افعال اور خلاف فطرت اعمال نہیں دیکھے ۔ اور دنیا کے سامنے پیش کر کے اس کو غورو تبصرہ کیلئے کہ آیا وہ ذمہ دار شخص جسکی دیانت اور اخلاق کا یہ حال ہو بنی نوع بشر پر حکمرانی اور سلطنت کرنے کی صلاحیت واہلیت رکھتا ہے؟ آیا افغانوں کی مسلمان ملت حق بجانب نہ تھی کہ اس کو افغانستان کی خاک پاک سے باہر نکال دیں؟ لیکن کیا کریں کہ اب بھی الغازی محمد نادر شاہ افغان ہمیں صبر کی تلقین کرتا ہے اور ایسے رازوں کے طشت از بام کرنے سے منع فرماتا ہے ۔ ورنہ انکے نشر سے صاف ظاہر ہو جائیگا کہ امان اللہ کے دربار کے اسرار سب دنیا کے درباروں کے اسراروں سے جو آجتک حیطہ تحریر میں آتے ہیں کریہہ تر اور قبیح تر ہیں ۔ عموم ملت نے محمد نادر شاہ افغان کو برضا ورغبت اپنا پادشاہ مقرر کیا ہے کیا دنیا کو معلوم نہیں کہ جس وقت اعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ افغان اتفاق آرا سے منتخب ہو کر مسند شاہی پر متمکن ہوئے فوراً سمت مشرقی، سمت جنوبی، قندھار، ہرات، مزار شریف، قطغن و بدخشان میمنہ و فراه وغیرہ نے کہ جن پر ابھی محمد نادر شاہ افغان کا تسلط و اقتدار قائم نہیں ہوا تھا اور اعلیحضرت ممدوح کی فوج اور حکام و عمال تمام افغانستان کے متفرق نقاط میں حکمفرما نہیں تھے کس طرح اللہ کے لطف و کرم سے اپنی اپنی بیعتیں بھیجنے میں مبادرہ کی؟ اور محمد نادر شاہ افغان کی ہر دلعزیز شخصیت کی خوشخبری کے اعلان کے ساتھ ہی خدا کے فضل احسان سے افغانستان کی خانہ جنگی کیسے دفعہ معدوم ہو گئی؟ اور ساری مملکت میں جبر واکراہ کے بغیر خود بخود من
پادشاهی، نادرشاه ساکت شده، واقعیت خود بخود قائم گردید . مگر این مسلئه دلیل نیست که پادشاهی نادرشاه منتخب تمام افغانان است. اگر بفضل خدا انتخاب نادرشاه به پادشاهی افغانستان وسیلهٔ رفع انقلاب نشد، کدام چیز بود ؟ که افغانستان را از انقلاب و خانه جنگی نجات داد، در آنوقت زور سر نیزه و برچه کجا بود ؟ این مسلئه چیز مخفی نیست ، پیش دنیا از آفتاب روشن تر است اعلیحضرتی نادرشاه بحضور تمام اکابر ملت و وکلا مٹی که در مقابلهٔ سقوی حاضر شده بودند و هم تمام نمایندگان دول سفیر کبیر ترکیه ومستشار سفارت روسیه و اعضا سفارت فرانسه وایران در سلامخانه از قبول پادشاهی بار بار استنکاف فرمودند، لیکن اصرار اهالی و مشورهٔ نمایندگان دول متحابّه اعلیحضرت (نادرشاه) را به قبول پادشاهی افغانستان وادار ساخت . قائم ہو گیا ، کیا یہ امر واقعہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ محمد نادر شاہ افغان کے انتخاب بادشاہی پر تمام افغانستان متفق اللسان تھا ؟ اگر خدا کے فضل سے محمد نادر شاہ افغان کی مرغوب ذات جسکو نفا نستانکی بادشاہی کیلئے منتخب کیا گیا انقلاب کے رفع کرنیکا ذریعہ نہیں بنی تو اور کونسی دوسری چیز تھی در دہ تونسی طاقت تھی جس نے ایک آن میں افغانستان کو انقلاب اور باہمی قتل و قتال سے نجات دلوائی ؟ اس سلسلہ میں کے وقت میں تو لشکر کی کثرت تھی اور نہ تلوار کی تیزی تھا اور سنگین کی نوک یا نیزے کی انی کام کر رہی تھی۔ حقیقت ایسی نہیں جو پردۂ اخفا میں بلکہ آفتاب سے بھی روشن تر ہے۔ اعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ ان تمام اکابر مملکت اور وکلا ائے ملی کے سامنے جو بچہ سقا کے مقابلے کیلئے جمع ہوئے تھے پادشاہی کے بار گران اٹھانے سے بار بار انکار فرماتے رہے اور تمام دولتوں کے نمائندے مثلاً ترکیہ کا سفیر کبیر روسی سفارت کا مستشار ، فرانسیسی اور ایرانی سفار نوبں کے اعضا بھی سلامخانے میں موجود تھے لیکن اہالی کے اصرار اور متحا بہ دولتوں کے نمائندوں کے مشورے سے اعلیحضرت نادر شاہ افغانستان کی بادشاہی قبول کرنے پر مجبو ر ہوئے ۔
۸ اولین بیوفا و نمک ناشناس امان الله خان بود امان اللہ خان سب سے بڑھکر بیوفا و نمکحرام تھا آیا برای حکمرانیکہ بانتخاب ملت تعیین میشود، قبول پادشاهی نمک ناشناسی و بیوفائی است! پس خود امان الله بمقابل اعلحضرت شہید نمک ناشناس و بی و فاترین آدمہای دنیاست، در اسلام وفا و بیوفائی، نمک شناسی و ناشناسی را شرائط معین دارد، حقوق پادشاہ و رعیت را در اسلام شرح مفصل داده است، بیعت بیک پادشاہ تا وقتی ساقط نمیشود، که پادشاه با شرائطیکه اسلام تعیین کرده پابند باشد، وقتیکه از حد و آن تجاوز و ترک پابندی کرد، حق بیعت او ساقط میگردد، ما ملت به پادشاهان افغانستان ہمیشہ باین شرائط بیعت کردہ ایم، که به اسلام و شریعت و اخلاق خیانت نکنند، وعلاوه علم حقوق هم امروز در دنیا پادشاہ، رئیس جمهور و کافه مأمورین یک ملت را نمک خوار ملک و ملت آیا اس حکمران کیلئے جو ملت کے متفقہ انتخاب اور اصرار سے مقرر ہوتا ہے پادشاہی کا قبول کرلینا نمکحرامی اور بیوفائی کے معنی رکھتا ہے ؟ اس استدلال سے ثابت ہوتا ہے کہ اعلحضرت خلد آشیاں امیر شہید کے مقابلے میں خود امان اللہ دنیا کے بڑے بڑے نمکحراموں اور غداروں سے بھی بازی لیگیا ہے۔ جاننا چاہیئے کہ دین اسلام میں وفاداری و بیوفائی، نمکحلالی اور نمکحرامی کیلئے خاص خاص شرطین معین کی گئی ہیں، اسلام نے پادشاہ اور رعیت کے حقوق کی پوری تفصیل کے ساتھ تشریح کی ہے کسی بادشاہ کی بیعت اس وقت تک ساقط و فسخ نہیں ہوسکتی جبتک کہ وہ اسلام کی قایم کردہ شرائط کا پابند ہے۔ لیکن جونہی اس نے ان حدود سے تجاوز کی اور انکی پابندی سے منہ موڑا اسکی بیعت کا حق ساقط ہوجاتا ہے، ہماری ملت نے افغانستان کے کل بادشاہوں کی ہمیشہ ان شرائط پر بیعت کی ہے کہ وہ دین اسلام کے پابند رہینگے، شریعت پر چلینگے پاکیزہ اخلاق اور اعمالِ حسنہ سے ہمیشہ آراستہ رہینگے اور اپنی ذمہ داریوں میں کبھی خیانت نہیں کرینگے اس کے علاوہ آج دنیا میں علم حقوق بھی ایک ملک کے پادشاہ اور رئیس جمہور اور جملہ ملازمین کو ملک و ملت کا نمکخوار قرار دیتا ہے۔ امان اللہ کو
۹ دانم و میکند ، مگر امان الله سر بگریبان خوُد کرده خدا را حاضر دیده تنها با نفس خود فیصله کند که به دیانت و اخلاق چه خیانت کرده است و با نمک و نمکدان چه کرد ؟؟ بلی امان الله خان سردار نصرالله خان مرحوم را برای پادشاهی خود بی وفا و نمک ناشناس اعلان کرده بود ، این اصطلاحات جبروتی و استبداد را چرا امان الله استعمال میکند ، در اسلام خلفای راشدین رضی الله عنهم اجمعین ، از روی تقوی و دیانت ، و اخلاق انتخاب شده اند، یا شرعاً سلطنت بنی امیه ، عباسیه ، فاطمیه، ایوبیه عثمانیه ، غزنویه ، سلجوقیه ، غوریها ، سدوزائیها وغیره را امان الله چه میگوید ؟ امان الله تصور میکند که نادرشاه خواجه حافظ بود، که به خال هندوی امان الله افغانستان را می بخشید ! چاہیے کہ ذات باری کو حاضر و ناظر جانکر اپنے گریبان میں منہ ڈالے اور تنہا اپنے نفس کے ساتھ فیصلہ کرے کہ اس نے دیانت اور اخلاق کے ساتھ کیا خیانت کی ہے اور نمک اور نمکدان کا کہاں تک پاس رکھا ہے؟ امان اللہ خاں نے اپنی پادشاہی کے قیام اور جواز کیلئے سردار نصراللہ خاں مرحوم کو بھی بیوفا اور نمکحرام گردانا تھا ، امان اللہ کو کیا حق حاصل ہے کہ ایسی مستبدانہ اور جابرانہ اصطلاحات استعمال کرتا ہے ؟ آیا دینِ مقدس اسلام میں خلفای راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کا تقویٰ دیانت اور پسندیدہ اخلاق کی رو سے انتخاب کیا گیا تھا یا خلافت انکو ورثے میں ملی تھی ، امان اللہ بنی امیہ ، بنی عباسیہ ، فاطمیہ، ایوبیہ ، عثمانیہ، غزنویہ، سلجوقیہ، غوریوں ، سدوزیوں وغیرہ کی سلطنتوں اور سلاطین کے بارے میں کیا درفشانی کرتا ہے ؟ امان اللہ یہ تصور کئے بیٹھا ہے کہ عہدنادرشاہ افغان بھی خواجہ حافظ تھے جو امان اللہ کے ایک خال ہندو پر افغانستان کو بخش دیتے۔
۱۰ امان الله میگوید: امان الله کہتا ہے : - ”نادر شاہ امنیت را قایم ” نادر شاہ ملک میں امن قائم نہیں کر سکتا کرده نمیتواند، چرا که بملت کیونکہ اس نے ملت کے ساتھ وعدہ کیا تھا وعده داده بود که برای امان الله کہ میں امان اللہ کے لئے خدمت خدمت می کند؟ کر رہا ہوں“ جواب جواب (دوره امانی کاملا عصر بی‌نظمی و اغتشاش بود) امان الله کا عہد سراسر شورشوں اور بغاوتوں اور بے انتظامیوں کا عہد تھا امان الله خان خیال میکند امنیت افغانستان امان الله خان کے سر میں یہ خیال سمایا ہوا ہے کہ به پادشاهی امان الله منوط است، مگر امان الله افغانستان کی امنیّت صرف اُسی کی ذات اور بادشاہی ده سال پادشاه نبود، چرا امنیت را سے وابستہ ہے۔ کیا امان اللہ دس سال تک حکمران قائم نکرد؟ انقلاب دیهدادی، مزار شریف نہیں کر رہا تھا؟ کیوں امن کرنے سے قاصر رہا؟ محاربه سلطان محمد در زمین داور قندهار، محاربه کیا دپدادی کی شورش، مزار شریف کا اختلال ملا عبدالله و عبدالکریم، جنگهای قوم صافی سلطان محمد کا زمینداور قندھار میں حکومت کے خلاف اُٹھنا و خوگیانی، چپه و راونهای محسن دزد در اطراف اور لڑنا، ملا عبدالله اور عبدالکریم کا محاربہ، قوم صافی کی ارگ امان الله، شورش شنواری و بالاخر باہمی لڑائیاں اور خوگیانیوں کی جنگ جنکے باہمی نزاع جنگ بچه سقو، در نتیجه شکست امان الله کے دفاع کی قوت حکومت سے سلب ہو چکی تھی اور خاموش از غزنی و فرار او به ایطالیا همه دلیل آنست بیٹھی تماشا دیکھ رہی تھی، محسن چور کا امان الله کے محل شاہی کے گرد و نواح میں دیدہ دلیری سے بار دھاڑ کرنا، شنواریوں کی سرکشی اور آخر کار بچہ سقا کی جنگ اور کابل پر تصرف اور پھر امان اللہ کا غزنی میں شکست کھا کر سیدھے اٹلی کو بھاگ جانا اس بات کی دلیل ہے تھر یز محسن تحریف (۲۰۰)
که امنیت افغانستان را بخود منسوب میکند؟ مگر امان الله فراموش کرده که در محاربه سقا غش میکرد، و مادرش او را تسلی میداد و از بزدلی اورا منع میکرد و با و میگفت که این بی تحملی تو ننگ نام اجداد غیور تست، ضعف ظاهر مکن که سلاطین دنیا ازین عا زندگی بسیار دیده اند، فرض کن کشته شدی مگر پادشاه بی جز تو در دنیا کشته نشده است؟ این همه داستانهای امان الله مگر فراموش خاطر او شده که باز اثبات وجود میکند، امنیت امروز افغانستان را اگر خدا شاری و جهد نا در شاه قائم نکرده، مگر امان الله در ایطالیا نشسته افغانستان را بتوجه با من ساخته است، بجز اینکه بگوئیم، امان الله از یاده سرائی میخواهد خود را در دنیا بیشتر رسوا کند. دیگر نتیجه حاصل نخواهد گرفت. که افغانستان کی امنیت کو اپنی ذات کیطرف منسوب کرنے کی جرأت کرسکے؟ شاید امان اللہ کی یاد سے اتر گیا ہے کہ بچہ سقا کی جنگ کے دوران میں اس کو باری خوف کے غش پر غش آتے تھے اور اسکی بہادر ماں سکو تسلیاں دیتی تھی اور اس کو بزدلی کے اظہار سے منع کرتی تھی اور اسکو نصیحت کرتی تھی کہ اضطراب اور حواس باختگی کا دکھانا تیرے لئے شرم وعار ہے اور تیرے غیور آباء اجداد کے نام پر بٹہ لگتا ہے۔ نہ ایسے کمزور بنو اور نہ ہی اپنی کمزوری دکھاؤ کیونکہ دنیا بادشاہوں نے اپنی اپنی زندگیوں میں ایسی بہت سی ٹھن منزلیں دیکھی ہیں۔ فرض کرو کہ تم مارے جاؤ گے تو کیا تیرے بغیر دنیا میں کوئی بادشاہ قتل نہیں ہوا؟ (یہ ہے حالت اس شخص کی جو اپنے عزم اور ارادے کو کوہ ہمالیہ سے بھی متین اور بلند کہا کرتا تھا) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امان اللہ نے ان سب واقعات کو بھلا دیا ہے اور اگر نہیں بھلایا تو اب وہ کس بوتے پر ڈینگیں مارنے لگا ہے؟ اگر آج افغانستان میں محمد نادر شاہ افغان کی خدا شناسی اور پُر مغز بیداری و مساعی جمیلہ نے امن قائم نہیں کیا تو کیا جائے امان اللہ اٹلی میں قبا در استغراق میں بیٹھے ہیں اور انکی تو جہ کی برکتی جو افغانستان میں دائمی سکون قائم ہوا ہے۔ واہ رے تیری توجہ کے کیا کہنے۔ ان ہزلیات کے بکنے سے سوا اسکے اور کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ امان اللہ اپنے آپ کو دنیا میں اور بھی رسوا و بدنام کر رہا ہے۔
۱۲ امان اللہ میگوید: ”نادر شاہ تمام ماموریت ہا را به برادران و اقربای خود تفویض کرده است و بدیگران ہیچ یک منصب عالی نمانده بجز چپراسی گری“ جواب (خدمات قابل قدر خاندان نادری)۔ البته برادران نادر شاہ در محاربات افغانستان ہمیشہ خدمات برگزیده کرده اند چنانچہ عالیقدران جلالتمآبان سردار شاہ ولیخان و سردار شاہ محمود خان در جهاد استقلال در فتح ٹل ووانو ، دوش بدوش اعلیحضرت نادر شاہ در میدان جنگ خدمت میکردند فاتح کابل سردار شاہ ولیخان و فاتح سمت شمالی و اسیر کنندهٔ بچہ سقا سردار شاه محمود خان است، در موقعیکه در ناحیهٔ قطغن از شرارت ابراہیم بیگ آتش افتاده بود، همین شاه محمود خان بود که امان اللہ کہتا ہے:۔ ”نادر شاہ نے بڑے بڑے جلیل القدر عہدوں پر اپنے بھائیوں اور اپنے اقربا کو مقرر کر رکھا ہے اور ملت کے دوسرے افراد کے لئے چپراسی گری کے سوا کوئی بڑا منصب باقی نہیں رہا“ جواب (نادری خاندان کی قابلِ قدر خدمات) دنیا جانتی ہے کہ محمد نادر شاہ افغان کے بھائی صرف آج ہی اتنے بزرگ مراتب پر فائز نہیں ہوئے بلکہ اس سے پہلے بھی وہ اپنی ممتاز لیاقت اور جان نثاری کی وجہ سے بڑے بڑے عہدوں کے اہل سمجھے گئے تھے ۔ محمد نادر شاہ افغان کے بھائیوں نے داخلی و خارجی جنگوں میں برگزیدہ خدمات انجام دی ہیں۔ چنانچہ عالیقدران جلالت مآبان سردار شاہ ولیخان اور سردار شاہ محمود خان نے جہاد استقلال کے دوران میں وانو اور ٹل کی فتح میں اعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ کے دوش بدوش میدان جنگ میں شاندار خدمت کی ہے۔ کابل کی فتح کا سہرا سردار شاہ ولیخاں کے سر اور سمت شمالی کو فتح کرنے والا اور بچہ سقا کے گرفتار کرنے والا سردار شاہ محمود خاں ہے۔ اسکے علاوہ ان دنوں جبکہ باغی اور طاغی ابراہیم بیگ نے قطغن کی مضافات میں اودھم مچا رکھا تھا اور رعایا کی جان و متاع سخت خطرے میں پڑی ہوئی تھی ، یہ شاہ محمود خاں غازی کی ذات تھی جس نے نہ صرف اس فتنہ و فساد کی
۱۳ از مساعی خود نه تنها آن آتش سوزان را خاموش کرد بلکه برافروزنده آنرا هم محو و نابود ساخت جناب عالیقدر جلالتمآب سردار محمد ہاشم خان سرسراوس اعلیحضرت امیر شهید و نائب سالار ہرات و مشرقی نائب وزیر حرب امان اللہ وزیر مختار افغانی در ماسکو و بالاخره قائد سمت مشرقی بمقابل سقو بودند، بدرخواست اہالی قندہار وارد قندہار شدند، آیا اعلیحضرت محمد نادر شاہ برادران خویش را که ملت آنها را از جان دوست تر دارند، خانه نشین میکرد و خدمات برادران خود را تقدیر نمی فرمود، و ملت و مملکت را از مساعی ایشان محروم میساخت؟ و مثل سردار عنایت اللہ خان معین السلطنه (برادر کلان امان اللہ) بیکار می گذاشت و هزاران راپورچی در عقب شان می گماشت؟ ممکن است این کار را نسبت بخاندان خود بھڑکتی آگ کو بجھایا بلکہ فساد کے بانیوں اور باغیوں کا بھی پوری طرح سے قلع و قمع کر دیا ۔ جناب عالیقدر جلالتمآب سردار محمد ہاشم خان سرسراوس امیر شہید ہرات کے ملکی و جنگی نائب سالار تھے اور امان اللہ کی حکومت میں نائب وزیر حرب اور پھر ماسکو میں وزیر مختار افغانی مقرر تھے، اور آخر کار بچہ سقا کے مقابلے میں سمت مشرقی کے قائد تھے ۔ فتح کابل کے بعد اہالی قندھار کی درخواست پر قندھار تشریف لائے۔ آیا ہو سکتا تھا کہ اعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ افغان کی قدر دان و خدمت شناس ذات اپنے لائق اور جان نثار بھائیوں کی خدمات کو کہ جنکو ملت اپنی جان سے بھی عزیز رکھتی ہے پاؤں سے ٹھکرا دیتی اور انکو خانہ نشین کر دیتی اور ملک و ملت کو انکی کار دانی اور خدمت سے محروم کر دیتی؟ اور کیا محمد نادر شاہ افغان مجبور تھا کہ امان اللہ کی تقلید کرتے ہوئے سردار عنایت اللہ خان معین السلطنہ کی طرح (امان اللہ کا بڑا بھائی) اپنے بھائیوں کو بیکار بٹھا دیتہ اور ہزاروں جاسوس ان پر چھوڑ دیتا؟ ایسا کام تو شریر امان اللہ ہی کی ذات سے سرزد ہو سکتا ہے لیکن محمد نادر شاہ افغان کو اپنے خاندان پر پورا اعتماد ہے اور ملت بھی اسکے بھائیوں کی دیانت،
١٤ امان الله خوبتر کرده میتوانست ، اما محمد نادرشاه بر خاندان خود اعتماد کامل دارد و دیانت و اخلاق و فداکاری برادران نادرشاه بحضور ملت نیز ظاهر است ، و ملت بر برادران محمد نادرشاه اعتماد کامل داشته و دارد ، لیکن اقربا نوازی بیجا از امان الله بود ، که ما می خواهیم تشریح کنیم: اعلیحضرت محمد نادرشاه تمام مأمورین افغانستان و اقربای امان الله را برادر و فرزند خود میداند هر کس که لیاقت و صداقت برای خدمت وطن داشته باشد و دارد اعلیحضرت محمد نادرشاه همه را بخدمت مأمور گردانیده است بحضور اعلیحضرت محمد نادرشاه قریب تر آن کس است که خداشناس و دارای دیانت و درایت است ، وزرای کابینه و جمیع صاحب منصبان نظامی ، نائب الحکومه ها و حکام اعلی و حکام کلان و کافه مأمورین فرزند و خویش قریب اخلاق حمیده ، فداکاری اور خوبیوں سے اچھی طرح واقف ہے اور ان پر کامل اعتبا رکھتی تھی اور رکھتی ہے ۔ اور یہ محض امان اللہ کی ذات تھی جو اپنے خویش و اقارب پر بیجا نوازش روا رکھتی تھی ۔ اسوقت ہم نہیں چاہتے کہ انکی تشریح کریں ۔ اعلیحضرت محمد نادر شاہ افغانستان کے جملہ مامورین اور امان اللہ کے اقربا کو اپنے بیٹوں اور بھائیوں کی مثل جانتا ہے اور جس شخص میں اپنے وطن کی خدمت کرنے کی لیاقت ، صداقت اور اہلیت دیکھی ہے اسکو اس کے لائق اور حسب حال مامورینست دیگر وطن کی خدمت کا موقع بخشا ہے ۔ اعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ کے حضور میں وہ شخص قریب تر اور معتمد تر ہے جو خدا شناس اور ایماندار ہے آراستہ ہو اور معاملہ فہمی اور فہم و ذکا کا جوہر رکھتا ہو سبیت کابینہ کے وزیر ، شعبہ حرب کے افسر، نائب الحکومہ حکام اعلیٰ ، حکام کلان اور تمام مامورین محمد نادر شاہ
۱۵ نادرشاه میباشند . امان الله میگوید : « من علما را هیچ نگفته ام حتی در حق علمای سوء هم بدگوئی نکردم صرف ملائانیکه سغور انقلابست و مرا کافر گفته اند بد گفته ام » (جواب) (امان الله خان ذاتاً دشمن علمای حقانی است) دروغگو حافظه ندارد ، از بدو سلطنت تا روز فرار خود بجز مخالفت با علماء کار دیگرے کر امان الله دیده نشده است ، از علما بی تجر و مجاهد فی سبیل الله یکی مرحوم مغفور جناب حاجی عبدالرزاق خان است ، که در معرکه استقلال و جهاد ، چه خدمات شایان قدر ابراز فرمودند ، وقتیکه بکابل خواسته شدند ، آیا خانه نشین نبودند ؟ آیا حاجی صاحب مرحوم تا بوقت وفات کے بیٹے اور قریبی خویش ہیں ۔ امان اللہ کہتا ہے :- ”میں نے علما کی نسبت کبھی کچھ نہیں کہا حتیکہ علمای سوُ کے حق میں بھی بدگوئی نہیں کی ۔ صرف ان ملاؤں کو برا کہا ہے جنہوں نے بپلی کی پیٹھ ٹھونکی اور مجھے کو کافر کہا “ (جواب) (امان اللہ خان ذاتا علما حقانی کا شمن ہے) کسی نے سچ کہا ہے کہ دروغگورا حافظہ نباشد اظہر من الشمس ہے کہ کل واقعات امان اللہ کے قول کے خلاف شہادت دے رہے ہیں، امان اللہ نے تخت نشینی کے روز اول سے لیکر اپنے فرار تک اور کوئی کام نہیں کیا سوائے اسکے کہ علما کی مذمت اور مخالفت کرنے میں سرگرم رہا ہو ۔ افغانستان کے متبحر علما میں ایک مجاہد فی سبیل اللہ مرحوم و مغفور جناب حاجی عبدالرازق ہیں جنہوں نے استقلال کے معرکے اور جہاد میں کیسی وقیع اور شاندار خدمات انجام دیں، لیکن جبوقت ان کو کابل بلایا گیا کیا وہ خانہ نشین نہیں کر دئے گئے تھے ؟ کیا حاجی صاحب مرحوم اپنی فدا کاریوں اور خدمات کے صلے میں ان تمام امتیازات سے جو انکو سابق میں نصیب تھے تادم مرگ محروم نہیں کئے گئے
١٦ بعوض تقدیر خدمت از تمام امتیازاتیکه سابق داشتند، محروم قرار داده نشدند ؟ آیا در ده سال سلطنت امان الله حاجی صاحب را در کدام در بار امان الله کسی دیده است؟ امان الله حاجی صاحب غازی را بدر بار ها و اعیاد و جشن ها دعوت کرده است ؟ جناب مولانا فضل ربی که بر جنازه المؤسنا عبدالرازق خان نطق کرد، و از خدمات حاجی صاحب مرحوم اظهار فرمود و ایشان را رہنما اسلامیت و مؤسس ملیت و محرک مجاہدت گفت و خطاب نمود، آیا امان الله مولوی فضل ربی صاحب را حبس نکرد ؟ قتل سید اسمعیل مرحوم ، سید جعفر کزی و نظر بندی جناب مستطاب شیخ پاشای اسلام پوری مگرفتا اولاد رسول صلی الله علیه و آله و سلم نبود؟ در جریدہ ۱۳ اظہار کلمات گستاخانه امان الله محاب احترام زوجات مطهرات حضرت محمدعلیہ الصلوۃ و لام تھے ؟ کیا کسی شخص نے امان اللہ کی دس سالہ سلطنت کے عرصے میں حاجی صاحب کو امان اللہ کے کسی دربار میں دیکھا؟ کیا امان اللہ نے کبھی حاجی صاحب غازی کو درباروں یا عیدوں یا جشنوں میں مدعو کیا تھا؟ مولانا فضل ربی نے مولانا حاجی عبدالرازق خان کے جنازے پر اپنی تقریر کے دوران میں حابی صحابہ مرحوم کی خدمات کا ذکر کیا تھا اور اس فاضل شخصیت کو مسلمانوں کے رہنما، ملیت کے موسس اور مجاہدات کے محرک کا خطاب دیا تھا کیا امان اللہ نے اس اظہار پر مولوی فضل ربی کو ماخوذ کر کے قید خانے میں ڈال نہیں دیا تھا؟ کیا سید اسمعیل مرحوم اور سید جعفر کو قتل کرنا اور جناب مستطاب شیخ پاشای اسلام پوری کی نظر بندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کی صریح مخالفت نہ تھی ؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امان اللہ کا حافظہ اسکو جواب دیچکا ہے کیونکہ اس نے ان گستاخانہ کلمات کو جو اس نے آنحضرت محمد علیہ الصلوۃ والسلام کی ازواج مطہرات کی شان میں کہے تھے اور جناب مستطاب حضرت صاحب فضل عمر خان وزیر عدلیہ حال کے امان اللہ پر غضب آلود ترین
