{"book": "adl0234", "page": 1, "text": "Afghanistan Digital Library\n\nadl0234\n\nhttp://hdl.handle.net/2333.1/k0p2ngrd\n\nThis is a PDF version of an item in New York University's Afghanistan\nDigital Library (http://afghanistandl.nyu.edu/). For more information about\nthis item, copy and paste the \"handle\" URL above into a web browser.\nWhen referring to or citing this item please use the \"handle\" URL\nand not this document or the URL from which you downloaded it.\n\nAll works presented on New York University's Afghanistan Digital Library website are, unless\notherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely\nreproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\nNYU Libraries, Digital Library Technical Services, dlts@nyu.edu"}
{"book": "adl0234", "page": 2, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0234", "page": 3, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0234", "page": 4, "text": "Nâder Ali\nAl-Habib"}
{"book": "adl0234", "page": 5, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0234", "page": 6, "text": "مملوکہ محمد خلیل انصاری\n\nدیار ہند خوش است لنسخائے ظل الله\nرسول پاک بگفت السخی حبیب الله\n3861\n\nالحبيب\nحصہ مین\n\nاعلیٰ حضرت ہز مجسٹی امیر حبیب اللہ خان کے سیر وسیاحت ہندوستان\nکے واقعات۔ افغانستان کا جغرافیہ و تاریخ و سیاست\nخصائل وصفات - مجالس مغربی کی شرکت\nیا فیشن پر عوام کے خیالات\nو دلچسپ بحث"}
{"book": "adl0234", "page": 7, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0234", "page": 8, "text": "کتبخانه انجمن ترقی اردو\nدھلی"}
{"book": "adl0234", "page": 9, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0234", "page": 10, "text": "بسم الله الرحمن الرحیم\nفیض کرم رسانده از شرق تا بغرب\nهستند بیش و کم ز نوال تو بهره مند\nخوان نعم نهاده از قاف تا بقاف\nدارند نیک و بد بعطای تو اعتراف\nسچی حمد اسی خالق کو زیبا ہے جو عالم غیب و شهادت ہے اور جس نے قومون کے زوال و\nکمال اپنے دست قدرت میں رکھے ہین۔ اور سچی نعت اسی خاتم النبین کا حصہ ہے\nجسکے چشم نبوت سے ماضی و مستقبل پوشیدہ نہین ؎\nعارف اطوار هر جزو کل\nخلق اول روح اعظم عقل کل\nجسکے جانشینون نے کتنی قومون کے کمال و زوال کا فیصلہ اپنی رایون سے کیا ؎\nهست از پیغمبران او خوب تر\nاست او از همه محبوب تر\nبراعته الاستهلال | صنا دید بابل و بغداد پر کھڑے ہو کر یا روم و غرناطہ کی عمارتون کو دیکھکر ان قومون\nکے عروج و ادبار کا ملاحظہ کرنا اور نتائج فراہم کرنا گو اولی الابصار کا کام ہے۔ مگر قیاسات\nیقینیہ ماضیہ کی وجہ سے چندان دشوار نہیں۔ مگر ہجوم واقعات جاریہ جنین سلسله حدوث ابدال"}
{"book": "adl0234", "page": 11, "text": "۲\nسے متعلق اور ابد کی پیچیدگیوں تک مربوط ہوں ہمیشہ فکر عاقبت اندیش کو متحیر و سر اسیمہ\nبنا دیتے ہیں۔ اور نگاہ تدبیر نتائج پژوہی امور مستقبلہ سے تنگ کر ظلمات تقدیر میں پناہ لیتی\nہے۔ اور ایسے معاملات میں کہنا پڑتا ہے کہ العلم عنداللہ۔\nقومی معاملات کی تشبیہ۔ اصول جرثقیل سے انسب واولی ہے۔ اس فن میں\nبحث مادہ اور قوت فاعلہ سے کیجاتی ہے۔ انسانی یا قومی قوانین اور اہل قوانین کی بھی وہی نسبت ہے\nمثلاً دو مساوی قوتین جب ایک جہت میں عمل کرتی ہیں تو نتیجہ او سے جہت میں دوچند\nقوت والا پیدا ہوتا ہے اور جب متضاد جہت میں عمل کرتی ہیں تو ایک دوسرے کو باطل\nکرتی ہے اور نتیجہ صفر پالا شے ہوتا ہے۔ یا ایک زاویہ اون دو قوتوں کا مورد عمل ہو\nتو نتیجہ حرکت وتری پیدا ہوتا ہے۔ یعنی ایک تیسری جہت میں جو دونوں قوتوں کی جہت\nسے مختلف ہوتا ہے۔ قومی خیال یا قوتوں کے عمل ہی انہین اصول پر مبنی ہین یا اُن کے\nمشابہ جب ایک قوم کی افراد ملکر یا دو قومین ملکر ایک جہت میں پنا عمل کرین تو نتیجہ ان کی مجموعی قوتوں کے\nبرابر ہوتا ہے۔ اس توافق جہات کے عمل کو فن معاشرت مین اصطلاح اتفاق سے\nتعبیر کرتے ہیں۔ اگر اوسکے برعکس یہ افراد یا قومین جہات متضادہ میں عامل ہوں تو نتیجہ\nلاشے یا بدتر از لاشے ہوتا ہے اسکو اصطلاح معاشرت مین نفاق یا اختلاف سے تعبیر\nکرتے ہیں۔ جب یہ انسانی قوتین ایسی نسبت سے ہون جسکو ریاضی مین میلان زوایا\nکہتے ہین تو نتیجے حرکت وتری کیطرح بین بین پیدا ہوتے ہین۔ ایک بادشاہ اور\nاوسکی رعیت کے خیال جب ایک جہت میں عمل کرتے ہین۔ تو نتیجہ ہمیشہ المضعاعف\nقوت دینے والا اوسی جہت میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ جہت صحیح ہے تو اوس قوم کی بہبودی\nو اصلاح ایک امر یقینی ہے۔\nاور جب جہات متضادہ میں عمل کر رہے ہون تو اوس قوم کا زوال اسیطرح ایک امر لازمی\nہے اسیطرح جب یہ دونوں قوتین فی الجملہ کسی نقطہ خاص یا محل پر عمل کرتی ہون تو نتیجہ عمل نہ"}
{"book": "adl0234", "page": 12, "text": "ٹھیک ایک کی جہت مین ہو گا نہ دوسری کی توافق مین بلکہ ایک جہت مین مین ہو گا\nاور یہ پیچیدگیان بہت بڑھ جاتی ہین جب مختلف قوتون کے سلسلے مختلف مراکز پر\nعمل کر رہے ہون۔ ہر مجسٹی امیر افغانستان کا گورنمنٹ برٹش کا مہمان ہند مین ہونا بھی\nایسے ہی سلسلہ مین آتا ہے۔ افغان جیسی رعیت اور اعلیحضرت امیر جیسے روشن خیال\nفرمانروا۔ اور پھر انکے تعلقات اتحاد برٹش جیسی گورنمنٹ کے ساتھ اور پھر اوسکا اثر\nمسلمانان ہند اور فلاح و صلاح افغانستان پر یہ سب قوتین اور عمل ایسا ہجوم و ازدحام پیچیدہ\nپیدا کرتے ہین کہ اس مضمون پر قلم اٹھانا ایک نہایت دشوار امر معلوم ہوتا ہے اور ڈر معلوم\nہوتا ہے کہ ہماری کسی بحث مین وہی نقصان اور ناواقفی سرزد نہو جو فی زمانہ ہند کے\nمضمون نگارون و رایے زانون کی تحریر و تقریر مین پائی جاتی ہے۔ ہماری خواہش تھی\nکہ ایسے اہم مضامین ہمسے بہتر و پر زور ہاتون و قلمون سے تصفیہ پاتے مگر حالات زیادہ\nدیر کے متقاضی نہین مجبوری اس کام کو شروع کیا جاتا ہے\nچون آستین بوسیوم نیست در قبا معذور دار گرچه بصیغ نیا ورم\nہمنے بیان کیا ہے کہ گورنمنٹ ہند اور سلطنت افغانستان دو نظام سلطنتین جن کے\nاجزا حسب ذیل ہین رعایای ہند۔ اور برٹش۔ رعایای افغانستان وہر مجسٹی امیر یہ چار\nافراد قوت ہین ان کا میلان عمل اگر ایک جہت مین ہو گا تو اوسکے نتیجے چارچند قوت سے\nفلاح ہند و افغانستان کے باعث ہونگے اور اسمین خلل پڑنے سے چارچند خرابی کیساتھ\nنتائج پیدا ہو سکتے ہین۔ اسلئے ہم اپنا مقدس فرض جانتے ہین کہ دونون سلطنتون کے\nروشن دماغ فرمان روا خلوص دل سے اپنے اپنے ملکون کی جو ترقی کی کوشش کر رہے\nہین رعایا کی ناعاقبت اندیشی و غلط فہمی سے انکے اثرون مین کمی یا کجی نہ پیدا ہونے دین\nاعلیحضرت امیر کا ہندوستان مین تشریف لانا اور برٹش گورنمنٹ کا مہمان ہونا برسون\nکی کوشش اتحاد کا نتیجہ ہے ہم نہین چاہتے کہ اس سلسلہ مین ایک موقع ہی کسی کو اعتراض"}
{"book": "adl0234", "page": 13, "text": "اکابر بنا و معاشرت یا مذہب مامیہ اسلام ایک ایسا محیط قانون ہر مسلمان کے لئے ہے\nکہ او سکا کوئی شعبہ عمل یا خیال آئینہ اسلام سے خارج نہیں سمجھا جاسکتا۔ اسلئے ضرور ہے\nکہ جب ایک معاشرت کو دوسری معاشرت سے مخالطت پیدا ہو تو ممکن ہے کہ عوام\nکے خیال کے موافق او سمین شبہ کرنے کے لئے موقع پیدا ہوں ۔ پس خیر خواہان ہر دو\nسلطنت کا یہ فرض منصبی ہے کہ وہ اون وہموں کو نیک نیتی سے رفع کرین تا کہ رعایا\nافغانستان کی طرف سے کسی قسم کی دقت وہان کے فرمان روا کو پیش نہ آئے\nورنہ افغانستان جیسی شخصی سلطنت میں احتمال قوی ہے کہ مذہبی اختلاف کی بنیاد پر\nرعایا کو بددلی پیدا ہو ۔ اور قدرتی طور پر اپنے حسب خواہش فرمان روا کی تلاش ہو اور\nبرٹش گورنمنٹ کو ایسے نیک نیت فرمان روائے افغانستان کی حمایت کی ضرورت\nپڑے جس نے اپنے تمام ذاتی منافع و امن کو اپنے ملک کی اصلاح و برٹش گورنمنٹ کے\nاتحاد کی خاطر معرض خطر مین ڈالا۔\nحوادث بجا ئے خود خواہ مخواہ کوئی امر نامرغوب نہیں مگر جب انکے نتائج ایسے ہون\nکہ قرنون کی کوششون کو فنا کر دین اور آیندہ کے لئے نامتناہی سلسلے مصائب کے اپنے\nپیچھے لائین اون سے زیادہ کوئی خطر کی بات نہیں خدانخواستہ اگر ناعاقبت اندیشی سے\nاس قسم کے خطرات پیش آئین او نکا اندازہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو ہندوستان\nو افغانستان کی گذشتہ تاریخ سے واقف اور حال کے پائلٹکس سے خبردار ہے دوست کا\nدوست ہمیشہ دوست کہلاتا ہے اور دوست کا دشمن ہمیشہ دشمن سمجھا جاتا ہے۔ تمام وہ\nبڑے نتیجے جنکو سلطنت افغانستان اور ہندوستان کے اتحاد اور کابل کے پہاڑ مشکل سے\nروکے ہوئے ہیں ایک ساعت میں طوفان کیطرح مستولی ہو سکتے ہیں۔ کابل ضرورت مقامی\nسے کسی وقت میں سلطنت ہند و سلطنت روس کے آمار جوار سے مستغنی نہین ۔ جن\nسیاستی زلزلون میں برٹش گورنمنٹ کو امور افغانستان مین دست اندازی کی ضرورت ہو سکتی"}
{"book": "adl0234", "page": 14, "text": "ہے ۔ ناممکن ہے کہ کسی فریق کو ادیمین روس کے استمداد کی ضرورت ہو یا روس کو بجاے خود\nدست اندازی کا موقع نہ ملے ۔ ایسی پیچیدگیوں میں افغانستان کو نقصان پہونچنا اور اوسکی\nآزادی مین خلل آنا ایک امر ناگزیر ہے ۔ اور ہندوستان کے امن وامان کو ہر طرح بہتر سمجھہ\nلیا جاے مگر مشکل ہے کہ ایسے حالات میں جو زلزلہ افغانستان کو متقشر کرے وہ سرزمین\nہند تک کسی نہ کسی شکل میں متعدی ہو۔ تمام عالم کے عظیم الشان دول کا یہ حال ہے کہ لاکھوں\nخون ہو جاتے ہیں اور کروروں روپیہ کا نقصان ہوتا ہے ۔ ملک برباد قوتین فنا ہو جاتی\nہین ۔ مگر خفیف اختلاف نہین مٹتے ہر قوت دبانا چاہتی ہے ۔ دہا نہین دولت و\nتہذیب ۔ عداوتون درقابتون کو بڑہاتی ہے کم نہین کرتی اسلئے ہمنے اس کتاب مین سبسے\nاہم اون حصون کو قرار دیا ہے جن مین ایسے مضامین سے بحث ہے۔\nممکن ہے کہ بادی النظر مین اعلیحضرت امیر کے بعض طریقہ عمل عوام الناس کے نزدیک\nکسی نہ کسی اعتبار سے معاشرت ایشیائی سے اجنبی ہوں ۔ اکابر کے افعال واعمال کی\nتعریف میں جسقدر تملق وخوشامد بیجا مذموم ہے اوسیقدر اونکے محامد و محاسن کی داد\nنہ دینا خلاف انصاف ہے جاہ وجلال کی شوکتین ایسی مردافگن ہین کہ اون سے مقابلہ\nکرنا قوت بشری کے امکان میں نہین اس حالت میں جو کامیابی حاصل ہو سکتی ہے\nوہ توفیق منجانب اللہ کی بدولت حاصل ہو سکتی ہے ۔\nہم اعلیحضرت شاہ افغانستان اور انکی رعایا کو مبارکباد دیتے ہیں ۔ کہ تمام سفر ہند\nمین ہرمیٹی نے احکام شریعت جس استقلال والتزام سے تعمیل کئے اوسکی مثال صفر\nتاریخ خلفاء مین ملتی ہے ۔ دوسرے شاہان سلف مین اونکا زہد عدیم المثال ہے کمال\nفرمان روای واقعی ان اوصاف کا نام ہے۔ جو خداوند عالم نے آپ پر ارزانی فرمائی ہین\nاعلیحضرت کے طرز عمل اگر مسلمانون کی آنکھوں میں دلکش ودلفریب ہوے تو چندان عجیب\nکی بات نہین اسلئے کہ اخوت اسلام اسی کی داعی تھی مگر رعایای افغانستان کو یقین کرنا"}
{"book": "adl0234", "page": 15, "text": "چاہیئے کہ جس طرح مسلمان ہند اعلیحضرت کے مکارم سے مسرور وممنون تھے اوس سے\nزیادہ ہندوستان کے وہ ہندو باشندے جنگو برٹش جیسی عادل عاقل گورنمنٹ کے فعلون پر\nنکتہ چینی کے چبین نہین ملتا شاہ افغانستان کے وسیع وکریمانہ اخلاق کے مسخر ہو گئے\nاور یہ جادوے تسخیر نہ صرف اونکے دلون و چہرون سے اوس زمانہ مین ظاہر ہوتا تھا بلکہ\nاونکی تمام تحریرین واخبار اوس سے مملو تھین اور ہین۔ الغرض اعلیحضرت امیر کا سفر ہند\nافغانستان وہندوستان کی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ ہے جو سنہرے حرفون مین لکھا\nجانا چاہئیے۔ یہ ایسے اجمالون کی تفصیل ہے جسپر تاریخ ماضیہ کی چشم امید لگی تھی اور افغانسان\nکی اون ترقیون کی مبتدا ہے جنگی خبر افغانستان کے قوائے مضمر استقبال بعید مین دے\nرہے ہین خدا وہ دن لائے اور افغانستان کو اس مرتبہ پر دکھلائے جسکے قابل تمام\nازل نے اوسکو بنایا ہے۔\nجاپان ایک بے حقیقت جزیرہ ہے اوسکے باشندے آج جس اوج کمال پر ہین اوس سے\nاندازہ ہو سکتا ہے کہ اگر اعلیحضرت امیر افغانستان سیطرح اپنے ملک کی ترقی کے فراہمئی اسباب\nمین مصروف رہے اور وہان کی رعایا نے چھوٹی چھوٹی باتون مین اختلاف کر کے اونکی توجہ کو\nمنتشر نکیا تو دونون کے مساعی مجموعی سے اگر خدا چاہتا ہے تو کابل کس درجہ اوج و کمال پر\nپہونچ سکتا ہے۔\nہمنے اوپر لکھا ہے کہ اعلیحضرت کی تشریف آوری بہت سے اجمالون کی تفصیل ہے\nاسکے یہ معنی ہین کہ ابھی وہ زمانہ دور نہین ہے جب تعلقات دونون گورنمنٹون کے با وجود\nمراسم قدیمانہ کے اتنے اجنبی تھے کہ فرمان روائے کابل کا ہندوستان مین یون آزادانہ سیاست\nکرنا ایک امر خالی از خطرہ نہ سمجھا جاتا تھا اور نہ رعایائے کابل کے امن کی یہ حالت تھی کہ وہان کا\nفرمان روا اپنے ملک کو یون چھوڑ کر دوسرے ملک مین جاسکے۔ بحمد للہ خداوند کارساز نے\nیہ مراتب حسب خاطر طے کئے اور وہ مبائنت ومخاطرت کا موقع باقی نہ رہا اب وہ وقت ہے"}
{"book": "adl0234", "page": 16, "text": "اگر جو اتحاد فیمابین میسر ہوگیا ہے دولون سلطنتین اوسکا پہل اوٹھائین رعایا کابل کو یاد رکھنا چاہئیے\nکہ جہان خداوند عالم نے اونکو بیشل جسمانی قوت ۔ اخلاق کے استقلال اور شریعت کی\nپابندی دی ہے اونکے ملک کو تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے جو ایک دن کا کام\nنہیں ۔ اونکو چاہئیے خدا پر بھروسہ کرکے اپنے فرمان روا کے ہاتھ مین عنان تدبیر ترقی\nآیندہ سپر دکرین اور با ادب خالص مشورون سے اپنے فرمان روا کو ان تدبیرون کی تکمیل\nکا موقع دین ۔ اونکے ملک مین جب تک صنعت و حرفت تعلیم و تعلم ۔ دولت و تجارت\nمعاملات خارجیہ اور حفاظت داخلیہ کی ترقی نہوگی ملک اوس حد ترقی کو نہیں پہونچ\nسکتا جو قادر مطلق نے کسی وقت مین اونکے حصہ کے لئے رکھ چھوڑی ہے ۔ رموز مملکت\nایسی مشکل چیز ہیں کہ شکل سے اہل مملکت اوسکو سمجھ سکتے ہیں وہ اہل مدارس اور گوشہ نشینوں\nکے سمجھنے کی چیز نہین نہ عوام کو حیطہ فہم کے مناسب ۔ یہ امور ہمیشہ مدبران مملکت کے ہاتھ مین\nچھوڑے جاتے ہیں ۔ اوسوقت تک کہ کافۃ الناس رعایا مین علم و تجربہ عمل اوس حد تک\nنہ پہونچ جائے کہ وہ واقف کار مشیران سلطنت سمجھے جائیں ۔ جب تک اعلیحضرت اور\nاونکے مشیرون کو اقصای عالم اور خاصکر اقصای مغرب کے دولتمند ۔ مہذب ۔ اور\nباتدبیر قومون اور ملکون کی سیر کا موقع غایرانہ نظر سے نہ ملے گا آسان نہین کہ اپنے ملک کی\nضرورتون اور کمی کا پورے طور سے اندازہ پیدا ہو یا تدابیر مناسبہ کیجاسکین کتابون اور بیانوں\nسے بیشک ایک گونہ تصور پیدا ہو سکتا ہے ۔ لیکن مختلف مجالس شوری اور اونکے ممبروں\nکے طرز عمل ۔ مختلف اصولون پر لشکرون کی آراستگی۔ مختلف صنعتون کے کارخانجات\nمختلف فنون کے مدارس۔ مختلف طریقون کے طرز معاشرت ۔ مختلف مذاہب کے ازدحام\nمختلف رعایا کے اخلاق ۔ مختلف آب و ہو اون کے اثر ۔ مختلف لوگوں کے خیالات۔\nمختلف سلطنتون کے سیاسات ایسے پیچیدہ امور ہیں کہ محض خیال سے کار براری نہیں\nہو سکتی اونکے مشاہدہ خاص کی ضرورت ہے اونکے عین الیقین کی حاجت ہے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 17, "text": "A\n\nہر ملک کے اہل اسلام کو جاننا چاہئے کہ یہ عالم خدا کا فعل ہے اور ہدایات اسلام\nخدا کا قول ہے ضرور ہو کہ ایک صادق القول خالق کے افعال واقوال ایک دوسرے\nسے منطبق ہوں اور اسلام ایسا وسیع حاشیہ قانون قدرت ہے کہ ہر صورت و ہر شکل سے\nمطابق ہو اسکا نام صراط مستقیم ہے صرف برتنے والی کی لیاقت پر منحصر ہے کہ کشاکش\nافراط و تفریط میں جادۂ اعتدال سے نہ گذرے جب تک اس وسیع النظری سے عاقلانہ\nاسکے معنی نہ سمجھے جائینگے بہت دشوار ہے کہ اہل اسلام بساط عالم مین دوسری قومون اور دوسری قوتون سے\nشانہ بشانہ چل کر اپنی جگہ پر قائم رہ سکین۔ اب ہم جغرافیہ و تاریخ افغانستان پیاہم دعوت\nنقل و حرکت و گفتگو مہمانون و میزبانوں کے صفات اور سیاحت ہند کے اثرات۔ دونون\nگورنمنٹون کے تعلقات وغیرہ وغیرہ نذر ناظرین کرتے ہین۔"}
{"book": "adl0234", "page": 18, "text": "۹\nجغرافیہ\nجغرافیہ عام افغانستان کے شمال میں روس - ترکستان وسط ایشیا۔ و دریائے خضر ۔\nجنوب میں قلات و بلوچستان عملداری برٹش گورنمنٹ ۔ مغرب میں سلطنت ایران\nمشرق میں پامیر واقع ہے ۔\nافغانستان کا عرض شمالاً و جنوباً تقریباً پانچ سو میل اور طول شرقاً و غرباً ہرات سے خیبر تک\nچھ سو میل رقبہ تخمینی دو لاکھ چالیس ہزار میل مربع آبادی تخمیناً چالیس لاکھ نفوس کی ہے ۔\nافغانستان کے شمال کی طرف دریائے آمویا اکسیس بہتا ہے ۔ اسکا بہاؤ قدرتی\nطور پر نصف شمالی سرحد کا کام دیتا ہے ۔ شمال و مشرق میں دشوار گزار پہاڑوں کا ایک\nطولانی سلسلہ افغانستان کی قدرتی حد بندی و حفاظت کر رہا ہے ۔ ان وجوہ سے\nہر طرح ملک محفوظ ناقابل گذر - خوفناک -\nجغرافی حیثیت کے ساتھ پولیٹیکل وقعت بھی افغانستان کو حاصل ہے ایک\nطرف روس - دوسری جانب برٹش گورنمنٹ وسط میں یہ سلطنت واقع ہے جو ملکی و قومی\nاعتبار سے آپ اپنا محافظ اور خود ہی اپنی قسمت کا مالک پھر روس و انگلستان ۔ نہ\nمتفق الاصول نہ متحد الاغراض ۔ دونوں گورنمنٹوں کی باہمی رقابتیں ایک دوسرے کو\nصلح و اتفاق پر آمادہ ہی نہیں ہونے دیتیں اسکے ساتھ افغانی قوم سرکش، جنگجو ۔ آزاد\nو خونخوار ہے یہ تمام اسباب حفاظت ملک کے ہیں ۔\nملک عموماً پہاڑی وسیع سطح مرتفع پر واقع ہے وادیان بکثرت ہیں جنکے درمیان دریا\nبہتے ہیں۔ بعض حصوں میں کشادہ میدان ہیں مشرقی سرحد پر سلسلہ کوہستان سلیمان ہے\nجسکی سب سے بڑی چوٹی تخت سلیمان کے نام سے موسوم ہے۔ اسکی بلندی سطح سمندر\nسے ۱۱۳۰۰ فیٹ سے لیکر ۱۱۴۷۷ فیٹ تک ہے ۔ شمال کی جانب سلسلہ کوہستان"}
{"book": "adl0234", "page": 19, "text": "ہندو کش ہے جو ہمالیہ کی مغربی شاخ سمجھی جاتی ہے۔ اسی پہاڑ کے مغربی سلسلے کوہ سیاہ کوہ سفید\nکوہ بابا کہلاتے ہیں۔ ہندو کش کی بعض چوٹیاں سطح سمندر سے ۲۰۰۰۰ فٹ بلند ہیں۔\nافغانستان کی عام سطح سوائے چند مستثنیات کے سطح بحر سے ۴۰۰۰ فٹ بلند ہے۔\nکوہ سلیمان کو مستثنیٰ کر کے باقی کل کوہستان میں جو قبائل آباد ہیں وہ عموماً خود مختار اور افغانستان\nکے مہربان ہیں۔\n\nجغرافیہ طبعی\n\nباشندے باشندوں کے لحاظ سے افغانی آبادی کی مثل عرب کے دو تفریق ہیں ایک\nخانہ بدوش جن کا مستقل قیام نہیں بلکہ اپنے بھیڑ و بکریوں کے ریوڑ لیکر عرب بدوؤں کی طرح\nمارے مارے پھرتے ہیں۔ دوسرے مستقل سکونت رکھنے والے جو کاشتکاری و دیگر پیشوں\nمیں استقلال کے ساتھ مصروف ہیں۔ افغان اپنے آپ کو بنی اسرائیل میں حضرت سلیمان\nکی نسل سے بیان کرتے ہیں۔ عرب بھی ان کو سلیمانی کے نام سے پکارتے ہیں۔ افغانی آبادی\nکے قبیلے۔ درانی - غلزی - آفریدی - یوسف زئی - تاجیک - قزلباش وغیرہ ہیں۔ غلزی\nقبیلہ قندہار و وادی کابل میں آباد ہے اس قبیلہ کے لوگ آزاد طبع - سپاہی منش - تنومند - توانا\nجفاکش اخلاق کے لحاظ سے بڑے مہمان نواز ہوتے ہیں۔ درانی قبیلہ مغربی افغانستان\nمیں سکونت پذیر ہے اور زیادہ تر پیشہ ان کا جروابہ کا ہے۔ اسی قبیلہ میں اب حکومت ہے۔\nعلاوہ ان کے ہندو نسل کے لوگ بھی ہیں۔ وہ قشقدوار افغان کہلاتے ہیں۔ زرد پگڑیاں\nباندھتے ہیں۔ بڑے بڑے قصبوں و شہروں میں دوکانداری و داد ستد ان کا پیشہ ہے\nتجارت ان ہی کے ہاتھوں میں ہے۔\nجاٹ یہ لوگ راجپوتانہ وسندھ کے جاٹوں کی مانند ہیں۔ لیکن غریب خوبصورت و\nگورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ زراعت ان کا پیشہ ہے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 20, "text": "افغانون مین فطرتا متضاد صفات پائی جاتین ہین۔ ہمدردی وبے پردائی فیاضی\nولُوٹ و مار کبھی اجنبی کے بدن سے کپڑے اُتار لینے مین دریغ نہین کرتے۔ اور کبھی محتاج\nمسافر کو اپنے گھر سے دینے مین مسافر نوازی کا ثبوت دیتے ہین۔\nمہمان نوازی وکشادہ دلی اونکے خاص صفات ہین۔ جب تک کوئی اونکے\nگھرمین ہے اوسکی حفاظت مثل عزیزان کے فرض جانتے ہین۔ افغان ابتداے سن سے\nجنگ وجدل سے آشنا ہوجاتے ہین جسد مین بیباک۔ موت سے نڈر۔ قانون\nوقاعدہ کی پابندی سے متنفر۔ یہ تمام صفتین اونکی عرب بدوؤن سے مشابہ ہین خلیق\nبھی ہوتے ہین۔ خاصکر اونکو جب کوئی کام نکالنا ہو بعض اوقات اون سے وحشیانہ\nحرکتین بھی سرزد ہوتی ہین۔ دروغ۔ خود پسندی۔ نخوت۔ کینہ دری۔ تند مزاجی۔ حرص\nکے بھی قبیح صفات ان مین پاے جاتے ہین۔ بدظنی و سازش کا بھی اؤنمین عیب ہے\nسزاے سخت کا رواج ملک مین چوبرا دیکھا تی ہے۔ اسی وجہ سے ہے۔ جس سے\nاونکے عیوب دبے ہوے ہین۔ ایشیای قومون مین افغانی واقعی بہادر و جری و مضبوط ہین۔\nآب و ہوا ملک مین مختلف قسم کی آب و ہوا پائی جاتی ہے۔ گرمی وسردی اعتدال سے\nزیادہ ہوتی ہے۔ شہنشاہ بابر نے اپنی تزک مین لکھا ہے کہ کابل کے اطراف مین کوئی ایسا\nمقام ہے کہ جہان برف کبھی نہین پڑتی۔ اور کوئی ایسی جگہ ہے جہان برف کبھی نہین\nپگھلتی۔ کابل مین برف تین ماہ جمی رہتی ہے۔ اس زمانہ مین گھرون سے نکلنا دشوار ہو جاتا\nہے۔ یہان کی آب و ہوا خوشگوار سردی مین بارش کم گرمی مین شاذ ہوتی ہے۔ غزنی مین\nکابل سے زیادہ برف گرتی ہے۔ ایکمرتبہ طوفان برف باری نے تمام آبادی کو برباد کر دیا تھا\nموسم گرما بھی اس ملک مین سخت تکلیف دہ ہے خاصکر جنوبی حصہ مین جوسندھ کے مغرب\nواقع ہے یہان آندہیون وطوفان سے حرارت ناقابل برداشت ہوجاتی ہے۔ قندہار\nکے علاقہ مین برف کم گرتی ہے۔ ہرات کی آب و ہوا نہایت معتدل وفرح بخش ہے"}
{"book": "adl0234", "page": 21, "text": "۱۲\nنباتات مختلف مقامات پر گلاب - زیتون - کالا دانہ - انستین - ہینگ - بعض بلندیوں\nپر ریوند چینی - کئی قسم کے بادام - اخروٹ ہوتے ہیں ۔ اور بھی بہت سی قسم کی جڑی\nبوٹیاں ہیں میووں کے حق میں تو افغانستان خاص شہرت رکھتا ہے۔ انگور - انار - سیب\nہی۔ سردہ - ناشپاتی یہاں کے مشہور میوے ہیں۔ خوبانی - انجیر - آڑو بھی عمدہ قسم\nکا ہوتا ہے۔\nغلہ میں گندم - جو - نخود - مٹر - باجرہ - جوار - مکا - دہان ۔ خاص پیداوار ہے\nنخود مٹر کابل کا مشہور ہے ۔ روئی کی کاشت بھی ضرورت کے قابل ہوتی ہے۔ قندہار\nکے علاقہ میں تمباکو بکثرت ہوتا ہے ۔ ارنڈ کی کاشت کاسٹرائیل کے لئے کی جاتی ہے\nاور اسکو سرسوں کے تیل کے ساتھ روشنی کے کام میں لاتے ہیں ۔ فصلیں دو ہوتی\nہیں ۔ ربیع و خریف ان کا وہی وقت ہے جو ہندوستان میں ہے۔\nخریف میں دہان - مکا - جوار - باجرہ - تمباکو ہوتے ہیں جنکو خزان سے پہلے کاٹ لیتے ہیں\nربیع شروع سرما میں کاشت کی جاتی ہے۔ گرمی کے آغاز میں کٹ جاتی ہے۔\nپانی بکثرت ہے وادی کابل و مشرقی افغانستان میں کئی نہریں عام طور پر دیکھی جاتی ہیں\nمغربی حصہ میں زمین دوز نہروں سے کام لیا جاتا ہے بعض نہریں بیس بیس میل تک ملتی ہیں\nجھیل غزنی کے جنوب میں ایک جھیل ہے جسکا دور چالیس میل کا ہے پانی نمکین بلکہ تلخ ہو\nدریا دریائے کابل افغانستان کا سب سے بڑا دریا ہے اٹک کے قریب دریائے سندھ میں\nآکر شامل ہو گیا ہے ۔ دوسرا دریا ہلمند ہے یہ کوہ بابا سے نکلکر جھیل سیستان میں جا کر\nگرتا ہے اسکا طول قریب تقریباً چھ سو میل ہے ایک اور دریا ہری رود ہے کوہ بابا سے نکلا\nہے اور مغرب کی طرف صحرائے ایران میں غائب ہو گیا ہے اسکے سوا اور جتنی ندی نالے\nہیں۔ اون سبکو انہیں دریاؤں کی شاخ سمجھنا چاہئیے۔\nمعدنیات افغانستان معدنیات کی کان ہے ۔ لاجورد - مرمر بکثرت پایا جاتا ہے ۔ بعض دریاؤوں"}
{"book": "adl0234", "page": 22, "text": "کی ریت سے سونا بھی نکلتا ہے ۔ کہیں کہیں چاندی کی کانوں کا پتہ چلتا ہے ۔ لوہا خام\nبکثرت تانبے کا بھی یہی حال ہے۔ شمالی کوہستانی علاقہ سے سیسہ و گندھک برآمد ہوتا ہے\nجنوب کی سرزمین سے شورہ نکلتا ہے۔ بدخشان تو لعل و نیلم کیلئے مشہور ہے ۔ ایک ٹکڑے\nسنگ مرمر کی میز جیسی وسیع کابل میں ہے شاہزادہ نصر اللہ خان نے سیاحت یورپ میں\nکہیں نہیں دیکھی ۔ یہ ضرور ہے کہ افغانستان میں معدنیات سے اب تک کوئی بڑا فائدہ\nنہیں اُٹھایا گیا لیکن امیر موجودہ ادھر ہی متوجہ ہیں ۔\nوحوش بہائم حشرات الارض گھوڑے کابل کے مشہور ہیں جنگی تجارت ہندوستان سے قندہار\nکے مغرب میں پائی جاتی ہے ۔ ٹٹو و ٹانگیں بھی عمدہ ہوتے ہیں ۔ اونٹ بھی کثرت سے\nپائے جاتے ہیں ۔ اونٹ و ٹٹو بار برداری کے جانور ہیں یہی دو جانور تجارت افغانستان\nکو پنجاب ۔ سندہ ۔ بلوچستان ۔ ایران و بخارا ترکستان میں انجام دیتے ہیں ۔ دنبے نہایت\nکثرت سے ہیں ۔ گائے ۔ سیاہ بکریاں بھی پائی جاتی ہیں ۔ امیر مرحوم نے یورپ کی بھیڑیں\nنسل بڑھانے کے لئے منگوائیں تھیں ۔ کتے کئی قسم کے ہوتے ہیں ۔ جو بھیڑوں کی رکھوالی\nکرتے اور شکار کے کام میں آتے ہیں مغربی حصہ میں گورخر اور کہیں کہیں ہرن ونیل گائے ۔ شکاری\nجانوروں میں چیتا ۔ بھیڑیا ۔ چرخ پائے جاتے ہیں ۔ مچھلیاں کم ۔ سانپ مختلف قسم\nکے بعض زہریلے ۔ بچھو ۔ سیاہ رنگ کے بہت بڑے اور سانپوں کے مثل زہریلے\nہوتے ہیں ۔\nتجارت تجارتی موقع کے لحاظ سے جو بات عرب کو حاصل ہے وہ افغانستان کو نہیں لیکن\nعرب کے مقابلہ میں جو منافع افغانستان کو ہیں ۔ اور کا شمار زیادہ ہے ۔ افغانستان میں نہ کوئی\nدریا جہاز رانی کے قابل ہے نہ ہموار و صاف سڑکیں ۔ نہ کوئی بندرگاہ سرحد پر ہے ۔ صفر\nتجارتی اشیا راونٹوں وٹٹوں پر دور دور از ملکوں میں جاتی ہیں ۔ خیبر اور بولان کی سڑکوں پر\nکابل تک چھکڑے چل سکتے ہیں ۔ اور قندہار تک بھی چھکڑوں سے تجارت ہوتی ہے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 23, "text": "۱۴\nخشکی و دریا کے راستوں سے بہا کے لائے جاتے ہیں۔ کسی زمانہ میں ہندوستانی\nتجارتی اشیاء افغانستان کی راہ سے ایشیائے کوچک روم و یونان تک جایا کرتی\nتھیں اب بھی بڑے بڑے قافلے ادھر ادھر جایا کرتے ہیں۔ پہلے ممالک غیر کی تجارت\nبالکل دوسری قوموں کے ہاتھ میں تھی۔ مگر اب افغانی تاجروں کی تعداد بڑھتی جاتی\nہے۔ ملکی دقتوں کی وجہ سے تجارتی ذرایع محدود ہیں۔ جو اشیاء معدنی دوسرے\nملکوں کی دولت لا سکیں۔ ان کی تحقیقات و برآمد کے وسائل ابھی پیدا نہیں کئے\nگئے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 24, "text": "۱۵\nتاریخ\nتاریخ قدیم مسیح سے پانچسو برس قبل افغانستان کو دارا شاہ فارس نے اپنی سلطنت کا ایک\nصوبہ قرار دیا۔ اسکے دو برس بعد سکندر اعظم اس ملک سے گزر کر ہندوستان پر حملہ آور ہوا ۱۳۳\nقبل سکندر کی سلطنت کے ایک سردار سلیوکس نامی نے راجہ چندر گپت کو سندہ کے\nمغرب کا ملک دیا جس عطیہ کا سبب چندر گپت کی بیٹی کی شادی سلیوکس کے ساتھ ہے\nاُسکے ساٹھ برس بعد باختر کی یونانی آزاد سلطنت قایم ہوئی جو پھیلتے پھیلتے افغانستان تک\nپہونچ گئی۔ اب بھی وادی کابل سے یونانی سکے بکثرت برآمد ہوتے ہیں۔ جو سلطنت\nباختر کا پتہ دیتے ہیں۔\nء۹۷۷ میں جیند ریپال نے افغانستان پر حملہ کیا۔ مگر سبکتگین شاہ غزنی کے ہاتھ\nسے شکست کھائی اور پشاور ہاتھ سے دے بیٹھا۔\nء۹۹۷ میں سبکتگین کی وفات پر اوسکا بیٹا سلطان محمود سریر آرای سلطنت\nہوا۔ اوس نے دائرہ سلطنت مغرب میں ایران تک اور مشرق میں پنجاب کے میدانوں\nتک وسیع کر دیا۔ ء۱۰۰۰ میں سلطان محمود نے غور کو مطیع کر لیا۔ ء۱۱۵۲ میں محمد غوری\nنے غزنی کو اپنا پایہ دار بنا لیا۔ ء۱۱۵۸ میں محمد غوری نے فتوحات ہند شروع کئے۔\nتیمور صاحبقران نے بھی افغانستان کو فتح کر کے اپنا تسلط قایم کیا۔ کابل اسکی اولاد\nکے قبضہ میں ء۱۵۰۵ تک رہا۔ بابر نے جو تیموری نسل سے تھا کابل کے سوا قندہار بھی انپر\nقبضہ میں لے لیا اسکے بعد دو سو برس تک کابل شاہان مغلیہ فرمانروایان دہلی کے ماتحت\nرہا۔ ہرات ایران کے تحت میں۔ قندہار کبھی ایران اور کبھی دہلی کا باجگذار رہا۔ ء۱۷۰۸\nمیں قندہاریوں نے ایرانیوں کو ملک بدر کر کے غلزی قبیلہ کے ایک سردار کو اپنا بادشاہ"}
{"book": "adl0234", "page": 25, "text": "۱۶\nمقرر کیا۔ ۱۷۱۶ء میں ہرات بھی ایک آزاد سلطنت بن گیا۔ ۱۷۲۲ء میں غلزئیوں نے\nآصفہان پر حملہ کر کے اوسے اپنا مطیع کیا۔ اور تھوڑی مدت تک ایران پر بھی قابض رہے\nنادر نے ۳۸-۱۷۳۷ء میں افغانستان کو فتح کر لیا ۱۷۴۷ء تک اسپر قابض رہا۔\n\nتاریخ جدید\nاحمد شاہ کے وقت سے افغانستان دنیا کی سلطنتوں میں شمار ہونے لگا۔\nیہ شخص افغان سپاہی ابدالی قبیلہ سے تھا۔ ابدالی قبیلہ ہرات میں آباد تھا۔ اسمیں صدّو\nبارک دو سگے بھائی تھے۔ جنکی اولاد صدوزئی ۔ اور بارکزئی کہلاتی ہے۔ احمد شاہ ابدالی\nکا تعلق صدوزئی خاندان سے تھا۔ یہ نادر کا معتمد خاص تھا۔ نادر کے قتل کے بعد سرداروں\nنے اسے اپنا فرمان روا منتخب کیا چونکہ وہ خود اور اوسکا قبیلہ افغانوں میں با رسوخ تھا\nاسلئے اوسے بادشاہی میں کوئی دقت پیش نہ آئی اوس نے نادر کے مشرقی حصہ سلطنت\nپر قبضہ و اقتدار جما لیا وہ چھبیس سال تک حکمران رہا۔ اس زمانہ میں ہر چہار جانب جنگی مہمیں\nلیکر گیا۔ مغرب میں بحیرہ کسپین تک اور مشرق میں ہندوستان میں داخل ہوا۔ مرہٹوں کی\nقوت فنا کرنے والا یہی بادشاہ تھا جس نے برٹش گورنمنٹ کے لئے میدان صاف کر دیا\nابدالیوں کی فاتحانہ یورشین گو اصل میں انگریزوں کے لئے فائدہ مند اور مرہٹوں کی کمزوری\nکل ملک پر قابض ہو جانے کا آسان ذریعہ ہوئی۔ لیکن خود افغانستان بہی فائدہ سے\nمحروم نہ رہا۔ آج افغانستان کو جو عظمت حاصل ہے وہ ابدالی فاتحوں کی پامردی کا نتیجہ ہے\n۱۷۷۳ء میں ایک مرض کہنہ احمد شاہ کی موت کا سبب ہوا۔ اوسکی وفات کے بعد اوسکے\nدو بیٹوں ۔ سلیمان شاہ و تیمور شاہ میں جھگڑا ہوا۔ بارک زئی خاندان زیادہ تر سلیمان شاہ کا\nطرفدار تھا لیکن آخر کار تیمور شاہ تخت نشین ہوا۔ جو لوگ آخر وقت تک سلیمان شاہ کے\nساتھ رہے تیمور نے اون سے انتقام لیا ۔ لیکن جو اثنائے جنگ میں تیمور کے طرف دار\nہو گئے تھے اونکو منصب و خلعت عطا کئے۔ پائندہ خان بارک زئی کو بہی اسی صلہ میں\nمنصب و خلعت دیا گیا تیمور نے بڑے زور کی سلطنت کی اس نے تمام افغانستان پنجاب"}
{"book": "adl0234", "page": 26, "text": "۱۷\n\nسرحد کشمیر ترکستان ۔ سندہ ۔ بلوچستان و خراسان کو اپنی سلطنت میں شامل کر کے خراج\nلیا ۔ تیمور نے قندہار کے بجاے کابل کو اپنا پایہ تخت قرار دیا۔ اس نے بتیس سال تک\nنہایت شان سے سلطنت کی۔ اسکے مرتے ہی سلطنت میں بدملی پھیلی۔ اسکے سات بیٹے\nہمایون شاہ ۔ محمود شاہ ۔ زمان شاہ ۔ عباس شاہ ۔ شجاع الملک ۔ شاہ پور ۔ فیروز الدین تھے\nمنجملہ انکے زمان شاہ تیسرے بیٹے کو سردار پائندہ خان بارک زئی کی امداد سے تخت کابل\nنصیب ہوا۔ اگرچہ ہمایون و عباس نے مخالفت بھی کی مگر سردار پائندہ خان وغیرہ کی کوشش\nسے زمان شاہ کی سلطنت قایم ہو گئی اندرونی جھگڑوں سے نجات پاکے۔ زمان شاہ نے\nدومرتبہ ہندوستان کا رخ اور پنجاب میں اپنی حکومت کو مضبوط کیا۔ مہا راجہ رنجیت سنگہ کی حکومت\nکی بنا بھی اِسی کے ہاتھ سے پڑی۔ لیکن جب وہ ہندوستان آتا تھا شاہزادہ محمود علم بغاوت بلند\nکئے بغیر نہ رہتا تھا۔ بالاخر سردار پائندہ خان کے مشورہ سے زمان شاہ نے طرفداران محمود شاہ کا\nقلع قمع کرنا شروع کیا ۔ یہ دیکھکر مخالف سہم گئے اور پائندہ خان سے انتقام لینے پر آمادہ ہوئے\nزمان شاہ نے حاسدوں کے اغوا سے اپنے محسن و مددگار وزیر کو مروا ڈالا ۔ ایسوجہ سے\nسردار فتح خان پسر سردار پائندہ خان نے محمود شاہ پسر تیمور شاہ کو برانگیختہ کر کے زمان شاہ کو\nمعزول اور محمود شاہ کو تخت نشین کیا۔\n\nمحمود شاہ و شجاع الملک | شیر محمد خان جو پائندہ خان کا حریف تھا۔ یوں سردار فتح خان کو چوے\nکار آتا اور اپنی وزارت کو جاتا دیکھ نہ سکا۔ اوس نے شجاع الملک فرزند پنجم تیمور شاہ کو ہمراہ لیکر\nمحمود شاہ پر فوج کشی کی کئی لڑائیاں ہوئیں ۱۸۰۳ء میں شجاع الملک و شیر محمد خان محمود شاہ\nپر غالب آئے شجاع الملک تخت نشین ہو کر شاہ شجاع کہلائے ۔ کچھ عرصہ کے بعد اپنے\nصوبہ دار کشمیر پر چڑھائی کی۔ اتفاق دیکھئے صوبہ دار کے ہاتھ سے مغلوب ہونا پڑا اب سردار\nفتح خان کو پہر موقع ملا۔ اوس نے پھر محمود شاہ کو بادشاہ بنا دیا۔ شاہ شجاع کو ملک سے\nنکال دیا اسوقت ہرات فیروز الدین فرزند ہفتم تیمور کے قبضہ میں تھا ہرات کی خواہش کامران\n\n۳"}
{"book": "adl0234", "page": 27, "text": "۱۸\n\nپھر محمود شاہ کو ہوئی۔ سردار فتح خان کے ذریعہ سے ہرات فتح ہوا ۔ با عذابے فیروز الدین کے\nمحمود شاہ نے اپنے مہربان دمددگار سردار فتح خان وزیر کو اندھا کراکے قتل کرا دیا ۔ جب\nیہ خبر عام ہوئی تو خاندان بارک زئی موجودہ حکمران کے اجداد کو غصہ آیا نہیں بھائی\nفتح خان کے موجود تھے جنہین ایک سے ایک بہادر و قابل تھا ۔ اور دوست محمد خان اپنے\nسب بھائیوں میں ممتاز بہادر تھے یہ سب اپنے بارک زئی قبیلہ کو ہمراہ لیکر انتقام پر آمادہ ہوے\nمحمود شاہ کو مارکر بھگا دیا اوس نے ایران مین جاکر پناہ لی پھر شاہ شجاع کو پنجاب سے بلا کر بادشہ\nبنا دیا ۔ شاہ شجاع نے تخت پر بیٹھتے ہی اپنے محسنون کو کاروبار سلطنت سے بیدخل\nکرنا چاہا ۔ اسپر تلوار چلی ۔ شاہ شجاع افغانستان چھوڑ کر لدھیانہ مین انگریزون کی پناہ میں آئے\nاور خواہاں امداد ہوئے ۔ بعد شاہ شجاع کے تیمور کے ایک بیٹے کو تخت نشین کیا جو اپنی غلطی\nسے معزول ہوا ۔ اسوقت افغانستان کو بے بادشاہ کے دیکھکر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے\nزور پکڑا اور پشاور کا رخ کیا ۔ محمد اعظم خان و دوست محمد خان دونون فوج لیکر مقابلہ پر آئے\nمگر نوشہرہ پر شکست کھا کر واپس ہونا پڑا۔ یون بہت سا علاقہ افغانستان کا سکھوں کے ہاتھ گیا\nاسکے بعد افغانستان مین طوائف الملوکی ہوئی ۔ جو جہان تھا خود سر بن بیٹھا ۔ قندہار و غزنی\nدوست محمد خان اور اونکے بھائیون کے قبضہ مین تھے لیکن باہم سلوک نہ تھا۔ اس لئے\nپھر شاہ شجاع نے سر نکالا مگر شکست کھا کر لدھیانہ چلا آیا ۔ دوست محمد خان نے رفتہ رفتہ\nاپنا اقتدار حاصل کیا اور افغانوں نے او نھین اپنا امیر بنالیا۔\n\nدوست محمد خان اور انکے جانشین\nشاہ شجاع کئی دفعہ افغانستان کا بادشاہ ہوا چونکہ اوسمین افغانون کی\nدلداری و نظمی صلاحیت بالکل نہ تھی اسلئے اوسے ہر دفعہ معزول\nاور افغانستان سے دست بردار ہونا پڑا۔ اوسے تخت پر بیٹھتے ہی ایسے حامی کی تلاش تھی\nجو وقت پر مدد دیسکے اسی زمانہ مین روس ہندوستان کی جانب رخ کر رہا تھا۔ زار روس\nونپولین بونا پارٹ کے باہم اعلیٰ درجہ پر دوستی ویکجہتی کے مراسم تھے اسلیے مشہور ہوا کہ"}
{"book": "adl0234", "page": 28, "text": "۱۹\n\nروس او فرانس متفقه کوششوں سے ہند پر حملہ آور ہونے والے ہیں۔ یہ خبر انگریزوں کے لئے\nمتوحشانہ تھی فوراً مسٹر الفنسٹن کی صدارت میں ایک سفارتی کمیشن کابل روانہ ہوا ۱۸۰۹ء\nمیں شاہ شجاع سے عہد نامہ ہوا جس میں تحریر تھا کہ وہ روسیوں کو روکے اور انگریز اس کی امداد کریں بیچارہ\nشاہ شجاع کو سلطنت کی اہلیت نہ تھی۔ اس بار گران کو کیا اٹھا سکتا تھا۔ کچھ عرصہ تک افغانستان\nواقعی حکمران سے خالی رہنے کے بعد امیر دوست محمد خان بارک زئی کے زیر نگین آگیا۔\n\nمحمود شاہ کے زمانہ سے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بہت زور پکڑ لیا تھا۔ دوسری طرف سے\nفتح علی شاہ قاچار شاہ ایران افغانستان کے فتح کے درپے ہورہا تھا۔ تیسری جانب سے روس\nبڑھا چلا آتا تھا۔ ناچار حوصلہ مند امیر دوست محمد خان کو بھی ایسے حامی کی ضرورت محسوس ہوئی\nجس کی امداد سے وہ افغانستان کو تمام دشمنوں سے بچا سکے اسلئے اونہوں نے انگریزون\nسے باہمی دوستی کی سلسلہ جنبانی کی۔ ان دنوں لارڈ آکلیلنڈ ہندوستان کے گورنر جنرل تھے\nانکو خط لکھا۔ با وجود دانشمندی کے مال کار کو نہ سمجھے اور وہ امیر دوست محمد خان کو معزول\nکرنے اور شاہ شجاع کے بادشاہ بنانے پر مستعد ہو گئے۔ اس غرض سے پچیس ہزار سپاہ\nسر جان کین کے ماتحت قندہار پر چڑھی ۱۸۳۹ء میں پھر شاہ شجاع تخت نشین کئے گئے\nجب غزنی چھن گئی اور شاہ شجاع کابل پر قابض ہوگئے۔ امیر دوست محمد خان ہندوکش\nکے دوسری جانب بھاگ گئے۔ اوسوقت ایڈورڈ کین ہندوستان کو لوٹ آیا۔ آٹھ ہزار\nفوج سرولیم میکناٹن وغیرہ کے زیر کمان چھوڑ آیا۔ دوسال شاہ شجاع انگریزوں کی مدد سے\nکابل و قندہار پر قابض رہا۔ ۱۸۴۰ء میں امیر دوست محمد خان نے خود اپنے آپکو انگریزوں\nکے سپرد کر دیا امیر دوست محمد خان ہندوستان آئے۔ شاہ شجاع افغانستان میں نیکن نام\nو ہردلعزیز نہ تھا۔ محمد اکبر خان خلف امیر دوست محمد خان نے بلوہ کر کے شاہ شجاع کو ہلاک\nاور انگریزی فوج متعینہ کابل کو جو بغرض حفاظت شاہ شجاع تھی تباہ و برباد کر دیا بہت چھوٹا حصہ\nبچ کر ہندوستان پہونچا ۱۸۴۲ء میں زیر کمان جنرل پلوک انگریزی سپاہ کا ایک بڑا زبر دست"}
{"book": "adl0234", "page": 29, "text": "۲۰\nدستہ افغانستان بھیجیا گیا جسنے جاکر فتنہ و فساد کو بالکل مٹا دیا لیکن انگریزوں کو معلوم ہوگیا\nکہ کوئی کمزور آدمی افغانستان پر حکومت نہیں کر سکتا اور نہ اوس سے روس کی روک کیجا سکتی\nہے کسی نئے شخص کے بجائے امیر دوست محمد خان کو ہی بصیرت تمام کابل پہونچا دیا\nوہ ہر فرمان روائے کابل ہوئے ۱۸۵۰ء میں باہم امیر دوست محمد خان و گورنمنٹ انگلشیہ\nکے عہد نامہ ہوا۔ دوست محمد خان امیر تسلیم کئے گئے اور اس عہد نامہ کی رو سے امیر افغانستا\nنے انگریزوں کی دوستی کا اعتراف اور روسیوں کی سد راہ ہونے کا اقرار کیا اس معاوضہ\nمیں بارہ لاکھ روپیہ سالانہ وظیفہ افغانستان کو دیا جانا منظور کیا گیا ۱۸۶۳ء تک امیر\nدوست محمد خان انگریزوں کے دوست رہے۔\nامیر شیر علیخان بعد وفات امیر دوست محمد خان کے امیر شیر علیخان جانشین ہوئے۔ آپسمین\nبھائیوں میں خانہ جنگیاں ہوئیں اونکے بھائی امیر محمد افضل خان نے ایکمرتبہ امیر شیر علیخان سے\nکابل و قندہار چھین لئے۔ اعظم خان برادر حقیقی امیر محمد افضل خان کی ناقص تدبیروں و کوتا\nاندیشیوں نے شیر علی خان کو مایوس ہونے دیا وہ برابر لڑتا رہا۔ یہانتک کہ امیر محمد افضل خان\nکا انتقال ہوا۔ امیر اعظم خان و امیر عبد الرحمن خان کو افغانستان چھوڑنا پڑا۔ چچا و بھتیجے\nایران پہونچے جہان اونکا شاہانہ استقبال کیا گیا۔ اعظم خان مشہد مقدس سے طہران کا اراد\nکر رہے تھے کہ داعی اجل لبیک پکارا۔ اور امیر عبد الرحمن تنہا رہ گئے۔ اونہوں نے ایران چھوڑ کر\nروس کا قصد کیا۔ روس نے انکو ہاتھوں ہاتھ لیا اور ہر طرح کی امید دلائی ۱۸۶۸ء میں امیر شیر علیخان\nنے اپنی حکومت کو مستحکم کر لیا۔ انگریزوں نے اونکو امیر تسلیم کیا ۱۸۶۹ء مین لارڈ میو وائسرائے ہند\nنے امیر شیر علی خان کو انبالہ میں شاہانہ دعوت دی۔ بعد ازاں امیر شیر علیخان نے کابل میں روسی\nایلچی کا خیر مقدم اعزاز کے ساتھ کیا۔ برٹش مشن کو سرحد پر روک دیا۔ اسپر لارڈ لٹن نے اعلان\nجنگ کر دیا ۔ فوج افغانستان کی طرف بڑہی۔ ایک مقام سرحدی پر قبضہ کر لیا ۔ جب امیر\nشیر علیخان نے دیکھا کہ انگریز کابل پر چڑ ہے چلے آتے ہیں۔ تو روس کی امداد کی سلسلہ"}
{"book": "adl0234", "page": 30, "text": "۲۱\nجنبانی شروع کی ۔ روسی ترکستان کے حاکم سے مدد مانگ بھیجی جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزوں\nنے اپنی پیشقدمی روک دی۔ اسکے بعد امیر شیر علی خان آخر زندگی تک انگریزوں کے\nخلاف اور روسیوں کی طرف مائل رہا۔ علی الاعلان روسی وفد کو کابل بلایا جس نے\nکابل پہونچکر روسی گورنمنٹ اور حکومت افغانی کے مابین ایک معاہدہ کر دیا اس عہد نامہ\nمیں امیر شیر علیخان نے وعدہ کیا کہ وہ ہمیشہ روس کا طرفدار دوست رہے گا یہ وفد کابل ہی\nمیں تھا کہ انگریزوں نے پھر اپنا ایک کمیشن معاملات سلجھانے کے لئے افغانستان روانہ\nکیا۔ امیر شیر علیخان نے کمیشن کی بار دہی سے انکار کر دیا۔ ناچار انگریزوں کو افغانستان\nکی ملتوی شدہ جنگ کی از سر نو تجدید کرنی پڑی ۔ امیر شیر علیخان شکست کھا کر کابل سے\nبھاگ گئے اور ۱۸۷۹ء میں بلخ میں قضا کی انکی وفات کے ساتھ ہی جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔\nامیر یعقوب خان | انکے بعد امیر یعقوب خان سر برآراء حکومت ہوئے ۔ امیر شیر علیخان\nمرحوم کے زمانہ میں کوئی برٹش ایجنٹ نہ تھا۔ امیر یعقوب خان کے حکومت کا ابتدائی زمانہ\nتھا وہ دوست و دشمن سے ناآشناے محض تھے ۔ رعایا پر پورا تسلط نہوا تھا کہ میجر گناری\nجو پیشاور میں ڈپٹی کمشنر تھے اور بر بنا و واقفیت سرحدی ہر طرح کابل کے لئے مناسب\nتھے نگرانی کے لئے روانہ ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ برٹش افسر مارے گئے انکے ساتھی بھی ہلاک\nہوئے ۔ اسپر تیسری جنگ افغانستان شروع ہوئی اور ۱۸۸۰ء تک قایم رہی۔ انگریزی\nفوج کی کمان لارڈ رابرٹس کے ہاتھ میں تھی افغانی فوج کو شکست ہوئی۔ امیر یعقوب خان\nنظربند ہو کر ہندوستان آئے۔ انہی لارڈ رابرٹس کی کامیابی و فتحمندی کو بہت دن نگذرے\nتھے کہ افغانی قبائل نے انگریزی فوج کو آگھیرا اور لارڈ موصوف نرغہ میں آ گئے۔ بمشکل\nسر سٹوارٹ کی کوشش سے لارڈ موصوف نے فوج محاصرہ سے نجات پاسکی۔ انگریزینکو\nیقین ہو گیا کہ افغانستان ایک بار نہیں سو دفعہ فتح ہو جائے۔ مگر افغانوں پر حکومت کرنا\nکوئی آسان کام نہیں ۔"}
{"book": "adl0234", "page": 31, "text": "۲۲\n\nامیر عبدالرحمن خان ابہی یہ ترددات پیش تھے کہ دفعۃً امیر عبدالرحمٰن کے روس سے نکلنے اور\nاور سرحد افغانستان پر پہونچنے کی خبر ملی اسکا خلاصہ یہ ہے کہ امیر عبدالرحمٰن خان دس بارہ سال\nتک روسی وعدون پر مختلف شغلون میں اپنا وقت گزارتے رہے جسکی تفصیل کی بیان\nگنجائیش نہیں۔ بارہا آپنے زار روس کو ایفای وعدہ پر متوجہ کیا لیکن جواب کہی تأمل\nاطمینان نہ ملا زار نے اپنی فوج افغانستان مین بھیجنی ہی چاہی تو اس شان سے کہ خود مالک\nبنجائے۔ مگر اسطرح مسلمانون کا کشت و خون اونہوں نے پسند نہ کیا۔ جب کہا تو یہ کہا\nکہ دو ہزار روسی فوج اور چند توپین معہ سامان حرب کے ملجائے فتح افغانستان کے لئے مجھے\nیہی کافی ہے۔ اس عنایت کے صلہ مین ہمیشہ روس کا مین ہوا خواہ و دوست رہونگا۔ زار\nایفای عہد کو ٹالتا رہا۔ کیونکہ جس بات کا وعدہ امیر عبدالرحمٰن کرتے تھے اوس سے زیادہ\nشیر علیخان کی حکومت سے بغیر ہاتھ پاؤن ہلائے حاصل تھا۔ امیر شیر علیخان نے\nروسی گورنمنٹ سے ایسے وعدے کر ہی رکھے تھے امیر عبدالرحمٰن کو روسی امداد سے بالکل\nمایوسی تھی کہ اتنے مین خبر لگی کہ افغانستان مین ایک اندھیر مچ رہا ہے اوسوقت اس زیرک\nو دور اندیش بہادر نے والی ترکستان کو واسطہ گردانکر روسی گورنمنٹ سے وطن کی اجازت\nحاصل کی اور بسم اللہ کہکر بالکل بے سر و سامانی کے ساتھ افغانستان کا رخ کیا سابق\nوفاداروں نے خیر مقدم کیا رؤسا و قبائل ساتھ ہوتے گئے۔ تھوڑے دنوں مین ایک\nجرار فوج جمع ہوگئی۔ اقبال نے یاوری کی۔ سعادت ہمرکاب ہوئی۔ انگریزوں کے لئے بھی\nیہ موقع اظہار مخالفت کا نہ تھا۔ اسی مین مصلحت دیکھی کہ امیر عبدالرحمٰن خان کو جو کسی کے\nروکے نہ روکین گے خود ہی بلایا جائے۔ خط لکھا گیا۔ بلایا گیا۔ اور خود کابل چھوڑ کر چلے آئے۔\n۲۰ جولائی ۱۸۸۰ء کو جایز وارث حکومت افغانستان امیر عبدالرحمٰن خان سریر آرائے\nسلطنت ہوئے تمام افغانوں نے اونہیں اپنا بادشاہ تسلیم کیا۔ جسوقت اہل افغانستان\nنے آپکو اپنا حکمران تسلیم کیا اوسوقت آپکا ایک جوابی مراسلہ سر لیپل گریفین کے پاس"}