۱۷ و اعتراض غضب آلود جناب مستطاب حضرت صاحب فضل عمرخان وزیر عدلیه حالیه برامان الله و بالاخر جدائی و هجران حضرت صاحب موصوف از افغانستان، مگر فراموش خاطر امان الله شده است ! در جرگه ۱۳۰۶ منع تعلیم و تحصیل طلبای افغانی در دارالعلوم دیوبند و انسداد رفت و آمد تحصیل کردگان دیوبند بافغانستان قانون گذاشته نشده بود ؟ ملا محمد ابراهیم خان کاموی ملا فضل ربی پکھلوی و غیره شاگردان مکاتب عالیه دیوبند را در ارگ حبس نکرده بود، مگر جنا مستطاب حضرت صاحب محمد صادق خان و جناب محمد معصوم خان مجددی و عالم فاضل مستطاب رئیس محکمه تمیز جناب قاضی سید عبد الرحمن خان بر علیه امان الله بسمت جنوبی فرار نکردند ؟ و امان الله حضرات موصوف را دستگیر کرده بارگ محبوس نکرد ؟ با وجودیکه اور ولولہ انگیز جواب کو اور حضرت صاحب موصوف کے دین کی ناقابل برداشت صدمے سے افغانستان چھوڑ جائیگور بالکل بھلا دیا ہے کیا ۱۳۰۶ کے جرگے میں یہ قانون نہیں بنایا گیا تھا کہ جسکی رو سے کسی افغانستان کے طالب علم کو دارالعلوم دیوبند میں دینی علم کی تحصیل و تعلیم کی اجازت نہیں تھی اور جولوگ دیوبند کے فارغ التحصیل اور سند یافتہ تھے انکو افغانستان میں داخل ہونے کی ممانعت تھی؟ کیا ملا محمد ابراہیم خان کاموی اور ملا فضل ربی پکھلوی وغیرہ دیوبند کے مکتب عالیہ کے شاگردوں کو ارگ میں محبوس نہیں کیا گیا؟ کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ جناب مستطاب حضرت صاحب محمد صادق خان اور جناب محمد معصوم خان مجددی اور عالم و فاضل مستطاب محکمۂ تمیز کے رئیس جناب قاضی عبدالرحمن نے امان اللہ کی مخالفت پر کمر باندھکر سمت جنوبی کیطرف فرار نہیں کیا تھا؟ اور امان اللہ نے حضرات موصوف کو گرفتار کر کے ارگ میں قید نہیں کیا تھا؟ اور اگرچہ خارجہ ممالک کے مسلمانوں کی طرف سے کئی ہزار تار حضرات
۱۸ چندین هزار تلگراف مسلمانان خارج در باب | اور قاضی سید عبدالرحمن کو سزای موت نہ دینے کے اعدام نکردن حضرات و قاضی سید عبدالرحمن | بارے میں بھیجے گئے لیکن کیا امان اللہ نے قاضی برای امان الله رسید مگر با این همه آیا قاضی | عبدالرحمن کو شہید نہیں کیا؟ اور کیا قصر ستور کی عبدالرحمن خان را بشهادت نرسانید؟ در مجلس | مجلس میں تمام مامورین دولت اور وکلای ملت کے قصر ستور بحضور تمام مامورین و وکلای ملت | سامنے اپنے منصبداروں کو مخاطب کر کے ان کو صاحب منصبان خود را خطاب کرده از مرید | افغانستان کے مشایخ کے مرید ہونے سے منع نہیں شدن بمشایخ افغانستان منع نکرد؟ | کیا تھا ؟ حضرت مرحوم فردوس آشیان جناب آخند زاده | کیا حضرت مرحوم فردوس آشیان جناب آخند زاده صاحب صاحب تگاب علیه الرحمه چندین بار امان الله را | تگاب علیه الرحمة نے کئی بار امان اللہ کو برے اعمال سے از اعمال بد منع نفرمودند، آیا یکی از نصایح ایشان را | منع نہیں فرمایا تھا ؟ آیا انکی کسی ایک نصیحت پر بھی امان الله عمل کرده است ؟ | امان اللہ نے کان دھرا یا عمل کیا ؟ الحمد لله امروز علمای افغانستان چه در مرکز | الحمد للہ کہ آج افغانستان کے علماء کو کیا وہ جو مرکز و چه در اطراف و اکناف مملکت قدر و منزلت | میں ہیں اور کیا وہ جو مملکت کے اطراف و اکناف میں رہتے | ہیں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور انکی قدر و منزلت دارند؛ چون از اعمال ناصواب امان الله | کی جاتی ہے۔ چونکہ وہ امان اللہ کے جور و جفا کی خاص طور پر خوبتر اطلاع دارند تماماً به تردید این اعلاناتش | آماجگاہ بنے رہے ہیں امان اللہ کے مذموم کردار سے | اچھی طرح واقف ہیں اسلئے متفقہ طور پر اس کے اعلان کی پرداخته اند و همه ادعاهای او را بشدت | تردید میں ساعی ہیں اور بڑی سختی سے اسکے سب تکذیب کرده اند، که ما ازان جمله به نگاشتن | باطل دعووں کو رد کیا ہے ہم انہیں سے صرف ایک دو بیضے کو پروپزه مجتهد حسن مطبعه ( ۲۵۰ )
۱۹ یک معروضه آنها که درین مورد بحضور نموده اند قلمبند کرتے ہیں جو انہوں نے اس موضوع پر اعلحضرت کے درختم این سلسلہ اکتفا میکنیم : حضور میں پیش کیا ہے اور ہم اسکو اس تردید کے خاتمے پر لکھینگے ۔ امان الله میگوید : امان اللہ کہتا ہے :۔ « من مرید حضرت مستطاب ”میں قلعہ قاضی کے حضرت مستطاب شاہ آقای قلعه قاضی بودم» شاہ آقا کا مرید تھا“ جواب (جواب) آیا این دروغ محض نیست، البته در زمان کیا یہ سفید جھوٹ نہیں ہے ؟ اس میں شک نہیں شهزادگی خود امان الله در خانه هر شیخ کہ امان اللہ کا اپنی شہزادگی کے زمانے میں عمل تھا رفت و آمد داشت ، و خود را مسلمان کہ ہر شیخ اور پیر طریقت کے گھر پر جایا کرتا تھا اور صادق و با عمل ظاهر میکرد ، چنانچه حضرات اپنے آپ کو ایک راسخ الاعتقاد اور باعمل مسلمان مستطاب شمس المشایخ و نور المشایخ ظاہر کیا کرتا تھا، اسی وجہ سے شور بازار کابل کے صاحبان شور بازار نیز با امان الله محبت رہنے والے حضرات مستطاب شمس المشائخ اور نور المشائخ داشتند، اما حضرت شاہ آقا قدس الله صاحبان امان اللہ کو بہت چاہتے تھے لیکن حقیقت ہے سره العزیز ، هیچ وقت مرید نگرفته اند، کہ حضرت شاہ آقا قدس اللہ سرہ العزیز نے کسی وقت بھی اگر امان الله خان مثل زمان شہزادہ گی مسلمان اپنا کوئی مرید نہیں پکڑا۔ اگر امان اللہ خان جسطرح کہ شهزادگی کے زمانے میں اظہار کیا کرتا تھا ایک باعمل با عمل و دلجوی ملت می بود و از صراط مستقیم مسلمان اور ملت کا دلجو ، ہمدرد اور خیر خواہ رہتا اور صراط مستقیم سے نہ بھٹک جاتا تو خدا شاہد ہے کہ ہم منحرف نمی شد ، خدا شاهد است ، از خورد اپنی اس ملت کے ہر چھوٹے بڑے متنفس کو اس پر
۲۰ و بزرگ این ملت خود را فدای او میکردیم قربان کر دیتے۔ لیکن افسوس ہے امان اللہ کی لیکن وا اسفا بر احوال امان الله که یک دراستی حالت پر که توبہ کی قبولیت کے لئے کوئی راستہ بھی نہیں چھوڑا ۔ ہمیں خوف ہے کہ برای قبول توبه هم نگذشت ، مگر فراموش امان اللہ بھول گیا ہے کہ سمت مشرقی کی سب کرده که در جرگہ اقوام شنوار و سائر اقوام قوموں اور شخوار قوم کے متفقہ جرگے (مجلس) میں افغانستاں کے سب علمائے سمت مشرقی اعلان کردند ، که تو به او هم بالاتفاق اعلان کیا تھا کہ آنحضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دین متین اور شرع مقبول دین و شریعت حضرت محمد مصطفے مبین کے مطابق امان اللہ کی توبہ کسی صورت صلی الله علیه وسلم نیست . میں مقبول نہیں ہو سکتی ۔ امان الله میگوید : امان اللہ کہتا ہے :- «لفظ عیاشی نسبت بمن ظلم و ”میری ذات پر عیاشی کا لفظ عائد کرنا صریح بهتان است و هم از بیت المال ظلم اور عظیم بہتان ہے ، میں اپنی گذران کے لئے بیت المال سے برای گذران خود چیزی نمیگرفتم ایک حبہ بھی نہیں لیتا تھا۔ وزارت وزارت مالیه برای گذران من مالیہ نے میرے گزارے کے لئے تجویز کرد که بقیه زمین های عین مال یہ تجویز کی کہ عین المال کی باقیا ندہ و عمارات آنرا برای دولت بخرند زمینوں اور عمارتوں کو دولت خریدلے اور انکے بدلے بعض و بعوض آن بعض فابریکه هائی که کار خانے کہ جو دولت کے کام کے چلاندن آن کار دولت نبود نہیں تھے مجھے ہبہ کر دے میں نے من بد به داس تجویز این اکردم اس تجویز کو قبول کر لیا“
۲۱ جواب (امان الله خان خیلی عیاش و بی پرواست) سبحان الله امان الله تا چه اندازه مکار و حیله باز است، هنوز هم از حیله بازی پشیمان نیست، دماغ امان الله خان بواقعی خراب شده یا شاید با و اطلاع رسیده که اوراق وزارت مالیه در انقلاب سوخته است، یا گمان میشود که او میخواهد کدام مملکت دیگر را فریب بدهد، ورنه ما ملت تصور کرده نمیتوانیم که امان الله خان این قدر کفایت شعار بوده است، اگر امان الله خان بهوش این اعلان را مینوشت شاید قلم او از فهمیدن این مسئله می لرزید که بودجه وزارت دربار امان الله خان از شروع سلطنت تا سقوط پادشاهی او در وزارت مالیه افغان موجود است، عمله و فعله و مصارف البسه او و فامیل او، تسخین و روشنی تومبیل و خریداری های او، موتر، شکار، میله، بخشش و تعمیرات جواب (امان الله خاں پہلے درجے کا عیاش و بے پروا) خدا کی شاں امان الله کو ہمیشہ سے کسقدر مکر و فریب اور تجاہل عارفانہ کی بُری عادت پڑی ہوئی ہے کہ گربہ مسکین کی طرح اب بھی اپنی حیلہ سازیوں اور عیاریوں سے نہ پشیمان ہوتا ہے اور نہ باز آتا ہے۔ اس غربت اور کس مپرسی کی حالت میں اس کے تمام حواس معطل ہو چکے ہیں ورنہ ایسی مجنونانہ حرکات کا مرتکب نہ ہوتا یا شاید کسی بوجھ بھکڑ نے اسکو پتہ دیا ہے کہ انقلاب میں وزارت مالیہ کے سب اوراق اور یاد داشتیں جل چکی ہیں۔ یا ہم یہ بھی گمان کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اس نے کسی دوسری دولت کو اپنے دام فریب میں پھنسا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی ٹھانی ہے۔ ورنہ ہماری ملت کے سامنے ایسے ہوشربا اخراجات کا نقشہ موجود ہے کہ ہم کسی صورت میں بھی نہیں مان سکتے کہ امان اللہ خاں نے کبھی کفایت شعاری کو ملحوظ رکھا ہو۔ اگر امان اللہ خان اس اعلان کے لکھنے اور اشاعت دینے میں ذرہ بھر بھی ہوش و تامل کو کام میں لاتا تو بہت ممکن تھا کہ اس کا قلم تھرا جاتا جب اس حقیقت سے آگاہی ہوتی کہ امان الله کی وزارت دربار کا بجٹ اسکی ابتدائے سلطنت سے انتہائے سلطنت تک افغانستان کی وزارت مالیہ میں موجود ہے اور جسکے مطالعے سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اسکا عملہ اور پیش خدمت، اسکی اپنی ذاتی پوشاک اور اپنے کنبے کے لباس کے اخراجات، بخاریوں کے گرم کرنے اور روشنی کے مصارف، اسکا ساز و سامان اور خریداریاں، اسکی موٹریں، شکاروں اور میلوں کا خرچ اسکی بخششوں اور شخصی تعمیروں کے مخارج اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ اعلحضرت شہید کا محمد یعقوب حسن
۲۲ شخصی او بارها درجه از مصارف اعلیحضرت شہید خرچ انکی گرد کو نہیں پہنچ سکتا ۔ امان اللہ کا علاوہ ترست ، بودجهٔ سالیانه امان الله سالانہ ذاتی بودجہ وزارت خارجہ کے بجٹ سے کہیں زیادہ ہوا کرتا تھا۔ ہم اس مسئلے سے از بودجهٔ وزارت خارجه سنگین تر بود ، کہ کیوں اتنا زیادہ خرچ کیا کرتا تھا تنگدل نہیں ہیں ما باین مسئله دلتنگ نیستیم که چرا اینطور لیکن امان اللہ کی نمک ناشناسی پر افسوس مخارج گزاف میکرد ، لیکن بین نمک ناشناسی آتا ہے کہ کیوں ہماری فیاض اور زندہ دل ملت کو بخیل اور اپنی فضولخرچ ذات کو کفایت شعار امان الله جای افسوس است ، که چرا ملت را مشہور کر رہا ہے ۔ کیا دنیا بے خبر ہے اینقدر بخیل و خود را کفایت شعار معرفی میکند، کہ نور السراج اور حسن جان کے پاؤں تلے مگر دنیا از خشت طلا و نقره ماندن زیر پای سونے اور چاندی کی اینٹیں نہیں بچھائی گئی تھیں ؟ کیا امان اللہ اپنی بھین کی شادی نور السراج و حسن جان اطلاع ندارد ؟ مگر کے موقع پر گوناگوں بدعتیں اور عجیب وغریب امان الله در عروسی خواهر خود اساطیر و بدعات لغویات روے کار نہیں لایا تھا ؟ اب متنوعه را اجرا نکرد ؟ حالا حیا ندارد که مینویسد: اس پر بھی اسکو شرم نہیں آتی جو لکھتا ہے "از بیت المال برای گذران خود در مدت کہ " اپنی پادشاہی کے دوران میں میں نے پادشاهی خویش چیزی نگرفتم" اپنی گذران کیلئے بیت المال سے کچھ نہیں لیا " (امان الله خان تمام ملت را اذیت داد) (امان اللہ خان نے سب ملت کو اذیت دی ہے) عیاشی اگر نسبت بامان الله ، بهتان امان اللہ کی نسبت عیاشی خواہ بہتان خواہ صدق یا صدق است ، ملت خوب واقف است جو کچھ بھی ہو ملت اس سے بہت اچھی طرح واقف ہے، دھوکا نہیں کھا سکتی۔ دنیا واروں کی عیاشی اور نفس عیاشی اهل دنیا تا امروز از دائرهٔ انسانیت پرستی اس دن تک بھی انسانیت کے حلقے سے
۲۳ میر یعقوب حسن (۲۵۰۰) سخه بیرون نشده مگر افسوس بر احوال امان الله .... تا امروز جراید وطنی بنام خود هیچ یک اعتراض ملت را نسبت به امان الله شایع نکرده است. اما امان الله دلتنگ شده میخواهد سوء اعمال خود را یگان یگان شرح داده برای اصلاح آن دلیل های طفلانه بتراشد، ما میگوئیم اگر روح امان الله حی بالله ومحبت و احساس او نسبت بملت زنده میشود، پس جواهرات اندوخته سالیان دراز، افغانستان را بخزینه بیت المال مسترد کند. ملت مقاصد امان الله را یکبار دیدیم کفایت کرد، از دکاندار تا دولت مند و از مامور تا طالب العلم همه مزۀ بیغمی ورفاه عصر امان الله را چشیدیم و این مزه تلخ تا قیامت فراموش ما نخواهد شد ، خبر خواهی ها و فدویت امان الله را نسبت به اهالی افغانستان خوب مشاهده کردیم مٹ نہیں چکی اور ہوا و ہوس کے ہندے اس میں مبتلا ہیں ، لیکن ہمیں امان الله کی سمجھ پر اور حالت پر افسوس آتا ہے کہ آجتک ہمارے کسی داخلی اخبار نے امان الله کی نسبت ملت کے کسی اعتراض کو شائع نہیں کیا مگر امان الله خواہ مخواہ کھیانا ہو کر چاہتا ہے کہ اپنے ایک ایک برے عمل کی تشریح کرے اور طفلانہ دلیلیں تراش کر انکو اچھے لباس میں دکھائے، پس اگر وہ ایسا ہی پاکباز اور ایثار والا ہے اور اسکے دل میں اتنی ہی شمہ اٹھتی ہے اور بچاری ملت کی محبت اور ہمدردی اسکو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی اور اسکی روح پھڑ پھڑاتی ہے تو ہم اسکو ایک نیک مشورہ دیتے ہیں جس سے اسکے درد بھرے دل کی تسکین ہو وہ یہ ہے کہ ان اندوختہ جواہرات کو جو سالہاے دراز سے افغانستان کے خون اور گاڑھے پسینے کی کمائی ہے اور جنکو وہ اپنے ساتھ لیگیا ہے بیت المال کے خزانے میں واپس کر دے۔ ملت نے ایک دفعہ امان الله کی حسن نیت اور مقصدوں کو اچھی طرح جانچ پرکھ لیا ہے مزید تجربے سے ندامت اٹھانا نہیں چاہتی چھابڑی بیچنے والے سے لیکر دولتمند آدمی تک عہدہ دار سے لیکر طالب علم تک سب نے امان الله کے عہد کی بیغمی اور رفاہیت کا مزا چکھ لیا ہے اور یہ ایسا مزا ہے جسکی تلخی کا ئنٹی ہم قیامت تک نہیں بھول سکتے۔ مزید براں ہم نے اپنی آنکھوں سے ملت افغانستان کے بارے میں امان الله کی مشہور عام خواری جاں نثاری اور قربانی کو بھی خود امان الله کی زندگی ہی میں اچھی طرح دیکھ لیا ہے کہ کیسے وہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو انقلاب کی بھڑکتی آگ اور خونریزی کی تار سے بچا کر امان میں لیگیا اور بیچارے مامورین
٢٤ که چه طور خود و اهل و عیال خویش را از بلاد و آتش انقلاب کشید، بیچاره مأمورین و اهل و عیال شان را بآتش سوزان مبتلا کرد، سردار حیات الله خان شهید و سردار عبدالمجید خان برادران امان الله و اهل و عیال این دو شهزاده و سائر اعزه و معارف و مشاهیر افغانستان حتی عموم طبقات ملت از بیغمی و آرامی عصر امان الله ، خوب حظ گرفتند ، هیچ گوشه و کناری در افغانستان دیده نمی شود که از حظ آرامی و بیغمی دور امان الله محروم مانده باشد . " امان الله خان در اعلان خود از پول و پیسۀ افغانستان حساب میدهد و از وضع اصول بودجه و اختیار دادن به وکلا راجع به تدقیق واردات ملک و مخارج سالیانه بحث میکند، و شاهد صداقت خود وضع این قوانین را معرفی میکند " اور ان کے خاندان کو طرح طرح کی آفتوں اور ناقابل برداشت مصیبتوں میں مبتلا کر گیا۔ بطور مثال سردار حیات اللہ خان شہید اور سردار عبدالمجید خان (امان اللہ کے بھائی) اور ان دو نوشہزادوں کے اہل و عیال اور تمام معززین اور افغانستان کے مشہور و معروف افراد حتیٰ ملت کے عام طبقے کے لوگ بھی امان اللہ کے عصر کی بیغمی اور آرام سے بہت اچھے بہرہ اندوز ہوئے ہیں کہ اب وہ پھر امان اللہ کے دیدار کو ترس رہے ہیں، واضح ہو گیا ہو گا کہ افغانستان کا کوئی کونہ اور کوئی گھر بھی باقی نہیں رہا، جہاں امان اللہ کے دور کے فیوض و برکات نہ پہنچے ہوں۔ "امان اللہ خان اپنے اعلان میں افغانستان کے روپئے پیسے کا حساب دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ بجٹ کے اصول کو اس نے وضع کیا اور اس نے ترویج دی۔ اور ملت کے نمائندوں کو دولت کے سالانہ دخل و خرچ پر بحث، تعدیل اور تنقید و تدقیق کا حق و اختیار دیا، اور ساتوں گویا ہوتا ہے کہ ان قوانین کا بنانا ہی میری صداقت کی دلیل اور میرے اخلاص کی شہادت ہے"
٢٥ (امان اللہ کیوں ملت کو جواب دینے سے کنی کتراتا ہے ؟) ١٣٠٩ کے ”لویہ جرگہ“ میں امان اللہ کے متعلق وکلائے ملت نے جو کچھ کہا ہے وہ در اصل اسکی اپنی درخواست کا جواب تھا۔ امان اللہ نے اپنے مکتوب میں مطالبہ کیا تھا کہ وہ زمینیں اور کارخانے جن کو وہ اپنی ذاتی ملکیت سمجھے بیٹھا تھا اسکو واپس کر دئے جائیں۔ جرگے نے اس پر اعتراض اٹھایا کہ امان اللہ کی نام نہاد زمینیں کسی وجہ سے بھی امان اللہ کی شخصی ملک نہیں ہوسکتیں۔ دلیل یہ ہے کہ اگر کوئی بادشاہ اپنی رعایا کے کسی فرد کی جائداد ضبط کرلے اور اسکو اپنی شخصی ملکیت بنالے ظالم وجابر ہے۔ طرفہ تو یہ ہے کہ ہم نے تمام کارخانوں کی قیمت بیت المال کے خزانے سے ادا کی ہے اب کس استحقاق اور سند سے امان اللہ کا عین المال قرار دیا جاسکتا ہے؟ بلکہ اس کے برعکس ہماری ملت کا دعویٰ ہے اور اس میں حق بجانب بھی ہے کہ امان اللہ خان افغانستان کے خزانے کے جواہرات کو جنکو وہ اکٹھا کر کے اپنے ساتھ لیگیا ہے اور اب عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے ملت کو واپس کردے۔ اگر امان اللہ اپنے قول کے مطابق واقعی ملت کا غمخوار، وطن دوست اور ترقی پرور ہے تو اسکو چاہئیے کہ بیت المال کے مال کو بدون حیل وحجت اور لیت و لعل کے بغیر فوراً لوٹا دے۔ امان اللہ خان اس روشن مسئلے کے ذکر سے تو احتراز کرتا ہے اور کارخانوں اور اپنے خرید کردہ سلعے کے (امان الله خان چرا جواب ملت را نمیگوید) در لویه جرگه ١٣٠٩ آنچه وکلا در باب امان الله خان گفتند ، راجع به درخواست او بود در باب استرداد اراضی و فابریکات که عین المال خود میشناخت ، جرگه اعتراض کرد که اراضی امان الله خان بهیچ وجه عین المال آن شخص نیست ، اگر پادشاهی مال و ملک کسی را ضبط کند . و آنرا عین المال خود قرار بدهد آن پادشاه ظالم است ، فابریکات را تماماً از پول بیت المال خریداری کرده ایم ، چطور عین المال امان الله خان شد ؟ ملت میخواهیم جواهرات خزینه افغانستان را از امان الله خان بگیریم ، امان الله خان آنها را جمع کرده با خود برده است باید بملت بسپارد اگر امان الله وطنخواه و ترقی پرور است، پس مال بیت المال را واپس تسلیم کند . امان الله خان ازین مسئله هیچ بیانی نمیکند و مسائل فابریکات
٢٦ دانسته خریداری کرده خویش را در میان میآرد مسائل کو درمیان میں لے آتا ہے ۔ لیکن و این دروغ فاحشی را که در اعلان خود می بافد، اس کے اپنے اعلان میں اس سارے اضطراب اور دروغ بیانی کا اصلی باعث یہ ہے همه از همین مسئله است، که چرا محمد نادر شا که محمد نادر شاہ افغان نے اسکی درخواست کو بملت موقع این درخواست را داد، ما میتوانیم ملت کے سامنے کیوں ڈالا کہ ملت کو اس پر بگوئیم، که املت تا بنقطه آخر، در باب استرداد اعتراض اُٹھانے کا موقع ملا ۔ ہماری ملت کیونکر اعتراض نہ کرے؟ بلکہ اس بات پر بھی آمادہ و تیار ہے جواہرات افغانستان با امان الله خان دعوی که افغانستاں کے جواہرات واپس لینے میں آخری حد تک امان اللہ خاں کے ساتھ مقدمہ خواهیم کرد، در موقع افتتاح شورای ملی از طرف بازی کرے۔ شوریٰ ملی کے افتتاح کے موقع پر ملت وکیل گرفته خواهد شد، و با امان الله ملت کیطرف سے ایک وکیل مقرر کیا جائیگا در محاکم دنیا محاکمه خواهیم نمود، نادر شاہ جو ہماری طرف سے امان اللہ پر دنیا کی عدالتوں میں دعویٰ دائر کریگا۔ محمد نادر شاہ افغان کو کوئی حق حق ندارد ازین مسئله ما ملت را مانع شود، حاصل نہیں اور نہ ہوگا کہ ملت کو اس فیصلے اور کارروائی سے منع کرے یا امان اللہ کی حمایت یا از امان الله حمایت کند. و دلسوزی میں کوئی بات کرے۔ در عصر امانی ب کدام بودجه امان اللہ کے خاندان کی خیر خواهی امان اللہ عہد میں بی حسنا ملی نمی شد حیات کا بھی پاس نہیں کیا گیا ماملت مگر از بودجه های عصر امانی اطلاع نداریم کیا ملت عصر امانی کے میزانیے سے واقف نہیں ہے ؟ کہ آج امان اللہ دنیا میں یہ اعلان که امان الله امروز در دنیا اعلان میکند، که شورای کرتا ہے کہ شورای ملت مملکت کے بجٹ پر دولت بودجه مملکت را میدید، و نکته چینی میکرد دقت کیا کرتی تھی اور اس پر نکتہ چینی کرتی تھی اور یہ میری ہی ذات تھی جس نے ملت کو اس حق و من این حق را بملت داده بودم گوملت از بہرہ اندوز کیا۔ لیکن کیا ملت امان اللہ کی سکی [Vertical text in left margin:] خیر خواهی حسن (صفحه ۲۵ را به بینید ) Hila
۲۷ تنخواه های گزاف مادر ، مادراندرها ، و برادرها و برادرزاده ها ، و عموها ، و عموزاده های امان الله واقف نیست ؟ مگر تنخواه خویش و اقربای امان الله از تمام تنخواه نسبی محمد زائی ها افزون تر نبود ، چنانچه تا امروز خاندان امان الله از محمد نادر شاه نیز همان مواجب گزاف را میگیرند و ملت ازین مسئله راضی نیستیم ، باید مثل سائر محمد زائی ها و دیگر زائی ها ، این ها را حکومت بشناسد ، اینکه نادر شاه ایشانرا نجات داد کافیست ما نمیدانیم امان الله بکدام نصیحت وکلای ملت عمل کرد ، که امروز از مجلس شورای دولت خود اظهارات میدهد ، امان الله خان که همیشه برضد نصایح ملت و وزرای صادق و با دیانت افغانستان رفتار کرده است . ماں اور سوتیلی ماؤں ، بھنیں، بھائیوں بھتیجوں و چچوں اور عمر زادوں کی بڑی بڑی تنخواہوں سے واقف نہیں ہے ؟ کیا امان اللہ کے خویش و اقارب کی تنخواہ تمام محمد زئیوں کی خاندانی تنخواہ سے بڑھ چڑھکر نہ تھی ؟ چنانچہ آج بھی امان اللہ کا خاندان محمد نادر شاہ افغان سے وہی بڑے بڑے وظیفے وصول کر رہا ہے اور ہماری ملت اس کارروائی پر رضامند نہیں ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ امان اللہ کے ان قریبی رشتہ داروں کو تمام محمد زئیوں کے بقیہ افراد اور دوسرے قبائل کے اشخاص کی مانند جانے اور ان کے ساتھ کوئی خاص امتیاز روا نہ رکھے ۔ کیا اُن کے لئے یہی کافی بلکہ نعمت غیر مترقبہ نہیں ہے کہ محمد نادر شاہ افغان نے ان کو ظلم و وحشت سے نجات دی؟ ہم حیران ہیں کہ امان اللہ نے وکلائے ملت کی کونسی نصیحت پر عمل کیا ہے کہ وہ آج اپنی مجلس شورای دولت کو اختیارات موہوب کرنے پر خامہ فرسائی کر رہا ہے ، حالانکہ امان اللہ کا ہمیشہ یہ رویہ رہا ہے کہ وہ افغانستان کی ملت اور صادق و دیانتدار وزیروں کی نصیحت کے خلاف اپنے شخصی خیالات کی پیروی کیا کرتا ۔
۲۸ احترام جذبات عمومی | نادری عہد میں شورای ملی } و شورای ملی در عهد نادری | اور جذبات عمومی کا احترام } نادرشاه شورای ملی را که وعده فرموده بقرار امر الهی و شاورهم فی الامر افتتاح میکند. شورای ملی هر قدر حقوقی که در سائر ممالک داده شده داده میشود چنانچه در موقع افتتاح شورای ملی که در ماه ثور ۱۳۱۰ است تمام حقوق شورای ملی اعلان میگردد رئیس شورا از خود وکلا تعیین خواهد شد. حکومت مسئول وکلای ملت خواهد بود ، تمام عہد نامه جات پیش وکلا گذاشته خواهد شد. هیچ چیزی مخفی نخواهد ماند. اعلیحضرت محمد نادر شاه هر چه وعده فرموده اند. همه را ایفا نموده و مینمایند. لیکن افسوس بر احوال امان الله که هیچیک وعده و میثاق خود را بهیچ بجا نکرده است. ملت اعطای این حقوق را محض از نادرشاه میدانیم. امان الله بهیچ کدام محمد نادر شاہ افغان اپنے وعدے کے مطابق بغوای و شاور هم فی الامر شوریٰ ملی کا افتتاح کرتا ہے، جسقدر حقوق کہ ہر شوریٰ ملی کو دنیا کے سب ممالک میں تفویض کئے گئے ہیں افغانستان کی شوریٰ ملی کو بھی دیدئے جائینگے ۔ چنانچہ شوری ملی کے انعقاد کے موقع پر (ماہ ثور ۱۳۱۰ مطابق ماہ مئی ۱۹۳۱) شوری ملی کے تمام حقوق کا اعلان کر دیا جائیگا، رئیس شوریٰ انہی وکیلوں میں سے معین ہوگا، حکومت ملت کے نمائندوں کے سامنے جوابدہ ہوگی۔ تمام عہد نامے وکیلوں کے سامنے رکھے دئے جائینگے اور کوئی چیز ان سے مخفی نہیں کہی جائیگی۔ گویا شوریٰ ملی حقیقی معنوں میں پارلیمنٹ ہوگی ۔ اعلیحضرت غازی نے جو وعدہ بھی فرمایا ہے اسکو ایفا کیا ہے اور آئندہ بھی یقیناً ایفا کرینگے، لیکن افسوس ہے امان اللہ کی حالت پر کہ اپنا کوئی وعدہ اور میثاق کسی کے ساتھ بھی بجانہ لایا۔ جن حقوق و مراعات سے ملت آج فیضیاب ہے ہم انکو محض محمد نادر شاہ کی نوازش اور بخشش سے منسوب کرتے ہیں۔ مگامان اللہ نے
۲۹ وعده خویش را تا امروز ایفا نکرده است ہمہ | تو آجتک اپنے کسی وعدے کو پورا نہ کیا وعدہ ہاے او دروغ بود ، و این در و غگوئی | اور اپنے جھوٹے وعدوں سے ملت کو دھوکا | دیتا رہا، اور یہ امان اللہ کی دروغ بافیوں امان الله بود ، کہ او را ملت ، مجبور بفرار کرد . | اور وعدہ خلافیوں کا نتیجہ تھا جو ملت نے | اسکو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا ۔ امان الله میگوید کہ : | امان اللہ کہتا ہے :- آنچہ لویہ جرگہ در کابل نسبت با و | "لویہ جرگہ، نے کابل میں جو کچھ بھی شایع کردہ از نمایندگان ملت | میری نسبت شائع کیا ہے نیست و کلای لویہ جرگہ وکیل | ملت کے نمایندوں کی طرف سے نہیں ہے۔ کیونکہ جو اعضا ملت نبودند ، بلکہ بعضے نفیر را | "لویہ جرگہ، میں شامل ہوئے تھے از مناطق نزدیک پایتخت بزور | دراصل ملت کے نمایندے نہیں تھے بلکہ چند اشخاص کو پایہ تخت کے جمع کرده بودند و بنام آنها جلا | قرب و جوار سے ہی بزور اکٹھا شایعات کردند و ر نہ کلاشان کان | کر لیا گیا تھا اور ان کے نام سے میرے بر خلاف اشاعت کی گئی این ملت همان است که در هر قدم | ورنہ اکابر ملت تو وہی لوگ ہیں مرا مدافعه کردند ، از پیر هفتاد ساله | جنہوں نے ہر قدم پر میری طرف سے تا طفل دوازده ساله در رکاب من | مدافعت کی، پیر ہشتاد سالہ سے لیکر دوازده سالہ طفل تک نے میرے جھنڈے تلے استاده و با اشر ار جنگیدند، و جہا ہے | باغیوں اور طاغیوں کے ساتھ مقابلہ کیا عزیز خود را فدای من کردند ، و تا من خود | اور اپنی عزیز جانوں کو مجھ پر سے آنها را از جنگ باز نداشتم " | فدا کر دیا اور جبتک خود میں نے انکو
رو نگذاشته مانده اند . لڑائی سے نہ روکا انہوں نے منہ نہ موڑا۔ جواب جواب وکلای جرگه ہائے سابقه امان الله کے متعلق سابقه مجلسوں کے نسبت با امان الله چه عقیده داشتند وکیلوں کا عقیدہ امان الله با انچه دروغهای سیاه و تاریک امان اللہ نے ایسی دروغ بیانیوں اور فریب خود سلطنت آبا و اجداد مرحوم خود را تسلیم کاریوں سے اپنے مرحوم آبا و اجداد کی سلطنت کو کھو دیا اور ایسی مقدس امانت کو شقاوت پیشه دزدان شقاوت پیشه کرده راه فرار ڈاکوؤں کے حوالے کر کے بھاگنے ہی میں اپنی جان بچانے کی اختیار کرده ہنوز ہم از دروغ بافی زبان امان ڈھونڈی۔ لیکن اس پر بھی جھوٹ بکنے سے نہیں جھینپتا۔ ممکن ہے کہ ایک دفعہ تو انسان نمیگیرد ممکن است یکدفعه انسان دنیا را به دروغ گوئی سے دنیا کو فریب دیگر پھندے میں دروغگوئی فریب بدہد، اما ہر روز، به پھنسالے لیکن یہ کہ ہر روز دروغ بیفروغ سے دروغ و کذب کامیاب شدن محال ست . کامیابی حاصل ہو ناممکن محض ہے ۔ آئندہ ہم یقیناً "لویہ جرگہ" کی اہمیت، با اینکه ما راجع به عظمت و صحت لویه جرگه صحت اور باضابطگی پر قلم اُٹھائینگے اور ۱۳۰۹ و اثبات این مدعا که وکلای آن قطعی دلائل اور مقنعہ براہین سے ثابت کرینگے کہ افغانستان کے جو حصص نے بصورت صحیح و اساسی از تمام مناطق مقرره قواعد کے ماتحت اور صحیح اصول افغانستان حسب قواعد مقرره انتخاب اور اساسی طریقے پر (مجلس کبیر) کے شده اند، آتی دلائل مقنعه را خواهیم نگاشت وکیلوں کو انتخاب کیا تھا، لیکن اس جگہ بھگوڑے امان اللہ کے علی الرغم جتلانا چاہتے ہیں درینجا علی الرغم امان الله میگوئیم که وکلای که جن دنوں اعلیحضرت غازی مہماندار شاه افغان
۳۱ لویه جرگہ ۱۳۰۶ که وکلای صحیح بودند، امان اﷲ ایشان را بزور جمع نکرده بود، و در آنوقت اعلحضرت محمد نادر شاه در جنوب فرانسه تشریف داشتند. آن وکلا بحضور امان اﷲ در دندانه اسپ دوانی پغمان باغ رحمت اﷲ خان چه گفتند؟ و در موقع مراجعت به ملت از احوال امان اﷲ چه بیان کردند؟ سمت مشرقی بر علیه امان اﷲ چه طور قیام نمود؟ در جرگه حده چه رأی تصویب شد! و برای امان اﷲ چه مواد فرستادند، مگر امان اﷲ آنهمه را طرفداری پیر هفتاد ساله و طفل دوازده ساله حساب میکند. جنوبی فرانس میں تشریف فرما تھے کیا امان اﷲ نے ۱۳۰۶ کے ”لویہ جرگہ“ کے وکیلوں کو جنکو وہ قوم کے صحیح نمائیندوں کے نام سے تعبیر کرتا ہے مجبر و اکراہ جمع نہیں کیا تھا؟ اور ان وکیلوں نے گھڑ دوڑ کے چبوترے پر جو پغمان میں ہے اور رحمت اﷲ خان کے باغ میں امان اﷲ کو کیا کہا تھا؟ اور جب وہ اپنے اپنے گھروں کو واپس گئے تو ملت کو امان اﷲ کے بارے میں کیا کچھ کہا؟ سمت مشرقی کے اہالی امان اﷲ کے برخلاف کس ہمت و استقلال سے ڈٹے رہے؟ ہڈہ کے جرگے میں کیا کیا قرار دادیں پاس ہوئیں؟ اور انہوں نے کس مضمون کا خط امان اﷲ کے پاس بھیجا؟ لیکن امان اﷲ ان سب مخالفتوں اور ناراضگیوں کو ستر سالہ بوڑھے اور بارہ سالہ بچے کی طرفداری پر محمول کرتا ہے۔ آیا دران شرائط پیر هفتاد ساله و طفل دوازده ساله خلع امان اﷲ و محاکمه او بحضور ملت و در صورت ثبوت سب نبی و مخالفت شریعت نبوی (ص) صدور حکم سنگسار شرط گذاشته نشده بو؟ اگر امان اﷲ خان کیا ان ریز دلیوشنوں میں امان اﷲ کے جان نثار ہفتاد سالہ پیر اور طرفدار دوازده ساله بچے کی ایک تجویز یہ نہیں تھی؟ کہ امان اﷲ کو تخت سے علیحدہ کر دیا جائے اور ملت کے حضور میں اسکا محاکمہ کیا جائے۔ اور اگر اس پر سب نبی اور شریعت نبوی (ص) کی مخالفت ثابت ہوجائے تو اسکو سنگسار کر دیا جائے۔
۳۲ فراموشی پیدا کرده ما می توانیم تمام آن شرائط قوم را عند اللزوم طبع کرده پیش رویش بگذاریم . اعلیحضرت محمد نادر شاه بدخواه امان الله جان نیست لویه جرگه سنه ۱۳۰۹ میخواست بسیار چیزها را بر علیه امان الله قانون بگذارد و همان شرائط جرگه پغمان را باد سه از نو بشنواند او را زیر محاکمه ملت بد نیا معرفی کند ، اما اشفاق محمد نادر شاه موقع نداد . ما میتوانیم بگوئیم محمد نادر شاه هنوز هم بد خواه امان الله نبود اما از امان الله بد خواهی بسیار مشاهده شده است با پدر بزرگوار و عم غمخوار خود چه کرد؟ که با محمد نادر شاه کند . سبب فرار مخفیانه امان الله چه بود ؟! این بیانیه که ملت خود را برای امان الله اسیکرد اگر امان الله خان کے ہوش و حواس رفو چکر ہوگئے ہیں اور ان کو نسیان کی مرض لاحق ہوگئی ہے تو ہم قوم کی ان تمام تجاویز کو بوقت ضرورت چھاپ سکتے ہیں ۔ شاید ان کے مطالعے سے آپ کے دماغ کے پرزے ٹھیک ہوجائیں ۔ اعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ کی سمح ذات امان اللہ خان کی بدخواہ نہیں ہے ۱۳۰۹ کے ”لوئے جرگے“ کی خواہش تھی کہ امان اللہ کی تمام جنایتوں اور خیانتوں کی مفصل رویداد تیار کرکے اسکو ایک قانونی صورت دے اور جرگہ پغمان کی تمام تجاویز کو سراز نو مشتہر کرکے تمام دنیا کو بتلائے کہ امان اللہ ان جنایت ملت کا مجرم ہے ۔ لیکن محمد نادر شاہ افغان کی شفقت اور سمحت نے ملت کو اس بات کا موقع نہ دیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ محمد نادر شاہ ہنوز بھی امان اللہ کا بد خواہ نہ تھا لیکن امان اللہ کی طرف سے ہمیشہ بہت زیادہ بد خواہی دیکھی گئی ہے ۔ اس نے اپنے بزرگوار باپ اور غمخوار چچے کے ساتھ کیا کیا جو اب محمد نادر شاہ افغان کے ساتھ روا رکھیگا۔ امان اللہ کا چھپکر بھاگ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بزدل تھا اور ملت نے اسکا ساتھ چھوڑ دیا تھا بے اختیار ہنسی آتی ہے جب ہم امان اللہ کے اس اعلان
۳۳ وا مان الله مانع شد ، یک چیز مضحک است اگر اینطور بود، چرا اهل و عیال ثانی خود و تمام خاندان خویشس را بانو امیس ملت در پنجه وحشت سقاوی گذاشت؟ آیا در صورتیکه پیر هفتاد ساله و طفل دوازده ساله برای فدا کردن بر کاب امان الله حاضر بودند امان الله چرا خضیه خود را خلع کرد؟ و خیمه قندها رقرار نمود؟ لازم بود با پیران هفتاد ساله و طفلان دوازده ساله مشوره میکرد و برای آنها یک راه نجات و انمود میساخت . آیا امان الله خان با وزرا ی خویش و اهل کابل مشوره و یا لاقل وداعی هم کرده است ؟ از کی در باب فرار خود بطرف قندهار پرسیده بود ؟ امان الله میخواهد باین بهانه های خام بزدلی خویش را رحمدلی بدنیا معرفی کند، دنیا چشم و گوش دارد، حیف است که هنوز هم با کلام طفلانه خود را رسوا و واقعہ بیان کو پڑھتے ہیں کہ ملت تو میرے لئے قربانی دیتی ہوتی تھی لیکن میں نے خونریزی کے خیال سے اسکو منع کیا " اچھا اگر ایسا ہی تھا تو کیوں امان اللہ اپنی دوسری بیوی اور اپنے خاندان کے اہل عیال کو اور اپنی جان نثار و وفادار ملت کے ناموس دعوت کو سقے کے پنجہ ظلم و وحشت میں پھنسا گیا ؟ جس صورت میں ستر سال کا بوڑھا اور بارہ سال کا لڑکا امان اللہ کی رکاب میں اپنا خون بہانے کیلئے حاضر اور تڑپ رہا تھا بھگوڑا امان اللہ کیوں چپکے سے تخت سے دستبردار ہوگیا؟ اور چھپکر قندھار بھاگ گیا انسانیت اور احسان کی جزا کا تو یہ تقاضا تھا کہ ہفتاد سالہ فدا کار بوڑھوں اور دوازدہ سالہ جان نثار بچوں کے ساتھ صلاح و مشورت کرتا اور انکو ایک نجات کا راستہ بتاتا۔ (اجی کیا کہنے ۔ وفادار ملت کو عجب دلداری ملا تھا ؟) کیا امان اللہ نے اپنے وزیروں ، اہلکاروں اور کابل کے باشندوں کے ساتھ مشورہ کرنا تو درکنار چھو الوداع بھی کہی؟ آیا کسی سے پوچھا کہ میں کابل کو چھوڑ کر قندھار بھاگ جاؤں یا نہ ؟" امان اللہ چاہتا ہے کہ ایسے ایسے بودے بہانے اور عذر لنگ تراشکر اپنی بزدلی اور بیوقوفی رحمدلی اور وفاداری کا جامہ پہنائے حالانکہ خود اسکی موجودگی میں اور اس کے بھاگ جانے کے بعد افغانستان کی ملت خاک وخون میں لوٹتی نظر آتی ۔ دنیا کے کان سنتے ہیں اور آنکھیں دیکھتی ہیں۔ لیکن حیف ہے کہ امان اللہ اب بھی اپنی طفلانہ حرکات ، اپنے بھدے خیالات اپنی بھونڈی دلیلوں اور اپنی کچی باتوں سے اپنی مٹی پلید کر رہا ہے ۔ اسکو تو چاہیے کہ چلو بھر پانی میں ڈوب
٣٤ موم دنیا می سازد . امان الله میگوید : « مقاله که بنام میرزا میر غلام خان شایع شده از قلم او نیست ، و ریو تر خبر عیسوی شدن امان الله و خانم او را که شایع کرده آنهم از طرف ریو تر نیست » مرے ۔ امان اللہ کہتا ہے :۔ ”جو آرٹیکل کہ میرزا میر غلام خان کے نام پر شائع کیا گیا ہے وہ در اصل اسکے اپنے قلم سے نہیں ہے ۔ اور امان اللہ اور اسکی اہلیہ کے دین عیسوی قبول کرنے کی خبر بھی جو ریو ٹر کیطرف منسوب کی گئی ہے وہ ریوٹر نے شائع نہیں کی“۔ جواب (مقاله میر غلام نمونه از حسیّات ملّی است) میرزا میر غلام خان را هر کس می شناسد و در کابل بہمہ قارئین معلوم است ، مقاله که در راد امان الله آتش زده از میرزا میر غلام خان است یا نه ؟ محمد نادر شاه مگر کاری ندارد که محض اوقات عزیز خود را بمقاله نویسی و آنهم برضد امان الله صرف کند مگر امان الله را در غیاب نادر شاه ملت ندید و از اعمال و عقائد او مطلع نیست ؟ محمد نادر شاه که پنج سال از مملکت دور مانده است از بسیار جواب (میر غلام کا مضمون اصل قومی جذبات کا نمونہ ہے) میرزا میر غلام خان کی شخصیت ایسی نہیں جو مجہول او مجمل ہو اسکو کابل میں ہر خورد و کلان اچھی طرح پہچانتا ہے ۔ آیا قارئین مضمون کی طرز تحریر ادرا ہ سے اندازہ نہیں لگا سکتے کہ اسکے لکھنے والا میرزا میر غلام خان ہے یا کوئی اور شخص ؟ کیا محمد نادر شاہ افغان کو اتنی بڑی سلطنت کے کاموں سے اتنی فراغت مل سکتی ہے کہ وہ اپنے قیمتی اور مفید وقت کو مضمون نگاری کی نذر کر دے؟ اور پھر وہ بھی امان اللہ جیسے شخص کے خلاف ۔ کیا ملت نے امان اللہ کو محمد نادر شاہ کی غیبوبت میں نہیں دیکھا ہے اور اسکے اعمال و عقائد سے واقف نہیں ہے ؟ محمد نادر شاہ افغان جو پانچ سال اپنے وطن سے
٣٥ چیز نامے امان اللہ اطلاع نداشت بلت از احوال خانہ و بیرون امان اللہ، بیشتر واقفیت دارد ! باہر رہا ہو اسکو امان اللہ کے خصوصی رازوں سے کیسے واقفیت حاصل ہو سکتی ہے ؟ لیکن ملت کی متلاشی نظروں سے امان اللہ کے اندرونی اور بیرونی حالات نہیں چھپ سکتے وہ بہتر جانتی ہے ۔ خبر عیسوی شدن امان اللہ را کہ وزیرمختار اعلیحضرت نادر شاہ در مصر تردید کرد ، ما امان اللہ عقل کا اندھا ہے جو خواہ مخواہ اپنے تنصر کی خبر مشہور کر رہا ہے حالانکہ اعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ کے مصر میں وزیر مختار نے اسکے عیسائی ہونے کی تردید کر دی ہے ۔ اعلیحضرت محمد نادر شاہ کی میتوانیم بگوئیم کہ اعلیحضرت نادرشاه ہنوز ھم بدخواہ امان الله نیست ، اما دشمن امان اللہ اعمال افکار و اخلاق خود اوست عقیده عبدالرحمن نسبت بہ امان اللہ چیست . اس فراخدلی اور بلند ہمتی کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ اب بھی امان اللہ کا بد خواہ نہیں ۔ مگر امان اللہ کے حقیقی دشمن اسلئے اپنے اعمال و بد افکار اور اخلاق ہیں جو اسکو اُکساتے رہتے ہیں کہ اپنی قلعی کھولنے پر دنیا میں ڈھنڈورا پٹوائے۔ امان اللہ کے متعلق عبدالرحمن کا عقیدہ امان اللہ خان عبد الرحمن رئیس بلدیه را شهید راه طرفداری خود بدنیا معرفی میکند و میگوید : امان اللہ دنیا کو بتلاتا ہے کہ عبد الرحمن رئیس بلدیہ کو (میونسپل کمشنر) اسکی طرفداری کے جرم میں شہید کیا گیا ہے اور کہتا ہے کہ :۔ "چون عبد الرحمن طرفدار امان الله بود ، نادر شاه اورا بقتل رسانید" "چونکہ عبدالرحمن امان اللہ کی طرفداری کا دم بھرتا تھا نادر شاہ نے اسکو قتل کر ڈالا " بکھیئے صفحہ ۳۱
٣٦ جواب اگر عبد الرحمن طرفدار امان الله بود، پس امان الله او را از سرمنشی بودن حضور خود چرا عزل کرد؟ و اگر عبد الرحمن طرفدار امان الله بود، از ریاست بلدیه قندهار چرا عزلش نمود؟ اگر عبد الرحمن طرفدار امان الله بود از مدیریت گمرک کابل که محمد ولیخان در موقع سیاحت امان الله مقرر کرده بود، چرا عبد الرحمن را معزول ساخت؟ تحریراتیکه از عبد الرحمن در دست حکومت آمده و حکومت آنرا زینکوگرافی کرده است، تا در کتاب علل انقلاب افغانستان نشر کرده شود، ما سه صحیفه آنرا بدست آورده عیناً زینکوگرافی آنرا در صحائف بعد ذیلاً نقل میکنیم تا بدنیا معلوم شود که آیا حکومت نادرشاه عبد الرحمن را نسبت بطرفداری امان الله اعدام کرد یا اینکه عبد الرحمن خائن ملک و ملت بود؟ جواب امان الله کے قول کے مطابق اگر عبد الرحمن واقعی امان الله کا طرفدار تھا تو امان الله نے اسکو اپنے حضور کے عہدہ سرمنشی سے کیوں معزول کیا ؟ اور اگر عبد الرحمن امان اللہ کا طرفدار تھا تو امان اللہ نے اسکو قندھار کی ریاست بلدیہ (میونسپل کمشنری) سے کیوں برطرف کر دیا ؟ اگر عبد الرحمن امان الله کا طرفدار تھا تو امان الله نے ایسے یار غار کو کابل کی مدیریت گمرک سے (محصول چنگی) جس پر محمد ولیخان نے امان الله کی سیاحت کے دوران میں متعین کیا تھا کیوں موقوف کیا؟ شاید دلدار امان اللہ اپنے طرفدار اور یاران وفادار کی ایسے ہی خبر گیری کرتا ہوگا۔ جس سے اسکے عاشقان زار سپر اپنی جانیں تک نثار کر دیتے تھے۔ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔ عبد الرحمن کی تحریروں اور یاد داشتوں کو جو حکومت کے ہاتھ گئی ہیں اور حکومت نے جنکے فوٹو اتار لئے ہیں محفوظ کر لیا گیا ہے تاکہ ان کو بھی عند اللزوم اس کتاب میں جو انقلاب افغانستان کی علل و اسباب پر لکھی جائیگی چھاپ دے ۔ ہم سردست ان میں سے صرف تین صفحوں کا فوٹو اس کتاب کے آئندہ صفحے پر شایع کرتے ہیں تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ آیا محمد نادر شاہ کی حکومت نے عبد الرحمن کو امان اللہ کی طرفداری کے الزام میں موت کی سزادی ہے یا یہ کہ عبد الرحمن ملک ملت کی خیانت کے جرم میں قتل کیا گیا۔
( ٣٧ ) زینکوگراف صحیفۀ (اول) کتابچه یاد داشت عبدالرحمن نسبت به امان الله خان برخورد و چنانچه بصورت یک یاد داشت لزوم میشود و از آوردن دلایل و منابع و تفصیلات صرفنظر میکنیم، مگر جائیکه شبهه ئی در باره این وقوعات داده میشود مظالم سردار را در باب ها و فصل ها و ماده ها بیان میکنیم و انرا بر محتوی و مبانی اساسی دسته‌بندی می‌نماییم باب اوّل: نواقص امان الله فصل اوّل -- نواقص دوره امان الله خان : الف -- نواقص شخصی خود امان الله خان ۱ -- امان الله خان در ابتدا سلطنت خود را بر اساس حیله و فریب گذاشت، و در دورۀ اول سلطنت چه حق مردم را با او عهده که بالفاظ شیرین میگوید، مخالفین آنرا سرکوب میکند. ملا محمد ابراهیم را (۱) بچند آلت (۱۳) خار در بخلاف بکشتن و آلت را سوراخ نکرده و از طرف دیگر بمجردین اعلان حریت داده، و در همین زمان جمیع محبوسین خود را محمد عمر خان توخی و افغان باشی ها می کشت . و مردم را تش به دروغ میگوید ما، تمام زندانیان ملت بیدا لغز را از حبس رهانیدیم. ۲ -- امان الله خان از ابتدای حکومت خود غرورا مخالفت و نخوت داشت نشان داده، چنانچه در چاپه دوم ماه اول در باغ بالا امان بک میرزمان پیشین سفید عارض را که شاید ۳ قرآن رشوت گرفته بود از پیشین موقوف کرد، لکن بپاداش عطا محمد خان وزیر تعلیم و تعلم میرزا محمد سرور که میرزا یحیی بی ا و (؟) میداد) و پسر او یک باشی و رشوۀ
( ۳۸ ) زینکوگراف صحیفه ( ۲ ) کتابچه یاد داشت عبدالرحمن لسان به امان الله خان معروضات جانب بصورت یک یاد داشت نوشته مانده چون آوردن دلایل اضافی موجب تطویل است. ازان صرفنظر نمودیم یکجا در بعضی موارد لازم آید زبانی تفصیلات داده میشود بگر چون اکثر چیزهایت است . شاید شب به آوردن در آنسرها مجالی هم نمانده اسباب دست این کار ها از انقلاب انه در خصوص اسباب این انقلاب هرکس هر چه میگوید، در کلمه طیبه توجیهات پی هم چند عدد مثلاً یکی میگوید که چه لحاظ نا امیدی است دیگر ها میگوید که دشت غازی کاردار بود ، ، ، ، سفارش فلان فلان اشخاص جراه از راه بود ، ، ، ، نا گوارات بود ، ، ، ، بیکاره گی نظام بود ، ، ، ، قانون بود که شریعت دست زده و منهدم گردیده بود ، ، ، ، حیاشی و شتر گاوای بود ، ، ، ، بی ایمانی بود در حال هر کس یک چیزی میگوید اما مه رویدادیکه بخیال م هم میرسد . اما اصل سبب اساسی انقلاب را یک چیز است و آن یک چیزیست که همواره فراغون و مجدداً نگه در احصای ادارۀ تمور الدی سکونت گذشته ها : اوضاع حکومت گذشته از آغاز تا آنکه چرایش رسید پیوسته برای دفع پنجابیه ها واگذاشته میشد. سبوق و مدافع نقض دو اول تا اخیر یک حکومت نخستین و منقلب را که به برقاول اراسته و بود رتبه پرستی ، از وضع برجسته اول شست و پر چمشک آزادی ، و خیال آبادی دشت و اعصاب بر جای متورم مریدا نیه حیدری کر کارهای بی بنیاد می آمد که نموده و پایین ثبث کر مرهم داشت فاید .