{"book": "adl0234", "page": 32, "text": "گیا ہوا تھا۔ جسمین آپ نے قندہار کی علیحدگی کی صورت مین امارت کابل قبول کرنے سے\nانکار اور بقوت اوسکو اپنے تابع فرمان رکھنے کی امید ظاہر کر کے دریافت کیا تھا کہ انگلستان\nآیندہ جیسے تعلقات افغانستان سے رکھنا چاہتا ہے وضاحت سے لکھے جائین\nتاکہ میں اپنی قوم سے اسکی قبولیت وعدم قبولیت کا جواب سکون گرفین صاحب نے ۲۹ جولائی\nکے بعد اس کا جواب وایسرے کی طرف سے حسب ذیل بھیجا :۔\nگریٹ برٹن آپکو امیر افغانستان تسلیم کرتا ہے گورنمنٹ کو اپکے اندرونی معاملات مین دخل\nدینے سے کوئی سروکار ہوگا اور نہ آپکی سلطنت میں کسی جگہ ریزیڈنٹ رکھا جائے گا۔ ہان\nدوستانہ خط و کتابت کی غرض سے ایک مسلمان برٹش ایجنٹ کابل مین رکھا جانا مناسب\nہوگا ۔ سیاسی تعلقات کے متعلق بجواب اتنی توضیح کافی ہے کہ جب تک اپنی مصلحتون کی\nبنا پر گورنمنٹ کسی غیر سلطنت کی مداخلت کو افغانستان مین نا پسند کرتی ہے ۔ روس ایران\nافغانستان مین کسی قسم کی دست اندازی نکرین ۔ افغانستان کو ضرورت ہی نہین ہے\nکہ برطانیہ اعظم کے سوا اور کسی سلطنت سے سیاسی تعلقات قایم کرے ۔ احیاناً اگر کوئی\nغیر سلطنت افغانستان کی طرف بڑھیگی اور کابل پر حملہ ہوتا ہوا نظر آئیگا تو گورنمنٹ مناسب امداد\nاوسکی مدافعت کے لئے ضرور آپکو دیگی بشر طیکہ آپ بھی بیرونی تعلقات کے متعلق گورنمنٹ\nکے مشورون کا لحاظ رکھین۔\nوایسرے کی یہ تحریر جوگویا گورنمنٹ کا از خود مجوزہ معاہدہ تھا امیر عبد الرحمن خان کو\nپہونچی کہ سر لیپل گرفین معہ فوج قندہار کو روانہ ہوئے ۔ سردار ایوب خان کو شکست دیتے\nہوئے پشاور کی طرف متوجہ ہوئے۔ یون افغانستان کی اس جنگ کا بھی خاتمہ ہوا ۔\nآخر ۶۱۸۸۱عین قندہار اور اوسکے بعد ہرات قبضہ مین آیا۔ اسطرح کل افغانستان آپکے\nتابع فرمان ہو گیا ۔ سردار ایوب خان ایران چلے گئے وہان مدت تک رہے۔ شاہ ناصرالدین\nنے ایک شاہزادی سے انکا نکاح کر دیا ۔ اور بالاخروہ انگریزی وظیفہ خوار ہوکر ہندوستان آگئے"}
{"book": "adl0234", "page": 33, "text": "جب امیر عبدالرحمن کا سکہ ملک پر خاطر خواہ بیٹھ گیا وہ اصلاح ملک پر متوجہ ہوئے برٹش گورنمنٹ\nنے جو روپیہ اونیس تیس لاکھ افغانستان سے وصول کر لیا تھا وہ واپس دیدیا اور اٹھارہ لاکھ\nروپیہ سالانہ اور مقرر کردیا۔\nافغانستان کی جدید تاریخ اگرچہ احمد شاہ ابدالی سے شروع ہوتی ہے لیکن اصلی\nاور باقاعدہ حکومت کی بنا سچے اصول پر امیر عبدالرحمن خان نے ڈالی۔ ایسے غیر اصول\nقوم کی اصلاح اسی زبردست مدبر کا کام تھا۔ خونخوار۔ خونریز۔ سرکش۔ لالچی۔ مکار قوم کو راہ پر لانا\nاونکس سرکشی کو مضبوط ہاتھ سے توڑنا۔ گردن کش سرداران کو مطیع کرنا۔ ملکی بدعنوانی کو مٹانا\nباہمی نا اتفاقی کو ہٹانا۔ اتفاق بڑا نا آسان نہ تھا الفنسٹن صاحب نے جب افغانوں کے\nقومی خصائص کے متعلق سوال کیا تو ایک افغان نے بہت سچا یہ جواب دیا ”ہمیں لڑائی\nجھگڑے منظور۔ ہمیں خوف و دہشت منظور۔ ہمیں خونریزی و کشت و خون منظور۔ مگر ہمیں\nکسی فرمان روا کی اطاعت منظور نہیں ۔ ایسے لوگوں متشتتہ و نا اتفاقی پر تلے ہوئے\nفرقوں اور قبائل کے باہمی اختلاف و عداوت و جنگجوئی کو مٹا کر ایک قوم بنانا صرف ضیاء الملتہ\nوالدین کا کام تھا۔ وہی لوگ جو لڑائی جھگڑے کے عاشق۔ مارنے مرجانے پر شیدا۔ نا اتفاقی پر\nکمر بستہ۔ اور ہر قسم کے جرم کرنے پر تیار تھے آج فرمان بردار۔ قانون کے پابند اور قومی جمعیت\nکے خیال و شایستگی کے لحاظ سے ہی بہتر حالت میں ہیں قومی و ملکی ضرورتوں کو سمجھتے ہیں\nاپنے امیر کو دینی و دنیوی پیشوا و مذہبی حکمران تسلیم کیا ضیاء الملتہ والدین خطاب دیا۔ فوج\nباقاعدہ۔ مہذب و آراستہ۔ تنخواہ دار مسلح اور اخلاقی حالت میں تعلیم یافتہ قوموں کے\nپہلو بہ پہلو ہے ملک میں امن۔ جرایم میں کمی۔ خفیہ پولیس۔ اور انتظام بھی ہر طرح\nاطمینان دہ ہے۔ تعلیم و تعلم کے ساتھ امتحانی قواعد مقرر ہیں۔ تجارت کو ترقی دی۔ رعایا\nکی بہبودی کا خیال رکھا۔ خود غرضی و رشوت ستانی کو بند کیا۔ اور سب سے بڑی بات\nیہ ہے کہ گورنمنٹ آف انڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلق بھی قایم رکھے اور اپنی آزادی کو"}
{"book": "adl0234", "page": 34, "text": "۲۵\n\nسمجھی محفوظ رکہا-\nامیر دوست محمد خان بہی دانشمند و قابل حکمران تہے- مگر پورا افغانستان کہی اونکے زیر\nفرمان نہوا قبائل کی تفریق وحبانہ جنگی وہی رہی ۔ یہ صفت امیر عبد الرحمن خان تہے\nجنهوں نے بحیثیت ایک ملک و ایک قوم کے حکومت کی اور ایسی قابلیت کے ساتہ\nکہ انکانام اعلیٰ فرمان رواؤن کے طبقہ مین شمار کیا جائیگا- اور تاریخ مین یادگار رہے گا\nآخر وقت تک وہ گورنمنٹ برٹش کے خالص دوست رہے ؂\n\nدرین حدیقہ بہار و خزان ہم آغوش ست\nزمانہ جام بدست و حبہ اندر دوش ست\n\nاعلیحضرت ہزمیجسٹی امیر حبیب اللہ خان\n۱۳ - اکتوبر سنه ۱۹۰۱ ع کو امیر عبد الرحمن خان نے وفات پائی - مرنے سے\nایک دن پہلے تمام اراکین سلطنت کے مشورہ سے امیر حال کی\nتخت نشینی کا فیصلہ فرمایا- بپابندی وصیت امیر مرحوم - قومی انتخاب اور اپنی اہلیت\nکی بنا پر بعد وفات امیر مرحوم کے - ہز مجسٹی امیر حبیب اللہ خان سریر آراے تخت کابل\nہوئے مگر باضابطہ تخت نشینی کا دربار مارچ سنه ۱۹۰۱ ع مین ہوا- ارکان دولت واکابر قوم\nکی خواہش پر آپنے سراج الملته والدین کا معزز لقب اختیار کیا سرداران افغانستان\nنے حاضر دربار ہو کر جو بات اونکے دل مین تهی اوسکا زبان سے اقرار کیا-عنان سلطنت\nاپنے ہاته مین لینے کے بعد اپنے حقیقی بہائی شاہزادہ نصر اللہ خان کو خطاب نائب السلطنت\nعطا فرمایا- دوسری سال شاہزادہ عنایت اللہ خان کو معین السلطنت کے خطاب سے\nسرفراز فرما کر ولیعہد قرار دیا-\n\nامیر عبد الرحمن خان مرحوم سادور اندیش خاک کابل سے پیدا ہونا مشکل ہے-اگلے\nپچہلے شاہان کابل کے حالات سے وہ بیخبر نہ تهے اسکا یہ نتیجه تها کہ وہ علانیہ طور پر باضابطہ\nکسی کو اپنا ولیعہد نہ بنائین اونکا خود بیان ہے کہ وحشی و جاہل لوگون پر مین ظاہر کرنا\nنہین چاہتا کہ میرا جانشین کون ہو گا-مگر جنکو خدا نے عقل دی ہے اور جو ذرا بہی سمجہ\n۴"}
{"book": "adl0234", "page": 35, "text": "٣۶\nرکھتے ہیں۔ انہیں میرے طرز عمل انتظام سلطنت سے بخوبی معلوم ہوگیا ہو گا کہ میرے\nبعد میر اوارث تخت کون ہو گا۔ بھروسہ رکھتے ہیں کہ میں اپنے بیٹوں کو پایے تخت کابل میں\nرکھتا ہوں وہ سب میرے بڑے بیٹے حبیب اللہ خان کے زیر فرمان ہیں میں نے\nبتدریج اوسکے اختیارات کو وسعت دی ہے اب حالت یہ ہے کہ میں خود در بار نہیں کرتا\nکل کام اوسکے سپرد کر دیا ہے۔ میں نے اپنے دوسرے بیٹے نصر اللہ خان کو جو حبیب اللہ خان\nکا حقیقی بھائی ہے صیغہ مالگذاری و محاسبی کا افسر اعلیٰ مقرر کیا ہے وہ ہر معاملہ\nمیں اپنے بھائی کی ہدایت پر چلتا ہے میرے دوسرے بیٹے امین اللہ خان ۔ محمد عمر جان\nغلام علیخان - اسداللہ خان بھی رفتہ رفتہ مختلف سرکاری کاموں پر مقرر کئے جائینگے\nاور اپنے بھائی حبیب اللہ خان کے ماتحت رہینگے۔ میرا بڑا بیٹا صرف خاص اور ضروری\nمعاملاتمیں میراحکم لیتا ہے ورنہ سارے ملک کا انتظام خودہی کرتا ہے۔ امیر مرحوم دوست و\nدشمن کو خوب پہچانتے تھے اونہوں نے شورہ پشتون سے اپنی زندگی میں ملک کو پاک کردیا\nتھا اور با اثر اشخاص وقبائل کو مطیع و منقاد بنالیا تھا اسیکا نتیجہ ہے کہ ایک امیر کے بعد دوسرا\nفرمان روا بغیر کسی جھگڑے و فساد کے تخت نشین ہوا اور اب تک اندرونی یا بیرونی کسی\nفساد کا گمان نہیں ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ امیر مرحوم کا جانشین - روشن خیال - بیدار مغز\nزمانہ شناس ۔ ملکی ترقی کا ساعی۔ برٹش گورنمنٹ کے ساتھ تعلقات واتحاد بڑھانے میں اپنے\nپدر عالی قدر سے بھی ایک قدم آگے ہے امیر مرحوم کی وفات کی تعزیت اور ہر مجسٹی امیر حال\nکے تخت نشینی کی تہنیت کے لئے گورنمنٹ آف انڈیا کا ایک کمیشن افغانستان گیا وہان\nاوسکا دوستانہ استقبال کیا گیا بعدۂ ڈین مشن کی مدارات و مہمانی کابل میں اوسی معزز طریقہ\nسے کی گئی جو ایک فرمان روا کے لئے ایسے باوقار مشن کے مناسب حال تھی۔ وہان\nجب مشن مہمان تھا اوسی زمانہ میں شاہزادہ سردار عنایت اللہ خان کو ہندوستان بیچکر\nدوستی و اتحاد کا اظہار فرمایا۔ اور آخر میں خود بدولت نے بذات خاص سلطنت ہند کا مہمان"}
{"book": "adl0234", "page": 36, "text": "۳۴\nبنکر اپنے خلوص کا ثبوت دیا۔ ہز مجسٹی نسباً ۔ ابدالی النسل قبیلہ درانی صدوزی کے\nبھتیجے ۔ بارک زی کے چشم و چراغ ہین ۱۸ء مین بزمانہ قیام امیر مرحوم سلطنت روس مین\nپیدا ہوئے۔ اب سن مبارک پینتیس سال کا ہے۔ خداوند عالم نے جوانی مین پیرانہ\nتدابیر اور انجام بینی کا خاص مادہ آپ کو عطا فرمایا ہے۔\nلارڈ کرزن کی دعوت اور انکار کرنے کے اسباب جس زمانہ مین منجانب لارڈ کرزن پیام دعوت\nلارڈ منٹو کا پیام مانی اور قبول کرنیکے وجوہ اعلیحضرت کو دیا گیا ضیا ء الملته والدین امی عبد المران\nکی وفات اور سراج الملت والدین کی تخت نشینی کو زیادہ مدت نگذری تھی گو\nشورتین یا مخالفتین بظاہر کمین پائی نہ جاتی تھین مگر شہر تین ان کے خلاف تھین اخباران\nمین خبریں مشتہر ہوتی تھین کہ باہم بھائون کے سلوک نہین۔ مادر و فرزند مین کشیدگی ہے\nاگر چہ انکا وجود نہ تھا لیکن ملکی حالات و خیالات کی بنا پر جو خلاف را بے قایم کیجاوے\nوہ بعید القیاس نہین ہو سکتی یہ بھی ممکن ہے کہ اوس زمانہ مین تمام قبائل وجرگون کی طرف\nسے اطمینان کامل نہوگا۔ پس اس صورت مین ملک سے جدا ہونا۔ ایک دور اندیش\nحکمران کے لئے کسی پہلو سے مناسب نہ تھا اسکے علاوہ پیام دعوت کے الفاظ خصوصیت\nو محبت کے حدود سے بیگانہ تھے۔ لہذا امیر صاحب نے مصلحت وقت پر نظر ڈا لکر\nاحتیاط سے کام لیا اور قبول دعوت بین عذر کیا ۔ لارڈ کرزن وایسراے کو ایسا رد دعوت\nاہانت امیز اشتعال تھا۔ اسپر مغایرانہ و دلشکن کارروائی کی گئی جو واب محبت و دایره\nسلاطین سے دور۔ دور اندیشی سے بعید ایک آزاد قوم کو خود مختار فرمان روا کے لئے\nبرہمی مزاج کا باعث تھی خوف یا ضرر کے خیال سے دعوت کا منظور کرنا معمولی حیثیت کے\nآدمی کے ذمے بہت کچھ مکر وہ الزامات قایم کرا دیتا ہے ۔ چہ جائیکہ ایک ایشیائی\nبادشاہ کے حق مین۔\nجہان تک سنا گیا انکار دعوت پر بحث محدود نہ رہی بلکہ وہ رقم کثیر جو گورنمنٹ ہند کی طرف"}
{"book": "adl0234", "page": 37, "text": "۳۸\n\nسے افغانستان کو سالانہ دیجاتی ہے۔ ایک مدت تک معرض التوا مین رہی۔ اسوجہ\nسے عوام مین مختلف افواہین پھیلی ہوئی تھین یہ امر بہت قرین قیاس ہے کہ اسبارہ مین\nلارڈ کرزن نے سفیر دولت خداداد افغانستان مقیمہ ہندوستان سے مشورہ نہ لیا\nہوگا۔ اونکے تحکمانہ مزاج و خودرای نے اسکو گوارہ بھی نہکیا ہوگا۔ ورنہ یہان تک\nکشیدگی کی حالت و انکار دعوت کی نوبت نہ واقع ہوتی\n\nاب لارڈ منٹو نے جن محبت آمیز دوستانہ پیرایہ مین مدعو کیا تھا اوسکا تقاضا یہ تھا\nکہ اخلاقا قبول دعوت مین کوئی انکار نہکیا جاوے۔ پھر شہزادہ کامگار معین السلطنت\nسردار عنایت اللہ خان ۱۹۰۴ء مین بطور سیاحت ہند تشریف لائے اونکی مدارات\nشاہانہ کی گئی۔ جس وقار و تمکین سے اس نوجری مین شاہزادہ موصوف نے زمانہ\nسیاحت کو بسر کیا اوس سے تجربہ کاران یورپ و ہند کو حیرت و استعجاب ہے۔ ساتھ ہی\nوہ خود بھی محظوظ ہوکر یہان سے محبت و مہمان نوازی کے پاکیزہ خیالات اپنے ہمراہ لے گئے\nیہ منظوری دعوت کا سبب خاص ہوسکتا ہے۔\nبڑی وجہ یہ ہے کہ مہمان بادشاہ کو اپنی ملکی حالت سے ہر طرح اطمینان ہو گیا تھا کہ اب\nغیر حاضری ملک اونکو ضرر رسان نہوگی اسپر بھی بمرزید احتیاط اونہوں نے قبایل و جرگہ کے\nسردار و با اثر اشخاص سے مشورہ کیا اور بعد اطمینان قلبی قصد فرمایا۔\nقیاس چاہتا ہے کہ بوجوہ جلیہ و متین۔ رمز شناس روشن خیال وایسراے نے اسباب\nمین قبل پیام دعوت جن لوگون سے کہ مشورہ کی ضرورت سمجھی گئی ہوگی دریغ نہکیا ہوگا\nخصوصاً کرنیل سردار محمد اسمعیل خان صاحب کی قبول دعوت مین تحریک ہو تو تعجب\nنہین اول پروگرام سیاحت مین مقام کلکتہ نہ تھا۔ امیر صاحب کی خواہش پر اسکا اضافہ کیا\nگیا۔ حضور وایسراے نے کمال مسرت و فرط محبت کا اظہار کیا اور لکھا کہ چونکہ جناب والا\nاپنے ملک سے زاید دو ماہ جدا رہنا نہین پسند فرماتے ۔ اور نیز یہ کہ بمبئی۔ کلکتہ سے زیادہ"}
{"book": "adl0234", "page": 38, "text": "۲۹\n\nخوش نما خوبصورت شہر ہے اسلئے بمبئی کو کلکتہ پر ترجیح دیگئی تھی۔ اب چونکہ جناب کلکتہ ہی\nدیکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری تو یہ عین آرزو ہے کہ آگرہ کے بعد دوبارہ شرف ملاقات میسر ہو یہ\nتو ازیاد محبت کی خاص نشانی ہے۔\nغرضکہ امیر صاحب نے ابتدایے دورہ حکومت لارڈ منٹو مین بخوشی خاطر عزم ہندوستان\nفرمایا۔ تعلیم یافتہ قوم کے دلوں پر اپنے محبت وتہذیب واخلاق کا نقش بٹھایا۔\nاورخاطر و مدارات و مهمان نوازی سے محظوظ ہوکر برٹش میزبانان کی صداقت والفت کا\nگہرا نقش اپنے دلپر لے گئے جسکا پتہ وقت روانگی ہر چٹھی کے ہرکلمہ سے پایا جاتا تھا\nآخر میں صاف لفظون مین اونہون نے اعتراف فرمایا کہ جس خلوص محبت و عنایت سے\nمیری جہانداری کی گئی اگر مین ہندوستان نہ آتا تو مجکو اس کا وہم وگمان بھی نہوتا۔ اس موقع\nپر ہم اپنے نیک نیت حلیم مزاج مدر وایسراے کو مبارکباد دئیے بغیر باز نہین رہ سکتے\nانکے ساتھ سر ہنری میکموہن چیف کمشنر و مسٹر ڈابس ڈپٹی فارن سیکرٹری خاص طور پر مبارکباد\nکے مستحق ہیں جہنوں نے اپنے حسن خدمات سے ایسے معزز جہمان کے دل کو اسدرحہ\nخوش کیا کہ وہ بیچین ہوکر اظہار محبت پر مجبور ہوا۔\nمسٹر مورے نے لارڈ کرزن کی حکمت عملیون پر اعتراض کیا۔ افغانستان کے\nساتھ جو رویہ لارڈ موصوف نے جایز رکھا۔ اوسکو مسٹر مورے نے بہت نامناسب ثابت\nکیا۔ اور دکھا دیا کہ جو کچھہ بیچھینی ہندوستان مین ہے یہ سب سابق وایسراے کی عنایت\nسے ہے۔\nوزیر ہند نے فرمایا کہ امیر صاحب کی تشریف آوری پر نہ صرف ہمارے قلمر ومین نہایت\nدلچسپی ظاہر کی گئی بلکہ تمام ایشیامین اسکا چرچا تھا۔ ہوم گورنمنٹ نے نواب گورنر جنرل\nان کونسل ہند کو پہلے سے ہدایت کر دی تھی کہ امیر صاحب کے ساتھ کسی پولیٹیکل معاملہ\nپر گفتگونا کیجاوے اسکا یہ نتیجہ نکلا کہ ہمارے تعلقات امیر صاحب کے ساتھ نہایت"}
{"book": "adl0234", "page": 39, "text": "مضبوطی سے قایم ہو گئے یہ بات کسی عہد نامہ سے حاصل نہو سکتی تھی۔\nامیر صاحب کی تقریر بعد واپسی ہند کا خلاصہ مسٹر مورے نے بیان کیا ”امیر صاحب\nنے فرمایا کہ گورنمنٹ کے افسران نے پولیٹکل معاملات کے متعلق کبھی ایک لفظ نہیں\nکہا وہ اپنے عہد پر قایم رہے ۔ لیکن مین نے جب کبھی موقعہ دیکھا تو بالواسطہ طور پر\nکسی معاملات پر جو ملک وقوم کے فایدے کے تھے گفتگو کی لیکن فریق ثانی نے کبھی\nاسکا نامناسب فائدہ نہ اٹھایا اور نہ اس معاملہ کا میرے سامنے ذکر کیا۔\nلارڈ منٹو کا پیام دعوت ایسے مناسب الفاظ مین تھا کہ مجھے اسکے قبول کرنے مین\nتامل ہوا۔ جو پیام سٹر لنسنی نے بھیجا وہ لارڈ کرزن سے مختلف تھا۔ جو پیام دعوت\nدہلی دربار کے موقعہ پر میرے پاس آیا تھا۔ مینے عزم مصمم کر لیا تھا کہ دہلی دربار کے موقعہ پر\nخواہ کچھ ہو ہر ایک خطرہ کو برداشت کرونگا۔ اور اگر ضرورت ہوئی تو اپنی سلطنت اور\nاپنی جان کو ہی قربان کر دونگا۔ مگر اس دعوت کو ہر گز قبول نہ کرونگا جو مجھے دہلی دربار مین\nشامل ہونے کے لئے دی گئی ہے\nمسٹر مورے نے کہا کہ ابن معاملات پر بحث کرنا بڑی سنجیدہ بات ہے لیکن مجھے\nیہ اطمینان ہے کہ اسکے بعد گورنر جنرل ہند کو ہوم گورنمنٹ نے جس حکمت عملی پر عمل کرنے\nکی ہدایت کی تھی۔ اب تک اسکا نتیجہ نہایت اطمینان بخش ہے۔\nاس سے ظاہر ہے کہ لارڈ کرزن نے افغانستان کے ساتھ تعلقات نازک کر دئے\nتھے اور غالباً تحکمانہ پیام دعوت بھیجکر امیر صاحب کو نارضامند کر لیا تھا۔ یہ امر انگلستان\nکے مسئلہ سرحدی پالیسی کے خلاف تھا۔ یہ امر کس قدر اطمینان بخش ہے کہ مسٹر مورے\nاور لارڈ منٹو۔ لارڈ کرزن کی حکمت عملیوں کے خلاف ہیں۔"}
{"book": "adl0234", "page": 40, "text": "۳۱\nنقل و حرکت اعلیحضرت مجسٹی امیر افغانستاً\n۴ جنوری ۱۹۰۷ع - آج ہز مجسٹی امیر صاحب رونق افروز لنڈی کوتل ہوئے۔ یہ مقام\nپشاور سے تیس میل کے فاصلہ پر پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع میدان میں واقع\nہے۔ اعلیحضرت کے استقبال کے لئے سر ہنری میکمہرن اور اونکا پولیٹکل اسٹاف میجر روس پپل\nپولیٹکل افسر خیبر اور اونکا ملٹری اسٹاف اور سواروں کا ایسکورٹ نو بجے سے قبل لنڈی کوتل سے روانہ\nہوکر افغانستان و ہندوستان چھاٹیپر یہی مقام ہے جہان دونون سلطنتین ملتی ہین ۔\nاول امیر صاحب کی پلٹن ہمراہی آئی۔ منتظرین کو خیال گذرا کہ شاید خود بدولت امیر صاب\nہین۔ مگر فوراً معلوم ہو گیا کہ یہ فوج ہراول ہے۔ اسکے بعد ایک دوسرا دستہ آیا۔ تیسرا دستہ\nشتر سوار ونکا جسکی نگرانی میں مہمانون کا اسباب تھا۔ چوتھے ہاتھیون کی قطار۔ پانچوان\nدستہ کے ساتھ خزانہ شاہی۔ چھٹا میدانی ہسپتال کا سامان۔ ساتوان گھوڑوں کی ایک\nلمبی قطار کا دستہ۔ آٹھوین دستہ مین خود بدولت اعلیحضرت نہایت آہستہ آ رہے تھے۔\nسر ہنری میکمہرن نے آگے بڑھکر سلام و مزاج پرسی کی رسم ادا کی اور وایسرائے کی طرف\nسے خوش آمدید کہا ایک لمحہ توقف کے بعد سب خیبر کی طرف روانہ ہوئے اور بڑی شان\nتجمل سے سرحد میں داخل ہوئے۔ امیر صاحب فوجی لباس و خاکی وردی مین تھے\nتپش آفتاب سے بچنے کے لئے انگریزی وضع کی ٹوپی زیب فرق مبارک تھی جسکو\nدھوپ کے وقت آپ اکثر استعمال فرماتے ہین کیمپ کے نزدیک پہونچکر داخل خیمہ ہوگئے\nسر ہنری میکمہرن نے اپنے پولیٹکل اسٹاف کے ممبران میجر ڈاکٹر برڈ ۔ میجر بروک کپٹن\nریمرے۔ لفٹنٹ فیلڈ ۔ مسٹر وابس کو امیر صاحب کے سامنے پیش کیا ۔ آپ\nہر ایک سے بخندہ جبین ملے ڈاکٹر برڈ سے شفقت کے پیرایہ مین گفتگو کی ۔ اور فرمایا\nکہ مین دوست کو کبھی نہیں بھولتا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ میجر برڈ منجانب گورنمنٹ امیر صاحب کے"}
{"book": "adl0234", "page": 41, "text": "۳۴\nعلاج کی غرض سے کابل بھیجے گئے تھے۔ میجر بروک نے کمانڈر انچیف کی طرف سے\nمبارکباد دی اسپر امیر صاحب نے فرمایا کہ کمانڈر انچیف صاحب کو لکھ دو کہ سیاحت ھند\nسے جو مجھکو مسرت ہے اور سکا بڑا سبب یہ ہے کہ مین اپنے دوستون مین ہون۔ مسٹر\nڈابس سے جو ڈین مشن کے ہمراہ کابل گئے تھے امیر صاحب نے بہت تلطف آمیز باتین\nکین اسکے بعد درہ خیبر کے پولیٹیکل افسر میجر راس کیپل پیش ہوئے۔ اونهون نے اپنے\nملٹری اسٹاف کے ممبران کو پیش کیا امیر صاحب ہر ایک سے نهایت بشاشت و\nگرمجوشی سے پیش آئے۔ اسی دوران مین سر ہنری نے حضور ملک معظم قیصر ہند کا\nٹیلیگرام پیش کیا۔ اعلیحضرت نے لفافہ کو چاک کر کے اپنے سکریٹری کے حوالہ کیا جسمین\nامیر صاحب کو لقب ہز مجسٹی سے مخاطب کیا تھا اور مضمون یہ تھا۔\n”آپکی سیاحت سے مجھے کمال مسرت ہوئی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یوم جسٹی اور\nمیری گورنمنٹ کے تعلقات دوستانہ ہین ۔ مین امید کرتا ہوں کہ یہ سیاحت آپکو سلطنت\nکے گرانبار بوجہ سے محفوظ رکھے گی ۔ یہ تار سنکر امیر صاحب کو بھی خوشی ہوئی سر ہنری\nمیکمہون اور امیر صاحب فارسی مین گفتگو کرتے رہے۔ درمیان گفتگو کبھی کبھی انگریزی زبان\nمین بھی باتین ہو جاتی تھین۔\nخیمہ مین پہونچنے کے تھوڑی دیر بعد امیر صاحب نے میجر بروک کو شرف ملازمت بخشا\nسرہنری نے سرکاری طور پر وایسراے کیطرف سے خوش آمدید کہا اور وایسراے کا پرائیوٹ\nخط امیر صاحب کے سامنے پیش کیا ۔ چار بجے امیر صاحب نے سارے کیمپ کی سیر رمائی\nاور بغیر تار کی تار برقی کو ملاحظہ فرمایا۔ اہلکارون سے اسکے متعلق متعدد سوال کئے ۔\nجنکے جواب دینے مین وہ لوگ کسیقدر عاجز رہے ۔\nنئی چیز جو اس مقام پر طلب فرمائی وہ پان تھا۔ مہماندارون مین سے اسکا کسیکو\nوہم وگمان بھی نہ تھا مگر اسکی بہت جلد تعمیل ہوئی۔"}
{"book": "adl0234", "page": 42, "text": "۳۳\nیہان ایک خاص واقعہ کا ذکر ضروری ہے ۔ ورود لنڈی کوتل سے دو روز قبل\nکرنل سردار محمد اسمعیل خان صاحب سفیر کابل متعینہ ہند حضور مین بمقام ڈکہ طلب ہوئے\nتھے۔ اونکو جہان اور احکام ملے اونمین ایک ضروری حکم یہ بھی تھا کہ موقع دہلی\nبروز عید الضحیٰ قربانی کے لئے انتظام دو سو بکرون کا کیا جاوے ۔ اس حکم کے\nساتھ ارشاد فرمایا کہ ہم اپنے سیاحت ہند مین کسی کو آزردہ کرنا نہین چاہتے قربانی\nگائے سے اصلی باشندگان ہند کو رنج پہونچے گا ۔ اور یہ امر شرط مروت و اقتضاے\nانسانیت سے بعید ہے چونکہ ہماری شریعت بھی ہمکو اجازت دیتی ہے کہ حلال جانورون\nمین جس جانور کو چاہین قربانی کے لئے اختیار کرین اسصورت مین ہم قربانی گاے کو\nغیر ضروری سمجھتے ہین ہمارا مذہب گاے کی قربانی پر ہمکو مجبور نہیں کرتا۔\nچنانچہ ہمنے حسب ہدایت سفیر صاحب فوراً مرزا محمد اکبر علینان ممبر کمیٹی انتظامی کو\nتحریر کیا کہ وہ دو سو بکرے موقع عید الضحیٰ پر موجود رکھین ۔ شب کو لنڈی کوتل مین قیام\nہوا۔\n۳ جنوری ۶۴ امیر حبیب اللہ صاحب نے خیبر کے راستہ سے پشاور کو کوچ فرمایا۔ لنڈی کوتل\nجہان مہمانون نے شب کو قیام کیا تھا وہ اور پہاڑ و چٹانین ۔ برف کی اونچی چوٹیان ۔ درے\nاُنہون نے پیچھے چھوڑے اور ہندوستانکا ایک وسیع میدان سامنے آگیا ہندوستانین\nخیبر سے بڑھکر آیندہ دو ماہ کے عرصے مین کوئی اس قسم کا سفر نہوگا ۔ امیر راستہ مین\nخیبر کے ہر حصہ کو نظر غور سے ملاحظہ کرتے ہوئے اور تجسس کی نگاہ سے دیکھتے\nہوئے۔ سوالات بہت ہی تلاش کنندہ کرتے ہوئے جارہے تھے۔ لنڈی کوتل\nسے جمرود تک برابر راستے مین چوکیان قایم تھین ۔ پچاس پچاس قدم پر پہرے\nلگے ہوئے تھے۔ آفریدی قومین جا بجا سر راہ اشتیاق دید مین بیٹی ہوئی تھین\nقریب ایک بجے کے جمرود پہونچے ۔ جو مسافر پہلی دفعہ خیبر مین سے گذرے گا اوسکو"}
{"book": "adl0234", "page": 43, "text": "۴۲\n\nتسخیر ہو جائے گا۔ دلکش نظارون کے اعتبار سے نہین بلکہ ایک فوجی اہمیت\nکے لحاظ سے ایک قابل قدر درہ ہے۔ جغرافی طور پر یہ ایک میدان مرتفع ہے جو وادی\nکی شان لئے ہوئے ہے جسکی دونون طرفین بلند دشوار گذار پہاڑون سے محصو\nہین۔ یہ آفریدی قومون کا مرکز ہے۔ داہین ناہموار ہین۔ چند سو قدم فاصلہ پر کی\nچیزون کا نظر آنا محال ہے۔ لنڈی کوتل سے جمرود تک جسکا فاصلہ بیس میل ہے\nیہی حالت نظر آتی ہے۔ جمرود پہونچکر پہاڑون کا سلسلہ ایک پختہ دیوار پر آکر ختم\nہو جاتا ہے۔\nلنڈی کوتل سے پانچ بجے صبح افغانی پیدل فوج چھ بجے سوار۔ اور نو بجے خود\nاعلیحضرت روانہ ہوئے چلنے والا جلوس میلون تک پھیلا ہوا تھا معلوم ہوتا تھا\nگویا کہ کل افغانستان ہندوستان پر چڑھ آیا ہے۔ ہاتھی۔ اونٹ۔ گھوڑے اور\nسپاہیون کے چلنے سے جو خاک اڑتی تھی وہ اونکی تعداد کو کئی حصے بڑھاتی ہوئی\nمعلوم ہوتی تھی۔ اسی شان سے جمرود پہونچے یہان مہمانون نے دوپہر کا کھانا تناول\nفرمایا۔\nیہان وایسرے کا ٹیلیگرام ملا جسکا مضمون یہ تھا۔ مین یہ سنکر خوش ہوا ہون\nکہ یور مجسٹی سرحد کو عبور کر آئے ہندوستان مین قدم رنجہ فرمانے پر مین آپکو دل سے\nخوش آمدید کہتا ہوں۔ منٹو۔\nاعلیحضرت نے یہ جواب دیا۔ عالیشان برٹش گورنمنٹ کی سرحد کو گزر کر مین انگریزی\nعلاقہ مین داخل ہو گیا ہون سرحدی افسران نے اپنے فرایض نہایت عمدگی سے\nادا کئے یور ایکسلنسی کی مبارکباد کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہون۔ سراج الملتہ والدین\nمیجر مرے جنکے سپرد نارتھ ویسٹرن ریلوے پر مہمانون کے سفر کا انتظام\nتھا۔ انہون نے چار اسپیشل ٹرین تیار رکھی تھین۔ ایک امیر صاحب کے واسطے"}
{"book": "adl0234", "page": 44, "text": "۳۵\n\nایک مصاحبون اور با وقار افسروں کے لئے ایک عہدہ داران فوجی و ہمراہیون\nکے واسطے۔ اور ایک سپاہیون کے لئے۔ مگر امیر صاحب نے حکم دیاکہ اونکے سوار\nو تمام اسباب باربرداری کے نگران اور سو لجر اپنا بقیہ سفر سٹرک کے راستہ سے ختم کرین\nلہذا دو اشپیشل ٹرین کافی ہوگئیں۔\nاعلیحضرت کو یہ پہلا موقعہ ریل کے سفر کا تھا۔ ٹرین وقت سے آدھ گھنٹہ بعد\nچلی روانگی مین جو توقف ہوا اوسکا بدل یہ کیا کہ بجاے چالیس منٹ کے بتیس منٹ\nمین جمرود سے پشاور تک راستہ ختم کیا گیا۔ اس سے طبیعت پر کچھ گرانی ہوئی مگر\nآپ کے مضبوط دل نے اس قابل بنا دیا کہ کوئی کمزوری کا احساس نکرسکے تمام رسومات\nاپنی آمد کے متعلق پوری کین اور آپ فرودگاہ مین بخیر و خوبی رونق افروز ہوئے۔\nاسٹیشن پر ٹرین پہونچنے سے پہلے سرحدی صوبہ کے تمام افسر فل ڈریں\nمین اپنے باوقار مہمان کو خوش آمدید کہنے اور رسم استقبال بجالانے کے لئے\nحاضر تھے مشکل سے ٹرین رکی تھی کہ امیر کا ملٹیری اسٹاف باہر کود پڑا اونکے فوجی افسر جو\nکالی یونیفارم پہنے اور سنہری پیٹیان دسونے کی زنجیرین سینہ پر لگائے تھے اور سول\nسرداران افغانی فراک کوٹ دسفید کالر زیب کئے ہوئے مشکل سے یوروپین\nمین سے تمیز کئے جاتے اگر اونکا گندمی چہرہ اور گول ٹوپیان ہوتیں۔ اس کے بعد\nسر ہنری میکوہین معہ اپنے اسٹاف کے سنہری پولیٹکل یونیفارم پہنے ہوئے اترے\nہز مجسٹی امیر کو اترنے مین انھوں نے مد ددی۔ ہز مجسٹی کے سامنے سر ہر لڈ ڈین\nچیف کمشنر سرحدی صوبہ کو پیش کیا۔ جنہوں نے نہایت جوش و خروش دلی سے\nپشتو مین عرض کیا کہ مین یور مجسٹی کو اپنے صوبہ کے دارالحکومت کے رونق افروز\nہونے پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ جسکے جواب مین امیر صاحب نے ارشاد کیا کہ مین پشاور\nآنے اور اپنے دوستون مین ہونے سے بیحد خوش ہوں۔"}
{"book": "adl0234", "page": 45, "text": "۳۶\n\nچیف کمشنر کے اسٹاف کے لوگ پیش کئے گئے اور ہر ایک سے امیر صاحب نے\nبے تکلفی سے ہاتھ ملایا مسٹر گرانٹ سیکرٹری چیف کمشنر کو آپ نے فوراً پہچان لیا\nکیونکہ وہ ڈین مشن کے ہمراہ کابل گئے تھے۔\nسر ایڈورڈ بیرو کمانڈنگ افیسر پشاور پیش ہوئے جنہوں نے اپنے اسٹاف\nکو پیش کیا۔ ہر ایک سے ہز مجسٹی امیر نے ہاتھ ملایا سب کے بعد گارڈ آف آنر کا\nملاحظہ فرمایا۔ اور سر ایڈورڈ بیرو سے فرمایا کہ اس عمدہ رسالہ کے دیکھنے سے\nجو میری پیشوائی کے لئے حاضر ہوا ہے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اب تو ہیں سلامی\nکی چلنا شروع ہوئیں اور بڑی شان و شوکت سے ہزارہا آدمیوں کے درمیان\nہوتے ہوئے شاہی مہمان خانہ میں پہنچے۔ تھوڑی دیر کے بعد مسٹر گرانٹ سیکرٹری\nگورنمنٹ۔ ہز مجسٹی کی مزاج پرسی و چیف کمشنر کی جانب سے بطریق حسن خوش\nآمدید کہنے اور اکیس ہزار روپیہ گیارہ کشتیوں میں ہمراہ لیکر حاضر ہوئے جو ضیافت\nو نذر کے طور پر پیش کیا گیا جسکو اعلیحضرت نے قبول فرمایا بعدہٗ لفٹنٹ جنرل\nکمانڈر پشاور ڈویژن شرفیاب ہوئے پھر آرام فرمایا ۴ جنوری ۱۹۰۷ء مسٹر\nگرانٹ نے حاضر ہو کر چیف کمشنر کیطرف سے عرض کیا کہ مجھے امید ہے کہ سفر\nیور مجسٹی نے آرام سے طے فرمایا ہوگا۔ جواب میں ارشاد کیا کہ میرا سفر دشوار تھا\nخدا نے کچھ اسی میں بہتری سمجھی ہے کہ ہمارے دونوں ملکوں کو بہت رکاوٹوں کے\nساتھ ملایا ہے۔ بہر حال جو کچھ کہ انسانی قوتیں سفر کو آرام دہ بنانے میں\nصرف کی جا سکتی تھیں وہ سب کیگئیں۔\nہز مجسٹی امیر کی بات چیت کا طریقہ میزبانوں کے ساتھ سادہ اور بے تصنع ہوتا ہے\nوہ اخلاق برتتے ہیں مصنوعی باتوں سے پرہیز فرماتے ہیں مسٹر گرانٹ نے عرض\nکیا کہ مجھے امید ہے کہ اعلیحضرت شاہی مہمان خانہ میں راحت سے بسر فرمائینگے"}
{"book": "adl0234", "page": 46, "text": "۳۷\nاور اگر کسی بات کی کمی اون شاہی آسایشون مین ہو جاے جنکے یورپ ٹی عادی\nہین تو امید ہے کہ اعلیحضرت باین خیال کہ پشاور سلطنت ہند کا بیرونی سرحدی حصہ\nہے اور دشوار گزار سرحدی کو نہ پر واقع ہے معاف فرمائینگے ۔ ہماری مقامی\nکوششون کا جہانتک امکان تھا ہمنے اوسمین کوئی دقیقہ اُٹھا نہین رکھا ۔\nاعلیحضرت امیر نے نہایت خندہ جبینی و مسرت سے فرمایا کہ مین بالکل آرام\nو اطمینان سے ہون یہ گفتگو فارسی مین شروع ہوئی ۔ پشتو مین جاری رہی ۔ انگریزی\nمین ختم ہوئی۔ مسٹر گرانٹ نے ہز مجسٹی امیر کی انگریزی کی تعریف کی اسپر ہز مجسٹی\nامیر نے فرمایا کہ مین انگریزی اچھی نہین بولتا مینے اسکا کہبی باقاعدہ مطالعہ بہی\nنہین کیا ۔ مجھے بہت کم موقع انگریزی کی مشق کے پیش آئے ۔ پشاور کے اعلیٰ عہدہ\nداران سے عمدہ اخلاق کے ساتھ باتین کین مگر اوسے کے ساتھ متانت کا پہلو\nقائم رکھا انہون نے ہر طریقہ سے اس بات کا یقین دلا دیا کہ شاہانہ ۔ تہذیب سخن\nفہمی اور دانشمندی اونمین اعلیٰ پایہ کی ہے۔\nآج جمعہ کا دن ہے اعلیحضرت شاہی تزک و احتشام سے جامع مسجد روانہ ہوئے\nاہل پشاور نے تمام کاروبار بند کر دے تھے جسکو جہان جگہ ملتی تھی مشتاقانہ منتظر\nکھڑا ہوا تھا ۔ پشاور یون نے اظہار عقیدت مین کوئی امر فرو گذاشت نہین کیا۔\nخوش آمدید کے نعرون سے ہو امین گونج پیدا ہو گئی تھی ہر ایک نے اپنے\nجذبات کا اظہار پورے طور پر کیا ۔ اعلیحضرت برابر دہنے ہاتھ سے سلام لیتے\nجاتے تھے اور جب تک مسجد مین نہ پہونچے اس ہاتھ نے آرام نہ پایا ۔ خود\nامام نے اور دس ہزار روپیہ مرمت مسجد کے لئے عطا فرمایا ۔ سنا کہ میان کریم بخش\nسے جنکا شمار پشاور کے بڑے دولتمندون مین ہے اور مہمانداری کے انتظام مین تھے\nناخوشی کے لہجہ مین فرمایا کہ جہان مسلمانون کی تعداد ہندؤن سے بدرجہا زیادہ ہو"}
{"book": "adl0234", "page": 47, "text": "۳۸\nاور مسلمان صاحب ثروت و متمول بھی ہوں اور ہم مسجد کی یہ حالت دیکھیں بڑے\nشرم کی بات ہے اس ناخوشی کی نسبت فقیر صاحب دانے اغزا نے شہرت دی\nکہ یہ احر انہیں کی تحریک معنوی کا نتیجہ تھا۔ خدا جانے اصلیت کیا تھی مگر اسمیں شک\nنہیں کہ اسکے بعد سے میان کریم بخش کے مزاج میں صلاحیت آگئی اور فقیر صاحب\nکی پشاور میں دھاک بندھ گئی۔\nپہر کے وقت ہر میسٹی امیر نے پولو کا ملاحظہ فرمایا۔ مجسٹی نے یورپین\nحکام سے اسکے متعلق اظہار پسندیدگی کیا گفتگو حکام سے ہوتے ہوتے کلام\nکا سلسلہ یورپین لیڈیوں تک پہونچا۔ ان سے بہت اخلاق و تہذیب سے\nباتیں کیں۔ سرداران افغانی نے بھی اپنے بادشاہ کی خوشدلی کی تقلید کی۔ دکن\nریویو نمبر ۲ شنماء میں تحریر ہے کہ پولو کا کھیل ایران سے نکلا ہے سن عیسوی سے\nکئی سو برس پہلے اسکے رواج کا پتہ لگتا ہے ۔ پولو کے قدیم ایران میں رائج ہونے\nپر ایک نہایت عمدہ مضمون شمس العلما دستور رتن پشتو بن سنجانا نے لکھا ہے۔\nآج شب کو چیف کمشنر نے گورنمنٹ ہوس میں ایک مکلف ڈنر دیا ۔ مہمان وقت\nمقررہ پر پہونچے ۔ سر ہیرلڈ ڈین مراسم استقبال بجا لا کے ملاقات کے کمرے میں\nلائے۔ دیگر مہمان پہلے جمع ہو چکے تھے بآواز بلند کہا گیا کہ حضرات ہرمجسٹی امیر\nافغانستان تشریف لائے یہ سنکر سب نے مراسم اداب ادا کئے۔ اسکے بعد سرڈین\nہر مجسٹی امیر کو اور مسٹر گرانٹ سرداران افغانی کو اپنے ساتھ کھانے کی میز پر لے گئے\nیورپین لیڈیاں پس پردہ یہ کیفیت دیکھ رہی تھیں۔ کھانا مغربی طریقہ پر تھا۔ امیر صاحب\nنے اس بے تکلفی سے کھایا کہ گویا وہ اسکے عادی ہیں۔ یورپین تہذیب کے موافق\nدوران کھانے میں ہر مجسٹی ۔ سر ہیرلڈ ڈین و سر ہنری مکمہون سے گفتگو کرتے جاتے\nتھے۔ بعد فراغت مذاق ہوتا رہا۔ پھر سر ہیرلڈ ڈین اٹھے اول قیصر کا جام صحت"}
{"book": "adl0234", "page": 48, "text": "۳۹\n\nاوسکے بعد نہایت خوشی وفخر سے ہرمجسٹی امیر افغانستان کا جام صحت تجویز کر کے\nبیان کیا کہ مین اس صوبہ مین وایسرایے کے نائب ہونے کی حیثیت سے ہرمجسٹی\nکو خوش آمدید کہتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ہندوستان مین اُنکی سیاحت ہر طرح سے\nاونکے لئے مبارک ہو پھر ہرمجسٹی امیر اوٹھے اور فارسی میں فرمایا ۔ سر ہرلڈیڈین مین\nآپکے لطف آمیز خیالات کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور حضرات آپ کے جام صحت نوش\nکرنے پر مین آپ صاحون کا مشکور ہوں ۔ آپ صاحبون کو انگریزی مین مخاطب\nنہ کر سکنے کا مجھے افسوس ہے۔ مگر مجھے امید ہے کہ جو مین فارسی مین کہد رہا ہوں اوسے\nآپ لوگ سمجھتے ہین مین اپنے دوست وایسرایے کی دعوت پر سیاحت سے\nبہت خوش ہوں ۔ مجھے ہندوستان مین قدم رکھتے ہی معلوم ہو گیا کہ مین اپنے دوستون\nمین ہوں ۔ مجھے اس ملک سے بے انتہا دلچسپی ہے میں اس دورہ دراز سیاحت کا\nاندازہ مسرت سے کرتا ہوں جسکی ابتدا پشاور مین اس خوبی سے شروع ہوئی ہے\nاس شاہانہ خیالات کے اظہار پر بیشمار چہر ز دئے گئے۔ سر ہنری میکموہن نے ہرمجسٹی\nامیر کی تقریر کا ترجمہ انگریزی مین سنایا ۔ پھر سب حاضرین ملاقاتی کمرے مین\nآئے سگار وسگرٹ کا شغل ہوا ۔ ہرمجسٹی امیر و سرداران افغانی ۔ انگریزی مہمانون سے\nبے تکلفانہ و مجتبانہ خوش گپیان کرتے رہے ادہی رات تک یہ صحبت رہی۔\nہ جنوری ۶۱۹۰۶ ۔ آج ہرمجسٹی امیر نے چھاونی کی سیر فرمائی پشاور کی چھاونی ہندوستان\nمین بہت بڑی اور بے انتہا نفیس ہے ۔ دوران سیر چھاونی مین امیر کی گاڑی\nایک جگہ دفعتہ رُکی ب ہنری میکموہن سے دریافت کیا کہ یہ کیا جگہ ہے اُنہون\nنے عرض کیا کہ یہ بلیک واچ پلٹن کی لین ہے ۔ امیر صاحب نے فرمایا کہ کیا مین اندر\nجاسکتا ہوں۔ عرض کیا کہ بالکل اعتراض نہیں ۔ لیکن ہرمجسٹی کے استقبال کے\nلیئے کوئی تیاری نہیں ۔ ہرمجسٹی نے فرمایا کہ مین کسی قسم کی تیاری نہیں چاہتا ۔ صرف"}
{"book": "adl0234", "page": 49, "text": "اس مقام کو دیکھنا چاہتا ہوں جس حالت میں کہ یہ ہمیشہ رہتا ہے ۔ اپنے لین کا اچھی\nطرح ملاحظہ کیا اور عصر کی نماز وہین ادا فرمائی نماز کے بعد آپنے ایک سپاہی کو دیکھا\nکہ جو چوگان ہاتھ مین لئے جارہا تھا ۔ چوگان بازی کی کیفیت دریافت کی جو سمجائی\nگئی ۔ اتنے میں ایک سارجنٹ کی بیوی نظر آئی امیر صاحب نے پوچھا کہ\nیہ کون ہے اسکا جواب ذرا تامل سے دیا گیا وہ عورت نہایت خوبصورت تھی\nتاہم ہز مجسٹی امیر کے حضور میں آنے کے لئے لباس سے آراستہ نہ تھی آپنے\nاوس سے چند باتین کین لیڈی نے اپنے جنس کی عادت و تہذیب کے موافق\nبہت خوش اسلوبی سے گفتگو کی ۔\nجنوری ۱۹۰۷عہ ۔ آج تین بجے شام کے انجمن حمایت اسلام لاہور کا ڈیپوٹیشن\nامیر کے حضور میں پیش ہوا یہ خیر مقدم کا ڈیپوٹیشن تھا ۔ امیر نے ہاتھ اٹھا کر دعا\nمانگی کہ افغانستان کے لڑکے بھی اسی دارالعلوم کیطرح اعلیٰ تعلیم حاصل کرین\nاور انجمن اپنے مقاصد مین کامیاب ہو ۔\nجنوری ۱۹۰۷عہ صبح کی چار کے بعد ہز مجسٹی پشاور سے روانہ ہوئے ۔ گیارہ\nبجے دن کے نوشہرہ پہونچے جو اس زمانہ میں ایک مہتم بالشان ترقی پذیر چھاونی ہے\nجیسے ہی ٹرین نوشہرہ اسٹیشن کے باہر استادہ ہوئی اعلیحضرت نے ایک پورے\nبریگیڈیئر کو حاضر پایا ۔ اوتر کر اوسکا معائنہ فرمایا ۔ شاہی سلامی سر ہوتے اور فوج کی\nبے عیب نقل و حرکت دیکھکر نہایت خوش ہوئے جنرل ولاگس کو طلب فرما کر\nسپاہیوں کی مستعدی ۔ سرگرمی پر مبارکباد دی ۔\nدوسری مرتبہ ٹرین اٹک پر ٹہیری ۔ ٹرین سے نکل کر ہز مجسٹی امیر تیز قدمی\nسے پل کی طرف روانہ ہوئے ۔ پل کی محراب سے گزر کر اوس آہنی شہتیر کے\nآخری سرے پر جا کھڑے ہوئے جو بشکل تین نیٹ چوڑا ہے ۔ اور کسی قسم کا"}
{"book": "adl0234", "page": 50, "text": "۴۱\n\nجگہ نہین نکوئی اور صورت حفاظت ہے مزید برآن اوسکا آہنی زیرین حصہ\nسنجون و قابلون سے بٹا ہوا سطح دریا سے سو فیٹ سے بھی زیادہ بلندی پر واقع\nہے۔ اوسوقت یورپین وافغان رفقا کی حیرت واضطراب کی کوئی انتہا\nنہ رہی لیکن کوئی تنفس مداخلت کی جرات نہ کر سکتا تھا۔ پھر وہ جگہ چھوڑ کر اگلی\nمحراب کے آہنی شہتیر پر روانہ ہوئے جس خطرناک حالت میں ہز مجسٹی امیر\nاستادہ تھے اسے تبدیل کئے بغیر سر ہنری میکموہن سے گفتگو میں مصروف\nہو گئے۔ اور اسکے بعد ہی بخیر و عافیت گاڈی میں تشریف لے آئے۔\nتیسری مرتبہ ہز مجسٹی کی اسپیشل ٹرین سہ پہر کو راولپنڈی میں ٹھہری کمانڈنگ\nراولپنڈی ڈویزن اور اونکے اسٹاف نے استقبال کیا۔ باقاعدہ ریویو کے ساتھ\nسپاہ نے مارچ پاسٹ کیا جسکو امیر نے نہایت شوق سے ملاحظہ فرمایا۔ توپخانہ\nدیکھا۔ پھر چاء آئی ہز مجسٹی نے سپاہ راولپنڈی کی معمول سے زیادہ تعریف کی۔\nچوتھی مرتبہ مندرا کے اسٹیشن پر ٹرین رکی اور مغرب کی نماز ادا کی یہان اعلیحضرت\nامیر کی خواہش پر تماشائیوں میں سے کچھ غریب مسلمان بھی جماعت نماز میں شامل\nہوئے۔\n۸ جنوری ۱۹۰۷ء سر ہند سے ایکسو میل کے فاصلہ پر علی الصباح کھڑکی سے\nامیر نے دیکھا تو آسمان کو ابر آلود اور زمین کو بارش سے تر پایا اسوقت خفیف ترشح ہو رہا\nتھا۔ جب ٹرین سر ہند کے اسٹیشن پر پہونچی تو آفتاب نکل آیا تھا ریاست پٹیالہ\nکیطرف سے ہز مجسٹی کی مہمانداری کے لیے شاہانہ اہتمام کیا گیا تھا۔ اس جگہ\nتشریف آوری کی وجہ مزار حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانیؒ پر فاتحہ خوانی تھی۔ اعلیحضرت\nکو یہان صدف بارہ گھنٹے قیام فرمانا تھا ہندوریاست نے مسلمان بادشاہ کی\nخاطر و مدارات میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا ہز مجسٹی امیر نے بھی اسپر اظہار مسرت\nکیا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 51, "text": "۴۴\n\nفرمایا اہلکاران مین ایک صاحب ساکن دہلی تھے جسے اعلیحضرت نے اپنے\nاوس خیال کا اظہار فرمایا جو نسبت قربانی کے موقع عیدالضحیٰ پر پہلے سے\nقائم کرلیا تھا امیر چند گھنٹون کی استراحت کے بعد باہر تشریف لائے تو موٹور یلوے کا\nمعائنہ غور سے کیا جسکی لین تختہ شرک کی کچی پڑی پر نکالی گئی تھی۔ ٹرین مین پیٹالہ فوجی\nبار برداری کے خچر جتے ہوئے تھے۔ ان مین ایک نہایت شاندار موٹو گاڑی تھی\nجو ریاست نے اسی موقع کے لئے تیار کرائی تھی جسمین تو بچانے کے گھوڑے\nجتے ہوئے تھے تاکہ ہر محبتی اسپر سوار ہوکر زیارتگاہ تک دو میل کا فاصلہ طے فرمائیں\nلیکن اعلیحضرت نے لینڈو مین مقبرہ تک جانا پسند فرمایا۔ ساڑھے چار بجے سوار\nہوئے اور قریب پانچ معہ اپنے سرداران و نیز منتظم مہمانداری کے مقبرہ پر پہونچے\nاعلیحضرت داخل حجرہ ہوکر قریب پونے دو گھنٹہ کے اندر رہے پونے سات بجے\nبرآمد ہوئے متولی سے بہت سی باتین کین اور ایکہزار روپیہ عنایت فرمایا۔\nہز محبٹی نے چھوٹی سی فارسی کتاب میں جسکی جلد مطلا تھی مندرجہ ذیل عبارت\nپڑھی۔ واضح ہو کہ اس قبر من فانی میر شیخ احمد ؒ کی لاش مدفون ہے۔ شیخ احمدؒ موصوف\nخلیفہ ثانی حضرت عمرؓ کی اولاد سے تھے اور مجدد الف ثانی کے لقب سے مشہور\nتھے۔ شیخ ممدوح کے آبا واجداد ترک وطن کر کے عرب سے ترکستان آئے ان کے\nدادا امام محمد ؒ خاندان مین پہلے شخص تھے جو سرہند مین قیام رکھکر یہین مدفون ہوئے\nشیخ احمد ؒ غالباً ۹۷۱ ہجری عہد اکبری مین پیدا ہوئے۔ انکی شہرت دہلی تک\nپہونچی امرا و اراکین ارادتمندانہ حاضر ہونے لگے لیکن جب اُنہون نے اکبر کے\nخلاف فتویٰ دیا تو بادشاہ معہ اعیان سلطنت کے ان سے پھر گیا اور اہانت\nکی گئی۔ عہد جہانگیری مین غیر ہر دلعزیزی کا یہ نتیجہ ہوا کہ شاہی قیدی کی حیثیت\nسے چھہ ماہ تک قلعہ گوالیار مین محبوس رہے اور پھر کچھ عرصہ تک بادشاہ نے"}
{"book": "adl0234", "page": 52, "text": "۴۳\nساتھ رکھکر بعدہ خلعت دیگر رخصت کیا۔ اس واقعہ کو جہانگیر نے اپنی تزک میں تحریر\nکیا ہے۔ تریسٹھ سال کی عمر مین اس جہان فانی سے رحلت فرمائی۔ اورنگ زیب\nکے بڑے شہزادہ شاہ عالم کی صاحبزادی نے مقبرہ بنوایا۔ اور ہر طرح کے سامان\nسے اراستہ کیا۔ ۱۱۲۸ ہجری بین بند اسکھ نے اس مقبرہ کو لوٹا پھر ۱۱۲۹ ہجری مین\nتاراج ہوا۔ اب ایک معمولی حالت مین ہے۔ متصل مقبرہ کے پرانا قلعہ و گوردوارہ\nہے اس قلعہ مین گورو گوبند سنگھ کے دولڑکے فوت ہوئے تھے اعلیحضرت نے\nگوردوارہ کو دو سو روپیہ عنایت کئے اور فرمایا کہ ما بدولت کابل کے گورو واره\nکا بھی خاص خیال رکھتے ہین۔\nبعدہ فرودگاہ پر آکر نماز مغرب ادا کی۔ ۱۰ بجے شب کو اسپیشل ٹرین پر سوار ہوئے\nاہلکاران و کارپردازان ریاست جو پلیٹ فارم پر حاضر تھے اونکا سلام بخندہ جبینی\nقبول فرمایا اور داخل سیلون ہوئے۔\n۹ جنوری ۱۹۰۷ء صبح سات بجے ٹرین جلیسروڈ پر پہونچی یہان صبح کی\nچار تہی۔ خفیف خفیف ترشع ہو رہا تھا۔ اسوجہ سے خود بدولت باہر نہ برآمد ہوئے\nمگر سرداران افغانی و برٹش افسران مین اکثر اوترے او نہون نے انتظامی خوبی پر\nاظہار مسرت کیا۔ قریب ۹ بجے دن کے ٹرین آگرہ جنکشن پر رکی جہان ہز مجسٹی و\nمہمانون و افسران ہمراہی نے تبدیل لباس کیا اور وقت سے ایک گھنٹہ بعد ٹرین\nآگرہ فورٹ پر پہونچ گئی ریلوے اسٹیشن پر۔ سرجے پی ہیوٹ لفٹنٹ گورنر ممالک\nمتحدہ استقبال کے لئے معہ اپنے اسٹاف و ہفت دہم نیزہ داران کے اسکورٹ\nو سر جان اسٹینلی چیف جسٹس سر الفر گیسلی لفٹنٹ جنرل کمانڈنگ معہ\nاسٹاف و دیگر معزز برٹش افسران ویورپین لیڈیز و جنٹلمین و نیز چند ہندوستانی\nعماید حاضر تھے۔ ریلوے اسٹیشن جھنڈیون و پہولون سے خوب آراستہ تھا"}
{"book": "adl0234", "page": 53, "text": "۴۴\n\nرائل بريگيڈ رکا گارڈ آف آنر پلیٹ فارم پر سلامی کے لیے موجود تھا۔ اول مرتبہ\nٹرین سے برٹش افسران ہمراہی اوسکے بعد سرداران افغانی اوترے بعدہ خود بدولت\nہزمیجسٹی امیر افغانستان فوجی لباس مین برآمد ہوئے۔ سر جان ہیوٹ نے\nممالک متحدہ مین رونق افروز ہونے پر خیر مقدم کیا۔ آپنے ہاتھ ملا کر خیر مقدم\nپر اظہار مسرت فرمایا۔ لفٹنٹ گورنر نے اول الفریڈ گیلی اور پھر یکے بادگیرے\nافسران کو پیش کیا۔ پیش شدہ افسران کی نسبت آپنے متعدد سوالات کئے\nاور ہر ایک سے ہاتھ ملایا۔ بعدہ گارڈ آف آنر کا معائنہ فرمایا۔ موسیقی نواز دستے\nنے افغانی فوجی ترانہ بجایا۔ اور شاہی سلامی دی اسکے ساتھ ہی اسٹیشن کے\nمراسم کا خاتمہ ہوا۔\nاس کے باہر شاہی گاڈیاں قطار باند ہے تیار کھڑی تھیں۔ تما شائیون کے\nعلاوہ سپاہ بھی تھی جو پانچ ہزار گز کی مسافت مین دو رویہ استادہ تھی۔ ہزمیجسٹی امیر\nکا موسیقی نواز دستہ سواران بھی حاضر تھا جس نے دروازہ اسٹیشن پر پہونچتے ہی\nقومی ترانہ بجایا۔ اسکے عقب مین افغانی رسالہ باڈی گارڈ تھا۔ اژدہاما\nہوا تھا۔ نزول رحمت باری ہورہا تھا۔ ترشح نے کچھ چپچینی پیدا کر رکھی تھی با وصف\nاسکے سپاہ کے پیچھے تما شائیون کا اثر و ہام جلوس مین حد درجہ کی دلچسپی لے رہا تھا۔\nہزار ہا آدمی دونون جانب کھلے مقامات پر استادہ کمرون کی چھتون اور کھڑکیون\nسے نگران تھے اہل آگرہ نے بڑے تپاک سے خیر مقدم کیا ریلوے اسٹیشن\nسے پریڈ تک دورویہ آدمی اشتیاق زیارت مین ہمہ تن چشم ہور ہے تھے\nجہان او جو موقع جسکو ملا تھا۔ اس منظر کا لطف اٹھا رہا تھا۔ جلوس آہستہ\nآہستہ روان تھا ہر سمت سے نعرہ تحسین و آفرین بلند ہوتے تھے۔ جسکو\nہزمیجسٹی مسرت سے قبول فرماتے جاتے تھے۔ اہل ہنود آگرہ نے اپنے"}