( ۳۹ ) زینکوگراف صحیفه ( ۳ ) کتابچه یادداشت عبدالرحمن نسبت به امان الله خان [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] در بعض [ILL] [ILL] به [ILL] تا [ILL] [ILL] همراه [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL]
٤٠ (کتابچہ یادداشت کے تین صفحوں کی زنگوگرافی) عبدالرحمن جسکو امان اللہ اپنا طرفدار بتلاتا ہے ذیل میں اسکی یادداشتیں ملاحظہ ہوں ۔ عبدالرحمن لکھتا ہے ۱۔ اس جگہ جو فقرہ بھی لکھا گیا ہے صرف ایک یادداشت کے طور پر ہے اور بسی۔ دلیلوں اور مثالوں کے لانے اور تفصیلاً میں پڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ہاں اگر ضرورت پڑی تو ہم تمام مسائل اور دلائل کو پوری توضیح و تشریح کے ساتھ زبانی بیان کرینگے، اور ترتیب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے مطالب کو بابوں فصلوں اور مادوں میں تقسیم کرینگے اور ہر عنوان کا اعتبار اسکے اساسی مسائل پر ہوگا۔ (پہلا باب۔ نواقص و علل انقلاب) فصل اول ۱۔ امان اللہ خان کے عہد کے نواقص ۱۔ ۱ ۱۔ امان اللہ خان نے ابتداء سے ہی اپنی سلطنت کی بنیاد کو حیلہ اور فریب پر رکھا۔ اور پہلے دو مہینوں میں ہی ہوشمندوں نے کیا بلکہ عوام نے بھی سمجھ لیا کہ اس کے ظاہری الفاظ اور ہوتے ہیں اور اسکا عمل بالکل ان کے برخلاف ہوتا ہے مثلاً فوجوں کی تنخواہ پہلے (۲۰) روپیہ فی کس مقرر کی، لیکن بعد میں (۱۲) روپے بھی نہ دی۔ مجاہد یعقوب حسن
٤١ ایک طرف تو باقیات کی بخشش کا اعلان کیا اور دوسری طرف انگریزوں کے خلاف جنگ کا اعلان دیا۔ لیکن ٹھیک اسی اثنا میں سرکاری پیادے تھے جو کابل کے ہر گلی کوچے میں باقیدہ اشخاص پر مقرر تھے اور جو لوگوں پر سخت ظلم کرتے تھے اور انکی آبرو ریزی کے درپے رہتے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابتدائے سلطنت سے ہی سینکڑوں لوگ اس سے بیزار ہو گئے۔ ۲:- امان اللہ اپنی حکومت کے شروع ہی سے اپنے آپ کو رشوت ستانی کا دشمن بتاتا تھا چنانچہ انہی پہلے دو مہینوں میں مہمان خانہ کے باغ میں ایک عاجز ، سفید ریش کلرک کو جس نے شاید صرف ۳ قران (قریباً ایک ہندوستانی روپیہ) رشوت میں لئے تھے ڈاڑھی سے لٹکا کر پھانسی دیدی لیکن ٹھیک اسی رات عبدالعزیز خان زیرِ داخلہ نے مرزا محمد سرور خان کے ذریعے جو ان دنوں تحصیلی پر مقرر تھا صرف ایک باقیدہ شخص سے (۲۰) ہزار روپے رشوت میں لئے۔ بواسطہ رشوت دیدی گئی تھی! روپئے کو ۱۸۰۰۰ مبلغ ۱۲۰۰۰ در اصل یہ
٤٢ جاننا چاہیے کہ یہ باتیں محض یادداشت کے طور پر لکھی گئی ہیں، دلیلوں اور مثالوں کا بیان کرنا طوالت کا موجب ہے اسلئے ہم اس سے اجتناب کرتے ہیں، ہاں اگر کسی موقع پر ضرورت محسوس ہوئی تو زبانی اسکی تشریح کر دی جائیگی مگر چونکہ اکثر باتیں حقائق اور بدیہیات ہیں ممکن ہے کہ دلیلوں کے زبانی بیان کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑے ۔ اس تباہی اور انقلابکے اسباب و نسبت ا۔ اس انقلاب کے اسباب کے متعلق جتنے منہ اتنی باتیں ہیں۔ اور ہر ایک آدمی اپنے نظریئے کو صحیح سمجھتا ہے۔ مثلاً ایک کہتا ہے کہ اہلکاروں کی بیوفائی کا نتیجہ ہے، دوسرا پکار اٹھتا ہے کہ عہدہ داروں کی رشوت خوری تھی۔ کوئی کہتا ہے کہ فلان فلان اشخاص چوروں کے ساتھ ساز باز رکھتے تھے۔ ۔۔۔۔ فوجیوں میں ماکولات کا رواج دینا تھا ۔۔۔۔ حکام بالکل نالائق اور ناقابل تھے ۔۔۔۔ قانون بنایا گیا تھا کہ چور کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں ۔۔۔۔ عیاشی اور شرابخوری تھی ۔۔۔۔ عورتوں کا بے حجاب ہونا تھا الغرض ہر ایک کوئی نہ کوئی بات کہتا ہے اور یہ سب آدمی جو کچھ کہتے ہیں ٹھیک بھی ہے۔
٤٣ لیکن در حقیقت انقلاب کی بنیادی علت صرف ایک چیز ہے اور وہ شیئ واحد مشتمل ہے ان ہزار ہا نقائص وعیوب پر جو گذشتہ دہ سالہ حکومت کے اداری اصولوں میں موجود تھے۔ گذشتہ حکومت کی روش ابتداً سے لیکر انتہا تک ایسی تھی کہ ہر روز یہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ بس آج ہی ایک زبر دست انقلاب واقع ہونے والا ہے اگر ملت میں زندگی اور بیداری ہوتی تو چاہیئے تھا کہ ان پہلے چھ مہینوں میں ہی ایسی حیلہ باز اور مختلف رنگ بدلنے والی حکومت کو تہس نہس کر دیتی کہ جس کے نہ قول پر اعتبار تھا اور ا سکے فعل پر اعتماد۔ جسکی طرز نہ تو استبدادی تھی اور نہ اسکا مسلک آزادی ، جسکو نہ تو آبادی کا خیال تھا اور نہ بربادی کا حوصلہ لیکن جہالت و نادانی کے بھی قربان جائیے کہ حکومت کی ایسی بد رفتاری کو پورے دس سال تک مہلت دے رکھی ۔
٤٤ امان اللہ کی حکومت کے چھوٹے چھوٹے جرم جیسے وعدہ خلافیاں فریب کاریاں حتیکہ فراشوں اور خانسامانوں کے ساتھ بھی چالیں چلنا اسقدر زیادہ ہیں کہ انکا شمار حد و حساب سے باہر ہے۔ ہم ان معمولی مسائل سے قطع نظر کرتے ہیں۔ مگر جن بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب سے ملک ویران ہو جاتے ہیں اور مانکی آزادی و استقلال محو ہوجاتا ہے اور ہزاروں بندگان خدا کا خون بہہ جاتا ہے انکی گنتی بھی اتنی ہے کہ ایک لمبی فہرست بن جاتی ہے ۔ مثلاً اسکے تمام کاموں میں سے جو ایک کام سرزد ہوا ہے اور جسکو فی الجملہ کارخیر کہہ سکتے ہیں اور اس کے دوسرے کاموں کی نسبت ظاہراً اس میں شرافت اور اسلامیت کی کچھ کچھ بو آتی ہے وہ یہ ہے کہ اُسنے بیچارے ہندوستانیوں کو ہجرت کی ترغیب دی ۔ گویا ان قسمت کے مارے غریب الوطنوں نے دار الحرب سے دار الاسلام میں ہجرت کی ۔ خواہ اس میں کتنے ہی پالیٹار و دلسوزی کو دخل ہو صرف اس ایک ہی مسئلے میں بھی خامی رہی وہ یہ ہے کہ وطن سے دور ہزاروں مہاجر قطغن کے دشتوں اور میمنہ اور ترکستان کے درّوں میں مر کھپ گئے ۔ خیوہ اور بخارا نے روسیوں کی سیاسی نگرانی کے ماتحت خارجہ ممالک کی نظروں میں ایک دولت کی حیثیت پیدا کر لی تھی اور روسیوں نے انکو برائے نام آزادی بھی دے رکھی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ The main difference between this function block and functions studied above block resides on how input arrays parameter changes on time index $n$. This corresponds closely mathematically discrete convolution equation that assumes constant weights $W$: $$ y[n] = \sum_{k=0}^{n}w[k]x[n-k] $$ If filter weights were constant over time, all parameters except ```din``` should be invariant over time. Consequently they can be implemented dynamically in Vivado HLS. When inputs are defined as static, synthesis process considers them to be invariant. C simulation handles statics variable correctly, but RTL cosimulation may ignore those variables to match them with synthesis. Let see the output of the cosimulation. As you can notice, there is a mismatch between original algorithm result and RTL behavior. As it was discussed before this is due to how Vivado HLS manage the C `static` variables in simulation process. To solve this issue, HLS provides a pragma to remove this limitation. To make the HLS know that the function input parameters are used to carry the internal states of the function between its calls we can use `#pragma HLS pipeline II=1` ````c void FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) { static acc_t acc = 0; static din_t shift_reg[N]; #pragma HLS pipeline II=1 acc = 0; for (int i = N - 1; i > 0; i--) { shift_reg[i] = shift_reg[i - 1]; acc += shift_reg[i] * w[i]; } shift_reg[0] = din; acc += shift_reg[0] * w[0]; *dout = acc; } ```` Using `#pragma HLS pipeline II=1` allows concurrent execution of operations, to process a new input every clock cycle and achieve highest performance. Then Vivado understand that `shift_reg` is a shift register and maps it onto RTL `Shift Register` as depicted below. <img src="./fig/sr2.png" width="80%"> This figure represents how HLS maps a C array defined as static to hardware primitives. However, there are some restrictions on that: 1. The shift registers' data has to be stored in registers, not block RAMs. 2. Fully unrolling of shift registers into individual registers can result in a complex routing problem. ### 5. Loop pipelining Pipeline pragma in HLS instructs the tool to attempt to pipeline the loop, which can significantly improve throughput by allowing successive iterations of the loop to overlap their execution, thus reducing the total time taken for the loop to complete. Now, it's time to evaluate how `#pragma HLS PIPELINE` can improve the throughput of FIR filter IP by parallelizing the multiplications and accumulation operations. Note that to do that, you should completely unroll the `for-loop` and the elements of `shift_reg` and `w` parameters should become fully accessible at the same time. The first step can be done by using `#pragma HLS unroll` pragma or putting the loop inside a pipeline. The `PIPELINE` pragma automatically unroll loops inside the corresponding pipeline. Therefore, in this example, it is not needed to unroll the `for-loop` explicitly. Second, we should use `#pragma HLS array_partition` to partition the elements of `shift_reg` and `w` parameters. ````c void FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) { #pragma HLS pipeline II=1 #pragma HLS array_partition variable=w type=complete static acc_t acc = 0; static din_t shift_reg[N]; #pragma HLS array_partition variable=shift_reg type=complete acc = 0; for (int i = N - 1; i > 0; i--) { shift_reg[i] = shift_reg[i - 1]; acc += shift_reg[i] * w[i]; } shift_reg[0] = din; acc += shift_reg[0] * w[0]; *dout = acc; } ```` Now, synthesise the code and evaluate the required resources in terms of DSP block. As shown in the following figure, now HLS can find that `shift_reg` elements' indices can be evaluated independent of the time instance index. <img src="./fig/sr3.png" width="80%"> > - **Note**: If you want to use the output of the IP core immediately when the result is ready, you must use ```ap_none``` protocol for `dout` parameter using `#pragma HLS INTERFACE mode=ap_none port=dout`. Using the `ap_none` protocol tells the Vitis HLS compiler not to generate any control signals for a given port, meaning the port behaves purely as a data connection without handshaking signals (like `valid`, `ready`, or `acknowledge`). > - **Note**: To prevent the Vitis compiler to wait for the handshaking signals from AXI interface when it enters to the algorithm, we should use ```#pragma HLS INTERFACE ap_ctrl_none port=return```. ### 6. MAC FIR design with single DSP slice By looking at synthesis report of previous design, you may find that our design instantiated 11 DSP slices. You can use `#pragma HLS ALLOCATION` to manage the amount of resource allocated for mathematical operations (like multipliers and adders). You can limit the number of multipliers (or MAC units) that Vitis HLS will use for the FIR filter to reduce hardware area, at the cost of increased latency (time to compute one output). The `ALLOCATION` pragma enforces resource constraints on operations, functions, or cores. ````c void FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) { #pragma HLS ALLOCATION operation instances=mul limit=1 // FIR filter logic here } ```` By doing that, the synthesis cannot achieve `II=1`, therefore it is better to modify the pragmas as follow. ````c void FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) { static acc_t acc = 0; static din_t shift_reg[N]; #pragma HLS ALLOCATION operation instances=mul limit=1 acc = 0; for (int i = N - 1; i > 0; i--) { #pragma HLS PIPELINE shift_reg[i] = shift_reg[i - 1]; acc += shift_reg[i] * w[i]; } shift_reg[0] = din; acc += shift_reg[0] * w[0]; *dout = acc; } ```` This will give the compiler the freedom to pipeline the loop, and try to process each inner iteration per clock cycle. You may check the HLS result and compare it with the results obtained from previous sections. ## Second part: Using AXI Stream interface for FIR Instead of reading one value at a time from a specific address using `ap_none` protocol in FIR function arguments, passing an array to the function gives HLS the opportunity to read the input from a FIFO using AXI stream interfaces. Using AXI Stream in a FIR filter design allows for continuous, high-throughput, and pipelined data processing. ````c #include "FirFilter.h" #include <hls_stream.h> void FirFilter(hls::stream<din_t>& din, hls::stream<dout_t>& dout, coeff_t w[N]) { #pragma HLS INTERFACE mode=axis port=din #pragma HLS INTERFACE mode=axis port=dout #pragma HLS INTERFACE mode=s_axilite port=w #pragma HLS INTERFACE mode=s_axilite port=return static din_t shift_reg[N]; #pragma HLS array_partition variable=shift_reg type=complete #pragma HLS array_partition variable=w type=complete // Read new input data from the stream din_t x_in = din.read(); acc_t acc = 0; // Shift register and Multiply-Accumulate logic // Add pipelining to allow processing one input per clock cycle #pragma HLS PIPELINE II=1 // Shift data and compute the FIR output for (int i = N - 1; i > 0; i--) { shift_reg[i] = shift_reg[i - 1]; acc += shift_reg[i] * w[i]; } shift_reg[0] = x_in; acc += shift_reg[0] * w[0]; // Write the output result to the stream dout.write(acc); } ```` 1. Explain how AXI stream is implemented using C codes. 2. What are the limitation of `hls::stream<>` types? Explain. Check the official AMD user guide to learn more about `hls::stream<>` variable type. 3. Replace the FIR codes with the codes presented above. Run C simulation and explain why the simulation gives segmentation fault error. 4. Correct the testbench. In the case you couldn't here is the corrected one. ````c #include "FirFilter.h" #include <iostream> using namespace std; // Testbench main function int main() { // Array of FIR coefficients coeff_t w[N] = {1, 2, 3, 4, 5, 6, 5, 4, 3, 2, 1}; // Input data array to stimulate the filter din_t input_data[15] = {1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 0, 0, 0, 0, 0}; // Array to hold the expected output (for checking) dout_t expected_output[15]; hls::stream<din_t> din_stream; hls::stream<dout_t> dout_stream; // Run the FIR filter software model (for expected output calculation) for (int n = 0; n < 15; n++) { acc_t acc = 0; for (int k = 0; k < N; k++) { if (n - k >= 0) { acc += input_data[n - k] * w[k]; } } expected_output[n] = acc; } // Call the hardware FIR filter model int pass = 1; for (int n = 0; n < 15; n++) { dout_t dout_val; din_stream.write(input_data[n]); FirFilter(din_stream, dout_stream, w); dout_val = dout_stream.read(); // Print input, output, and expected value cout << "Input: " << input_data[n] << " \t"; cout << "Output: " << dout_val << " \t"; cout << "Expected: " << expected_output[n] << endl; // Check if output matches expected output if (dout_val != expected_output[n]) { pass = 0; cout << "Mismatch at index " << n << endl; } } // Final result message if (pass) { cout << "SUCCESS: All outputs match expected values." << endl; } else { cout << "FAILED: Outputs do not match expected values." << endl; } return (pass == 1) ? 0 : 1; } ```` 5. Run the synthesis. How resources and synthesis estimated delay compared to the version discussed in Sec. 5? Check if it is able to synthesize an IP with `II=1`. 6. Run RTL cosimulation and compare the expected behavior with outputs from simulation. In this task, we will improve the performance using block processing scheme rather than sample processing scheme. Write a top module program using following code skeleton. Synthesize the code, check the results, check that if II=1 constraint met. ````C void FirFilter(hls::stream<din_t>& din, hls::stream<dout_t>& dout, coeff_t w[N]) { #pragma HLS INTERFACE mode=axis port=din #pragma HLS INTERFACE mode=axis port=dout #pragma HLS INTERFACE mode=s_axilite port=w #pragma HLS INTERFACE mode=s_axilite port=return static din_t shift_reg[N]; #pragma HLS array_partition variable=shift_reg type=complete #pragma HLS array_partition variable=w type=complete //TODO // write a loop that will read all the available data from din // stream process them using the same MAC algorithm presented earlier // write back the result into the output stream. } ```` 1. Correct the testbench to make it able to supply arrays/streams to the top module. Make sure to read all the streams in testbench loop too. <details> <summary> 💡 Solution for C code. Please check it after you've tried. </summary> ```c void FirFilter(hls::stream<din_t>& din, hls::stream<dout_t>& dout, coeff_t w[N]) { #pragma HLS INTERFACE mode=axis port=din #pragma HLS INTERFACE mode=axis port=dout #pragma HLS INTERFACE mode=s_axilite port=w #pragma HLS INTERFACE mode=s_axilite port=return static din_t shift_reg[N]; #pragma HLS array_partition variable=shift_reg type=complete #pragma HLS array_partition variable=w type=complete acc_t acc; while (!din.empty()) { #pragma HLS PIPELINE II=1 acc = 0; din_t x_in = din.read(); // Shift data and compute the FIR output for (int i = N - 1; i > 0; i--) { shift_reg[i] = shift_reg[i - 1]; acc += shift_reg[i] * w[i]; } shift_reg[0] = x_in; acc += shift_reg[0] * w[0]; // Write the output result to the stream dout.write(acc); } } ``` </details> <details> <summary> 💡 Solution for Testbench. Please check it after you've tried. </summary> ```c #include "FirFilter.h" #include <iostream> using namespace std; // Testbench main function int main() { // Array of FIR coefficients coeff_t w[N] = {1, 2, 3, 4, 5, 6, 5, 4, 3, 2, 1}; // Input data array to stimulate the filter din_t input_data[15] = {1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 0, 0, 0, 0, 0}; // Array to hold the expected output (for checking) dout_t expected_output[15]; hls::stream<din_t> din_stream; hls::stream<dout_t> dout_stream; // Run the FIR filter software model (for expected output calculation) for (int n = 0; n < 15; n++) { acc_t acc = 0; for (int k = 0; k < N; k++) { if (n - k >= 0) { acc += input_data[n - k] * w[k]; } } expected_output[n] = acc; } // Call the hardware FIR filter model int pass = 1; for (int n = 0; n < 15; n++) { din_stream.write(input_data[n]); } FirFilter(din_stream, dout_stream, w); for (int n = 0; n < 15; n++) { dout_t dout_val = dout_stream.read(); // Print input, output, and expected value cout << "Input: " << input_data[n] << " \t"; cout << "Output: " << dout_val << " \t"; cout << "Expected: " << expected_output[n] << endl; // Check if output matches expected output if (dout_val != expected_output[n]) { pass = 0; cout << "Mismatch at index " << n << endl; } } // Final result message if (pass) { cout << "SUCCESS: All outputs match expected values." << endl; } else { cout << "FAILED: Outputs do not match expected values." << endl; } return (pass == 1) ? 0 : 1; } ``` </details> Now by synthesizing the codes above, we can notice that HLS could met II=1. You can verify it from RTL cosimulation waveform viewer (Fig. 8). <img src="./fig/waveform.png" width="80%"> **Fig. 8: Waveform in Cosimulation viewer.** ## Third Part: Implementing and Testing Using PYNQ Now, the HLS IP from the previous part will be packaged and evaluated physically on PyNQ-Z2. 1. Export the HLS IP. 2. Open Vivado tool, create a new IP. Insert `Zynq processing unit`. Add your packaged HLS IP to the IP block design, add one DMA ip `AXI Direct Memory Access`. Since, HLS IP uses streams, configure DMA for `Read/Write` channels. Disable `Scatter Gather Engine`. <img src="./fig/DMA.png" width="80%"> **Fig. 9: DMA Configuration.** 3. Connect the IP correctly like Figure 10. `TREADY` and `TVALID` from `M_AXIS_MM2S` on DMA connects to HLS IP `din`, and `S_AXIS_S2MM` connects to `dout`. <img src="./fig/IPBD.png" width="80%"> **Fig. 10: Vivado IP Block Design.** 4. You can use `<component.xml>` file inside the exported zip file to find out at which addresses register files in HLS IP corresponds to (or from synthesis report generated by vitis HLS IDE). As an example `<spirit:addressOffset>0x10</spirit:addressOffset>` determines that base address `0x10` gives access to first 4 bytes of weights. 5. After generating bitsream `hw_FIR.bit` and `hw_FIR.hwh`, move them alongside the jupyter notebook code attached to this document `test_FIR.ipynb`. Now you can use following code as a basis for your notebook python project for evaluation. ```python import numpy as np import pynq from pynq import Overlay, allocate # Load the overlay overlay = Overlay('./hw_FIR.bit') # Ensure the name matches your block design # Instantiate DMA and the HLS IP blocks dma = overlay.axi_dma_0 # Replace with actual name if different fir_ip = overlay.FirFilter_0 # Replace with actual name of HLS IP block # Configure filter coefficients (assuming 11 coefficients as per your C++ code) # Example weights used in the C++ testbench weights = [1, 2, 3, 4, 5, 6, 5, 4, 3, 2, 1] # Write weights to the IP block's memory # Assumes AXI-Lite registers for `w` are mapped sequentially # The base address for `w` should be checked in Vitis HLS Synthesis Report weight_base_address = 0x10 # Replace with actual offset for `w` from HLS for i, weight in enumerate(weights): fir_ip.write(weight_base_address + i * 4, weight) # Write each 32-bit (4-byte) integer # The amount of samples you are willing to send through FIR filter data_size = 15 # Allocate memory buffers for DMA transfer # Using `allocate` to get physically contiguous memory for the PL in_buffer = allocate(shape=(data_size,), dtype=np.int32) out_buffer = allocate(shape=(data_size,), dtype=np.int32) # Initialize input buffer with test data input_data = [1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 0, 0, 0, 0, 0] for i in range(data_size): in_buffer[i] = input_data[i] # Start the FIR filter by writing to the control register # Usually, bit 0 of offset 0x00 is the AP_START bit fir_ip.write(0x00, 0x01) # Set AP_START # Perform DMA Transfers # 1. Send data from PS to PL (MM2S: Memory-Mapped to Stream) dma.sendchannel.transfer(in_buffer) # 2. Receive data from PL to PS (S2MM: Stream to Memory-Mapped) dma.recvchannel.transfer(out_buffer) # Wait for transfers to complete dma.sendchannel.wait() dma.recvchannel.wait() # Display results print("Input Data: ", in_buffer) print("Output Data: ", out_buffer) # Verification against expected results from C++ testbench expected_output = [1, 4, 10, 20, 35, 56, 80, 104, 125, 140, 146, 140, 125, 104, 80] success = True for i in range(data_size): if out_buffer[i] != expected_output[i]: success = False print(f"Mismatch at index {i}: Expected {expected_output[i]}, Got {out_buffer[i]}") if success: print("SUCCESS: All hardware outputs match expected values.") else: print("FAILED: Output mismatch detected.") # Free buffers to avoid memory leaks in_buffer.close() out_buffer.close() ``` 6. Report the result obtained on Pynq Z2 Evaluation board to tutor and include in your report. ### Appendix: Below are instructions on how to use array partition, unroll, and pipeline pragmas along with related C code snippets. ### Array Partition Pragma The `#pragma HLS ARRAY_PARTITION` pragma enables the breaking of arrays into smaller arrays or individual elements. This increases memory bandwidth and enables parallel access to array elements. #### Example: Array Partition ```c #define N 16 void array_partition_example(int in[N], int out[N]) { // Partition the input array into 4 smaller arrays #pragma HLS ARRAY_PARTITION variable=in block factor=4 // Partition the output array entirely into individual registers #pragma HLS ARRAY_PARTITION variable=out complete for (int i = 0; i < N; i++) { // Multiply by 2 out[i] = in[i] * 2; } } ``` ### Unroll Pragma The `#pragma HLS UNROLL` pragma expands a loop, effectively replacing it with multiple copies of its loop body. This increases parallelism by allowing multiple iterations to be executed concurrently. #### Example: Loop Unroll ```c #define M 8 void unroll_example(int in[M], int out[M]) { for (int i = 0; i < M; i++) { // Fully unroll the loop to execute all iterations in parallel #pragma HLS UNROLL out[i] = in[i] + 5; } } ``` ### Pipeline Pragma The `#pragma HLS PIPELINE` pragma reduces the initiation interval for a function or loop by allowing concurrent execution of operations. Pipelining increases throughput. #### Example: Loop Pipelining ```c #define K 10 void pipeline_example(int in1[K], int in2[K], int out[K]) { for (int i = 0; i < K; i++) { // Pipeline the loop with an initiation interval of 1 #pragma HLS PIPELINE II=1 out[i] = in1[i] + in2[i]; } } ``` ### Combined Example You can combine these pragmas to optimize hardware generation further. Here's an example of a dot product using partition, unroll, and pipeline. #### Example: Dot Product with Combined Pragmas ```c #define LEN 32 int dot_product(int A[LEN], int B[LEN]) { // Partition arrays completely into individual registers for maximum bandwidth #pragma HLS ARRAY_PARTITION variable=A complete #pragma HLS ARRAY_PARTITION variable=B complete int acc = 0; for (int i = 0; i < LEN; i++) { // Pipeline the loop to initiate a new multiply-accumulate every clock cycle #pragma HLS PIPELINE II=1 // Optionally unroll if further parallelism is needed (redundant if pipelining perfectly) // #pragma HLS UNROLL acc += A[i] * B[i]; } return acc; } ``` # L4: Shift Registers and DSP blocks within High Level Synthesis The following sections will guide you through this lab: * [First Part](#first-part-shifting-the-data) * [Second Part](#second-part-using-axi-stream-interface-for-fir) * [Third Part](#third-part-implementing-and-testing-using-pynq) ## Overview This lab exercise explores the design and implementation of Finite Impulse Response (FIR) filters using AMD Vitis HLS. You will learn to write the algorithm in C/C++, apply various hardware optimization pragmas—such as loop unrolling, pipelining, and array partitioning—and analyze their effects on resource utilization and throughput. Additionally, you will integrate the generated IP into a larger Vivado block design, utilizing AXI Streams for efficient data transfer, and test the resulting hardware on a PYNQ-Z2 board using Python. Through this hands-on process, you will gain practical experience in bridging high-level software models with optimized hardware implementations for real-time digital signal processing. ## First part: Shifting the data ### 1. FIR C/C++ Design When using Vivado HLS, the very first step in implementing a digital filter is writing C/C++ code. Before adding any optimization pragmas, we will observe how Vitis HLS synthesizes plain C/C++ code. **Mathematical background** A Finite Impulse Response (FIR) filter calculates its output as a weighted sum of the current and past input samples. The mathematical operation performed is a discrete convolution, defined by the following difference equation: $$ y[n] = \sum_{k=0}^{N-1}w[k]x[n-k] $$ Where: - $y[n]$ is the output signal at discrete time $n$. - $x[n-k]$ are the current and past input samples (delayed by $k$ samples). - $w[k]$ are the filter coefficients (weights or taps). - $N$ is the filter order (number of coefficients). **Task** Write a simple module and testbench code for an $N$-Tap FIR (For this lab $N=11$). The coefficients $w[k]$ are assumed to be constants over time. Synthesize the code using Vitis HLS. Examine the resulting RTL block diagram in HLS and the required resources for the implementation, specifically tracking the BRAM elements and Flip-Flops. Run the Simulation with Vitis HLS simulation IDE interface and compare the values against Expected values. In your report, please provide screenshots of the Vivado synthesis report and code implementations. Below is a base template you can use to structure your implementation. ```c #ifndef FIR_H #define FIR_H #define N 11 // Number of taps typedef int din_t; typedef int coeff_t; typedef int dout_t; typedef int acc_t; void FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout); #endif // FIR_H ``` ```c #include "FirFilter.h" // Define function with exact types as presented in header void FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) { //TODO: Create shift register //TODO: Implement the MAC algorithm here } ``` ```c #include "FirFilter.h" #include <iostream> using namespace std; // Testbench main function int main() { // Array of FIR coefficients coeff_t w[N] = {1, 2, 3, 4, 5, 6, 5, 4, 3, 2, 1}; // Input data array to stimulate the filter din_t input_data[15] = {1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 0, 0, 0, 0, 0}; // Array to hold the expected output (for checking) dout_t expected_output[15]; dout_t dout_val; // Run the FIR filter software model (for expected output calculation) for (int n = 0; n < 15; n++) { acc_t acc = 0; for (int k = 0; k < N; k++) { if (n - k >= 0) { acc += input_data[n - k] * w[k]; } } expected_output[n] = acc; } // Call the hardware FIR filter model int pass = 1; for (int n = 0; n < 15; n++) { FirFilter(input_data[n], w, &dout_val); // Print input, output, and expected value cout << "Input: " << input_data[n] << " \t"; cout << "Output: " << dout_val << " \t"; cout << "Expected: " << expected_output[n] << endl; // Check if output matches expected output if (dout_val != expected_output[n]) { pass = 0; cout << "Mismatch at index " << n << endl; } } // Final result message if (pass) { cout << "SUCCESS: All outputs match expected values." << endl; } else { cout << "FAILED: Outputs do not match expected values." << endl; } return (pass == 1) ? 0 : 1; } ``` <details> <summary> 💡 Solution. Please check it after you've tried. </summary> ```c void FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) { acc_t acc = 0; din_t shift_reg[N]; acc = 0; for (int i = N - 1; i > 0; i--) { shift_reg[i] = shift_reg[i - 1]; acc += shift_reg[i] * w[i]; } shift_reg[0] = din; acc += shift_reg[0] * w[0]; *dout = acc; } ``` </details> If you check the schedule viewer you can identify the structure of algorithm implemented through synthesis process. ![alt text](./fig/sch1.png) ### 2. State memory variables (static keyword) As you can notice the result from `Simulation` will not give the expected answer. You can use debug environment within `vitis hls` by putting breakpoint at `FirFilter` top function, checking how the values are updated in `shift_reg`. You may understand that since `shift_reg` in defined inside function without passing as argument and it is not static, so during each execution process, the internal values of `shift_reg` will be cleaned up! 1. Write the code again using `static` keyword for `shift_reg` internal array variable. 2. Check again the result obtained from `simulation`. Can you tell us why expected answer and output answer matched after editing the code? 3. Run the Synthesis. Are you expecting any changes on BRAM or Flip-flops requirements? 4. Run Cosimulation. Make sure the option `wave debug` is `true`. By default `cosimulation` viewer pops up. Try to identify state transition and `ap_return` signal. You will notice that the `cosimulation` fails after synthesis! But we already passed `c-simulation` phase. How the difference exists over these simulations? <details> <summary> 💡 Solution. Please check it after you've tried. </summary> ```c void FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) { static acc_t acc = 0; static din_t shift_reg[N]; acc = 0; for (int i = N - 1; i > 0; i--) { shift_reg[i] = shift_reg[i - 1]; acc += shift_reg[i] * w[i]; } shift_reg[0] = din; acc += shift_reg[0] * w[0]; *dout = acc; } ``` </details> Lab2/Makefile *.o .Xil # Compiler CXX = g++ # Compiler flags CXXFLAGS = -O3 -Wall -Wextra -std=c++11 -I. -I/tools/Xilinx/Vivado/2023.2/include # Executable name EXEC = tb_matrixmul # Source files SRCS = matrixmul.cpp matrixmul_test.cpp # Object files OBJS = $(SRCS:.cpp=.o) # Default target all: $(EXEC) # Link the executable $(EXEC): $(OBJS) $(CXX) $(CXXFLAGS) -o $@ $^ # Compile source files into object files %.o: %.cpp $(CXX) $(CXXFLAGS) -c $< -o $@ # Run the program run: $(EXEC) ./$(EXEC) # Clean up build files clean: rm -rf $(EXEC)Project/Project.md # Machine Learning Edge Deployment Case Study This document details case study aimed to guide you from high-level PyTorch design of neural networks to hardware/software deployment on edge devices like the Pynq-Z2. The process is fully integrated with Xilinx FINN and TVM, utilizing an ONNX intermediate representation for model acceleration on FPGAs. ## Overview The case study focuses on: - Designing a quantized neural network tailored for spatial data (MNIST dataset). - Exporting the trained model to ONNX format. - Compiling the model using Brevitas and FINN for FPGA deployment. - Generating the bitstream and deploying it on the Pynq-Z2 board. The model is based on Multi-Layer Perceptron (MLP) components, known as Spatial MLPs, capable of handling variable data shapes suitable for edge deployment. --- ## 1. Introduction With the rising demand for deploying deep learning models on edge devices with constrained resources, developing highly optimized, quantized neural networks has become critical. This project demonstrates how to build and deploy a lightweight **Spatial MLP** on the **Pynq-Z2 FPGA** board using **Brevitas** for Quantization-Aware Training (QAT) and **FINN/TVM** for hardware synthesis and deployment. ### 1.1 Objectives The primary objectives of this project are: 1. **Model Development**: Design a quantized neural network using Brevitas, utilizing Spatial MLPs that avoid traditional Convolutional Neural Networks (CNNs). 2. **Model Training**: Train the model on the MNIST dataset to achieve optimal accuracy. 3. **Export & Compilation**: Export the trained model to ONNX and use the FINN compiler to generate a customized hardware accelerator. 4. **Hardware Deployment**: Deploy the generated bitstream to the Pynq-Z2 FPGA and run inference using Python. 5. **Performance Evaluation**: Assess the model’s accuracy, hardware resource utilization, and inference latency. --- ## 2. Tools and Frameworks To complete this case study, we will utilize the following tools and frameworks: - **PyTorch**: For defining and training the neural network. - **Brevitas**: A PyTorch library for Quantization-Aware Training (QAT), essential for converting models into low-precision formats suitable for hardware. - **FINN**: An experimental framework from Xilinx Research that creates custom hardware architectures for quantized neural networks (QNNs). - **TVM**: An open deep learning compiler stack for CPUs, GPUs, and specialized accelerators (FPGAs). - **Vivado HLS**: High-Level Synthesis tool used by FINN to generate RTL from C/C++. - **Pynq-Z2**: The target hardware platform for the final deployment. --- ## 3. Project Workflow The project is structured into several phases: 1. **Network Architecture Design**: Designing the Spatial MLP. 2. **Quantization-Aware Training**: Training the model using Brevitas. 3. **Model Export**: Converting the model to ONNX format. 4. **Compilation with FINN**: Transforming the ONNX model into hardware via FINN and TVM. 5. **Deployment on Pynq-Z2**: Running the compiled model on the FPGA. --- ## 4. Phase 1: Network Architecture Design ### 4.1 Spatial MLP Concept Traditional MLPs operate on 1D vectors, requiring flattening of 2D images. A **Spatial MLP** operates directly on 2D images, similar to CNNs but using localized multi-layer perceptron blocks. This approach captures local spatial features while reducing the computational complexity associated with standard convolutions. ### 4.2 Model Specifications - **Input Size**: $28 \times 28$ grayscale images (MNIST dataset). - **Quantization**: 4-bit weights and activations. - **Architecture**: - Input quantization layer. - Spatial MLP blocks containing linear layers tailored for local receptive fields. - Non-linear activations (e.g., ReLU or QuantReLU). - Fully connected layer for classification into 10 classes. ### 4.3 Implementing the Spatial MLP Here is the implementation of the `SpatialMLP` class using Brevitas: ```python import torch import torch.nn as nn import brevitas.nn as qnn from brevitas.core.quant import QuantType class SpatialMLPBlock(nn.Module): def __init__(self, in_channels, out_channels, bit_width=4): super(SpatialMLPBlock, self).__init__() self.fc1 = qnn.QuantLinear(in_channels, out_channels, weight_bit_width=bit_width, bias=False) self.act1 = qnn.QuantReLU(bit_width=bit_width) self.fc2 = qnn.QuantLinear(out_channels, out_channels, weight_bit_width=bit_width, bias=False) self.act2 = qnn.QuantReLU(bit_width=bit_width) def forward(self, x): x = self.act1(self.fc1(x)) x = self.act2(self.fc2(x)) return x class SpatialMLPNet(nn.Module): def __init__(self, bit_width=4): super(SpatialMLPNet, self).__init__() # Flatten the 28x28 image to a 784-dimensional vector self.flatten = nn.Flatten() # Input quantization self.quant_inp = qnn.QuantIdentity(bit_width=8, return_quant_tensor=True) # Define MLP blocks self.block1 = SpatialMLPBlock(784, 128, bit_width) self.block2 = SpatialMLPBlock(128, 64, bit_width) # Classification layer self.classifier = qnn.QuantLinear(64, 10, weight_bit_width=bit_width, bias=True) def forward(self, x): x = self.flatten(x) x = self.quant_inp(x) x = self.block1(x) x = self.block2(x) x = self.classifier(x) return x # Instantiate the model model = SpatialMLPNet(bit_width=4) ``` > **Note**: This model is a simple MLP where the spatial structure is flattened. For a true *Spatial* MLP, the linear layers would be applied across spatial patches, analogous to a pointwise convolution or patching mechanism in Vision Transformers. --- ## 5. Phase 2: Quantization-Aware Training (QAT) Quantization-Aware Training simulates lower precision during the training process, allowing the model to adapt and minimize accuracy loss due to quantization. ### 5.1 Training Setup We will use the standard PyTorch training loop on the MNIST dataset. ```python import torch.optim as optim from torchvision import datasets, transforms from torch.utils.data import DataLoader # Device configuration device = torch.device('cuda' if torch.cuda.is_available() else 'cpu') model.to(device) # Dataset and DataLoader transform = transforms.Compose([ transforms.ToTensor(), transforms.Normalize((0.1307,), (0.3081,)) ]) train_dataset = datasets.MNIST(root='./data', train=True, download=True, transform=transform) test_dataset = datasets.MNIST(root='./data', train=False, download=True, transform=transform) train_loader = DataLoader(train_dataset, batch_size=64, shuffle=True) test_loader = DataLoader(test_dataset, batch_size=1000, shuffle=False) # Loss and optimizer criterion = nn.CrossEntropyLoss() optimizer = optim.Adam(model.parameters(), lr=0.001) ``` ### 5.2 Training Loop ```python def train(model, device, train_loader, optimizer, criterion, epochs=5): model.train() for epoch in range(epochs): for batch_idx, (data, target) in enumerate(train_loader): data, target = data.to(device), target.to(device) optimizer.zero_grad() output = model(data) loss = criterion(output, target) loss.backward() optimizer.step() if batch_idx % 100 == 0: print(f'Train Epoch: {epoch} [{batch_idx * len(data)}/{len(train_loader.dataset)} ' f'({100. * batch_idx / len(train_loader):.0f}%)]\tLoss: {loss.item():.6f}') train(model, device, train_loader, optimizer, criterion, epochs=5) ``` ### 5.3 Evaluation ```python def test(model, device, test_loader, criterion): model.eval() test_loss = 0 correct = 0 with torch.no_grad(): for data, target in test_loader: data, target = data.to(device), target.to(device) output = model(data) test_loss += criterion(
٤٥ لویه جرکه سال ۱۳۰۹ | ۱۳۰۹ کالویه جرگہ کاملا با اساس و صحیح است | سر تا پا با اساس اور صحیح ہے چون ما از تر دید حصص مهم شایعات | اب ہم شاہ مخلوع کی باطلہ اشاعت کے باطلہ شاه مخلوع فارغ شدیم | اہم حصوں کی تردید سے فارغ ہو چکے ہیں۔ کنون حسب وعده که راجع به عظمت | پیشتر ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ثابت کرینگے و صحت و با اساس بودن اولین | کہ عصر نادری کا پہلا ”لویہ جرگہ“ منعقدہ ۱۳۰۹ لویه جرکه ۱۳۰۹ عصر ناوری | بالکل باضابطہ، بااہمیت اور صحیح نمایندگی کی فوتو نمودیم، ذیلا عکس های | حیثیت رکھتا تھا۔ لہذا ہم ذیل میں پہلے تمام منفرده و کلای هر ولایت و حکومتی | افغانستان کی ہر ولایت اور حکومتی اعلیٰ کے اعلیای افغانستان را اولا و عکس | ہر ایک وکیل کے فوٹو کی اور پھر ان سب های مجموعی این مبعوثین ملی را متعاقبا | ملی مبعوثین کے اکٹھے فوٹو کی اور اس کے و منظره های لویه جرکه ۱۳۰۹ | علاوہ ۱۳۰۹ کے ”لویہ جرگہ“ کے فوٹووں کی را که در ان عموم وزراء و مأمورین | کہ جن میں تمام وزیر اور مدیر کے درجے تک تا درجه مدیر و غیره ذوات معظم | سب مامورین شامل تھے زندگرانی چھاپتے ہیں شمولیت داشتند، جهة استحضار | تاکہ ان اشخاص کو جو امر واقعہ سے واقف نہیں
٤٦ اشخاصیکه از حقایق اطلاع ندارند اور وہ جو جرگہ مذکور کے متعلق امان اللہ کے واین بهتان وافتراے امان الله بهتان وافتراء کیوجہ سے ذرا تردد میں پڑگئے ہیں نسبت به جرگهٔ مذکور ترددی داشته واقفیت حاصل ہو ، اور خاصکر پر ملی نمائندوں باشند ، زینگرانی میکنیم ، و پانچویں فقرے کے فیصلے کو کہ امان اللہ کے در خاتمه عین مضبطهٔ فیصلهٔ فقره پنجم اعمال کی نسبت تمام افغانستان کے عمومی وکلای ملت را که مظهر احساسات احساسات کا ترجمان ہے اور تمام مبعوثین نے عمومی افغانستان بالنسبهٔ اعمال اسکی تصدیق اور تائید میں اپنی مہریں لگائی ہیں امان الله خان بوده با مضا ومواهیر اور اپنے دستخط کئے ہیں شایع کرتے ہیں۔ نیز ہم تمام مبعوثین تصدیق وتائید شده است آخری مجلس کی اس مہم تصویر کو کہ جس میں با تصویر این مجلس اخیره که در ان بر ”لویہ جرگہ“ کے اعضا داور مستقل ممبروں کے ماسوا علاوه اعضا و شرکای دائمی دول خارجہ کے ہم سیاسی اصحاب بھی شامل ہیں لویہ جرگه، هیئت معظمه سیاسیه چھاپتے ہیں جس سے مقصود یہ ہے کہ نہ صرف دول خارجه هم شامل اند ، نشر امان اللہ خان کے تجاہل عارفانہ یا مغالطے کا میداریم تا نه تنها امان الله خان ازالہ ہو بلکہ دنیا کے دانشمند لوگ بھی ان صریح بلکه تمام دانشوران ببینند ویقین معلومات کی بنا پر علم الیقین حاصل کریں کہ یہ نمایندے کنند که این نمایندگان از نخبه رجال وطن عزیز کے مقتدر رجال اور برگزیدہ اشخاص تھے وطن وعمده ترین افراد ملت بصورت اور انکا انتخاب صحیح اصول پر ہوا تھا اور