{"book": "adl0234", "page": 54, "text": "۴۵\n\nخلوص عقیدت کے اظہارمین پھول برسائے ہرجگہ آداب وتسلیمات بجا لائے\nبہت دیر جو بارش مین زیادتی ہوتی گئی جسکی وجہ سے مہمانون میزبانوں و تما شائیون\nمین بے لطفی ہونیچلی۔ ہر مجسٹی نے ہزآنر لفٹنٹ گورنر سے مخاطب ہوکر فرمایا\nکہ کابل میں بارش عمدہ شگون ہے۔ عرض کیا گیا کہ اجازت ہو تو گاڑی کا ٹپ چڑھا\nدیا جاوے یا حضور اور کوٹ زیب جسم مبارک فرمائین۔ فرمایا کہ شیوہ مردانگی\nو مروت کے خلاف ہے کہ سپاہ بھیگے اور مین آسایش چاہوں ۔ ہجوم تما شائیان\nجو محض میرے اشتیاق میں تکلیف اٹھا رہا ہے اوسکا خیال بھی مجھے ضرور\nچاہیے۔ آپکی سپاہیانہ طبیعت نے موسم کی مطلق پروا نکی ۔ تمام راستہ نظاروں\nکی دلچسپی لیتے رہے ۔ کیمپ پہونچنے پر برٹش گارڈ آف آنر نے سلامی دی اکیس\nتوپوں کی سلامی بھی سر ہوئی ۔ سرلوئی ڈین معہ ممبران وایسریگل اسٹاف کے انتظار\nکررہے تھے۔ جنے امیر نے نہایت تپاک سے ملاقات فرمائی اور دوستانہ اخلاق\nکا اظہار کیا ۔ اکیس ہزار روپیہ بطور ضیافت حضور میں ہز مجسٹی کے پیش کیا گیا۔ ہر مجسٹی\nنے ہراکسیلنسی وایسرائے کو خوبی انتظامات کے بارہ میں تحریری اظہار مسرت\nکیا۔ جب سر الفریڈ گسلی رخصت ہونے لگے تو آپ نے فرمایا کہ مین خود سپاہی\nہوں تحسین اور سپاہ کو جو تکلیف ہوئی اوسکی نہایت قدر کرتا ہوں اور او سکے\nرویہ کی تعریف کرتا ہوں ۔ ہز مجسٹی اون خیموں میں رونق افروز ہوئے جو آپ کے\nواسطے ہر قسم کی زیب وزینت سے اراستہ کئے گئے تھے۔ کیمپ کی خوبی و\nخوشنمائی قابل دید و ہر طرح لایق تعریف تھی ۔ بعدہ حکام انگریزی رخصت ہوئے\nسر الفریڈ گسلی نے کمانڈ اڈر خاص طور پر شایع کیا ۔ \" ہز مجسٹی امیر نے\nجنرل کمانڈنگ ایسٹرن کمانڈ کو ہدایت کی ہے کہ پریڈ پر ظاہر کرین کہ ہز مجسٹی\nکے آمد کے اعزاز میں افسوس ہے کہ سپاہ بارش سے بھیگی۔ ہز مجسٹی سپاہیانہ"}
{"book": "adl0234", "page": 55, "text": "۴۶\nطریقہ کی قدر دانی مین یہ ظاہر فرمانا چاہتے ہین ۔ چونکہ سپاہ اور کوٹ پہنے ہوئے\nنہ تھی اسلئے ہر مجسٹی نے بھی بارش مین اور کوٹ نہ پہنا ۴ مارچ کی تاریخ کے واقعات\nمین روشنی کا واقعہ قابل تذکرہ ہے۔ روشنی کے لئے کیمپ مین بجلی کا انجن\nقایم ہوا تھا۔ بوجہ بارش ونیز نئے ہونے کے سبب سے یکایک خراب\nہو کر تمام کیمپ مین اندھیرا ہو گیا ہز مجسٹی نے منتظمان مین سے مرزا منظور علیخان\nکو طلب فرما کر روشنی کے گل ہونے کی کیفیت دریافت فرمائی ۔ جو اصلی\nواقعہ تھا وہ عرض کیا گیا اور لیمپ وغیرہ کافی الفور انتظام ہوا تھوڑی دیر\nمین انجن درست ہو گیا اور برقی روشنی بھی ہو گئی ۔ اسپر طرح طرح کی افواہین\nاور لغو شهرتین شہر مین پھیلین جو بالکل بے اصل تھین ۔ بعض اخبارون نے\nبھی غلط افواہ کا اتباع کیا ۔\n۱۰ جنوری ۱۹۰۷ء ہر مجسٹی نے آج ہر اکسلنسی وایسرای سے ملاقات\nفرمائی گو آپنے مشرقی فرمانرواؤن کی طرح تکلفات سے کام نہین لیا محض\nسپاہیانہ لباس مین تشریف لائے ۔ مگر جلوس کی شان و شوکت شاہانہ تھی\nہز اکسلنسی وایسرای نے عین وقت پر سر لوی ڈین فارن سیکرٹری کے ہمراہی\nمین چند ممبران و اسکورٹ رسالہ کو ہز مجسٹی امیر کے حضور مین پیشوائی\nکے لئے بھیجا ۔ خیمہ کے دروازہ پر افغان سرداران نے نہایت متانت\nوسنجیدگی سے ان سے ملاقات کی اور باقاعدہ ہر مجسٹی امیر کے حضور مین\nپیش کرنے کے لئے لے گئے۔ اوسکے بعد جلوس (پروسیشن) شروع ہوا ۔\nراستہ مین دونون کنارون پر جو لوگ استادہ تھے۔ ہز مجسٹی نہایت مسرت سے\nاونکا سلام لیتے ہوئے کیمپ وایسرای تک پہونچے۔ درباری خیمہ کے\nدروازہ پر لارڈ منٹو گورنر جنرل استادہ تھے جہنوں نے خلوص محبت سے مہمانِ"}
{"book": "adl0234", "page": 56, "text": "۴۷\n\nمحترم کا خیر مقدم کیا۔ اپنے ساتھ خیمہ میں لے گئے جو نہایت پر تکلف شاہانہ طور\nسے اراستہ تھا۔ ہزمیجسٹی امیر نے نعام دربار پر نگاہ ڈالی اور نہ کچھ\nخیمہ کی طرف توجہ فرمائی۔ ہز اکسلنسی سے باتین کرتے ہوئے اون مطلا\nکرسیون پر دونون حکمران جاکر جلوہ افروز ہوئے جو ان کے لئے مخصوص تھین\nبعد معمولی رسومات کے اعلیحضرت نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے سردارونگا\nآپ سے تعارف کراؤن۔ پھر باری باری افغانی سردارون کا تعارف کرایا\nگیا۔ بعدہ برٹش افسران میں سے ہر ایک آگے بڑھا اور ہزمیجسٹی کو سلام کیا۔\nاسکے بعد ترجمان کے ذریعہ سے گفتگو شروع ہوئی ایک سے دوسرے نے اپنے\nشوق و تمنا کا اظہار کیا سفر کی دلچسپی و انتظام کی خوبی کا تذکرہ مسرت\nو احسانمندی کے طریقہ سے ہوتا رہا۔ کلکتہ میں تشریف لانے پر وایسرائے نے\nبہت ہی خوشی کا اظہار کیا ۔ اس اثناء میں چاء آئی ۔ چاء نوشی کے درمیان\nمذاق و محبت کی باتین ہوتی رہین۔ وایسرائے نے بذریعہ ترجمان فرمایا\nکہ ہزمیجسٹی کے ہندوستان داخل ہونے کی خبر سنکر شہنشاہ بہت خوش ہوئے ہین۔\nاس اطلاع کا نہایت گرمجوشی سے ہزمیجسٹی امیر نے شکریہ ادا کیا۔ بعدہ ہزا کسلنسی\nنے نہایت متانت و تہذیب سے کہا کہ مین آج شام کو ہزمیجسٹی کے کیمپ مین\nبازدید کے لئے مشتاقانہ آؤں گا۔ جسپر ہزمیجسٹی نے فرمایا کہ آپکی تشریف آوری\nمیرے لئے مسرت کا باعث ہوگی۔ پھر ہزمیجسٹی امیر و وایسرائے اٹھے اور خیمہ\nتک ہز اکسلنسی نے آپکو پہونچایا۔ ہاتھ ملا کر رخصت ہوئے۔ روانگی کے\nوقت ۳۱ توپوں کی سلامی ہوئی ۔\nسہ پہر کی بازدید کے لئے وایسرائے کیمپ ہزمیجسٹی مین تشریف لے گئے\nاعلیحضرت نے بھی اپنے سرداران افغان کو وایسرائے کی خدمت میں پہلے سے"}
{"book": "adl0234", "page": 57, "text": "۴۸\nروانہ کیا تھا ۔ درخیمہ تک وایسراے کا حسب دستور مهمانی خود استقبال کیا ۔ وایسراے\nنے اپنے اسٹاف کو ہزمیجسٹی سے انٹروڈیوس کرایا ۔ پھر دوستانہ بات چیت کے\nبعد واپس ہوے ۔ شام کو وایسراے نے شاہانہ گارڈن پارٹی دی جسمین قریب\nایک ہزار مہمانوں کے مدعو تھے۔ حضور وایسراے نے ہز مجسٹی کا استقبال کیا۔\nلیڈی منٹو۔ لیڈی ایلیٹ کو انٹروڈیوس کرایا۔ وایسراے نے فرمایا کہ میرا کنبہ بہت\nبڑا ہے ۔ ہز مجسٹی امیر نے جواب دیا کہ وہ آدمی نہایت متبرک وخوش قسمت ہے\nجسکا کنبہ بڑا ہو۔ لیکن مسکرا کر کہا کہ نہ اس قدر جسکی تعداد بیسیوں تک پہونچتی ہو ۔\nاسکے بعد والیان ریاست سے تعارف کرایا گیا ۔ مگر آپنے انکی نسبت زیادہ\nدلچسپی نہیں لی۔ بعض بعض سے گفتگو کی اور انکے ملکی و تاریخی حالات بھی کچھ بیان\nفرماے ۔ تھوڑی دیر چہل قدمی کے بعد ہز مجسٹی ایک خاص مقام پر حضور وایسراے\nلیڈی منٹو و دیگر مہمانوں کے ساتھ بیٹھگئے اور سامان چاء وغیرہ حاضر\nکیا گیا۔ بڑے لطف سے یہ صحبت ختم ہوئی۔\n۱۱۔ جنوری کو وایسراے نے ہزمیجسٹی کی دعوت کی ۔ دعوت مین ہز مجسٹی کا جام صحت تجویز\nکرتے ہوئے وایسراے نے فرمایا ۔\n\" آج کی شب ہم ہمسایہ ملک کے لایق حکمران دوست کی رونق افروزی کا اعزاز کرین جسکا\nملک معظم نے ہندوستان مین تشریف لانے پر خیر مقدم کیا ہے۔ ہز مجسٹی ڈہندوستانمین دعوت\nقبول فرمائی۔ جب وہ افغانستان معاودت کر ینگے ۔ تو انہین یقین ہو جائیگا کہ ہند مین\nاُنہوں نے بہت سے دلی وخالص دوست پیدا کر لیے اور اپنی رعایا کی بہبودی کے لیے\nنیک خواہشین ساتھ لیجائینگے ۔ جوابمین ہز مجسٹی نے ارشاد کیا ” مین اپنے مکان سو اپنے دوست کے گہا یا\nمینے اپنا اور اپن گورنمنٹ کا خاص دوست پایا جوبرتاو میرو دوستوں کیا اس سوین بیحدخوش ہوں"}
{"book": "adl0234", "page": 58, "text": "۴۹\n\n۱۲- ۱۳- ۱۴- ۱۵ جنوری کو دوران قیام آگرہ مین لارڈ کچز سر ہیوٹ وغیرہ کی دعوتون\nمین شریک ہوئے۔ فوجی قواعد مصنوعی جنگ۔ و دوسرے کرتبون و روشنی و آتشبازی\nکو ملاحظہ فرماکر محظوظ ہوئے۔\nفوجی حالت سے دلچسپی لی۔ فوج کی تعریف کی۔ مشہور مقامات کی سیر فرمائی۔ جامع مسجد\nمین خود ہی جمعہ کو خطبہ پڑھا۔ اور امام بنے۔ ایڈریس لیا۔ فتحپور سیکری کے محلات\nدیکھے۔ حضرت شیخ سلیم چشتی کے مزار پر فاتحہ پڑھی۔\nغرضکہ آگرہ کے تفریحی جلسون سے بے حد مسرور ہوئے۔ اور خوشنودی\nظاہر کی۔\nیہان کے جلسون مین قابل ذکر عطای خطاب کا دربار ہے جو شب کے\nوقت قلعہ معلیٰ مین منعقد ہوا۔ اس موقع پر تمام حاضرین والیان ریاست و دیگر\nمعززین وعمائدین کا باوقار مجمع تھا۔ قلعہ مین دربار عام کے نام سے جو مقام موسوم ہی\nوہان یہ پر رونق و باعظمت جلسہ تھا۔\nحضور وایسراے گورنر جنرل بہادر ستارہ ہند گرینڈ ماسٹر کا لباس پہنے اور اعلیٰ تمغہ\nلگاے ہوئے رونق بخش اور ہر مجسٹی شاہ افغانستان شان شاہانہ سے جلوہ افروز تھے وایسرای\nہند نے یہ فرماکہ کہ مین قیصر ہند کیطرف سے اور انکے ارشاد کی تعمیل مین طبقہ باتھ کا نہایت\nمعزز تمغہ و خطاب پیش کرتا ہون اعلیٰحضرت نے اُسے تعظیم کے ساتھ قبول فرمایا اور کہا کہ تعظیم\nشہنشاہ کے لیے ہے۔\nفارن سکریٹری نے نئے نائٹ گرینڈ کراس کو نام اور پورے خطاب کا اسطرح اعلان کیا\nہز مجسٹی سراج الملۃ والدین امیر حبیب اللہ خان گرینڈ کراس آف دی موسٹ آنریبل آرڈر آف دی باتھ\nجی۔ سی۔ بی نائٹ گرینڈ کراس آف دی موسٹ ڈسنگوئشڈ آرڈر آف سینٹ میکائیل و سینٹ جارج\nجی۔ سی۔ ایم جی امیر افغانستان و ممالک ملحقات۔"}
{"book": "adl0234", "page": 59, "text": "۵۰\n\nغرضیکہ اپنی دیسپیون کو ختم کر کے آگرہ کا زمانہ جشن ختم ہوا اور ہر طرح سے یہان کا اہتمام\nاطمینان بخش رہا۔ یہان کے حُسن انتظام کے صلہ مین مسٹر بوٹر صاحب مجسٹریٹ و کلکٹر\nمتعینہ تا پیشر ڈیوٹی مسٹر بریلے سپرنٹنڈنٹ پولیس۔ سید حبیب اللہ جائنٹ مجسٹریٹ۔ مسٹر ٹومس اسسٹنٹ\nسپرنٹنڈنٹ پولیس ۔ اور مرزا منظور علیخان سیکرٹری انٹر ٹینمنٹ کمیٹی اپنے اپنے مرتبہ کے اعتبار و\nخدمات کے لحاظ سے مستحق تحسین و آفرین ہین۔\n۱۶۔ جنوری ۱۹۰۷ء آج صبح آگرہ سے اعلحضرت خلد اللہ ملکہ روانہ ہوئے۔ قریب گیارہ\nبجے کے رونق افروز علیگڈھ ہوئے ریلوے اسٹیشن پر صاحب کمشنر قسمت میرٹھ\nو صاحب کلکٹر علیگڈہ ۔ ممتاز الدولہ نواب فیاض علیخان پریسیڈنٹ ونواب محسن الملک\nبہادر سیکرٹری دستر آرچبولڈ پرنسپل کالج استقبال کو موجود تھے۔ اسٹیشن سے\nدروازہ کالج تک مصنوعی مگرون سے تمام راستہ آراستہ کیا گیا تھا۔ دونون جانب\nمخلوق منتظرانہ شوق دید مین بیٹھے ہوئے تھے۔ دروازہ کالج پر ٹرسٹیان کالج وکالج\nاسٹاف نے مراسم استقبال ادا کئے۔ نواب محسن الملک نے ہر ایک کا تعارف\nکرایا۔ اعلیحضرت نے ٹرسٹیون سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ ہم کالج کے اخبارات بُرے\nبھلے سنتے رہے ہین۔ اچھی خبرین ہمین کم ملی ہین۔ مگر شنیدہ دروغ دیده راست\nپر ہمارا عمل ہے اسی غرض سے ما بدولت یھان آئے ہین۔\nاستقبالیہ کمیٹی مین ایک بزرگوار شیعہ تھے جن سے اعلیحضرت نے سوال کیا\nکہ آپ کی راے مین ہنود بہتر من یا سنی المذہب مسلمان وہ ہنوز خاموش تھے\nاور کچھ جواب نہین دینے پائے تھے کہ فرمایا مین متعصب نہین ہون لیکن\nجانشینان رسول پر جو کوئی طعن کرتا ہے مین اسے اچھا نہین جانتا۔ اگر یہ بات\nداخل تعصب ہے تو مین بلا شبہ متعصب ہون۔ مین نے دل آزاری ہنود کے\nخیال سے موقع عید الضحیٰ پر دہلی مین بجاے قربانی گائے کے بکرون کی قربانی کو"}
{"book": "adl0234", "page": 60, "text": "۵۱\n\nپسند کیا ہے۔ اپ کیا اس کو نازیبا نہ سمجھیں گے کہ جانشین رسول کو پیراکسکر\nاپنے بھائی مسلمانوں کے بڑے گروہ کی دل آزاری کو جایز رکھا جایے۔ یہ فرماکر آگے\nبڑھے۔ دروازہ سے اسٹریچی ہال تک دورویہ طلباء صفین باندھے عمدہ و\nصاف لباس میں استادہ تھے۔ جن کو دیکھکر فرمایا کہ میں ان تکلفات کو\nدیکھکر خوش ہوا۔ لیکن ان کی عدم موجودگی میں اس سے زیادہ خوش ہوتا۔ میرے\nآنے کی غرض یہ تھی کہ میں تم سے۔ تمہارے کالج کے رنگ میں ملون اور سب کو\nجماعتوں میں بیٹھا ہوا حالت درس وتدریس میں دیکھوں نہ کہ تعطیل کی شان میں\nپھر مسکرا کر فرمایا کہ شاید آپ اس امر کو پسند نہ کرتے کہ میں آپ کی تیاری سے\nپہلے نکتہ چینی کے لئے آموجود ہوتا۔ پھر ٹرسٹیوں سے متعدد سوالات\nفہمہی کرتے ہوئے ۔ اور اون کو ایک حالت یاس و انتشار میں چھوڑ کر کھانے\nکے کمرے میں داخل ہوئے۔ کھانے کے بعد کالج کے مکانات ملاحظہ فرما\nپہر نماز ظہر مسجد میں ادا کی۔ غالبًا جب سے کالج و مسجد کی بناء پڑی ہے۔\nاب تک ایسے پرشکوہ جماعت کبھی نہ ہوئی ہوگی بعد نماز کالج کی جماعتوں\nکا ملاحظہ کیا۔ کتب خانہ دکھلانا چاہا تو فرمایا کہ میں کتابیں دیکھنے نہیں آیا\nہوں پڑھنے والوں کو دیکھنے آیا ہوں۔ نواب محسن الملک ہمراہی میں\nتھے۔ اسی دوران میں ایک موقع پر نواب صاحب نے عرض\nکیا کہ اعلیحضرت کالج کی نسبت اپنی رائے کا کچھ اظہار فرمائیے۔\nجواب میں ارشاد کیا کہ اس سوال کے نتیجہ پر غور کرلیجئے۔ اوس وقت\nایسا کہیئے اسی طرح دوسری استدعا کی کہ ٹرسٹیوں کو اعلیحضرت\nشام کے کھانے میں اپنا شریک فرماکر عزت افزائی فرمائیں\nاس کا جواب دیا کہ کھانا پینا دوستوں کے ساتھہ ہواکرتا ہے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 61, "text": "۵۲\nمیں ابھی تک آپ کا دوست نہیں اگر سپلو دوستی نکل آیا تو فبھا ورنہ ما شجیرو\nشما سلامت۔\nپہر در جوت میں طالب علمون سے اسلامی ارکان و مسائل دین کے متعلق بکثرت\nسوالات کیے۔ جنکے جوابات سے خوشنودی ظاہر فرمائی۔\nایک درجہ میں علی الدین خلف مولوی رفیع الدین صاحب وکیل علی گڑھ جو بی ۔ اے\nکا طالب علم ہے۔ قرآن پڑہنے کا اشارہ کیا۔ جسپر طالبعلم نے نہایت خوش\nالحانی سے ایک رکوع سنایا۔ قرآن سننے پر وجد کی سی کیفیت ہو گئی ضبط\nگریہ کی قدرت نہ رہی۔ امتحان وغیرہ کے بعد اسٹریچی ہال میں جلوہ افروز\nہوئے۔ یہ وہ واقعہ ہے جو کالج کی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھے جانے کے\nقابل ہے۔ ایڈریس لیا۔ جواب نہایت عاقلانہ و ناصحانہ دیا ارشاد فرمایا کہ\n”میں اس دارالعلوم کی بابت مختلف اخبار سُنا تھا۔ لیکن شکر ہے کہ طلباء\nاخلاق و عقاید اسلامی سے آراستہ ہیں۔\nآیندہ جو بد گویون کی زبان بند کرنے والا ہو سکتا ہے تو وہ میں ہوں۔\nنصائح میں اسپر زور دیا کہ تعلیم مذہبی مقدم ہے۔ اور مشرقی علوم لازمی ہیں۔ میں\nمغربی علوم و فنون کو ضروری جانتا ہوں مگر درستی عقائد و مذہبی تعلیم کے بعد“۔\nاسی کے ساتھ پانصد روپیہ ماہانہ برائے دوام و بیس ہزار یکمشت عطا\nفرمایا۔ اور کہا کہ حقیقت میں جیسا میں چاہتا ہوں نہیں دے سکتا۔ میں\nاپنے ملک میں تعلیم کے لیے خود حاجتمند ہوں۔ اسکے بعد ہی ارشاد کیا کہ\nشام کے کھانے پر پچپن ٹرسٹی میرے ہمراہ شریک ہوں ۔ اب آپ کو امان خدا\nکہتا ہوں۔ یہاں کا انتظام ہر طرح قابل تعریف تھا۔\nہم ایک تاریخ بہی جو کالج کی تشریف آوری پر کہی گئی یہان تحریر کرنا مناسب خیال کرتے ہیں"}
{"book": "adl0234", "page": 62, "text": "۵۳\n\nتو عزت مدرسہ فزودی | ای زیب دہ سریر کابل\nامروز بعرض خیر مقدم | گواست که همصغیر کابل\nکعبه بزمین تراست سایه | کیوان بفلک وزیر کابل\nماہم و دعا و حرف آمین | بر طفل و جوان و پیر کابل\n\nتاریخ ورود همت این است\nدر ظل ملک میر کابل\n\nیہان سے دس بجے کے بعد ٹرین روانہ کانپور ہوئی۔\n\n۱۷ جنوری سنہ ۱۹ء صبح ٹرین کانپور پہنچی۔ سرکاری افسران نے باضابطہ استقبال کیا\nملازمان و افسران گورنمنٹ بڑی سرگرمی سے مصروف خدمات تھے۔ گاڈیان\nبکثرت موجود تھین۔ یہان کے حسن خدمات کی انجام دہی مین نواب سیف اللہ خان\nڈپٹی کلکٹر خاص طور پر مستحق تعریف ہین۔ لیکن ہمارے انٹرٹینمنٹ کمیٹی کے انتظام مین بہت\nبڑا موقع نکتہ چینی و شکایت تھا۔\nان جگہ حقیقت میں مہمانون کو تکلیف ہوئی۔ چاے کے ساتھ دوسری ٹرین کے لیے\nبسکٹ تک نہ تھے۔ زیادہ تعجب یہہ تھا کہ یہان خود ایک ممبر کمیٹی دوسرے ممبر\nکے ایک بھائی کرسیوں پر بیکار بیٹھے ہوئے بے انتظامی کا تماشہ دیکھ رہے تھے\nبڑے شور و غل کے بعد بسکٹ آئے۔ جو ضرورت سے کم اور نہایت ذلیل اور\nادنیٰ درجہ کے تھے۔ اعلیٰحضرت جب کارخانہ جات کو ملاحظہ فرمانے کیلئے سُواؔ\nہوے تو راہ مین گاڑی کے ٹپ اُٹھانے چاہے۔ آپ نے فرمایا کیون\nایسا کیا جاتا ہے عرض کیا احتیاطاً۔ حکم دیا کہ ہرگز ایسا نہ کرو ہمارا کوئی دشمن نہین تاکہ"}
{"book": "adl0234", "page": 63, "text": "۵۴\nاول اونی کارخانے مین قدم رنجہ فرمایا۔ دستکاری سے خام اون کے کپڑے\nبنتے دیکھے جن کی عمدگی کی تعریف فرمائی۔ پہر کوپر الن کے کارخانے کو\nدیکھا۔ بوٹ و شو و دیگر چرمی فوجی سامان کو بنتے دیکھ کر نہایت دلچسپی\nظاہر کی۔ یہان فیکٹری کے ایک کاریگر نے تیس منٹ مین بوٹ تیار کر دیا\nاس پر کوئی تعجب نہین ہوا۔ فرمایا کہ کابل مین بتیس منٹ مین تیار\nہو جاتا ہے۔ ہر ایک چیز کو ہر جگہ بغور دیکھا۔ ملون کے انجینرون سے\nمتعدد سوالات کئے۔ پانچ ہزار بوٹون کی فرمایش دی اور بھی بہت سا\nسامان خرید فرمایا۔ ایک کارخانے مین ایک برش ہاتہہ مین لیکر دیکھنے\nلگے ایجنٹ نے احتیاطاً و ادباً عرض کیا کہ یہ سور کے بالون کا ہے ہنسکر\nجواب دیا کہ خشک بالون کے چھونے مین کچھ ہرج نہین۔\nایک اسلامی ڈیپوٹیشن پیش ہوا۔ حافظ محمد حلیم نے ایک قلمی\nکلام اللہ و دلائل الخیرات پیشکش کئے قرآن مجید کی نسبت عرض کیا کہ\nعہد عالمگیر مین عارف ہروی نے لکھا تھا جس کے صلہ مین یاقوت رقم\nخطاب پایا۔ ان ہدایہ کو اعلیحضرت نے بطیب خاطر قبول فرمایا۔\nشام کو نمایش خیمہ کا معائنہ کیا جس مین قسم قسم کے صنعتی اشیاء\nکے نمونے دکھلاے گئے بعدہٗ شب کو ٹرین روانہ گوالیار ہوئی۔\n۱۸۔ جنوری ۱۹۰۷ء کو ہزمیجسٹی رونق افروز گوالیار ہوئے۔ ہزہائینس\nمہاراجہ صاحب گوالیار نے معہ اپنے سرداران کے شاہانہ استقبال\nکیا۔ اپنے سردارون کو پیش کیا۔ سلامی سر ہوئی۔ ہزمیجسٹی کو خود\nمہاراجہ صاحب نے سونے کے پھولون کا ہار پہنایا۔ ریلوے اسٹیشن\nسے محل تک رجمنٹ رسالہ و ریاست کا کیڈٹ کور کا اسکورٹ ہمراہ"}
{"book": "adl0234", "page": 64, "text": "۵۵\n\nتھا ۔ سٹرک پر دو رویہ فوج صف بستہ ایستادہ تھی ۔ اعلیحضرت\nمحل میں جاکر فروکش ہوئے ۔ کھانے کے بعد اعلیحضرت نے\nجامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کی ۔ شام کو فوجی کھیلوں کا تماشہ دیکھا ۔\nاس موقع پر گوالیار کی فوجی وردی میں شاہان مغلیہ کے وقت\nسے جواب تک تغیرات ہوئے تھے وہ بھی دکھائے گئے مصنوعی\nجنگ بھی دیکھی ۔ ۲۰ جنوری کو صبح سپاہ کا معائنہ فرمایا بعدہ شکار\nکھیلا ۔ دو چیتے شکار ہوئے ۔ اور دراصل گوالیار آنے کی یہی غرض\nتھی ۔ شب کو ڈنر پر ہزہائینس نے بیان کیا میرے دار الریاست میں\nاعلیحضرت کے تشریف لانے سے مجھے کمال مسرت ہوئی ۔ امید\nہے کہ جب ہزمیجسٹی اپنی سلطنت میں واپس پہنچ جائین گے\nتو یہان کے مختصر قیام کو فراموش نہ فرمائیں گے ۔ میں اس موقعہ\nکو قابل یاد گار اور تاریخی سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے والیان\nریاست میں ہزمیجسٹی کی مہمانی کا صرف مجھے ہی فخر حاصل\nہوا ۔ اعلیحضرت نے نہایت موزون و مناسب الفاظ میں فرمایا کہ\nمیں گورنمنٹ انگریزی کا مشکور ہوں کہ جو میرے یہاں آنے کی باعث\nہے ۔ اگرچہ میرا قیام گوالیار میں قلیل رہا ۔ تا ہم مہا راجہ صاحب\nایسے تپاک میزبان کو میں کبھی فراموش نہ کروں گا۔ بعدہ مہمانوں\nکے کیمپ سے لیڈیان پارٹی میں شرکت کی غرض سے آگئیں ہزمیجسٹی امیر\nڈیوک و ڈچز آف مانچسٹر کے ساتھ دیر تک گفتگو فرماتے رہے نصف\nشب کے بعد جلسہ ختم ہوا۔\n۲۱ جنوری ۱۹۰۷ء صبح قریب آٹھ بجے ہزمیجسٹی امیر دہلی پہنچے۔ حکام انگریزی روسا ہندوستانی"}
{"book": "adl0234", "page": 65, "text": "۵۶\nنے استقبال کیا۔\nپلیٹ فارم پر پینتیسوین سکہ کا گارڈ آف آنر استادہ تھا۔ ریلوے اسٹیشن\nنہایت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ راہ مین جا بجا فارسی مین خیر مقدم کے\nفقرات نمایان تھے۔ اسٹیشن کے متصل اسلامی مدارس کے طلبا رصف بستہ\nاستادہ تھے انہوں نے جس اسلامی جوش سے سلام ادا کیا۔ اعلحضرت امیر\nنے بھی اسی محبت و خوشی سے جواب دیا۔\nیون تو جہان جہان ہز مجسٹی کا ابتک گذر ہوا اور جہان جہان آیندہ ہوگا\nہر جگہ خیر مقدم کی یہی روشن مثالین نگاہ سے گزرین اور گذرینگی۔ مگر دہلی\nمین جو بات ہوئی وہ اسی شہر کا حصہ ہے۔\nمسجد فتحپوری کے قریب یہ ایک شعر خوش قلم آویزان تھا جو مصنف کی\nقادر الکلامی کا ثبوت اور مایہ ناز ہے  ؎\nدیار ہند خوش است از سخای ظلّ اللہ\nرسول پاک بگفت السخی حبیب اللہ\nراستون کی آرائش۔ فوجی ترانہ مشتاقون کے ہجوم کا نظارہ ملاحظہ فرماتے ہوے\nقیام گاہ پر رونق افروز ہوئے۔ سلامی وغیرہ کی مرسم شاہانہ بدستور یہان بھی ادا کیگئین\nسرکٹ ہوس کا کیمپ نہایت خوبصورتی سے آراستہ کیا گیا تھا خیمون کے\nآگے نفیس کیاریان بنائی گئی تھین۔ گشٹن کی روشنی کا انتظام تھا۔\nدوپہر کو موٹر کار پر سوار ہو کر براہ کشمیری دروازہ اوّل قلعہ معلّٰی\nکا معائنہ کیا۔\nوہان سے براہ دہلی دروازہ درگاہ خواجہ نظام الدین اولیا ر مین گئے۔ بچون\nکے باولی مین کودنے کا تماشہ دیکھا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 66, "text": "۵۷\nاندر جاکر امیر خسرو و حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے مزارات پر فاتحہ پڑی\nخدام نے تبرکات پیش کیے جنین ایک قرآن مجید نہایت خوش قلم\nخانقاہ کی ملکیت تھا اُسے وقف فرما کر درگاہ مین دے دیا۔\nبائیس اشرفیان بخارا کے سکہ کی خانقاہ مین عطا کین بعدہ مقبرہ\nہمایون کا ملاحظہ کیا۔ وہان کے محافظ کو پانچ اشرفی مرحمت فرمائین وہان سے\nقطب مینار گئے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار پر فاتحہ پڑہی۔\nچوالیس اشرفی درگاہ مین دین۔ واپسی مین صفدر جنگ کا مقبرہ دیکھا۔\n۲۲ جنوری ۱۹۰۷ع - کرنال مین بطون کا شکار کھیلا۔ شہر سے ۲۲ میل پر جھیل تھی\nنواب رستم علی خان نے قابل تعریف انتظام کیا تھا اعلیحضرت اُن کے\nانتظام سے مسرور اور اُن کی خدمات کے مشکور ہوئے۔\nواپسی مین اسٹیشن پانی پت چند منٹ ٹھہرے۔ عمائد و عوام کا\nبڑا ہجوم تھا۔\nمتولیان و مجاوران مزارات پانی پت تبرکات لیے حاضر تھے صرف\nایک حمائل تحفہ مین قبول فرمائی۔ باقی بزر گوار اپنے اپنے تحایف پیش کرن\nسے قاصر رہے۔ وقت کافی نہ تھا۔ دہلی پہنچکر اُسی شب اجمیر شریف روانہ ہوکر\n۲۳ جنوری ۱۹۰۷ع۔ آج پونے نو بجے اجمیر پہنچے اسٹیشن پر صاحب کمشنر و دیگر\nبرٹش افسرون نے استقبال کیا۔ باہر دروازہ اسٹیشن کے ممبران میونسپل و آنریری مجسٹریٹیان\nوغیرہ کا بڑا ہجوم تھا۔ پہلے خیال تھا کہ ہر میجٹی اول قیامگاہ پر جائینگے وہان سے درگاہ آئینگے\nلیکن سوار ہوتے ہی دہلی دروازہ سے گذر کر درگاہ پہنچے زینہ درگاہ پر دیوان جی بلند"}
{"book": "adl0234", "page": 67, "text": "۵۸\n\nدروازے پر متولی صاحب بیگی دالان میں خدام تبرکات لیے حاضر تھے۔\nہر مجسٹی گاڑی سے اتر کر مع جوتے کے بغیر کسی جانب متوجہ ہوئے یا گفتگو\nکیے اندر داخل ہوئے۔ مزار کا دروازہ بند کرکے مراقبہ میں مصروف ہوگئے۔\nجوتہ اتارنے کی نسبت نہ مجاوروں میں سے کسی نے عرض کیا اور نہ اوصاحبون\nمیں کوئی مانع آیا۔\nبعد فاتحہ خوانی کے امیر بیگی دالان میں جلوہ فرما ہوئے۔ خدام وغیـرہ\nطلب کیے گئے تخائف میں ایک قبضہ تلوار قبول فرمایا۔ بعدہ اکبری مسجد میں\nجاکر مدرسہ و طلباء کا حال استفسار کیا۔ پانچسو روپیہ طلباء کو عطا کیے۔ اس کے بعد\nڈھائی دن کی مسجد دیکھی جو شکستہ حالت میں ہے۔\nبارہ بجے کے قریب قیام گاہ پر رونق بخش ہوئے۔ یہہ بارہ دری سنگ مرمر\nزمانہ شاہی کی تعمیر آنا ساگر پر واقع ہے۔ منظر دلکش۔ مقام پر فضا ہے۔ اُسکو نہایت\nعمدگی سے آراستہ کیا گیا تھا۔\nبعد دو پہر کے ایک مندر کا معائنہ کیا۔ زان بعد میو کالج کو دیکھا۔ اور آخر\nمیں ورک شاپ میں تشریف لے گئے۔ دروازے پر ایک یورپین کی لڑکی\nنے گلدستہ پیش کیا۔ آپ نے دو اشرفی انعام دیا۔ کارخانہ کو بہت غور\nسے دیکھا۔ کہ ایک گاڑی کی تکمیل میں کتنے مدارج طے کرنے پڑتے ہیں۔\nچلتے وقت۔ دیوان جی متولی صاحب و خدام کے لیے پانچ پانچسو\nروپیہ صاحب کمشنر بہادر کو دیتے گئے۔\nخدام وغیرہ نے بوٹ پہن کر اندر جانے پر آزردگی کا اعلان کیا۔ مگر یہہ کسی\nسے نہ ہوسکا کہ اول ہی اسکے متعلق عرض کرتے تا کہ موقع شکایت\nاُنہیں پیش ہی نہ آتا۔ جب کہ ہز مجسٹی غیر اقوام کی دل آزاری"}
{"book": "adl0234", "page": 68, "text": "۵۹\nسے پرہیز فرماتے ہیں تو اپنے بھائی مسلمانون کو ناممکن تھا کہ وہ رنجیدہ کرتے۔\nاسکی تائید مین یہہ کافی ہے کہ جب دہلی مین اطلاع دی گئی تو آپ\nعیدگاہ وجامع مسجد مین جوتہ اُتارکر اندر گئے۔\n۲۴ جنوری ۱۹۰۷ء۔ آج صبح پونے چھہ بجے دہلی واپس تشریف لائے۔\nمقامی حکام نے حسب ضابطہ استقبال کیا۔ بعد ناشتہ کے بُرش افسران\nو افغان سرداران کو ہمراہ لیکر گنیش فلور ملز کا معائنہ کیا۔ کارخانہ کا بیرونی دروازہ\nجھنڈیون و ہریریون وپھولون اور خیر مقدم کے قطعات سے آراستہ\nکیا گیا تھا۔ مینجنگ دائرکٹر و منیجر وغیرہ نے رسم استقبال کو ادا کیا۔\nمنیجر نے کارخانہ کی سیر کرائی۔ ہز مجسٹی نے مشین کے متعلق بہت سے سوالات\nکیے اس کارخانہ کے بعد ہندو بسکٹ فیکٹری وجنا کاٹن ملز کو نہایت شوق کہ ملاحظہ فرما\n۲۵ جنوری ۱۹۰۷ء۔ آج روز عید ہے۔ ہزمجسٹی شاہ افغانستان نے نماز عید کی\nعیدگاہ مین اور نماز جمعہ جامع مسجد مین ادا فرمائی امام عیدگاہ و امام جامع مسجد کو\nخلعت عنایت فرمائے۔ دونون عبادتگاہر مین جوتہ اُتارکر تشریف لیگئے اسکی\nوجہ یہہ ہے کہ اسکے متعلق یہان عرض کیا گیا تھا۔ سرکٹ ہوس جو قیامگاہ اعلحضرت\nہے اُسکے دروازہ پر قطعہ ذیل نہایت خوش قلم تحریر تھا۔\nخوشا عیدے کہ نشو میزبان است\nخوش و خوشتر امیرش مہمان است\nشہ کابل که رونق بخش دهلی است\nمقام شکر و جای امتنان است\nاہل دھلی مین سے چند معززین ہند و مسلمانون کو دربار\nعید مین شرف ملازمت بخشا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 69, "text": "۶۰\nہز مجسٹی کے ایڈیکانگ نے ہر ایک کو پیش کیا ۔ پہلے خود اعلحضرت\nنے عید کی مبارکباد دی ۔ علی الترتیب حاضرین نے کلمات تہنیت\nادا کیئے ۔ شمس العلماء مولوی حافظ نذیر احمد صاحب نے مصافحہ کے\nساتھ یہ شعر پڑہا ہے\nعید و عید و عید صر مجتمعه وجه الحبيب و يوم العيد والجمعه\n(آج کے دن تین عیدین جمع ہوگئین ایک وجہ حبیب شاہجہان ہزمجسٹی) دوسری عید تیسرا جمعہ\nجکو سُنکر اعلحضرت متبسم و مسرور ہوئے ۔ پہر سب لوگونکو کرسیون پر\nبیٹھنے کی اجازت دی گئی ۔\nبعدہ دہلی مین عید ہونے سے جو مسرت ہوئی اسکا اظہار فرمایا۔ اپنے\nخیالات بے آزاری و بے تعصبی کا ذکر کیا اور یہ شعر پڑہا ۔\nمباش در پئے آزار ہر چہ خواہی کن که در طریقت ما غیر ازین گناہ نیست\nہندو و مسلمانون کو آپس مین اتفاق سے رہنے محبت سے پیش آنے\nاور آرام دہ زندگی بسر کرنے کی تحریک فرمائی ۔\nکارخانہ جات کے تذکرون مین یہ ارشاد کیا کہ مین سیر و تفریح کی غرض سے\nکارخانون کو نہین دیکہتا پہرتا۔ مسلمانون سے خاص طور پر فرمایا کہ آپ لوگ\nیہ سُنکر خوش ہونگے کہ افغانستان مین اسلام کی حالت بہت اچھی ہے۔\nوہان ممنوعات شرعی کا ارتکاب کوئی شخص نہین کرسکتا۔\nبنگ چرس ۔ شراب ۔ زناکاری بند ہے ۔ ناچ و باجے کے واسطے سازندہ\nبھی میسر نہین آسکتا۔ محتسب مقرر ہے وہ ان اُمور کی نگرانی کرتا ہے۔\nہندوؤن کو اپنے فرائض مذہبی بجا لانے مین آزادی حاصل ہے\nاُن کے حقوق کی پوری حفاظت کیجاتی ہے۔\nلے\nمعنے اتفاق اسخنون\nجداگانہ ہی بحث\nکی ہے ۔"}
{"book": "adl0234", "page": 70, "text": "۶۱\nپہر مسلمانون کو مخاطب کر کے ارشاد کیا کہ میرا عقیدہ تو اسلام مین ایسا\nمحکم ہے کہ جیسا بڑے سے بڑے عالم کا ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر تم عمل کی بابت\nسوال کرو تو مین جواب دونگا کہ مجھہ سے زیادہ بے عمل دنیا مین شاید کوئی ہو۔\nلیکن اسلام کا عقیدہ خوف ورجا کے درمیان ہے۔\nانسان کو یہہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ اگر تمام عالم کے واسطے جنت کا حکم ہو\nاور ایک شخص کو دوزخ کا تو او سکو یہہ خوف رکھنا چاہیے کہ شاید وہ شخص مین ہی\nہون۔ اسیطرح اگر تمام عالم کو دوزخ کا حکم دیا گیا اور ایک شخص کو جنت کی\nامید دلائی گئی ہو تو وہ یہہ امید رکھے کہ شاید وہ مین ہی ہون۔\nپہر فرمایا کہ ایسی خفیف باتون مین جسپر دراصل اسلام کا حصر نہو ہمیشہ اس\nبات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اپنے ہمسایون کی دل شکنی نہ ہو۔\nالبتہ اگر کوئی ۔ نماز ۔ روزہ ۔ حج ۔ زکوٰۃ یا مساجد مین جانے سے روکے یا\nاُس کی اہانت کرے تو اس بات پر جان تک دیدینا چاہیے۔\nاسی سلسلہ مین کئی مرتبہ برٹش گورنمنٹ کی عطائے آزادی اور ہر فرقہ\nکے لیے آسانی سے اظہار خوشنودی کیا۔\nہز میجسٹی کی خوش اخلاقی۔ بے تعصبی اور روشن خیالی نے حاضرین\nکو بیحد محظوظ و مسرور کیا ۔ اور خوبی یہہ کہ گفتگو اُردو مین بھی کی ۔\nسب کے لیے عافیت کی دعا اور امان خدا فرمایا۔\nاسکے ساتہہ دربار برخاست ہو گیا۔ درباری اصحاب مین سے ہر ایک کو\nایک ریشمی رومال مین شیرینی دروازہ پر افغانی سردارون نے دی۔ یہہ کابل\nکا خاص دستور ہے۔ بعدہ برٹش افسران متعینہ کیمپ حاضر ہوئے\nبعد ادای رسم تہنیت و مبارکباد وہ بھی واپس ہوئے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 71, "text": "۶۲\n۲۶ جنوری ۱۹۰۷ء کو دہلی سے روانگی ہوئی راستہ مین شام کا کھانا جلیسر روڈ پر ہوا۔\n۲۷ جنوری ۱۹۰۷ء صبح کی چار پہر واری ضلع الہ آباد مین نوش فرمائی۔ الہ آباد\nاسٹیشن پر چند منٹ گاڑی ٹھہری۔ لیکن پلیٹ فارم پر کوئی اترا نہین\nالبتہ اسٹیشن نینی پر اُترے۔\nسہ پہر کی چار دلدار نگر مین اور شب کا کھانا دانا پور مین ہوا۔\n۲۸ جنوری ۱۹۰۷ء صبح ہز مجسٹی رونق افروز کلکتہ ہوے گو یہان کی آمد پرائیویٹ\nتھی۔ مگر ریلوے اسٹیشن پر نہایت سرگرمی و جوش سی استقبال ہوا۔ ریلوے کمپنی نے\nشاہی رونق افروزی کو شاندار بنانے مین کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا تھا۔ تمام دیوارین\nپھولون پتون۔ و جھنڈیون سے مزین تھین اسٹیشن سے پُل تک سڑک جھنڈیون\nپریون پھولون و سبزے سے آراستہ کیگئی تھی۔ پلیٹ فارم پر یورپین\nجنٹلمینون و لیڈیون کا ہجوم تھا۔ ہوڑا کے پُل پر ایک سرے سے دوسرے\nسرے تک تماشائیون کا انبوہ کثیر نظر آتا تھا۔ جسوقت ٹرین پلیٹ فارم پر پہنچی ورود\nکا نشان بلند ہوتے ہی۔ فورٹ ولیم سے توپون کی سلامی سر ہوئی۔ برٹش حکام\nو میونسپل کمشنران۔ گارڈ آف آنر نے اپنے اپنے فرایض ادا کیے عام لوگون نے\nاپنی مسرت کا اظہار بڑے جوش سے کیا۔\nہز مجسٹی کی سواری پُل ہوڑا سے سٹرنیڈ روڈ۔ نیپیر روڈ سینٹ جارج روڈ\nسر کلر روڈ۔ کورٹ روڈ ہوتی ہوئی ہیسٹنگز ہوس مین پہونچی۔ یہان\nسیزدہم راجپوت کے ایک سو سپاہیون کا گارڈ آف آنر\nو موسیقی نواز دستہ موجود تھا۔ جس کا معائنہ فرماتے ہوئے"}
{"book": "adl0234", "page": 72, "text": "۶۳\nاعلحضرت شاہی مہمان خانہ مین رونق افروز ہوے سرلوی ڈین فارن\nسکرٹری نے گورنمنٹ کیطرف سے تحائف پیش کیئے حسین اسلحہ ہاے آتش\nفرشی جھاڑ۔ میز کا سامان آرایشی۔ دیگر خوبصورت و کارآمد و دل خوش کن اشیار تمین\nآج ہی ٹکسال۔ عجائب گھر۔ چڑیا گھر کا ملاحظہ فرمایا۔ شیرون و چیتون\nکو دیکہ کر بہت خوش ہوئے۔\nہنگام معاینہ ٹکسال ایک ضعیف العمر مستری نے بعد ادائے آداب عرض\nکیا کہ مجھے ٹکسال کابل مین کام کرنے کا فخر حاصل ہے آپ نے نام پوچھا\nاور انعام دیا۔\nشب کو لارڈ کچنڑ کے ساتہہ شریک طعام ہوئے۔\n۲۹ جنوری ء۔ آج صبح میڈیکل کالج کو نظر غائر سے ملاحظہ فرمایا مریضوں\nکے امراض کو دریافت کیا۔ عمل جراحی ہوتے ہوے دیکھا۔ کمرہ تشریح وغیرہ\nمین گئے وہان طلبا رسکے کام کو معاینہ فرماتے رہے۔ انسانی دماغ\nکا ایک حصہ اور دیگر اجزا جسم انسانی حیرت سے دیکھے۔\nکیمیکل ڈیپارٹمینٹ مین کیپٹن بلیک نے ایک تجربہ کر کے دکھلایا۔ کہ کسطرح\nبیوک سانڈ گیس آگ کو بجھا دیتی ہے۔ بعدہ طب نظری و جسمانی کے صیغہ مین\nخوردبین سے بعض نمونے دکھلائے گئے۔ ہاسپٹل مین پہلے یورپین واڑ دکھایا\nگیا۔ دوسرے حصہ کی بابت سوال کیا کہ کسکے لیے ہے جواب یا گیا کہ ہندوستانیون کیلیئ\nپر استفسار فرمایا کہ امین اور دوسرے مین کچہہ فرق ہو کہا گیا کہ مطلق نہین۔ مگر جب خود\nدیکھنے گئے تو فرمایا کہ ہندوستانیوں کے لیے برقی پنکھے کیون نہیں ہین میڈیکل\nکالج میں امیر کی گاڑی آتے دیکھکر ایک فقیرنی نے قریب پہنچنے کی کوشش کی مگر پولیس\nنے روکا اسپر ایک شور مچ گیا اعلحضرت نے آگاہ ہو کر عورت کو طلب کیا اوسکی پر درد کہانی"}
{"book": "adl0234", "page": 73, "text": "۶۴\n\nسُنکر دو اشرفی عطا کین-\nبعد دو پہر پھر میوزیم کو ملاحظہ فرمایا۔ شب کو مع اپنے دو خاص سردارون کے\nحضور وایسراے کے ہمراہ کھانا تناول فرمایا سلونی ڈین بھی شریک دعوت تھی-\nہز مجسٹی امیر نے کلکتہ میونسپلٹی کا ایڈریں خیر مقدم لینا اور بہت سی\nدعوتون کو نا منظور کیا-\nوہ شہر کے نظارون کو حتی الامکان خاموشی سے دیکھنا چاہتے ہیں مسٹر\nکارلائل نے ایڈریں کے نہ لیے جانے کے متعلق غلط فہمی دور کرنے کے\nواسطے ایک گشتی چٹھی شایع کرائی جس مین تحریر تھا کہ مجھے ۲۹۔ جنوری کی\nصبح کو اس مضمون کا تار ملا کہ چونکہ بہت سی جماعتون و انجمنون نے ایڈریں\nپیش کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اسلیے ہز مجسٹی یہہ کہنے پر مجبور ہوی ہیں\nکہ اُنہین کلکتہ مین کسی ایڈریں کے قبول کرنے سے معاف رکھا جائے کیونکہ\nاسطرح ان کے کلکتہ کے پرائیویٹ قیام مین نقصان پہونچیگا۔\n\n۳۰ جنوری ۱۹۰۷ء - آج اسلحہ و سامان حرب سازی کے کارخانون کو معائنہ فرمایا\nساڑھے آٹھ بجے ہز مجسٹی مع سر ہنری میکموہن اور اپنے دو سردارون کے موٹر\nکار پر سوار ہو کر اول کارخانہ کاشی پور مین تشریف لے گئے۔ آنریل میجر جنرل\nاسکاٹ وغیرہ نے ہستقبال کیا۔ ہز مجسٹی نے نہایت غور و توجہ سی کارخانہ کی ہر ایک\nچیز کو معائنہ کیا بعبده یہان سے کارخانہ ڈمڈم پہنچے میجر واکر وغیرہ نے استقبال\nکیا۔ ہز مجسٹی نے گولون و کارتوسون کی ساخت مین بڑی دلچسپی ظاہر کی\nاُنہون نے کارتوسون پر دہات لپیٹنے کے طریقہ کے دیکھنے کا اشتیاق ظاہر کیا\nجب افسر انچارج نے ایک مستری کو دہات کا ٹکرا کاٹنے کا حکم دیا تو خود بدولت نے ہتوڑا"}
{"book": "adl0234", "page": 74, "text": "۶۵\n\nاور چینی اس کے ہاتھہ سے لیکر خود بات کو کاٹا۔ کارخانہ سے روانہ ہونے\nسے قبل ان سب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پوری توجہ سے ہر ایک چیز کو دکھلا\nکی سعی کی تھی۔\nبعدہ ڈمڈم انسٹیٹیوٹ میں ٹھہر کر دوپہر کا کھانا تناول کیا۔ تقریباً\nایک بجے عیسیٰ پور کے کارخانہ میں رونق افروز ہوئے۔ میجر بلوک نے\nاستقبال کیا۔ ایک توپ ڈھالکر دکھلائی گئی۔\nکارخانہ توپ سازی کو نہایت غور سے دیکھا۔ ان کی ترکیب سے معلوم\nہوتا تھا کہ وہ کبھی اس معائنہ سے نہ تھکیں گے۔ بعدہ ہز مجسٹی نے\nلارڈ کچنر کے ساتھ لیڈی منٹو مینا بازار کی سیر فرمائی۔ فوجی نمائش سے نہایت\nمسرور ہوئے۔ جلالت مآب کی رونق افروزی کی وجہ سے آج مینا بازار کو\nبارہ ہزار آدمیوں نے دیکھا۔\n\n۳ جنوری ۱۹۰۷ء آج اعلحضرت نے خضر پور گھاٹ کا معائنہ فرمایا۔ آٹھ بجے صبح آپ\nوارد ہوئے چہ سردار افغانی ومیجر برڈ سر ہنری میکموہن ہمراہ تھے مسٹر الف جے بلیک چیئرمین\nپورٹ کمشنر وغیرہ نے استقبال کیا گھاٹ خوب آراستہ کیا گیا تھا ہز مجسٹی نے جہازات کے\nمتعلق بہت سے سوالات کیے یہ کہ وہ کہاں جائینگے۔ ان پر کیا مال لدا ہے۔ بعدہ ہز مجسٹی\nامیر حضور وائسرای کی دخانی کشتی ماڈنا می میں سوار ہوکر عجائب خانہ کو روانہ ہوئے۔\nیکم فروری ۱۹۰۷ء ۔ آپ کلکتہ میں آزادانہ طور پر سیر فرمارہے ہیں کہیں آنے جانے کا خاص\nپروگرام نہیں۔ یہاں کی سیر سے آپ بہت خوش ومحظوظ معلوم ہوتے ہیں۔\nمینا بازار جانا اور دوکانوں سے بمقدار کثیر اشیاء خرید فرمانا اُنکے\nخاص شغلوں میں ایک دلچسپ شغل یہہ بھی ہے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 75, "text": "۶۶\n\n۲-فروری ۱۹۰ء- ہزمیجسٹی سر ہنری میکمہن اور ذاتی اسٹاف کے ممبرون کے ساتھ مینا بازار مین تشریف لائے۔ ان کی وجہ سے مینا بازار مین بڑا ہجوم تھا۔\nچند منٹون موسیقی نواز دستہ کا ترانہ سنگر ہزمیجسٹی وایسرایگل دکان کی طرف تشریف لے گئے جہان لیڈی منٹو سے ملاقات ہوئی۔ ہر اِکسلنسی نے دُکان کی عمدہ چیزین بہ نفس نفیس دکھلائین آپ بہت خوش ہوئے۔\nفیاضی سے اشیاء خریدین۔ ایک خوبصورت ایرانی قالین بھی خرید کیا۔\nلیڈیز وائلٹ۔ ڈربی ایلٹ۔ اور ڈیوک اور ڈچز آف مانچسٹر بھی جبکہ ہز مجسٹی خرید اشیاء مین مصروف تھے۔ اس دوکان پر آگئے۔ فوٹو گرافرون کے خاص فائدے کے لیے ہز مجسٹی امیر و ہرا کسلنسی لیڈی منٹو وایسرایگل دوکان کے سامنے تھوڑی دیر کیلئے ٹھر گئے۔\nبعدہ دوکان فوٹوگرافرون کا معائنہ کیا۔\nپہر لیڈی منٹو کے ساتھ قہوہ خانہ مین چاء پی۔ شب کو لارڈ کچنر کے ساتھ کھانا تناول فرمایا۔\nسرحد انگریزی مین داخل ہونے کے بعد صرف لارڈ کچنر ہی ایسے عہدہ دار ہین جن سے اور ہز مجسٹی سے تپاک کی گفتگو و ملاقات ہوتی ہے۔\n۳۔ فروری ۱۹۰ء کا دن ہز مجسٹی نے حضور وایسرائے کے ساتھ بارک پور مین بآرام بسر کیا شام کو منٹو مینا بازار مین گئے دکانون سے اشیاء خرید فرمائین۔\n۴۔ فروری ۱۹۰ء آج ہز مجسٹی نے نوُ ہزار سے زائد کے اشیاء منٹو مینا بازار مین خرید فرمائین۔\nدوپہر کے بعد چورنگی مین وائٹ اوے اینڈ لیڈ لا کی دُکانپر گئے\n\n۱۔ لیڈی منٹو کی دوکان سے ۳۱ ہزار روپیہ کی چیزیں خریدی گئے ایک دراسات سو کی بہترین قالین۔ آئی اوردو کالا قانون بھی ایک ایک ہزار کی قیمت سے زیادہ خریدی ایک گلوبند و ایک چوغہ بھی خرید کیا ہراکسلنسی منٹو وایسرائیل برآمد کو بڑھا کر اُن کے علاوہ قیمت کا دو سو روپیہ بھی دِیا۔ ہز مجسٹی نے ایک پیش بہا ہما یہیں بھی لیڈی منٹو کو دی جس کی قیمت نو ہزار روپیہ تھی علاوہ ہز مجسٹی کے اور دُکانداروں نے سامان نہایت قیمتی بازار مذکور میں بیچے تھے۔ اور دوکانداروں کو بھی انعام دیا ہز مجسٹی امین دوم اشرقیاں انعاماً دیں شکر داد کو سات سو پچھتر اشرفیاں اور طرابیت کیں مینا بازار میں خانہ تر بیت کی چند بنانے کے صلہ میں سو روپیہ چندہ مرحمت فرمایا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 76, "text": "دوکان کے مختلف حصوں کو دیکھا۔ پوستین ۔ بچوں کے کپڑے\nولایتی پلنگ خرید کیے ۔ ایک وقت کی نماز بھی بیان ادا فرمائی\nشام کے بعد دوکان سے مراجعت فرمابوے ۔\n\n۵ - فروری ۱۹۰۷ء ۔ آج بحری و بحری ذخائر کے معائنہ کے واسطے تشریف\nلے گئے جہان مزید خریداری فرمائی ۔\nپہر گرینڈ ہوٹل میں جاکر ڈیوک و ڈچز آف مانچسٹر کے ساتھہ\nٹفن تناول کیا۔\nشب کو اپنے سفارت خانہ مین رونق افروز ہوئے اپنے سفیر کے ساتھ کھانا\nتناول فرمایا۔ سفیر صاحب نے تفریح کی خاطر موسیقی کا جلسہ بھی قرار دیا تھا جب\nاعلیحضرت کو اسکا علم ہوا تو دل شکنی کی غرض سے بظاہر صاف انکار نہ کیا۔ لیکن\nشریک صحبت بھی نہوئے ۔ وضو کے لیے ایک کمرے میں پانی رکھوایا ۔ نماز عشا کی\nادا کی ۔ اور پھر دوسرے کمرے سے ہو کر موٹر کار پر سوار ہوچکے سے تشریف\nلیگئے ۔ حاضرین کو چلے جانے کا اُسوقت علم ہوا جب موٹر کار کی روانگی کی\nآواز آئی ۔\n\n۶۔ فروری ۱۹۰۷ء ۔ آج میسر ز برون اینڈ کمپنی کے کارخانہ انجنیری کی معائنہ میں بڑی دلچسپی لی\n۳ گھنٹہ صرف فرمائے ۔ کارخانہ کو کچھہ فرمائشات دین جنین بڑی فرمایش جلال آباد مین\nمعلق پل تیار کرنے کی تھی اسکی درمیانی محراب ۵۰ ۳ فیٹ اور پہلوؤن کی دیڑہ\nدیڑہ سو فیٹ ہو گی۔ مزید بران دیگر کئی چھوٹے پلوں۔ اور آہنی اشیاء\nکے آرڈر دیے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 77, "text": "۶۸\nہوڑا یارڈ کے صیغہ خشت سازی مین اینٹون کے متعلق معلومات حاصل\nکرنیکی نسبت ہر مجسٹی نے بڑا اشتیاق ظاہر کیا۔ اور کابل مین خشت سازی کا کارخانہ\nقائم کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا ۔ بعد مینا بازار تشریف لیگئے جہان موٹر کار ونکا معائنہ کیا۔\n- ۷ - فروری ۶۱۹۰۷ ۔ آج بھی دوکانون کی سیر فرمائی ۔ ہز مجسٹی کی خرید کردہ اشیاء آوہ\nکیمپ مین فوجی و بحری کارخانہ کی تین کشتیاں ہیں ۔ جو ہز مجسٹی نے شکار و تفریح\nدریا کے لیے خرید فرمائی ہیں ۔ آج سہ پہر کو پرنسپ گھاٹ تشریف لے گئے اور\nمارگویریٹہ نامی خوبصورت کشتی مین دریا عبور فرمایا کشتی کی تیز رفتاری سے\nبہت مسرور ہوئے۔ ڈیوک آف مانچسٹر بہی ہمراہ تھے۔\nبعدہ مینا بازار تشریف لے گئے شب کو ہز آنر لفٹنٹ گورنر بنگال کے\nساتتہ کھانا تناول فرمایا۔\n- ۸ - فروری ۶۱۹۰۷۔ آج ہز مجسٹی اعلیحضرت نے ذکریا مسجد مین نماز جمعہ ادا فرما کر جمعہ گذشتہ\nکی تلافی کی ! اور مسلمانون کو کمال مسرور فرمایا۔ دوسری مرتبہ نواب لفٹنٹ گورنر بنگال\nکے یہان مہمان ہوئے۔ سر ہنری میکموہن۔ مسٹر ڈابس اور متعد دافغانی سردار ہمراہ ہے\nکہانے کے بعد چند اشعار خوش الحانی سے آپنے پڑہے۔ حاضرین کمال محظوظ ہوئے\nجب انگریزون نے اسکاچ رقص کیا تو آپ نے بہی خوش ہو کر داد دی۔\n- ۹ - فروری ۶۱۹۰۷ - آج گھوڑ دوڑ دیکہی آج ہی روز روانگی تہا شب کو کمانڈر انچیف کے\nیہان دعوت تہی دعوت مین دیر تک بیٹھے رنچ پر لفٹنٹ گورنر بنگال نے بیان کیا کہ شب کو\nہگلی کا پل کہول دیا جاتا ہو جسکی وجہ سے ادہر کا آدمی اسطرف اور اُدہر کا اُسطرف رہتا ہے\nاسپر بجائے اسکے کہ اعلیحضرت کو کچھہ گھبراہٹ ہوتی نہایت متانت سے فرمایا\nکہ کچھ مضایقہ نہین مین ایک سپاہی ہون ۔ فورٹ ولیم کے کنارے گھاس پر"}
{"book": "adl0234", "page": 78, "text": "۶۹\n\nپڑکر رات بسر کرلون گا۔ لارڈ کچنر ہی سپاہی ہین انہین بہی اسکی کچہ پروا نہوگی\nالبتہ سویلین حکام جو نرم و گرم بچھونون پر جلد سو جانے کے خوگر ہین اُن کو اسکا\nتردد ہونا چاہیے۔ یہ سُنکر پہر روانگی مین تعجیل کی کسیکو جرأت نہ ہوئی۔ اور\nیہ امر ہزمجسٹی کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا۔\n\nکلکتہ کے خاص واقعات | مینا بازار مین مندر و مسجد کے طرز کی برابر دوکانین دیکہکر\nدلچسپ حالات | ارشاد کیا کہ کوئی مقام ایسا نہین کہ جہان ہندو و مسلمان\nبا تفاق نہ رہ سکتے ہوں۔\n\nنمایشگاہ مین نذرین قبول فرمانیے انکار کر دیا۔ ان کی روانگی پر بندے ماترم\nاور امیر صاحب کی جے کے نعرے بلند کیے گئے۔\nفریمین لاج مین شرکت فرمائی۔ اسکے متعلق مبسوط بحث ہمنے اسی مضمون\nمین جدا گانہ لکہی ہے۔ یہان صرف اسقدر لکہنا ہے کہ آپ کے فریمین لاج\nمین شریک ہونیسے پہلے ڈیوک آف کناٹ جو ہند کے لاجون کے گرینڈ ماسٹر ہین\nاور اُسوقت کلمبو (سیلون) مین تھے اُن سے اجازت چاہی جہنون نے اظہار\nمسرت کے ساتہ بذریعہ تار اجازت اور اطلاع دی کہ ہزمجسٹی کو بہ لحاظ اُن کو مراتب\nکے اعلیٰ مدارج جو عام ممبران لاج کو بتدریج مدت مدید مین دیے جاتے ہین شرکت\nکے وقت ہی دیدیے جاوین۔\nمینا بازار کلکتہ مین جب لیڈیز ٹو ہزمجسٹی امیر کوماتہ لیے دوکانون کی\nسیر کرا رہی تہین تو پہولون کی کمیٹی کی ممبر مس کیمبل نے ہزمجسٹی کے فراک\nکوٹ کے داہنی جانب ایک پہول لگا دیا۔ آپ نے ایک اشرفی انعام\nدی۔ پہولون کی نمایش کے سامنے مس رم مپنی۔ دوسری ممبر نے بائین طرف\nدوسرا پہول لگا دیا۔ اسے بہی ایک اشرفی دی۔ اسی دوران"}
{"book": "adl0234", "page": 79, "text": "۷۰\n\nمین مسٹر ہرنگٹن نے جنکا تعلق بہی پہولون کی کمیٹی سے تہا۔ پہولون کی\nایک ٹوکری بہری ہوئی مین سو ایک پہول پیش کیا۔ آپ نے قیمت دریافت کی\nخوبصورت بیچنے والی نے جواب دیا کہ صرف دس روپیہ۔ آپ نے سنکر\nفرمایا بہت زیادہ ہے اور اپنے ایک مصاحب خاص کو طلب فرما کر قیمت کے\nبارہ مین رائے پوچہی اوسنے عرض کیا کہ بہت ہی ارزان ہے۔ اسپر ہر مجسٹی خوب\nہنسے اور مسٹر ہرنگٹن سے کہا کہ دو پہول لگا دو مسٹر ہرنگٹن نے پہول لگا کر کہا\nکہ اب آپ بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں آپنے دو اشرفی مرحمت فرمائین\nمسٹر ہرنگٹن نے شکریہ ادا کیا۔\nکیفیت و رنگ دیکہکر میرزا محمد اکبر علیخان صاحب نے فی البدیہہ شعر موزون فرمایا\n\nبہند ہم شہ کابل جلالتی دارد\nبتان بگرد حبیب آلہ میگردند\n\nجس کو سرداران افغانی سُنکر پہڑک گئے۔ ۱۰ بجکر ۳۹ منٹ پر کلکتہ\nسے روانگی تہی مگر ایک بجے کے بعد ٹرین روانہ ہوئی۔\n\n۱۰- فروری ۱۹۰۷ء - راہ مین باڑہ۔ داناپور۔ دلدار نگر۔ آلہ آباد مین کہانا و چہار\nوغیرہ ہوئے۔ آلہ آباد مین مسٹر میکنیر کلکٹر آلہ آباد کی میم صاحبہ کو ایک انگوٹی\nعنایت کی جنہون نے ہندوستانی زبان مین رسم سلام ادا کی تہی۔ سہاگ پور\nکا انتظام جو بابو سریرام کے سپرد تہا کلکتہ کے زیادہ قیام نے درہم و برہم\nکر دیا اس انتظام کے متعلق ایک خاص امر قابل تحریر ہے کہ اس ہندو منتظم\nنے اعلیٰحضرت کے زہد و اتقا کا پاس ملحوظ رکہکر اطراف و جوائب کے میلون تک\nشرابخانے دیسی بند کروا دیے تہے ۔\n\n۱۱- فروری ۱۹۰۷ء - بمبئی جاتے ہوئے سیتارام پور مین کوئلہ کی کان کا معائنہ\n\nلہ\nبابو سریم صاحب کو میم\nصاحبہ کا دل لگ گیا تہا۔\nشخص اردو ہوا پڑہ کر میمزان\nکی خدمت مین سنائی تہی اون\nبیتال ہزارمند ان میں سے سلامتی کو\nاخلاق او مریم سیم جنہی\nسے ان کو پوری نیازمندی ہے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 80, "text": "۷۱\nنہ فرما سکے کیو نکہ شب کو اس جگہ ٹرین پہنچی تھی ۔\n۱۲۔ فروری ۱۹۰۷ ء ۔ ہنر مجسٹی کو ان کی اسپیشل ٹرین کے بمبئی پریسیڈنسی مین داخل ہونے\nپر ہز اکسلنسی گورنر بمبئی کا مندرجہ ذیل تار خیر مقدم موصول ہوا ۔\nمین ہز مجسٹی کو بمبئی پریسیڈنسی مین تشریف لانے پر تہ دل سے مبارکباد دیتا ہوں\nاور توقع کرتا ہوں کہ بیان ہز مجسٹی کی سیاحت خوشگوار ہوگی ۔ بجواب اسکے ہز مجسٹی نے مندرجہ ذیل تار دیا\nآپ کے پر محبت خیر مقدم کے جواب مین شکریہ ادا کرتا ہوں اور متوقع ہوں کہ بمبئی کا چند روزہ\nقیام کو مین خوش آیند پاؤن گا ۔\nٹھیک ساڑہے تین بجے ٹرین وکٹوریہ سٹیشن پر داخل ہوئی ۔ استقبال کیلئے\nہز اکسلنسی لارڈ لیمنگٹن گورنر و دیگر جلیل القدر برٹش حکام موجود تھے ہز مجسٹی مسکراتے\nہوئے ٹرین سے اُترے اور ہز اکسلنسی کیطرف بڑھے اسکے بعد سر ہنری میکموہن کو ذریعہ سے\nبا قاعدہ تعارف ہوا ۔ امیر بحر۔ چیف جسٹس ممبران کونسل و لیفٹیننٹ جنرل کمانڈنگ\nویسٹرن کمانڈ یکے باد یگرے پیش کیے گئے ہز مجسٹی نے ہر ایک سے تپاک کے ساتہ ہاتهہ لایا\nامیر البحر نے بحری افسرون کی ملاقات کرائی چیف جسٹس نے ججون کو پیش کیا\nچیف سکرٹری گورنمنٹ نے زاید ممبران کونسل کو ہز مجسٹی سے انٹروڈیوس کرایا لفٹنٹ\nجنرل کمانڈنگ نے فوجی افسران کی نسبت اس فرض کو ادا کیا ۔\nبعدہ ہز مجسٹی امیر ہز اکسلنسی لارڈ لیمنگٹن و سر ہنری میکموہن ایک ساتہ قیام گاہ کو روانہ ہوے\nحاضرین نے بڑے جوش سے نعرہ خوشی بلند کیے ۔ اہل بمبئی اس جلوس سے نہایت محظوظ معلوم\nہوتے تھے ہر طبقہ و ہر فرقہ کے ہزار دن آدمی خیر مقدم کیلیے رستونپر موجود تھے سلامی حصار آبادی\nمین خوب زیب و زینت کیگئی تھی ۔ ہز مجسٹی سمندر دیکھتے ہوئے اپنی کوٹھی مین جو موقع و منظر کے\nلحاظ سے بہت ہی دلکش جگہ واقع ہے وارد ہو ئے ۔\nپانچ بجے شام کے ہز مجسٹی نے گورنمنٹ ہوس مین ہز اکسلنسی گورنر سوشاہی ملاقات فرمائی"}
{"book": "adl0234", "page": 81, "text": "۷۲\nاپنے استقبال کے اعلیٰ انتظام پر شکریہ ادا کیا۔ اور بمبئی کے دیکھنے سے جو خوشی ہوئی\nتھی اس کا تذکرہ فرمایا۔ آج مغرب کی نماز ایک چھوٹی سی مسجد مین ادا فرمائی۔\nشب کو شاہی دعوت دی گئی۔ دعوت مین لارڈ لیمنگٹن نے جام صحت علحضرت\nامیر کا نوش کرتے ہوئے بیان کیا۔\nکہ ہم سب کے سب یورمجیسٹی کو بمبئی تشریف لانے پر خیر مقدم کہتے ہیں۔ ہمارے\nپر تپاک خیر مقدم کی صرف یہی وجہ نہین ہو کہ یورمجیسٹی نہایت عالی مرتبہ مہمان ہین\nبلکہ اخبارات کے ذریعہ سے ہم یورمجیسٹی کے حالات سیر و سیاحت ہند سے آگاہ ہوتے\nرہے ہین۔ ہمنے آپ کی تقریرین پڑہی ہین اور آپ کی کارروائیون و طریق پر غور کیا ہو\nجو ویسا ہی ہمدردانہ ہے جیسا کہ پُرزور ہے اور معلوم ہوا ہے کہ یورمجیسٹی کیسے غور و\nخوض سے ہندوستان کی جدید زندگی کی تعلیمی، تجارتی، علمی ترقیون کو ملاحظہ فرماتے\nہین اور انہین خود اپنی آنکہون سے دیکھنے اور ان کے حالات کانون سے سُننے کے\nمشتاق ہین۔ نیز یورمجیسٹی کی سپاہیانہ صاف دلی اور دلآویز تقریرین یہ تمام باتین\nاسپر دال ہین کہ یورمجیسٹی کی رونق افروزی پر تہ دل سے اظہار مسرت کیا جاوے۔\nہمین امید ہے کہ اس شہر مین یورمجیسٹی کو بہت ہی دلچسپ باتین ملینگی۔ صرف\nبندرگاہ اور سمندر جو ہمین گھیرے ہوئے ہے یہ ان کے لیے ایک نئی چیز ہوگا\nہمین امید ہے کہ ہز اکسلنسی امیر البحر بو ملک معظم ایڈورڈ ہفتم کے جنگی جہازات\nکی قابلیت اور ان کی کلون وغیرہ کے کچھ نمونے آپ کو دکھانے مین کامیاب\nہونگے۔ مین امید کرتا ہوں کہ ہم لوگون مین آپ کا قیام فرحت و مسرت کا موجب ہوگا\nاور ہماری تمنا ہے کہ کراچی (جو اس پریزیڈنسی کا ایک با رونق حصہ ہو) کا\nسفر ہی خوشگوار ہو۔ مین آخر مین دعا کرتا ہوں کہ سفر آیندہ مین\nصحت و سلامتی آپ کی رفیق ہو۔ اور یورمجیسٹی کی یہ سیاحت اس ملک"}
{"book": "adl0234", "page": 82, "text": "۷۳\n\nاور افغانستان کے درمیان اتحاد مزید تقویت کا باعث ثابت ہو۔\nاب لیڈیز و جنٹلمین سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ہز مجسٹی امیر افغانستان\nکی صحت و سلامتی اور وطن کو بمسرت مراجعت کی نسبت جام بھر کر نوش فرمائیں۔\nجواب میں اعلیحضرت نے فارسی میں تقریر ذیل فرمائی۔\n\"ہندوستان میں کیا آیا میں اپنے مہربان دوستوں کے ملک میں آگیا ہوں\nہندوستان آنے سے پیشتر ہم اپنے آپ کو دوست کہتے تھے۔ اب میں یہ\nکہنے کے قابل ہوں کہ پہلے ہماری دوستی جو بمنزلہ ایک پودے کے تھی\nاب بڑے درخت کے مانند ہوگئی ہے یہ ایسا مہتم بالشان درخت ہے کہ\nہم سب اس کے سایہ میں بیٹھ سکتے ہیں۔ اور پھل جمع کر سکتے ہیں میں اپنے\nمہربان دوستوں کی عنایتوں اور شفقت آمیز برتاؤ کا کسی طرح شکریہ ادا\nنہیں کر سکتا۔ میں نے ہندوستان میں بہت سا تجربہ حاصل کیا ہے۔ اور\nتوقع ہے کہ میں آئندہ اس سے اپنے ملک کو فائدہ پہونچا\nسکوں گا۔\nمجھے یہ کہنے دیجئے کہ افغانستان کبھی ہندوستان کی دوستی سے\nمنہ نہ موڑے گا۔ جبتک کہ سلطنت ہند دوستی کو قایم رکھنے کی خواہان\nہوگی تب تک افغانستان و برطانیہ باہم دوست ہونگے۔\nدوران سیاحت ہند میں میرے اس قدر ذاتی دوست ہوگئے ہیں\nکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ بجائے کسی غیر ملک کے میں اپنے ملک میں ہوں\nآج ہم سب ہز اکسلینسی گورنر کے مہمان ہیں۔ میں آپ سے\nدرخواست کرتا ہوں کہ میرے مہربان دوست لارڈ لیمنگٹن کا\nبہترین جام صحت نوش کریں۔\n۱۰"}
{"book": "adl0234", "page": 83, "text": "۷۴\n\n۱۳ فروری ۱۹۰۷ء- ہمرہی برٹش افسران کے شمالی و جنوبی توپ خانون کا\nمعائنہ کیا- توپون کی گولہ باری سے بہت خوش ہوئے۔ اور خود بھی ایک\nتوپ چلائی- چند گھنٹے بری و بحری اسٹور میں بسر کیے اور کچھ خریداری بھی فرمائی\nپہر میدان گھوڑ دوڑ میں جاکر وہان کی سیر کی- گھوڑون پر جنرل\nرچرڈسن کے ساتہ بازیان لگائیں- مگر آپ کا انتخاب کیا ہوا کوئی گھوڑا نہ جیتا\nشرط ہارنے پر آپ خوب ہنسے اور جنرل رچرڈسن کو جیتنے پر مبارکباد دی\nگھوڑ دوڑ کے میدان ہی میں نماز ادا کی-\nبعد نماز لارڈ لیمنگٹن و لیڈی جنکنن کی پارٹی کے ساتہ چا رمین\nشریک ہوئے۔ رات کو سر لارنس جنکنن چیف جسٹس کے یہان مہمان ہوئر\nشہر مین شب کو چراغان ہوا آپ کو بدیر اطلاع ہونے سے آپ\nنہ جاسکے مگر اپنے جملہ سرداران کو جانے کا حکم دیا۔\n***\n۱۴- فروری ۱۹۰۷ء آپکے ملاحظہ کے لیے آج یونیورسٹی۔ ہائیکورٹ سیکرٹریٹ\nکے دفاتر آراستہ کیے گئے لیکن ہزمیجسٹی بری و بحری کارخانہ کو تشریف لے گئے\nبہت سی اشیاء تھوڑی تھوڑی مقدار مین خرید فرمائیں۔ سہ پہر کو\nاپالو بندر پر بیڑہ جہازات کا ملاحظہ فرمایا۔ کمانڈر نے استقبال کیا\nجہازون سے اتواپ سلامی سر ہوئیں۔ جہاز ڈامڈم پر برقی بٹن دبائیے\nآپنے ایک توپ چلائی۔ آپ بہ نسبت بری ساز و سامان کے بحری سامان حرب و\nکلون میں بہت دلچسپی لیتے ہیں۔\nجہاز ہرمز پر آپنے فرمایا کہ میرے ملک میں سنتری نہین جب مین حکم دے دیتا ہون کہ\nکوئی بازار میں نہ چلے تو اسکی تعمیل ہوتی ہے۔ رات کو سرکس کی کرتب معائنہ فرما کر بہت محظوظ ہوئی"}
{"book": "adl0234", "page": 84, "text": "۷۵\n۱۵-فروری ۱۹۰۷ء- احمد دلوجی نجار کے کارخانہ فرنیچر مین ایک نہایت نفیس سیاہ\nچوبی فرنیچر جو ایک ہندوستانی والی ریاست کی فرمایش سے کارخانہ نے تیار کیا\nتھا اُس کی قیمت دریافت کر کے آپ نے فرمایا کہ فرنیچر کابل بھیج دینے کے\nلیے فروخت کر دیا جاوے اور مسکرا کر ارشاد فرمایا کہ ایسا بڑا کارخانہ ہندستان\nوالی ریاست کے محل کے لیے فرنیچر کا دوسرا سٹ بہت جلد تیار کر سکتا ہے\nعرض کیا کہ سٹ بہت جلد کابل بھیجہ یا جاویگا۔\nآپ اور آپ کے ہمراہی ہندوستانیون کو لکڑی کے کام مین ایسا ماہر\nاور اعلیٰ درجہ کا صناع و کاریگر پا کر بہت خوش ہوئے اور وعدہ فرمایا\nکہ وقت ملا تو پھر کارخانہ مین ہم آئینگے۔\nبعدہ جامع مسجد مین نماز جمعہ ادا فرمائی۔ وہان سے ٹریجر اینڈ\nکمپنی کے کارخانہ مین گئے پھر قیامگاہ پر تشریف لائے۔\n\n۱۶- فروری ۱۹۰۷ء- آج عربی گھوڑون کے صطبل کا معائنہ فرمایا بارہ گھوڑے\nخریدے۔ وہان سے گھور ڈور مین تشریف لائے۔ رات کو مسٹر سر\nاچبالڈ ہنٹر کے یہان مہمان ہوئے۔\n۱۷- فروری ۱۹۰۷ء- آج پونا تشریف لیگئے۔ اول یہان گنیش کنڈ مین اُترے بعدہ\nروشرول تشریف لیگئے۔ جو دریا کے کنارے واقع ہے اور پونا کا بہترین مقام ہو شام کو\nواپس بمبئی ہوئے اور شب کو پھر چیف جسٹس کے مہمان ہوئے۔\n۱۸- لغایت ۲۰- فروری ۱۹۰۷ء- غرضنکہ بمبئی مین خوب سیر کی سرکس کا تماشہ دیکھا دوکانون مین\nآزادانہ جا جا کر ضروری اور خوشوضع و خوبصورت چیزین خرید فرمائین۔ مختلف لباسون\nمین اپنی تصویرین اُتروائین۔ اعلیٰ عہدہ داران برٹش کے مہمان ہوئے خوش ہوؤ اور اُن کو"}
{"book": "adl0234", "page": 85, "text": "۷۶\n\nخوش کیا۔ خصوصاً لارڈ لیمنگٹن گورنر سرلارنس جنکنسن چیف جسٹس ولیڈی جنکنسن\nوغیرہ نے ہز مجسٹی کو محظوظ ومسرور کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔\nمسجدوں میں جاکر نمازیں ادا کیں۔ غار الی فنٹا کا معائنہ کیا۔ مشہور مخیرہ\nعجیب وغریب عورت مسماۃ جانکی سے ملکر غریب حاجیوں کی امداد واعانت\nکے متعلق اس کی کوششوں کا شکریہ ادا فرمایا۔\n\n۲۵- فروری ۱۹۰۷ء ۔ سہ پہر کو ساڑہے تین بجے بقصد روانگی کراچی اپولو بندر\nپر تشریف لائے۔ شاہی گاڑی پہونچتے ہی بڑے جوش وخروش سے چیئرزدیے\nگئے۔ دخانی کشتی میں سوار ہوکر جنگی جہازات کیطرف تشریف لے گئے۔\nسلامی سر ہوئی۔ ہر مز جہاز کو معائنہ کیا۔ بعدہ اسٹیمر ڈفرن پر سوار ہوکر\nجہاز کے متحرک ہوتے ہی دیگر جہازوں نے سلامی کی توپیں سر کیں۔\n۲۶- فروری ۱۹۰۷ء دریا میں گزرا\n۲۷- فروری ۱۹۰۷ء ۔ کو ایک بجے دن کے کراچی میں ورود ہوا۔ التواب\nسلامی سر ہوئیں۔ کمشنر سندھ وکمانڈنگ افسر فوج مع اپنے اسٹاف کے\nاستقبال کے لیے موجود تھے۔\nپونے پانچ بجے کیپٹن بلیک ڈائرکٹر صیغہ بحر اور دیگر افسران جہاز ڈفرن\nہز مجسٹی کے ودائی سلام کو حاضر ہوئے۔ آپ نے جہاز ڈفرن پر آرام وآسائش\nکے اعلےٰ انتظام پر خوشنودی ظاہر کی ملازمان جہاز کو فیاضی سی انعام عطا فرمایا۔\nاسکے بعد موٹر کار میں سوار ہوکر بندرگاہ کی سڑک سے سرکاری باغات گئے چڑیا گھر دیکھا۔ مچھلی\nکی دوکان سی چند اشیاء خریدیں اور یہیں نماز شام ادا کی بعدہ ریلوے اسٹیشن پر وارد ہوی۔ دانگی سی پہلے\nکمشنر سندہ اور انکی میم صاحبہ کو اپنی ایک ایک تصویر اور میم صاحبہ کو ایک مالا بھی عنایت کی پونے نو بجے کراچی سٹ ٹرینیں ہوئے"}
{"book": "adl0234", "page": 86, "text": "۷۷\n\n۲۸ فروری ۱۹۰۷ء ۔ راہ مین اسٹیشن بہاولپور پر کچھ ٹھہرے نواب مرحوم کی تعزیت\nفرمائی ۔\nیکم مارچ ۱۹۰۷ء ۔ لاہور پہنچے۔ اسٹیشن خوب آراستہ تھا۔ ٹرین سے ہزمیجسٹی اتری\nیورپین حکام و ہندوستانی رؤسا استقبال کے لیے موجود تھے۔ اسٹیشن کے\nباہر کیمپ کی سڑک پر خلقت کا اژدحام تھا۔ آج شاہی مسجد مین نماز جمعہ ادا فرمائی\nمسجد مین عیدین سے بھی زیادہ مجمع تھا۔ مسجد کو عمدہ طریقہ سے آراستہ کیا گیا تھا۔ امام مسجد نے خطبہ پڑھا اور نماز پڑھائی\nآپ نے امام کی قرأت سے خوش ہو کر خلعت مع زر نقد مرحمت فرمایا موذن\nکو بھی ایک دوشالا بخشا۔\nمسجد سے نکلنے پر لوگوں نے آپ پر پھول برسائے۔ مسجد سے سیدھے\nآپ شہنشاہ جہانگیر کے مقبرہ پر گئے۔ فاتحہ پڑھی چند منٹ مراقبہ مین رہے\nکچھ اشرفیان قبر پر رکھکر اُٹھ کھڑے ہوئے۔ مالی باغ نے بھی انعام پایا\nاُس کے بعد چیف کالج گئے جہان پرنسپل و ممبران اسٹاف نے\nاستقبال کیا۔ معززین طلباء مین خورد سال مہاراجہ پٹیالہ۔ کم سن راجہ\nفرید کوٹ۔ ولیعہد چمبہ۔ خیرپور سندھ کے خورد سال میر سے ملاقات فرمائی\nپرنسپل کے ساتھ تمام عمارات کالج کا معائنہ کیا۔ کچھ سوالات کیے اور\nکتاب مین اپنے معائنہ و مسرت کا تحریری اظہار فرمایا۔\nکالج کے بعد آپ چھاؤنی میانمیر مین تشریف لائے۔ لفٹنٹ جنرل والٹر\nکچنر نے استقبال کیا۔ سر چارلس ریواز اور شہر و چھاؤنی کے جنٹلمین و لیڈیاں\nبھی موجود تہین۔ لیڈیون کی ایک کمیٹی جو خیر مقدم کے لیے بنائی گئی تھی وہ حاضر\nہوئی۔ آپ ہر ایک سے نہایت خوش خلقی سے پیش آئے۔ لیڈیون کو جگنیاں۔\nانگوٹھی۔ چھلے وغیرہ عنایت کیے شیکو لفٹنٹ گورنر پنجاب کے مہمان ہوئے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 87, "text": "۷۸\n۲- مارچ ۱۹۰۷ع۔ آپ کے پروگرام میں تھا کہ اعلحضرت آج دوپہر کو سنگ\nبنیادی اسلامیہ کالج نصب فرمائیں گے۔ جسکی وجہ سے اطراف و جوانب\nسے بکثرت عمائد و خواص جمع ہوے تھے۔ عین وقت پر خبر ملی کہ آپ\nبجائے آج کے کل شام کو پانچ بجے تشریف لائین گے۔ آج گیارہ بجے تک\nکیمپ سے کہیں باہر تشریف نہین لے گئے۔\nبعدہ میسز رنک اینڈ کلوی جو ہری کی دوکان پر گئے وہان دس ہزار\nکا مال خرید فرمایا۔ جسکو ہمراہ لائے۔ سہ پہر کو لارنس حال میں ٹینس اور\nکرکٹ کے کھیل ملاحظہ فرمائے۔ شب کو لفٹنٹ کچنر کے مہمان ہوئے۔\n۳۔ مارچ ۱۹۰۷ع۔ آج امرت سر تشریف لے گئے۔ اسٹیشن سے اتر کر سیدھے\nدربار صاحب پہونچے حسب معمول عام جوتہ اُتار کر اندر گئے۔ اندر جانے سے پہلے\nجیب سے سگار نکال کر پھینکدیا۔ خدام دربار نے وہ چتر جو مہاراجہ\nرنجیت سنگہ کے سر پر لگایا جاتا تھا اور کرسی حاضر کی آپنے ان تکلفات کو منظور نہ فرمایا\nاور کہا کہ مین فقیر کے دربار مین آیا ہوں مجھے یہان شان و شوکت درکار نہیں۔\nپھر آپ گورو صاحب کے اُس تخت تک گیے جہان آج تک کوئی سکھ\nبھی نہین جاسککا۔\nیہہ آپ کی خصوصیت باعتبار رعایا پرور بادشاہ کے ہے۔ جس کی شان\nہر مذہب و ملت کی حمایت و پرورش ہوا کرتی ہے۔ تمام اہل دربار نے بار بار\nدلی جوش کیساتھہ سری ست اکال بلہی مہاراج کی جے اور برہمنون نے اشیر باد\nاشیر باد کے دعائیہ نعرے لگائے (بلھا حبیب اللہ کا مخفف ہے) آپ نے\nعلاوہ خدام کے دربار کے لیے بھی معتد بہ رقم عنایت فرمائی۔ یہان سے آپ\nخالصہ کالج تشریف لے گئے دہان بھی کچھہ عطا فرمایا۔ بعدہ والپور لامپور ہوئے"}
{"book": "adl0234", "page": 88, "text": "۷۹\n\nٹرین سے اُتر کر ساڑھے پانچ بجے کے قریب اسٹیشن سے سیدھے\nاُس موقع پر جہان اسلامیہ کالج کے بنیادمی پتھر رکھنے کا جلسہ تہا پہونچے۔\nخلقت کا اژدہام خیال سے بہت زیادہ تہا۔ جلسہ کیطرف سے ایڈریس دیا گیا۔ آپنے\nجواب مین جو تقریر فرمائی اُسکے لفظ لفظ سے راستبازی۔ مذہبی جوش۔ اسلامی محبت\nٹپکتی تہی یہ شعر ارشاد کیا ۔\nہمچو پر کاریم یکپا در شریعت مستقیم\nپائے دیگر سیر ہفتاد و دو ملت میکنم\nآپ نے روز گذشتہ کے نہ آنے کی تلافی ایسی فرمائی کہ مسلمان فرط خوشی سے\nباغ باغ ہو گئے۔ جوش ارادت مین ہر متنفس کا دل آپ پر قربان ہونے کو چاہتا\nتہا۔ اس کے بعد لوگون نے نظم پڑہنے کی اجازت چاہی جسپر فرمایا کہ کام\nکی باتین کرنا چاہیئن۔ فوراً اُٹھکر وہان آئے جہان سنگ بنیادی نصب کرنا\nتہا سنگ مرمر کے کتبہ کو اپنے ہاتہہ سے نصب فرمایا۔ اور سوار ہوکر تشریف لیگئے\n\n۴ ۔ مارچ ۱۹۰۷ء ۔ آج شالا مار باغ تشریف لے گئے وہان بعض عمدہ درختون کے\nبیج افغانستان ہمراہ لیجانے کی خواہش ظاہر کی۔\nشب کو مسٹر ڈابس ڈپٹی فارن سکرٹری جو ہز مجسٹی کے ساتہہ شروع سفر سے تھے\nاور جنکا رتبہ بعد سر ہنری میکموہن کے برٹش پارٹی ہمراہی مین تہا۔ اُن کی شادی\nمین شریک ہوئے جو سر چارس ریواند کی بھتیجی کے ساتہہ ہوئی۔ اور آج کا قیام\nاسی تقریب کی وجہ سے عام طور پر خیال کیا جاتا ہے۔ شب کو اکونٹ جنرل کے\nمہمان ہوئو اور قریب ایک بجے شب کے لاہور سے روانگی ہوئی۔\n۵ مارچ ۱۹۰۷ء۔ شام کے بعد ٹرین پشاور پہنچی راتکی تاریکی کیوجہ سے مراسم و تکلفات کو ہاتھہ ملحوظ نہ ہوسکا"}
{"book": "adl0234", "page": 89, "text": "۸۰\n۶ مارچ ۱۹۰۷ء ۔ شب کی بارش نے راستون کی حالت بدتر کر دی تھی۔ آج صبح\nسے بھی ضعیف ترشح برابر ہوتا رہا تھا۔\nکیچڑ پانی سے پیدل چلنے والون کی مٹی خراب تھی زبان حال ہر ایک یہ کہتی تھی\nپاؤن نیچے سے پکڑتی ہے یہان کی کیچڑ\nڈبقولین اوپر سے لگاتا ہے تراٹر پانی\nدوپہر کو کچھ مطلع صاف ہوا۔ اُس وقت ہز مجسٹی موٹر کار مین سوار ہوئے\n(پھسلنے کی وجہ سے موٹر کار کو تیز نہین چلایا جاسکتا تھا ۔) اور آپ اُس مقام\nپر پہنچے جہان کئی دن سے فوجی کھیل ہو رہے تھے ۔ ہائیلینڈر ۔ بریگیڈ\nکے کرتب ملاحظہ فرمائے ۔ بالخصوص تلوارون کے ناچ سے بہت محظوظ\nہوئے ۔ شب کو سر ہیرلڈ ڈین چیف کمشنر کے مہمان ہوئے۔\n۷ مارچ ۱۹۰۷ء ۔ آج زمانہ سیاحت ہند ختم ہوا۔ صبح آٹھ بجے آپ سٹیشن پیشاور پر\nوارد ہوئے۔ پلیٹ فارم پر فوجی و ملکی عہدہ داران کا بہت بڑا ہجوم تھا حاضرین\nمین ہر شخص سے بقدر مراتب رخصتی اخلاق فرمایا اور ٹرین مین سوار ہوئے\nنو بجے سے پہلے گاڑی جمرود پہونچ گئی ۔ سرحدی توپخانہ قلعہ نے سلامی سر کی\nہز مجسٹی کے اُترنے پر مقامی افسران خیبر رائفل نے استقبال کیا خیمت\nہوتے وقت ان لفظون مین اظہار مسرت و خوشنودی فرمایا۔\nجمرود در وقت مراجعت از سفر ہندوستان و داخل شدن بخاک افغانستان\nاز دورہ ہندوستان که در شصت و چهار روز بدوره مذکور بودم آنقدر محظوظ هستم که از حد\nبیان بیرون است ۔ انچہ از گورنمنٹ انڈیا خود و جناب وایسراے صاحب و\nکمانڈر انچیف صاحب وغیرہ افسران نظامی و حکام ملکی هندوستان\nملاحظہ کردم ۔ ہمہ محبت و دوستی بود ۔ و ہمہ شان را"}
{"book": "adl0234", "page": 90, "text": "۸۱\n\nدوست دولت افغانستان و دوست خود یافتم من میتوانم گفت که درین قلیل زمان گردش خود در هندوستان\nانقدر دوستهای صادق برای دولت افغانستان و برای شخصی خود پیدا کردم که اگر از افغانستان در\nهندوستان نمی آمدم بیست سال پیدا کرده نمی توانستم پس امر و ملت افغانستان و خود را بسیار کیا و میدهم که لک\nخوب دوستها هستم. دوست من سر هنری مکمهون این مضمون نوشته برای مدیر اخبارات رنجبر\nبدهند تا در اخبار خود شایع کند که تمام عالم واقف شود امضاء سراج الملة والدین\nسر هنری میکمهون کی خدمات کے صلہ مین شکریہ کے ساتھہ تمغہ حرمت و خطاب سردار عطا\nفرمایا۔ اور میجر برڈ و میجر بروک کو بھی تمغہ حرمت عنایت کیا۔ کیپٹن ڈمبنیہ میجر ڈیوک کیپٹن پیری\nکو تمغہ عزت اور سر فیلڈ و سر داسی کو تمغہ خدمت مرحمت فرمائے۔\nٹھیسیجان کے لیئے ایک رقم بالمقطع سر هنری میکمهون کی تفویض کی کہ آپ علیٰ قدر مراتب\nجسکو جس قابل سمجھین انعام کے طور پر ہدایہ بخشنین۔\nبعدہ ہز مجسٹی اور اُن کے ہمراہی متعد د گاڈیون مین سوار ہوئے خیبر کے راستہ کا انتظام\nکافی تھا۔ ساڑھے بارہ بجے رونق افروز لنڈی کوتل ہوے قلعہ سے سلامی سر ہوئی۔ یہان دوپہر\nکا کھانا تناول فرمایا۔ بے تار کی تار برقی کا کچھہ تجربہ کیا۔ ساڑھے چار بجے ایک اسپ سرنگ پر\nسوار ہو کر اور لنڈی خانہ سے انگریزی اسٹاف کو واپس کر کے مع الخیر اپنے ملک کو تشریف لیگئے\nہز مجسٹی شاہ افغانستان کے اخلاق و صفتا اعلحضرت مین جو جو قابلیتین و خوبیان پائی جاتی ہین وہ ایک الیشانی\nفرمانروا کی ذات واحد مین مشکل سے جمع ہوتی ہین۔ خداوند عالم نے خوبیان و صفات عطا\nفرمانے مین اُن کے ساتھہ اپنی فیاضانہ عنایت سے کام لیا ہے۔ وہ دانشمند۔ ذہین و ذکی\nرحمدل۔ روشن خیال حلیم۔ خلیق مستقل مزاج متین متواضع۔ غیر متعصب۔ ظریف۔ سخی\nجری۔ صاحب علم۔ خوش بیان۔ علوم و فنون کے شایق۔ اسلامی خیالات و مذہبی عقائد\nکے لحاظ سے وہ ایک پاکباز اور نیک کردار مسلمان ہین۔\nاون مین دو صفات اعلیٰ درجہ کی ہین۔ اوّل یہہ کہ جو بات دل مین ہے وہی زبان پر\n۱۱"}
{"book": "adl0234", "page": 91, "text": "۸۲\n\nظاہر و باطن یکسان ہے- ریا کاری جو بدترین خصائل انسانی میں سے ہے اُن میں نہیں۔\nدوسرے حسد نہیں بہانہ ڈھونڈ کر کسی کو سزا نہیں دیتے بلاوجہ کسی کے خواہان زوال نہیں\nمسائل دینی کی بصیرت میں اُن کا مرتبہ کسی طرح ایک فقیہہ سے کم نہیں۔ طلباء علیگڈھ\nکالج وٹرسٹیان سے متعدد سوالات مذہبی کا دریافت کرنا ہمارے اس بیان کی قوی حجت ہی\nقرآن پاک سننے پر رقت طاری ہونا اور گریہ کا ضبط نہ کر سکنا نرمی دل و خوف خدا\nکی بین دلیل ہے-\nبیان میں روانی، درستی و سلاست ہے جس موقع پر جو کچھ فرمایا وہ نہایت صاف،\nسچا و مناسب وقت تھا۔ اون کی گفتگو میں بناوٹ کو دخل نہیں۔ اُن کا بیان راست و\nسنجیدہ ہوتا ہے- اوہنوں نے بعد ملاحظہ علیگڈھ کالج جو تقریر فرمائی وہ ہر طرح حیرت\nانگیز تھی۔ وہ ایک فقرہ اسپیچ کا فارسی میں فرماتے تھے۔ ترجمان اُس کا ترجمہ اُردو میں\nسُناتا تھا- اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر اسپیچ ختم ہوئی مگر تسلسل واقعات و خوبی بیان میں فرق\nنہ آنے پایا یہ وہ صفت ہے جس کی تعریف مشکل سے ہو سکتی ہے۔\nتعلیم و تربیت ابتدائی تعلیم آپ کی مملکت روس میں ایسی ہوئی جیسی کہ حالت و زمانہ کے\nاعتبار سے ہونی چاہئے جب امیر مرحوم سریر آرائے تخت کابل ہوے تو پھر باقاعدہ\nتعلیم مذہبی، اخلاقی، عربی و فارسی زبانوں میں شروع ہوئی اور ساتھ ہی انگریزی بھی\nسکھلائی گئی- تعلیم سے زیادہ آپ کی تربیت ہوئی۔\nفارسی و پشتو تو آپ کی مادری و ملکی زبانین ہیں۔ عربی کے بھی ماہر ہیں۔ روسی\nو انگریزی زبانوں کو بقدر ضرورت جانتے ہیں- اُردو کو بخوبی سمجھہ لیتے ہیں۔ اور اسمین\nمطلب بھی ادا فرما لیتے ہیں۔\nامور سیاست کی تربیت جس خوش نصیب شخص نے امیر عبدالرحمن خان مرحوم جیسے\nمدبر حکمران سے پائی ہو اُس میں کیا کمی رہ سکتی ہے جس سعی بلیغ سے مرحوم مغفور نے"}
{"book": "adl0234", "page": 92, "text": "۸۳\n\nمعاملات سلطنت وپولیٹیکل مصالح سے آپ کو باخبر کیا ہے۔ اُس سے بہتر ناممکن نہیں تو\nدشوار یقینی ہے۔\nتہذیب وشائستگی اعلحضرت کی تہذیب و شائستگی نے اہل مغرب کو متغیر بنادیا۔ آپکی صحبت\nذی علم اشخاص مین سے ملاؤں کے ساتہہ رہی لیکن سفر ہند وستان مین ہر موقع پر آپنے\nثابت کر دیا کہ آپ پکے مسلمان ہین مگرشکی خیالات کے مسلمان نہین جس قوم مین آپکی\nپرورش ہوئی اُس پر نئی تہذیب کا سایہ نہیں پڑا مگر مہذب قومون سے تسلیم کرا دیا کہ آپ\nکی تہذیب ہر گز کسی اعلیٰ درجہ کے مہذب تعلیم یافتہ شخص سے کم نہین۔\nشاہ افغانستان کی شائستگی نے اُن کے ہر ملازم کو شائستہ بنادیا ہے افغانی سپاہی\nمغربی سولجرون سے زیادہ مہذب ہین اُن کی تہذیب و شائستگی ترکون کی تہذیب کا کچھہ دِنوں\nمین دعوے کرے گی۔\nافغانی جنگجو بدویانہ زندگی بسر کرنے والی قوم جسپر نہ ہنوز مغربی سایہ پڑا اور نہ جسکو دنیا کی\nسیر و سیاحت کا موقع ملا اُسکا اس حالت تہذیب پر اسقدر جلد پہنچنا محض اعلحضرت کی کرمت\nتہذیب کہنا چاہیئے۔ ورنہ کہان ملک افغانستان اور کہان یہ موجودہ تہذیب شایستگی۔\nاخلاق ہز مجسٹی امیر خلق محمدی کا نمونہ ہین۔ عام طور پر اخلاق برتنا۔ لوگون کیساتہہ خندہ\nجبینی سے پیش آنا۔ یصفت اُن کی طبیعت ثانی ہے گفتگو مین ایسی دلکشی ہے کہ مخاطب\nہمہ تن شوق بنجاتا ہے۔ ایک انگریزی اخبار رقمطراز ہے کہ ہز مجسٹی امیر کابل ایسے اعلیٰ پایہ\nکے شخص ہین جنپر ایشیا ہر کو فخر کرنا چاہئے ایک اور انگریزی اخبار کا بیان ہو کہ ظاہر کی طرح\nآپ کا باطن بہی نہایت شاندار ہے۔ وہ فطرتاً تواضع۔ مہربانی خلق۔ اور تمام انسانی\nخوبیون سے آراستہ ہین۔ وہ مطلق متکبر نہین۔ وہ تمام امتحانوں مین پورے اُترے\nاُنکا خلق امیرون و غریبون کے ساتہہ یکسان ہے مسلمان۔ عیسائی۔ بنگالی۔ پارسی\nاور عام ہند وسب ہی ایک زبان ہوکر اُن کے اخلاق کے ثناگر ہین۔"}
{"book": "adl0234", "page": 93, "text": "۸۴\nذہن و ذکا ذہانت و ذکاوت کیلئے یہ دلائل کافی ہیں کہ لنڈی کوتل پر بے تار کی خبر رسانی کے\nمتعلق اور کانپور مین کارخانون کے انجیرون سے جو سوالات آپ نے کیے اُن کے جواب مین\nماہرین فن نے بھی اپنی عاجزی کا اعتراف کیا۔\nمستعدی ہز مجسٹی نہایت محنتی اور جفاکش ہیں۔ تمام زمانہ سیاحت ہند سے اسکا ثبوت ملتا ہے\nکاروبار سلطنت مین جب آپکی مصروفیت ہوتی ہے تو ایک مستعد و باخبر حکمران کے مثل ہوتی ہے\nبغیر ختم کیے کام کے وہ آرام نہیں فرماتے۔ بعض کا بیان ہے کہ وہ کام کم کرتے ہیں مگر جب\nاو جسقدر کرتے ہیں وہ پیش کرتے ہیں۔ سفر ہند سے جاتے ہی اُنہون نے دورہ ملک\nشروع فرما دیا اور یون بھی وہ ہمیشہ اور اکثر دورہ فرماتے رہتے ہیں۔ لوگون کی شکایتون\nاور عرضدا شتون کو سنتے ہیں۔ لیکن احکامات کے اجرا مین تعویق سنی جاتی ہے\nاگر یہ سچ ہے تو اس نقص کو رفع فرمانا چاہئے۔ بہی خواہانِ اسلام کی آرزو ہے کہ کسی\nقسم کا نقصان نہ باقی رہنا چاہیے۔ اصول قانون ہے کہ انصاف مین دیر کرنا حکومت\nکو ضرر پہونچانا ہے۔\nتواضع و تمکنت مامون الرشید اعظم کا قول ہے کہ شریف کی بڑی پہچان یہ ہے کہ چھوٹے سے\nدب جائے اور بڑے کو دبا لے۔ تواضع و خودداری مین امیر کی یہی شان ہے تمکنت شاہی\nکو عاجزون کے مقابل کام نہیں فرماتے۔ برابری کے موقع پر اعتدال رکھتے ہیں۔\nایک غریب لڑکے سے بے تکلف باتین کرنے مین مضائقہ نہین کیا۔ مسجد مین اپنے لیے\nامتیاز کی جگہ کو گوارا نہیں کرتے۔ عام مسلمانون سے زیادہ مستحق اپنے آپ کو نہیں جانتے\nدوستون کی صحبتون مین بے تکلف جانا۔ ملاقاتیون سے مسرت کے ساتھ ملنا اُن کا\nخاص طریقہ ہے۔ لیکن افسرون سے سرکاری طور پر ملنے کا جب اتفاق ہوتا ہے تو اُس\nوقت امتیاز مد نظر رکھتے ہیں۔ چنانچہ وائسراے کی باز دید ملاقات پر اسکا پورا ثبوت دیا۔\nجیسے کہ خود داری کو خود عزیز رکھتے ہیں ویسے ہی دوسرے کی واقعی عزت کا لحاظ"}
{"book": "adl0234", "page": 94, "text": "۸۵\nفرماتے ہیں، آگرہ کا ذکر ہے کہ حضور وایسرائے نے تقریر کی ہز میجسٹی کا ترجمان اس کا\nترجمہ فارسی میں سنانے لگا اور وایسرائے کے ہر قول کے آغاز میں کہا کہ وایسرای عرض\nمیکند تو امیر نے سرزنش کی کہ بگو فرمانروای ہند می فرمایند۔ دوبارہ ٹوکنے پر ترجمان\nسنبھلا اور اس نے عرض میکند نہ کہا۔\nجو اعلیٰ خطاب برطانیہ عظمہ و ملک معظم قیصر ہند ایڈورڈ ہفتم کیطرف سے امیر کو دیا جانا\nقرار پایا تھا وہ اعلیٰ خطاب خود وایسرائے کو حاصل نہ تھا اس اعتبار سے وایسرای عطا\nخطاب کا منصب نہ رکھتے تھے۔ لہذا فارن سکریٹری نے ملک معظم ایڈورڈ ہفتم کا ایک\nخاص فرمان پڑھا جس میں حضور وایسرائے کو بہ نیابت خود خطاب دینے کا اختیار دیا گیا\nتھا جب فرمان پڑھا جا چکا اور فارن سکریٹری نے فرمان حضور وایسرائے کو دے دیا\nتو لارڈ کچنر و لفٹنٹ جنرل سر چارلس ایجرٹین ہز میجسٹی کو عطاے خطاب میں مدد دینے کو\nحسب ایما ر وایسرائے اُٹھے۔ اُس وقت ہز مجسٹی اپنے تخت سے جو حضور وایسرائے کی\nدہنی جانب تھا ایک دو سیڑھی نیچے اُترے اور بآواز بلند انگریزی زبان میں یہ فقرہ فرمایا\nکہ ”یہ تعظیم ملک معظم ایڈورڈ ہفتم کے لیے ہے۔“ جو لوگ رموز سلطنت و کلام ملوک سے\nواقف ہیں وہ اس بر محل فقرہ کا مطلب بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔\nیورپ کے شاہان ہم عصر بھی ایسے موقعوں پر عطا کنندہ خطاب پادشاہ کا اسی طرح\nاحترام کرتے ہیں۔ اپنی لاعلمی کی وجہ سے عوام کا کوئی دوسرا خیال ہو تو اُن کی نادانی کا نتیجہ ہے\nدلیری اور شجاعت امیر مرحوم اپنی تزک میں لکھتے ہیں کہ جب میں قندہار اور ہرات کے قضیوں\nکو پاک کرکے کابل پہنچا تو مجھے پروانہ خان و حبیب اللہ خان کی خدمات سے نہایت خوشی\nہوئی۔ ان دنوں حبیب اللہ خان بالکل بچہ تھا لیکن اس نے بڑا کام کیا کہ میری غیبت\nمیں سپاہیوں میں جاکر میری طرف سے جوش دلایا۔ نہ پریشان ہوا نہ لڑائی کا خوف کیا بلکہ\nہر بات و مشورے میں پروانہ خان عبدالحمید خان و دیگر افسروں کے جن کو میں نے اسکی"}
{"book": "adl0234", "page": 95, "text": "۸۶\nنگرانی کے لیے مقرر کیا تها برابر شریک ہوتا رہا اور کوهستان حسارک کے قبیلون محمود کتای\nعبدالرشید- جمعه خان - محمود حسین کو نہایت جسارت کے ساتھ غدر سے باز رکہا۔\nجب ہز مجسٹی امیر جوان ہوے اور امیر مرحوم کے زمانہ مین بغاوتین ہوئیں یا کافرستان پر\nحملہ کیا گیا اُن مین سے جس معرکہ مین ہز مجسٹی شریک ہوے نہایت شجاعت سے خود لڑے\nاور فوج کو لڑایا۔ کبهی جنگ اور دشمن کی طاقت کے وسوسہ کو دلمین نہ آنے دیا۔ جلال آباد\nمین بندوق پھٹ جانے سے اُنگلیون مین سخت صدمہ پہنچا عمل جراحی کے وقت ڈاکٹر\nنے جب اُنگلیان قطع کین تو آپ اخبار پڑهتے رہے اور چتون پر سیل نہ آنے دیا۔ دریای\nاٹک کے پل کا واقعہ سب کو معلوم ہے۔\nان واقعات سے اُن کی دلیرانہ طبیعت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ وہ شجاع و شجاع\nدوست و دلیرانہ دلیرانہ صفت کے شیدا ہین انہین صفات نے اونہین سپاه مین\nنہایت عزیز بنا رکها ہے۔\nبے تعصبی جب کوئی شخص اپنے مذہب کا احتیاط و سختی سے پابند ہوتا ہے تو مخالفت کو\nاُس سے ضرور ایذا پہونچتی ہے۔ اسی ایذارسانی کا نام تعصب ہے۔ پادشاہ کے حق مین یہ\nتعصب خراب نتائج پیدا کرتا ہے۔ حکمران مین جو ہردلعزیزی کی صفت ہونا چاہئے اُس\nکو نقصان پہونچتا ہے۔ اعلحضرت کا دامن اس عیب سے پاک ہے۔ افغانستان مین سُنی\nشیعہ- ہندو- سکھہ - پارسی وغیره اپنے مراسم مذہبی کو نہایت آزادی سے بجا لاتے ہین\nان کے معاملات و متنازعات اُنہین کے مذہبی قانون کی رو سے فیصل ہوتے ہین-\nعہد امیر مرحوم مین سیاسی و ملکی بناء پر قبائل ہزارہ سے جو مذہباً شیعہ ہین جنگ\nہوئی اُس لڑائی کو گومذہب سے کوئی علاقہ نہ تها تاہم شیعہ قبائل کے اکثر افراد کو یہ\nشکایت رہی کہ اختلاف مذہب اس خونریزی کا باعث ہوا۔ اس لیے اُنہون نے باوجوہ\nاطاعت کے اس خیال کو دل سے دور نہ کیا لیکن امیر موجودہ نے سریر آرائی سلطنت"}
{"book": "adl0234", "page": 96, "text": "ہوکر ان کے ساتھ وہ بے تعصبانہ حسن سلوک برتا جس سے وہ پرانا خدشہ ان کے\nدل سے دور ہو گیا۔ آپ صرف اپنی سلطنت ہی میں بے آزار و بے تعصب نہیں\nہیں بلکہ دل آزاری و تعصب سے آپ کو طبعی نفرت ہے۔ موقع عیدالضحی پر مقام دہلی\nبجایے قربانی گائے کے بکرے و دنبے کی قربانی کو ترجیح دینا بے تعصبی کی کافی تائید ہی۔\nاسی کا نتیجہ ہے کہ دہلی کے ہندوؤں کے دل خصوصاً اور ہندوستان کے ہندوؤں\nکے عموماً ایک سرے سے دوسرے سرے تک اُن کی بے تعصبی شاہانہ کے ثبوت\nمیں گواہی دے رہے ہیں۔ اس صفت نے بنگالیوں کا بھی انہیں ممدوح بنالیا۔\nاس بات کا صحیح اندازہ کہ غیر قوموں کو مذہبی آزادی۔ رسومات مذہبی ادا کرنے میں آسانی\nجان و مالکی حفاظت کیسی ہو وہی شخص خوب کر سکتا ہے جسکو افغانستان جانے۔ اور\nوہاں کی غیر قوموں کی آسائیشی زندگی دیکھنے کا موقع ملا ہو۔ تاہم واقعات سفر ہندوستان\nسے بھی اسکا پتہ چلتا ہے۔ وہ تسلیم یافتہ ہندو جو مسلمان بادشاہوں کی شکایتوں کے\nراگ گایا کرتے ہیں۔ وہ بھی تو ہز مجسٹی امیر کی تشریف آوری و بے تعصبی کا حال سنکر\nاپنے جوش مسرت کو نہ دبا سکے۔ خیر مقدم میں بڑی خوشی سے شریک ہوئے۔ جابجا آپ کی\nبے آزارانہ پالیسی پر اظہار شکرگزاری میں ریگولیشن پاس کیئے۔ تاروں کے ذریعہ سے اپنی\nشکرگزاری کی اطلاع دی۔ اکثر جگہہ سواری پر پھول برسائے۔ اُن کی وجہ سے مکانات کو\nآراستہ کیا۔ بلاتحریک غیرے روشنی کی۔ یادگاریں قائم کرنے کی تجویزین ہوئیں۔ اس\nسے زیادہ ہز مجسٹی کی بے تعصبی اور ہندو صاحبوں کی مسرّت کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔\nعفو | یہہ صفت ہز مجسٹی میں خاص پایہ کی ہے۔ اس بارہ میں وہ اپنے پدرعالیقدر کی\nسیاست سے جداگانہ طرز عمل رکھتے ہیں۔ خاص خوبی یہ ہے کہ جن لوگوں کے قصوروں\nسے درگزر فرماتے ہیں وہ اسکے مستحق بھی ہوتے ہیں۔ عفو و درگزر کے موقع کو جیسا کہ\nآپ سمجھتے ہیں کوئی مدبّر سے مدبّر بادشاہ سمجھے گا تو اُن سے بہتر نہ سمجھہ سکیگا۔ اُن کے"}
{"book": "adl0234", "page": 97, "text": "۸۸\n\nدرگذر کی روشن مثالین یہ ہین کہ جلا روطن و فراری افغان اسی صفت کی بدولت افغانستان\nمین جلیل القدر مناسب پر معمور ہین۔\nایک دانشمند بادشاہ کی حکایت ہے کہ تین مجرم ایک ہی جرم کے اُس کے روبرو\nپیش ہوئے۔ بادشاہ نے تینون مجرمون کے قیافہ کو بغور دیکھا۔ اُن مین سے ایک\nشخص سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ یہ بات تمہارے لیے نازیبا تھی۔ دوسرے کو خفیف\nسرزنش کی۔ تیسرے کو پوری سزادی۔ دوسرے دن معلوم ہوا کہ جسے زبانی فہمائش\nکی تھی وہ مر گیا۔ جسکو خفیف سزادی تھی اُس نے جلاوطنی اختیار کی۔ اور جسکو پوری\nسزا دی تھی وہ شہر مین خوش پھر رہا تھا۔\nاعلیحضرت کا درگذر ایسے لوگون کے ساتھ ہے کہ جو اپنے معافی قصور کی قدر کرتے ہین\nنہ اُن گنہگارون کے ساتھ جو معافی کے بعد جسارت کرین۔\nترحم امیر عبدالرحمن خان مرحوم کی نسبت داستانین قہاری و جباری کی مبالغہ\nکے ساتھ مشہور تھین مگر وہ حقیقت مین ایسے نہ تھے۔ افغانستان کی حکومت جس حالت\nمین اُن کو ملی تھی اوسکا اقتضا اور ملکواری کا تقاضا یہ تھا کہ کسیقدر سختی سے کام لین\nاسوجہ سے امیر مرحوم کی نسبت شہرتین رحم کے خلاف تھین۔ لیکن ہز مجسٹی امیر\nموجودہ شروع سے ہی رحیم مشہور ہین جو مجرم امیر مرحوم کے سامنے آنے مین خوف\nکرتے تھے اُن کو موجودہ امیر کا رحم درگذر کے لیے حاضر کر دیتا ہے۔\nآپ کے رحم کی ایک حکایت قابل سُننے کے ہے۔ اگست ۱۹۰۳ء مین ہنگام\nشکار ایک ضعیف العمر شخص کو اپنے اپنے ہاتھ سے کٹی کرتے دیکھا۔ اُس کے پاس\nجا کر از راہ مراحم شاہانہ فرمایا کہ تم اس عالم پیری مین کیون اتنی تکلیف گوارا کرتے\nہو۔ کیا کوئی اولاد نہین۔ اُس نے عرض کیا کہ مین گھر مین تنہا ہون۔ ایک لڑکا\nہے وہ فوجی خدمت انجام دیتا ہے۔ یہ سُننے کے بعد آپ اُس کو اپنے ساتھ جاری کیا"}
{"book": "adl0234", "page": 98, "text": "۸۹\nپرلائے اور اپنا شریک طعام کیا۔ بعدہ اُس کے لڑکے کو بلوا کر بڑے کی خدمت میں مامور\nفرمایا اور ساتھ ہی دو ہزار روپیہ عنایت کیا۔ لڑکے سے ارشاد فرمایا کہ جب تم اپنے باپ\nکے اکلوتے بیٹے ہو تو تم پر ملازمت سے زیادہ تمہارے ضعیف باپ کی خدمت کا حق ہو\nفیاضی اعلیحضرت امیر میں صفت سخا اعتدال کے ساتھ ہے وہ سخی ہیں لیکن استحقاق\nواہل حاجت کو دیتے ہیں اُن کی فیاضی و اُوالعزمی کے کارنامے نگاہ قدر سے\nدیکھے جانے کے قابل ہیں اور تاریخ میں سنہری حرفوں سر جگہ پانے کے لایق ہر مجسٹی\nنے یہہ بتا دیا کہ حکیمانہ مصارف خیر کے کیا موقع ہوتے ہیں ۔\nتعلیم میں محمڈن کالج علیگڈھ وحمایت الاسلام لاہور میں یتیموں کی پرورش کے\nلئے ایک دستم کثیر دوامی و نیز کمشت عطا فرمانا اور اوس کے ساتھہ راستبازی سے\nیہ کہن کہ میں اپنے ملک میں تعلیم کے لئے خود حاجتمند ہوں اور جو کچھہ دیتا ہوں وہ\nمیری خواہش سے بہت کم ہے۔ یہہ اُن کی اصلی فیاضی۔ وجدانی خیر اور نیک نیتی کا کافی\nثبوت ہو۔ یہہ آپ کا وہ صدقہ جاریہ ہے جس سے ہندوستان مدت العمر فیضیاب و\nمرہون منت رہے گا۔\nہر مجسٹی نے جہان معابد و مزارات اسلامی کے محافظون کو عطیات عنایت کئے\nو ہان ہندوؤں و سکھوں کے منادر و گوردوارون کو بھی نظر انداز نہ کیا اور نہ مسیحی\nمصارف خیر کو ہاتھ سے جانے دیا۔ (منشوفیت) مینا بازار کلکتہ میں جو فیاضی برتی\nوہ بھی مصارف خیر کا کافی ثبوت ہے۔ تہذیب یافتہ قوموں کی ہر بات میں جدت ہوتی\nہے۔ مغربی قوموں کو جب کبھی مصرف خیر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو چندہ کے\nعلاوہ ایک نمایش کے طور پر بازار قایم کرتی ہیں جسمین بڑے بڑے امراء ورؤساء\nحتیٰ کہ فرمانرواؤں کی لیڈیاں میمین اپنے اپنے ہاتھ کی مصنوعات و نیز دیگر خوشنما\nاشیاء سے دوکانیں سجاتی ہیں۔ وہان کھیل و تماشے بھی کیے جاتے ہیں خوشحال\n۱۲"}
{"book": "adl0234", "page": 99, "text": "۹۰\n\nصاحب مقدرت لوگ شریک ہوتے ہیں ۔ اس ذریعہ سے جو منافع ہوتا ہے وہ سب\nغربا و حاجتمندوں کے مصرف خیر میں صرف کیا جاتا ہے ۔ اقبالمن قوم کی ہر اد ادلفریب\nاور ہر کام دانشمندانہ ہے۔ کس خوبصورتی و آسانی سے نیک کام انجام دیے جاتے ہیں\nاسی طرح سرہند کا گورودوارہ ۔ امرت سر کا دربار ۔ قطب مینار کے قریب مندر جوگ\nبابا جی وغیرہ ۔ خدام مزارات مجدد الف ثانی ۔ حضرت سلطان الاولیا ۔ حضرت خواجہ\nبختیار کاکی۔ حضرت خواجہ الہند اجمیری وغیرہ وخادمان و امام جامع مسجد دہلی۔\nپرانے قلعہ کی مسجد میں کنوئیں کی مرمت ۔ مسجد مہابت خان پشاور وغیرہ وغیرہ میں\nعطیات ۔ ہندو ومسلمانوں کے لئے روشن فیاضیاں ہیں ۔ ہندو و عیسائیوں نے اس\nعطیہ کو نگاہ قدر سے دیکھا ۔ لیکن مجاوران مزارات چندان خوش نہ پائینگے ۔ اسکا سبب\nیہ دریافت ہوا کہ امیر صاحب کی تشریف آوری پر جہان مختلف خیالات پھیلے ہوے\nتھے وہاں شعراء و مجاوران مزار میں بڑی شد ومد سے چرچے تھے کہ جہان امیر کا گذر\nہو جائیگا اور جسکو شرف حضوری ملیگا وہ پشتون تک ۔ ورنہ کم از کم اپنی زندگی کے\nلیے تو ضرور معاش سے بے نیاز ہو جائیگا ۔\nمگر امیر جھوٹی تعریف کے مخالف اور شاعری کو مد فضول خیال فرماتے ہیں ۔ علمائے\nیونان نے بھی اپنی جمہوری انتظام میں شاعروں کے گروہ کو بیکار محض سمجھکر آبادی سے\nخارج رکھا تھا۔ اور دلیل یہ کہ ان سے کوئی غرض وابستہ نہیں ۔ حالانکہ ہر ادنی سے ادنی\nاہل حرفہ کسی ضرورت کو نکالتا ہے ۔ اور شاعری بیکاری کے سوا کسی کام نہیں آتی ۔ مگر\nہم کو اس سے پورا اتفاق نہیں بعض بعض موقعوں پر جو کام شعرا نے دیا ہے وہ فوجوں\nسے بھی نہیں بن پڑا ۔ پھر فنون لطیفہ میں شاعر کا مرتبہ سب سے اعلیٰ ہے ۔ اس لیے کہ\nبعض میں ظاہری خوبیاں ہیں اور بعض میں باطنی ۔ مگر شاعر میں دونوں خوبیاں بدرجہ کمال\nپائی جاتی ہیں ۔ ظاہری خوبی موسیقی کی اور باطنی خیال کی وسعت وجذبات کے اظہار کی\n\nلے فنون لطیفہ میں شاعری ۔ موسیقی ۔ نقاشی برصوری ہ فن آراستگی شامل ہیں موجودہ زمانہ میں رقاصی دایکٹ\nکرنا بھی اسمیں داخل کر لیا ہی ۔ ۱۲"}
{"book": "adl0234", "page": 100, "text": "۹۱\n\nدونون اس مین ملی ہوئی ہین۔ زندگی خوشگوار نہین ہو سکتی جب تک کہ شعراء اوسکو\nخوشنما کر کے نہ دکھائین۔ فخر کی خوبیان تمہار اول نہین لبہا سکتین جب تک کہ شعراء\nاُس کے حُسن جمال کی تصویر کھینچکر نہ لائین۔ قوم کی محبت دلون مین پیدا نہین ہو سکتی\nجب تک کہ شعراء تمہارے اندرونی جذبات کو نہ اکسائین۔\nموجودہ زمانہ مین ایشیائی شاعری نگاہ قدر سے نہین دیکھی جاتی۔ امیر\nبھی اسیوجہ سے اسکے دلدادہ نہین۔\nمجاوران مزار جن کی طبیعت مین بزرگان دین کی قربت معنوی کا افتخار سمایا ہوا ہے\nوہ اپنے مقابلہ مین دیگر تمام مستحقین کے ساتھ احسان کرنا خیرات بے معنی خیال کرتے\nہین۔ ان خیالات کے ساتھ جب یہ خبر معلوم ہوئی کہ ایک ایشیائی بااختیار حکمران\nہماری گورنمنٹ کا مہمان بنکر آ رہا ہے اُسکے تمام اخراجات سفر و مہانداری گورنمنٹ\nنے نہایت فراخ حوصلگی سے اپنے ذمہ قبول فرمائے ہین۔ بادشاہ مہمان بھی\nخزاین کے صندوق اپنے ہمراہ لیے ہوئے ہے جس نے پشاور پہونچتے ہی جامع مسجد\nمین دس ہزار روپیہ عطا فرما دیا۔ علی گڑھ کالج کو چھہ ہزار سالانہ دوامی اور بیس ہزار\nیکُمشت بخشدیا۔ وہ خوش عقیدت مسلمان بادشاہ مجاوران و متولیان مزار کو جو\nکچھہ بھی نذر کرے وہ کم ہے۔\nیہہ رُوداد ایک تمناے بیجا کی محرک تھی۔ مگر نہ وہ امیر کی دانشمندانہ خیرات سے\nباخبر۔ نہ اُن کی روشن دماغی سے آگاہ نہ ملکی آمدنی و اخراجات سے واقف نہ اُن\nکی قابلانہ پالیسی سے مطلع تھے۔\nمقررّان مزارات زائرین سے اپنا حق وصول کرنا واجب جانتے ہین اور یہہ\nعادت اُن کی طبیعت ثانی ہو گئی ہے اس لحاظ سے وہ معذور بھی ہین۔ مانا کہ خاص\nعام کے مقابلہ مین جو وہ اپنا حق سمجھتے ہین وہ کسیقدر بیجا نہو یا اخلاقی اعتبار سے"}
{"book": "adl0234", "page": 101, "text": "۹۲\nوہ ہمارے لیے مایہ ناز بہی نہوں ۔مگر اس سے یہہ لازم نہیں آتا۔کہ ہم شکایتون کا الزام\nاپنے ذمہ لین۔اگر ہم سے ہو سکے تو ہمپر واجب ہے کہ ان کی اصلاح حالت وخیالات\nمین سعی کرین ان کے بہتر بنانے میں امکانی کوششین بجالائین۔ وہ ان بزرگان دین\nکے چشم و چراغ وخدام ہین جن کے طفیل ہندوستان مین رونق اسلام ہوئی غیر\nاقوام ہمارے سامنے انہین حضرات کو نمونتاً پیش کرینگی ۔اور جو خوبیان ان مین ہونگی\nوہی ہماری جماعت کا معیار حسن و قبح قرار دیا جائیگا ۔لہٰذا ان کے حالات ومزارات\nکی اصلاحین ایک خیر خواہ اسلام و بہی خواہ مذہب کے لیے بہت کچھہ محتاج توجہ ہین\nاگر مواقع عرس پر زوایدات کا ترک ہوکر مسلمانون کی صلاح وفلاح پر تھوڑا غور ہوتارہے\nاسلامی بہتری کی تدابیر سوچی جائین ۔آمدنی نذر و نیاز و اوقاف کے ایک حصہ سے\nمدارس قایم ہون جنین یتیمون مسکینون کو تعلیم مذہبی کے ساتہہ صنعت و حرفت سکھائی\nجائے ۔اختلاف مٹائین۔ اتفاق پہیلائین ۔اقتضاے زمانہ ومصلحت وقت سے کام\nلین صوفیاے کرام کے ملفوظات کو بیکار نہ ہونے دین ۔عوام جہلا کو تعظیم و پرستش\nمین فرق بتائیں ۔تا کہ ناواقف زائرین مزارات کو صنم خانہ نہ بنائین۔تو آج یہ مزارات\nمسلمانون کے دینی و دنیاوی اغراض کے سرچشمے نہ بنجائین اور میلون کے بجای\nان کو اسلامی کانفرنس و مذہبی ایگزیبیشن کے نام سے نہ موسوم کرین۔\nایک عیسائی فاضل کنان ٹیلر نامی کہتا ہے کہ۔ اس بات کا سمجہنا آسان ہے\nکہ کیون یہہ اصلاح شدہ یہودی مذہب (یعنی اسلام) اسقدر جلد افریقہ وایشیا مین\nشایع ہوگیا۔ افریقی و شامی علماء نے مسیح علیہ السلام کے دین کی جگہہ دشوار فلسفی مسائل\nپیدا کر دیے ۔اپنے زمانہ کی بدکاریون کا مقابلہ انہون نے اس طرح کیا کہ تجرد کی آسمانی خوبیون\nاور کنوارپنے کے ملکی اوصاف کو پیش کیا۔ترک دنیا تقدس کی راہ ٹھہری اور میل مٹی آسمانی\nپاکیزگی کا خاصہ۔ سب لوگ مشرک تھے شہیدون۔ ولیون کو پوجتے۔ ملائکہ کی پرستش کرتے"}