٤٧ صحیح انتخاب از تمام نقاط افغانستان وکالتاً در لویه جرگه شامل شده اند، و این فیصله را که درباره امان الله خان نموده اند ، کاملاً ترجمان جذبات ملیه و موافق با صول قوانین جهان متمدنه میباشد. تمام افغانستان کے صوبوں نے انکو اپنا وکیل بنا کر ”لویه جرگه“ میں بھیجا تھا۔ اور امان اللہ کے بارے میں انکا فیصلہ در اصل انکے ملی جذبات کا دلی اظہار ہے اور تمام متمدن دنیا کے قانون حصول کے عین موافق ہے ۔ محمد یوسف نوبت چیست : ١٥ روپیہ سالانہ عبدالقیوم حسن
٤٨ وکلای منتخبۀ لویه جرگۀ ١٣٠٩ از ولایت کابل از طرف راست بچپ صف اول نشسته : شهر یار خان، سید خان، محمد امیر خان، غلام قادر خان، محمد نعیم خان، محمد امین خان، حاجی محمد خان » » » : میرزا احمد خان، محمد صدیق خان، عبدالقدیم خان، جمعه خان، خال محمد خان، سید علیخان، علی محمد خان » دوم » : محمد افضل خان، محمد عمر خان، عبدالخالق خان، میر قادر خان، محمد صادق خان، محی الدین خان، محمد حسن خان » » » : شاه پسند خان، سید محمود خان، ارباب محمد علی خان، محمد حسین خان، محمد مسلم خان، محمد سرور خان، میر غلام حیدر خان صف ایستاده : حاجی نوشیر خان، خواجه فیض محمد آغا فیض الله خان، حبیب الله خان، محمد هاشم خان، عبدالرؤف خان » » : شهاب الدین خان، کمال الدین خان، محمد سرور خان، محمد شفیق خان کابل یوم شنبه ١١ سنبله ١٣٠٩ ولایت کابل کی وکلاء
٤٩ وکلای منتخبه لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت قندهار از طرف راست به چپ صف نشسته : ۱ عبدالوهاب خان ، میرزا علی اکبر خان ، آدم خان ، محمد ایوب خان ، یار محمد خان ، قاضی عبداله خان ۲ عبدالقیوم خان ، گل محمد خان ، سرور خان ، محمد اعظم خان ، محمد صدیق خان ، غلام دستگیر خان ۳ حاجی محمد ایوب خان ، حاجی محمد امین خان ، عبداله خان ، جلال خان ، حاجی غلام دستگیر خان ، سید محمدجان ۴ دین محمد خان ، حاجی محمد اکبر خان ، حاجی عبدالقیوم خان ، سید عمر خان ، شیردل خان ، میرزا محمد عمر خان ۵ سید اکبر خان ، عبدالقیوم خان ، حاجی سید رضا خان ، محمد اکبر خان صف ایستاده : ۱ محمد شفیق خان ، محمد فاضل خان ، عبداله خان ، سردار عبدالحبیب خان کابل پرنطت ۱۶ سنبله ۱۳۰۹ ولایت قندهار کی وکلاء
٥٠ وکلای منتخبه لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت هرات از طرف راست به چپ صف نشست : ملا عبد الوهاب خان . محمد معصوم خان . پیر محمد خان . حاجی فخر الدین خان . میر احمد خان . صالح محمد خان " " : جلال الدین خان . عبد الوهاب خان . محمد یوسف خان . محمد فضل خان . مولاداد خان . علی نظر خان " " : حاجی موسی خان . محمد کریم خان . محمد ایوب خان . مهر دل خان . سلطان محمد خان . محمد نادر خان " " : محمد ابراهیم خان . درویزه خان . میرزا محمد عمر خان . دین محمد خان . غلام نبی خان . محمد اعظم خان صف ایستاده : شیر محمد خان . محب الله خان . حاجی عبدالله خان . شیخ محی الدین خان . محمد حسین خان کابل م مطبعه ۲۶ سنبله ۱۳۰۹ ولایت هرات کی وکلاء
٥١ وکلای منتخبه لویه جرگه ۱۳۰۹ - از ولایت مزار شریف از طرف راست بچپ صف نشست : محمد ایوب خان ، طوری خان ، دوست علی خان ، خالی بای ، دادا غرب ، سید عبدالعزیز ، شرف شاه خان » » : سید شدید خان ، سید شیر خان ، شیر احمد خان ، حبیب الله خان ، عمر شاه خان ، محمد حسن خان ، طر از خان صف ایستاده : عبد الاحد خان ، عبد الوهاب خان ، ملا محمد کریم خان ، حاجی عبدالله خان ، روزی بای ، سید حلیم تور خان » » : ملا یس قل ، استاد قل ، محمد یعقوب خان ، محمد نعیم خان ، رحمت الله خان ، ملا عبد الرحمن خان ، تا کال خان کابل یوم پنجشنبه ۶ سنبله ۱۳۰۹ ولایت مزار شریف کی وکلاء
٥٢ وکلای منتخب لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت قطغن و بدخشان از راست بچپ صف اول نشسته : خواجه محمد سلیمان. ملا عبد الرحیم خان. دارا محمد خان. دوست محمد خان. آقسقال فضل محمد خان. ملا محمدکبیر خان. حاجی احمد خان. سید خدا بخشخان. سید سلیمان. سید شیر محمد خان. محمد اکرم خان. صف دوم : میر محمد بیگ خان. خواجه شجاع خان. مخدوم امیر محمد خان. میرزا محمد اکبر خان. سلطان محمد خان. خالق داد خان. فضل احمد خان. شیر خان. صفر محمد خان. سید عبد القاسم. سید ابدالقاسم. محمد جان خان. صف ایستاده: میر حبیب الله خان. میرزا بشیر خان. فتح الله خان. کابل یوم پنجشنبه ۲۶ سنبله ۱۳۰۹ ولایت قطغن و بدخشان کی وکلاء
٥٣ وکلاي منتخبة لويه جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای مشرقی از طرف راست بچپ صف اول نشسته : محمد سليم خان، ملك فقير خان، حسن خان، احمد خان، عظم خان، سيد زمان شاه خان، ميرزا محمد خان " " : سيد شرف خان، ملا عبدالغفور خان، ملا محمد گل خان، محمد ايشانخان، ملا شمس الدينخان، عبد الرب خان صف دوم : ملا محمد مظفر خان، ارسلا خان، محمد صديق خان، سيد غلام حيدر خان، سيد اكرم خان، گل محمد خان، ملك شير خان " " : ملك شهنواز خان، حبيب الرحمان، شير گل خان، ملك بهرام خان صف سوم : عبد الله خان، يار محمد خان، نور محمد خان، محمد حسين خان، عبد الغفور خان، محمد هارون خان، سلطان محمد خان " " : عبد الله خان، حاجی محمد سميع خان، محمد يحيی خان، عبدالله خان، عبد الغفار خان، حبيب الله خان، سعد الله خان " " : محمد يوسف خان، اكرم خان، مولوی محمد خان، قاضی ملك شاه خان، لا محمد خان، درويش خان کابل یوم پنجشنبه ۱۶ اسد ۱۳۰۹ حکومتی اعلای سمت مشرقی کی وکیل
٥٤ وکالی منتخبه لویه جرگه ١٣٠٩ از حکومتی اعلای سفت جنوبی از طرف راست بچپ صف اول نشسته : مبین خان ، اور تا خان ، جلال الدین خان ، یعقوب خان ، سید شاه ، هاشم خان ، دین محمد خان ، میرزا ، سید محمد صف دوم نشسته : خان شیرین خان ، نظر محمد خان ، علیخان ، عبدالرحمن خان ، منگل خان ، محمد اشرف خان ، مدو خان ، زیاول خان ، عجب خان ، محمد خان ، علیخان ، مکو شاه ، صاحب خان ، مبین خان ، علم خان صف سوم نشسته : بای محمد خان ، دین محمد خان ، غازی دین خان ، میر شاه خان ، ایوب خان ، بر محمد خان ، فتح ، عزیز خان ، محمد گل خان ، حسین شاه ، بلند خان صف چهارم ایستاده : امیر محمد خان ، نور محمد خان ، خان شیرین خان ، عبدالکریم خان ، امیر محمد خان ، صاحبان ، سلطان محمد خان ، صاحبان ، غازی خان ، غلام محمد خان ، سلطان خان ، علی محمد خان صف پنجم ایستاده : ماذ الله خان ، خوش دل ، حاجی محمد خان ، گل محمد خان کابل یوم پنجشنبه ١٦ سنبله ١٣٠٩ حکومتی اعلای سمت جنوبی کی وکیل
٥٥ وکلای منتخبه لویه‌جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی اعلی فراه از طرف راست بچپ صف اول که بر زمین نشسته‌اند : میرزا محمد هاشم خان، شہاب الدین خان، عبدالغفار خان، یار محمد خان، عبدالله و من خان، محمد علیم خان '' دوم '' '' : حاجی سید محمد خان، عمر سلم خان، محمد جان خان، غلام محمد خان، غلام محمد خان بلوچ، عبدالسمیع خان، یار محمد خان عکاس محمد شعیب ٢٦ سنبله ١٣٠٩ حکومتی اعلای فراه کی وکیل
٥٦ وکلای منتخبه لویه جرگه ۱۳۰۹ - از حکومتی اعلای میمنه از طرف راست بچپ صف نشسته : محمد سعید سگ خان، حاجی کریم دادخان، خیر الله خان، محمد ولی خان، امام قلی خان، مرصاق خان امام قلی بای خان. صف ایستاده : ایشان قلخان، عبد الرحیم خان، گل جان مالدار غلمانی، امان بیگ خان، ملا قربان خان. کابل یوم پنجشنبه ۱ سنبله ۱۳۰۹ حکومتی اعلای میمنه کی وکیل
۵۷ منظره عمومی وکلای منتخبه ولایت های کابل، قندهار، هرات، مزارشریف، قطغن و بدخشان و حکومتی های اعلای مشرقی، جنوبی، فراه، میمنه که لویه جرگه ۱۳۰۹ ازوشان تشکیل یافته و تقریب ضیافتیکه برایشان از طرف وزارت دربار داده شده عکس گرفته شده است در وسط صف سوم وزیر و معین وزارت دربار و معین مالیه ناظم لویه جرگه و داکتر میباشند. پغمان یوم جمعه ۱۶ سنبله ۱۳۰۹ افغانستان کی تمام صوبجات کی منتخب نمایندی
٥٨ اعلیحضرت محمد نادر شاه غازی در سلامخانه قصر استور بمحضر وکلای ملت و کابینه حکومت و مامورین بزرگ افغانستان نطق افتتاحیه شان را در لویه جرگه ۱۳۰۹ قرائت میفرمایند. کابینه خانه قصر استور یوم چهارشنبه ۱۸ سنبله ۱۳۰۹ اعلیحضرت محمد نادر شاه غازی کی افتتاح تقریر کا منظر
٥٩ فیصله عموم مقررات لویه جرگه ١٣٠٩ که تحت ریاست جناب عالیقدر جلالتمآب صدارعظم انعقاد یافته بود در مجلس وداعیه بحضور شاهانه از طرف عموم وکلای ملی که آنرا قبلاً فیصله و تصدیق کرده در محضر کابینه و مامورین بزرگ افغانستان و هیئت کُور دیپلوماتیک مقیمه دارالسلطنه کابل قرائت میشود سلامخانه قصر ستور یوم شنبه ١٧ سنبله ١٣٠٩ هیئت کابینه اور مامورین اور سفراء کی موجودگی میں وکلای افغانستان اعلیحضرت غازی کی حضور میں اپنی تمام اتجاویز کا فیصله عرض کر رهی هیں
٦٠ (جريده سراج الاخبار افغانيا) ۱ بحضور مبارک اعليحضرت پادشاه معظم غازي ! ولا حضرت عظما حفظه تلگرام امان الله خان را که بعرض آنحضرت مخابره نموده و متوجه بخدمات مورد توجه مقام است بعضی ازیقایقکر قرائت فرمودند . میدانند این قدر حقیر که امان الله خان از آنحضرت میباشند از آن به بعضی جایها حیثیت که بروز شادیافت ( در روز شورش و ایجاب باغ مطيع و دیم ) ملک پتیار و مالک پل فلان نو مفتضح دسیسه میکردند الان در شرایق نیز که بسکر دایی همه جا در خدمت میباشند با در نظر داشتن اینکه مکاتیب افغانیه همه در افغانستان نابرده دوازده ایام شکرانه دوازده هزار فیل را بزندان گرمائی مسترد کیا نیکه از کابلست که دایت همه روزه فی فیر را بیست جو شایع این طریق الله چه بود که بر اند و طاقتی ظرفیت داخله است . ثانیاً بعرض الاه ابوالده آئین ، احوالخیر مجرای ریاست کوته فوايد ميرسند جوهر تاریخی را میبارد که در آخرت ملاحظه میشد پیوسته پادشاه باید اینقدر درويشار اميده نیز اثمن و متداول است اسباب مهیا به و شایسته تا چند خانمان شخصی تا در حال ملازمت تشکر مینمایند تا با ناک خلافت اله و شبها در نور باری حضرت ، اجلاس عالی بدست اینحضرت مرافقت ایک دار مکاتیب الایام در هیچ دوست بوجود خود نادیده سلطنتش ایالتی و دورانی است هر که غیر از دو زبرین ولایت را اوردند - همچون در پیرا سواد مهران است بنا بر شایق خیب چه در نفحه الان در خاتم ، به نام نامون دیوانست، که اخری فریضه متوجه بدست سرانجام که باغ ابین را در مورد مجرا بیفایق درجه پادشاه رکاب مبارک اعمله دیوانته عظمای افغان بائی سجات افغانستان نجات بخشهام امور ...اعلی همه جائی دایته الان در طبع احکامترین کیفیت دانشمندانه اینی که بر مسند هدایت و این بار پادشاهی و حکومت است با شرف ... . ٤ افغان ۱٣٣۱
٦١ ۱ در قوامان اوضاع جائیکه فایریکو بود د باینکه منابع انی شیر و پر منفعت محسوب بود تا هم چلان اسباب بیمازان بسیار بود و امور ملکی متوقف و ازان زمان این سپس جمیع حالات کا بله نهایت درجه در تنزل و پستی است و منابع فایران بمخازن ہوا اگر یکوایت است یکسر به پایت با حوالت یا نیست که در حیز افزوده و در سلک امثال شعبه امرازان وقت الی حال ملحوظه را در افکار بانی نافذ داشتم که شهریور اگر چند تا امید و قی بدل میرود پسراست با چاره تمایلات بندگان فراستی را سان سازد . چسان بخار و بے عمومی را بر ان افتاد از کار برآرد و انجا رات سعادات حقیقی آن را بصورت اسباب ترقے اور د بتلا شد دل را در یافتن حرارت مات قدما تا بر عمارات قدیمہ کل را در حمیت آن مهارت قرض پر داز یکد انقلاب امور را مر معلوبات مبان نیروزی و ضیقه عظمت و قدرت با فراغ قوت ارادت کارا با ترک مسیع بدیهات و خذلان مکنونات نقل نموده تا از منابع بد و فوزو بنا در شاپوق اثار افق بخشا در درجه اوراق اوضاع روز کار نمایان سارن تمهید و پرده طیر پرستیع را از وجه سخن دشفار صورتیه از دید بر کیت ؟ هموطنان ! باینچه گفتم و بوشتم واگر جه عرض حلال نوشته ام دیگر دریا معقول قابلہ فہمت و باستانی را با یجان و بیز با هدا روانه نظرت دانمندان وان زمان پیجان برده دارید : وانا من باشترت میوه روزی سان پر گینه دانی احق پزشانید . بیت الانستین ما و ان اندیش روز نانسته بر امارات برمان ما، یہ ہستی میدانم دانتیک شهرت بلو در سایه یان انار شمع بر روید نه پوشناه مال علم بین فقه پنداشت اباب بے نیاز تعه حقیقی حلو و تن نما داشته پیمان امتحان میخوانیم و اتخار یومیاں ملی را مار مطلب منانییم آیا یه غزت و جدا تازه با ترین انام و در این صورت مخرا به سعر را مخو بر بدو رایجانی از بیست از پرده ب در میان اشق نایاب هستیم با تیره احقه در انتبار یک بارش را به پس از خار میگزاریم
٦٢ این عهد نامه که مشتمل بر چهارده ماده یک ضمیمه میباشد نمره یکم و نمره دویم آن در پیش ما میباشد ـ که هر کدام آن ماده ها قدر قیمت یکسانی است بنابر مراسلات با دوام در بین هر دو نفر در کشمکش در حقیقت متحدات پوشیده نیست بنا بر آن ماده ها مندرجه در سوانح صلح نظر نموده این عهد نامه را در بین دو فرقه از قیام مبرمضان مجادله آن به حال خویشان کارفرما در کارها نوشته در صنایع که در پایه مندرجه در حق صلح نامبرده داشته شده جان فدای او دایه با لایم بدیم ـ سروری و طاعت بدیم ـ و صادق هم می باشیم که درین مجلس که بعهده دولت باطن و به سلطنت متبوع تولیم و تبرا با ایشان میباشیم و در این عهد نامه مندرجه برضا و رغبت خود مان بدون جبر و اکراه به امضاء و مهر خود ها پیش میکنیم مقرر میشود حقی که تمامیه صلح و مرام که بر قرارات معاهده که در پیش ما میباشد به دوام در یک حقوق مان ما بآن اشارتا میگویم نوشته شد ١٠ ذی الحج ١٣٤٩ ولایت مرور زلف وکیل اول سید غوث جان وکیل گل محمد خان وکیل اشرف خان وکیل محمد خان غلام حسن جان مهر دار شمس الدین مهر دار سر بلند خان مهر دار عبد الکریم خان مهر دار نواب محمد خان مهر دار عبد الرزاق خان صاحب الدین مهر دار عبد الواحد خان مهر دار
٦٣ [column 1] عثمان خان محمد شاه آفریدی نواب خان عبد الصمد خان غازی بای خان عبد العظیم خان محمد عظیم خان [column 2] اُدِن خان لشکر محمد خان بار محمد قریشی عبد الرحمن خان محمد یعقوب خان محمد ظہور خان [column 3] پاینده خان سید امیر خان دشوارم خان روزی بای خان عبد الرحمن فقیری [column 4] حرز الله خان محمد کمال الدین خان حبیب الله خان سفر علی خان طره باز اپریل خانی نوره خان
٦٤ عشه وسکون ولایت قندهار [ILL] محمد اکبر خان قوم توخى عبد الوهاب خان قوم الكوزى محمد عمر خان قوم ترخى حاجی نعیم قوم کاکر وطندار پر آقا يكپسر ريمه در متوطن شاجهوى صحه حاجی غلام حیدر [ILL] فخر الدین خان قوم بارکزایی عبد الله خان مرکز توخی محمد نعیم خان قوم هوتک صفدر خان ناقل هوتک حمله محمدالدین بارکزائی صحه محمد نعیم فخر الدین خان امیرش توخی محمد خان قوم شنزواد محمد انور خان بارکزایی محمد فاضل خان اچکزی بمهر محمد انور خان بارکزای محمد فاضل وكيل صحه محمد عثمان خان قوم محمد خان بارکزایی در دانه خان مجيرزاد احمد خان مرگز ناقل در پنجوائی بمهر بابت کرم محمد عثمان مرکز وكيل در پشه [ILL] عثمان با بوهر جان میر محمد مهیم خان غلجی سید عمر خان زاده ترقندوز بمهر عبد القيوم [ILL] وکیل عبد القيوم قندهار وکیل ولایت قندهار سید امین مرکز الکوزی حکام محمد اکبر خان الکوزایی حاکم ابو لا لا بمهر سید احمد گل محمد خان نورزائی عمه سید احمد قندهار الکوزی [ILL]
٦٥ عهد سید محمد هاشم ملاي معلومه سنگره ان پرکانه وقتیله یوسف زائی حویلی ملا محمد هاشم مار محمد منان خان بمقام چوب خانه در کوچه نام محمد اعظم قاضی طهر محمد خان محمد اعظم وقیر عالم پسر عبد الصمد خان پرکانه حویلی شخصی طهر محمد خان وقر محمد هاشم نیکه کلنته بکار چوب حاجی رستم خان و کر خرم خان بمقام طهر محمد خان وقر محمد روان قطعه عبدالواحد خان وقر محمد حسن و عبدالودود حویلی شخصی طهر محمد خان پسر محمد یوسف عبد الصمد خان قطعه عبد الخالق وقر محمد شفیع درین ولا یت قندهار بمقام صالح عبد الرحمان وقر محمد شفیع باقران حویلی شخصی دستخط و قرار نور محمد خان برا در طهر محمد خان صاحب صالح وقر محمد یونس صراف حاجی اسد محمد خان اینجا جای ندارد در کوچه حسن شیر علی افغان و محمد امان خان محمد عمر شیر علی با برادر فهم و خیل درینولا در قندهار عبد القدوس عبد القدوس محب باقر محمد خان بار محمد خان حویلی جرب مقیا تور قیوم خان بن شیر محمد محمد خان و پسر محمد نادر حفظه محمد اکبر طهر محمد خان و قر محمد علی باقر محمد خان پرکانه حویلی شخصی در حدم صالح صاحب کار نور محمد خان [ILL] نور محمد خان با در [ILL] طهر محمد [ILL] [ILL] [ILL]
٦٦ [ILL] ولی محمد خان محمد معظم خان دستر خوانچی عبد الحق خان پیسر مرکز نوروز علی خان مددگار قاضی عسکر [ILL] میر عطا محمد محمد فیض خان صالح محمد خان سررشته دار میر داد خان پرچه‌نویس سرکار محرر دفتر حضور حضور دارالانشا [ILL] [ILL] مولاداد کرنیل ناصر علی خان میر زمان خان پوپلزی نورالله خان فراهی امین اللہ خان پشه‌ئی شجاع‌الملک [ILL] [ILL] [ILL] غلام نبی خان میرجان شفر برگیڈیر محمد یوسف خان یعقوب‌زائی عبدی کوتوال رئیس گدام [ILL] [ILL] [ILL] نذر محمد خان دفتر نوازشدار محمد رسول خان میرزا الاخوان حبیب الله خان قاضی عسکر اسد الله خان کاتب وقت شعبه احکام حضور دارالانشا [ILL] در دفتر ولایات محمد عمر خان امیرزاده خان عبدالقادر خان صید گير عبد الرحمن خان سرکرده میر فضل احمد خان [ILL] [ILL] سررشته دار دیوان [ILL] [ILL] [ILL] غلام محمد خان [ILL] نصرالدین خان غند مشاور محمد حسین خان [ILL] پیشخدمت حضور قاضی عسکر کوتوالی [ILL] داروغه کریم بخش پرچه‌نوس فضل احمد آخندزاده عبدالرحیم خان پیشخدمت حضور امیر محمد خان [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] عبدالغفور خان محرر [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] غلام الدین یعقوب‌زائی
[BLANK PAGE]
٦٨ [ILL] محمد عمر خان [ILL] چند پو[ILL] افغان کرد کدیمد توقمان چیپ کته عبدالخالق درین جا گذارد محمد سید موسی خان بشیر خیل مقراخان سر پر اعضاب [ILL] محمد سردار محمد شریف [ILL] از [ILL] سردار محمد رفیق [ILL] سردار محمد هان میر زمان الدین خان [ILL] [ILL] [ILL] در قندهار حاجی محمد اعظم خان دایی صلح سردار محمد عمر خان در قندهار حضور سردار محمد غوث خان ملا عبد القدوس و در کابل معلم وکیل است معلم عبد الرؤف خان وکیل محمد عمر خان در گردیز عثمان خان محمد زایی در قندهار سردار محمد زکریا خان مدرس دار العلوم کابل در گردیز [ILL] قندهار حاجی محمد علی در شور بازار سردار فضل محمد خان سرپرست [ILL] سردار [ILL] [ILL] میر عطا محمد خان [ILL] [ILL] [ILL]
[BLANK PAGE]
۷۰ ۱۱ روز قیمت قندھاری ۱ کشور ۲ دروانی در محمد زائی پوپلزائی مشران و غیرہ بومی دہقان سیّد پیر ناظران و غیرہ سوادل قاضی در قطعات ملحقه صلح چکڑے پتوار چپڑاسی و غیرہ و غیرہ ۲ شہرک در جمیع قبائل و غیره فوق در دکان [ILL] عسکر ا در رسایل نوکر سایس طبیب عورتیں عورتیں دایه پیرزن چاپلوس بھڑوا خراب عورت مذہبیون [ILL] غیبت گو شراب خوار سود خوار عقاید و رواج بیماری و مرض جادو تعویذ دوا پردہ [ILL] لباس و خوراک مکان مسجد [ILL] تجارت داخلی از شهر برای قبایل و خارج [ILL] و بلخ و هند رسوم و عادات خوشی و غم
[BLANK PAGE]
۷۲ [ILL]
[BLANK PAGE]
٧٤ ترجمۀ ۱۳۰۹ کے «لویه جرگه» کے اردوی فیصلۀ گرامی وکیلوں کے فوق الذکر مذکورہ بالا فیصلے کا اردو ترجمہ -
۷۵ (امان اللہ کی خواہش کے متعلق لويہ جرگہ کے فقره (۵) کی صوابدید) بحضور مبارک اعلیحضرت پادشاه معظم غازی! والاحضرت صدر اعظم صاحب نے امان اللہ خان کا تار جو اس نے ذات شاہانہ کی خدمت میں بھیجا ہے اور اسکا وہ خط جو اس نے والاحضرت وزیر مختار لندن کو لکھا تھا ”لویہ جرگہ“ کی مجلس میں پڑھا -- آپ کے ملوکانہ حضور سے امان اللہ خان کا یہ مطالبہ بھی ان بڑی بڑی بے انصافیوں اور ظلموں میں سے ہے جس سے کہ وہ ہماری ستم رسیدہ ملت کے ان زخموں پر نمک چھڑک رہا ہے جو خود شاہ مخلوع کی بدرفتاریوں اور بد کرداریوں کی وجہ سے ہمیں پہنچے ہیں ۔ان اس خواہش سے وہ متمدن دنیا کی نظروں میں بھی اپنے آپ کو گرا رہا ہے۔ پیشتر اسکے کہ امان اللہ خان حکومت سے یہ بیجا مطالبہ کرتا اسکو سوچنا چاہئیے تھا کہ اسکی تمام تنہا و ذاتی جائداد جو افغانستان میں عین المال کے نام سے مشہور اور موجود تھی کس راس المال سے بنی تھی اور وہ کونسی آمدنی تھی جس سے اسکا سرمایہ ہر روز بڑھتا جا رہا تھا؟ کیا اسکی روز افزونی تجارت کے وسیلے سے تھی یا زراعت کے ذریعے سے ؟ کیا وہ سرمایہ کارخانوں کی آمدنی سے بھر پور ہو رہا تھا یا صنعت وحرفت کے واسطے سے ؟ آخر اس عین المال کے سرچشمے کونسے تھے کہ افغانستان میں تخت وحکومت کے ملنے کے بعد عین المال کی ثروت وحیثیت اول درجے پرپہنچ گئی؟ ظاہر ہے کہ حکومت کے خزانے میں سے تمام گرانبہا جواہرات اور وہ سُرمئیں قیمتی مال
٧٦ و اسباب بادشاہ کے تصرف اور قبضے میں تھا ، اور جیسے کہ آجکل بھی دنیا میں رسم و رواج ہے خاندان شاہی کا اثاث البیت اور زیب و زینت کا اسباب انکے برسر حکومت ہونے کی وجہ سے انکے تصرف میں ہُوا کرتا تھا۔ لیکن اس سب مال موہوبہ کی حقیقی مالک ملت تھی ، لہٰذا مذکورہ اشیاء حکومت کا مال ہے اور ہماری اصطلاح میں مسلمانوں کے بیت المال کا مال ہے۔ اس لحاظ سے کہ اسکی بابت افغانستان میں کوئی صحیح اصول اور درست مانع قانون موجود نہ تھا۔ گذشتہ شاہی خاندان اس تمام مال و متاع کو اپنی ذاتی ملکیت جانکر اپنے عین المال میں شمار و داخل کرلیتا۔ اعلحضرت امیر شہید نے اس نکتے اور دقیق مسئلے کو کامل طور پر سمجھ لیا تھا چنانچہ خود امان اللہ خان اور افغانستان کے سب کار داروں کو جن میں سے اکثر زندہ ہیں معلوم ہے کہ اعلحضرت شہید نے ان تمام بیش قیمت اشیاء اور گرانبہا جواہرات کو دفتر کے حساب کتاب میں داخل کر دیا تھا اور ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ مال ہمن حکومت افغانستان کا مال ہے اور صرف چند روز کیلئے شاہی حرم کو عاریتاً دیا گیا ہے ، اب جبکہ خود امان اللہ خان اس کیفیت اور حقیقت سے واقف ہے اسکو کس طرح حوصلہ ہو ا کہ ایسی لایعنی درخواست افغانستان کے بادشاہ اور حکومت کی خدمت میں پیش کرے ۔ پھر امان اللہ خان نے جہاں کہیں اسکو کارخانہ نظر آیا اور جہاں کہیں اس نے حکومت کے سود مند ذرائع اور پُر منفعت وسائل دیکھے انکو عین المال کا نام دیکر
۷۷ اپنی ذاتی ملکیت میں شامل کر لیا۔ اگر امان اللہ خان اس قسم کا عین المال مانگتا ہے تو ثابت ہوا اور ہم کہے بغیر نہیں رہسکتے کہ اسلامی بیت المال کا سب سے پہلا خائن خود امان اللہ تھا، اور اگر دوسروں سے بھی خیانت سرزد ہوئی تو یہ اسکی خیانت اور بد دیانتی کی پیروی کا نتیجہ تھا ۔ جن دنوں امان اللہ خان نے یورپ کی سیاحت و سفر کا ارادہ کیا کابل میں سونا مفقود ہو چکا تھا۔ وزارت مالیہ رات دن ہنڈیوں اور سونے کی خریداری میں لگی رہتی تھی یہ اسکی ان تھک کوششوں کا نتیجہ تھا کہ روپے کی ایک بہت بڑی مقدار باہر بھیجدی گئی تاکہ امان اللہ خان افغانستان کے واسطے ترقی کا سامان خریدے، لیکن امان اللہ خان نے بجاے اسکے کہ حکومت کے روپے کو صحیح طور پر صرف کرے یعنی وہ سامان خریدے جس سے ملک کو ترقی کرنے میں مدد ملے اس نے بنکوں میں جمع کر دیا۔ اور جو تھوڑے بہت کارخانے بھی خریدے انکی قیمت ادا نہ کی اور خواہ مخواہ ادھار لئے اور ہماری عاجز ملت کو قرض میں پھنسا دیا۔ امان اللہ خان جسوقت ملک و حکومت اور ہماری ملت کے ناموس کو سقول کے ہاتھ میں چھوڑ بھاگ گیا۔ حکومت افغانستان کے سب جواہرات اور اندوختہ خزانے کو اپنے ساتھ لیگیا چنانچہ امان اللہ کی اس افرا تفری کے موقع پر دنیا کے اخبارات نے ان واقعات کو الم نشرح کر دیا۔ اب جو رومہ میں امان اللہ خان کی بڑی بڑی عالیشان اور متعدد عمارتیں کھڑی ہیں اور اسکا بہت زیادہ پیسہ جمع ہے محمد یعقوب حسن