{"book": "adl0234", "page": 102, "text": "۹۳\nتھے بڑے درجہ کے لوگ عیش پرست و بدر اہ تھے۔ متوسط الحال محصولون کے بارمین دبا\nتھے۔ غلام ایسے تھے جنکو حال و استقبال دونون سے مایوسی تھی۔ خدا کی جھاڑو جو اسلام\nنے ان مزخرفات و اوہام کے کوڑے کو جھاڑ دیا۔ اسلام ان خالی خولی مناظروں کے خلاف\nایک ہنگامہ تھا۔\nاسلام۔ تجرد کے پر زور دعوے کے مقابلہ میں کہ وہ تقدس کا تاج ہے ایک مردانہ\nاعتراض تھا۔ اسلام نے دین کی لازمی اصولون کو یعنی توحید و خدا کی بزرگی اُس کے رحم و\nانصاف کہ اس بات کو کہ وہ اپنی مرضی پر سب کی اطاعت یعنی توکل و ایمان چاہتا ہے\nسب کے سامنے پیش کیا۔ اسلام نے انسان کی ذمہ داری کا اعلان کیا۔ آئنیوالی زندگی\nانصاف کے دن اور سخت عذاب کو جو گنہگاروں پر ہوگا پکار کر بتا دیا۔ نماز۔ روزے۔ زکاة\nو سخاوت کے فرائض کا فرمان جاری کیا۔ بناوٹ کی نیکیون۔ دینی فریبون منقلب اخلاقی\nخیالات اور کٹھ حجتیون کی باریک لفظی حجتوں کو اسلام نے دھکے دیگر نکال دیا۔ رہبانیت\nکی جگہ مردانہ روش پیدا کی۔ غلام کو امید بخشی۔ بنی نوع انسان کو اخوت دی اور انسانی\nفطرت کے اصلی شرائط کو پہچانا ۔\nاسلام محکمه مسیحی عالموں اور ملاؤں وغیرہ کا روکر نیوالا تھا۔ یہ محکمہ قیصر کے دربار کو خدا\nکی آسمانی در بار کی نقل سمجھتا تھا۔ امید ہے کہ زمانہ شناس مسلمان قوم ان باتوں پر غور فرمائینگے\nکه موجوده اسلام اور خصوصاً رنگ مزارات کن اصلاحون کا محتاج ہے، اور اصلاحون\nکے بعد کیا کیا فوائد دینی و دنیوی مسلمانوں کو پہونچ سکتے ہیں۔\nبچون پر شفقت ہز مجسٹی امیر کو بچون کے ساتھ غیر معمولی الفت ہے۔ زمانہ قیام آگرہ میں تاجگنج\nکی سیر فرماتے ہوے ایک انگریزی رحمنٹ کے اسکول ماسٹر کی چار پانچ سالہ لڑکی کو گود میں\nاُٹھا لیا دیر تک پیار اور پیار کی باتین اُس سے کرتے رہے ایک قیمتی ہار اُسے منگوا کر دیا\nعلی گڑھ مین کالج کا گشت کرتے ہوئے خان بہادر مولوی سید زین العابدین سب جج مرحوم"}
{"book": "adl0234", "page": 103, "text": "۹۴\n\nنواسی کو دیکھکر شفقت فرمائی اور ایک اشرفی عنایت کی ۔ کلکتہ میں فوجی و بحری کارخانہ میں\nایک یورپین بچہ کو اٹھا لیا ۔ انگریزی میں باتین کین پانچ اشرفی کھلونے خریدنے کے لیے عطا\nکین۔ گھوڑ دوڑ بمبئی میں ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو لیڈی جنکنن امیر کے حضور میں لائین\nآپ نے ایک اشرفی لڑکے کو اور دو اشرفیان لڑکی کو عنایت کین سٹیشن بکسر پر تماشائیوں میں\nایک چھوٹی سی لڑکی کو نوکر لیے ہوئے تھا۔ امیر لڑکی کو دیکھکر اس کے قریب گئے اور مسکرا کر اسے\nایک اشرفی عنایت کی اور فرمایا کہ جو شفقت میں اپنے ملک میں بچوں پر ظاہر کرتا ہوں وہ\nیہان کیون نہ ظاہر کرون۔\nبچے حقیقت میں دل کی برابر عزیز ہوتے ہیں ۔ عزیز کیون نہ ہون ۔ ان کے ننھے سے\nقد اصل میں دل کی برابر ہیں جب سامنے آجاتے ہیں تو گود میں اٹھائے اور پیار\nکیے بغیر نہیں رہا جاتا ۔\nروساء ہند اور والیان ملک ۔ شاہ افغانستان کی دانشمندانہ فیاضی سے عمدہ سبق حاصل\nکر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک کے روساء و امرا بخیل نہیں ۔ وہ بہت کچھ صرف فرماتے\nہیں لیکن موقع خیر و محل نیک کا لحاظ نہیں رکھتے ۔ ان کے صرف کا زیادہ حصہ بے ضرورت\nبیو قع ہوا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی فیاضی کے کارناموں پر حجاب پڑے ہوئے ہیں ۔\nسیاست امیر مرحوم اکثر بہ جوابان امن و مخالفان سلطنت کو آہنی پنجروں میں بند کروا کے\nدرختون مین لٹکوا دیتے تھے ۔ آپ نے بھی باوجود صفات حلم و ترحم و عفو کہ چند راہزنوں\nکے حق میں جو راستوں کے لیے خوفناک ہورہے تھے یہ راز ظریقہ کا عمل جائز رکھا\nمجرمون کو آہنی پنجروں میں بند کرا کے جن راستوں کو لوٹا کرتے تھے انہین راستون\nپر عبرتآ درختون مین لٹکوا دیا۔\nمشرقی ممالک میں عبرتآ جو سزا تجویز ہوتی ہے وہ مؤثر ہوتی ہے بعض اس قسم\nکی سزائیں عمل میں آتی ہیں جنکا تذکرہ مہذب ملکون کے قانون میں صاف طور پر نہیں پایا"}
{"book": "adl0234", "page": 104, "text": "۹۵\n\nجاتا مگر اثر وصورت کے لحاظ سے ایسی سزائین عبرتناک اور حقیقت مین زیادہ مؤثر\n\nومفید ہوتی ہیں۔\n\nظرافت باوجود علم وفضل ومتانت مزاج مین خوش طبعی بھی ہے۔ باتون مین ظریفانہ\n\nجھلک پائی جاتی ہے۔ پشاور مین بموقع دعوت سر ہر لڈ ڈین چیف کمشنر باجہ بجانیوالے\n\nامیر صاحب کی کرسی کے پیچھے کھڑے تھے۔ سر ایڈورڈ ہیرو نے عرض کیا کہ مجھے امید ہے\n\nکہ یور مجسٹی کو یہ باجہ ناگوار خاطر نہ ہوا ہوگا۔ اعلحضرت نے فرمایا کہ نہین کابل مین میرے\n\nیہان ایسے باجہ بجانیوالے موجود ہین مین اسکو پسند کرتا ہون لیکن مسکرا کر فرمایا کہ مین\n\nاپنی کرسی کے اسقدر قریب نہین کھڑا ہونے دیتا۔\n\nموقعہ دربار عید مقام دہلی رائے بہادر شیو پر شاد مینیجنگ ڈائرکٹر ہند و بسکٹ فیکٹری سے\n\nفرمایا کہ کل آپ نے ہمین عمدہ بسکٹ کھلائے ۔ یہ حسن اتفاق تھا کہ اشتہا کے وقت\n\nہمارا جانا کارخانہ بسکٹ مین ہوا۔ جس سے آنکھ اور پیٹ دونون کو راحت پہنچی۔ اگر\n\nلوہے یا لکڑی کے کارخانہ مین جاتے تو وہان کیا کھا سکتے تھے نہ لکڑی نہ لوہا۔\n\nدہلی مین مزار حضرت نظام الدین اولیا پر باولی مین لڑکون کے کودنے کا تماشہ معائنہ\n\nفرمارہے تھے از راہ مذاق ایک معزز یورپین حاکم کو لڑکون کی جانب دہکا دیکر فرمایا\n\nکہ حوالہ شما کردم جس سے حاضرین و بچے بیحد مسرور ہوے۔ ساتھ ہی متانت و وقار\n\nبھی اس پایہ کا ہے کہ با وصف ظرافت کے مخاطب حدود ادب سے قدم باہر\n\nنہیں رکھ سکتا۔\n\nپابندی مذہب اعلحضرت کی پابندی مذہب ایک راستباز و صاف باطن مسلمان کی سی\n\nہے ۔ زمانہ حال مین امارت و پابندی مذہب ایک دوسرے کی ضد خیال کیے جاتے\n\nہیں۔ اس زمانہ کے امرا ر اپنے آپ کو اگر شریعت سے مستثنیٰ نہین بیان کرتے۔ تو\n\nعملاً مستثنیٰ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ جس کے مذہبی عقائد ٹھیک نہین"}
{"book": "adl0234", "page": 105, "text": "۹۶\nاُس کے دوسرے معاملات بھی درست نہیں ہوتے ۔ امیر مین یہہ بڑی خوبی ہے کہ نہین\nکوئی دنیوی دلچسپ مشغلہ یاد خدا و مذہبی احکام سے غافل نہیں کر سکتا ۔ باوجود مشاغل\nسلطنت کبھی اور کسی حالت مین نماز قضا نہیں فرماتے ۔ حالت سخت بیماری میں جبکہ\nطاقت نقل و حرکت نہ تھی نماز ترک نہین کی ۔\nپیشاور میں ایک کھیل کے موقع پر وقت نماز عصر تنگ ہو گیا اوسوقت کی بے چینی\nامیر کا اندازہ صرف دیکھنے والے ہی کر سکتے تھے ۔ نماز کے ساتھ دیگر مذہبی احکام\nکا الطباع ایک روشن خیال سچے پابند مذہب کی طرح کرتے ہیں ۔ امیر نہایت\nوسیع الخیال ہیں جن باتوں کو مسلمان تشبّہ با غیر سمجھکر معترض رہے اور قومی ترقی کی\nرفتار کو دہما کر دیا امیر ایسے اوہام میں نہین پڑنا چاہتے نعلین پہنے نماز ادا\nکرنے میں وہ کوئی ہرج شرعی نہین جانتے ۔ دھوپ و فوجی قواعد کے وقت وہ\nانگریزی ٹوپی کو کارآمد سمجھکر پہنتے ہیں ۔ غیر قوموں کی مجالس تفریح میں شامل ہونے\nسے تکلف نہیں کرتے ۔ نمایشی تورع و ریای زہد سے اُن کو ویسی ہی نفرت ہی\nجیسے کہ سچے اتقا سے صادق شغف ۔\nکابل میں ایک مقام ہے جسکا نام پات خاؤ شانہ ہے ۔ یہان دو مزار ہیں ۔\nمزارات کے قریب دو پہاڑی چشمے جاری ہیں جنمین مچھلیاں بکثرت ہیں ۔ مجاوران\nمزار و نیز عوام مچھلیوں کے پکڑنے کے مانع ہوتے ہیں اور خود بھی احتیاط کرتے ہیں\nکہتے ہیں کہ انگریزون نے مچھلیان شکار کین اسلیے وہ یہان حکومت نہ کر سکے ۔\nایکمرتبہ امیر کے آنے کا اس جگہ اتفاق ہوا ۔ مچھلیوں کا شکار کرنا چاہا مجاور\nحسب عادت مانع ہوئے ۔ آپنے فرمایا کہ مچھلیوں کو صاحب مزار سے کیا نسبت ۔\nخیر تمہاری خاطر سے ہم قریب مزار کے شکار نہ کرینگے دوسری سمت سہی ۔ چنانچہ\nمچھلیان پکڑوائین ۔ کباب بنوائے اور خوب کھائے ۔"}
{"book": "adl0234", "page": 106, "text": "۹۷\n\nعلی گڑھ ولاہور میں جو اسپیچیں کیں اُس سے اُن کے مذہبی عقائد کا کافی ثبوت ملتا ہے\nوہ مذہبی تعلیم کو سب پر مقدم و فرض خیال کرتے ہیں ۔ اُن کا مضبوط عقیدہ ہے کہ انسان اسلامی\nعقائد پر مطلع ہونے کے بعد جادۂ راستی سے منحرف نہیں ہو سکتا ۔ آپ نے زور کیساتھ\nطلباء کو ہدایت کی کہ تم کو اول مذہبی تعلیم حاصل کرنا چاہئے بعدہ کچھ خوف نہیں جسطرف چاہو\nجاؤ ۔ وہ علوم و فنون مغربی کے شایق فلاسفہ و سائنس کے قدردان ہیں مگر علوم دینیہ کے\nبعد اسکی تعلیم کو ضرور جانتے ہیں ۔ یہ بالکل سچ ہے کہ جب انسان کے دل میں ایک بار\nمذہبی عظمت قایم ہو جاتی ہے تو پھر اُسپر کسی تحریک خلاف کا اثر نہیں پڑ سکتا ۔ تمام یورپین\nمورخ اور فاضل مصنف اس امر پر متفق ہیں کہ مذہب اسلام جہاں پہونچگیا پھر\nوہاں سے نہ نکلا ۔\nامیر منشی اشیاء کے سخت مخالف ہیں ۔ شرابی کے لیے عبرت انگیز سزا مقرر ہے\nکوئی دوکان شراب کی کابل میں نہیں ۔ ورک شاپ کے انجنیئر و دیگر کارگر جو دوسری قوم\nو مذہب کے اشخاص ہیں اُن کے لئے شراب بنائی جاتی ہے ۔ گر کسی مسلمان کی نسبت\nپتہ چل جائے کہ وہ شراب خواری کا مرتکب ہوا تو ایسی سزاے سخت دیجاتی ہے جس سے\nاُسکا جانبر ہونا دشوار ہے ۔\nقبل از ورود بمقام لنڈی کوتل منتظمان دعوت کو جو حکم ہز مجسٹی کا ملا وہ یہہ تھا کہ\nمیز پر وہ ظروف جو مخصوص شراب کے کام میں آتے ہیں ہرگز نہ آنے پائیں ۔ غالباً\nاس حکم سے یہہ منشاء و اشارہ تھا کہ برٹش افسران جو منتظم مدارات ہیں وہ خود باخبر\nہو جائیں اور انگلش پارٹی کو خاص طور پر مطلع کر دیں کہ موقع دعوت پر کوئی ایسی چیز جو مذہب\nاسلام میں ممنوع ہے میز پر نہ آنے پائے ۔ یہ ایک حکیمانہ ہدایت و مہذب طریقہ ممانعت کا\nتھا ۔ ہز مجسٹی جیسے کہ خود احکام شریعت بجا لاتے ہیں ویسے ہی اپنی رعایا و فوج اور\nارکان سے چاہتے ہیں ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ افغانی اصحاب اداے فرائض میں\n\n۱۳"}
{"book": "adl0234", "page": 107, "text": "تساهل نہین کرتے اُن کے جملہ ہمراہی کیا سردار کیا سپاہی کسی کو بھی ہمنے تارک الصلواۃ\nنہ پایا۔ بازارون سیرگاہون میلوں تماستون مین جہان وقت نماز آیا اور انہون نے ادا\nکی۔ جسقدر اعلیحضرت ترک نماز سے نارضامند ہوتے ہین اسد رجہ دوسری غلطی سے\nنہین۔ تارک الصلوٰۃ کی یہ سزا ہے کہ جیب خاص سے کچھ دیگر بانس منگوائے جاتے ہین\nاور حکم دیا جاتا ہے کہ ان بانسون کو تارک الصلوٰۃ پر توڑ دو اگرچہ وہ جان بحق کیون نہوجائے\nایسی سزاے سخت کی حالت مین ترک نماز کی جرأت کیونکر ہو سکتی ہے۔\nغرضکہ اعلیحضرت امیر محبوبی خصائل و عادات حسنہ مین کل فرمان روایان کابل پر گوئی سبقت\nلے گئے ہین۔ رفتار زمانہ سے با خبرنی و تدبر مین وہ اپنے پدر بزرگوار کے پہلو بہ پہلو ہین\nامیر عبدالرحمن خان مرحوم کے پر زور ہا تھون نے جسطرح افغانستان کے زبردست و\nسرکش قبایل کو رام کیا۔ اسی طرح اب امید ہے کہ اُن کے خلف الصدق ہر مجسٹی امیر کا نرم سلوک\nو فرزانہ برتاؤ انہین ہمیشہ کے لیے مطیع و منقاد بنائے رکھے گا۔ موجودہ حالت ملک بیحد\nاطمینان وہ ہے رہزن و قطاع الطریق ڈاکوؤںکا نام ضرور ہے مگر وجود بنزلہ عدم کے ہو\nجعلسازی کو وہان لوگ نہین جانتے۔ زنا کا نام تذکرہ کے طور پر زبانوں پہ آتا ہے لیکن\nمرتکب کا وجود شاید ہی ملے۔ اسکا سبب سزاؤں میں سختی۔ اصلی مجرمون کی سزا یابی۔\nجھوٹی شہادت کی عدم موجودگی۔ اور وکلاء کی کمیابی ہے جسطرح اہل ملک کسی بیگناہ\nکے پھانسنے سے متنفر ہین اوس سے زیادہ گنگار کے بچانے کو گناہ جانتے ہین۔\nپھر وہان کی پولیس مین مقدمہ سازی کا عیب نہین سب سے بڑی بات یہہ ہے کہ\nجوش انتقام بے قصورون کے پھنسانے کا محرک نہین۔ اگر انتقام لینا چاہتے ہین\nتو جان لیکر یا جان دیکر فیصلہ ہو جاتا ہے مگر کوئی متنفس جھوٹا مقدمہ نہین دائر کرتا اور\nاس سے زیادہ عیب کسی اور بات کو نہین جانتا۔ برٹش گورنمنٹ کے اصول کی نظیر دنیا\nمین نہین مگر ہماری شامت اعمال اور ہماری ہی بدولت عمل اصول کے پہلو بہ پہلو"}
{"book": "adl0234", "page": 108, "text": "۹۹\nنہین ۔ دوسرے ممالک میں جو اصول ہین ان سے عمل بہتر ہین ۔\nامیر کی تاریخ دانی و واقفیت حالات بڑے پایہ کی ہے ۔ اعلیحضرت نے والیان\nملک و روساء ہند میں جس سے گفتگو کی اوس کے ملکی و ذاتی حالات بہی بیان فرمای\nاور وہ ایسے واقعات تھے جن کی صحت میں صاحب حالات کو کلام نہین ہو سکتا\nگو کیقدر بے خبری ہو ۔\nجناب بیگم صاحبہ بہوپال دام اقبالہا کے موقع ملاقات پر غالباً گارڈن پارٹی میں\nیہ شعر بھی پڑہا؎\nنہ انجیر شد نام ہر میوہ ٭ نہ مثل زبیدہ بہت ہر بیوہ\nمصرع اولی محتاج بحث نہیں لیکن مصرع ثانی کیقدر ضر و صراحت چاہتا ہے ۔\nحضرت زبیدہ خاتون خلیفہ ہارون الرشید اعظم کی عزیزی بی نہایت پاکدامن صاحب\nعفت و عصمت زاہدہ ۔ بڑی عابدہ اعلیٰ درجہ کی سخی و کریم تھی ۔ نسب خاندان نبوت سے\nوابستہ تھا ۔ زبیدہ خاتون کی ایک سو کنیزون کو قرآن پاک حفظ تھا۔ ان سو کنیزون\nمیں سے ہر ایک تین پارے روز پڑہا کرتی تھی حضرت زبیدہ کا محل ہر وقت قرآن خوانی کی صدا\nسے گونجتا رہتا تھا ۔\nیہ بات حضرت زبیدہ خاتون ہی کی فیاضی و سخاوت کا صدقہ ہے کہ پاک شہر مکہ\nمیں اول ہی مرتبہ بکثرت پانی بہم پہنچا یا گیا۔ اور اب تک وہ فیض نہر زبیدہ کے نام\nسے جاری ہے اور امید ہے کہ قیامت تک جاری رہیگا ۔ علاوہ ازین اس سڑک\nپر جو بغداد سے مکہ معظمہ کو جاتی ہے زبیدہ خاتون نے بہت چاہات کھدوا دئیے ۔\nحجاج کی راحت و آرام کی غرض سے متعد د کاروانسرائے بنوائیں یہ بیان مسٹر پامر\nانگریز فاضل مورخ کا ہے ۔ مثل اسکے ہزار ہا فیاضیان و خوبیان حضرت زبیدہ\nخاتون کی ایسی ہین جنگی تفصیل کو ایک مطول تالیف درکار ہر جسکی یہان گنجایش نہین"}
{"book": "adl0234", "page": 109, "text": "۱۰۰\nاب حضور بیگم صاحبہ بھوپال کے حالات پر ایک سرسری نظر ڈالئے اُن کی قومی\nو ملکی احسانات سے قطع نظر صرف اُن کا سفر حجاز ہی اس مسئلہ کو صاف کر دیگا۔\nاس موقع مبارک پر کیا باعتبار احترام و عزت اور کیا بلحاظ مدارات و احسانات\nو کیا بنظر تحایف و ہدایہ شرفای عرب و ترک و اہل حجاز نے اُن کے ساتھ جو رعایتین\nملحوظ رکھین وہ بات والیان ملک مین سے جو ہندوستان سے اب تک حجاز گئے جنمین\nاُن کی جدۂ مرحومہ بھی شامل ہین کسی کو نصیب نہین ہوئی۔\nاس کے عیوض جو کچھ جناب بیگم صاحبہ ممدوحہ نے کیا۔ اُس سے انگریزی و تُرکی\nدونون گورنمنٹین۔ برٹش سفارت استنبول۔ کونسلیٹ برطانیہ جدہ۔ تمام اہل حجاز\nبعض بعض اہل مصر و ترک۔ خدیو۔ جناب ممدوحہ کے ہمراہی اور خود اُن کی ذات عالی\nزیادہ واقف ہے۔ ہم صراحت سے بہتر اسی اجمال کو خیال کرتے ہین۔\nہمکو بیگم صاحبہ کی قابلیت و خوبیون کے اعتراف مین تامل نہین وہ اپنی رعایا\nکے ماسبق فرمان روایون مین سے کسی بات مین کسی سے کم نہین ہین۔ اب امیر نے\nاُن کو حضرت زبیدہ خاتون سے تشبیہ دی ہے تو اُن کو زیبا ہے کہ وہ ملکی و قومی\nکوئی ایسی خدمت فرمائین جو پبلک اُن کو زبیدہ ہند کہنے پر مجبور ہو جائے ہم اُنکے\nحضور مین دو صلا حین پیش کرتے ہین ایک حجاز ریلوے مین معقول چندہ عطا فرمانا\nجس سے اسلام و اسلامیان تا قیام قیامت مرہون منت رہینگے۔ جو بات نہر زبیدہ نے\nحضرت زبیدہ کے حق مین پیدا کی وہ اس چندہ سے بیگم صاحبہ کے لئے قایم ہو گی\nدوسری۔ پھر تکلیف سفر حجاز گوارا فرما کر شرف حج دوبارہ حاصل کرین اور ایک\nبار اپنی جدۂ مرحومہ کی سخاوت کو یاد دلادین۔ دنیا مزرعہ آخرت گذشتنی و گذاشتنی ہی\nسب بر سر راہ سفر ہین جس سے جو کچھ ہو اور جسقدر جلد بن پڑے کر لے۔ مذہبی اصول پر\nنیک صلاح دینا کسی غلطی کی تلافی پر اصرار کرنا داخل سخاوت ہے۔ جو شخص دوسرے"}
{"book": "adl0234", "page": 110, "text": "۱۰۱\n\nکونیکنام بنائے کی تدبیر بتائے اور خود غرضی شامل نہو وہ خیرخواہ ہے اُس کی صلاح منظور\nکرنا دانشمندی ہے۔\nبیگم صاحبہ کے ملکی انتظامات بہت سی دیسی ریاستون سے بہتر ہین وہ جو کچھ اپنے\nملک کے لیے تکلیف گوارا فرماتی ہین وہ قابل تعریف ہے لیکن تنہا والی ملک کا قابل\nہونا اور تکلیف اُٹھانا بہبودی ملک کے لئے اُسوقت تک کارآمد نہین ثابت ہو سکتا جبتک\nارکان ریاست دلسوز-خیر خواہ اور اپنے کار منصبی کے اہل نہون اور اُن سے بھی ویسی\nمحنت نہ لی جائے جیسی کہ خود فرماتی ہین۔\nاکبر اعظم۔ ہارون الرشید کو جس نے نامور بنایا۔ وہ ارکان سلطنت کی قابلیت\nاور اُن نامورون کی قدر افزائی تھی۔ اس اصول کو مدنظر رکھین اور اپنی ریاست مین مناسب\nمقامون پر ضروری کارخانہ کھلوا ئین جس سے رعایا کی مفلسی دور ہو۔ بے شغل عرعیت\nکار و بار مین مصروف ہو جائے تعلیمی حالت پر بہت توجہ درکار ہے۔ صنعتی بحرفتی\nمدارس کی بنیادین ڈالنا خوشحالی ملک کے لیے ایک مہتم بالشان مسئلہ ہے۔ تاکہ ریاست\nکی ضرورتین ملکی صنعتون سے پوری ہون۔ ہمسایہ ریاستون سے دولت کھنچکر آئے۔\nمعدنیات کی تلاش مین مقامی افسر مصروف رہین وغیرہ وغیرہ\nیہان پر اس بارہ مین بحث کو طول دینا بے محل ہے زمانہ نے اجازت دی تو کسی\nدوسرے وقت اِسکے لیے محنت کی جاویگی۔\nیہان ہم ہز مجسٹی شاہ افغانستان دام ملکہ وحشمتہ کے حضور مین بھی ایک التماس\nرکھتے ہین ۔ اعلحضرت نے جہان سفر مند فرمایا برٹش گورنمنٹ کی مہمانداری کے لطف\nاُٹھائے وہان لٹیک کہتے ہوے خدا کی مہمانی کا شرف حاصل کرین ۔ یہان شاداب ملک دیکھا\nوہان خشک و دھوپ سے جلے ہوئے صحرائے ملک کو معائنہ کرین. کلکتہ و بمبئی\nکی نمائش وسیر گاہین ملاحظہ کین حجاز جا کر- اسلامی کانفرنس ۔ مذہبی ایگزبیشن"}
{"book": "adl0234", "page": 111, "text": "۱۰۲\n(حج بیت الله و زیارت مدینه طیبه) کی شرکت سے جھولیاں بھر بھر ثواب لائیں۔ یہاں\nہر فرقہ کو اپنی دانشمندانه تہذیب و حکیمانہ ترکیب کا مداح بنایا۔ وہاں بھی اپنے قابلانہ\nخیالات کا اثر ڈالیں جس سے روئے زمین کے مسلمان مستفیض ہوں۔\nاپنی اُلوالعزمی اور استقلال کا ثبوت دیں۔ مصائب سفر جو بلحاظ حالات ملک پیش آئے\nہیں برداشت فرمائیں۔ وہاں کی اصلاحیں سوچیں۔ حضور شریف مکہ و دیگر شرفائے\nعرب کو تعلیم وصنعت و حرفت کی رغبت دلائیں۔ اگر ہماری یہ عرض درجہ قبولیت کو\nپہونچی تو روئے زمین کے مسلمان مرہون احسان ہونگے۔ اور جواجر مذہبی طور پر ملیگا\nاسکا تو حساب ہی نہیں۔ یہ بار حکومت انعام الٰہی ہے اس عطیہ بزرگ کا شکریہ بندگان\nخدا کے ساتھ احسان اور خصوصاً اپنی قوم کیساتھ جو دنیا کی تمام قوموں میں سب سے زیادہ\nحاجتمند ہے سلوک کرنا ہے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 112, "text": "۱۰۳\n\nدربار عید الاضحیٰ دھلی\nہندو مسلمان دونون کو دل آزاری کی ممانعت \nاور آپس مین اتفاقا سے زندگی بسر کرنے کی ہدایت\n\nبروز عید الاضحیٰ شاہ افغانستان نے دہلی کے عمایدین\nہندو مسلمانون مین سے بعض کو شرفِ ملازمت بخشا ۔\nوقتِ ملاقات فرمایا کہ آج ہمکو معظم ترین شہر ہند مین نمازِ عید ادا کرنے سے بڑی مسرت۔\nاپنے دوست کے گھر مین عید ہونے سے نہایت خوشی۔ اپنے مسلمان بھائیون کے ساتھ\nنماز پڑھنے سے کمالِ فرت وعید ہوئی۔\nاہلِ ہنود صاحبان کو مخاطب کر کے ارشاد کیا کہ افغانستان مین دربارِ عید کے موقع پر\nہم نہایت خوشی سے ہندوؤن کو شریک کرتے ہین۔ آج قربانی گائے کو محض دل شکنی\nہنود کا باعث سمجھکر ملتوی کیا اور اسکے بجائے دُنبہ وبکرے کی قربانی مناسب خیال کی\nہم اخبار پڑھتے رہتے ہین ہمنے افسوس کے ساتھ ان خبرون کو پڑھا جو ہندو\nمسلمانون نے ایک دوسرے کی آزار دہی و توہین کی غرض سے حرکاتِ لغو کین۔\nمسلمان ۔ ہندو ایک ملک کے باشندے ہین ایک گورنمنٹ کی رعایا ہین جس نے\nانہین ہر طرح کی انسانی ومذہبی آزادی دے رکھی ہے۔ ہندو مسلمانون کے تعلقات\nملکی تجارتی وغیرہ جسمین ایک دو سر یکا نفع ہے بکثرت ہین ۔\nدونون فریقین کو ہرگز ایسی بات نہ کرنا چاہیے جو کسی کی دل آزاری اور دلشکنی کا باعث\nہو۔ آپس مین موافقت کے ساتھ رہنا ان کی بہتری کا سبب ہے۔\nاس نصیحت کو بڑی مسرت سے لوگون نے سنا اور اعلان کیا۔ آپس مین اتفاق\nکی بنیادین مستحکم کرنے کے لیے انجمنین تجویز ہوئین ۔ خدا کرے یہہ ہدایت کارگر ہو۔ دنیا\nمین اتفاق سے بڑ کر کوئی خوبی نہین ۔ کون شخص ہے جسکو اتفاق کی خواہش نہ ہو۔\nاُس سے زیادہ بد اندیشِ ملک و قوم نہین جو اسکا مخالف ہو۔ مگر حالاتِ ملک اسکے"}
{"book": "adl0234", "page": 113, "text": "گواہ حال ہیں کہ ہمکو ادھر سے مایوس رہنا چاہیے۔\nکیا اتفاق ممکن ہے انتظام عالم اسکا مقتضیٰ نہیں کہ تمام انسان یکدل ہو کر اپنی زندگی بسر\nکریں - اختلاف شروع دنیا سے چلا آتا ہے اور جسم دنیا تک اسی طرح چلا جائے گا۔\nخیر یہ تو ایک جداگانہ بحث ہے ہندوستان میں ایک صوبہ تو بڑی چیز ہے - ایک شہر\nایک قصبہ - ایک قریہ ایک محلہ - ایک خاندان کا تو پتہ دیجئے جسمیں اتفاق ہو۔\nاس زمانہ میں تو دو حقیقی بھائیوں میں محبت پائی جائے تو وہ بھی حسن اتفاق ہی سمجھی\nجاوے گی - اردو ناگری - انتخاب میونسپل ولوکل بورڈ کے جھگڑے - مشرقی بنگال کی آپس\nکے فسادات صاف بتا رہے ہیں کہ ہند و مسلمانوں کے خیالات ایک دوسرے\nکیطرف سے کشیدہ ہیں تعجب اسکا ہے جو اپنے آپ کو حامی اتفاق بیان کرتے ہیں\nانہیں کی ذات سے یہ جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اس قسم کے جھگڑوں کی ابتدا\nسر بر آوردہ ہنود یا شیران کانگرس کیطرفسے ہوتی ہے دعویداران اتفاق زبانی فسانہ تو انین\nکی بہت کچھ سناتی ہیں مگرعملاً ثابت کر رہی ہیں کہ وہ مسلما نو کی قومی خاصیت بلکہ اُن کو صفحۂ دنیا سے مٹا دینے پر جلا وطن کرنے\nمیں اپنی بھلائی سمجتہے ہیں بعض ہماری ہموطن بھائی فرماتے ہیں کہ مسلمان بن بلائی سٹہ ستائیس کی جو بن بلا آو اس کو باہر کرنا\nمناسب نہیں جبکہ اہل ملک رضامند ہوں تو اپنا بوریا بستر باندھیں اور چلتے پھرتے نظر آئیں ملک ہند و دوگان کا دیس ہند و زیار\nجب یہ کہ تعدا د جماعت متحد ہو کر رہنا - ملکر کام کرنا پسند نہیں کرتی تو بہتر ہے کہ اپنے\nہم مذہب بھائی حکمرانوں کی آبادی کو بڑھائیں - انہیں بھی آرام - ہندوؤں کو بھی\nآسایش - یہ ہر خطرے سے بچ جائیں گے۔ بات تو معقول ہے مگر شدنی نہیں\nہم جائیں بھی تو گورنمنٹ مانع ہوگی مطیع فرقہ تو گورنمنٹ کا قوت بازو ہوا کرتا ہے\nجلا وطنی باغیوں کا حق ہے جنہیں خوف ہو وہ اپنا بند و بست کریں ہمیں کوئی خطرہ\nنہیں۔ بن بلانے کی بھی ایک ہوئی جو قوم کسی وقت فاتح کی حیثیت سے آتی ہے\nاُسے کسی کی اجازت کی کیا ضرورت جو مار کر آئے گا وہ مر کر بھی نہ جائیگا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 114, "text": "۱۰۵\nخطرہ کی بابت ایک امریکن اخبار کی رائے ہے۔ اگر انگریز انتظام چھوڑ دین تو ہندستان\nکے پانچ کروڑ چیتے ہندوؤں کو پھاڑ کھائین۔ اسپر ایک نیک خیال مسلمان نے جواب\nدیا کہ پانچ کروڑ چیتے کیسے چھ کروڑ شیر ہین مگر شریف و محن پرست۔\nاس سے سمجھ جائیے کہ بیرونی دنیا مین کس سے کسکو خطرہ سمجھا گیا اور سوچئے کہ\nآپ کے خیال سے باہر آپ کی طاقت کا تخمینہ کیا جاتا ہے۔\nروشن خیال مسٹر گو کھلے نے اس کمزوری کو اسطرح تسلیم کیا ہے کہ ہندو گو تعداد\nمین زیادہ ہین مگر نیچ قوم جنکا چھونا درکنار اونکو سایہ سے ہندو بھاگتے ہین جن مین\nایک بھی جنگجو نہین اُن کو مستثنیٰ کر دنیا چاہئے۔ پس دوسرے ممالک مین جس گروہ\nکی کمزوری کا خیال ہو اور جسکو اُس قوم کے لیڈر تسلیم کرین جو موجودہ با امن سلطنت کی\nقدر دان ہو۔ اب خیال کیجئے کہ کافر نعمت ناشکر گذار۔ کمزور کون ہے۔ اور کس کے خیالات\nہموطن ہمسایون کی محبت و اتحاد کی بیخکنی کر رہے ہین اور کس کی ریائی پالیسی کی گردن\nپر اتفاق نہ ہونے دینے کا خون ہے۔\nاُردو ناگری کی بحث نے اچھی طرح ثابت کر دیا کہ آپس مین کسدرجہ اجنبیت و بے\nلطفی ہے۔ اُردو زبان جسکے متروک ہو جانے سے مسلمان اور ہندوؤں کو برابر نقصان\nپہنچیگا۔ کل ہند تعلیمیافتہ جماعت جنکی تعداد مسلمان تعلیمیافتہ گروہ سے بہت بڑی ہے\nاُردو زبان بولتے اور اپنے تمام علمی اور روزمرہ کے کامون مثل خط و کتابت وغیرہ\nمین اُردو حروف ہی کو استعمال کرتے ہین۔\nاُردو زبان مسلمانون کی میراث نہین۔ ضرورت زمانہ سے ہندوؤں اور مسلمانون کو\nایک زبان اختیار کرنی پڑی۔ اب وہ زبان کلّ باشندگان کی مادری زبان ہوچکی ہی\nہندی سیکھنے مین دونون قومون کو برابر دقت ہے۔\nخاص گروہ ہندو جو اُردو کو مٹانا اور پھر بھاشا کو بجاے اُردو کے عدالتون مین\n۱۴"}
{"book": "adl0234", "page": 115, "text": "۱۰۶\nجاری کرانا چاہتا ہے۔ اسکی کوششین و گرمجوشی دو وجوہ پر مبنی ہیں۔ اول وجض\nخیالی اور سخت افسوس کے قابل ہے۔\nایک روشن خیال محب ملک کو سفر ریل میں دو تعلیم یافتہ ہندو صاحبون کی گفتگو سنے\nکا اتفاق ہوا۔ ایک صاحب نے جو غالباً کایستھ قوم کے تھے اپنے ساتھی کو دریافت\nکیا کہ آپ لوگ اردو زبان کی مخالفت پر کیون اسقدر آمادہ ہیں۔ آخر ہم لوگون کی بھی تو\nمادری زبان اُردو ہی ہے۔ اور اس تبدیلی سے ہم لوگون کو بھی اسیقدر دقتین برداشت\nکرنا پڑینگی جسقدر مسلمانون کو۔ دوسرے صاحب نے جو یقیناً برہمن قوم کے تھے جو جواب دیا\nاسپر نہ صرف مسلمانون بلکہ ہندو صاحبون کو بھی افسوس کرنا چاہیے۔\nبرہمن صاحب نے فرمایا کہ اصلیت تو یہ ہے کہ مسلمانون نے ہمارے ساتھ\nجو جو ظلم و تعدی کی تھی اُن کو ہونا ہمارے اختیار سے باہر ہے اُن کی حکومت کی\nتاریخ ایک خار ہے جو ہر وقت ہمارے پہلو میں چبھتا ہے۔ اردو اُسی نامبارک زمانہ\nکی ایک نشانی ہے۔ اسکو دیکھکر ہماری آنکھوں میں خون اُترتا ہے جب تک وہ صفحہ\nہستی سے نیست و نابود نہ ہوے اسوقت تک ہم کو چین نہیں۔ یہ خیال ہر جسنے\nاُردو کی مخالفت ہندی کے حامی گروہ کو اپنی کوششوں مین دیوانہ بنا رکھا ہے۔\nگو مسٹر سرنیدرناتھ بنرجی نے اپنے خط میں جو ڈیلی ٹیلیگراف میں شائع ہوا ہے\nمفصلہ ذیل الفاظ مین اپنی قوم کو نصیحت کی ہے ”گذشتہ مسلمانون کی فوقیت\nکی ہر ایک نشانی کو مٹا دینے کا خیال جو ہماری طرف منسوب کیا جاتا ہے ایک ایسا\nخیال ہے جو سواے ایک مجنون آدمی کے اور سیکے دماغ میں نہیں آسکتا بخیال\nاُن یادگار کو قائم رکھنے والی عمارات کے جو دہلی اور آگرہ میں باقی رہ گئی ہیں اور بنظر\nاس دیر پا مدبرانہ یادگار کے جو آئینہ اکبری میں محفوظ ہے۔ اور بلحاظ اس مفید پالیسی کی\nجو سب سے بڑھکر شریفانہ یادگار ہے اور جو اگرچہ کسی کتاب مین نہین پائی جاتی لیکن"}
{"book": "adl0234", "page": 116, "text": "۱۰۷\n\nجس کا نقش ہمارے دلوں پر بہت گہرا ہے اور جو اُس محبت آمیز عزت میں مضمر ہے جو ہم\nگزشتہ زمانہ کے اکابر اہل اسلام کی نسبت اپنے دلوں میں پاتے ہیں۔\nاور جو موجودہ زمانہ کے ہمارے ہم وطن مسلمانوں کی اس خالص محبت کے پیرایہ میں ظاہر\nہوتی ہے جو سکھوں اُن سے ہے“\nجس تعصب کا علاج اس قسم کی مصلحت آمیز نصیحتوں سے بھی ناممکن ہو اُس کو\nاُردو کے مخالف گروہ کی ایسی بیماری کی طرف منسوب کرنا چاہے جو لا علاج ہو۔\nدوسری بڑی بھاری وجہ جو معاونین ناگری اور مخالفین اُردو کو اپنی قوم میں جوش\nپھیلانے کے لئے مستعد کر رہی ہے۔ وہ میدان مقابلہ میں مسلمانوں کو زک دینے کا خیال\nہے۔ بقائے زندگی کی کشمکش اور فوقیت نوع کا جد و جہد دن بدن بڑھتا جاتا ہے۔\nایک قوم یا گروہ دوسری قوم یا گروہ کو پس پا کر کے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ اگر مقابل\nقوم یا جماعت بودھی یا غافل ہوئی تو لا محالہ وہ اُسکو روندتی ہوئی آگے نکلجائیگی\nدنیا ایسے بھیڑ کا مقام ہے جو جسے آگے ہیں ہماری راہ روک رہے ہیں۔ جو پیچھے ہیں\nدبا رہے ہیں۔ اگر ہم آگے نہ بڑھے تو پچھلے روندتے ہوئے نکلجائینگے۔ اس لیے\nبغیر آگے بڑھے مفر نہیں۔ مگر ہم خواب ناز کے متوالے پڑے ہوئے باد سحر کے\nمزے لے رہے ہیں بڑھنا کیسا اٹھنا دشوار ہے۔\nمسلمانوں میں اگر کوئی بات رہ گئی ہے جس سے اُن کی قوم میں زندگی کی رمق\nباقی ہے وہ اُردو زبان ہے اُسی زبان میں اُن کا لٹریچر ہے۔ اُسی زبان کے ذریعہ سے\nاُن کو مذہب کے اصول سکھلائے جاتے ہیں۔ زمانہ موجودہ کے روشن خیال مصلحان\nقوم کی تصانیف جو بیدار کرنے والی بچوں کے لیے فرائض کی کتابیں\nاسی زبان میں ہیں۔ ان کتابوں کا اتنا بڑا ذخیرہ ہے جو مسلمانوں کو کچھ دن اور زندہ\nرکھنے کے لئے کافی ہے۔ اگر کوئی ایسی تدبیر ہو کہ اُردو زبان بالکل کمزور اور متروک"}
{"book": "adl0234", "page": 117, "text": "ہو جائے تو اس کیساتھ ساتہ ان کے قومی ولولے و مذہبی جوش بھی رخصت ہو جائین لوگون\nپر میدان جیت لیا۔ مسلمان انگریزی مین ہم سے پیچھے ہین۔ اردو زبان محض ملازمت کی لالچ\nمین پڑہتے ہین۔ نوکری پیشہ لوگ ہندی حروف مجبوری سے حاصل کرینگے لیکن اس\nزبان مین کوئی بات ایسی ان کو نہ ملیگی جو ان کی غفلت پر تازیانہ کا کام دے ۔ یا ان کو\nاپنی تاریخ یا دولا دلا کر پہر ابہر نے پر آمادہ کرے۔ اور عوام الناس تو بنگال اور دیگر\nصوبجات ہند کے مسلمان کا شتکاروں کیطرح اپنی اصلیت کو ہی رفتہ رفتہ بہو لجا ئینگے\nاور شودرون کیطرح اعلیٰ اور متمول قومون کی خدمتگزاری مین نہ ان کو کسی قسم کی عار ہوگی\nاور نہ کبھی ہمسری کا دعویٰ۔\nاگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہندوون کا مطلب مسلمانون کو بزک دنیا یا پامال کرنا نہین ہے\nبلکہ ضرورت کی وجہ سے کوشش کر رہے ہین تو اسکے جواب مین بجز اسکے اور کچھ عرض\nنہین کیا جا سکتا کہ وہ شخص یا تو دانستہ غلط بیانی کرتا ہے یا اصلی واقعات سے بیخبر ہے\nاسکے خیال کی تردید اس سے ہو سکتی ہے کہ آج تک کسی اہل ضرورت نے کبھی کوئی\nشکایت اردو زبان کی نسبت نہین کی۔ اب وہ لوگ اردو زبان کے ماہر جن کے\nگہر مین اردو زبان مروج ہے جن کی مادری کے علاوہ کاروباری زبان یہی ہے\nان کا گورنمنٹ مین شاکی ہونا واویلا مچانا قوم مین جوش پہیلانا کسی ضرورت پر مبنی\nنہین ہو سکتا۔\nاس کو ہم قبول کرتے ہین کہ نہ مسلمان ہندوستان مین آتے نہ اردو کا وجود\nہوتا۔ تو محض اس خیال سے کہ اسکے باعث مسلمان ہوئے کوشش کر کے نیست و\nنابود کر دینے اور اس محمدتی کے پاکیزہ خیال کو جو دو متضاد مذاہب اور اجنبی قومون\nمین اس زبان کے طفیل پیدا ہوا کہو دینے سے بڑہکر کوئی دردناک بات مسلمانون یا\nشریف دل انسانون کے لیے ہو سکتی ہے ۔"}
{"book": "adl0234", "page": 118, "text": "۱۰۹\n\n۱- ترقی انسان کی بڑی باعث حمیت ہے جس قوم میں یہ نہیں وہ بالکل مردہ\nقوم ہے۔ جو نشانیاں جس قوم سے منسوب ہیں اُن کی حمایت کرنا اُس قوم کا فرض ہے\nصفحۂ دنیا سے جب وہ یادگاریں مٹ جاتی ہیں تو وہ قوم ایک تاریخی واقعہ رہجاتی ہو\nاُردو زبان اور حروف مسلمانوں کی قومی عظمت کی زندہ یادگار ہیں اُن کا مٹ جانا قومی تنگی\nاور قومی حمیت کے خاتمہ کی علامت ہے۔\n۲- اُردو میں جو علمی ذخیرہ ہیں وہ بنگالی۔ مرہٹی۔ گجراتی اور دیگر زبانوں میں نہیں۔\n۳- ہند و مسلمان۔ انگریز جس زبان کو بآسانی حاصل کر سکتے ہیں وہ اُردو ہے۔\nیہی وجہہ ہے کہ امتحان سول سروس میں اُردو داخل ہو۔\n۴- اُردو عام ملکی زبان ہے اُس میں عربی۔ فارسی۔ ترکی۔ سنسکرت۔ بھاشا۔ انگریزی\nحتی کہ دیہاتی قسم کے الفاظ موجود ہیں۔ یہی ایک ایسی زبان ہے جسکے ذریعہ سے\nہندوستان کے خاص باشندے خواہ ہندو ہوں خواہ مسلمان علمی ترقی بآسانی حاصل\nکر سکتے ہیں۔\n۵- برج بھاشا ایسی زبان ہے جو اسوقت ہندو مسلمان سب کے لیے اجنبی ہے\n۶- سنسکرت کی نسبت یورپ کے عالموں کا خیال ہے کہ وہ کبھی ہندوستان\nمیں بولی نہیں گئی ہمیشہ کتابی زبان رہی۔\nسر انٹونی میکڈانل نے جو رزولیوشن ۱۸؍ اپریل ۱۹۰۰ء کو پاس کیا اُسکی پابندی\nمیں وکلاء متعصب نے ناگری دان محرر رکھے عرائض نویس تنخواہ دار مقرر کیے تاکہ\nدرخواستیں بلا اُجرت ناگری میں لکھا کریں۔ سیکڑوں آدمی وعظ کرتے پھرے کہ اُردو\nکو بالکل بھول جاؤ۔ اُردو پڑھنا قوم سے عداوت کرنا ہے۔\nاس کارروائی سے مسلمان وکلاء واہل اسلام فریقین اور ججوں کو سخت ایذا پہونچی\nاور بجائے آسانی کے دقتیں پیش آئیں۔ مخالفین کو فائدہ نہ ملا۔ ہار تھک کر اُسمیں"}
{"book": "adl0234", "page": 119, "text": "۱۱۰\nخود ہی کمی کردی۔ اب بجز دُشمنان اتفاق اور بدخواہان ملک کے کوئی اس وقت خیر عمل کو پاس\nنہیں سکتا۔\nملکی بھلائی پر ذاتی اغراض کو ترجیح دینا اور جس صورت میں فائدہ ذاتی نہ ہوا ایک نہایت\nکمینہ خیال ہے۔ گورنمنٹ ایسے لوگوں پر کیا اعتماد کرسکتی ہے جو ذاتی عناد متعصبانہ\nخیال سے ملکی اتفاق۔ قومی بہبودی کو چھوڑ دیں۔ جو ذلیل نفع پر برادران ملکی کی دل آزاری پر\nآمادہ ہوں۔ جو پرائے شگون پر اپنے خوبصورت شکل کو بد نما بنائیں۔ جو محبان وطن کو روحی\nایذاء پہنچائیں۔ وہ آڑے وقت میں گورنمنٹ کا کیا ساتھ دے سکتے ہیں اور کیونکر ملک میں\nاتفاق پیدا کرسکتے ہیں۔\nبعض کوتہ اندیشوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ایسے جھگڑے جو ہندو مسلمان میں نااتفاقی\nکا باعث ہیں بمصلحت ملکی کی بنا پر بعض حکام گورنمنٹ خود ان کے بانی مبانی ہوتے ہیں\nبفرض محال اسکا کوئی وجود ہے تو وہ گورنمنٹ کی کمزوری کو ثابت کرتا ہے۔ رعایا کی شکایات\nپبلک کی نارضامندی حکومت کی غیر اطمینانی کا سبب ہے۔ جن حکام کا ایسا ذلیل خیال ہو وہ\nبنیاد حکومت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اب یوں لیجئے کہ ایسے جھگڑے جو آپس میں\nنااتفاقی پھیلاتے ہیں کسی زبردست قوت کی تحریک ہی سے پیدا ہوتے ہیں جسکو تسلیم\nکرنے میں ذی شعور کو تامل ہوگا۔\nتو ہماری کسدرجہ حماقت و کمزوری اخلاق ہے کہ ہم جان بوجھکر اُن تحریکوں کی\nتائید کریں۔ اس لحاظ سے تو خود بچنا چاہیے تاکہ تیسری قوت کو ہم میں نااتفاقی\nپھیلانے اور ہمارے زوال قوت کا موقع ہی نہ ملے۔\nمگر یہ صرف کہنے کی بات ہے مقصد اور ہی کچھ معلوم ہوتا ہے ہم اردو ناگری کے\nمتعلق ایک روشن خیال شاعر کی نظم لکھتے ہیں جو اس بحث پر عمدہ روشنی\nڈالتی ہے۔ ع"}
{"book": "adl0234", "page": 120, "text": "بعضون کی یہ ہے رای کہ مٹدو ہو اردو\nاور دفتر سرکار سے مفقود ہو اُردو\n\nدفتر سے نہیں ہند سے نابود ہو اُردو\nہندی کی ہو توسیع تو محدود ہو اُردو\n\nتا شیخ رہے کوئی نہ اور حسان ملازم\nتھوڑے بہت اب ہیں جو مسلمان ملازم\n\nجب لشکر اسلام میں اُردو ہوئی شائع\nشامل ہوئیں ان کے بھی بزرگوں کی طبائع\n\nسعی اپنی بزرگوں کی عبث کرتے ہیں ضائع\nبھاشا نے ترقی کے دیے اسکو ذرائع\n\nصرف ان کی گلستان کی نہیں فاختہ اردو\nان کی بھی تو ہے ساختہ پرداختہ اردو\n\nجب یہ ہو اردو خط ہندی میں ہو سلیم\nصد شکر زبان ہند کی اُردو ہو ئی تعلیم\n\nہو فارسی حروفونکی اگر لکھنے میں کچھہ بیم\nبہتر ہو کہ انگریزی ہی حرفونمیں ہو ترسیم\n\nکچھہ سچ ہی کا ثمرہ ہونہ کچھہ جھوٹ کا پہل ہو\nاس کھیت میں گر ہے تو یہی ہوگا پہل ہو\n\nدنیا میں رقابت نہیں یورپ کی برابر\nتلوار نے لیکن نہ دکھا ئے کبھی جو ہر\n\nہنگامہ نیا روز ہر یان گاؤ کشی پر\nتیار ہیں سر پھوڑنے کو سند رو سمبر\n\nکے جنگ برادر بہ برادر ہنر آمد\nدر جنگ دوکس ثالث تیر گر آمد\n\nہندی میں بھی واقع ہو اگر نقطہ کی تاخیر\nتقصیر کو پھر آپ بھی پڑھ سکتے ہیں تحسیر\n\nکاتب نہ کرے ماترہ یا نقطہ جو تحریر\nکاتب کی ہو تقصیر زبان کی نہیں تقصیر\n\nاجمیر گیا کوئی تو غلطی سے مہاراج\nکیا آپ سمجھہ لینگے کہ وہ مری گیا آج\n\nہندی ہو کہ سندی کہ فقط حرف ہوں مسطور\nممکن نہیں کل کام ہوا اور عملہ بدستور"}
{"book": "adl0234", "page": 121, "text": "۱۱۲\n\nدو گھنٹہ کا کام ایک پہر میں ہو نہیں سکتا\nسرکار کا بیفائدہ نقصان نہیں منظور\nپڑھنے میں بھی اور لکھنے میں بھی طول سوا ہے\nکاغذ کی بھی مقدار زمعمول سوا ہے\n\nاز فرش زمین آج ہو تا عرش برین ہوم\nاور ہوتی ہو کل کیا یہ سیکو نہیں معلوم\nہر ایک کی تقدیر ہی ہر ایک کا مقسوم\nممکن نہیں دنیا سے مسلمان ہوں معدوم\nیہ زعم سراسر غلط اور محض خطا ہے\nاس معرکہ میں ہم بھی ہیں جبتک کہ خدا ہے\n\nابتک ہیں مسلمانوں سے خونریزی کا دعویٰ\nاور بھولگئے اپنی مہا بھارت کی قضیہ\nکیا وجہ کشن جی کی ہدایت نہ کرائی\nکیوں کورون پر پانڈون کا ہاتھ نہ پھی\nاور برہمن و بدھ کی بھی ہر غور طلب بات\nہر بات یہی ہے کہ ہو بنیاس کی سب بات\n\nہم فرضک اسکے نہیں الگون نہ کیا گیا\nبیفائدہ اس ذکر کا آپس میں ہو چرچا\nوہ لوگ کہاں اب جو ہوی معرکہ آرا\nہے موجب آپ کی یہ رنجش بیجا\nوہ وقت گئے جن پہ یہاں کھیت پڑے ہیں\nاور ہمتو کبھی تے لڑے تھے نہ لڑے ہیں\n\nعالم میں ہی کیا چیز جو انسان میں نہیں ہے\nہندو میں ہی کیا شے جو مسلمان میں نہیں ہے\nہو دید میں کیا بات جو قرآن میں نہیں ہے\nکیا کفر میں لذت ہے جو ایمان میں نہیں ہے\nہے جلوہ گر اس بزم میں جز نور قدم کیا\nموجود کلیسا نہیں معبود حرم کیا\n\nاتفاق ممکن ہی سب سے پہلے اُس زبان کو جسے ہندو مسلمان بولتے ہیں جس سے دونوں کو یکسان تعلق ہی جو دونوں کے اتحاد سے قایم ہوئی ہے جسمیں عربی سے زیادہ"}
{"book": "adl0234", "page": 122, "text": "۱۱۳\n\nسنسکرت کا عنصر موجود ہے جسمین دونون کے بلکہ اورون کے لٹریچر وخیالات کے سمانے کی گنجایش\nہے جسمین بڑھنے پھیلنے اور ہر قسم کی صلاحیت ہے اُسے نہ مٹائین ضد کو چھوڑین۔ یہ پچھلی\nغلطیون کی تلافی کا وقت ہے۔ یہ تدبیر اتفاق کی بہت آسان و مفید ہے۔ آسانی تو ظاہر ہے کہ\nزبان کے لحاظ سے دونون قومین ایک حالت مین ہین اور مفید اسلئے ہے کہ اس سے دونون\nقومون مین بہت جلد مضبوط اتحاد کی توقع ہے۔ اسکے سوا پرانے قصّون کو فسانہ سمجھین۔ محمود غزنوی کی\nحملون کو مہابھارت سے بھی پہلے کا خیال کر کے بھولجائین۔ بزرگان دین طرح بادشانِ سلام کی\nتوہین سے احتراز کرین۔ ہر محبتی شاہ افغانستان کے اخلاق سے سبق لین۔\nبابر۔ ہمایون۔ اکبر عظم۔ جہانگیر۔ شاہجہان کے پچے ایک اورنگ زیب کا تذکرہ ہی کیا۔\nاگر اورنگ زیب ہی کو یاد کرنا ہے تو اسطرح یاد کیجئے کہ اُسکے سفری خیمہ گاہ کے ہمراہ کم وبیش\nتیرہ سو ہند وامراء واہل دفتر ہمیشہ رہتے تھے جن کو مناصب یکصدی ذات سے لیکر چار ہزاری\nپنجہزاری ششہزاری ہفتہزاری ہوا کرتے تھے۔ اورنگ زیب نے بیشتر امراء ہنود کو بات کی\nبات مین دس دس لاکھ روپیہ اور اشرفیان انعام مین دیدین۔ کابل کے صوبہ پر راجہ جسونت سنگھ\nکو حکمران کر دیا۔ جس نیک نیت راجہ نے اپنے لیاقت واخلاق سے اہل کابل کو دلون کو تسخیر کر لیا۔\nسلاطین بابریہ نے نہ فقط ہمارے ہموطن بھائی ہنود کے اجداد کو مثل امراء اسلام کے\nمناصب عالی پر ترقی دیگر ان کا اعزاز و پایہ اعتبار بڑھا دیا نہ فقط ایک بڑے رقبہ ملک پر انکو حکمرانی\nفرمانروا بنا دیا نہ فقط لکھو کہا اہل ہنود کو راج کے راج۔ تعلقہ کے تعلقہ دواماً عطا کر کے زر مالگزاری\nو مطالبہ سے ہمیشہ کیلئے بری کر دیا جسکی وجہ سے آجتک ہمارے ہموطن ہندو بھائی راج کرج رہے ہین\nبلکہ انہین سلاطین نے مذہب ہنود کی بنیاد کو سجدہ قومی اور دنیا مین نمودار کر دیا۔\nسب کو معلوم ہوکہ اہل ہنود مین مذہبی تعلیم براہمنہ کے علاوہ اورون کیلئے ممنوع تھی اسلیئے\nعام طور پر نہ اسکا رواج تھا۔ نہ مذہبی کتابون کی اشاعت۔ یہان تک کہ جب بودھ مت کی حکومت\nہندوستان مین چار طرف پھیلی اور جابجا جنگ جدل نے مذہب قدیم کا تسلط معدوم کر دیا تو اُس کی\n\nماخوذ از پیام اودہ نمبر ۴۱۹\nمورخہ ۲۷ ماہ اپریل مجریہ حبیب شاہ\nعظیم آبادی\n\n۱۵"}
{"book": "adl0234", "page": 123, "text": "۱۱۴\n\nساتهه مذہبی کتابین بهی معدوم ہوتی چلین ۔ علم سفینہ منحصر علم سینہ بہ سینہ پر ہو گیا۔ مرور دہور نے جب\nورق زمانہ کا پلٹا اور بودھ مت کی حکومت کو مذہب قدیم ہنود نے پیچھے ہٹایا تو اسوقت بهی یا توعلماء\nبراہمہ نے قصداً یا محض غفلت وسہل انگاری و یا بہ مجبوری اپنی مذہبی کتابون کو نہ توجمع کرنیکی تکلیف\nاُٹھائی اور نہ مفید طور پر مذہبی فلسفہ کو شائع کیا۔ صد ہا سال یہ حالت تمد رہی خاص خاص مشہو\nعبادتگاہون مین بعض بعض متبرک پنڈتون درومی علم بچاریون کو مذہبی کتابوں کا متفرق طور پر احکام\nو سائل کے کچهہ اشلوک یاد تهے یہ بهی مُمکن ہو کہ کسی مہاتما مارکنڈیا کے پاس بعض مذہبی کتابیں تو ان ہون\nمگر وہ ایسی نایاب تہیں کہ عموماً اہل مذہب کا اُن کتابونپر کمان دسترس ہوتا۔ خاص خاص براہہ بهی\nاس سے مستفید نہ تھے تعجب یہہ ہو کہ اس ابتدائی زمانہ سے لیکر مسلمانوں کے زمانہ بلکہ اس سے\nصدہا سال بعد تک بهی اسی ہندوستان کے اکثر حصوں میں بڑے بڑے راجہ مہاراجہ فرمان روا\nگذرے جنکو واقعی اپنے مذہب کا بڑا جوش سہی تہا۔ لیکن کسی نے بھی اپنی مذہبی کتابون کی تدوین\nکی ضرورت نہ دیکہی اور یہہ نہ سوچا کہ آگے بڑہکر عام اہل ہنود کے بے ٹہور ٹهکانے اعمال مذہبی کو\nدیکہکر لوگوں کے دلونپر کیسا برا اثرپڑیگا اورعوام ہی کے اعمال کو لوگ عین مذہب سمجھکر اس فلسفیانہ\nمذہب کو جاہلانہ مذہب سمجھنے لگیں گے۔ بغرضیکہ باوجود اختیار و با اقتدار وصاحب ثروت ہو نیکے\nہندو بہائیوں نے دیوہرے اورمندر تو خوب بنوا دیئے اور لاکهون روپیہ کے اوقاف بهی کردیے\nلیکن جس سے جڑ مذہب کی قائم ہوتی یعنی کتب کا مرتب کرکے شائع کرنا یہ کسی ایک سہی عمل میں نہ آیا\nاگرمعدومیت کتب فلسفہ مذہب کی یہی نوبت آج تک باقی رہ جاتی تو اس روشن زمانہ مین اس\nمذہب کا کیا حال ہوتا ۔\nیہ اکبر اعظم کا احسان ہے کہ بہزار کوشش و کاوش سری بہاگوت۔ راماین۔ مہا بهارت\nجوگ بشست اور گیتا کی سی نادر کتابوں کو جمع کیا۔ اور نہایت سلیس ترجمہ کراکے عوام مین\nپھیلا دیا۔ چنانچہ مذکورہ بالاکتابین جو آج ہمارے ہموطن بھائیوں کو مطالعہ مین ہین یہ اسی فیاض\nشہنشاہ کا فیض عمیم ہے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 124, "text": "۱۱۵\n\nاورنگ زیب کا بڑا بھائی دارا شکوہ اس بارہ مین اکبر اعظم سے بڑہا ہوا تھا۔ اکبر اعظم نے با وجود\nتسلط تمام صرف چند ہی مذہبی کتابوں کے ترجمے کرائے جو بلا شبہ نہایت کمیاب تھین لیکن\nاُلو العزم دارا شکوہ نے تو وہ کام کیا کہ شاید ہی کسی عملہ دوست سے بن پڑے۔ اُسنے سوچا۔ کہ\nمذہب ہندو اسوقت تک طعام بے نمک ہے جبتک اس مذہب کی کتابہائے مقدس جمع کر کے حس بخوبی\nنہ شائع ہو۔ اُسنے خیال کیا کہ اصل اصول مذہب ہنود یہی توحید ہے اور وید کے معدوم ہو جانیے چونکہ توحید\nہی اس مذہب سے رخصت ہو گئی یا ہوتی جاتی ہو اسلیے بہت سی غلط فہمیان ہندوؤں کو مسلمانوں اور مسلمانوں کو\nہندوؤں کی مذہب سے ہو گئی ہیں اور یہی بڑا سبب ان دونون قومون کے تفرقہ کا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی\nمثنوی کے ایک شعر مین کہتا ہے ع\nکفر و اسلام در رهش پویان\nوحده لا شریک له گویان\nاور یہ اشارہ ہے وید مقدس کے اس فقرہ کی طرف:۔\" ایکو برہم دوتیو ناستی\" یہ فقرہ\nبعینہ لا الہ الا اللہ کا ہم معنی ہے۔\nدارا شکوہ عنفوان شباب زمانہ ولیعہدی میں اپنے آسایش و آرام سے دست بردار ہو کر\nمحض نیک نیتی اور ایک قوم کی فلاح مذہبی کی دہن میں بنارس آیا۔ مدتون قیام کر کے زبان سنسکرت\nکو حاصل کیا۔ پنڈتون اور مہاتماؤن کو بڑے بڑے وظیفے اور بیش قرار جاگیرین مرحمت کین جسکے پاس\nجتنے اشلوک زبانی یا تحریری وید کے تھے سبکے لیے فقط اتنی ہی محنت اور جفاکشی پر قناعت نہین\nکی بلکہ جب کاشی سے اس دولت بے بہا کو جمع کر چکا تو دکن، کشمیر و کوہستانی شمالی ہند کے سفر کی\nبرسون زحمت گوارا فرمائی۔ اور جس مہاتما تارک الدنیا کوہ وصحرانشین سے جو جو اشلوک پائے سب جمع\nکیسے اور نہایت وقت نظر دسیکڑون حکمای مذہب براہمہ کی اعانت سے چارون ویدون کی تدوین کرکے\nاسکا ترجمہ زبان مروجہ مینی فارسی مین کیا اور ستر اکبر نام رکھا جس سے یہ بات کھل گئی کہ ہند و مسلمانون\nکے با ہم جتنا تفرقہ نسبت اصل اصول مذہب سمجھا گیا ہے وہ صحیح نہیں چنانچہ سر اکبر کی دیباچہ\nمین خود لکھتا ہے۔ طالعہ قدیم ہند را بر وحدت انکاری و بر موحدان گفتاری نیست۔"}