۷۸ اور وہ کمپنیوں میں حصے خریدتا ہے اور فائدہ اٹھاتا ہے کس کے زر و مال کی برکت اور خیرات ہے ؟ شاہا ! آپ سے ہماری التماس ہے اور آپ کے حضور میں عرض کرتے ہیں اسلئے کہ آپ تمام ملت افغانستان کے وکیل اور اسکے حقوق کے محافظ ہیں ۔ ہماری درخواست یہ ہے کہ امان اللہ خان سے جو کچھ وہ حکومت افغانستان کے خزانے اور دفینے سے اپنے ساتھ باہر لے گیا ہے اور آج ہمارے پیسے سے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے مطالبہ اور وصول کر کے ہماری حق رسی کریں۔ ہم کسی صورت بھی امان اللہ خان کو افغانستان کی سر زمین میں کسی زمین یا مکان یا جائداد کا مالک نہیں جانتے ۔ ہم مسلمانوں کے بیت المال کو جسکو امان اللہ خان نے عین المال کے نام پر جمع کر رکھا تھا اور جسکو آپ نے اپنے جلوس کے روز اول سے ہی بیت المال میں ضم کر دیا ہے اپنا اور ملت کا قومی حق امان اللہ خان کو خطاب کرتے ہیں :۔ " آپ تو ہم سے عین المال کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ہم وہ خزانہ، میگزین اور اپنی حکومت کی ہستی و جائداد جس میں سے بہت بڑی مقدار آپ اپنے ساتھ لےگئے ہیں اور باقیماندہ کو ڈاکوؤں اور چوروں کے کندہ ناتراش طبقے کے حوالے فرماگئے کس شخص سے مانگیں ؟ ہم نے آپکو بادشاہی کے مقدس عہدے کے لئے چنا تھا تو کیا اس اعتماد و اعتبار کا یہی معاوضہ تھا کہ حکومت کو رہزنوں اور قزاقوں کی محمد یعقوب حسن
۷۹ جماعت کے سپرد کر کے انکے رحم پر چھوڑ جائیں اور عزیز وطن کو خونریزی اور قتل وغارت کے عالم میں گرفتار کر جائیں؟ کیا آپ کی زندگی اور آپکے اہل وعیال کی زندگی زیادہ قدر و قیمت رکھتی تھی یا انسانیت ایک جامعہ اور ملت کی زندگی کو ترجیح اور فوقیت دیتی ہے؟ لیکن آپ اپنی چند روزہ حیات کی امان وسلامتی کی خاطر ملت کی حیات کو خطرے میں ڈال گئے ، اگر آپ واقعی حق شناس ہیں تو آپ اپنے اُن حسیات اور جذبات کو یاد میں لا دیں جنکی تاثیر سے آپ منبروں پر لمبے چوڑے خطبوں کے دوران میں اور اپنی صوادھا تقریروں میں اپنے خون کو، اپنی اولاد کے خون کو ہماری ترقی و اقبال کی راہ میں زبانی جمع خرچ سے گرایا کرتے تھے، پس مہربانی کر کے ہماری حکومت کی درماندگی و پریشانی حالی پر رحم کھا ئیں اور آپ جانتے ہیں کہ محض آپکی خود رائی اور خلاف شریعت آرزووں کی طفیل سے ہمیں یہ روز بد دیکھنا پڑا ہے، اور آپ افغانستان کے زر وجواہر اپنے ساتھ لیگیے ہیں جسکی وجہ سے آج ہمارے سکے کا نرخ حد سے زیادہ تنزل کر گیا ہے ۔ بڑا ہی لطف وکرم ہوگا اگر آپ ہماری ملت کے پیسے سے اس قرض کو ادا کریں جو آپ نے ہمارے لئے لیا تھا ، اور جو باقی بچے ہماری متبوع حکومت کو لوٹا دیں ، اس طریقے سے یہ ثابت ہو جائیگا کہ آپ کے بیانات میں کچھ نہ کچھ حقیقت تو تھی، اور ہمیں یہ فائدہ ہو گا کہ اپنی آئندہ حیات کے سنبھالنے اور استوار کرنے کیلئے ہمارے پاس ثروت موجود ہو جائیگی ۔ چونکہ ہماری ملت مفلس اور ناتواں ہو گئی ہے ہم اپنا حق چھوڑ نہیں سکتے، ہم مجبور ہیں اور ناگزیر حکومت کے حضور میں پیش کرینگے کہ جس ذریعے اور وسیلے سے بھی ممکن ہو ہمارا حق امان اللہ خان سے وصول کرے ۔
۸۰ اعلیحضرت معظم غازی بعد از منظوری فیصله‌های وکلای ملت نطق وداعیه‌شان را قرائت میفرمایند بجانب راست تخت عموم سفرا و نمایندگان دول خارجه و بجانب چپ تخت صدراعظم و هیئت کابینه و مامورین بزرگ مرکزی بالمقابل عموم وکلای منتخبه لویه جرگه ۱۳۰۹ نشسته ارشادات همایونی را میشنوند. [ILL] ۲۷ سنبله ۱۳۰۹ اعلیحضرت غازی کی الوداعی تقریر کا منظره جو وکیلوں اور مامورین اور سفیروں کی سامنی فرما رهی هیں
۸۱ فهرست وکلای محترم افغانستان در لویه جرگۀ ۱۳۰۹ لویه جرگه ۱۳۰۹ کے تمام افغانستان کے محترم وکلا کی فہرست با اینکه تصاویر وکلای لویه جرگه بقید تمام ولایات و حکومات اعلای افغانستان قبلاً نشر شده ولی بلحاظ اینکه ناظرین محترم خوبتر از اسمای سامی و هویت و مسکن آنها مطلع و مقاماتی را که اوشان از طرف موکلین خود (که عامه اهالی همان منطقه است) اصولاً وکیل منتخب شده اند خوبتر بشناسند جداول آتی الذکر را مطالعه فرمایند:- باوجودیکه لویه جرگہ کے وکیلوں کی تصویریں تمام افغانستان کی مختلف ولایتوں اور اعلیٰ حکومتوں کے ناموں کے ساتھ پیشتر شائع ہوچکی ہیں، لیکن اس غرض سے کہ قارئین کرام اُن کے گرامی ناموں، شخصیت اور رہائش سے بہتر واقف ہو جائیں اور یہ کہ جن صوبوں میں سے انکے موکلین نے (اسی صوبے کے عوام) انکو اصولاً اپنا وکیل منتخب کیا ہے انکو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں۔ ذیل میں ایک فہرست شائع کرتے ہیں۔ اسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت کابل: | نمبر عمومی | نمبر خصوصی | اسماء | ولدیت | مسکن | منطقه انتخابیه | |---|---|---|---|---|---| | ۱ | ۱ | حاجی شہنواز خان | احمد جان خان | بابای خودی علیہ الرحمه | وکیل اہالی شہر کابل | | ۲ | ۲ | غلام نقشبند خان | محمد اسمعیل خان | دروازهٔ لاہوری | " " " " | | ۳ | ۳ | میر آقا خان | میر محمد حسین خان | قلعه ہزارہ ہای چنداول | " " " " | | ۴ | ۴ | میجر غلام قادر خان | محمود آخند زاده | زبیداغ میدان | مرکز حکومتی میدان |
۸۲ بقیهٔ اسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت کابل نمبر عمومی | نمبر شخصی | اسماء | ولدیت | سکونت | طبقهٔ اهالیه ۵ | ۵ | شیر علیخان | عبدالوهاب خان | چهار آسیاب | وکیل اهالی چهار آسیاب ۶ | ۶ | ملک سمندر خان | ملک ظفر خان | جلیریز میدان | " علاقهٔ دایمرداد ۷ | ۷ | حاجی محمد خان | نورمحمد خان | ده دانا | " محلهٔ اول و دوم چها [ILL] ۸ | ۸ | حاجی محمد شریف خان | عبدالحمید خان | بکتوت | قریه بکتوت افغانیه حکومتی پغمان و بکتوت ۹ | ۹ | محمد عمر خان | محمد حفیظ خان | کمری | وکیل اهالی حصهٔ اول بگرامی ۱۰ | ۱۰ | میرعبدالقادر خان | میر احمد خان | بخت یاران | " " " ۲ ۱۱ | ۱۱ | محمد سرور خان | غلام حیدر خان | دایمیر داد وردک | " علاقه دایمیر داد وردک ۱۲ | ۱۲ | جمعه خان | ملک عبدالعزیز خان | خوات | " " وردک ۱۳ | ۱۳ | میرزا عبدالخالق خان | ملا خواجه محمد خان | عربان وردک | " " " ۱۴ | ۱۴ | خواجه فیض الله خان | حاجی خواجه بابا خان | کلنگار | قریه جات حکومتی لوگر ۱۵ | ۱۵ | محمد اسلم خان | فیض محمد خان | چرخ لوگر | " چرخ و خروار و شأنزاه شعله حکومتی لوگر ۱۶ | ۱۶ | عبدالغفار خان | رستم خان | محمد آغه | وکیل اهالی علاقه داری محمد آغه ۱۷ | ۱۷ | خال محمد خان | دولت محمد خان | بامیان | " مرکز حکومتی بامیان ۱۸ | ۱۸ | محمد رحیم خان | حضرت قلی خان | قریهٔ شق | " " " کهمرد ۱۹ | ۱۹ | شهر یاربیک | دولت بیک | سیغان | " سیغان
۸۳ بقية اسمای وکلاے محترم لویه جرگۀ ۱۳۰۹ از ولایت کابل: نمره عمومی | نمره شخصی | اســـماء | ولـــدیت | سکونت | منطقۀ انتخابیه ۲۰ | ۲۰ | محمد نعیم خان | شجابت خان | پنجشیر | وکیل اهالی پنجشیر ۲۱ | ۲۱ | محمد افضل خان | تیمورشاه خان | جبل السراج | " حکومتی جبل السراج ۲۲ | ۲۲ | سمندر خان | میراحمد خان | قلعۀ حاجی | " کلکان وفرزه دسترپیچ و غیره ۲۳ | ۲۳ | کمال الدینخان | رحمت الله خان | چهاریکار | وکیل اهالی مرکز حکومتی کلان شمالی ۲۴ | ۲۴ | میرزا محمد اسلم خان | محمد ناصر خان | شکر دره | " علاقه‌داری شکردره ۲۵ | ۲۵ | میرغلام حیدر خان | غلام بهاؤالدین خان | استالف | " " استالف ۲۶ | ۲۶ | محمد صدیق خان | محمد یعقوب خان | خاوج دره | " " مربوطه بگرام ۲۷ | ۲۷ | حافظ عبدالمجید خان | عبدالصمد خان | درۀ کلان | " حکومتی نجراب ۲۸ | ۲۸ | عبدالحبیب خان | محمد گل خان | تگاب | علاقه‌داری نغلو و برفی متعلقه حکومتی تگاب ۲۹ | ۲۹ | میرزا احمد خان | عزت خان | خنج پنجشیر | وکیل اهالی علاقه‌داری سفید شهر پنجشیر ۳۰ | ۳۰ | محمد سرور خان | سلطان محمد خان | تگاب | وکیل اهالی مرکز حکومتی تگاب ۳۱ | ۳۱ | محمد قاسم خان | عبد الشکور خان | فند قستان | " غوربند علاقه‌داری آن ۳۲ | ۳۲ | محمد امین خان | ملک شاهین خان | بولغین | ریزه کوهستان ۳۳ | ۳۳ | عبدالرؤف خان | علی اصغر خان | قریۀ خم زرگر | وکیل اهالی حکومتی ریزه کوهستان ۳۴ | ۳۴ | میرزا فضل احمد خان | خداد خان | شهر غزنی | " " کلان غزنی و قصبات ان
٨٤ بقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت کابل: نمره عمومی نمره ولایتی اسماء ولدیت سکونت منطقه انتخابیه ٣٥ ٣٥ غلام محی الدینخان شیر محمدخان قره باغ غزنی وکیل اهالی قره باغ غزنی ٣٦ ٣٦ ملک شاه پسندخان غلام رضاخان علودانی " در علاقه داری حتوغزنی ٣٧ ٣٧ حاجی سید موسی خان سید مرتضی خان جاغوری " حکومتی جاغوری ٣٨ ٣٨ علی جمعه خان پاینده محمدخان مالستان " علاقه داری مالستان ٣٩ ٣٩ میرزا امرالدین خان سیف الدین خان شکو مقر " حکومتی مقر ٤٠ ٤٠ فیض الله خان " علاقه داری ناوه گیلان مقر ٤١ ٤١ محمد حسن خان رضا بخش خان کجاب بهسود " حکومتی بهسود ٤٢ ٤٢ سید زوار خان سید عبدالحسین خان قریه درویشان " علاقه داری دهولت پای مربوطه حکومت بهسود ٤٣ ٤٣ ملک محمد صدیق خان عبدالله خان قول خویش وکیل اهالی افاغنه کوچی بهسود ٤٤ ٤٤ سید شاه محمودخان شاه اسمعیل خان یکاولنگ " حکومتی یکاولنگ ٤٥ ٤٥ محمد عسکرخان محمد نعیم خان شکر آباد پشه ی دایزنگی " علاقه داری دایزنگی ٤٦ ٤٦ شیر علیخان غلام علیخان سرخ و پارسا " حکومتی سرخ و پارسا ٤٧ ٤٧ شهاب الدین خان مهرول خان اندر " علاقه داری اندر ٤٨ ٤٨ محمد اکبرخان نصرالله خان سنگر غزنی " حکومتی کلان غزنی ٤٩ ٤٩ میر محمد حسین بیگ محمد نبی بیگ نرگس " " " دایزنگی ٥٠ ٥٠ ارباب محمد مهدی خان میرزا حسین خان قریه لعل " " " " ٥١ ٥١ محمد صادق خان میرسلیمان بیگ دایکندی " " " دایکندی
۸۵ اسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت قندهار نمره عمومی نمره شخصی اسماء ولدیت سکونت منطقه انتخابیه ۵۲ ۱ عبد القیوم خان محمد رحیم خان شهر قندهار وکیل اهالی مرکز شهر قندهار ۵۳ ۲ عبد الوهاب خان محمد عمر خان " " " " " " ۵۴ ۳ قاضی عبد القیوم خان محمد اخند زاده " " " " " " ۵۵ ۴ سید اکرم خان سید احمد خان " " " " " " ۵۶ ۵ میرزا علی اکبر خان غلام حیدر خان " " " " " " ۵۷ ۶ حاجی محمد عمر خان عبد الله خان " " " " " " ۵۸ ۷ لالا حاجی اکو خان حاجی محمد عمر خان " " " " " " ۵۹ ۸ جلال خان امیر محمد خان مال گیر " مرکز حکومت پشتون دره ۶۰ ۹ حاجی شیر دل خان جلال الدین خان شهر قندهار " حکومت میوند ۶۱ ۱۰ ولی محمد خان فیض محمد خان زمین داور " " زمین داور ۶۲ ۱۱ محمد اکبر خان محمد اکرم خان ترین " " ترین ۶۳ ۱۲ محمد ایوب خان شیرین خان قریهٔ دو آب " " خاکریز ۶۴ ۱۳ عبد الله خان صمد الدین خان پوپلزی " علاقه داری میانشینت ۶۵ ۱۴ عبد الحبیب خان نظر محمد خان معروف " " معروف ۶۶ ۱۵ حاجی عبد الاحد خان عبد الرحیم خان جلدک " حکومت ترنک و جلدک
٨٦ اسماء وکلای محترم لویہ جرگۂ ۱۳۰۹ از ولایت قندھار : نمبر عمومی نمبر شخصی اسـمـاء ولــدیـت سـکونـت منطقۂ انتخابیہ ٦٧ ١٦ حاجی غلام جان محمد شریف خان ارغستان وکیل اہالی محال ارغستان ٦٨ ١٧ صفدر جنگ مجنون خان بابا جی " علاقه داری قلعہ گز ٦٩ ١٨ گل محمد خان تواب خان شور اندام " " دامان داکبر ٧٠ ١٩ سید محمد عمر خان سید امیر خان زنگی آباد " " پنجوائی زارِیا ٧١ ٢٠ محمد عثمان خان عبد اللہ خان دہلہ " " حکومتی دہلہ ٧٢ ٢١ عبد القیوم خان صالح محمد خان قلات " " قلات ٧٣ ٢٢ یار محمد خان سید محمد خان میان پشت " " گرمسیر ٧٤ ٢٣ غلام دستگیر خان محمد جانخان دہ راوُد " " دہ راوُد ٧٥ ٢٤ محمد فاضل خان پیر دوست خان دہشیر " " علاقه داري شير و سرخ ٧٦ ٢٥ محمد صدیق خان عبدالحق خان نادهٔ بارکزائی " " نادهٔ بارکزائی " ٧٧ ٢٦ حاجی محمد ایوب خان حاجی محمد علم خان قریۂ نوزاد " " نوزاد " ٧٨ ٢٧ آدم خان نظر محمد خان کاریزئا " " قلعہ گز ٧٩ ٢٨ محمد حلیم خان محمد عیسیٰ خان قلعہ بست " " قلعہ بست ٨٠ ٢٩ حاجی محمد امین خان نائب محمد غوث خان ساربان قلعہ " " پشت رود ٨١ ٣٠ عبد القیوم خان عبدالرحمن خان غورک " " نیِش غورک ٨٢ ٣١ حاجی محمد اعظم خان حاجی طور خان خاکریز " " خاک ریز ٨٣ ٣٢ محمد سرور خان صمد خان شور آبک " " شور آبک ٨٤ ٣٣ حاجی غلام حیدر خان نظر محمد خان ارغنداب " " ارغنداب ٨٥ ٣٤ عبد اللہ خان سلطان محمد خان زمین داور " " قندہار
۸۷ اسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت هرات: نمبر عمومی | نمبر ولایتی | اسماء | ولدیت | سکونت | منطقه انتخابیه ٨٦ | ١ | علی نظر خان | ملا درویش خان | جوند | وکیل اہالی علاقہ داری جوند ٨٧ | ٢ | ملا محمد معصوم خان | ملا عبدالوهابخان | قریۀ اسپاچه | " بلوک کہرق ٨٨ | ٣ | حاجی معروف خان | قاسم بای | کوهستان | " کوهستان ٨٩ | ٤ | ملا سعید محمد خان | ملا موسی خان | | " حکومتی تولک ٩٠ | ٥ | محمد یسین خان | قاضی عبدالاحد خان | انار دره | " انار دره ٩١ | ٦ | عبدالله خان | مجال خان | بادغیسین | " علاقه داری کروخ ٩٢ | ٧ | ملا غلام محمد خان | قاضی الیاس خان | قلعه شیخی | " " فرسی ٩٣ | ٨ | محمد شریف خان | عبدالرحمن خان | بلده هرات | " بلوک گذره ٩٤ | ٩ | جلال الدینخان | ذوالفقار خان | قریۀ ده تپه | " علاقه میلان غوریان ٩٥ | ١٠ | سید محمد خان | حاجی اکبر خان | سیاه جوی | " " فراه رود ٩٦ | ١١ | محمد ابراهیم خان | میرزا محمد علیخان | محله قیسان | " حکومتی غوریان ٩٧ | ١٢ | میرزا سید محمد خان | محمد ابراهیم خان | قریۀ کاته | " علاقه داری پس کوتل ٩٨ | ١٣ | محمد کریم خان | نائب شادیخان | حوضنکان | " " پسا بند غور ٩٩ | ١٤ | ملا عبدالوهاب خان | ملا عبدالحکیم خان | قریه کن علیا | " مرکز حکومتی غور ١٠٠ | ١٥ | سلطان محمد خان | گل محمد خان | گلران | " علاقه داری گلران
۸۸ بقیه اسماء وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت هرات نمره عمومی نمره شخصی اسماء ولدیت سکونت منطقه انتخابیه ١٠١ ١٦ محمد نادر خان عبدالقادر خان قریه شادبجام وکیل اهالی علاقه بلوک نفقان ١٠٢ ١٧ دین محمد خان شیر محمد خان کشکت کهنه " حکومتی کشک ١٠٣ ١٨ محمد اعظم خان محمد رسول خان قریه خر مگاه " " اسفزار ١٠٤ ١٩ سید احمد خان خلیفه فیض الله خان قلعه نو " " قلعه نو ١٠٥ ٢٠ محمد یوسف خان ابو بکر خان نبرد انک حسن خان " " آلوجان نیک ١٠٦ ٢١ قاضی غلام نبی خان حاجی محمد زمانخان محل بر درانی " شهر هرات ١٠٧ ٢٢ حافظ ملا فخرالدین خان محمد عظیم خان " قطبی چاق " " " ١٠٨ ٢٣ شیخ محمد امین خان غلام محمد خان خواجه عبدالله مصری " " " ١٠٩ ٢٤ عبدالوهاب خان حاجی آقا محمد خان گذر اسمعیل مرغاب " حکومتی مرغاب ١١٠ ٢٥ مولا داد بیگ محمد جان بیگ چغچران " " چغچران ١١١ ٢٦ حاجی محی الدینخان سیف الدینخان " " علاقه داری غلجی ١١٢ ٢٧ ملا صالح محمد خان ملا رحیم داد خان " " حکومتی شهرک ١١٣ ٢٨ نصرالدینخان عبدالله خان مارآباد اوبه " " اوبه ١١٤ ٢٩ محمد فضل خان محمد سر خان نو بادام " " علاقه داری چورک ١١٥ ٣٠ حاجی عبدالحق خان قاضی محمد حیدر خان شهر هرات " نائب الحکومگی هرات
۸۹ بقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت هراة نمبر عمومی | نمبر شخصی | اسماء | ولدیت | سکونت | منطقه انتخابیه ١١٦ | ٣١ | محمد ایوب خان | گل محمد خان | گلران | وکیل اهالی نایب الحکومگی هرات ١١٧ | ٣٢ | دربوزه خان | | کشک | " " " " ١١٨ | ٣٣ | ملا موسی خان | شاه پسند خان | غوریان | " " " " ١١٩ | ٣٤ | شیر علی خان | ذوالفقار خان | کرخ | " کرخ ١٢٠ | ٣٥ | حاجی شاه پسند خان | سکندر خان | شفلان | " علاقه شفلان
۹۰ اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت مزار شریف : نمبر عمومی | نمبر ولایت | اســــــماء | ولـــــديت | سـكـــونت | منطقه انتخابیه ۱۲۱ | ۱ | حاجی محمد شفیعخان | شرف بای | دروازه برون و یا | وکیل اهالی محکمه مرکزی مزار شریف ۱۲۲ | ۲ | سید حسین خان | سید محمد عظیم خان | گذر دروازه تاشقرغان | " " " " ۱۲۳ | ۳ | ایشان صدیق خان | ایشان عثمان خان | گذر قوا دیان | " " " " ۱۲۴ | ۴ | ملا عبدالرحمن خان | ملا غیاث خان | سر پل | " " " " ۱۲۵ | ۵ | میرزا عبدالاحدخان | میرزا عبدالصمدخان | " | " از محکمه کوهی سر پل ۱۲۶ | ۶ | طوره خان | پیر محمد خان | " | " افاغنه " " ۱۲۷ | ۷ | ملا محمد کریم خان | ملا بابه علیخان | کوهستان سر پل | " کوهستان " " ۱۲۸ | ۸ | سید یعقوب خان | سید عبدالواحد خان | سنگ چارک | " حکومتی سنگ چارک ۱۲۹ | ۹ | میرزا غلام شاه خان | پاینده محمد خان | " | " بلخاب ۱۳۰ | ۱۰ | محمد ابراهیم خان | حاجی امیر بای خان | سرقریه تاشقرغان | " تاشقرغان ۱۳۱ | ۱۱ | داکتر شیر احمد خان | شیر زمان خان | تاشقرغان | " " ۱۳۲ | ۱۲ | ملا آدینه جان محمد خان مشهور به ملا | " | " | " " ۱۳۳ | ۱۳ | میرزا مراد خان | محمد موسی خان | سایباغ | " ایبک ۱۳۴ | ۱۴ | سید عبدالعزیزخان | سید رحمن خان | آقچه | " آقچه ۱۳۵ | ۱۵ | ملا کمال الدینخان | عبدالصمد خان بای | جوی سلطان | " " جزوه سر ۲۵۰۰ ایضاً
۹۱ بقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت مزار شریف : نمره عمومی نمره حوزوی اسماء ولدیت سکونت منطقه انتخابیه ۱۳۶ ۱۶ ملا عبدالوهاب خان محمد طاهر خان خلوتی شبرغان وکیل اهالی حکومتی شبرغان ۱۳۷ ۱۷ خالی بای خان تروی بای خان چقچی " " " " ۱۳۸ ۱۸ استانه قل خان سید محمد خان چهارکنت " " علاقه داری " ۱۳۹ ۱۹ دوست علیخان سلیمان خان بابا یادگار " " نهر شاخ ۱۴۰ ۲۰ ملا حبیب الله خان حاجی محمد افضل خان روئی دو آب " " روئی دو آب ۱۴۱ ۲۱ حاجی طوره خان قربان علی خان قریه آدینه " " چهار بنز حکومتی بلخ ۱۴۲ ۲۲ محمد ایوب خان ملک فتح محمد خان باغ و راق " " " " " ۱۴۳ ۲۳ ملا رحمت الله خان عطا محمد خان جوی شار سبز " " نهر فیض آباد ۱۴۴ ۲۴ عیسی قلی خان قلیچ بای قرقین " " قرقین ۱۴۵ ۲۵ روزی بای عباد الله نهر دولت آباد " " نهر دولت آباد ۱۴۶ ۲۶ محمد شاه خان محمد حسن خان " " " " " " " ۱۴۷ ۲۷ ملا سید نظر خان قربان نظر خان شور تپه " " علاقه داری شور تپه ۱۴۸ ۲۸ عبدالصمد خان عبدالعزیز خان دره صوف " " دره صوف ۱۴۹ ۲۹ حاجی عبدالله خان محمد قربان خان تونج " " کشنده ۱۵۰ ۳۰ میرزا محمد یعقوب خان میرزا نجف علیخان آقچه " " بوین قره
۹۲ اسماء وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت قطغن و بدخشان: نمره عمومی نمره جزوی اسماء ولدیت سکونت منطقه انتخابیه ۱۵۱ ۱ نذری محمد خان حیت خان را کو وکیل اهالی حکومتی کلان بدخشان ۱۵۲ ۲ رستم بیک خان دوران شاه خان فیض آباد " " ۱۵۳ ۳ حاجی سلطان رضا خان محمد حسین خان ده ویران " نائب الحکومگی ۱۵۴ ۴ خالقداد خان ناظر اله داد خان گدحیات آبادقانآباد " " ۱۵۵ ۵ دوست محمد خان معاذ الله خان اقیاسس " " ۱۵۶ ۶ جله اش بای خان محمد بای خان جلگه ینگی قلعه " علاقه ینگی قلعه ۱۵۷ ۷ محمد اکبر خان ملا عبد الحکیم خان شاخ دره راغ " " راغ ۱۵۸ ۸ شمس الدینخان محمد میر خان غوری " " پنج دهۀ غوری ۱۵۹ ۹ ملا سید عبد القیوم خان خواجه میران جرم د خاش " " حکومتی جرم و خاش ۱۶۰ ۱۰ میرزا رحمت الله خان میر محمد عمر بیگ اندراب " " اندراب ۱۶۱ ۱۱ شیر محمد خان با به لاله خان چال و شکش " علاقه داری چال کش ۱۶۲ ۱۲ فضل احمد خان میرسید محمد خان تاله و برفک " " تاله و برفک ۱۶۳ ۱۳ ملا محمد خان ملا سید علی خان بغلان " " بغلان ۱۶۴ ۱۴ ملا عبد الحفیظ خان ملا عبد الجلیل خان فرخار " " فرخار ۱۶۵ ۱۵ شمس الدین خان دولت محمد خان کسهم " علاقه کشم در ایم
۹۳ بقیهٔ اسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت قطغن و بدخشان: نمره عمومی نمره ولایتی اسماء ولدیت سکونت منطقهٔ انتخابیه ١٦٦ ١٦ ملا نور محمد خان شوقی بای حضرت امام صاحب وکیل اهالی حکومتی حضرت امام ١٦٧ ١٧ محمد اکرم خان لاله میر خان قندز ” ” علاقه داری قندز ١٦٨ ١٨ فتح الله خان بابا خان شهر بزرگ ” ” ” بزرگ ١٦٩ ١٩ میرزا میراحمد خان خنجان ” ” ” خنجان ١٧٠ ٢٠ ملا عبدالخالق خان ملا علیجان خان جلغاغ ” حکومتی نهرین ١٧١ ٢١ سید نصیر الدین خان سید مرتضی خان کیان دولتی ” علاقه داری دولتی ١٧٢ ٢٢ محمد عمر خان میر محمد یعقوب خان خوست و فلغن ” خوست و فرنگ ١٧٣ ٢٣ میر جان خان میرزا نبات خان قریه عوض شاه علیا ” علاقه داری ١٧٤ ٢٤ سلطانعلی خان قاسم علیخان زیباک ” ” ” زیباک ١٧٥ ٢٥ میرزا عبد المؤمن خان عبدالولی شا خان قریه نسی درواز ” مرکز حکومتی وا... ١٧٦ ٢٦ سنجر خان محمود خان شغنان ” ” علاقه دار شغنان ١٧٧ ٢٧ میر سید جان یار محمد خان واخان ” ” حکومتی واخان
٩٤ اسمای وکلای محترم لویه جرگه ١٣٠٩ از حکومتی اعلای مشرقی نمبر عمومی نمبر جزوی اسماء ولدیت سکونت منطقه انتخابیه ١٧٨ ١ شیرین خان شیرزه خان حصارک وکیل الی اقوام سرخرودخیل ١٧٩ ٢ محمد صدیق خان قطب خان قریه سیاہ حصارک " " جبار خیل ١٨٠ ٣ میرزا محمد خان محمد عباس خان کابی خیل " " خربوتی گیانی ١٨١ ٤ محمد اصلاح خان خانو خان مرکی خیل " " شیرزاد خوگیانی ١٨٢ ٥ ملک شمس الدین خان نصر الله خان آگام " " وزیر " ١٨٣ ٦ محمد صدیق خان میرزا شهسوار خان اشپان " " شیرزاد " ١٨٤ ٧ سید محمد اکرم خان اورنگ شاه خان مستی خیل " " چپریار ١٨٥ ٨ سید زمانخان سید جان پادشاه حصار شاهی " " حصارک و کرنی ١٨٦ ٩ میرزا محمد کریم خان محمد آزاد خان قریه دو شه هارود کوت " " رود کوت ١٨٧ ١٠ ملک شنواری اکبر شاه خان نازیان " " سنگوخیل نازیان شنواری ١٨٨ ١١ ملا عبد الله جان عبد الصمد خان پایین شنواری " علاقه داره بالای ١٨٩ ١٢ ملا محمد گل آخندزاده ملا عبد الرحمن کوت خشک شنواری " اقوام سرپای و عبد الرحیم خیل شنواری ١٩٠ ١٣ عش میر خان حضرت میر خان عبدالخیل " " " " " " " ١٩١ ١٤ ملا محمد جان خان میرزا محمد یوسف خان خوش کنبد " " اقوام سرخرود ١٩٢ ١٥ حاجی میرزا محمد نسیم خان عبد الحکیم خان قریه مرزایان " " سرخرود
٩٥ بقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای مشرقی نمره عمومی نمره جروي اسماء ولدیت سکونت منطقه انتخابیه ١٩٣ ١٦ ملا عبدالغفور خان مفتی عبدالرحیم خان قریه قلعه اخند وکیل اهالی اقوام کامه ١٩٤ ١٧ ملا محمد جان ملا گل حسن خان لعل پوره لعل پوره دکه وغیره تعلقه مهمند ١٩٥ ١٨ میرزا حمید الله خان ملا سیف الله „ بتی کوت „ بتی کوت غیره تعلقه ١٩٦ ١٩ قاضی گلابشاه خان حضرت شاه „ قریه پشپلاق „ کو کو زائی و حسن خیل وغیره تعلقه مهمند ١٩٧ ٢٠ شیر علی خان عبد الجلیل „ علی شنگ „ „ مرکز حکومتی لغمان ١٩٨ ٢١ احمد جان خان تاج محمد خان قریه هائی چهار باغ لغمان چکله میانه تعلقه لغمان ١٩٩ ٢٢ ملا محمد معظم „ ملا محمد شیر دل „ قریه چند زائی „ „ قریه جات گنج گل و سرکانی متعاقه کنر خاص ٢٠٠ ٢٣ ملک میران ملک بدرالدینجان سلوتی سلوتی و کلهائی متعلقه کنر خاص ٢٠١ ٢٤ ملک فقیر محمد خان عبد الرحمن خان قریه و ملکی چنته سری „ قریه و ملکی و غیره تعلقه مرکز حکومتی کلان اسمار ٢٠٢ ٢٥ عتیق الله خان عبد اللطیف خان قریه موتی شیگل „ „ شیگل متعلقه حکومتی کلان اسمار ٢٠٣ ٢٦ درویش خان قدیر خان لچای شیگل „ „ „ „ „ ٢٠٤ ٢٧ حسن خان ملک حمیین خان قریه وته پور „ چنته سرای متعلقه حکومتی کلان اسمار ٢٠٥ ٢٨ محمد حسین خان داد رسول خان قریه سین زائی „ دره پیچ متعلقه حکومتی دره پیچ ٢٠٦ ٢٩ سید عبدالغفار خان گل احمد خان نور احمد „ „ علاقه داری دره علی شنگ لغمان ٢٠٧ ٣٠ محمد نادر دن خان محمد اکبر خان چهار باغ لغمان وکیل اهالی قریه جات توابع علاقه داری چگله میانه لغمان
۹۶ بقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای مشرقی : اســــــماء ولدیت سکونت منطقه انتخابیه ۳۱ ۲۰۸ حبیب الرحمن خان محمد نسیم خان قریه تندی لغمان وکیل اهالی مرکز حکومتی لغمان ۳۲ ۲۰۹ سید شریف خان سید حاتم شاه خان قریه خواجه خیل سفلی " " دره علینگار " شیوه و قطعه تک ۳۳ ۲۱۰ سید عبد الاحد خان سید غلام جان شیوه " { رشکی متعلقه کوز کنر تاجگ وصافی قریه شیو ۳۴ ۲۱۱ گل محمد خان ملک شاه محمود خان نورگل علیا " نورگل و دره قریه کوز کنر ۳۵ ۲۱۲ عبد الله خان ملک مهر الله خان درۀ نور " " دره نور ۳۶ ۲۱۳ سلطان محمد خان طلب الدین خان مورچل " " " پیچ ۳۷ ۲۱۴ ایشاخان فیض طلب خان کندی " " اقوام صافی دره پیچ ۳۸ ۲۱۵ میرزا محمد رفیق خان میرزا محمد عثمان خان شهر جلال آباد " " مرکز شهر جلال آباد ۳۹ ۲۱۶ سعد الله خان عنایت الله خان اغز باغ " " سلارزائی اسمار ۴۰ ۲۱۷ سید امان خان نصر علی خان رود ســـــاو " " مشوانی " ۴۱ ۲۱۸ ملک محمد یوسف خان عبد القادر خان قریه نازی " " درۀ نند ۴۲ ۲۱۹ نور محمد خان بنگی خان پشان " " نورستان لغمان ۴۳ ۲۲۰ عبد الغفور خان عبد الله خان پل رستم " " حکومتی نورستان ۴۴ ۲۲۱ ملایار محمد خان آزاد خان میردیس " " " "
۸۹ بقیهٔ اسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت هراة نمره عمومی | نمره ولایتی | اسماء | ولدیت | سکونت | منطقهٔ انتخابیه ۱۱۶ | ۳۱ | محمد ایوب خان | گل محمد خان | گلران | وکیل اهالی ثلث اجمهٔ بلوکیات هرات ۱۱۷ | ۳۲ | دریوزه خان | " | کشک | " " " " ۱۱۸ | ۳۳ | طاموس خان | شاه پسند خان | غوریان | " " " " ۱۱۹ | ۳۴ | شیر علی خان | ذوالفقار خان | کرخ | " کرخ ۱۲۰ | ۳۵ | حاجی شاه پسند خان | سکندر خان | شفلان | " علاقهٔ شفلان