{"book": "adl0234", "page": 125, "text": "۱۱۶\n\nغرض اسوقت جو وید مقدس کے ترجمون کی اشاعت اس کثرت سے ہے اور مذہب ہنود\nکے فلسفہ کو رونق وہ سب اسی محسن بنی نوع انسان شہزادہ داراشکوہ کو گران بہا احسان کیسبب ہا ہے\nمذکورہ بالاگو اگرچہ اور بھی شواہد و سندین ہین لیکن طوالت کو خوف سے صرف کتاب اکبہ پرکاش\nمؤلفہ رای کنہیا لال الکھہ وہاری کے دیباچہ کے چند فقرات نقل کیے جاتے ہین وہ کتاب مذکور کے صفحہ ۱۲\nمین لکھتے ہین ”جب ہند سے سنسکرت کی تعلیم و تلقین جاتی رہی سمجھنا چاہیے کہ وہ بیجو بے مفقود ہوگئی تھی\nاس عرصہ مین ہزارون راجے مہاراجے ہندوپت ہو گذرے مگر کسی کو اسطرف توجہ نہ ہوئی کہ اس آبحیات کو\nخاص و عام کیواسطی سبیل کرتا۔ آفرین صد آفرین شہزادہ عالی ہمت اور بلند مرتبت داراشکوہ بہادر دارین کو\nکہ جونعمت و دولت پہلے خاصون کو نصیب نہ تھی وہ عام کو بے منّت بخشد ی یعنی تمام اوپنکھدون کا\nجو گیان کے متعلق تھین محنت گوارا۔ لاکھوں روپیہ خرچ اور صد ہا پنڈت اور سنیاسیون کو جمع کر کے شہر\nکاشی کی سیرسیاحت اور تعصبان کے طعن کو متحمل کرکے سنسکرت سے فارسی مین ترجمہ کیا گویا دسترخوان\nصل کل عام و خاص کیواسطے بچھا دیا اور دروازہ جیون مکت و بد یہیکت کا کس و ناکس کیلئے کھول دیا۔\nاور نفسانیت کو مطلق دخل نہ دیا اور مجلس کو شہنشاہ دارین کا بنا دیا اور اپنے پردادا اکبر بادشاہ کے نام\nکو روشن کیا“\nناظرین انصاف دوست ملاحظہ کرین کہ مذکورہ بالا بے تعصبی و رفاہ طلبی سے بڑھکر کیا ہو سکتاہے\nکہ غیر مذہب کی بنیاد باوجود تخالف اعتقادات کے اسطور سے ہزار کوشش و کاوش جما جائے کہ\nابدالاباد تک قایم و دایم رہے۔\nاگر سیواجی عالیشان مندر تعمیر کر جاتا اور کرورون روپیہ کی جائداد اُن کے لیے وقف کر دیتا\nتو بھی اس مسلمان شہزادہ کے اس نہایت پائدار و مفید کام سے بڑھکر نہ ہوتا۔ کاش جہان جہان کسی\nمسلمان بادشاہ کے تعصبات مذکور کیے جاتے ہین وہان اس گرانقدر حال کو بھی یاد رکھین تو\nبعید از انصاف نہین ہے اورنگ زیب پر مذہبی عناد و تعصب کا الزام دلیل کوتاہ نظری اور تاریخ\nسے بیخبری کی ہے۔ اسکو سنے۔ پنڈت و پجاری نظیف خوار داراشکوہ کے بے انتہا مصارف"}
{"book": "adl0234", "page": 126, "text": "۱۱۷\n\nو دعا گو تھے جب ان کو دارا شکوہ کے حالات کی خبر ملی تو بیحد صدمہ ہوا۔ اور اپنے بہیخواہون مین\nاورنگ زیب کے مظالم اور دارا شکوہ کی نیکیان بپیرایہ مظلومیت کے مضامین مین داخل کر کے گانا شروع کر دیا۔\nاسکی خبر اورنگ زیب کو لگی۔ چنانچہ تاریخ مراۃ العالم مین لکھا ہے ۔\nہنگامیکہ رایات ظفر آیات باستئصال شورش شہزادہ شجاع بہ سمت دیار شرقی بحرکت آمد کہ\nاند میان وظیفہ خواران و خیرطلبان شاہزادہ دارا شکوہ اند معتقدان خود را با ظہار مظالم پادشاه بحجانه\nببیت واعانت شهزاده شجاع می کشند و شجاع نیز با ایشان رسل و رسائل دارد۔ قہر غضب\nسلطانی زبانه کشیدن گرفت به منعم خان سپه سالار حکم محکم به نفاذ پیوست که بتعجیل هرچه تمامتر با فوج\nقاهره رویه شهر بنارس آورده آن بیچارگان را با تمامی بنگیده ہا باخاک عدم برابر سازد. بهار امل جسارت\nنموده عرض کرد که اگر همان بتکده با و پنڈتان را بیاسار سند که مرتکب این هنگامه پردازی و فساد اند\nقرین انصاف است عرض او پذیرایی یافت ۔ باصفای این خبر مصیبت اثر کل مشلغان و برہمنان\nبمقتضای الفرار مما یطاق بتکده ها را خالی گذاشته رو بپای ادبار شدند منعم خان چند بتخانه ها را\nکه مشتهر به وظیفه مالی بود شکسته از سنگ خشت آنها مسجد آراست -\nاس بیان سے بخوبی ثابت ہے کہ بنارس کے بعض بتخانون کے توڑ ڈالنے کا سبب بہی\nمذہبی تعصب نہیں بلکہ پولٹیکل وجہ تھی ! اسکے ساتھ ہی یہہ ہویدا ہے کہ سردار بہارامل کی\nوجہی استدعا قبول ہوکر حدود انصاف کے اندر کارروائی کا حکم دیا گیا اور پھر بتخانہ کے بجای\nبہی عبادتگاہ ہی تعمیر ہوئی ۔\nلہذا حرکات مورث اختلاف سے پرہیز۔ خلوص محبت کی حاجت ۔ اور منافقانہ دوستی\nسے حذر واجب ہے ۔ اتفاق ناممکن ہے جب تک ہمارے دل صاف نہ ہون ۔\nہندو مسلمانون کے پولٹیکل اغراض و حقوق یکسان نہین ۔ اگر کوئی فریق بلا مزاحمت و ضرر\nرسانی دوسرے کے اپنے حقوق کے تحفظ کی معقول تدبیر کرے تو وہ مورد الزام نہین تمدن\nو معاشرت مین برادرانہ تعلقات ہون اور اتنا لحاظ ہمیشہ رہے کہ بالقصد ہم دوسرون کو"}
{"book": "adl0234", "page": 127, "text": "۱۱۸\n\nنقصان نہ پہونچائیں۔\nاگر اتفاق سے مراد خود غرضی۔ مذموم طریقہ سے سودیشی تحریک۔ ناعاقبت اندیشیان کر\nاقوال کی تائید۔ گورنمنٹ کی مخالفت مین اپنے جتھے کو بڑہانا۔ پبلک مین بُرے خیالات پہیلانا\nحکومت کے جوے کو گردن سے اُتار پھینکنے کی آرزو۔ خانہ داری کی صلاحیت نہین ملک گیری کا دعویٰ\nاسے اتفاق نہین نفاق فرمائے مسلمانون کو جو صدمات اپنے ہموطن احباب سے ظاہری ہمدردی\nپہنچے اور پہونچتے رہے ہین اُسکا اقتضا ر ہے کہ احتیاط سے کام لین۔\nاور پہر جس قوت سے ہماری دینی و دنیوی اغراض وابستہ ہین اُسکا تقاضہ ہو کہ اُسکی طرف ہمارا حُسن\nاعتقاد قدرتاً ہونا چاہیے جسے اُس خیال کی امید رکہنا جو ہمکو کافر نعمت بنائے یا احسان فراموش\nٹھہرائے قطعاً بیجا ہے۔ وفاداری ایک فیاض دلسوزی ہے جو انسان کے شریعت طبقہ کو اپنی\nجان و مال کی ۔ انصاف دوست حکمران یا خاص ذات پر وقف کرنیکی ترغیب دیتی ہو۔\nبرٹش گورنمنٹ موجودہ زمانہ مین اسلامی دنیا کی بڑی فرمانروا ہے ازروے تحقیق جس قدر\nمسلمان حکومت برطانیہ کے زیر فرمان ہین حضرت سلطان لمعظم خلد اللہ ملکہ کے نہین۔ اس لحاظ\nسے ہمین کتنا بڑا تعلق اپنی گورنمنٹ سے از روی مذہب ہو گیا۔ تمام دنیا سے زیادہ مسلما\nکو جسطرح کا واسطہ برٹش گورنمنٹ سے ہے۔ جہان جہان عملداری برطانیہ عظمیٰ کی ہو علانیہ\nتعلیم عقاید اسلامی کیجیئے کوئی معترض نہین۔\nمسلمان اگر انگلینڈ مین جا کر ترویج عقائد اسلام مین کوشش کرین تو کسی قسم کی ممانعت نہین\nاطمینان و آسایش سے ارکان دین کی تعمیل جو ان دنون ہم کر سکتے ہین کبھی نصیب نہ ہوئی جس قدر\nحکومت مین از روئے مذہب یہ آرام ہو کوئی ایسا بیوقوف ہے جو اُسے غنیمت نہ سمجھیگی جو آزادی و\nآرام عثمانی سلطنت مین غیر مذہب والون کو اس زمانہ مین حاصل ہو وہی ہمین اسوقت یہان نصیب ہو۔\nرہی دنیاوی آسایشین وہ تو حد شمار سے خارج ہین مختصر یہہ کہ ہمین ہر طرح آزادی حاصل\nہے کہ بحیثیت رعایا کے واجبی حقوق طلب کرین۔ بے تکلف علانیہ رسوم و ارکان مذہبی بجا لائین"}
{"book": "adl0234", "page": 128, "text": "۱۱۹\n\nاپنی ہر تکلیف کا بذریعہ عرضداشت چارہ کار چاہین۔ دختر کشی نابودستی موقوف ٹھگون کی جماعت مفقود\nانسانی قربانی بند۔ ڈاکہ زنی کاعمدہ انسداد۔ شاہراہین صاف و بخطر نہرین بکثرت ریل وجهاز کیوجہہ\nسے بری و بحری سفر کی سہولت تار کے سبب سے تجارت کو ترقی ۔ پوسٹ آفس نہایت خوبی سے محمی محصول\nپر جاری۔ اسکول وکالج و یونیورسیٹیون کی باعث تمام علوم کے خزانے پیش نظر ۔ بلحاظ قابلیت ہرشخص کو\nملازمت کا حق حاصل ۔ اصول انصاف کا بلا لحاظ قوم ومذہب عدالتون مین قرار دیا جانا۔ شفا خانے\nخیراتی موجود۔ چھاپہ خانے بے انتہا۔ اخبارات کو آزادی کی نعمت میسر چیچک کی حفاظت کے لیے\nٹیکے کا محکمہ امراض متعددی کیواسطے خاص انتظامات ۔ قیدیون سے جیلخانوں مین مہذبانہ سلوک\nباہر جاکر معاش کے لیے پیشون کا سکھایا جانا ۔ بذریعہ نلون کے پانی بہم پہنچانا ۔ شہرون اور قصبون\nمین صفائی کا پورا انتظام ۔ تعلیم نسوان کی تحریک وغیرہ وغیرہ\nغرضکہ ایک انصاف پسند شخص کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ انسانی ہمدردی میں ۔ رعایا کی\nآزادی مین ۔ رعایا کو مہذب بنانے میں دنیا کی کوئی گورنمنٹ انگریزی گورنمنٹ کو نہین پاتی۔\nبرٹش گورنمنٹ کی سلطنت کا حُسن سلوک اُس وقت پوری طور سے اندازہ ہو سکتا ہے جب ہم دوسری\nسلطنتون کے سلوک رعایا کے ساتھ اس کا مقابلہ کرین مثلاً حکومت روس وسط ایشیا میں ۔ روس\nگویورپ کی قوتون مین ایک قدیم اور مہذب سلطنت کہلائی جاتی ہے مگر اُسکے قانونون کاسیلان اور\nناظمین کا طرزعمل برٹش گورنمنٹ کی مقابلہ مین اگر وحشیانہ کہا جاوے تو بیجا نہین ۔\nیہود کے ساتھ جو جابرانہ وظالمانہ عمل کیے جاتے ہیں اُنکا جواب شاید مذہبی اختلاف ماضیہ\nکی بنیاد پر مل سکے ۔ مگر مسلمانون کیساتھ خاصکر جو سلوک جابرانہ کیا جاتا ہے ۔ وہ سُننے کی قابل\nنہیں اور بیحد نفرت دلانیوالا ہے اُن کی مذہب کی ادای رسوم مین علانیہ روک ٹوک اُن کی مدارس اور\nاوقاف مین دیدہ و دانستہ سنگ اندازی ۔ اُن کی تجارتوں کیلئے ہر طرح سد راہین ۔ اُن کی آسانیون\nکے عیوض اُن کے راستون میں قیقین ۔ اصلاح کے بجای اُن کی آسایشون مین خلل ڈالے\nجاتے ہیں ناکافی بنیادوں پر قتل و جلاوطن کیے جاتے ہیں۔ اُن کی جائدادین ضبط ۔ اُن کی"}
{"book": "adl0234", "page": 129, "text": "مال ومتاع بوجہ طرق۔ مظلوم و مجبورون کو جان بچانے کے لیے دوسری سلطنتون سے امداد\nکی ضرورت ۔ اور دوسری ملکوں میں جاکر آباد ہونے کی حاجت پڑتی ہے۔\nایک راستباز روشن خیال ذی علم مسلمان باشندہ قران مملکت روس نے جن مظالم کا\nجسے استنبول مین تذکرہ کیا ہم اگر اسکی تفصیل بیان بیان کرین تو اہل ہندمین سے ہرشخص\nکی آنکھوں سے آنسو روان ہون۔\nسلطنت میں شریک ہونا۔ اُسکے قانونون مین مشورہ دینا۔ اُس کی مجالس تک رسائی\nاُسکا تو ذکرہی نیچے حقیقتاً مین مملکت ہندوستان دارالامن اور روس دارالقرار ہو۔\nبرٹش گورنمنٹ مین اگروہ حرکتین شنی کر دی جائین جو ہندوستانیون کو خود ہندوستانیوں\nکے ہاتھ سے پہونچتی ہیں تو یہ کہنا بیجا نہو گا کہ دنیا میں کسی اجنبی سلطنت کے سایۂ حمایت مین\nیہ امن و آسایش میسّر نہین آسکتی۔ ناحق شناسی ہے اگر رعایای ہند عموماً اور مسلمانان ہند\nخصوصاً اس نعمت کی قدر اور اپنے افعال واقوال مین سچی احسانمندی ظاہر نہ کرین۔\nاپنی حاجتون اور ضرورتوں کو بطرز معقول سلطنت کے کانوں تک پہونچانا اور امید\nاصلاح رکھنا بیشک ایک قومی فرض ہے مگر آداب سلطنت اور حقوق فرمانروا کو نگاہ نہ رکھنا\nنہ صرف سوء ادبی ہے بلکہ علامت شقاوت ہے۔\nکسی قوم سے اختیارات سلطنت خدا نہین لیتا جب تک وہ پایۂ انسانیت سے گر نہ جائے\nاور کسی قوم کو اختیارات سلطنت دستِ قدرت سے نہین بخشے جاتے جبتک اوس مین\nوہ اوصاف حمیدہ نہ پائے جائیں جس سے ودیعت سلطنت امینانہ ادا کر سکین۔ اِن\nدور جون کے فرق کو جب تک کوئی رعایای مفتوح اچھی طرح نہ سمجھے گی حفظ مراتب نہین کر سکتی\nپارہ ۱۷- سوره انبیاء وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا\nعِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ٥ حصه افرا تاہے کہ ہم زبور مین نصیحت کے بعد یہ بات لکھ چکے ہن کہ ہمارے\nنیک بندے زمین (کی سلطنت) کے وارث ہوں گے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 130, "text": "۱۲۱\n\nچھوٹا اپنے بڑے یا بہتر سے اسیوقت خالص حمایت مدد کی امید کر سکتا ہے جب ادب کیساتھ اپنی\nکمی کو تسلیم کرتا رہے اور طلب ترقی میں خلوص عقیدت کو واسطہ گردانتا ہے۔ ہم اپنے ملک کے\nہندو و مسلمان بھائیوں سے خالصانہ التماس کرتے ہیں کہ وہ اگر اپنی اور اپنے ملک کی بہبودی چاہتے\nہیں تو صحیح طریقے اور صحیح مزاج اختیار کریں اور بیجاشور و غوغا سے باز آئیں۔ اور ان لوگوں کے\nکہنے پر عمل نہ کریں جنگی سند تفوق صرف یہی ہے کہ غیر ملکوں کی زبان کے الفاظ روان طور پر بول\nسکتے ہیں یا لکھ سکتے ہیں۔ مگر جن کو اس بات کا تجربہ یا اندازہ نہیں کہ سلطنت کے مفید ہونے\nیا اسکے امور میں شریک ہونے کے لیے رعایا کو کیا کیا صفات درکار ہوتی ہیں۔\nمدارس کے امتحان میں کامیاب ہونا۔ یا تجارت اور دیگر پیشوں کو کامیابی سے کرنا اس\nبات کو نہیں بتا سکتا۔ افراد منتشر اور مختلف الاعمال و خیال ہرگز شیرازہ قومی حاصل نہیں کر سکتے\nجب تک وہ انضمام طبعی خواہ منجانب قدرت خواہ منجانب تربیت پیدا ہو جس کو انگریزی میں آرگنیک\nاور ہماری زبان میں حیات ترکیب کہتے ہیں۔ مثلاً جہاں ایسے افراد بکثرت ملتے ہوں جو دوسرے\nافراد کو خواہ اختلافات مذہب خواہ خود غرضی۔ خواہ عداوت کی بنیاد پر نقصان پہنچانیکے لئے مستعد\nہوں وہاں سب افراد ملکر ایک مجموعہ متفق الاغراض جسکو قوم کہتے ہیں کیسے بنا سکتے ہیں۔ اسلئے\nنہایت مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جبتک ہندوستانی رفتہ رفتہ ترقی کر کے استحکام و توافق گیر کریکٹر\nحاصل نہ کرلیں ایسی رعایات کے متقاضی یا متمنی نہ ہوں جسکا عمل بلا امتیاز ہر گروہ سے\nمتعلق ہو۔ شخصی فضیلت بیشک ایسی چیز ہے جس کا امتیاز ہر وقت ضروری اور مفید ہے۔ اس امتیاز\nشخصی سے مستفید ہو کر اُن کا فرض ہو کہ ایک خاص حد کے علو گیر کرکٹر پیدا کریں اور اوس کو بعد\nقوموں کی فہرست میں اپنا شمار کریں۔ مگر کسی صورت میں یہ جائز نہیں کہ کفران احسان کریں۔ یا\nسوء ادبی ان محسن فرمانرواؤں کی شان میں برتیں جن کی بدولت ہندوستان کو مغربی روشنی سے\nاستفادہ کی نوبت پہنچی ہے۔ تجدد و مساوات کے شوق و حرص میں نابینایانہ دوڑ پڑنا۔ اور\nحفظ مراتب کا لحاظ چھوڑ دینا ہندوستان کے لیئے سیدھا راستہ تباہی و بربادی کا ہے۔ امتیاز\n۱۶"}
{"book": "adl0234", "page": 131, "text": "۱۲۲\n\nمساوات و غلبه تفضیل اور شان برتری ایسی چیز نہیں که وام دیگر خریدی جاوے یا اپنے منہ سے\nمانگی جائے۔ یہ انعام خداوندی ہے جب دو شخص برابر ہونگے۔ قانون قدرت ہے که ایک\nدوسرے کا اعزاز کرے۔ اور جب ایک دوسرے سے بہتر ہوگا تو ضرور ہے که کمتر بہتر کو از خود\nاعلیٰ سمجھے۔ یہ امتیاز اور رعایتیں عرضداشت اور فرمانور سے حاصل نہیں ہوتی ہیں۔\nقدرت از خود ان قوموں کے عمل مستحکم و ممیز کر دیتی ہے ؎\nکل سہی۔ گاڈی سہی۔ ریل سہی۔ تار سہی\tہر پیکار نئے ڈھنگ کے ہتھیار سہی\nصنعت وحرفہ سہی دولت بسیار سہی\tصاف شیشونمین مربے سہی آچار سہی\nاہل یورپ میں تو ہر بات ترقی کی ہے\nپر کہو ہند نے کیا اسمیں ترقی کی ہے\nہند کے واسطے کافی نہیں یورپ کی نظیر\tایک ہو سکتے ہیں کیونکر یہ غریب اور وہ امیر\nبات میں ان کی تو باقی ہو یہی ایک لکیر\tروز وشب جبہ بنے بیٹھے ہیں یہ ہو کر فقیر\nوہ بھی اب ہاتھ سے چھن جانے کی تدبیر ہوئی\nخوب ہمدردی تری ایک فلک پیر ہوئی"}
{"book": "adl0234", "page": 132, "text": "۱۲۳\n\nاعتراضات کی تفصیل اور ان پر ریویو\n\nرموز سلطنت سے عوام ناواقف ہوتے ہیں اس بناء پر ان کے اعتراضات فرانروایان\nملک کے باب مین قابل عفو ہین مگر غلط فہمی بجائے خود ایک امر قبیح بو غیرترین مصلحت ہے۔ لہذا\nہم کشف غطا کے طور پر چند دخل مقدر و تذکر یعنی ان حجابوں کے اٹھانے اور بد گمانیون کو\nدفع کی کوشش کرنا چاہتے ہیں جو اعتراض کی شکل میں لوگوں کے ذہن نشین ہیں یا جن کا تذکرہ\nزبانوں پر آچکا ہے اس میں نہ عوام سے مناظرہ کا ارادہ نہ کسی سلطنت کی خوشامد منظور۔\nزبان خلق ایک عجیب سیمیعن چیز ہے اور خاصکر جہان کسی عالیہ شخص کی عیب ثواب کو بحث ہو۔\n\nقيل ان الله ذو ولد قيل ان الرسول قد كهنا\nما نجی الله والرسوله معا من اللسان الورى فكيف انا\nمگر خداوند عالم کی عجیب قدرت ہے کہ معترضین کے اعتراض بجای اسکے کہ پاکدامنون پر دھبہ\nلگائین ان کی عظمت کو نگاہ خواص مین بڑھاتے ہیں۔\nمجالس لیدیز کی شرکت اہل یورپ اور جعلی باشندگان ہند کے لیے تو کوئی موقع نکتہ چینی کا نہین\nمگر بعض ہندوستان کے اور شاید اہل کابل کے نادان دلون مین یہ خدشہ گذرا ہے کہ اعلحضرت\nشاہ افغانستان نے بعض ایسے صحبتون مین شرکت کی جنین عوارات بھی شریک تھین۔\nاسکو وہ ایک امر خلاف شریعت اور نیز منافی شان امیر کے بتلامین۔ ہمکو اس موقع پر وکالت\nکا کام منظور نہین بلکہ ایک محاکمہ لکھنا چاہتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ شریعت کی قیدین کھا تک\nعورتوں کے ساتھ معاشرت مین محدود ہین۔ اور آیا امیر نے کوئی فعل ایسا کیا کہ جس سے کسی\nقید شریعت یا ان کی شان امارت مین خلل آیا۔ اس محاکمہ مین ہمارا روی سخن ان نا عاقبت اندیش\nاور امور شریعت ناشناس عوام سے نہین جن کو یہ خبر نہین کہ خواے احکام شریعت کیا ہے\nاور جو وہ اپنی زبان سے کہتے ہیں یا دماغون مین پکاتے ہین نفس بحث کو متعلق ہو یا نہین۔\n\nخدا کو کہتا اولاد و رسول کو کاہن\nکہتے ہین جب خدا و رسول کسی کی زبان خلق\nسے نجات نہین ملی تو ہم کسطرح بچی گے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 133, "text": "۱۲۴\n\nتمام احکام شریعت کے تفحص سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر محرم مرد اور عورت کو معاشرت\nمین ایک خاص حد محدود سے گذرنا عام طور پر نامناسب اشاطیر قدرت ہے ۔ مگر اسی کیساتھ\nشریعت میں جو مراعات حقوق سلوک نسوان مین ہو اس کی وسعت کی کسی قانون دنیا مین مثال\nنہین ہم یہان پر اپنے قلم کو اس انتظار مین ٹھہراتے ہیں کہ کوئی محقق مذاہب ہمارے اس دعوی\nکے بطلان کی کوشش فرمای۔ اسکے بعد یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ آیا شریعت مین کوئی ممانعت\nایسی ہو کہ باوقار معزز عورتون سے اجتناب کلی کیا جاوے یا کوئی دیوار خیالی درمیان مین\nحائل سمجھی جاوے۔ ان عورات کو جو پابند شریعت ہین بیشک حکم ہے کہ نامحرم مردون سے آزاد\nطور پر مراسلت نہ رکھین ۔\nیہی مضمون احتیاط کو خداوند عالم اپنے کلام پاک میں اس آیت سے بتلاتا ہے ۔\nقُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ\nإِنَّ اللَّهَ خَبِيْرٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ ه وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ\nفُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا الخ\nاس مین مومنین و مومنات دونون کے لیے ارشاد ہے کہ وہ اپنی نگاہون اور شرمگاہون\nکی حفاظت کرین ۔ اسی کیساتھ کلام ربانی مین صاف ارشاد ہے ۔ لا يكلف الله نفساً\nإلا وسعها ” ورنہ تمام دنیا مین چاہئے تھا کہ حرام ہو جاتا عورتون کا یا عورتون سے مردون\nکا بیع و شری۔ اور دنیا کے آدہے کام تقریباً مسدود ہو جاتے۔\nاسیطرح غلامون کی بیع و شری ہو۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ امتناع یا نہی صرف بغرض\nانسداد فتنہ و خرابی ہے۔ مثلاً شریعت کہین ممانعت نہین کرتی کہ جس عورت سے خطاب نکاح\nہو اُسکو مرد نہ دیکھ لے یا مرد کو عورت نہ دیکھ سکے بسیطرح طبیب مریض یا شہادت و حکومت\nکے معاملات ہین وہ حکم کلی امتناعی بے مستثنے کیئے پڑہا نہین جاسکتا ۔ بلاد اسلام مکہ مکرمہ\nمدینہ طیبہ استنبول ۔ دمشق ۔ بیت المقدس ۔ بیروت وغیرہ مین تمام معزز خواتین اسلام\n\nحاشیہ ۱:\nقانون\n\nحاشیہ ۲:\nپارہ ۱۸ سورہ نور"}
{"book": "adl0234", "page": 134, "text": "۱۲۵\n\nبذات خود بازاروں میں جاکر خرید و فروخت کرتی ہیں۔\nاسکے برعکس شریعت میں کہیں ممانعت نہیں ملتی کہ دوسری ملت و قوموں کی عورتیں جو اپنی رسم و رواج اور مذہب کے موافق پردہ نشینی کی پابند نہیں اُن کے حضور سے بضرورت لڑکی بحالت سیاحت بصورت میزبانی و مہمانی اجتناب قطعی کیا جاوے۔ اصول فقہ ہے الضرورات تبیح المحظورات یعنی ضرورت ممنوعات کو بھی مباح کر دیتی ہے۔ یہ سرسری ملاحظہ باعتبار قیود شریعت کے ہے۔\nعقلاً تھوڑے سے غور کے بعد معلوم ہوگا کہ ایشیا اور یورپ کے طرز معاشرت و عوارا کے عقل و دانش میں کیا فرق ہے اور ایشیائی مردوں کو یورپ کی باوقار معزز عوارات کے حضور سے کیا استفادہ کی ضرورت ہے۔\nایشیا میں عورتیں اپنی کم علمی اور دنیا کی ناتجربہ کاری کیوجہ سے تمام امور میں بجز خانہ داری کے ایک صنف بیکارسی ہیں۔ مگر یورپ کے حالات جاننے والے جانتے ہیں کہ عوارات یورپ اور خاصکر طبقات عالیہ میں کس مرتبہ پر ہیں موازنہ صحیح سے معلوم ہوگا کہ یورپ کی ترقی میں آدھا حصہ یا لمیہ غالب عورتوں کی وقار و عالیمرتبی کا نتیجہ ہے۔\nایشیا میں آٹھ دس برس تک کے لڑکے جبتک مدرسے و مکتبوں میں نہیں جاتے علم پڑھنے سے محروم قطعی رہتے ہیں۔ یورپ میں تعلیم یافتہ عورات کی بدولت اُن کو بچوں کا سچا زمانہ تعلیم و تربیت ایام مھد سے شروع ہوتا ہے۔\nایشیا میں نوجوانوں کی جوانی کا زمانہ سب سے خطرناک ہی اُس میں گمراہی کا بڑا سبب ایشیا کی عورتوں کی صحبت کا اثر ہوتا ہے۔ یورپ میں اُس کے برعکس شباب خواہ مرد کا ہو خواہ عورت کا شکل معقول وہاں کی عوارات کی بزرگی و ہیئت ہی سے صورت پکڑتا ہی جو تمام عمر اُن کے خصائل حسنہ کا ذمہ دار رہتا ہے۔ ایشیا کو نوجوانوں کو جو موقع عورتوں کی پردہ نشینی کیوجہ سے جادہ اعتدال سے گذرنے کے میسر آتے ہیں وہ یورپ کی تجربہ کار قابل بیبیوں کی نگہداشت سحر"}
{"book": "adl0234", "page": 135, "text": "١٢۶\nمسرور رہتے ہیں اس تمہید کو بعد مباحث ذیل فیصلہ طلب معلوم ہوتے ہیں۔\nاول آیا ہر محبتی پیر نے کوئی صحبت خود ایسی تلاش کی جسمیں کوئی امر خلاف شریعت تھا مثلاً مشارکت نسوان یا ایسے جلسہ میں شریک ہونا ایک امر ناگزیر یا بخاطر میزبان یا بپاس تہذیب تھا\nدوم ۔ آیا ایسی خاص حالتوں میں شریک ان مجالس کا ہونا جہان یورپین لی بیان جمع ہوں کسی حکم شریعت کے خلاف تھا۔\nسوم آیا ایک باخبر والی ملک کو جسے اپنے ملک میں سبطرح ترقی پھیلانا ہے ایسی صحبت خالی از مفاد یا ضروری تھی۔\nامر اوّل پروگرام کے دیکھنے سے شک باقی نہیں رہتا کہ کسی جلسہ مین امیر کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ نہ تھا جس سے ان کی منشاء لیڈیز کی مشارکت کے باب میں پائی جائے نہ اُن موقعوں پر اعلحضرت کے افعال یا اشارات سے کوئی بات ایسی مترشح ہوئی جس سے ان کی طبعیت کا میلان یا خلا لاینبغی پایا جاتا ہو۔\nیورپین تہذیب کے موافق جس جلسہ میں لیڈیز شریک نہون وہ خلوص محبت سے خالی ہوتا اور لیڈیز کی شرکت گوارہ نہونا۔ ان کے قانون تہذیب میں بدترین شان وحشت ہو۔ سوائے ان باضابطہ مواقع کے جہان محض مجالس امور سلطنت سے متعلق ہوں یورپ میں کوئی صحبت لیڈیز سے خالی نہیں ہوتی۔ اور نہ معزز سمجھی جاتی ہو جبتک وہ شریک صحبت نہون۔ ایسی صورت مین جب اعلحضرت کو۔ گورنرون اور وایسرائے کی مجالس معاشرت میں شریک ہونا قرین مصلحت ہوا۔ تو ان کو بجز اتباع قواعد میزبانان اور کیا چارہ تھا۔\nعامہ خلایق کی کسی رواج عام کی خلاف ورزی خالی از فضیحت نہیں چہ جائیکہ دائرہ آداب سلاطین ایسے موقعون پر شاہوں وشہنشاہوں کی چھوٹی سے چھوٹی حرکات وسکنات معترضین کی نگاہ کے سامنے ہوتی ہیں اور ان کے ملکوں کی نیکنامی و بدنامی ان کے دانشمندانہ سلوک پر منحصر رہتی ہے۔ ایسے وقت میں عوام کو ایک مہذب رمز شناس فرمان روا"}
{"book": "adl0234", "page": 136, "text": "۱۲۷\n\nآداب پر نکتہ چینی کرنا نہ صرف خلاف عقل بلکہ سوء ادبی ہے۔\nرموز مصلحت خویش خسروان دانند\nگداے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش\n\nامر دوم شریعت کے تمام اوامر و نواہی متعلق معاشرت نسوان پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں قید پردہ داری صرف مسلمان بیبیوں کے لیے کیگئی ہے اور سد نامحرمی انہیں کے لیے حائل ہے مردوں کے لیے گویا صحبتوں سے اجتناب بتلایا گیا ہے مگر کین قید نہیں لگائی گئی کہ دوسرے ملک اور قوموں کے رواج جو اسکے برعکس ہوں اُن کی وجہ سے کوئی مسلمان اپنے کاروبار بیع و شری ۔ ربط و ضیافت سے حذر کرے۔\nمثلاً اگر ایسے ملک یا قوم میں گذر ہو جہان بیع و شری بواسطہ عورات ہوتا ہے تو کیا شریعت ایسے بیع و شری سے مانع ہے۔ یا ایسے احباب میں ضیافت کی نوبت آئے جہان قید شریعت کی پابندی نہیں ۔ وہان قانون میزبانی و مہمانی سے خلاف ورزی کی جائے۔\nایسے خدشے ان تنگ دل تنگ نگاہ اور تنگ خیالوں کے ذہن میں گذر سکتے ہیں جو شریعت کو ایک تنگناے ضوابط تصور کرتے ہیں۔\nشریعت وہ قانون وسیع ہے جو رہبانیت سے نفرت اور وسعت اخلاق و تہذیب نفس اور دنیا میں زندگی بسر کرنے کے آرام دہ و عمدہ اصول مطابق زمانہ سکھلاتی ہے۔ ایک محلہ یا قریہ خاص کے رہنے والے مسلمان ایسے تنگ خیالوں میں بسر کر سکتے ہیں مگر وہ سیاح جن کو دنیا میں پھرنا ہے اور وہ والیان ملک جنکو قوم کی خدمت کرنا ہے اپنار فرض منصبی کو بغیر شرکت طریق معاشرت اقوام مختلفہ ادا نہیں کر سکتے گو عوام ناراض ہوں\nامر سوم بحث آخر الذکر شاناً اول الاہتمام ہے۔ دنیا میں دست قدرت نے جسدن سے دنیا آباد ہے ذکور واناث کی تعداد برابر بنائی ہے۔ کسی خاندان یا محلہ یا قوم میں مساوات نہ ہو مگر جب عالم کے لیے موجودات دیکھے جاتے ہیں تو دونوں زن و برابر"}
{"book": "adl0234", "page": 137, "text": "۱۲۸\n\nملتے ہیں اس سے ثابت ہے کہ دنیا میں رنج و خوشی مصیبت و راحت ترقی و تنزل\nہر طبقہ فعلیت میں برابر ہوتے ہیں۔\n\nترقی کرتی ہوئی قوم یا ملک میں عورتون کی قابلیت ہمیشہ نصف کی حصہ دار ہوتی ہو\nاسیطرح زوال یا قیام کی حالت میں انحطاط یا امتناع اسی نسبت سے عوارات کی ناقابلت\nسے متعلق ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کسی قوم میں زوال آتا ہے تو جسقدر مردون کی ناقابلت وجہ\nہوتی ہے عورتون کی ناقابلت بھی اُسی درجہ تک اسکا سبب ہوتی ہے۔ یا کوئی قوم\nیا خاندان ترقی نہیں کر سکتا تو جسقدر مردون پر الزام لگایا جا سکتا ہے او سیقدر عمارات پر۔\nجس روشنفمیر والی ملک کو اپنے ملک میں ترقی کی بنیاد ڈالنا ہو کیا وہ کوششون\nمیں کامیاب ہو سکتا ہے اگر صرف مردون کے حالات پر نظر ڈالے اور عورات کے حالات\nنظر انداز کرے۔ فلسفہ کا معمولی ابتدائی مسئلہ ہے۔ تعرف الاشیاء باضدادھا\nمثلاً جس سردار نے توپ و گولے کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور نہ دیکھا وہ کیا سمجھ سکتا ہے کہ\nاُسکے سپاہی جن کے پاس محض تلوار ہے وہ میدان جنگ میں کسقدر معرض خطر میں ہونگے\nاسی طرح جس مدبر کے ذہن میں اصلاح قوم اور ملک ہو وہ اگر دوسری قومون کے\nمرد و عورتون کی تہذیب و ترقی کو نہ سمجھتا ہو وہ اپنے ملک کی بی بیون کی حالت کی جو خضیض\nتہذیب میں ہون کیا اصلاح کر سکتا ہے۔\nاور جس قوم میں مرد و عورتون کی تہذیب روز افزون نہو اس قوم کے لڑکے اور نوجوان کیا\nترقی کر سکتے ہیں۔\n\nشریعت کی یہ نصیحت کہ عورتون کیسا تھ زیادہ سے زیادہ مروت کی جاوے اور کسی\nصورت میں وہ تفوق جو قادر مطلق نے مردون کو قوامون علی النساء کی حیثیت\nسے دیا ہے بجز ان کی اصلاح و فلاح کے کام میں نہ لانا چاہئے اسوقت سمجھ میں آتا ہے\nجب آدمی ان قابل خاتونون کو دیکھے جو ہر دلکش ترقی کا نمونہ ہیں ۔ ترقی مغرب کی فہرست میں"}
{"book": "adl0234", "page": 138, "text": "۱۲۹\nہر حد بجائے خود ایک مرکز سبق آموز ہے۔ اور ہر مد مین ترقی تعجب انگیز ہے۔ کیا دخان اور اسکی\nقوت۔ کیا برق اور اسکا اختطاف۔ کیا خواص حرارت۔ اور کیا خصائص اصوات۔ کیا جرثقیل\nاور کیا التفات مقناطیس۔ مگر رموز تہذیب نے جو قوت یورپ کی مہذب اور قابل بیبیون کو\nدی ہے وہ کسی طرح اعجاز وقت سے کم نہین اور کسی قوت کو اُن کی قوت سے مقابلہ نہین\nمثلاً یورپ کی تربیت و تعلیمیافتہ خواتین نہ صرف نام آور اولاد کے ذرایع ہین بلکہ اپنے بچون\nکی پرورش تعلیم کے لیے بہترین نگران اوستاد۔ اپنے خاوند کی حفاظت کے لیے عمدہ طبیب\nاور ہر وقت سمجھدار صلاح کار کی طرح دلسوز مشیر اپنی دستکاری سے خاوند کی معاش مین\nمددگار ترقی۔ قومی و انسانی ہمدردی کی لحاظ سے اپاہج مصیبت مندون کی حاجت روا\nمسکین نادار علیلون کی تیماردار۔ مرضیہ عورتون کے واسطے قابلہ۔ اپنے ملک کی آزادی\nکی بناء پر قوم کی لڑائیون مین زخمیون کی خادم ہین۔ قوم مین اہل فضل و اہل کمال\nپیدا کرنے کے لئے یہہ جذبہ سب سے زیادہ قوی سبب ہے۔ ان کی صفات کو بجا خود\nایک بسیط مضمون درکار ہے جسکی یہان گنجایش نہین۔\nملک اور مردون کے تہذیب اخلاق کے لئے خواہ مدرسے مقرر کیے جاوین\nخواہ محتسب متعین ہون۔ خواہ قانونی عدالتین بنائی جاوین۔ مگر یہہ سب کسی طرح مردون کے\nاخلاق کی اصلاح اس درجہ تک نہین کر سکتے جو مہذب اور قابل بیبیون کے فیضان\nتہذیب سے ہو سکتا ہے۔ انتظامات اول الذکر صرف افعال و جوارح سے متعلق ہین۔\nعورات کی ترقی اخلاق و تہذیب دماغ مردون کے وجدان یا دل و دماغ کی اصلاح کے\nلئے مختص ہے۔ ایک تلوار کا زخم ایک بہادر مرد کو اتنا دردناک نہین کر سکتا جسقدر\nکہ ایک نیک باوقار مہذب بیبی کی نگاہ ایک انبوہ احبا یا اعدا کا مرد کو اس قدر ترغیب\nیا تحذیر نہین دے سکتا جتنا ایک مہذب با عصمت بیبی کا خیال (پاسداری)\nجنگ یرموک مین جو سب سے آخر کوشش شہنشاہ ہرقل کی تھی فتح کا بڑا سبب عرب\n۱۷"}
{"book": "adl0234", "page": 139, "text": "۱۳۰\nعورات کی بہادرانہ تحریک و ذاتی شجاعت ہوئی ۔ دولاکھ استی ہزار رومیوں کا مقابلہ\nپینتیس ہزار عربون کو کرنا پڑا تھا۔\nاس موقع جنگ پر تین مرتبہ رومیون نے اپنی کثرت کی بدولت عربون کو پسپا کرکے\nغلبہ حاصل کیا اور ہر مرتبہ عرب کی باحیا دلاور بیبیون کی اس حمیت دلانے والی تحریک\nنے کہ اگر تمنے لڑائی سے منہ موڑا تو ہماری صورت نہ دیکھو گے عربون کو جوش دلا کر دیوانہ\nبنا دیا اور بالآخر شکست فتح سے بدل گئی ۔ اس جنگ مین محض تحریک ہی سے کام نہین\nلیا بلکہ خود بھی عورتین بڑی بہادری سے لڑین۔\nایسی بہت سی تاریخی مثالین موجود ہین جنین محض شجاع و قابل بیبیون کی وجہ سے\nکامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ زمانہ حال مین جاپانی عورتون نے اپنے افعال واقوال سے\nثابت کر دیا ہے کہ ترقی یافتہ قومون مین کیا اسپرٹ پیدا ہو جاتی ہے۔\nدنیا کی ابتدائی تاریخ سے جنگجو و وحشی قومون مین لڑائی کی سختیون کا وبال و نز لہ ہمیشہ\nعورتون و بچون پر عضو ضعیف کی طرح گرتا ہے اور کیون ؟ صرف اسلیے کہ وہ نازک و\nبیقدر سمجھے جاتے ہین اور انسانی سے حیوانی جذبون کا شکار بن جاتے ہین۔\nمگر جس قوم مین عورات ایک جزو ضروری معاشرت مین سمجھے جاتے ہین اور اُن کاو\nنیاک حصہ سمجھا جاتا ہے جسکی تاکید ہر زمانہ کی تہذیب عموماً اور شریعت نبوی خصوصاً کرتی\nہے وہان ضرور ہے کہ ہر انقلاب مین اُن کے حقوق کی نگہداشت کی جاوے اور\nوہ معزز سمجھی جاوین۔\nجبتک کسی قوم مین ترقی وجدان اس حد تک نہین پہنچتی جہان داد و گیر کی ضرورت\nنہ رہے وہان کوئی سچی ترقی تہذیب کے متعلق نہین ہو سکتی ۔\nتوپین ڈھلین ۔ کارخانے بنین ۔ مدر سے بڑہین ۔ دولت افزون ہو ۔ مگر قوم کے مرد\nجب تک عورتون کے حقوق کی تعظیم سے واقف نہون نہ حملے کے قابل نہ حفاظت"}
{"book": "adl0234", "page": 140, "text": "کے لایق۔ امیر مرحوم اپنے سوانح مین لکھتے ہین کہ آئندہ زمانہ مین افغانستان اسوقت\nتک کامل ترقی نہ کرسکیگا جب تک اس کی عورتین تعلیمیافتہ نہ ہونگی۔\nبچے اپنا پہلا سبق ماؤن سے لیتے ہین اور جو خیالات بچپن مین جاگزین ہوجاتے\nہین وہ عُمر بھر انسان کی عادات و خصائل دل و دماغ پر اسقدر حاوی رہتے ہین کہ بعد کی\nتعلیم انہین زائل نہین کرسکتی۔\nایسی صورتون مین اگر اعلحضرت نے ان صحبتون مین گزر فرمانا جائز رکھا تو کیا نعوذباللہ\nیہ ام اُن کے تشرع و زہد پر دھبہ لگاتا ہے۔ یا اُس الزام کا مورد بناتا ہے جو ایشیا\nکے آخر ناعاقبت اندیش فرمانروایون کا حصہ تھا۔ اِنّمَا لَاعمَالُ بِالنّيَّاتِ\nایک ہی فعل سے صاحب تقوی کو مستحق ثواب بناتا ہے اور وہی فعل باختلاف نیت\nغیر متشرع کو مورد عذاب ٹھہراتا ہے۔ گو تمام سفر مین اعلحضرت شاہ افغانستان کے\nہر قسم کے افعال نے اُن کو اہل تمیز کی نگاہون مین ایک مثیل واجب التعظیم فرمانروا بنایا\nمگر آپ کی مرتبہ شناسی ایسے موقعون پر تائید منجانب اللہ تصور کی جاتی ہے۔ اسلیے\nکہ بجز ان مواقع کے باقی سب صورتین ایسی تہین جو اپنے ملک مین کم و بیش روز پیش\nآتی ہین اور اُن سے وقوف تام کوئی امر تعجب انگیز نہین مگر ایسی صحبتین ایک امر نادر الوقوع\nتہین اور ان صحبتون مین جہان نگاہ کی حرکت سے پلہ تہذیب میزان امتحان مین جھکتا\nاُٹھتا ہے۔ سرمو جادہ حُسن مذاق اور وقار سے نہ گزرنا نہ صرف تعجب انگیز ہے بلکہ\nبے اختیار اعلحضرت کے لیے لِلّٰهِ دَرَكَ وَاَحْسَنْتَ کہلواتا ہے۔ المعظم\nسفر یورپ بڑے بڑے سلاطین نے کیا ہے سلطان عبدالعزیز خان موجودہ سلطان\nحضرت سلطان عبدالحمید خان کو ہمراہ لیکر عازم سفر یورپ ہوے وہان تمام صحبتون\nمین گذُرسر بایا حضور ملکہ معظمہ کے مہمان رہے۔\nشاہ کجکُلاہ حضور ناصرالدین شاہ ایران کا سفر نامہ اُن کی حالت سیاحت کا خود گواہ\nبعد دیگرے گواہ ہے؟"}
{"book": "adl0234", "page": 141, "text": "۱۳۲\n\nشاہ مظفر الدین چند بار یورپ تشریف لے گئے ان صحبتون مین جہان لیڈیان تھین شرکت\nفرمائی۔ خدیو مصر ہر سال یورپ جاتے ہیں۔\nان واقعات کی موجودگی مین ہزمجسٹی امیر افغانستان پر سفر ہند کے متعلق کہان تک موقع\nنکتہ چینی ملتا ہے۔ ہر صاحب انصاف اسکا خود تصفیہ فرمالے گا۔ محبت کی آنکھ کبھی\nنکتہ چینی کی جانب مائل نہین ہوتی۔ یہہ صرف مخالفت کی نگاہ ہے جو ہنر کو بھی\nعیب بناکر پیش کرتی ہے۔\n\nوعَینُ الرّضا عن کل عَیبٍ کلِیلَۃٍ | وَلاکِنَّ عَینُ السَّخطِ تَبدی المَساوِیا\n\nاب ایک اور پہلو سے اس بحث پر نظر کیجیئے\n\nاور کچھ جب اُسے ٹھرا نہ سکے حُسن پر ست | شانِ اللہ کی محبوب کی صورت ٹھری\n\nاگر جمالِ خداوندی کا بدرجہ اتم کوئی مظہر ہو سکتا ہے تو عورت\nہے۔ یہہ مقولہ بظاہر ایک شاعرانہ لطیفہ معلوم ہوتا ہے لیکن نظر تعمق سے دیکھا جائے\nتو اس مین مبالغہ شاعری یا بُعدِ واقعیت نہین۔ مذہبی پاک ارشادات اسکی تائید\nکرتے ہیں۔ انسان کی آفرنیش اور اسکا اس ہیئت کذائی سے مخلوق ہونا عام طور پر\nاِنَّ اللہ خَلقَ ادم علٰی صُورتہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور انسانی ہستی مین نفختُ فیہ\nمِن رُوحی کا دلآویز ارشاد موجود ہے جس سے اسلامی دنیا مین کوئی تعلیم یافتہ\nانکار نہین کر سکتا۔ حضرت امام اکبر محی الدین ابن العربی بھی اسکی تائید فرماتے ہیں۔\nیہہ استدلال اس امر کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی ذاتِ\nاقدس کے ساتھ کیسا قرب اور اُس خالق بے ہمتا کو اپنی مخصوص مخلوق کیساتھ کس قدر\nشفقت ہے جو ایسے وقیع لفظون مین خطاب دیا گیا۔ اللہ تعالے کو انسان کیساتھ\nخاص شوق و غیر معمولی توجہ ہے واللہ رؤفٌ بِالعباد واللہ بصیرٌ بالعباد\n\nبیشک اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا\n\nمین نے اُس مین اپنی روح پھونکی\n\nجمال خداوندی کا مظہر اتم عورت ہے"}
{"book": "adl0234", "page": 142, "text": "۱۳۳\n\nکے رو سے وہ اپنے بندون پر ہر وقت نظر رحمت ڈالتا ہے لیکن دینوی نظام ایسے سلسلہ\nمین مربوط ہے کہ جمال ایزدی کا اس عالم مین انسان کو دیکھنا محال - حدیث شریف مین وارد\nہے کہ قبل از مرگ کوئی شخص خدا کو نہ دیکہہ سکیگا۔ لبتہ یہ ہم کو بشارت دی گئی ہے۔\nکہ دوسرے عالم مین ہم جمال لازوال کی زیارت سے مستفیض ہونگے۔\nمذہبی و اسلامی روایتین بالاتفاق اس بات کی توضیح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے\nحضرت آدم کی آفرنیش کے بعد ان کا ایک مجلیس ہم صورت انہیں میں سے پیدا کیا\nجسکو نسوانی خلعت پہنا کر حوا کا خطاب دیا۔\nہماری سلسلۂ نسل کے سب سے اول بزرگ نے جب جلیس کو دیکھا تو ایسی شفقت کی\nجیسے کوئی شے اپنی نفس کیطرف کرتی ہے اور اُس جلیس نے بھی ایسے ہی\nشوق و رغبت کا اظہار کیا جسطرح ہر چیز اپنے مرکز کیطرف رجوع ہوتی ہے۔\nسلسلۂ رسالت کے خاتم افضل ترین مرسلین نے یہی ارشاد فرمایا ہے کہ احب\nالی من دنیا کم ثلاثہ - النساء والطیب والصلواة - اس ارشاد گرامی\nمین عورتون کا ذکر مقدم اور نماز کا بعد ہے - اسکا سبب یہ ہے کہ عورت اپنے ظہور\nکی اصل مین مرد کی جزو اور نماز سے قبل ہے ۔ اپنے نفس کا پہچاننا خداشناسی پر\nمقدم ہے۔ من عرف نفسہ فقد عرف ربہ اسکا موید ہے ۵\nجو خودشناس نہیں وہ خدا شناس نہیں جو دور آپے ہے آپکے وہ پاس نہیں\nفاعرف نفسک یا انسان تعرف ربک کی رو سے خداشناسی اپنے نفس کے\nپہچاننے کا نتیجہ ہے۔\nملائکہ کو سجدۂ آدم کے لئے مکلف فرمانا در ان حالیکہ ان کی عزت و لطافت\nنورانیت و تقدس قرب الی اللہ کی وجہ سے منافی شان تھا لیکن ۵\nگر نبودی نور حق اندر وجود آب و گل را کجئے ملائکے دید سجود\n\nپاره ۴ شروع سورہ نسا\nوَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا\n\nمحبوب تمہاری دنیا کی تین چیزین\nعورتین خوشبو نماز ۵\n\nجسنے اپنے نفس کو پہچانا\nاسنے اپنے خدا کو پہچانا\n\nبیشک انسان کو سجدہ پہونچے\nاو رنشان کو کیا سجدہ پہونچے ۵"}
{"book": "adl0234", "page": 143, "text": "۱۳۴\n\nکا قیمتی راز ایسا نہ تھا کہ انسان کو ملائک پر فضیلت نہ دی جاتی یا نوعیت او ندی کو خاصہ مظہر\nہونے کے باعث خود ملائکہ کو ان کی عظمت کا اعتراف نہ ہوتا ۔ محض شان حق کا نتیجہ تھا جسے\nیہانتک دیا مجھ کو حسن عروج کہ بندہ سے مولا بنایا مجھے\nاس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ انسان میں نفس حق موجود ہے اور وہی انسان کی شرافت اور\nتفضیل کی دیگر مخلوقات پر حجت ہے۔ اس مقام سے استنباط ہوتا ہے کہ بندہ و رب میں\nکیسی مناسبت پیدا ہوئی ۔ علاوہ معنوی واسطہ کے بڑی مناسبت صورت ہے اور یہی حقیقت\nہمہ اعلیٰ واکمل ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور انسان کی خلقت جو دو صنف مرد وعورت\nپر منقسم ہے اسکی صفات خداوندی کے ساتھ تسلیم کرنی پڑتی ہیں ۔ تو یہان سے یہ نتیجہ\nبآسانی نکل سکتا ہے کہ بظاہر مرد کی محبت عورت کے ساتھ اصل وجزو ہونے کے اعتبار\nسے ہے مگر فی نفسہ محبت اس ذات بے ہمتا کی وجہ سے ہے جس سے وجود آدم ظاہر ہوا\nحضور سید المرسلین کا ارشاد کہ مجھ کو عورتین محبوب ہیں محض تعلق محبت حق سے ہے\nجو چیز صانع بے مثال کو پسندیدہ ہو آپ کو بھی اسکا مرغوب و محبوب رکھنا ضرور ہے\nصوفیائے کرام کے نزدیک مشاہدۂ احسن الخالقین جنس نسوانی میں اوسکا شہود\nمنفعلی ہے اور مشاہدہ حق اپنی نفس میں اس حیثیت سے کہ عورت اس سے ظاہر ہوئی\nشہود فاعلی ہے اس صورت میں مشاہدہ باری تعالیٰ فاعلاً و منفعلاً دونون اعتبار سے\nہوتا ہے ۔ چونکہ ذات خلاق عالم اہل عالم سے بالذات غنی و بے پروا ہے ۔ لہٰذا بغیر\nمادون کے صانع مطلق کا مشاہدہ ناممکن ہے؎\nطور و موسٰی کی حقیقت پہ نہیں کرتے نظر دیکھنا کیا ہی سمجھ رکھا ہو آسان تیرا\nیہ لن ترانی کی تفسیر ہے جب انبیاء کی خاص ذات کے لیے یہ حالت ہے تو عام\nنوع انسان کے واسطے بغیر وجود مادہ کے مشاہدہ کیونکر تسلیم کیا جائے اور اگر\nایسا ہے تو صنف نساء سے بہتر و افضل مشاہدہ جمال اصل کا اور کسی مادہ میں ممکن"}
{"book": "adl0234", "page": 144, "text": "۱۳۵\nنہیں ۔ ارشاد حتمی مآب میں عورتوں کی محبت کا جو حکیمانہ راز ہے اُسکا انکشاف مذکورہ\nبالا مطلب پیش نظر رکھنے سے بخوبی ہو سکتا ہے ع\nدوزخ تھا ہر بہشت بھی آدم کیواسطے ہوتا اگر نہ حضرت حوا کا التیام\nکیا وجہ تھی زبان زد مخلوق کیوں ہوئے داؤد خوش کلام و سلیمان نیک نام\nکیا بھید تھا کہ خدمت یعقوب سے جدا کنعان سے اکے یوسف مصری بنی غلام\nکیوں بکریاں چرانی تمہیں موئے دین میں او کس غرض سے طور کی جانب کیا خرام\nکرتا خلاف ملک تقدس جو در زن یورپ میں عورتوں کا یہ سب کیوں ہو احترام\nوہ جنگ کس بناء پر ہوئی تھی کہ ہو شروع باقی تھے جسکے لچھن رستم نہا دو رام\nمعلوم خاص عام ہو اُس نسیج کا ہی حال جس نسج کے تھے کش کنھیا مہ تمام\nکیا ذکر غیر دین کے بزرگانِ دین کا لطیب والنسا ء نبی کا ہے خود کلام\nاگر چہ یہ بحث طویل ہے مگر ہم مختصر لفظوں میں یہان ختم کیے دیتے ہیں تشبیہا یوں لیجئے\nکہ نور باریتعالیٰ کا انعکاس اوّل آئینہ آدم میں ہوا اور اُس آئینہ سے دوسرا آئینہ حوّا\nنورانی ہو گیا۔ اگر ہم ذہن سے وسط کا آئینہ نکال لیں۔ کیونکہ آدمی اپنی صورت کو بنظر\nخود بلا واسطہ نہیں دیکھ سکتا تو عورت میں اللہ کے نور کا انعکاس بلا واسطہ مشاہدہ ہوگا\nیہی وجہ صاحب دل۔ صاحب دماغ۔ صاحب روحانیت بزرگواروں کی پسندیدگی ور غبت کی\nہے کہ وہ پیکر نسوانی میں جمال خدا وندی کا نظارہ کرتے ہیں۔\nپس امیر نے یورپین لیڈیوں کے ساتھ فیاضانہ خلق جائز رکھا تو علاوہ دیگر مصالح\nکے اصولاً بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ مہمان تھے۔ میز بانوں کی خوش تیسہ\nصاحب اخلاق بی بیان جن کے ساتھ فیاض دست قدرت نے دلکش صورتیں\nاور دلربا یانہ سیرتین عطا فرمانے میں رعایت سے کام لیا ہے اور جو باعث بار\nحشمت و ثروت۔ جاہ و اقتدار مستحق شان شاہانہ۔ خوبی تعلیم و حسن تربیت میں"}
{"book": "adl0234", "page": 145, "text": "۱۳۶\nیگانہ ۔ وادا ہای بے تکلفانہ مین اپنی آپ مثال ہیں۔ جب تواضع و مدارات کی\nمجسم شکلین بنکر سامنے آئین تو اس صورت مین ظاہری اخلاق مین بخل کرنا۔ کج رخی\nسے پیش آنا وحشیانہ طریقہ سے کم نہیں۔\nاگر کین ان موقعون پر برتاؤ مہذبانہ و اخلاق حسنہ مین اعلحضرت کی جانب سے کمی\nواقع ہوتی تو بجاے اُس نیک شہرت کے جو پبلک اور مہذب قومون مین ہے\nاُن کو ایسے خطابات سے یاد کیا جاتا جسکے وہ کسی عنوان مستحق نہین۔\nحُسن مین قدرتی کشش ہی ناظرین یہہ امر محتاج ثبوت نہیں کہ حُسن مین بجاے خود ایک صفت\nکہربائی وجذب مقناطیسی ہے ۔ فطرتاً ہر دل اُسکی طرف کھنچتا ہے۔ نباتات جمادات\nحیوانات تک کی خوبصورتی اپنی جانب مائل کرلیتی ہے اس لحاظ سے انسان جو اشرف\nالمخلوقات ہے اُسکی خوبیان بدرجہ کمال دلکش ہونا چاہئیں ۔\nحکماء۔ صلحاء۔ اولیاء۔ انبیاء مین سے کون ہے جسکا طبعی رجحان اس دلفریب\nصفت کی طرف نہیں ۔ آنخضرت صلعم ہر جمیل چیز کو پسند فرماتے تھے اور قدرت کے\nجمال سے متاثر ہوتے تھے۔\nایک مصنف لکھتا ہے کہ عرب کے ہاشمی پیغمبر نے ہزارون راتین ستارون\nکے حُسن و جمال کا نظارہ کرنے مین بسرکیں اور ہزارون دن جنگل و پہاڑ کے قدرتی\nمنظرون سے لطف اُٹھانے مین گزارے۔ وہ عجیب کتاب جو اُن پر نازل ہوئی قدر\nکے عجائبات کو مطالعہ کرنے اور آسمانون وزمین کے اسرار پر غور کرنے کی تمام\nانسانون کو ہدایت کرتی ہے حضرت کا ارشاد ہے کہ صانع بیمثال جمیل ہے اور جمال\nکو محبوب رکھتا ہے طبیعت والون نے اس مسئلہ میں اتفاق کیا ہے کہ جمال کا اثر\nحیوانون پر بھی ہوتا ہے ۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ کسی انسان پر جمال کا اثر اور اُسکا ولولہ\nموجزن نہ ہو۔ یہہ امر مسلمہ ہے کہ جمال کی تاثیر خاصکر انسانی طبیعتون پر بہت زیادہ ہوتی ہے"}