۹۰۸ بقیه اسما و کلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی علای جنوبی نمبر عمومی نمبر شخصی اسماء ولدیت سکونت منطقه انتخابیه ۲۳۷ ١٦ خان ولی خان مغل خان میرزکه وکیل ثانی سوسی خیل منگل ۲۳۸ ۱۷ شیخان خیال الدین خان " " اقوام پیر که منگل ۲۳۹ ۱۸ معاذ الله خان " " " بزاغ بانی خیل منگل ٢٤٠ ۱۹ ملک پرگل خان گلزار خان " " اقوام بانی خیل منگل ٢٤١ ۲۰ محمد ایوب خان میر محمد خان پطان جاجی " پطان چکنی ٢٤٢ ۲۱ سلطان محمد خان امیر محمد خان مقبل " مقبل " ٢٤٣ ۲۲ محمد گل خان محمد زمان خان چکنی " چکنی ٢٤٤ ۲۳ عزیز خان سند و خان " " " " ٢٤٥ ٢٤ عالم خان ولی خان جانی خیل " میاخیل جدران ٢٤٦ ٢٥ ملک شنگس خان محمد کبیر خان شورک جدران " میزانی جدران ٢٤٧ ٢٦ حاجی محمد خان جان محمد خان خوست " تنی خوست ٢٤٨ ۲۷ ملک صاحب جان خان شیر جانخان یعقوبی " یعقوبی خوست ٢٤٩ ۲۸ ملک عجب نور خان صالح محمد خان لنگ " لک خوست ٢٥٠ ۲۹ حسین شاه خان حریف شاه خان لکن " اقوام لکن خوست ٢٥١ ۳۰ دین محمد خان صالح محمد خان منون " متون گندی خوست
۹۹ بقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای جنوبی : نمره عمومی | نمره شخصی | اســــمـــاء | ولدیت | سکونت | منطقهٔ انتخابیه --- | --- | --- | --- | --- | --- ٢٥٢ | ٣١ | میرزا محمد خان | جان محمد خان | متون | وکیل اهالی متون (گندمی) ٢٥٣ | ٣٢ | ملک بلند خان | پیاوی | گربز | " اقوام گربز (خوست ٢٥٤ | ٣٣ | ملک سلیم خان | پیرا گلخان | اسمعیل خیل | " اسمعیل خیل " ٢٥٥ | ٣٤ | حکیم شاه خان | عبدالرحیم خان | مندو زائی | " مندوزائی خوست ٢٥٦ | ٣٥ | ملک رحیم خان | ملک امرالله خان | قدم | " اقوام تنی (تریزو) " ٢٥٧ | ٣٦ | ملک گل محمد خان | میراحمد خان | شمل | " شمل خوست ٢٥٨ | ٣٧ | علی جانخان | سلطان محمد خان | خوست | " لکنی خوست ٢٥٩ | ٣٨ | محمد هاشم خان | خواجه محمد خان | باک | " باک " ٢٦٠ | ٣٩ | محمد یعقوب خان | محمد سرور خان | " | " " " ٢٦١ | ٤٠ | شیر شاه خان | دبدب خان | آبدکه نیازی | " نیازی (طویزه خوستم؟) ٢٦٢ | ٤١ | بهاء الدین خان | عبدالکریم خان | شرن | " شرن و کته وزی و سلیمان خیل ٢٦٣ | ٤٢ | صاحب خان | حاجی مهروان خان | " | " حکومتی کتوا‌ز ٢٦٤ | ٤٣ | علی محمد خان | محمد عظیم خان | دوشین | " " " ٢٦٥ | ٤٤ | ملک نظر محمد خان | پیر محمد خان | مرکز ارگون | " تاجک نشین ارگون ٢٦٦ | ٤٥ | ملا عبدالحکیم خان | عبدالرحمن خان | " | " " "
۱۰۰ بقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای جنوبی: نمبر عمومی نمره شخصی اسماء ولدیت سکونت منطقه انتخابیه ۲۶۷ ٤٦ ملک اختر محمد خان صادر خان دشتی جدران وکیل اهالی اقوام جدران، گردیز ۲۶۸ ٤٧ خوشدل خان عباس خان سروضه " " خروتی " " ۲۶۹ ٤٨ نور محمد خان صالح محمد خان باک " " باک خوست ۲۷۰ ٤٩ دین محمد خان فیروز خان گردیز " " گردیز ۲۷۱ ٥۰ مدد خان دلاور خان " " " " ۲۷۲ ٥۱ خان محمد خان صالح محمد خان زرملت " " زرملت ۲۷۳ ٥۲ خان شیرین خان پیرونان کلال گو " " " ۲۷۴ ٥۳ مبین خان ملک عبدالرحمن خان جانی خیل " " جانی خیل کٹواز بقیه ضمیمه اینجدول بدرستی ۳ صفحه در اخیر کتاب در تحت نمره ص ۱۰۰ چاپ شده چشم
۱۰۱ اسمای وکلای محترم لویه جرگۀ ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای فراه و چخانسور نمبر عمومی | نمبر حکومتی | اسماء | ولدیت | سکونت | منطقه انتخابیه ۲۷۵ | ۱ | یار محمد خان | غلام محمد خان | کده خیل | وکیل اهالی چخانسور ۲۷۶ | ۲ | محمد اسلم خان | محمد موسی خان | تولک | " مرکز حکومتی فراه ۲۷۷ | ۳ | سید محمد خان | قمرالیخان | داراباد | " " " ۲۷۸ | ۴ | یار محمد خان | حاجی گلاب | اصل خوابگاه | " علاقه داری خاک سفید ۲۷۹ | ۵ | میرزا محمد عظیم خان | محمد ابراهیم خان | نهر شاهی | " صل چخانسو ۲۸۰ | ۶ | عبد القدوس خان | عبد الرحیم خان | گلستان | " کوهستان گلستان ۲۸۱ | ۷ | عبد الغفار خان | نیاز محمد خان | بکوا | " کوچی " " ۲۸۲ | ۸ | شهاب الدین خان | شاه جهان خان | خانه پشت بکوا | " بکوا و خاشرود ۲۸۳ | ۹ | غلام محمد خان | عبد الوهاب خان | لاش جوین | " لاش جوین ۲۸۴ | ۱۰ | عبد البصیر خان | عبد الرحمن خان | دوکن فراه | " اقوام کوچی کن فراه ۲۸۵ | ۱۱ | محمد جانخان | جان محمد خان | گرجی | " " " ۲۸۶ | ۱۲ | محمد عظیم خان | حاجی محمد دین خان | زیر کوه فراه | " " " ۲۸۷ | ۱۳ | غلام محمد خان | بهلول خان | شیخ سر | " مرکز حکومتی چخانسور ۲۸۸ | ۱۴ | عطا محمد خان | شیر محمد خان | چهار بر جک | " چهار برجک
۱۰۳ اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای میمنه نمبر عمومی نمبر خصوصی اسماء ولدیت سکونت منطقه انتخابیه ۲۸۹ ۱ ملا جوره خان محمود بای خان بلچراغ وکیل اهالی در زاب گرزیوان ۲۹۰ ۲ امان قل خان جک باشی کلجک بای خان عرب شاه اندخوی ۲۹۱ ۳ امام گلدی بای خان عثمان خان اندخوی ” ” ۲۹۲ ٤ محمد ولیخان محمد یار خان ” ” ۲۹۳ ٥ ملا عبدالرحیم خان میرزا مولان خان گذرکوهی خانه مرکز میمنه ۲۹۴ ۶ ملا قربان خان دولت مرادخان شهر میمنه ” ” ۲۹۵ ۷ ملا یماق خان محمد امین خان جمشید علاقه داری سر حوض پیا ۲۹۶ ۸ ملا خیر الله خان حسین بابا خان سرای قلعه نقارین شیرین تگاب ۲۹۷ ۹ حاجی کریمداد خان عطا خان بندر کوهستان بندر کوهستان ۲۹۸ ۱۰ کلا خان حاجی داد محمدخان اچغ علاقه دارانی المار و ۲۹۹ ۱۱ محمد سعید بیگ خان تحقیق خان قیصار علاقه داری قیصا ۳۰۰ ۱۲ محمد زمان بیگ خان طور خان المار ” ” المار ۳۰۱ ۱۳ ایشان قل خان عاشورخان ” دولت آباد
١٠٣ اسما شا شرکت معظمه لو جر گه ١٣٠٩ صفت ممیزه ٣٠٢ ١ اعلیحضرت معظم محمد نادر شاه غازی بروز افتتاح جهت تا پادشاه نامی استقلال بخش افغانستان ٣٠٣ ٢ جناب عالیقدر جلالتمآب محمد هاشم خان صدر اعظم افغانستان ٣٠٤ ٣ عالیقدر جلالتمآب شاه محمود خان سپه سالار و وزیر حرب " ٣٠٥ ٤ " فیض محمد خان وزیر خارجه " ٣٠٦ ٥ " محمد گل خان " داخله " ٣٠٧ ٦ " حضرت فضل عمر صاحب مجددی " عدلیه " ٣٠٨ ٧ " میرزا محمد ایوب خان " مالیه " ٣٠٩ ٨ " علی محمد خان " معارف " ٣١٠ ٩ " میرزا محمد اکبر خان " تجارت " ٣١١ ١٠ " عبد الاحد خان رئیس شورای " ٣١٢ ١١ " احمد شاه خان وزیر دربار " ٣١٣ ١٢ " محمد نوروز خان سر منشی حضور اعلیحضرت غازی ٣١٤ ١٣ جلالتمآب محمد اکبر خان مدیر مستقله طبیه ٣١٥ ١٤ عالیجاه شجاعت همراه سردار اسد الله خان فرقه مشر سر یاور من حضور ٣١٦ ١٥ " سید شریف خان سر یاور حربی " ٣١٧ ١٦ والا شان جلالتمآب محمد سرور خان وکیل ولایت کابل
١٠٤ نمبر عمومی | نمبر جزو | اسما سامیان محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ | صفت ممیزه ٣١٨ | ١ | عالیقدر صداقتمآب عبدالرحیم خان | مشاور صدارت عظمی ٣١٩ | ٢ | عالیقدر یار محمد خان | رئیس ضبط احوالات ٣٢٠ | ٣ | " یار محمد خان | مدیر اول تحریرات صدارت عظمی ٣٢١ | ٤ | " محمد قاسم خان | " " " ٢ " ٣٢٢ | ٥ | " محمد شاه خان | " " " ٣ " ٣٢٣ | ٦ | " باز محمد خان | " اوراق " " ٣٢٤ | ١ | عالیجاه شجاعت همراه علی شاه خان فرقه مشر | معین وزارت حربیه ٣٢٥ | ٢ | " " " محمد عمر خان | رئیس ارکان حربیه عمومیه ٣٢٦ | ٣ | " عزت " جانبار خان | نائب سالار ٣٢٧ | ٤ | " " " زلمی خان | " ٣٢٨ | ٥ | " " " زرخان وزیری | " ٣٢٩ | ٦ | " شجاعت همراه احمد شاه خان | فرقه مشر ٣٣٠ | ١ | عالیقدر صداقتمآب میرزا محمد خان | معین وزارت خارجه ٣٣١ | ٢ | عالیقدر جلالتمآب شیر احمد خان | سفیر کبیر جلالتین افغانی مقیم در طهران ٣٣٢ | ٣ | " سلطان احمد خان | " " " " انقره ٣٣٣ | ٤ | صداقتمآب غلام یحیی خان | مدیر عمومی سیاسی وزارت خارجه
١٠٥ نمبر عمومی کدام تحریر است اسمائ سامعین محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ صفت ممیزه ٣٣٤ ٥ صداقتمآب غلام غوث خان مدیر عمومی اداری وزارتخارجه ٣٣٥ ٦ عالیقدر صداقتمآب غلام جیلانی خان مستشار سفارت کبری افغانی مسکو ٣٣٦ ٧ صداقتمآب سلطان محمد خان مدیر عمومی تشریفات وزارتخارجه ٣٣٧ ٨ " صلاح الدین خان " مطبوعات " " ٣٣٨ ٩ " عبد الصمد خان " دول غرب " " ٣٣٩ ١٠ " محمد ابراهیم خان " مامورین " " ٣٤٠ ١١ " حفیظ الله خان " محاسبه " " ٣٤١ ١٢ " عبد الغفار خان " اوراق " " ٣٤٢ ١٣ " محمد یونس خان سر کاتب ممیزه و قونسلگری " " ٣٤٣ ١٤ " محمد شفیع خان " دول شرقیه وزارت خارجه ٣٤٤ ١ عالیقدر صداقت مآب آدم خان معین اول وزارت داخله ٣٤٥ ٢ " " غلام فاروق خان " " ٢ " ٣٤٦ ٣ " " نیک محمد خان " " ٣ " ٣٤٧ ٤ " " خیر محمد خان " " ٤ " ٣٤٨ ٥ صداقتمآب خداداد خان مدیر مأمورین " ٣٤٩ ٦ " غلام محی الدین خان " پست و تلگراف "
١٠٦ نمبر عمومی نمبر مخصوص جرگه اسما سامی اعضای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ صفت ممیزه ٣٥٠ ٧ صداقتمآب سعد الدین خان مدیر معابر وزارت داخله ٣٥١ ٨ " میرزا بدرالدین خان " محاسبه " " ٣٥٢ ٩ " شاه محمد خان کفیل مدیریت عمومی پولیس دارالخلافه ٣٥٣ ١٠ عالیقدر شاه محمود خان حاکم سابقه لوگر ٣٥٤ ١ عالیقدر صداقتمآب فضل احمد خان معین وزارت عدلیه ٣٥٥ ٢ " امین الله خان رئیس اصلاحیه " " ٣٥٦ ٣ فضیلت پناه مولوی عبدالرب خان رئیس تمیز " " ٣٥٧ ٤ " عبدالله خان عضو اول تمیز " " ٣٥٨ ٥ صداقتمند میرزا محبب میر خان مدیر مأمورین " " ٣٥٩ ٦ " میرزا عبدالسلام خان مدیر تحریرات " " ٣٦٠ ٧ عالیجاه فضایل همراه ملا بزرگ صاحب رئیس جمعیة العلماء " " ٣٦١ ٨ فضیلت پناه میان عبدالعلی خان اعضاء " " ٣٦٢ ٩ " ملا عبدالحمید خان " " " ٣٦٣ ١٠ " ملا محمد حسن خان " " " ٣٦٤ ١١ " مولوی عبدالحی خان " " " ٣٦٥ ١٢ " ملا سید محمد خان " " "
۱۰۷ نمبر عمومی | نمبر جزوی | اسما سامیعین محترم لویہ جرگہ ۱۳۰۹ | صفت ممیزه ٣٦٦ | ۱۳ | فضیلت پناه ملا عبد الله خان | اعضاء وزارت عدلیه ٣٦٧ | ١٤ | " مولوی محمد قاسم خان | " " " ٣٦٨ | ١٥ | " مولوی عبدالواحد خان | " " " ٣٦٩ | ١٦ | " ملا دین محمد خان | ریاست جمعیتہ العلماء وزارت عدلیه ٣٧٠ | ١٧ | " مولوی محمد عثمان خان | " " " " ٣٧١ | ١٨ | " مولوی عبید الله خان | " " " " ٣٧٢ | ١٩ | " سلیمان قل خان | " " " " ٣٧٣ | ٢٠ | " مولوی غلام حیدر خان | " " " " ٣٧٤ | ٢١ | " میان عبید الله خان | " " " " ٣٧٥ | ٢٢ | " ملا عبد الباقی خان | " " " " ٣٧٦ | ٢٣ | " ملا محمد بهرام خان | " " " " ٣٧٧ | ٢٤ | " ملا عبد الکریم خان | " " " " ٣٧٨ | ٢٥ | " مولوی محمد ابراهیم خان | " " " " ٣٧٩ | ٢٦ | " مولوی فضل ربی خان | " " " " ٣٨٠ | ٢٧ | " مولوی عبد القدوس خان | " " " " ٣٨١ | ٢٨ | " میر غلام خان | دفتر جمعیتہ العلماء " "
۱۰۸ نبر مجموعی نبر شخصی اسماء ساسا معین محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ صفت ممیزه ۳۸۲ ۲۹ جناب حضرت فضل عثمان خان ۳۸۳ ۳۰ عالیجاه نورالدین خان ۳۸۴ ۳۱ " گل محمد خان ۳۸۵ ۳۲ فضیلت پناه مولوی حفیظ الله خان ۳۸۶ ۱ عالیقدر صداقتماب میرزا محمد حسین خان معین وزارت مالیه ۳۸۷ ۲ عالیجاه " صوفی عبدالحمید خان رئیس مطابع ۳۸۸ ۳ صداقتماب سید محمد ایشان خان معاون رئیس مطابع ۳۸۹ ۴ " میرزا محمد اسلم خان مدیر محاسبه وزارت مالیه ۳۹۰ ۵ " میرزا عزیز الله خان " بودجه " " ۳۹۱ ۶ " محمد هاشم خان " محاسبه ریاست مطابع ۳۹۲ ۷ " میرزا محمد فضل خان " مامورین وزارت مالیه ۳۹۳ ۸ " " عبدالحکیم خان " تحقيقات و تصفیه " ۳۹۴ ۹ " سید محمد داود خان خطاط ریاست مطابع ۳۹۵ ۱۰ " محمد سرور خان خزانه دار ریاست مطابع ۳۹۶ ۱ عالیقدر صداقتمآب میر سید قاسم خان معین وزارت معارف ۳۹۷ ۲ صداقتماب هاشم شایق معاون ریاست دارالتالیف معارف
۱۰۹ شماره عمومی شماره در حصه اسما سامی اعیان محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ صفت ممتازه ۳۹۸ ۳ صداقتمند عزیز الرحمن خان مدیر تفتیش وزارت معارف ۳۹۹ ۴ " میرزا عبدالله خان " تنظمیات " " ۴۰۰ ۵ " فتح محمد خان . " مکتب استقلال " ۴۰۱ ۶ عالیقدر قاری عبد الرسول خان رئیس مکتب دارالعلوم عربیه " ۴۰۲ ۷ صداقتمند محمد نبی خان وکیل مدیر مکتب حبیبیه " ۴۰۳ ۸ " غلام محمد خان پروفیسر مدیر مکتب صنایع نفیسه " ۴۰۴ ۹ " سید غلام فاروق خان مدیر مکتب دار المعلمین " ۴۰۵ ۱۰ " محمد حسین خان معاون مکتب امانیه " ۴۰۶ ۱۱ " محمد ایوب خان " " امانی " ۴۰۷ ۱۲ " محمد رضا خان مدیر موزه و حفر یات " ۴۰۸ ۱۳ " میرزا محمد قاسم خان " تحریرات وزارت " ۴۰۹ ۱ عالیقدر صداقتماب محمد حسین خان معین وزارت تجارت ۴۱۰ ۲ " غلام حیدر خان رئیس پنیات " " ۴۱۱ ۳ صداقتمند عبد القیوم خان مدیر گمرکات " " ۴۱۲ ۴ " حاجی محمد اکبر خان مدیر زراعت " " ۴۱۳ ۵ " جان محمد خان " مامورین " " عبیدالله شرشته دار
۱۱۰ نمبر عمومی | نمبر | اسما ساسا معین محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ | صفت ممیزه ٤١٤ | ٦ | صداقتمند محمد ضیاء الدین خان | سرکاتب وزارت تجارت ٤١٥ | ٧ | " محمد عنایت الله خان | " " " ٤١٦ | ٨ | " فخرالدین خان | " " " ٤١٧ | ٩ | " عبدالمجید خان | " ترجمان " ٤١٨ | ١٠ | " محمد کریم خان | " متخصص " ٤١٩ | ١١ | " نور احمد خان | " " " ٤٢٠ | ١٢ | " محمد شریف خان | " " " ٤٢١ | ١ | عالیقدر صداقت مآب شیردلخان | معین ریاست شورا ٤٢٢ | ٢ | صداقتمند سردار محمد سرور خان | اعضاء " " ٤٢٣ | ٣ | " جرنیل عبدالرحیم خان | " " " ٤٢٤ | ٤ | " حاجی میرزا محمد عمر خان | " " " ٤٢٥ | ٥ | " حاجی میرزا عبدالرحیم خان | " " " ٤٢٦ | ٦ | " حاجی عزیز احمد خان | " " " ٤٢٧ | ٧ | " میرزا عبدالواحد خان | " " " ٤٢٨ | ٨ | " میرزا محمد یوسف علیخان | " " " ٤٢٩ | ٩ | " حاجی عبدالغفار خان | " " "
۱۱۱ نمبر عمومی نمبر شخصی اسمائیکه معین محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ صفت ممیزه ٤٣٠ ١٠ صداقتمند ملا محمد نذیر خان اعضاء ریاست شورا ٤٣١ ١١ " ملا روشن دل خان " " " ٤٣٢ ١٢ " غلام نقشبند خان " " " ٤٣٣ ١٣ " خان آقا خان " " " ٤٣٥ ١٤ " شیر محمد خان " " " ٤٣٦ ١٥ " حیدر خان " " " ٤٣٧ ١٦ " سردار امین الله خان " " " ٤٣٨ ١٧ " جلال الدین خان " " " ٤٣٩ ١٨ " معاذ الله خان " " " ٤٤٠ ١٩ " سراج الدین خان عضو منتخبۀ ریاست شورا ٤٤١ ٢٠ " ملا یزدان قل خان " " " ٤٤٢ ٢١ " ملا امیر محمد خان " " " ٤٤٣ ٢٢ " ملا محمد یوسف خان " " " ٤٤٤ ٢٣ " وزیر محمد خان " " " ٤٤٥ ٢٤ " ابو الخیر خان " " " ٤٤٦ ٢٥ " میرزا شیر محمد خان " " "
۱۱۲ نمبرعمومی نمبرحصہ اسماۓ معایز محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ صفت ممیزه ٤٤٧ ۲۶ صداقتمند میرزا عبدالواحد خان عضو منتخبه ریاست شورا ٤٤٨ ۲۷ ” فقیر محمد خان منشی ریاست شورا ٤٤٩ ۲۸ ” میرزا محمد انور خان سرکاتب ” ” ٤٥٠ ۲۹ ” ” عطا محمد خان ” ” ” ٤٥١ ۳۰ ” ” خان محمد خان ” ” ” ٤٥٢ ۳۱ ” ” عبدالودود خان ” ” ” ٤٥٣ ۳۲ ” ” عبدالرشید خان ” ” ” ٤٥٤ ۳۳ ” حافظ عبدالغفار خان عضو ریاست شورا ٤٥٥ ١ صداقتمآب عبدالغفار خان مدیر شفاخانگی مدریت نظامیه ٤٥٦ ١ عالیقدر صداقت مآب محمد حیدر خان معین وزارت جلیله دربار ٤٥٧ ۲ عالیقدر حاسبے محمد نواب خان مصاحب حضور شاهانه ٤٥٨ ۳ صداقتمآب عبدالوهاب خان مدیر محاسبه وزارت دربار ٤٥٩ ٤ ” عبدالرحیم خان ” تحریرات ” ” ٤٦٠ ٥ ” جمعه خان معاون تشریفات ” ” ٤٦١ ٦ ” اکرم خان ” مامورین ” ” ٤٦٢ ٧ ” عبدالصمد خان ده باشی پیش خدمت ها عضو مجلس
۱۱۳ نمبر عمومی | نمبر | اسمای کسان معین محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ | صفت ممایزه ۴۶۳ | ۸ | صداقت مآب محمد علم خان | معاون پیش خدمت باشی ۴۶۴ | ۹ | " محمد اسمعیل خان | " " ۴۶۵ | ۱۰ | محمد اسلم خان | پیش خدمت ۴۶۶ | ۱۱ | " میراحمد خان | آب دار ۴۶۷ | ۱۲ | " عطاء الله خان | متخصص ماشین بکرالصوت ۴۶۸ | ۱۳ | " قربانعلی خان | مقرر ماشین " ۴۶۹ | ۱ | عالیجاه عزت و شجاعت همراه سیدعبدالله خان | وکیل یاور اول حضور ۴۷۰ | ۲ | صداقت مآب عبدالکریم خان | مدیر محاسبه " ۴۷۱ | ۳ | " غلام محی الدین خان | " جش " ۴۷۲ | ۴ | " عبدالغیاث خان | " تعمیرات " ۴۷۳ | ۵ | " خیرمحمد خان | " فابریکه کوتوالیه ستوری " ۴۷۴ | ۶ | " میرزا محمد علی خان | وکیل مدیریت تحریرات " ۴۷۵ | ۷ | " محمد یونس خان | مدیر دائره هندسی " ۴۷۶ | ۱ | شجاعت همراه شیر محمد خان | یاور حربی ۴۷۷ | ۲ | " محمد صفر خان | " ۴۷۸ | ۳ | " سلطان احمد خان | "
١١٤ نمبرعمومی صنف اسمای محترمین لوی جرگه ۱۳۰۹ صفت ممیزه ٤٧٩ ٤ شجاعت همراه فیض محمد خان یاور حربی ٤٨٠ ١ عالیقدر حافظ نور محمد خان مدیر شعبه اول تحریرات ٤٨١ ٢ " عبد الاحد خان " شعبه ۲ " ٤٨٢ ٣ " مولوی برهان الدین خان کشککی " " ۳ " ٤٨٣ ٤ صداقت مآب محمد سرور خان سرکاتب " " ٤٨٤ ٥ " محمد مرید خان کاتب " ۱ " ٤٨٥ ٦ " غلام قادر خان " " ۲ " ٤٨٦ ٧ " سید اسحق خان " " ٤ " ٤٨٧ ١ عالیقدر صداقت مآب سید حبیب خان مستوفی ولایت کابل ٤٨٨ ٢ حمیت مند عبد المکیم خان قوماندان کوتوالی " ٤٨٩ ٣ شجاعت همراه طره باز خان سر مامور قوماندان " ٤٩٠ ٤ صداقتمآب میر سلام الدین خان مدیر محاسبه " ٤٩١ ٥ " نظر محمد خان " خزانه " ٤٩٢ ٦ " محمد عمر خان " گمرک " ٤٩٣ ٧ " پاینده محمد خان " مخابرات " ٤٩٤ ٨ " محمد رفیق خان " واردات و مصارفات " ص ۳۰۰۰ نسخه چاپ کابل در مطبعه ماشینه
١١٥ نمبر عمومی نمبر صنف اسمای سامیان محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ صفت ممیزه ٤٩٥ ٩ صداقتمآب میرزا محمد علی خان مدیر تحریرات ولایت کابل ٤٩٦ ١ عالیقدر صداقت همراه غلام قادر خان رئیس بلدیه ٤٩٧ ٢ عالیجاه غلام محی الدین خان معاون ٤٩٨ ٣ " سید جلال خان " ٤٩٩ ٤ " میرزا غلام نقشبند خان مدیر محاسبه ٥٠٠ ٥ " عبد الصمد خان مدیر تحریرات ٥٠١ ٦ " عالیجاه سردار گل محمد خان از اعزهٔ کابل ٥٠٢ ٧ " عالیجاه میرزا محمد هاشم خان از اعزهٔ کابل ٥٠٣ ١ صداقت همراه مولوی محمد امین خان مدیر جریده اصلاح ٥٠٤ ٢ " محمد زمانخان معاون " ٥٠٥ ٣ " غلام دستگیر خان محرر " ٥٠٦ ٤ " شیر احمد خان " " ٥٠٧ ٥ " محمد قدر خان " " ٥٠٨ ١ صداقتمند غلام محی الدینخان مدیر جریده انیس ٥٠٩ ٢ " عبد الرشید خان معاون جریده " ٥١٠ ٣ " محمد اسلم " سرکاتب " "
١١٦ نمبر عمومی نمبر خصوصی اسمای هیئت سیاسیه دول معظمه در افغانستان که برای شنیدن فیصله های جرگه بروز پنجم دعوت شده بودند صفت ممیزه ٥١١ ١ جلالتمآب ستارک سفیر کبیر شوروی ٥١٢ ٢ عالیقدر ریکس مستشار سفارت کبرای شوروی ٥١٣ ٣ آقای الکساندروف سرکاتب دوم ” ” ٥١٤ ٤ ” اتشه ملیطر سفارت ” ” ” ٥١٥ ٥ ” توتولیمن اتشه سفارت ” ” ” ٥١٦ ٦ جلالتمآب خلعت بری سفیر کبیر ایران ٥١٧ ٧ آقای حاجب سرکاتب سفارت کبرای ایران ٥١٨ ٨ جلالتمآب حکمت بیگ سفیر کبیر ترکیه ٥١٩ ٩ آقای سعدالله بیگ سرکاتب سفارت کبرای ترکیه ٥٢٠ ١٠ ” جمال کاظم بیگ کاتب ٣ ” ” ٥٢١ ١١ ” عارف امین بیگ ” ” ” ” ٥٢٢ ١٢ ” فواد بیگ داکتر ” ” ” ” ٥٢٣ ١٣ عالیقدر پاسنتر مستشار سفارت برطانیه ٥٢٤ ١٤ آقای میجر فارول اتشه ملیطر ” ٥٢٥ ١٥ ” ” ایچ ایچ السٹ سرجن دکتور ” ” ” ٥٢٦ ١٦ ” کپٹن میکین سکرتری ” ” ” ٥٢٧ ١٧ خانصاحب سکندر خان اورنٹیل سکرتری ” ” ” ٥٢٨ ١٨ آقای بے گیر شارژ دافر سفارت فرانسه جریده نمبر ۳۰۰ سراج الاخبار افغانیه
۱۱۷ معروضهٔ علمای افغانستان | افغانستان کے علماء کی درخواست [ راجع باین نشریه باسی باطلهٔ شاه مخلوع که | [ شاه مخلوع کی باطله اشاعت نے افغانستانمیں ایک هیجان نمک پاش قلوب جراحت رسیدهٔ عموم | برپا کردیا ہے ۔ اور اس نے تمام ملت کے مجروح دلوں پر ملت افغانستان ، مخصوصا از علمآ اعلام | نمکپاشی کی ہے ، خصوصا ہمارے علماءِ کرام اس سے گردیده است ، بسیار عرائض و پیشنهادهآ | بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں ، چنانچہ ہمارے علماءِ از طرف علما واصل شده که درینجا تنها ازان | کرام کی طرف سے بہت سی عرضیان اور تجویزیں به نگاشتن معروضهٔ آتیه که مظهر احساسات | پہنچی ہیں ۔ مگر ہم ان میں سے صرف ذیل کی ایک علما درین مورد است اکتفا میشود ] | درخواست کی اشاعت پر جوکہ اس موضوع پر اعلیحضرت امام مسلمان ما ! | افغانستان کے سب علماء کے احساسات کی ترجان درین روز هآ تشریحات جریدهٔ اصلاح چنین | اکتفا کرتے ہیں ) وهو ہذا میدهد که امان الله مطرود غضب الهی ومخرب | اعلیحضرت امام مسلمانان ! ملت ومملکت اسلامی افغانی با عمال شنیعهٔ | ان دنوں جریدهٔ اصلاح ہمارے مطالعہ سے گذرا اس کی بعض بالفساد خویش میخواهد ، خود را از تمام خرابیها | تشریحات اور جوابات سے معلوم ہوتا ہے کہ امان اللہ جو غضب الہی کا و تباهیها نیکه براب ملت و مملکت پیش کرده | مورد اور اسلامی ملت کا مخرب اور افغانی مملکت جو خونریزی و اساس هآی رنگارنگ نفاق وشقاق را | کرانیوالا ہے اپنی شریرانہ آق بد اعمالیوں کیوجہ سے چاہتا ہے کہ تخم زمین این سرزمین نموده بری الذمه نشاند او ما | اپنی ذات کو ان تمام خرابیوں ا ورتباہیوں سے جنہیں ملک و ملت کے لئے ملت غیور با عزم و فدائی شریعت اسلام را | کیا ہے اور اس سرزمین میں نفاق وشقاق کا بیج بو گیاہے بری الذمہ دکھائے
۱۱۸ بی اراده بدنیامعرفی کند پس برای آن عاصی و طاغی، اگر هر قدر داستانها بنگاریم خیال میکنیم برای او یک اسباب ساعت تیری و تفریح قصه خوانی پیدا میشود، چون بغیر از همین مالیخولیا سرائی برای او کاری و باری نمانده است. لہٰذا ما بحضور انشرحمت الاسلام ظهور شما التجا میکنیم کہ مسائل امان اللہ نزد علماء شریعت و ملت بادین و دیانت از آفتاب ہم روشن تر است، باید ذکراین در میان این ملت بند کرده شود، زیرا ماچرا اوقات خود را ضایع کنیم و به او جواب آخرین خود را چنین بگوئیم : قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَی وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا در خاتمه این عبارت را تزیید میکنیم که امان الله از دست رفته است وقتی که او را بمیدان محاکمه حاضر کرده نمیتوانیم، باید تحریرات ہماری عقیدہ با عزم اور شریعت پر مر مٹنے والی ملت کے دنیا میں ایک بے ارادہ ملت مشہور کرے پس ہمارے خیال میں اگر ہم اس عاصی طاغی کی کرتوتوں کو بیقدر تفصیل کے ساتھ بیان کریں اوران جگر خراش قا داستانوں کی صورت دیں تو اُسکی اس بیکاری کے دنوں میں اُسکے لئے وقت گزارنے کا ایک مشغلہ نکل آئیگا او اُسکی تفریح طبع کا سامان مہیا ہو جائیگا۔ چونکہ اسکو آجکل ایسی واہیات اور فضولیات بکنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں ہاسواسطے ہم آپکے حضور بسماحیت ظہور میں التجا کرتے ہیں کہ امان اللہ کے تمام اقوال و اعمال ہمارے علما کے شریعت اور ہماری متدین دیانتدار ملت کے سامنے موجو اور آفتاب سے بھی روشن ہیں ، ملت میں ایسی خرافات کا ذکر و اذکار بالکل بند کر دینا چا کیونکہ یہ خواہ مخواہ ہماری تضیع اوقات کا باعث ہو گا حالانکہ ہم ملک وملت کی اصلاح اور تعمیر کے کام میں سخت مصروف ہیں۔ ہم اس آیہ کریمہ کی تلاوت کر کے اس کو آخری جواب دیتے ہیں اللہ تبارک و تعالٰی فرمانا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا آخر میں ہم ان چند سطور کو بڑھا کر اپنا کلام ختم کرتے ہیں امان اللہ ہمارے ہاتھ اور اختیار سے نکل گیا ہے جبکہ ہم اسکو عدالت میں کھڑا کر کے اس پر محاکمہ نہیں کر سکتے تو ضروری ہے کہ اُسکی تمام تحریریں اور
۱۱۹ و شایعات او از داخل این مملکت اسلامی اشاعتیں اس اسلامی مملکت کے اندر ممنوع قرار دیجائیں بند کرده شود ، اگر کدام اعوانی برای اگر اسکا کوئی ہوا خواہ اور مددگار اسکی فتنہ پردازیوں شیوع فتنه اندازی های او گرفتار آید اور رخنہ اندازیوں کی اشاعت کرتا ہو پکڑا جائے باید حکومت آنرا بحضور محاکم شریعت غرا تو حکومت کو چاہئے کہ اسکو فوراً محکمۂ شریعت میں بھیجے جزایش را تعیین و محکومش بدارد ، باقی جہاں اسکے اثبات جرم کے بعد سزا مقرر کیجائیگی جسکو وہ بھگتیگا از خدای بی نیاز خویش نیاز میکنیم که زمین باقی ہم اپنے خدا ئی بی نیاز کی درگاہ میں نیاز کرتے ہیں افغانستان را از وجود امان الله و اعوان آن کہ افغانستان کی خاک پاک کو امان اللہ کے وجود اور اسکے پاک داشته بار دیگر ملوث ننماید ، و اعلیحضرت اعوان انصار سے پاک صاف رکھے اور بار دگر اس نادر شاه افغان مسلمان ما را بعدالت سر زمین کو اُن سے آلودہ نہ کرے ۔ اور دعا کرتے ہیں کہ ہمارے مسلمان با ایمان اعلیحضرت محمد نادر شاہ افغان کو و پابندی احکام شریعت قایم بدارد ، بحمدہ آمین آمین عدل و انصاف اور شریعت کے منور احکام کی پابندی پر قائم و دائم رکھے ، آمین ثم آمین ۔ محل امضای جم غفیری از علمای افغانستان
[BLANK PAGE]
[BLANK PAGE]
[BLANK PAGE]