{"book": "adl0234", "page": 146, "text": "۱۳۷\nیہ تاثیر ان مین زندگی دل شگفتگی ۔ نازکخیالی ۔ نرم مزاجی پیدا کر دیتی ہے۔\nشیلر اپنی کتاب \"زندگی کی کامیابی\" مین لکھتا ہے کہ جو انسان ہر قسم کے حسن و جمال سے اثر پذیر ہوتا ہے اُسکا مذاق تربیت یافتہ و شائستہ ہو۔ جو شخص کوئی دلفریب آواز یا کوئی عجیب شعر سُنکر جھومنے لگتا ہے ہم یقین کرتے ہین کہ اُس کی فطرت صحیح اُسکا مذاق سلیم اُسکا دماغ روشن۔ اُسکے خیالات بلند ہین۔\nلیکن جو کوئی حسین صورت دیکھکر حیران نہین ہوتا یا کوئی راگ خوش سُنکر ناک بھون چڑھاتا ہے اُسکو ہم انسانیت کے دائرے سے خارج سمجھتے ہین۔ کیا وہ انسان پتھر نہین جو سورج کے طلوع ہونے کو دیکھتا ہے۔ مگر قدرت کے اس شاندار نظارے سے متاثر نہین ہوتا۔ کیا وہ انسان جانورون سے کم درجہ کا نہین ہے جو جنگل کی سبزون و شادابیون پر نظر ڈالتا ہے مگر اُسکے دلمین کوئی اُمنگ نہین اٹھتی۔ کیا وہ انسان انسان ہے جو پانی کی روانی و طغیانی۔ بادلوں کی بوقلمونی و گوناگونی۔ ستارون کی چمک و دمک۔ پھولون و پھلوں کی دلفریبیان۔ پرندون کی دلربا صوتین و راگنیان۔ آبشارون کے جوش و خروش ۔ دریاؤن کے پیچ و خم دیکھتا ہے مگر اُس کی اندرونی قوتین مردہ و بے حس رہتی ہین اور اُن مین کوئی جنبش پیدا نہین ہوتی ۔\nشیکسپیر نے بھی ایک جگہ لکھا ہے۔ جو انسان حسن و جمال کے معنی نہین سمجھتا وہ فی الحقیقت کچھ نہین سمجھتا۔ اور اُس سے کسی فائدہ کی امید نہین اور نہ اُسپر کوئی بھروسہ ہو سکتا ہے۔ جمال ہر جمیل چیز مین موجود ہے۔ جمال نے صبح آفرینش سے آج تک انسانون کے دلون پر عظیم الشان تاثیر کی ہے۔ کیونکہ جمال کا اثر جسمون پر نہین بلکہ روحون پر ہوتا ہے۔ اُس سے سنگدلون کے دل موم ہو جاتے ہین تند و سرکش طبیعتین رام ہو جاتی ہین۔ مذاق مین نفاست\n۱۸"}
{"book": "adl0234", "page": 147, "text": "۱۳۸\nلطافت آجاتی ہے۔ مزاج مین نزاکت اخلاق مین حلاوت نمایان ہوتی ہے۔ بالفاظ دیگر یون کہہ سکتے ہین کہ جمال کے اثر سے انسان جسمانی حالت سے گزر جاتا ہی اور روحانی دنیا کی بلندیون پر جا پہنچتا ہے ؎\nجلوہ بنیان حقیقت مین رہی اک بت پرستی\nباقی امید قیامت پر مسلمان ہو گئے\nایک سیاح جو روس و جاپان کی جنگ مین موجود تھا اور جسنے کچھ زمانہ جاپان مین بسر کیا ہے بیان کرتا ہے کہ جاپانیون کی اسقدر نمایان ترقی کا بڑا سبب یہ ہے کہ ہر ایک جاپانی اپنی فطرت کے لحاظ سے شاعر و حُسن کا دلدادہ ہے۔\nیہی جمال پرستی و نازک خیالی ہے جسنے جاپانیون کو علم و عمل کی بلندیونپر پہنچا دیا ہے ؎\nماخوذ از مضمون مولوی وحیدالدین سلیم مطبوعہ اُردوئے معلیٰ مئی ۱۹۰۸ء\nپر یہو خدا کے بنائے ہوئے ہین\nنہین پوجنا بُت پرستی نہین ہے\nجن دلکش سوسائٹیون مین امیر کا شاہانہ خیر مقدم ہوا۔ وہان کی شرکت اُن والیان ملک کے لئے جو امیر سے باعتبار ثروت و ملک داری کم نہین معراج عزت تہی اگر وہان زہاد و پارسا بھی پہونچتے تو زبان شوق سے یہی فرماتے ؎\nبالا بلند عشوہ گر سروناز ۔ من\nکوتاہ کرد قُصۂ زہد دراز من\nکلکتہ و بمبئی وغیرہ سے دلچسپ مقامات۔ شباب کا عالم۔ شاہی عمانی۔ کسی چیز کی کمی نہین۔ گارڈن پارٹیان۔ مینوفیٹ۔ بے تکلف و دلچسپ جلسے۔ ایڈن گارڈن۔ آیا لو بندر وغیرہ کی سیر گاہین۔ ایک طلسم روزگار تھے۔ جدہر دیکھئے فریب آرزو کے سامان جسطرف نگاہ ڈالیے ناز و نیاز کا بازار گرم جسطرف نظر کیجئے آئینہ کی طرح صورت پرستی۔ کہین خیال مین شوق کی دُہائی۔ کہین جوش اشتیاق اُمنگون پر۔ شاہد پُر فن۔ لعبتان فرنگ کا ہجوم۔ تقویٰ سوز شکلین۔ توبہ شکن صورتین۔ دلاویز صحبتین دیکھکر حالت بیداری مین جنت کا جغرافیہ و خیال آنکہون مین پہر گیا ؎"}
{"book": "adl0234", "page": 148, "text": "۱۳۹\n\nصید از حرم کشد خم جعد بلند تو\nفریاد از تطاول مشکین کمند تو\n\nجو بزرگوار بظاہر ان سے بچنے کے مدعی ہیں خوبصورتوں کو دیکھکر جوان پر بخاتی ہے\nانہین سے پوچھئیے ؎\n\nدیر برہمن ناقوس آسا نالہ زن ہستم  |  مبتے دیدم خدا یاد آمد و از خویشتن رفتم\n\nمل جانے پر وہ خاطرین کیجاتی ہیں کہ رندوں سے نہ بن پڑین وہ نازبرداریان ہوتی ہیں\nکہ محبت و پرستش میں امتیاز باقی نہین رہتا ؎\n\nتجھکو زاہد نے نہ دیکھا جو نباہی توبہ  |  تو تو وہ توبہ شکن ہے کہ الٰہی توبہ\n\nتمام سامان راحت بیعزہ۔ تمام تکلفات بیکار۔ اگر عورتین نہ ہون ؎\n\nبے یار روز عید شب غم سے کم نہیں  |  جام شراب دیدۂ پر نم سے کم نہین\n\nوقت نہیں معلوم ہوتا تو انہین کی صحبتون مین۔ رنج نہین آنے پاتا تو انہین کی حضوری مین\nان اچھی شکل والون سے اگر کوئی نہیں ہوتا  |  تو اُس محفل مین ہنسنے بولنے کو جی نہیں ہوتا\n\nہر شخص کو کم و بیش ایسے موقعہ اپنی زندگی مین پیش آئے ہوں گے کہ اچھی صورتوں کے\nساتھ باتین کرتے کرتے صبح ہوگئی ہوگی اور وقت گزرنے کا پتہ نہ چلا ہوگا۔ یہی وجہ ہے\nکہ ایشیائی شعرا شب وصال کو کوتاہ اور ہجر کی رات کو دراز باندہتے آرہے ہیں ورنہ ہر\nشب مین وہی چار پہر بارہ گھنٹے ہوتے ہیں ؎\n\nکہون کیا کیسی جلدی وصل کی شب ہا گئی آخر  |  رخ روشن ادہر دیکھا ادہر تنمابور کا تڑکا\n\nتلافی درد و مصیبت عورت ہی سے ہوتی ہے اور ملال مین ترقی اس کی مفارقت سے\nچمن و گلستان کیسے ہی سبز و شاداب ہون بغیر ان کے خارستان محل و قصر آراستگی سے\nبقعہ نور ہی کیون نہ بنے ہون اگر کوئی حور پیکر نہیں تو وحشت کدے خلد کو بھی حورٌ\nمَقْصُورَات فِی الْخِیَامِ کی بشارت نے بہشت بنایا ہے جی لگتا ہے تو کسی حور پیکر"}
{"book": "adl0234", "page": 149, "text": "۱۴۰\n\nکی ہمنشینی میں اور اُٹھنے میں و یتین تو کیسی خوبرو کی باتین ۔ شاعری مین جو بات بھاشا کو\nمیسر ہے وہ اور زبان کو نہیں بسبب وہی عورت کی زبانی تمناؤن کا اظہار ۔ اچھی صورت کو\nخوبی سیرت سے بھی مناسبت ہے ۔ پیاری شکلین ہمیشہ بھلی ہی دیکھین۔ پھلون کے ساتھ\nبُرائی کرنا طبیعت گوارا نہیں کرتی ۔ ان سے بدسلوکی نہیں برتی جاتی ۔ ان پر سختی کرنا ظالم و بے رحم\nدلون کے بھی اختیار سے باہر ہے۔ پھر جن صورتوں مین شان باریتعالیٰ کا مشاہدہ ہو اُن\nکے حضور مین بداخلاقی کا معنوی ادب بھی مانع ہے ؎\nپڑہین درود نہ کیون دیکھکر حسینون کو     خیال صنعت صانع ہے پاک بینون کو\nعالم شباب و مانہ خطرناک ہے اور جب ثروت و مال حکومت و جمال کا ساتھ ہو تو یہ\nخطرناکی جنون سے بھی آگے بڑھ جاتی ہے۔ اس زمانہ مین شاہ پرستی اور اچھی صورتوں پر\nمٹنا غایت آرزو ہوا کرتی ہے۔ جی چاہتا ہے کہ کوئی پری پیکر دل مین آبیٹھے کوئی آئینہ رو\nسامنے ہو جائے تو محنت ٹھکانے لگے ۔\nامام غزالی کیمیائے سعادت میں بیان فرماتے ہیں کہ سلیمان ابن یسار رحمۃ اللہ علیہ\nنہایت حسین آدمی تھے۔ ایک عورت نے اپنے تئین ان کی خدمت میں پیش کیا\nوہ بھاگے ۔ کہتے ہیں کہ اُسی شب حضرت یوسف علیہ السلام کو خواب مین دیکھا اور پوچھا\nکہ آپ یوسف ہیں فرمایا ہان میں وہ یوسف ہوں کہ میں قصد کرتا اور تو وہ سلیمان ہے\nکہ تو نے قصد بھی نہیں کیا ۔\nیہی سلیمان فرماتے ہیں کہ مین حج کو جاتا تھا جب مدینہ منورہ سے نکلکر مقام ابوا\nمین قیام کیا میرا ساتھی جنس لینے چلا گیا۔ اس اثناء مین عرب کی ایک خوش جمال عورت\nمیرے پاس آئی اور کچھ خواہش ظاہر کی ۔ مین سمجھا کہ اسے ضرورت طعام ہے ۔ مینے\nدسترخوان مانگا اوسنے کہا کہ میں کھانے کی حاجتمند نہیں بلکہ میرا مدعا وہ آرزو ہے جو\nعورتون سے مردون کو مخصوص ہوا کرتی ہے ۔ یہ سنکر مین سر بگریبان ہوا اور رونے لگا"}
{"book": "adl0234", "page": 150, "text": "۱۴۱\nیہ حالت دیکھکر اُس عورت کا وہ خیال باطل دل سے جاتا رہا۔ وہ سہ پا را برقعہ منہ پر\nڈالکر چلدی جب میر اساتھی واپس آیا تو اسنے مجھہ مین رونے کے آثار پائے پوچھا\nکہ یہہ کیا حال ہے۔ مینے اول کچھہ نہ بیان کیا مگر اُس نے نہ مانا تب اصل واقعہ کا ذکر کیا\nوہ سنکر مبہتہ رونے لگا۔ مین نے پوچھا کہ تو کیون روتا ہے جواب دیا کہ ڈرتا ہوں\nکہ اگر یہہ امر مجھے پیش آئے تو مین ہرگز ایسا نہ کرسکون گا۔\nپھر جب ہم مکہ معظمہ پہنچے طواف و سعی سے فرصت پاکر مین ایک حجرے مین سوگیا۔ عالم\nرؤیا مین ایک نہایت حسین و جمیل کشادہ رو بلند بالا کو دیکھا۔ مین نے پوچھا کہ آپ کون ہین\nفرمایا کہ مین یوسف ہوں مین نے عرض کیا کہ عزیز کی عورت کیساتھ آپکا قصہ عجیب غریب\nہے فرمایا کہ زن اعرابی کے ساتھ تیرا قصہ عجیب تر ہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام\nکو جہان شان نبوت و صفت معصومیت بھی موجود تھی وہان حضرت زلیخا کے ساتھ\nکیا واقعہ پیش آیا۔\nفی الحقیقت شباب مین اپنی حفاظت کرنا بڑی مردانگی ہے۔ جوانی مین پارسا\nامیری مین خلیق۔ صاحب حکومت ہوکر عادل و رحیم ہونا۔ خدا کے دوستونکی علامتین\nہین۔ اعضاے انسانی امانت پروردگار ہین۔ آنکھہ امانت ہے مشاہدۂ قدرت کے\nلئے۔ کان کلام حق سننے کی خاطر۔ زبان کلام شیرین کی غرض سے۔ ہاتھہ بندگان\nخدا کی نفع رسانی۔ پائون راہ ہدایت چلنے کے واسطے وقف علیٰ ہذا۔\nامیر کی صفات پرعموماً مسلمانون کو ناظرین امیر کے واقعات سیاحت سے پتہ لگائیں کہ\nفخر و مباہات کا موقع حاصل ہے اُنہون نے ان امانتون مین سے کوئی خیانت روارکھی\nہر منصف مزاج اسکا جواب نفی مین دیگا۔ ایک تاریخی واقعہ سینئے۔\nبعد فتح انطاکیہ۔ فتح نامہ مین حضرت ابو عبیدہ سپہ سالار لشکر اسلام نے حضرت عمرفر\nکو یہہ بھی لکھا تھا کہ یہان کی آب و ہوا کا اثر لشکریون پر یہہ پڑا ہے کہ وہ حرام کی طرف"}
{"book": "adl0234", "page": 151, "text": "۱۴۲\n\nمائل اور حسین عورتوں سے نکاح پر آمادہ ہین مگر اسوقت تک وہ باز رکھے گئے ہین\nجب یہ خط حضرت عمرؓ کو ملا تو آپ پہلے کسقدر ملول ہوئے۔ لیکن جواب مین فوراً لکہا۔\nکہ فوج پر جبر نہ کیجئے اُن کو آسایش کرنے دیجئے۔ عرب سے سادہ سپاہیانہ مزاج\nکہری طبیعت کے لوگ جب حُسن سے متاثر ہوے اظہار کیے بغیر نہ رہ سکے اور حضرت\nعمرؓ سے دانشمند خلیفہ نے اُس فطرتی اثر کو روکنا نہ چاہا۔ تو جس انسان کو مشاغل دلکش\nمیسر آئین اور کوئی سد درمیانی بہی حائل نہ ہو۔ وہ دلچسپ شغلون اور نفسانی خواہشوں\nپر اپنا قابو رکہے اُس کی دلیری مین شبہ اور ستودہ خصائل ہونے مین کوئی شک باقی\nنہیں رہتا۔ امیر کی دیگر صفاتِ حسنہ پر عموماً اور اس صفت خاص پر خصوصاً تمام دنیا کے\nمسلمانون کو مہذب قوموں کے مقابلے مین بے انتہا فخر و مباہات کا موقع حاصل ہے۔\nبحث طعام اہلِ کتاب طعام اہلِ کتاب بشرطیکہ ممنوعات شرعی مین سے کوئی چیز\nاُس مین نہو مسلمانوں کے لئے حلال ہے۔ اُسکا کھانا جائز۔\nقال الله تعالى اليَوم احُلّ لكُم الطيّبات وطعام الذين اوتواالكتاب\nحل لكم وطعامكم حل لهـم\nفرمایا اللہ تعالےٰ نے آج حلال کی گئین سب پاکیزہ چیزین اور کھانا اُن لوگون کا جنکو\nکتاب دی گئی ہے۔ حلال ہے۔ تمہارے لیے اور کھانا تمہارا حلال ہو اُنکو لئے یعنی اہلِ کتاب کیلیے\nوفى الترمذى سئلت النبى صلّى الله عليه وسلّم عن طعام\nالنصارى۔ فقال لا يتخلجن فى صدرك طعام ضارعت النصرانيه\nالى اخرالحديث وقال الترمذى والعمل على هذا عند اهل العلم\nمن الرّخصته فى طعام اهل الكتاب\nاور ترمذی مین ہلب سے روایت ہے کہ پوچھا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم\nطعام نصارٰی کا تو فرمایا کہ نہ خلجان ڈالے تیرے سینہ مین (یعنی دل مین) کوئی کھانا۔ کیا مشابہ\n\nمأخوذ از رسالہ طعام\nاہل کتاب مصنفہ نواب\nسید ابو احمد خان مرحوم\n\nپارہ ۶۔ سورۃ\nالمائدۃ"}
{"book": "adl0234", "page": 152, "text": "۱۴۳\n\nہو گیا تو نصرانی لوگون کے ساتہ اور کہا ہے ترمذی نے اور عمل ہے اسی حدیث پر سب اہل علم\nکے نزدیک رخصت و اجازت کہانے مین اہل کتاب کے ۔\nوفی العالمگیری لا باس بطعام اليهود والنصارى كله من الذبائح\nوغيرها . اور عالمگیری فتاوی مین ہے نہین کچہ مضایقہ کہانے مین یہود و نصاریٰ\nکے سب قسم کے کہانے مین ذبیحہ ہو اور اس کے سوا ہو ۔\nوفي فتح المنان في تاثير مذهب النعمان وعن علي قا ل\nلا باس بطعام المجوس انما نهی عن ذبائحهم رواه البيهقي\nکتاب فتح المنان مین ہے کہ کچہ مضایقہ نہین ہے مجوسون کے کہانے مین ۔ جو کچہ\nمنع کیا گیا ہے وہ انکا ذبیحہ ہے ۔\nپس جس حالت مین مجوس جو اہل کتاب نہین ہین اُن کے کہانے مین مضایقہ نہین\nاس لئے اہل کتاب کے کہانے مین تو پہر کوئی عذر ہی باقی نہین رہتا ہے ۔\nاس آیت و حدیث اور فقہ کی روایتون سے ثابت ہے کہ طعام اہل کتاب مسلمانون کو\nحلال و جائز ہے اور جو شی کہ دراصل حلال ہے وہ کسی کی بہیجی ہوئی اور کسی کی پکائی\nہوئی ہو حرام و ناجائز نہین ہو سکتی خود جناب خاتم رسالت صلعم نے یہودیون کے\nہان کا پکا ہوا کہانا تناول فرمایا ہے ۔\nفي المشكوة عن جابر ان يهوديه سمت شاة ثم اهدتها لرسول الله\nصلی الله علیه و سلم فاخذ رسول الله صلی الله علیه و سلم الذراع\nفاكل منها واكل رهط من اصحابه الى آخر الحدیث ۔ رواه\nابو داود والدارمی ۔\nمشکوۃ مین جابر سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے بکرے کے گوشت مین\nزہر ملا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ بیجا۔ آپ نے اُس کو قبول فرمایا اور حضرت نے"}
{"book": "adl0234", "page": 153, "text": "اور چند آپ کے اصحابنے اُسکو کھایا۔ روایت کیا اس حدیث کو ابو داؤد اور دارمی نے۔\nحلال چیز کو اگر ایک جگہ بیٹھکر مسلمان اور مشرک یہی چہ جائیکہ اہل کتاب کھاوین ۔ تو\nوہ چیز حرام و ناجائز نہین ہو جاتی۔ رسالتمآب صلعم نے کافرونکوبھی اپنی ساتھ بٹھا کر کہلایا ہے۔\nفی مطالب المؤمنین روی ان النبی صلى الله عليه وسلم كان\nیاكل فاتاه کا فرفقال آكل معك يا محمد فقال نعم الى آخر\nماقال وسياتي ذكره ۔\nمطالب المومنین مین روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طعام تناول فرما رہے تھے\nکہ ایک کا فر آیا اور کہا کہ یا محمد کیا مین بھی آپ کے ہمراہ کھاؤن آپ نے فرمایا کہ ہان۔\nحلال چیز کو اگر مسلمان اور اہل کتاب یا کوئی کا فرایک رکابی مین کھاوین یا ایک کا\nجھوٹا دوسرا کھاوے بشرطیکہ کھانے کے وقت اُن کا ہا تھ یا مونہہ شراب یا اور کسی\nحرام چیز مین آلودہ نہ ہوتو یہی اُس چیز کا کھانا جائز ہے کیونکہ ہم مسلمانون کے مذہب\nمین یہ مسئلہ مسلم الثبوت ہے کہ سوء الانسان طاهر یعنی انسان کا جھوٹا پاک ہی\nغرضکہ اہل کتاب کے ہان کھانا کھانے مین اور اُن کے ساتھ ایک جگہ بیٹھکر\nکھانے مین کوئی خطر شرعی نہین فی نفسہ حلال و مباح ہے۔\nجس طرح کہ اہل کتاب کا کھانا جائز ہے۔ اسیطرح او نکا ذبیحہ یہی درست ہی۔\nجو احکام حلال و حرام کے ہمارے مذہب مین ہین اہل کتاب اُن کے مکلف\nنہین ہین۔ بلکہ وہ صرف ایمان لانے کے مکلف ہین۔ اہل کتاب کا ذبیحہ خدائی\nتعالٰے نے ہم کو حلال کر دیا ہے۔ اُس مین یہہ شرط قایم کرنی کہ ذبح مین پابندی\nاحکام اسلام بجالانا چاہیے۔ نا ممکن ہے۔\nعیسائی یا یہو دیون کو کیا غرض ہے کہ وہ ایسی پابندی کرین۔ بلکہ جسطرح کہ اُنکے\nنزدیک اور اُن کے مذہب مین جانور کی زکوٰۃ درست ہے وہی اُن کا ذبیحہ ہے اور"}
{"book": "adl0234", "page": 154, "text": "۱۴۵\n\nاور ائینکا کھا نا مسلمانوں کو حلال ہے ۔\nامام ابن العربی ۔ عبداللہ بحار ۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی وغیرہ سب متفق ہیں کہ\nطعام اہل کتاب جائز ہے جسمین ذبیحہ بھی داخل ہے ۔\nجو گوشت ہمارے سامنے آئے اور یہہ نہ معلوم ہو کہ اُس کو کسی مسلمان نے\nذبح کیا ہے اور نہ یہہ معلوم ہو کہ اسکو کسی مشرک نے مارا ہے۔ کیو نکہ انگریز کسی مشرک\nکے مارے ہوے جانور کے کھانے مین بھی پر ہیز نہین کرتے اور یہان یہ شبہ\nاسلئے قوی ہوتا ہے کہ انگریزون کے چما ر تک باورچی اور خدمتگار ہوتے ہین ۔\nاس حالت میں عمل کے دو طریق ہیں ایک بموجب فتویٰ اور ایک بنظر احتیاط\nعمل فتویٰ یہہ ہے کہ جب طعام اہل کتاب ہمارے روبرو آئے جس کو بنص صریح\nخدائے تعالٰے نے حلال کر دیا ہے تو ہم کو کسی تفتیش کی ضرورت نہیں تا وقتیکہ\nثابت نہ ہو جائے کہ کسی مشرک کا مارا ہوا ہے ۔ اُسوقت تک اُس کے کھانے\nسے انکار کی کوئی وجہہ نہین لیکن ایسا معلوم ہو جانے پر وہ حرام و ممنوع ہے ۔\nطریقہ احتیاطیہہ ہے کہ جب کوئی شبہ دل مین آئے تو تحقیق کرنا چاہیے اگر\nمشرک کا مارا ہوا ثابت ہو تو پر نہ کھائیں ۔ مگر مجرد شبہ کی بناء پر طعام اہل کتاب\nناجائز نہ ہوگا۔\nانگریزون کے باورچی مسلمان ہوں تو یہہ شبہ نہیں ہو سکتا۔ اگر عیسائی کھانا\nپکانے والے ہیں تو وہ داخل اہل کتاب ہین تب بھی کوئی خطرہ شرعی نہیں اور اگر\nوہ مشرک ہیں تو بموجب مذہب اہل سنت و الجماعت کے مشرکین مین کوئی نجاست ذاتی\nنہیں ۔ فی العناية شرح الهداية ۔ قال الله تعالیٰ انما المشركون\nنجس قلت النجاسته في اعتقادهم لا فى ذاتهم ۔\nعنایہ شرح ہدایہ مین ہے ۔ فرمایا اللہ تعالٰے نے ۔ صرف مشرکین ناپاک ہیں\n\n۱۹"}
{"book": "adl0234", "page": 155, "text": "۱۴۶\nلیکن نجاست اُن کے اعتقاد میں ہے نہ اُن کی ذات مین ۔\nپس جسطرح کہ ہم لوگ بلا کسی تردد و تامل کے ہندوؤں کے ہان کا پکا ہوا کھانا\nیا حلوائیون کی مٹھائی کھاتے ہیں۔ اوسیطرح اور اُسکی مثل با احتیاطی کے ساتہہ اسکو\nبھی روا رکھیئے جسکو انگریز یا مشرک پکاتے ہیں۔\nجس شخص کے دل مین ہیت مسائل شرعیہ جن کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم\nعمل میں لائے یا بالتصریح اُن کے جواز کا حکم دیا بخوبی مستحکم ہے۔ وہ بمقابل ان مسائل کے\nعوام کے بُرا بھلا کہنے کی کچھ حقیقت نہیں سمجھتا اور نہ اپنے معتقدین کی نارضامندی\nکی پرواہوسکتی ہے اُسکے نزدیک ان تمام شبہات بے وقعت کی بطلان کے لئے\nصرف فعل رسول کریم صلعم کافی ہے کہ آپ نے یہودی کے ہان کا پکا ہوا کھانا۔ بغیر\nکسی خدشہ کے کھایا۔ اور جب آپ سے نصاری کے ہان کے کھانے کے باب\nمیں پوچھا تو آپ نے صاف فرمایا ”لاَتَتْخَلَجَنَّ فِيْ صَدْرِكَ“ یعنی تمہارے دل\nمیں کچھ تردد نہ ہونا چاہیئے۔ اور ایک کافر کو آپ نے اپنے ساتہہ کھانے کی اجازت دی\nپس جو کوئی اس اتقا سے زیادہ دعویٰ دار ہو تو سوء ادبی ہے۔\n۲ (بحث ظروف) ابوداؤد میں ابو ثعلبہ الخشنی سے روایت ہے۔\nسئل رسول الله صلّی الله عليه وسلم قال انّا تجاورُ اهل\nالكتاب وهم يطبخون في قدورهم الخنزير ويشربون في انيتهم\nالخمر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ـ ان وجدتم غيرها\nفكلوا فيها واشربوا وان لم تجدوا غيرها فارحضوها بالماء\nكلوا واشربوا۔\nپوچھا ابو ثعلب الخشنی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ہمارا گذر ہوتا ہے\nاہل کتاب پر اور وہ پکاتے ہیں اپنی دیگچیون مین سُور اور پیتے ہیں اپنے برتنون مین"}
{"book": "adl0234", "page": 156, "text": "۱۴۷\n\nشراب۔ تو فرمایا رسول الله صلی الله علیه وسلم نے اگر پاؤ تم اور برتن تو کھاؤ اور\nپیواون مین اگر اور برتن نه پاؤ تو ان کو پانی سے دھو کر ان مین کھاؤ پیو۔ یہی حدیث\nبالفاظ دیگر صحیح مسلم مین ہے۔\n۲۔ میز پر کانٹے چھری سے کھانا۔ یه امر کہ میز پر بیٹھکر اور چھری کانٹے و چمچے سے کھانے\nمین کیا اعتراض ہے۔ چھری سے کاٹنا جائز بلکه سنت ہے۔ چنانچه بخاری مین\nعمر ابن السیر سے روایت ہے کہ خود رسول الله صلی الله علیه وسلم نے چھری سے\nکاٹ کر کھایا ہے۔ اور ابو داود مین جو حدیث در باب منع قطع لحم بالسکین کی ہی\nاوس کو خود ابو داود نے ضعیف لکھا ہے۔\nپس اسکے ارتکاب مین کچه قباحت نہین۔ چمچہ و کانٹے کے استعمال کا قیاس\nچھری پر کرنا چاہئیے۔ ان کے استعمال کی کہین ممانعت نہین بلکہ ایسی چیزین جنکے\nہاتھہ ہوتا ہوسب چمچہ سے کھاتے ہین۔ اور اس کو کچھہ معیوب و مکروه خیال\nنہین کیا جاتا۔\nمیز پر کھانے کی ممانعت مین کوئی حدیث وارد نہین۔ جسطرح آنحضرت نے\nکبھی چپاتی کھائی نه میدہ اور چھنے ہوے آٹے کی روٹی کھائی۔ اوسی طرح\nطشتریون و رکابیون مین یا خوان یا میز پر کھانا تناول نہین فرمایا۔ پس وہ چیزین جو\nآپنے نہین کھائین اب مباح ہین تو میز پر کھانے کے لیے بھی یہی حجت ہو سکتی ہے\nاب اسلامی ممالک مین اعلیٰ طبقہ کے عرب ترک۔ ایرانی علی العموم میزون پر\nکھاتے ہین۔ اوسط درجہ کے اشخاص خوان کو ایک تپائی پر رکہکر کھانا\nکھاتے ہین اسمین یه آسانی ہے کہ کھانے مین زیادہ جھکنا نہین پڑتا۔ پس\nدستر خوان پر کھانا سنت ہے اور میز پر کھانا فی نفسہ مباح ہے۔\nبلاد اسلامی مین تمام عیسائی۔ یہودی مسلمان آپس مین ایک جگہ بیٹھکر"}
{"book": "adl0234", "page": 157, "text": "۱۴۸\nمیزون پر کھانا کھاتے ہیں۔ ہوٹلوں کے ملازم و خدمتگار۔ باورچی۔ عیسائی یہودی\nبیشتر اور مسلمان کم ہیں یعنی خدام مشترک ہیں۔\nاب اگر یہہ کہا جاوے کہ آیات و روایات سے طعام اہل کتاب کا مباح\nثابت ہوا مگر مضمون طعامم حل لکم و طعامکم حل لہم سے مواکلت و یکجائی بیٹھکر\nکھانا کہاں سے نکلا۔\nابوداؤد میں جو حدیث ابن عباس سے مروی ہے اور جسکے آخر میں وحل\nطعام اہل الکتاب ہے اُسکو ابو داؤد نے باب ضیعف میں لکھا ہے جس سے\nپایا جاتا ہے کہ بطور ضیافت کے کھانا جائز ہے۔\nپس جب ساتہہ بیٹھکر کھانے میں کوئی محظور شرعی نہیں خواہ اُن کا بھیجا ہوا\nیا پکایا ہوا ہو خواہ اپنے گھر کھائیں خواہ اُن کے ہاں جاکر خواہ تنہا خواہ اہل کتاب\nکے ہمراہ بیٹھکر کھائیں اِسکے ممنوع ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔\n۴ بحث تشبہ۔ اس باب میں حدیث من تشبہ بقوم فهو منھم پر استدلال کیا جاتا ہی\nکتاب اللباس باب ماجاء فی الاقبیۃ میں ابوداؤد نے یہ حدیث لکھی ہے\nتشبہ سے تشبہ تام مراد ہے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی نے اپنے فتاوی\nمحررہ جمادی الثانی ۱۲۳۶ھ میں صاف فتوی دیا ہے کہ جو باتیں کفار کے ساتہہ ایسی\nمخصوص ہیں کہ کوئی مسلمان اُن کو نہیں کرتا اُن کا کرنا تشبہ میں داخل ہے اور منع ہی\nاور ایسی باتیں جو کفار پر مخصوص نہیں گو کفاران کو بہت زیادہ کرتے ہیں اور مسلمان\nکم اُن کے کرنے میں کچہہ مضایقہ نہیں ہے۔ اُنہوں نے یہہ بھی لکھا ہے کہ اگر\nکوئی بات جو مخصوص کفار کے ساتہہ ہو بنظر آرام و فائدہ کی کجاوے تو بھی کچہہ مضایقہ\nنہیں بعد اسکے وہ لکھتے ہیں کہ جو تشبہ کہ منع ہے وہ یہہ ہے کہ اپنے تیئں\nاُنہیں میں شمار کرے۔ بلاشبہ اس طرح اپنے تیئں کفار میں گننا منع کیا بلکہ کفر ہی"}
{"book": "adl0234", "page": 158, "text": "۱۴۹\nنظر تحقیق سے دیکھا جائے تو اس حدیث کو نہ طعام سے علاقہ ہے اور نہ کسی قسم\nکے تشبہ سے جو کسی قوم کے ساتہ کیا جائے تعلق ہے۔\nاس حکم شرعی کا منشا یہہ ہے کہ حالت جدال و قتال یا اور کسی واقعہ مین جو مسلمان\nیا اور قوم کے لوگ مارے جائیں۔ تو ان کی شناخت کہ کون مسلمان ہین کون نہین ہیں\nکیونکر کیا وے۔ تاکہ مراتب تجہیز و تکفین موافق اس قوم کے ادا کیا جاوے۔\nاسی باب مین یہہ حدیث ہے اور یہ حکم ہے کہ جس قوم کے مشابہ جو ہو اُسی قوم مین\nاُس کو شمار کرنا چاہئیے۔ چونکہ اس طرح کی شناخت بقیاس غالب لباس پر منحصر ہے\nاسلیے تمام محدثین نے اس حدیث کو کتاب اللباس مین ذکر کیا ہے اور اسی حدیث\nکی بناء پر روایات فقیہ کتب فقہ مین مذکور ہین۔ اس خیال کے مؤید اور بہی بعض وجوہ\nہین جو اس معنی کو قوی کرتے ہین بخوف طوالت ان کو قلم انداز کیا گیا۔\nاب یہہ قیاس کہ ساتہ بیٹھکر کھانا اور آپس مین اختلاط رکہنا باعث ازدیاد\nمحبت و تولا ہے اور سوای مسلمان کے کسی مذہب والے سے تولا اور دوستی\nشرعاً جائز نہیں۔ لہذا اہل کتاب کے ساتہ بیٹھکر کھانا جو باعث محبت و اخلاص\nکا ہوتا ہے مباح نہیں۔ آیا قرآنی جن مین تولا کی نہی آئی جواب انکی صراحت کیجاتی ہئ\nآیت اوّل \tیاایّھا الّذین امنوا لا تتّخذوا الیہود والنصاریٰ اولیاء\nای ایمان والو نہ بناؤ تم یہود اور نصاری کو اپنا دوست |پاره ٦ سورة المائده\nآیت دوم\tیا ایّھا الّذین امنوا لا تتّخذوا الکافرین اولیاء من دون المؤمنین\nای ایمان والو نہ بناؤ کافرونکو دوست سوای مومنون کے|پاره ٥ سورة النساء\nآیت سوم\tلا یتّخذ المؤمنین الکافرون اولیاء من دون المومنین\nمسلمانونکو چاہیے کہ مسلمانونکو چھوڑ کر کافرون کو اپنا دوست نہ بنائین|پاره ۳ سورۂ آل عمران\nآیت چہارم\tیا ایّها الّذین امنوا لا تتّخذ وا عدوی |پاره ۲۸ سورۂ الممتحنه"}
{"book": "adl0234", "page": 159, "text": "۱۵۰\n\nوعدوكم اولياء\nاے ایمان والو نہ بناو تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست\nآیت پنجم\nفلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمین\nنہ بیٹھ بعد ذکر کے ساتھ قوم گناہگار کے\nآیت ششم\nلا تجد قوما یومنون بالله واليوم الاخر يوادون حاد الله ورسوله\nنہ پائیگا تو اُس قوم کو کہ ایمان رکھتے ہیں ساتھ اللہ اور اُسکے رسول کہ کہ دوستی کریں اسکے ساتھ جو بیجیے\nآیت ہفتم\nلا تتخذوا اباءكم واخوانكم اولياء از استحبوا الكفر على الايمان\nتمہارے باپ اور تمہارے بھائی اگر کفر کو ایمان پر زیادہ عزیز رکھیں تو ان کو رفیق نہ بناؤ\n\nیہ آیات اور جو کہ ان کے مثل ہیں ان سے عموماً موالات ممنوع شرعی نہیں\nبلکہ وہ موالات جو من حیث الدین ہوں حرام اور ممنوع شرعی بلکہ کفر ہیں۔\nموالات من حیث الدین یہہ ہیں کہ ہم کسی شخص کو اسوجہ سے کہ اُسکا مذہب و دین\nجسکو اوسنے اختیار کیا ہے بہت اچھا ہے۔ دوست رکھیں۔ یہ منع ہے۔\nمسلمان اپنے مذہب کے علماء متقدمین صلحا۔ اولیاء اللہ سے محبت رکھتے ہیں\nکوئی دنیاوی غرض یا اُنس اُن سے نہیں ہوتا نہ یہ محبت دنیاوی احسان کے\nسبب اور نہ یہ محبت باعتبار معاشرت کے اُن کے ساتھ ہوتی ہے بلکہ صرف\nباعتبار دین کے ہے۔\nلانهم كانوا علماء ديننا واتقياء مذهبنا واولياء الامة\nالمرحومه التى نحن فيها -\nپس اس قسم کی محبت کسی غیر کے ساتھ رکھی جاوے۔ یہہ بیشک حرام بلکہ\nکفر ہے ماسواہ اس کے جو او قسم کی محبتین ہین وہ لا باس بہ ہین اور ممنوع شرعی\nنہیں ہین بلکہ اُن کے کرنے میں ہم مامور ہیں۔ ہم پر فرض ہے کہ دین محمدی کی\n\nپارہ ۷ سورۃ الانعام\n\nپارہ ۲۸ سورۃ المجادلہ\n\nپارہ ۱۰ سورۃ التوبہ\n\nیہ آیے\nحقیقت میں تنبیہ ہے\nاپنے باپ ابوسفیان کو بہ نسبت\nرسول مقبول کے فرش جب تک\nوہ ایمان نہیں لائے تھے\nنہیں بیٹھنے دیا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 160, "text": "۱۵۱\n\nرحمت و شفقت عام کا نمونہ تمام لوگوں کو خواہ مشرک ہوں خواہ اہل کتاب۔ اپنے\nحسن اخلاق سے دکھاویں تاکہ غیر لوگ ہمارے دین کی حقیقت پر ہمارا نمونہ دیکھکر\nیقین لاویں، ضلالت و گمراہی سے نکلکر صراط مستقیم پر آئیں۔ ہمارے اولیاء امت\nکے اخلاق حسنہ سے ہی زیادہ نور اسلام دنیا میں پھیلا ہے۔\n\nمسلمانوں کو اُن عورتوں سے جو کافرات اہل کتاب ہیں نکاح کرنا درست ہو\nباوجود اِسکے کہ وہ اپنے مذہب پر رہیں اور ہم اپنے مذہب پر۔\nقال الله تعالىٰ والمحصنت من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم\nوای مودة اقرب من الزوجة لكنه ليست تلك المودة\nمن حيث الدین۔ کون سی دوستی زوجیت سے زیادہ قریب ہے مگر یہ دوستی باعتبار دین نہیں\nکفار والدین کے ساتھ محبت کرنے کا ہم کو حکم ہے لیکن لیس من حیث\nالدین لیکن باعتبار دین کے نہیں۔\n\nصلہ رحم کا ہم کو حکم ہے۔ اور جبکہ مسلمان اہل کتاب کے ساتھ نکاح کرتے ہیں تو\nاُن کی اولاد کے ذوی الارحام اہل کتاب ہوتے ہیں۔ اُن کو اُن کے ساتھ\nتودد وصلہ واجب ہے لیکن باعتبار دین کے نہیں۔\n\nہمسایہ کے ساتھ اگرچہ کافر ہو محبت و احسان کرنے پر ہم مامور ہیں۔ لیکن باعتبار\nدین کے نہیں۔ خود خداے تعالیٰ نے مسلمانوں میں اور اہل کتاب میں بخصوص\nنصاریٰ کے ساتھ تودد ہونا بتایا ہے۔\nقال عزّ و جلّ. لتجدن اشد الناس عداوة للذين امنوا\nاليهود والذين اشركوا ولتجدن اقربهم مودة للذين\nامنوا الذين قالوا انا نصرى ذالك بان منهم قسيسين\nورهبانا وانهم لايستكبرون۔\n\nپاره ۶- سورة المائدہ\nفرمایا اللہ تعالیٰ نے اور\nعورتیں حلال ہیں\nاہل کتاب کی۔\n\nپاره ۶ - سورة المائده\nفرمایا اللہ تعالیٰ نے البتہ تم پاوگے\nسب لوگوں میں سخت تر عداوت\nرکھنے والے مسلمانوں کی یہود کو\nدوستی میں مسلمانوں کی ان کو پاوگے\nجو کہتے ہیں ہم نصاریٰ ہیں اسلیے کہ ان میں\nعالم اور پیر ہیں اور یہ لوگ غرور نہیں\nکرتے ہیں۔ ۱۲۰ منه"}
{"book": "adl0234", "page": 161, "text": "۱۵۲\nہمنے استنبول و بیت المقدس وغیرہ میں رہبانوں کو دیکھا وہ سراپا اخلاق اور\nانکسار مجسم ہیں۔\nان آیات سے ثابت ہے کہ مطلق محبت و تودد ممنوع شرعی ہے۔ نہ ان آیتوں کے احکام\nمیں داخل ہے مودت و محبت غیر مشروع وہی ہے جو کہ غیر اہل دین سے من حیث الدین ہو\nجو آیات اوپر مذکور ہوئیں اُن سب میں اُسی قسم کی محبت کی نہی وارد ہوئی۔\nشروع اسلام میں منافقین جو ظاہر میں ایمان لائے تھے اور حقیقت میں محبت باعتبار\nدین مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ رکھتے تھے ایسے ہی لوگوں سے محبت رکھنا منع\nفرمایا گیا۔ اسیکا اشارہ آیت اول میں ہے\nمگر جب غلبہ اسلام کو ہو گیا اور حق غالب آیا تو کچھ مضایقہ نہیں کہ مسلمان کفار کو ساتھ\nبحسن معاشرت پیش آئیں اور خلق محمدی کو ہر ایک مخالفت پر ظاہر کردیں۔ تاکہ ہمارے\nدین ہماری عادات کی خوبی ان پر ظاہر ہو۔\nآیت دوم میں جو لفظ اولیاء آیا ہے اُس سے بھی محبت فی الدین مراد ہے\nتفسیر کشاف میں اسی آیت کے تحت میں لکھا ہے کہ اخلاق کافروں کے ساتھ کرتا\nچاہیے اور خلوص مسلمانوں کے ساتھ جس سے صاف ظاہر ہے کہ حُسنِ معاشرت\nکفار کے ساتھ منع نہیں ۔ الا محبت من حیث الدین مسلمانوں کے ساتھ ہونی چاہیے\nمسلمان کی دوستی کافر کے ساتھ تین وجہ سے ہو سکتی ہے۔ ایک یہ اسکی\nکفر سے راضی ہو کر دوستی کرے تو بلاشبہ اس کے کام کو دوست و پسندیدہ کریگا\nاور دوست و پسند کرنا کفر کا کفر ہے۔ خوش ہونا کفر کے ساتھ کفر ہے تو اس صفت کے\nساتھ مسلمان رہنا محال ہے۔\nدوم یہ کہ معاشرت نیک دنیا میں بظاہر ظاہر یہ منع نہیں ہے۔ سوم قسم متوسط\nان دونوں میں ہے۔ دوستی کرنا بمعنی میلان اور اعتماد کے کفار کے ساتھ"}
{"book": "adl0234", "page": 162, "text": "۱۵۳\n\nمددگاری - پشت پناہی - یاری کے یا بسبب قرابت یا بوجہ محبت مع اعتقاد اس کے\nکہ ان کا دین باطل ہے یہ موجب کفر نہیں۔ مگر بیشک منع ہے۔ کیونکہ یہ دوستی\nان کے طریقہ دین کے پسندیدگی اور خوشنودی کیطرف منجر ہے اور یہ امر اسلام کے منافی\nہے پس اللہ تعالیٰ نے دھمکایا اور فرمایا کہ جوکوئی یہ کام کرے گا وہ خدا سے الگ ہو۔\nچوتھی آیت۔ حاطب ابن ابی بلتعہ کے معاملہ میں وارد ہوئی۔ یہ بڑے صحابی\nہیں اور جنگ بدر میں بھی موجود تھے۔ اعرابی ہیں- ایام جاہلیت میں قریش کے\nدینی بھائی تھے۔ انہوں نے اہل مکہ کو کچھ حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھ بھیجا\nتھا۔ ان کا مال و اسباب و بال بچے سب مکہ میں تھے۔ وہ خط پکڑا گیا- ان سے\nحضرت نے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھ پر نہ جلدی کیجیئے۔ میں ایک\nمرد خوش باش قریش میں تھا۔ ان کی قوم میں سے نہ تھا۔ جتنے لوگ آپ کیساتھ\nمہاجر ہیں۔ ان سب کی قرابت ان سے ہے اسلیے اہل مکہ ان کے اہل و مال\nکی حمایت کرتے ہیں اور جب میرا ان سے کوئی خاندانی رشتہ و سلسلہ نسب\nنہیں ہے تو میں نے چاہا کہ میں ان کے ساتھ احسان کروں تاکہ میرے کنبہ\nکی حمایت کریں۔ میں نے یہ فعل دین سے مرتد ہونے اور خوشی کفر کے لئے\nنہیں کیا- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ راست بیان ہو اور انپرمعاف فرمایا\nاسپر یہ آیت نازل ہوئی۔ مسلمانون تم میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ\nاس بیان کا زیادہ ثبوت اسکے بعد کی آیت سے ہوتا ہے۔ تفسیر نیشا پوری میں لکھا ہو\nجب یہ آیت مذکورہ حق میں حضرت حاطب ابن ابی بلتعہ کے نازل ہوے۔ اسوقت\nمسلمانوں نے اپنے رشتہ داروں اور کنبے کی عداوت میں سختی کی- تب یہ\nآیت نازل ہوئی-\nلا ینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم\n\n۲۰"}
{"book": "adl0234", "page": 163, "text": "۱۵۴\n\nمن دياركم ان تبروهم وتقسطوا اليهم ان الله يحب المقسطين\nنہیں منع کرتا ہے اللہ تم کو ان لوگوں سے کہ نہ قتال کیا اونہوں نے تم سے دین مین اور\nنہیں نکالا تم کو تمہارے وطن سے یہ کہ احسان کرو اور انصاف کرو تم ان کے ساتھ بیشک\nاللہ دوست رکھتا ہے انصاف کرنے والوں کو۔\nآیت پنجم مین حکم ہے کہ جب مشرکین اپنی مجلسون مین دین کے ساتھ استہزار کرین۔\nیا رسول اللہ صلعم پر طعن تو ان مین شریک ہونے سے حذر واجب ہے۔ اگر ان کی\nمجالس اس سے پاک ہون تو کچھ مضایقہ نہیں ہے۔\nامام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر مین اس آیت کے معنی مین شرط مذکور بیان کی ہے کہ\nایسی مجلسون مین بیٹھنے سے ضرور احتراز چاہئیے جہان دین پر استہزاء اور رسول خدا\nپر طعن ہون۔\nآیت ششم۔ یہی حاطب صحابی جو بدر مین حاضر تھے اونہیں کے معاملہ سے ہے جنکا\nذکر اوپر آچکا ہے۔ اس آیت مین خدا نے باپ۔ بیٹے، بھائی اور کنبہ کے تو ود\nسے منع فرمایا ہے۔ اور دیگر آیات قرآنی مین صلہ رحم ہمپر واجب ہے۔ اور مان، باپ\nکی تعظیم۔ ان کے ساتھ محبت۔ ان کی خدمت اگرچہ وہ کافر ہی ہون ہمپر واجب کی گئی\nہے اس سے ثابت ہے کہ جس تولا کی ممانعت آیت ششم مین فرمائی ہے وہ وہی\nہے جو من حیث الدین ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔\nامیر کا ذی علم ہونا مسلم۔ احادیث و تفسیر سے باخبر ہونا پایۂ ثبوت کو پہنچ چکا ہے\nان کی بصیرت کا اقتضاء۔ ان کی دانشمندی کا تقاضا یہی تھا کہ وہ تمام قومون کے\nساتھ فیاضانہ اخلاق کام مین لائین اور یورپین فرقہ کو جو ان کا حقیقی میزبان تھا سب\nپر ترجیح دین۔\nگو طعام اہل کتاب ہر طرح سے مسلمانون کو شرعاً مباح ہے۔ تاہم میزبانون"}
{"book": "adl0234", "page": 164, "text": "۱۵۵\n\nو مہمانوں نے ضرورت سے زیادہ احتیاط فرمائی۔\n\nافسران گورنمنٹ نے بخیال دور اندیشی انتظام مہمانداری قبل از ورود ایک کمیٹی اسلامی\nکے سپرد کیا جس کے نگران خود سفیر کابل بنائے گئے۔\n\nباورچی- خدمتگار- چوبدار- خانسامان سب مسلمان مقرر ہوئے۔\n\nمطبخ شاہی کے متعلق اور بھی زیادہ احتیاط تھی۔ ذات خاص کے لئے پورے\nآشپز خانہ کا اسٹاف کابل سے ہمراہ آیا۔ اس میں باورچی اس قدر کثیر تھے کہ جو قیامگاہ\nپر ہمراہ ہی رہتے تھے اور آگے منزل پر بھی بھیج دیے جاتے تھے۔ یورپین پارٹی میں\nجہاں جہاں دعوت ہوتی تھی وہاں قبل سے وہی باورچی بلا لیے جاتے تھے جو\nتمام سامان طبخ اپنے ہمراہ لے جاتے تھے۔\n\nامیر صاحب دائماً اپنے ہی کابلی باورچیوں کے ہاتھ کا کھانا تناول فرماتے تھے\nظروف طعام خاص طور پر اعلیٰ قسم کے جداگانہ خریدے گئے تھے جو ہر جگہ پر\nملازمان خاص کے سپرد کر دیے جاتے تھے۔\n\nکھانے کی میز کا سجانا مسلمان کمیٹی کے متعلق تھا۔ طعام سے زیادہ احتیاط ظروف\nطعام میں مدنظر تھی۔ ذبیحہ و نیز خدام و باورچیوں کے باب میں اوسیقدر لحاظ رکھا\nگیا جتنا کہ کسی صاحب تقویٰ مسلمان کی خاطر لازم ہے۔\n\nانگلش پارٹی میں سے وہی برٹش افسر انتظام مہمانداری و ہمراہی کے لئے\nانتخاب ہوئے تھے جو مذاق مذہبی و معاشرت اسلامی سے آشنا تھے۔ اور\nجسکو سفر کابل یا سرحدی پولیٹیکل افسر ہونے کی حیثیت سے مراسم اہل افغانستان کا کافی\nتجربہ تھا پس ناممکن تھا کہ کوئی ایسا عمل جائز رکھا جاتا۔ جس سے مزاج مهمان\nمکدر ہو۔ اسلام پر ہنسے۔ بزرگان دین پر طعن کرنے کسی ناجائز شے کا روبرو لانے کا\nتو ذکر کیا۔ بیان ہر جلسے و ہر موقعے پر ایک سولجر سے لیکر کمانڈر انچیف اور ایک"}
{"book": "adl0234", "page": 165, "text": "۱۵۶\n\nکلرک سے لیکر وایسرایے تک کو یہ خیال مدنظر تھا کہ کوئی بات شبہے سے بھی ایسی\nنہ پیدا ہونے پائے جو محترم مہمان کی برہمی مزاج و بے لطفی طبیعت کا باعث ٹھہرے\nیہ فرض جس خوبی۔ باخبری اور مستعدی سے ادا کیا وہ حقیقت مین اسی حکمران\nشایستہ قوم کے ممبران کا حصہ ہے۔\nبمبئی مین ایک موقع پر اعلحضرت امیر کچھ مکدر پائے گئے۔ نہ معلوم کیا بات\nتھی۔ حاضرین مین ہر شخص بجائے خود متفکر و پریشان تھا۔\nلیڈی جنکنسن نے جن کی قابلیت و سلیقہ شعاری قابل متد ہی ہز مجسٹی کو مخاطب\nبناکر عرض کیا کہ یور مجسٹی مجھے اپنا رومال عطا فرماسکتے ہین ؟ آپ نے دریافت\nکیا کہ کیون چاہیے لیڈی موصوفہ نے جواب دیا کہ آپ کے تکدر مزاج نے\nمجھہ مین سے ضبط کی قدرت سلب کرلی ہے قریب ہے کہ میرے آنسو نکل پڑین\nیہ سنکر آپ مسکرائے۔ باتون باتون مین ملال خاطر رفع ہوگیا۔\nاس صورت مین امیر کا شاہانہ اخلاق۔ اسلامی اوصاف ۔ ملکی ضرورتین\nپولیٹیکل مصالح ۔ رموز مملکت کیونکر باز رکھتے کہ وہ اسلامی محکم۔ قانون کی\nباخبری کے ساتھ غیر اقوام اور خصوصاً ہمسایہ میزبانوں کے مقابلہ مین اتحاد\nو مدارات و قبول دعوت و شرکت مجالس مین بخل فرماتے۔ جو کچھہ او نہون نے\nبرتاؤ روارکھا وہی ان کی شان کے شایان۔ اسلامی اخلاق اور انسانی\nمروت کی رو سے مناسب بلکہ انسب تھا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 166, "text": "۱۵۷\nفریمیسن کا امتیاز\nہز مجسٹی امیر افغانستان کے متعلق یہہ اعتراض کہ فریمیسن کی ممبری کا ڈپلومہ اُنہوں\nنے حاصل کیا غور طلب بات ہے۔ اوّلاً یہہ بات سمجھنے کے قابل ہے کہ کسی شخص\nسیاح کا کسی مقام میں بغرض تفتیش حالات جانا اور وہان کے کوائف سے محققانۀ\nطور پر مطلع ہونا نفس شرکت یا وہان کے فرائض کے ارتکاب کا کہان تک مصداق\nہوسکتا ہے۔\nثانیاً اس سے قطع نظر کہ بغرض تحقیق نہین ۔ بلکہ شرکت ہی کی بنا پر شاہ\nافغانستان نے فریمیسن لاج میں تعلق فرمایا تو اسپر مذہبی اعتراض یا عقائد کا نقص کیونکر\nعاید ہوسکتا ہے ۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ امیر صاحب کا بالتحقیق اسلامی و مذہبی\nجوش۔ فرائض کی پابندی کلیات دینیہ سے لیکر معمولی فروعاات تک کی نگہداشت\nاس امر کا کسی روشن خیال صاحب عقل کو کب موقع دے سکتی ہے کہ اُن کی شرکت\nکو عقائد کے ضعف یا کسی خلاف اسلام پہلو پر حمل کیا جاوے۔ بلکہ افسوس\nاس بات کا ہوسکتا ہے کہ صدہا غیر معمولی خوبیوں کے مقابلے میں ایک ادنےٰ\nاور سطحی فعل کے وجود پر نکتہ چینی کی زبان کھلے اور وہ بہی ایسے موہومی خیال پر\nجس کو ہر نا واقف شخص نے بجاے خود نہین معلوم کیا کیا تصور کر رکہا ہے۔\nامیر صاحب کا ورود ہندوستان و زمانہ قیام واضح طور پر خود گواہ حال ہے کہ اُنکی\nنقل و حرکت۔ استفسار و گفتگو۔ ہر نئی ونادر چیز کی حقیقت حال معلوم کرنے سے ملونی\nکارخانوں میں جانا۔ مشینون کو دیکہنا۔ اصول تجارت دریافت فرمانا وغیرہ وغیرہ اگر محققانه\nتلاش نہ تھی تو کیا تہا؟\nممکن ہے کہ اسی شوق واقفیت نے اُن کو فریمیشین لاج میں تکلیف فرمانے کی"}
{"book": "adl0234", "page": 167, "text": "۱۵۸\nتحریک کی ہو۔ ہمارا حسن خیال ۔ ظن المومنین خیراً کے اعتبار سے ہم کو کسی بدگمانی و\nموشگافی کا موقع نہیں دیتا ۔\nہمارے لیے ایک محل شکایت وافسوس تھا اگر اس موقع پر شان شاہانہ کا لحاظ\nفرو گذاشت ہوتا مگر نہیں ۔ میزبانان وسیع الخیال نے اس موقع پر بھی شان امیر کا پاس کیا\nجو درجات اس انجمن میں عام طور پر ممبران کو بتدریج سالہا سال میں ملتے ہیں وہ ہز مجسٹی\nکے روبرو آن واحد میں پیش کیے گئے ۔ تاکہ ان کے مرتبہ کا امتیاز یہاں ہی قائم رہے\nاب ہم خفی انجمنوں کا حال ۔ فریمیسن کی تاریخ اُسکا وجود اور نشو و نما و ضرورت ۔ ترقی وتنزل\nکسی قدر صراحت سے لکھتے ہیں تاکہ عام غلط فہمیوں پر اس کا عمدہ اثر پڑے اور معلوم\nہو جائے کہ ذرا بھی اسلام کی منافی یہ انجمن نہیں ہے ۔\nخفیہ انجمنونکی حقیقت و نوعیت کسی زمانہ میں خفیہ انجمنیں اسی قدر ضروری تھیں جس قدر کہ علانیہ ۔\nقدرت کی سلطنت اسوقت کے مفروضہ بتوں باطل عقائد کے فرضی و جسمانی معبودوں کیخلاف\nہر زمانہ میں کہیں نہ کہیں موجود رہی ہوگی ۔ جہان بتوں کی پرستش یکجائی ہوگی جہان\nجسمانی معبودوں کو حقیر و بے محل جانا جاتا ہوگا ۔ ایسے مقامات فیلسوف وحکماء کے\nحجرے ۔ عابدوں کی عبادت گاہیں ۔ تارک الدنیا لوگوں کے زمین دوز غار تھے ۔\nخفیہ انجمنوں کی تقسیم خفیہ انجمنوں کی تقسیم کی ہمیشہ ٹھیک ٹھیک حد مقرر نہیں کی جاسکتی\nبعض نے جن کے مقاصد سائینس کے متعلق تھے اُسکے ساتھ تصوف کے مسائل\nبھی شامل کردیے ہیں ۔ ملکی انجمنوں کا اثر مذہب زندگی پر بھی ضرور ہوتا ہے ۔ لہٰذا خفیہ انجمنوں\nکو دو مجمل اقسام مذہبی وملکی میں زیادہ سہولت سے تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔\n(مذہبی) مذہب کی خفیہ انجمنیں بہت قدیم زمانہ سے ہیں ۔ ان کا وجود اس زمانہ سے ہے جب\nسے سچے مذہب علم دنیا کے بنانے کی تدبیر میں موجود تھا ۔ وہ لازوال قوت جس سے یہ پیدا"}
{"book": "adl0234", "page": 168, "text": "۱۵۹\nہوا اور جن قوانین سے قایم تھا یہہ پہلے آدمیوں کو حاصل تھا۔ یہہ اصلی علم بہت کچھ قدیم\nرازوں میں محفوظ تھا۔ ظاہری چند روزہ دنیا کے عجائبات بجائے سچی حقیقتوں غیبی دائمی\nعالم کے جن کے مقابلہ میں یہہ ظاہری دنیا ایک بیرونی نمایش ہے۔\nاُن حقیقی باتوں کے سمجھنے کے لیے ضروری ہے جو قدیم زمانہ کی خفیہ انجمنوں میں\nسکھلائی جاتی تھیں۔\n(ملکی) ملکی اعتبار سے خفیہ انجمنیں موجودہ اور آیندہ زبردست طاقتوں کو عقلمندی اور\nدور اندیشی سے مخلوط کرنے والے دروازے تھے۔\nہر ایک خفیہ انجمن اصل میں کسی ایمان کے تصور کو جاری رکھنے والا ایک شغل ہے۔\nکیونکہ جب اچھے تصور کو جمع اور تسلیم کیا جاوے تو ایمان ہوتا ہے خفیہ انجمنیں ایک\nتاریخی صورت میں اظہار کرتی ہیں۔\nیہ علم سیاست مدن کی ایک گمنام سی چیز اور پوشیدہ راز ہے۔ سریع خیالات میں سے\nجن کی وجہ سے خفیہ انجمنیں پیدا ہوگئی ہیں ایک سریع خیال انتقام ہے لیکن\nیہہ نیک دانشمندانہ انتقام ذاتی بغض سے بالکل علیحدہ ہے جہان عام مرغوب\nفائدے زیر بحث ہوتے ہیں وہاں بالکل غیر معلوم ہوتا ہے جو مجلسوں کو سزا دینے\nکی خواہش رکھتا ہے لیکن اُن کے اراکین کو نہیں۔ خیالات کو مٹانا چاہتا ہے\nلیکن آدمیوں کو نہیں، یہہ وہ بڑا مجموعی انتقام ہے جو وراثتاً باپ اپنی اولاد\nکو چھوڑ جاتا ہے۔\nیہہ محبت کا پاک عہد نامہ ہے جو میل کو صاف کرتا ہے۔ انسان کی ذمہ داری اوصاف\nکو بڑھاتا ہے۔ ایک جائز و ضروری ضرورت بُرائی کی نفرت ہوتی ہے۔ جس سے\nقوموں کی نجات ہے۔ افسوس اُس شخص پر جو نہیں جانتا کہ کسطرح نفرت کرتے ہیں\nاسلیے کہ تعصب۔ ریا کاری باطل اعتقادی۔ غلامی بُرائیاں ہیں۔"}
{"book": "adl0234", "page": 169, "text": "۱۹۰\nملکی انجمنون کے با ایمان فرقہ کا مقصد ترقی انسانی اور غافل و کاہل لوگون کے سینے مین\nآزادی کا تخم بونا۔ جیسے نہلست فرقہ آج کل روس مین کر رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہ\nنورانی عمارت ابھی تک تکمیل کو نہین پہنچی اور شاید کبھی نہ پہونچیگی۔ لیکن خود اس کوشش سے\nہی خفیہ انجمنون کو اخلاقی عظمت ثباتی ہے۔ اس سے خفیہ انجمنون کی موجودگی کی تشریح\nاور تائید ہوتی ہے اور بہت سی ریاستین اُن کی وجہ سے نہ صرف آزادیان بلکہ خود\nاپنا وجود ہی زندہ رکھتی ہین۔\nلیکن ابتدای خفیہ جماعتین ملکی لحاظ سے نہین بنین تھین۔ جسقدر مذہبی مقاصد کے\nواسطے ہر ایک علم و فن اُن مین شامل تھا۔ جسوجہ سے مذہب کو ٹھیک ٹھیک انسانی\nعلم (علم قدامت) کہہ سکتے ہین۔\nعلم تاریخ سے پہلے زمانہ مین انسان کو قدرت اور اُسکی کاروائیون کا سچا علم حاصل تھا\nاور یہی وجہ ہے کہ دور دراز اقوام کے مابہت بعید از روے قیاس و باطن آپس مین\nاشتراک رکھتے ہین۔ اب یہ بات نمایان نہین کہ اُن کے اصول کیا تھے۔ اور\nکیون تمام مین اسقدر تاکید خاص خاص صورتون و خیالات کی طرف کی گئی ہے۔\nابتدائی تہذیب عام قاعدہ یہ ہے کہ علم تاریخ سے پہلا زمانہ گمنام معلوم ہوتا ہے۔ اور لوگ\nخیال کرتے ہین کہ ایک ایک قدم جو پیچھے کو ہٹینگے وہ زیادہ تاریکی مین پہونچتے\nجاوینگے۔ لیکن اگر ہم اپنی آنکمین کھولکر آگے بڑھین تو یہ تاریکی شل افق کے مٹتی جاویگی\nجب ہم اُس کے قریب پہونچتے معلوم ہونگے تو پرانی روشنی نئی روشنی مین ملتی\nجاوین گی۔ نئے آفتاب منور ہونگے۔ نئی بحری شفق ہمارے سامنے طلوع ہوتی\nجاوینگی۔ غیبی صورت مین وحدت ہے۔ شاخین بہت سی ہین لیکن جڑ صرف ایک ہجر\nاسلیے تمام مذہبی فرقے حتیٰ کہ وہ بھی جو واہیات و مبتذل رسوم اور باطل عقیدون\nمین پھنسے ہوئے ہین جسقدر نزدیک جا کر ہم اُن کے ماخذ کا پتہ لگاوین گے صفائی"}
{"book": "adl0234", "page": 170, "text": "۱۶۱\nو عمدگی میں زیادہ بلند اصلی مقاصد و اصول کے ساتھ نظر آئین گے۔\nٹیچر کا قول ہے کہ نتانوے خیالات کا اصلی مطلب ہمیشہ یکسان ہوتا ہے یہیں\nشاعر اسکو اسطرح ظاہر کرتا ہے کہ قدامت وہ زبردست دیوتا ہے جو بڑی اقتدارات\nاور اعلیٰ مقاصد کے ساتھ ہوا ہے۔\nتمام اعلیٰ مذاہب مین خاص خاص خیالات ہین جو ایک دوسرے سے مختلف\nہیں۔ تاہم کسی اعتبار سے وہ تمام مذاہب میں مشترک سمجھے جاتے ہیں تثلیث کا عقیدہ\nاور تعلیمی مسئلہ کہ کلام بالکل مخلوقات پیدا کرنے والے لفظ نے تمام چیزین\nنیستی سے ہست کردین۔ نور کی پرستش، آگ و تناسخ وغیرہ کے عقائد اسی قسم کے\nخیالات ہین۔\nقدرت و وجود کے سچے اصول وہ علم جسپر سربستہ رازون کی تعلیم مبنی تھی۔ تمام چیزون کی بنیاد\nو مصدر ہونے کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ حرف قدرت کی پوری پوری حالت ابتدا\nکار روائی اور بتدریج ترقی ہے مع اس وحدت کے جسکا تمام آسمان و زمین مین عمل دخل\nہو رہا ہے۔ چند سال گزرے کہ یہہ بات بڑے زور شور سے بطور نئی تحقیقات کے\nمشتہر کی گئی تھی گو یہہ استقدر قدیم ہے کہ ہومر مصنف بھی ایلیڈ کی آٹھوین جلد مین اُس\nسُنہری سلسلہ کا ذکر کرتا ہے جسکی وجہہ سے آسمان و زمین مین تعلق ہے۔ لیکن یہہ علم\nکچھ مدت مین انسانون کی تبدیلی شوق مین رفتہ رفتہ کج فہم تاویلات سے بھر گیا\nاور اُس مین انسانی دماغ کے خیالی مصنوعات کا جدید اضافہ کیا اور حاشیہ\nچڑھایا گیا جس سے باطل عقائد کا تعلق ہوا اور فہم باعث کا یہی مذہب ہو گیا\nعوام کی طبیعت پر سے جنون نے اپنا دخل نہین چھوڑا۔ آج تک بھی لاکھوں روحین\nواہمات کی زنجیرون میں جکڑین ہیں۔ جو ہزاروں بھوتون کے خیال سے جنکو\nپجاری شعبدہ بازون نے ہیبتناک بنا رکھا ہے کانپ اُٹھتے ہین۔\n۲۱"}
{"book": "adl0234", "page": 171, "text": "۱۶۲\nمتقدمین کے بچے علم جو کچھ سربستہ رازون مین تعلیم دی گئی تھی اوس سے ہمارا یہ قیاس کرنا\nکے اصلی اصول درست ہے کہ ہزارون برس گزرے اُسوقت انسان جانتے تھے کہ\nآیندہ کیا ہو گا اگرچہ اس علم کو پہلے سے ہی ان بھیدون میں دہند لاوالٹ پلٹ کر دیا\nہے۔ صرف ظاہری قدرت کے عجائبات بجائے روحانی سچائیون کے جو مفہوم\nاصلی تھا دکھلائے جاتے تھے۔\n(۱) اپنے چارون طرف ہمکو ایک حیات کی شہادتین دکھلائی دیتی ہیں جو تمام اشیائ\nمیں سرایت کیے ہوے ہے لہذا مجبوراً اقرار کرنا پڑا کہ ایک عالمگیر قادر مطلق\nپروردگار اور کل ذی حیات کا خالق ہے۔\n(۲) دنیا کی ابتدائی حیات کے بالاتریلا شبہ ایک مافوق الطبیعت وجود پایا جاتا ہے\nجسنے لفظ یا کلام کے ذریعہ سے اور جو خود سب سے پوشیدہ ہے تمام\nچیزین آشکارا کردین۔\n(۳) ہیولا نور ہے کیونکہ تاریک سی تاریک چیز بھی اُس میں تبدیل کی گئی ہویا کیجاسکتی ہو\n(۴) دنیوی زندگی فانی ہے۔\n(۵) جو کچھ ظاہر دکھلائی دیتا ہے روز ازل سے موجود ہے جو مختلف\nصورتون مین منعکس ہوا۔\n(۶) وہ غیر فانی زندگی جو اس ظاہری دنیا مین اپنے آپ کو دکھلاتی ہے اونہیں\nقوانین کی محکوم ہے جو غیبی قوتون سے وابستہ ہے۔\n(۷) وہ قوانین جن کے بموجب یہ حیات اپنا اظہار کرتی ہے اصلی قدرت کے\nسات خواص ہیں۔ چھ تو کار پرداز خواص ہین اور ساتوان وہ ہے جس میں سب کامل\nاعتدال وموزونیت کے ساتھ جگہ پکڑتے اور مخلوط ہوتے ہین یعنی فردوس۔\nیہ سات خواص اوس سات کے عدد کی تعظیم کا علمی راز ہے جو بطور عجائبات گل"}
{"book": "adl0234", "page": 172, "text": "۱۶۳\n\nقدیم وجدید علم میں پھیلے ہوے ہیں اور اُن کی تفصیل یہ ہے۔\n(۱) کشش۔ (۲) مزاحمت یا نفی ۔ (۳) دوران۔ (۴) آگ ۔ (۵) ۔ نور (۶) آواز\n(۷) جسم یا سب کو شامل کرنے والا۔\n(۸) پہلے تین سے ہیولا یا تاریکی بنتی ہے۔ درد و رنج پیدا ہوتا ہے یعنی دوزخ\nاور دنیوی اعتبار سے جاڑا ۔ آخر تین نور و خوشی سے پر ہیں یعنی فردوس اور دنیوی\nاعتبار سے گرمی ۔\n(۹) آگ قدرت کا بڑا کیمیاگر صفائی بخشنے والا و تبدیلی کرنے والا ہے جس سے\nاندھیرے میں اُجالا ہو جاتا ہے اسوجہ سے قدیم مذہب اس کی تکریم و تعظیم و عام\nپرستش کرتے تھے۔ زردشت کے پوجاری ایک نقاب اپنے منہ پر اس خیال سے\nباندھے رہتے تھے کہ اون کے تنفس سے آگ خراب نہ ہو جائے ۔ لیکن دتہی آگ سے\nیہان مراد پہلی آسمانی برقی آگ ہے جسکے وجود و خواص کو متقدمین خوب جانتے تھے\n(۱۰) تمام نور تاریکی میں پیدا ہوا اور اسکو اپنے ظاہر کرنے کے لیے آگ میں گذرنا\nضرور ہے۔ یہی خیال تمام سربستہ بھیدون مین پوشیدہ ہے۔ جیسے چھوٹے پودے\nسے خوبصورت کلیاں۔ پتے۔ پھل بغیر بیج کی تاریک حالت میں نکلے ہوئے اور\nزمین مین دبے ہوئے جہان وہ کیمیائی ترکیب سے آگ کے ذریعہ دوسری صورت\nمین بدلتا ہے نہیں ظاہر ہو سکتے ۔ اسیطرح دماغ علم کی روشنی کو تاریکی وقید\nکاور چوٹے کیے ہوے نہین پہنچ سکتا ۔\nاسماعیلیہ فرقہ خفیه انجمنین مذہبی ۔ ملکی یا اخلاقی اغراض کے حدود مین محدود ہین اسماعیلی\nفرقہ نے بھی قاہرہ میں ایک لاج یا خفیہ انجمن کی بنیاد ڈالی جسکو دوسرے پیرا یہ مین\nیونیورسٹی کہہ سکتے ہین ۔ اسلیے کہ اس مین بہت سی کتب اور سائنس کے آلات\nتھے ۔ علانیہ منشاء سائنس کا تھا۔ لیکن اصلی مقصد کچہ اور ہی تھا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 173, "text": "۱۷۴\nنصاب تعلیم نو درجون پر منقسم تھا۔ پہلے درجہ مین طالبعلمون کے دلون مین شبہات\nپیدا کرنے اور اپنے اُستاد پر انکے حل کر سکنے کا اعتقاد رکھنے کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس غرض\nسے اُسکو قرآن کے لفظی معنون سے مہمل مطلب دکھلاتے تھے۔ پوشیدہ اشارون\nسے اُسے سمجھایا جاتا تھا کہ اس پوست کے اندر ایک شیرین اور غذائیت بخش مغز\nچھپا ہوا ہے۔ لیکن یہ تعلیم آگے نہیں چلتی تھی۔ جب تک شاگرد سخت قسمین کھا کر\nجاہلون کے پکے عقیدہ کے ساتھ اپنے استاد کی مطلق اطاعت کا پابند نہین ہو جاتا\nتھا۔ دوسرے درجہ مین امامون یا ہادیون کو پہچاننا سمجھایا جاتا تھا جن کو خدای تعالےٰ\nنے ہر قسم کے علوم کا سرچشمہ بنایا ہے۔\nتیسرے درجہ مین اُسکو اُن متبرک امامون کی تعداد بتائی جاتی تھی۔ یہ تعداد\nسات کا طلسمی عدد تھا۔\nچوتھے مین اُسکو اطلاع ہوتی تھی کہ خدا نے دنیا مین سات واضعان شرع\nبھیجے ہیں۔ ہر ایک کے ساتھ مددگار سات تھے جو امم کہلاتے تھے۔ درحالیکہ\nواضعان شرع کو ناطق کہا جاتا تھا۔\nپانچوین مین اُس کو اطلاع ہوتی تھی کہ ان مددگارون مین سے ہر ایک کے بارہ\nرسول تھے۔ چھٹا درجہ اس تخت مرید کی آنکہون کے سامنے جو اسدرجہ تک ترقی\nکرچکا تہا قرآن کے مسائل پیش کرتا تھا اور اسکو یہ تعلیم دی جاتی تھی کہ تمام مذہبی\nاصول قواعد فلسفہ کے ماتحت ہونے چاہئیں۔ اوسکو افلاطون اور ارسطو کے مذہب\nکی بھی تعلیم دی جاتی تھی ساتوین درجہ مین ہمہ اوست کا پُر اسرار مطلب شامل تھا۔\nآٹہوین درجہ مین اُسکے سامنے شرع محمدی کے بنیادی اصول پیش کیے جاتے\nتھے اور اُسکا صحیح اندازہ اُن کی ذاتی وقعت پر کیا جاتا تھا۔\nآخر کار نوین درجہ مین جیسا کہ تمام پہلی باتون کا لازمی نتیجہ ہونا چاہیے اُس کو اس امر"}
{"book": "adl0234", "page": 174, "text": "۱۶۵\n\nکی تعلیم دی جاتی تھی کہ کوئی چیز بھی یقین کرنے کے قابل نہیں ہے اور یہ کہ ہر ایک\nبات جائز ہے ۔\nاغراض یہ تھیں کہ انسانی ذمہ داری و شرف مٹائے جائیں ۔ فاطمین کا تخت\nقاتلوں کی فوج سے جو ایک ہیبت ناک سلطانی محافظوں کا دستہ ہوتا تھا گھیرا\nرہتا تھا ۔ خفیہ پولیس اس نظر سے بھرتی کی گئی تھی کہ قاہرہ کی خلافت کی شہرت\nو ہیبت کو دور دور پھیلا دے ۔ اور بغداد کی سلطنت کو مہلک صدمہ پہنچائے\nعرب و شام میں طرفدار ہاتھ آ گئے جن کو اس فرقہ کے مقاصد معلوم نہ تھے ۔\nجنہوں نے خوفناک حلف کے ساتھ نادانستہ فرمانبرداری کی قسم کھائی تھی ۔\nقاہرہ کے لاج کی شعبانہ مختین ایک صدی تک رہیں ۔\nاس کے اصولوں نے جو تمام سچے اخلاق اور انصاف سے منکر ہونے پر ختم\nہوتے تھے جزر و بغیر معمولی بات پیدا کر دی ۔ انسانی ایمان پر ایسا خوفناک\nدھکا لگنے سے وہ عجیب باتیں بطور نتیجہ ظاہر ہوئیں جنکا صفحہ تاریخ پر خونریز اور نہ مٹنے\nوالا نشان باقی ہے ۔\nفرقہ اسماعیلیہ کو ہیبت ناک بنانے والا حسن بن صباح ایک نامور زمانہ قاہرہ\nکے دارالعلوم کا واعظ تھا ۔ جس نے بہت ناموری پیدا کر کے قاہرہ میں بڑا\nاقتدار حاصل کیا ۔\nاس اقتدار سے لوگ اس کے حاسد ہو گئے جن کی کامیابی اسکو جلاوطن کیے جانے\nسے پوری ہوئی ۔\nیہ جلاوطنی نامور کامیابی کا ذریعہ ہوئی عراق کی سرحد پر اس کی زبردست حکومت\nقائم ہو گئی ۔ شاہان یورپ اس عبطسم کے عین وسط میں اس سے کانپتے تھے\nاس کی زبردست فوج کا ہر جگہ گزر تھا ۔"}
{"book": "adl0234", "page": 175, "text": "۱۶۶\nفیلپ اعظم شاہ فرانس اس سے ایسا ڈرتا تھا کہ وہ بغیر باڈی گارڈ کے ذرا دور بھی\nحرکت نہ کرتا تھا۔ اول اول اس نے کوئی اور ارادہ سوائے خلافت قاہرہ کی حکومت\nبڑھانے کے ظاہر نہیں کیا لیکن یہ پردہ بہت جلد اوٹھ گیا۔\nاس نے قاہرہ کی لاج کے اصولوں میں ترمیم کی۔ مریدوں کی جمعیت کی تقسیم کی\nجسمیں خطرناک فدائی (جان نثار) فرقہ تھا جو تکان خطرہ۔ تکلیف کو حقیر جانتا تھا\nاور اپنی جان خوشی سے دینے کو آمادہ تھا۔\nاس جان نثاری کی لیے حَسَن نے ایک عجیب و غریب حکمت نکالی تھی\nایران کے ایک صوبہ میں جسکا نام آج کل سیستان ہے مولیت مشہور گھاٹی\nتھی۔ گھاٹی بہت پر فضا جگہ تھی اور ایسے پہاڑوں سے محفوظ جن کی سیدھی\nچوٹیاں تھیں۔ تمام گذرگاہوں پر مضبوط قلعوں سے حفاظت کیگئی تھی۔\nاس پر فضا محفوظ مقام کو نہایت خوشنما مسرت بخش باغات و محلات سے پر رونق\nبنایا گیا تھا۔ اوسکی آراستگی و زیب وزینت حد بیان سے باہر تھی۔ نو عمر۔\nخوشجمال دلفریب نوجوان عورتوں نے اُسکو بے انتہا دلکش بنا دیا تھا۔\nجب کسی خطرناک مہم کو انجام دینے کے لیے آقا کسی شخص کو منتخب کرتا تھا\nتو اُسے اوّل غشی چیز پلائی جاتی تھی۔ اور مخمور و مدہوش حالت میں وہ ان باغوں\nمیں پہونچایا جاتا تھا اور یہان ہر طرح کی اُس کو آزادی دی جاتی تھی۔\nجسوقت اس میں اتنا ہوش آتا کہ اس خوبصورت نزہت گاہ کو کافی طور پر سمجھ لیا\nاور پریزاد عورتوں کے حُسن سے جو اس تمام وقت میں اُسکو محبو بانہ ناز و ادا مین\nمصروف اور اپنی جانب مائل رکھتی تھیں لطف اوٹھاوے تب اسکو یقین دلایا جاتا\nتھا کہ جنت فردوس یہی ہے لیکن قبل اسکے کہ وہ تکان محسوس کرے یا عشق\nو شراب سے سیر ہو اسے مدہوش و مخمور کر کے وہان سے جدا کر دیا جاتا تھا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 176, "text": "۱۶۷\nکسی ضروری خدمت کے لیے آقا بلاتا اور حکم سناتا کہ فلان خدمت بجالاؤ\nتو باقی تمام عمر اونہیں مسرتوں کا عیش اُٹھانے کا موقع دیا جائے گا۔\nیہ سادہ لوح دل و جان سے اُس گناہ کے ارتکاب کو آمادہ ہو جاتا جس کی خواہش\nظاہر کی جاتی تھی۔\nاس بے رحم فرقہ نے حسن کے بعد بھی عرصہ تک فرمانبرداری مین بڑی بڑی\nجانین لین اور اپنی جانین دین ۶۵۲ھ میں ہلاکو خان برادر خان اعظم منگولیا\nنے ایران پر حملہ کیا جسقدر پیر و فرقہ حسن اُسکے ہاتھ آئے سب کو ہلاک کیا\nرکن الدین آخر فرمانروا اس فرقہ کا مارا گیا اُسوقت سے پھر اس فرقہ کا زور نہین ہوا\nلیکن اب تک یہ فرقہ ایران۔ شام میں موجود ہے۔ اسماعیلی یورپ میں بھی دکھلائی\nدیتے ہیں۔ ہندوستان میں سوداگروں کے لباس میں نظر آتے ہیں ۔ فقط\nخفیہ اسرار کی تعلیم کا خلاصہ یہ تعلیم تصوف و سائینس سے تعلق رکھتی تھی۔ از روی تصوف\nمریدوں کو جاہلوں کے متعدد معبود ماننے کی غلطی بتلائی جاتی تھی۔ اور وحدت کا اصول\nمع جزا و سزا کے آیندہ حالت کے سکھلایا جاتا تھا اور تاکید تھی کہ اگر تجھ کو شبہ ہے\nکہ کوئی کام اچھا ہے یا بُرا تو اوسکی دریافت تک بالکل پر ہیز کر۔\nسچا علم کسطرح ضایع ہو گیا قدرت کا وہ سچا علم جو پہلے آدمیوں کو حاصل تھا زمانہ دراز\nکی جدت میں خراب ہو گیا۔ اُس میں غلطیان شامل ہوگئیں بت دیم مذہبی رسوم\nآسمانی فرشتون یا سورج و آسمانی اجسام سے متعلق تھین۔\nگرچہ حقیقت والوں کے لیے ۔ سورج۔ چاند اور تارے۔ محض بیرونی\nنمائیشیں اور غیر فانی زندگی کی پر عظمت قوتوں کی علامتیں تھیں۔\nمگر حقیقی معرفت کے راز جماعت کثیر کی جاہل طبیعتوں کو صاف صاف سمجھائے نہ\nجاسکے اور غالباً اسیوجہ سے اجسام آسمانی کی بشکل آدمی مورتیں بنائی گئیں۔"}
{"book": "adl0234", "page": 177, "text": "۱۶۸\nاور زمین کے موسم اون پر منحصر کیے گئے۔\nمثلاً ابتدائی شخص کی نظر مین سورج عالم ازل کا ظاہری اظہار تھا۔ یعنی ایسی حیات\nجو سب کی پرورش و حفاظت کرتی ہے۔ مختلف ملکون اور زبانوں مین۔ کرشنا و\nاسیرس۔ ہرمز۔ ہرکولز وغیرہ مختلف نامون سے اوس کی صورت بنائی جانی\nلگی اور بہر بتدریج وہ شکلین ایسے آدمی سمجھے جانے لگے۔ جو کبھی موجود ہوں\nاور ان فوائد کی نظر سے جو انہوں نے نسل انسان کو پہونچائے وہ معبود گردانے گئے\nفرضی دیوتاؤں کے مقبرے دکھلائے جاتے تھے جیسے کہ مصر کا بڑا مخروطی\nمینار اسیرس کا مقبرہ کہلاتا ہے۔\nلیکن ان جلسون کے کیے جانے کا خاص منشاء یہہ ہوتا تھا کہ ان کو مرنے\nسے عامہ خلایق کو جو نقصان پہونچا ہے اس خیال کو تازہ کیا جاوے۔\nفی الحقیقت جو ایک زمانہ مین خالص قدرتی دانشمندی ہوتی ہے وہ دوسرے\nزمانہ مین دیو تابن جاتی ہو تیسرے زمانہ مین تفریحی افسانہ۔ اسکی خاص خاص\nباتین اسی ملک سے جہان اسکا رواج تھا شروع ہوتی ہیں۔\nساٹ کا عدد ہر جگہہ پایا جاتا ہے۔ اور یہہ علم کہ اسکا موجود ہونا قدرت کی\nساٹ خواص کا ضروری نتیجہ ہی جاتا رہا۔\nاب یہہ بات فرض کرلی گئی ہے کہ اس سے ان ساٹ سیارون کیطرف اشارہ\nہے جو اُسوقت معلوم تھے۔\nاسرار کا اصلی مطلب اور\nان کی زوال و نتائج\nان سربستہ بھیدون مین تمام باتین نجوم سے متعلق تہین لیکن\nنجومی علامات کے ذیل مین بڑے گہرے معنی پوشیدہ تھے\nیہہ اسرار رفتہ رفتہ زائل ہوگئے۔ خیالی باتون سے حقیقی باتین مغلوب ہوگئین\nاسرار الیک لگاتڑے ہوئے اور بے قصد طریقہ تین فرامسین مذیب مین ابتک قایم و برقرار ہین کئ ایک نجومی"}
{"book": "adl0234", "page": 178, "text": "۱۶۹\n\nهیئت یہی ہے۔\nخفیہ انجمنون کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ شکر کا مقام ہے کہ اب خفیہ انجمنون کی ضرورت نہیں رہی\nآجکل فلسفیانہ اور ملکی خیال آزاد ہے۔ اگرچہ ہر ملک میں ایسا نہیں ہے مگر بلاشک\nاُن ملکون میں ایسا ہی ہے جہان سیکسن نسل کی آبادی ہے۔\nبعید القیاس مسائل تعلیمی کے حملوں کے لیے سائنس ایک زبردست بنیاد\nہوتی جاتی ہے اور سائنس کی مطابقت سے ایک معبد قایم ہو رہا ہے جیمین\nصرف محنت زہد اور روزے ہی ضروری امور نہیں خیال کیے جاتے ہیں حال\nکی زندگی میں مختلف عجائبات اسکا ثبوت ہیں۔ انسان عقلی تاریکی کے عہد میں\nہمہ اوست کے واسطے خود نیت کرتا تھا۔ اب وہ تحصیل علم کرتا ہے۔ اپنی عزت\nکرتا ہے۔ لکڑی پتھر کے معبودوں کو فنا کرتا ہے۔ حق کی خاطر لڑتا ہے۔\nقدیم زمانہ میں طبیعت مذہب سے فلسفہ کیطرف بلند ہوتی تھی۔ زمانہ حال\nمیں وہ بوجہ سخت فراحمت طبعی کے فلسفہ سے مذہب کیطرف عروج کرتی ہے وہ شخص\nجو اسطرح مذہب پر پہونچتا ہے جس کی عالمگیر ہمدردی خوف کو نکالکر باہر کرتی ہے\nیہی لوگ نسلِ انسان میں ایسے پیدا ہوئے ہیں جن کو نہ پوشیدہ اشاروں کی ضرورت\nنہ اصطلاحی الفاظ کی ایک دوسرے کو پہچاننے کے لیے حاجت ہے وہ ایسے تمام\nایجادوں کے مخالف ہیں وہ جانتے ہیں کہ آزادی سب میں یکساں شامل رہنے\nسے حاصل ہوتی ہے۔\nایسے ملک میں جہان جابرانہ حکومت ہے مثلاً روس میں خفیہ انجمنیں\nابتک آزادی کے واسطے لوگوں کو لڑنے کی تحریک دینے کا ذریعہ ہیں۔ لیکن\nجہان آزاد حکومت ہے وہاں کسی مفید اور نیک کام کو عمل میں لانے کے لئے\nاخفا کی ہرگز ضرورت نہیں کسی زمانہ میں خفیہ انجمنونکی مدد سے کامیابی حاصل کرنیکی ضرورت تھی۔\n۲۲"}
{"book": "adl0234", "page": 179, "text": "۱۷۰\n\nاب عام انجمنوں کو اپنے قایم رکھنے کے لیے علانیہ اتفاق کی حاجت ہو یہ اسلئے\nنہیں کہ یہ ایسا زمانہ ہے جسمین ہر بات بلا خوف مخالفت کہی جاسکتی ہے بلکہ ہر ایک\nبات کی چھان بین ہو کر صلی راز کھل جاتا ہے۔\nلہذا جس انجمن کو اخلاقی و اتحادی دعویٰ ہے اُس کو حجاب اُٹھا کر سامنے\nآنا چاہئے۔ وہ لوگ ذلیل غلام ہیں جو لاچاروں و کمزوروں کے واسطے زبان کھولنے\nکی ہمت نہیں کرتے ۔ وہ غلام ہیں جو نفرت طعن و تشنیع اور گالیوں سے خوف\nکرتے ہیں اور بجائے اُس حق کے جسپر انہیں ضرور خیال کرنا چاہیے وہ خاموش\nہوکر دبے جاتے ہیں۔ وہ غلام ہیں جو حق بات میں ہمت کرکے لوگوں کے ساتھ\nنہیں ہوجاتے۔\n\nتاریخ فریمیسن\n\nفریمیسن کا زمانہ حضرت سلیمان کے وقت سے بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت سلیمان نے\nجسوقت معبد کی تعمیر کا قصد کیا تو دستکار جمع کیے۔ اُن دستکاروں کو جماعتوں میں\nتقسیم کرکے ایڈو نیرام ۔ یا ہیرام آلف کے تحت میں کردیا۔ یہ ہیرام وہ معمار تھا\nجسکو حضرت سلیمان کے دوست بادشاہ ٹائر نے بھیجا تھا۔\nہیرام نے ایک عجیب عمارت بنام نہاد مسجد سلیمان تعمیر کی۔ اوسنے تخت سلیمان\nطلائی بنایا جسپر نہایت خوبی سے نقش و نگار کیے اور بھی عمارات نورانی تعمیر کیں\nیہ دستکار با وجود جاہ و منزلت کے مبتلای مرض مالیخولیا تھا اور تنہا رہتا تھا۔\nماخوذ مشہور کتاب سکریٹ سوسائٹیز آف دی ورلڈ جلد دوم ترجمہ مطبوعہ کارخانہ پیسہ اخبار لاہور"}
{"book": "adl0234", "page": 180, "text": "۱۷۱\nمعدودے چند مانوس اور بکثرت اُس سے نفرت کرتے تھے۔\nاس زمانہ مین حضرت سلیمان کی دانائی کی شہرت دنیا کے دور و دراز حصون تک پہنچ گئی تھی۔\nبلقیس شہر سبا ملک یمن کی ملکہ بادشاہ اعظم کو مبارکباد دینے۔ اُن کے عہد کے معجزات دیکھنے کے لئے بیت المقدس حاضر ہوئی۔ حضرت سلیمان کی شان و شوکت و جاہ و جلال نے اُسے متحیر بنادیا۔ آپ نے بہی ہر قسم کی ضیافت کی۔ اُسکو اپنا محل بعدہ شاندار مسجد کو دکھایا جسکو دیکھکر ملکہ حیرت زدہ رہ گئی۔\nحضرت سلیمان بہی اُس کے حُسن پر فریفتہ ہوے اور چند روز بعد اوسکو پیام شادی دیا۔ ملکہ نے ایسے معزز دل کو مسخر کر لینے سے خوش ہوکر پیام کو قبول کیا۔ دوبارہ مسجد کے دیکھنے پر اوسے مہندس کے دیکھنے کی آرزو ظاہر کی جس نے ایسی عجیب و غریب و بیمثال عمارت تعمیر کی۔ تھوڑے تامل کے بعد اُسکے اصرار سے مہندس پیش ہوا۔ جب یہہ عدیم المثال دستکار ملکہ کے حضور مین حاضر ہوا تو ملکہ نے پہر تمام کاریگرون کو دیکھنا چاہا جنہون نے اس مسجد مین کام کیا تہا۔ حضرت سلیمان نے فرمایا کہ سب کا ایکبار جمع کرنا دشوار ہے لیکن ہیرام کو ملکہ کی خواہش کے موافق اُن سب کا دکھا دنیا منظور ہوا۔ اسلیے اوسنے ایک پتھر پر جست کرکے اپنے سیدہے ہاتہہ سے ہوا مین «ط» کا اشارہ بنا دیا۔ اس کا یہہ اثر ہوا کہ تمام کاریگر اپنا اپنا کام چھوڑ کر اپنے اُستاد کے حضور مین آحاضر ہوئے۔ اس بات نے ملکہ کو سخت متعجب بنادیا۔\nہیرام اپنے تین مخالف حاسد شاگردون کے ہاتہہ قتل ہوا۔ جن کو ہیرام نے بوجہہ ان کی ناقابلیت و کاہلی کے ماسٹر کے درجہ پر ترقی دینے سے انکار کردیا تھا۔ یہہ تینون شخص۔ فینو معمار باشندۂ شام۔ امرو نجار باشندۂ فونیشیا اور میتو سائل"}
{"book": "adl0234", "page": 181, "text": "۱۷۲\n\nعبرانی کامتمکن تھا۔\nان تینوں نے قتل کا منصوبہ باندہا جسوقت یہ مہندس مسجد میں آیا تو ان لوگوں\nنے حملہ کر کے قتل کردیا۔ مگر اپنی موت سے پیشتر ہیرام کو اتنی فرصت مل گئی کہ\nاُس نے اُس سُنہری مثلث کو جسے وہ اپنے گلے میں پہنے ہوئے تھا اور جسپر ماسٹر\nکا خطاب کندہ تھا ایک عمیق چاہ میں پہینک دیا۔\nقاتلون نے اُس کی لاش لپیٹ کر ایک علٰحدہ پہاڑی پر لیجا کر دفن کردی اور قبر پر\nایک چھوٹی سی ببول کی شاخ نصب کردی۔\nجب ہیرام سات دن تک نہ آیا تو اُس کو تلاش کرایا۔ اُنہین تین کاریگرون\nکو لاش ملی اُس کے اُٹھانے کے وقت کہال جسم سے علٰحدہ ہوگئی اوسپر ایک ماسٹر\nکہہ اُٹھا ”میکنیاگ“ (گوشت جسم سے علٰحدہ ہو گیا یا بھائی مارا گیا) اور یہی لفظ درجہ\nماسٹر کا مقدس لفظ ہوگیا۔\nان تینون حریفون کا پتہ لگ گیا۔ لیکن اُنہون نے اپنے تلاش کرنیوالوں کے\nہاتھہ آنے سے پیشتر خودکشی کرلی۔ اُن کے سر کاٹ کر حضرت سلیمانؑ کے پاس لائے\nگئے۔ مثلث ہیرام کی لاش کے ساتہہ نہیں ملا۔ تلاش ہونے پر اُس کنویں سے\nبرآمد ہوا جس میں مہندس نے اُسے پہینکدیا تھا۔ بادشاہ نے اُسکو ایک مثلث نما\nقربان گاہ میں جو ایک حصہ گبند مین بنی تھی رکھوا دیا۔\nابتدائی سنن عمار | تمام قومین۔ تمام ریاستین۔ تمام انجمنین اپنی عظمت و قوت بڑہانے\nکی غرض سے اپنا سلسلہ استخراج کرنے کے لیئے اپنے ساتہہ بہت قدیم اصلیت\nمخصوص کیا کرتی ہیں جو فرقہ بالکل خیالی و اخلاقی ہوتا ہے اور اصول کی زندگی بسر کرتا ہے اور\nجس کو یہ ضرورت ہوتی ہے کہ وہ تمام دیگر فرقون سے سبقت گردانا جائے اوسمین\nیہ خواہش زیادہ زبردست ہوتی ہے اسوجہہ سے فریمسن مذہب نے یہ دعوٰی"}
{"book": "adl0234", "page": 182, "text": "١٧٣\nقائم کیا ہے کہ ہم انسان کی پیدائش کے ہمعصر نہین ہین بلکہ دنیا کی پیدائش کے زمانہ سے ہین۔\nدلیل یہ کہ نور انسان سے پیشتر تھا۔ اُسکے لیے ایک مناسب مسکن طیار کیا گیا نور فریمسین کا نشان و علامت ہے۔ اس تائید مین دو فریمسین مصنفون کی تصنیف کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ جسمین ایک تصنیف ایک صدی سے زیادہ پُرانی ہے اور ایک بالکل زمانہ حال کی ہے۔\nایڈورڈ اسٹریٹ اپنی کتاب ”بک آف کانسٹی ٹیوشنز فار دی یوز آف لاجز آئرلینڈ“ آئرلینڈ کی لاج کے استعمال کے واسطے کتاب ضوابط مطبوعہ ۱۷۳۰ء مین آدم کو پہلا میسن بتایا ہے جنون نے فردوس سے نکالے جانے کے بعد بڑے علم خاصکر مساحت زمین کو یاد رکھا۔\nڈاکٹر جے۔ اے۔ ویسی کتاب ”اوبیلِسک اینڈ فریمسنری“ مطبوعہ ۱۸۸۰ء مین بیان کرتا ہے کہ فریمسنری خلقت کے زمانہ سے شروع ہوئی۔ اس کو خاندان شیث نے قایم کیا تھا۔ میسنون کا تہہ بند اُس زمانہ سے شروع ہوا جب کہ فردوس کے بعد آدم و حوا نے انجیر کے پتّون کا تہہ باستر اختیار کیا۔\nروئے زمین پر انسان کی ابتدائی طور سے ہی ایک نہایت مہذب نسل تھی جس کو قدرت کے قوانین و خواص کا پورا علم تھا اور یہ علم پوشیدہ ہندسون اور حکمتون مین جو اس کے قیام و ترقی کے لیے مناسب علامت سمجھی گئیں شامل کیا گیا۔ ہتھیلی ہندے اور حکمتین میسنری مین قایم ہین۔ لیکن کاریگرون کی کثیر تعداد کاذب مسنری مین تہین۔ سب سے سچّے میسن فی زماننا بغیر لاج پائے جاتے ہین۔\nمین لوگون کے حقیقی واقعات بعض علامتون و معانیٰ صورتون مین چہپے"}
{"book": "adl0234", "page": 183, "text": "۱۷۴\n\nہوئے ہیں وہ بغیر اصلی حقیقت کو جانے ہوئے لغو خیالات ذلیل رسم و دستور\nمعلوم ہوتے ہیں۔\nتمام خفیہ انجمنون کا مقصد (سوائے اُن انجمنون کے جو خالص ملکی یا خلاف معاشرت تھیں)\nایسے علم کے قایم رکھنے کا تھا۔ جو اوسوقت تک باقی تھا۔ یا اُس علم کے پھر حاصل\nکرنے کا جو ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ فریمین مذہب کو ایسا کہنا چاہیے کہ اُن تمام\nانجمنون کی تعلیم اور اصولون کا خلاصہ ہے۔ جنہیں قدیم بھید سکھلائے جاتے تھے\nلہٰذا یہ بات ناممکن ہے کہ اسکی اصلیت کو کسی پیشتر کی خاص انجمن سے منسوب\nکیا جاوے۔ فریمنسری تمام علوم اولین و آخرین کا مختصر خلاصہ ہے اور\nہونا چاہیئے۔\nفریمنسری دور | مین مصنف اس فرقہ کی تاریخ کو عموماً دو دورون مین منقسم کرتے ہیں\nپہلے دور مین اُس کی مفروضہ بنیاد سے اخیر صدی کے شروع تک کا زمانہ شامل ہی\nجس زمانہ مین یہ فرقہ صرف مین یعنی کارگذار معمار اور دستکارون کو جنکا تعمیر سے\nکسطرح کا تعلق ہو اپنے اندر شامل کرتا تھا۔\nدوسرے دور کو خیالی میسنری کے زمانہ سے نامزد کرتے ہیں جو صرف\nاُنہیں اراکین کو پسند نہیں کرتا جو عمارتی صنعتون کے ماہر ہیں بلکہ اپنے مین اُن\nسب کو قبول کر لیتا ہے جو روحانی عبادتخانے کے بنانے میں مدد دینے کو رضی\nہوں جو کہ دنیا کے عالمگیر اتفاق و علم کا عبادتخانہ ہے۔\nوارنگٹن کی لاج کی تحریرات مین جو ۱۶۴۳ء تک قدیم زمانہ کے ہیں لکھا ہوا ہی\nچارلس اول ۔ چارلس دوم جیمس دوم بھی شامل ہوئے تھے۔ مذکورۂ بالا بیان\nسے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حقیقی میسنری ہمیشہ خیالی تھے۔\nاور یہ کہ اُس کی اصلیت قدیم ڈیانی سیک یا کسی دوسرے ہم رشتہ کالج سے استخراج"}
{"book": "adl0234", "page": 184, "text": "۱۷۵\nکرنا کسیقدر صحیح ہے۔\nاس انجمن نے میسنک نام گذشتہ صدی کی اصلاح ثانی کیوقت اختیار کیا تھا۔\nیہ اُن معمارون کی برادری تھی جنہون نے عالی شان خانقاہین اور دوسری عمارتین\nبنائی تھین اُن کا فروغ زمانہ متوسط مین ہوا۔\nاِن کے یہان لاج ۔ درجے۔ سرحد خفیہ اشارے ۔ اصطلاحی الفاظ۔ اُسی\nقاعدے کے تھے ۔ جیسا کہ سلیمان کی مسجد کے معمار استعمال کرتے تھے۔\nفریمسن مذہب بہت ذرایع سے ماخوذ ہے فریمسن مذہب مین اُن مختلف فرقون اور انجمنون\nکا بہت سا حصّہ پایا جاوے گا جسمین وہ حالت موجودہ پر پہنچنے سے پیشتر گزرا ہے۔\nمین ہین ہندوستانی ۔ مصری ۔ یہودی ۔ عیسائی خیالات۔ اصطلاحات۔ اور\nعلامات کا پتہ چلتا ہے۔\nمین مذہب کی سچی تاریخ فریمسن مذہب کی سچی تاریخ بغیر اُس رنگ و روغن و چمک و\nدمک کے جو مین مصنفون نے اُسپر چڑھایا ہے۔ مختصر طور سے الفاظ ذیل مین\nادا کیجا سکتی ہے۔\nزمانہ قدیم مین مہندسون اور انجیرون کی مجلسین تھین ۔ جنہون نے عبادتگاہون\nاور دوڑ کے میدانون کی تعمیر اپنے ذمّہ لے رکھی تھی۔\nیہ معمارون ۔ انجیرون ۔ نجارون کی انجمنون کے اصلی نمونے تھے۔ جو زمانہ توسّط مین\nجرمنی اور انگلستان مین خاصکر فروغ پر تھے۔ فقراء ۔ پادری اور کلیسا کے دوسرے\nحکام سے خانقاہون یا گرجا کی تعمیر کا ٹھیکہ لے لیتے تھے۔ آخر کار اُنہون نے خود\nکو گرجا سے خود مختار کر لیا ۔ تیرھوین صدی مین اُنہون نے ایک وسیع معمارون\nکی مجلس کالون مین بنائی ۔ اسٹرسبرگ ۔ وائنا ۔ کالون ۔ زورچ مین لاج مقرر کیے\nوہ خود کو فریس (آزاد معمار) کے نام سے موسوم کرتے تھے۔ اون کے یہان"}
{"book": "adl0234", "page": 185, "text": "۱۷۶\nمریدی کی رسوم بھی تھیں۔\nسولھویں صدی کے آخر میں غیر کاریگر معمار بھی اس برادری میں داخل کیے\nگئے۔ جنکا لقب ایکسپٹیڈ مین (مقبول معمار) تھا۔\nاسی میں وہ اشخاص شامل تھے جو علم یا اعلیٰ رتبہ میں ممتاز تھے۔ اسطرح لاجوں\nمیں کارروائی اشارات پر رہ گئی۔ کارگذاری پر نہیں۔ اصلی کاریگر معمار منتشر ہوگئے\nاور ایکسپٹیڈمین جنکو لاج کے علم چھپانے سے مایوسی ہو گئی تھی علیحدہ ہوگئے۔\n۱۷۱۷ء میں فقط چار لاج رہ گئی تھیں جنکو ڈاکٹر دسیلیگین۔ جیمس انڈرسن\nاور جارج پینی نے گرینٹ لاج بنایا تھا۔ جسکے ساتھ زمانہ حال کا فری میسن مذہب\nخاص علامت نما شروع ہو گیا معماری کی علمی اصطلاحیں باقی رہ گئیں۔\nاس برادری کو جلد عذاب پہنچایا گیا کلیمنٹ دوازدہم سے لیکر موجودہ پوپ تک\nتمام اسقفوں نے اپنے تیر اسپر چھوڑے بااختیار فرمانرواؤں نے اس کے انسداد\nکی کوشش کی اور فی الحقیقت خود میسن لوگوں نے یہ عذاب سب کچھ اپنی جان پر بلایا\nاول یہ کہ اُسکے اصول کے بھیدوں کی کارروائیوں کو چھپانے کی کوشش کی۔\nدوم اعلیٰ مدارج کے جاری کرنے سے بھی وہ مبتلائے بلا ہوئے۔\nابتدائی مین لوگوں میں وہی تین درجے محدود تھے جو کاریگر معماروں\nمیں موجود تھے۔ اپرنٹس (شاگرد) فیلو کرافٹ (پیشہ ور) ماسٹر (اوستاد)\nلیکن ان مدارج میں بعض رئیس ممبروں کی خود نمائی کو اطمینان نہیں ہوا۔\nبہادر۔ اینڈریائس۔ رامیسی۔ جلاوطن اسٹوارٹ ایک شخص نے جسکا بیان تھا\nکہ فری میسن صلیبی جنگ آوروں کی اولاد سے ہیں اعلیٰ مدارج کے جاری کرنے پر\nزیادہ زور دیا جسمیں ملکی مقاصد مدنظر تھے جو اسٹوارٹ کے ملک کی رعایت ہو\nاسکاچ مدارج کہلاتے تھے۔ اس میں بہت کچھ کثرت ہوگئی اور اس کثرت کے"}
{"book": "adl0234", "page": 186, "text": "۱۷۷\nاغراض بدعقیدہ رسوم و ذاتی خودنمائی نے ہر شخص کو بڑے ہنے والے درجات مین منہمک\nکر دیا۔ آخر کار وہ دھوکہ بازون و چالبازون کے ہاتہہ آگئے مثلاً جیسے گیگ لیسٹریز\nتہا۔ جرمنی مین اس فرقہ کو تین فریق استعمال کرتے تہے ۔ ریا یکشنیر ی (مخالف)\nریولوشنیر ی (باغی) ٹائیسٹی فینیک (شجاع متعصب)\nریا یکشنیر ی نے روسی کروشین فرقہ بنایا۔ جسمین طلسم علم ہیئت کیمیا\nعلم روح ۔ اور عام باطل عقائدہ ہوکے اور فریبون مین بھرے ہوئے تہے ۔\nجو مذہبی۔ ملکی اور سائنس کی ترقی کے مانع تہے ۔\nریولوشنیر ی نے الومینٹائی کے ذریعہ سے جو عیاری کے ساتہہ مین\nفرقہ مین شامل ہوگئے ہے ایک نیا ملکی اور مذہبی میشن شروع کرنے کی کوشش کی\nٹائسٹی فینیک فرقہ فرانس سے جرمنی مین نیک نیت ولیکن وہبی سرن پڑہر منتقل ہوتہا\nفقہ کا بہید اور بعض رسوم کی آب و تاب سے فرہمین مذہب مین بہت سے مرطایل\nہوگئے تہے ۔ جہان تمام لاج آخر کار گریننڈ لاج کے نام سے شامل کر دیے\nگئے ۔ جسکا نام گریننڈ اور مینٹ رکھا گیا۔ اس کا پہلا گریننڈ ماسٹر ڈیوک آف\nچار ٹرز تہا۔ بعد کو فیلپ ایگیلاٹ نپولین نے جب بااختیار تہا اپنے\nبہائی جوزف کو گریننڈ ماسٹر مقرر کیا۔\nمیسنون کے دستور امیسنون کی بعض باتین بیان بیان کیجاتی ہین ۔ فرمین لوگ\nبڑی ریاست مین سرکاری عمارتون کے بنیادی پتہر رکہنے مین اکثر شریک ہوتے ہین\nاور اپنے خاص خاص مدارج کی امتیازی پوشاک پہنے رہتے ہین جس کو وہ\nروشنی کے سال سے محسوب کرتے ہین۔\nکوئی شخص اکیس سال کی عمر سے قبل مین فرقہ مین شامل نہین ہو سکتا۔ لیکن اس\nملک مین اور فرانس مین مین کی اولاد کو رعایتاً مستثنے کیا جاتا ہے۔ وہ اٹھارہ سال\n۲۳"}
{"book": "adl0234", "page": 187, "text": "۱۷۸\n\nکی عمر میں شامل کیے جاسکتے ہیں ۔\nلاج میں لوٹیا کا اختیار کرنا بتسمہ کی رسم سے مشابہ ہوتا ہے عبادانگا\nکو پھولون سے چھپا دیا جاتا ہے ۔ بخور سلگائے جاتے ہیں اور دینی باپ کو صرف\nیہی حکم نہیں دیا جاتا کہ نئے مرید کی جسمانی حاجات کا سامان کردے ۔ بلکہ یہہ بھی\nہوتا ہے کہ سچ اور انصاف کے مدرسہ میں اُس کی تربیت کی جاوے ۔\nمرید کانیا نام نکوئی کے نامون مین سے رکھا جاتا ہے جیسے دیرستی (سچائی)\nڈیووشن (جان نثاری) بینی فیشسن (نیک کرداری)\nدینی باپ اُسکے بدلے شاگردی کا حلف اپنی زبان سے کہتا ہے جس درجہ\nمیں وہ قبول کیا جاتا ہے اور یتیم ہو جانے کی صورت میں اوس کی پرورش کرتا ہی\nاور کاروبار سے لگاتا ہے۔ اضلاع متحدہ مین لیوشن کے حقوق محفوظ نہیں ہیں۔\nاصلی و نقلی مینٹری زمانہ حال کا فریمسین اصلی و نقلی دوحصون میں منقسم ہے۔\nاصلی میں ۔ اپرنٹیٹس، فیلو کرفٹ اور ماسٹر مین کے مدارج ہیں ۔ و نیز بلومنری\nکے نام سے اسلئے کہ زیبائشی چیزین اسی رنگ آسمانی کی ہیں۔\nنقلی اصطلاح تمام اور مدارج کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔ بلو مسنری متقدمین\nکے ادنٰے درجہ کے بھیدوں سے مطابق ہوتی نقلی مسنری تمام مابعد کے مدارج اعلیٰ درجہ کے بھیدون سے مطابق ہین\nکیونکہ کوئی شخص جبتک کہ وہ پہلے تین درجون میں نہیں گذرلیتا اُس کے اندر شامل نہیں کیا جاتا ۔\nصرف بعض رسوم خاص تمام رسوم کی تفصیل کا بیان جو بلومسنری لاج میں عمل میں\nطور سے قابل بیان ہیں آتے ہیں ۔ بیکار ہے۔ لہٰذا تین مدارج کی کیفیت پر جو اس\nفرقہ کے خاص صفات ہیں بیان محدود کیا جاتا ہے۔\nناظرین یہ بات یاد رکھیں کہ مختلف لاج میں مختلف ملکونین مختلف رسمین ہوا کرتی ہیں انجو\nبیان کیا جا وین اُنکو بطور نمونہ کے سمجھنا چاہیے ۔ اُن مین مقامی حالات و وجوہات کی"}
{"book": "adl0234", "page": 188, "text": "۱۷۹\n\nرو سے تبدیلی بھی ممکن ہے۔\n\nاپرنٹس۔ فیلو کرافٹ۔ اور ماسٹر میسن\n\nاپرنٹس جو نیا شخص اپرنٹس کے درجہ میں شامل کیا جاتا ہے اسکو ایک شخص لاج\nکی عمارت میں پہونچاتا ہے اور ایک دو کمرہ میں داخل کرتا ہے جہان وہ چند منٹ\nتک اکیلا چھوڑا جاتا ہے۔ اُس کے بدن سے تمام دباقی اسباب جو وہ پہنے ہوتا ہے\nاُتارا جاتا ہے۔ اُسکا سیدہا گھٹنا اور بعض وقت اُسکا بایان پہلو برہنہ کیے جاتے ہیں\nاور اُسکی بائین جوتی کی ایڑی خوب مسلی جاتی ہے۔ ان رسومات کی نسبت بعض\nمصنفون کا خیال ہے کہ یہہ دراصل جیسیوٹ لوگون کا طریقہ ہے۔\nدہاتی اسباب کا اُتار لینا افلاس کے عہد کو ظاہر کرتا ہے۔ سینہ و گھٹنے\nکو برہنہ کرنے سے عورتون کی شمولیت کا انکار مراد ہے۔ جوتی کی ایڑی مسلنے سے\nامیدوار کو یاد دلاتا ہے کہ انگنیٹیس دی لایولا نے جسکا پانون خراب تہا اپنی\nزیارت اسطرح شروع کی۔\nپہر اُس کی آنکہو نپر پٹی باندہی جاتی ہے اور وہ خیالات کے صومعہ مین لیجایا\nجاتا ہے۔ جہان اُس سے بغیر پٹی اُتارے ٹہیرے رہنے کو کہا جاتا ہے۔\nیہان تک کہ وہ تین بار دستک کی آواز سنتا ہے۔ اور اپنی آنکہہ کھولنے کے\nاشارہ پر وہ دیوارون کی طرف دیکھتا ہے جسپر سیاہ پردے لٹکے رہتے ہین"}
{"book": "adl0234", "page": 189, "text": "۱۸۰\n\nاور عبارت ذیل مرقوم ہوتی ہے۔\n\"اگر تجھے بیان بیکار شوق لایا ہے تو چلا جا۔ اگر تو اپنی غلطیوں کی بابت تو\nپانے سے خوف زدہ ہے تو تجھکو یہان ٹہرنے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اگر تو انسانی\nامتیاز کی قدر کرتا ہے تو یہان سے چلا جا۔ اُسکو یہان کوئی نہیں جانتا۔\nتھوڑی سی بیکار گفت گو کے بعد امیدوار کی آنکھوں پر پھر پٹی باندھی جاتی\nہے اور ایک رسی اوسکی گردن مین ڈالی جاتی ہے۔ اس ہیئت سحروہ بھائیوں\nکے درمیان لایا جاتا ہے۔ اُسکار ہنما ننگی تلوار سے اُس کی چھاتی کیطرف\nاشارہ کرتا ہے۔ اُس سے سوال کیا جاتا ہے کہ تو کس نشاء سے یہان آیا ہے\nجسوقت وہ یہہ جواب دیتا ہے کہ مین میسنری کے بھیدوں سے واقف\nہونے کے لیے۔ تو وہ لاج سے باہر لیجایا جاتا ہے اور پھر لایا جاتا ہے\nتا کہ وہ گھبرا جاوے۔\nایک بڑا مربع چوکٹا جیسا کہ سرکس کا تماشہ کرنیواے استعمال کرتے ہین سامنے\nلایا جاتا ہے۔ دو بھائی اُسکو تھامے رہتے ہیں۔ اُسوقت رہنما ماسٹر سے\nپوچھتا ہے کہ ہم اس لا مذہب کو کیا کرین۔ جپر ماسٹر جواب دیا ہے ۔ غار\nمیں بند کر دو۔ دو بھائی امیدوار کو پکڑتے ہیں اور اوسکو کاغذ کے پردہ\nکے اندر دو اور بھائیوں کی گود میں ڈالدیتے ہیں۔\nپھر لپیٹ دار دروازے جو ابتک کھلے ہوتے ہیں بڑے زور سے بند\nکیسے جاتے ہیں۔ اور ایک آہنی حلقہ و سلاخ کے ذریعہ سے بھاری تالوں سے\nبند کرنے کی نقل کی جاتی ہے۔\nیہاں تک کہ امیدوار خود کو تاریک چلیخانہ میں محبوس خیال کرتا ہے۔\nاُسوقت تھوڑا ساعرصہ قبر کی خاموشی میں گزرتا ہے۔ اور ماسٹر اچانک ایک"}
{"book": "adl0234", "page": 190, "text": "۱۸۱\n\nزور کا گھونسہ مارتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ امیدوار کو جونیئر وارڈن کے پاس\nبٹھلایا جائے ۔ تب ماسٹر اس سے بہت سے سوال دریافت کرتا ہے۔ اور\nاوسکو فرقہ کے ساتھ رہنے کی بابت اوسکے فرائض سکھلاتا ہے۔\nاُسوقت امیدوار کے سامنے ایک شربت رکھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے\nکہ اگر اوس کے دل مین مین کے خلاف کوئی بغاوت چھپی ہوئی ہے۔ تو یہ\nشربت زہر ہو جائے گا۔\nجس پیالہ مین شربت ہوتا ہے اُسکے دو حصّے ہوتے ہیں۔ ایک مین\nشیرین پانی ہوتا ہے۔ اور دوسری مین تلخ۔ اُسی وقت امیدوار کو یہ کہنا سکھلایا\nجاتا ہے کہ فریمن لوگون کے لیے جو فرائض مقرر ہیں۔ اُن کو مین اپنے اوپر\nسخت پابندی سے لازم کرتا ہوں اگر مین کبھی عہد شکنی کرون (اُسوقت اُسکا\nرہنا شیرین پانی اُسکے لب سے لگا دیتا ہے تھوڑا سا پیکر امیدوار آگے کہنا شروع\nکرتا ہے کہ ) مین اسپر راضی ہوں کہ یہ شربت تلخ ہو جاوے اور یہ کہ اسکا صحت\nبخش اثر میر ی واسطی زہر ہلاہل کا اثر پیدا کرے۔ اُسوقت امیدوار کو تلخ پانی پلایا جاتا ہے\nجسپر ماسٹر چلا کر کہتا ہے کین یہ کیا دیکھتا ہوں۔ تمہارے شکل و شمائل کو یکا یک\nمتغیر ہو جانے سے کیا مطلب ہو۔ شاید تمہارا ایمان تمہارے کلمات کو جھٹلاتا ہے\nیہ شیرین شربت کیسے تلخ ہو گیا۔ اس لامذہب کو یہان سے لیجاؤ۔\nامیدوار پر یہی اصرار کیے جاتا ہے۔ وہ لاج کے چاروں طرف تین مرتبہ\nپھرایا جاتا ہے۔ اسکے بعد کرسی یا تپائی پر گھسیٹا جاتا ہے۔\nیہ آزمایش ہو چکنے پر اوس سے زینہ پر چڑھنے کے لیے کہا جاتا ہے\nاور بلندی پر پہونچکر اپنے آپ کو نیچے گراتا ہے۔ جہان سے وہ چند فیٹ\nنیچے گرتا ہے۔ اس آزمایش کے ساتھ بڑا شور ہوتا ہے۔ بھائی فرقہ کے"}
{"book": "adl0234", "page": 191, "text": "۱۸۲\nنشان یا سونٹوں کو ہاتھ میں لیے ہوتے ہیں مارتے ہیں اور تمام قسم کی\nہیبت ناک آوازیں نکالتے ہیں۔\nمزید آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ آگ میں ہو کر نکالا جاتا ہے۔ جو مشہور بازیگراں\nکرتبوں سے غیر مضرت رسان کر دی جاتی ہے۔ اُس کی بانھ خفیف چسید دی جاتی ہے\nاور غوغز کی آواز ایک بھائی نکالتا ہے جس سے امیدوار خیال کرتا ہے کہ میرا\nبہت سا خون نکل رہا ہے۔ یہاں وہ اپنی وفاداری اور ثابت قدمی کا حلف کرتا ہے\nبھائی تلواریں کھینچے اُس کے چار طرف کھڑے رہتے ہیں۔\nپھر امیدوار پٹی باندھ کر دوستوں کے درمیان لیجایا جاتا ہے۔ بھائی اپنی\nتلوار اُسکے سینہ پر رکھتے ہیں۔ ماسٹر پٹی کو بغیر اُتارے ڈھیلی کر دیتا ہے\nایک دوسرا بھائی اُس کے سامنے ایک چراغ لیے کھڑا رہتا ہے۔ جس سے\nبڑی روشنی نکلتی ہے۔\nماسٹر پر تقریر شروع کرتا ہے۔ اے بھائی سنیئر وارڈو کیا تم امیدوار کو ہماری\nانجمن میں شریک ہونے کے قابل سمجھتے ہو۔ (جواب) ہاں۔\nس۔ تم اُسکے واسطے کیا مانگتے ہو۔ ج۔ روشنی۔\nاچھا تو روشنی ہونے دو۔ ماسٹر مونگری سے تین ضرب لگاتا ہے۔ پٹی اُتار دی\nجاتی ہے۔ امیدوار روشنی دیکھتا ہے۔ جو کہ اُس شے کی علامت ہے جس سے\nاوس کی فہم ویسی تیز رہنا چاہئے۔\nپھر بھائی اپنی تلوار ڈالدیتے ہیں۔ امیدوار قربانی کی میز تک لیجایا جاتا ہے۔\nجہاں وہ دوزانو بیٹھتا ہے۔ ماسٹر کہتا ہے کہ دنیا کے بڑے معمار کے نام سے\nاور اُن طاقتوں کے زور سے جو میرے اندر رکھی گئی ہیں میں تجھہ کو میں نہر ہے\nاپرنٹس اور لاج کا ممبر بناتا ہوں۔ اُسوقت اپنی مونگری سے تلوار کے پھل پر"}
{"book": "adl0234", "page": 192, "text": "۱۸۳\n\nتین ضرب لگاکر وہ نئے بھائی کو اُٹھاتا ہے اُسکو سفید برہ کی کھال کے تہ بند\nسے پہٹاتا ہے اور اوسکو سفید دستانون کی جوڑی اُس عورت کے دینے کیلئے\nپیش کیجاتی ہے جسکو وہ زیادہ چاہتا ہے یہ ایک علامتی انعام ہے۔\nپھر بھائی اُس کی ایسی تکریم کرتے ہین جیسے کہ اُن میں سے ہی ایک شخص ہو\nایک سوال جو اُس سے دریافت کیا جاتا ہے یہہ ہے کہ کیا تم نے اپنے\nماسٹر کو آج دیکھا ہے (ج) ہان۔ (س) اُسکا لباس کیا تھا (ج) زرد\nجاکٹ اور نیلا پائجامہ پہنے ہوئے تھا۔ جسکی تشریح یہہ ہے ماسٹر پرکار ہو\nزرد جاکٹ پتیل کا دہڑا اور نیلا پائجامہ فولادی نوکیں۔\nاُس سے یہہ بہی دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہاری عمر کتنی ہے (ج) سات\nسال سے کم۔ اس جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُسنے فیلو کرافٹ کے درجہ\nکو پاس نہیں کیا۔ فریمیسنری کی میعاد سات سال ہے۔\nاصطلاحی لفظ بواز ہے۔ اشارہ ہاتہوں کو سیدہا پکڑنا اس طرح کہ انگوٹھا\nسید ہے کان کی طرف مُڑا ہو۔ تاکہ اپرنٹس کو اُسکا عہد یاد آجائے ۔ جن\nباتون کے حاصل کرنے پر وہ وعدہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان چند نکات\nکی (فرقہ کے اسرار کو مخفی رکہنا) بلا انحراف ورزی ۔ ذومعنی ۔ یا د ماغی\nیا وراثت کی پیروی کرنے کی مین حلفاً قسم کھاتا ہوں جسوقت اُن میں سے\nکسی کہ خلاف کرونگا تو اس سے کم سزا میرے لیے تجویز نہ ہو کہ میرا گلا کاٹا جائے\nمیری زبان گدی سے کھینچی جاوے۔ اور میری لاش ریت کے سمندر مین\nداب دی جاوے مصافحہ سید ہے ہاتہ کے انگوٹھے کے جداگانہ دباو\nسے سید ہے ہاتہ کی اُنگلی کے پہلے جوڑ پر کیا جاتا ہے۔ اُنگلی کو ہاتہ سے\nتھام لیتے ہین۔"}
{"book": "adl0234", "page": 193, "text": "۱۸۴\n\nمریدی رسوم فیلو کرافٹ دوسرا درجہ علامتی فریمیسن مذہب مین فیلو کرافٹ کا ہے\nجو امیدوار ترمیم مین پیشی کا خواستگار ہوتا ہے وہ لاج کے اندر مثل غیر مذہب کے\nایک اجنبی بھائی کے ذریعہ نہین لایا جاتا اور نہ اُس کی آنکہو نپر پٹی باندہی جاتی ہی\nمگر معمولی رسومات کے بعد وہ حلف اُٹھاتا ہے کہ جس بھید سے مین محرم کیا گیا\nہوں اُسکو پوشیدہ رکھونگا ۔\nماسٹر لکچر دینا شروع کرتا ہے۔ خاصکر علم مساحت مین جس کا معمار لوگ\nبڑا خیال رکہتے ہیں اور سہتے ہیں کہ حرف جی جو لاج کے اندر مع ایک روشنی\nدار جسم یا ستارہ کو یکہا جاتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔\nفیلو کرافٹ کا حلف اپرنٹس کے حلف سے زیادہ سخت ہوتا ہے\nوہ اپنی پہلی معذوریون کے علاوہ قسم کھاتا ہے کہ مین کرافٹس (ہم پیشون)\nکے بھیدون کو پوشیدہ رکھونگا۔ اگر ایسا نہ کرون تو اس کی سزا میرا بایان سینه\nچاک کر دینے سے کم نہ ہونی چاہیے۔ میرا دل جسم سے علحدہ کر لیا جاوے اور\nہوا کے حریص پرند اور کھیتون کے کھانے والے درندون کو دیدیا جاوے\nاس حلف کے حوالہ مین اشارہ یہہ ہوتا ہے کہ ہاتھہ مع انگوٹھے کے اوپر\nکو موڑ کر سینہ پر رکھا جاتا ہے۔\nاصطلاحی لفظ جاچین اور بعض وقت شبایستہ ہے۔\nمریدی کی رسم بقصہ قتل ماسٹر کی تواضع کے وقت لاج یا درمیانی کمرہ مین سیاہ\nہیرام ۔ ماسٹر مین ۔ پردے لٹکے رہتے ہیں ۔ مردون کے سر۔ ٹھٹریان\nصلیب نما ہڈیان دیوارون پر منقوش ہوتی ہین زرد موم کی ایک مشعل یورب مین\nرکہی رہتی ہین ۔ اور کھوپڑی کی بنی ہوئی ایک اندہیری لالٹین جس کے اندر روشنی\nہوتی ہے ۔ عابد ماسٹر کی قربانی کی میز پر رکھی ہوتی ہے ۔ اسقدر روشنی دیتی ہی کہ جس سے"}
{"book": "adl0234", "page": 194, "text": "۱۸۵\n\nتابوت نظر آ جاوے جسمین لاش نمایان ہوتی ہے۔\nیہہ پیکر انسانی یا تو لکڑی سے بنی ہوتی ہے۔ یا کام کرنیوالا بھائی یا وہ بھائی جو پہلی دفعہ ماسٹر\nبنایا گیا ہے لیٹ رہتا ہے۔\nتابوت پر ببول کی ایک ڈالی رکھی ہوتی ہے۔ اوس کے سر کی جانب ایک\nگنیا۔ اوسکے پائون کی طرف مشرق کی جانب ایک کھوئی ہوئی پرکار۔\nماسٹر لوگ سیاہ کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔ بڑے لاجوردی پیٹکے باندہے۔ جسپر\nمعماری علامات نمایان ہوتی ہین۔ اور سورج۔ چاند اور سات ستارے بھی۔\nکہتے ہین کہ جلسہ کا منشاء یہہ ہوتا ہے۔ ماسٹر کے لفظ کو جو قتل ہوا تھا\nدریافت کیا جاوے۔ امیدوار کچھ ابتدائی رسوم کے بعد اندر لے لیا جاتا ہے اُس\nسے کہا جاتا ہے کہ جتنے بھائی جمع ہوئے ہین وہ اپنے بڑے ماسٹر کی موت\nکا سوگ منا رہے ہین۔\nامیدوار سے پوچھا جاتا ہے کہ شاید قاتلون مین سے ایک تو تو نہین ہے۔\nاُسیوقت اُس کو تابوت کے اندر کی لاش یا صورت دکھلائی جاتی ہے جب وہ جرم\nکی شرکت سے اپنی بے گناہی ظاہر کر دیتا ہے اُسوقت ہیرام کے قتل کا قصّہ\nبیان ہوتا ہے۔\nقصّہ کے مختلف واقعات امیدوار پر بطور تماشہ کے ظاہر کیے جاتے ہین اور\nمطلع کیا جاتا ہے کہ تم کو بھی آزمائیشین برداشت کرنی ہون گی۔\nپہر تھوڑے واقعات ہیرام کے بیان کرنے کے بعد۔ اصطلاحین۔ اشارے\nاور مصافحے بتلا دیے جاتے ہین۔ وہ وعدہ کر کے حلف کرتا ہے کہ مین معماری\nکے بھیدون کو اُسوقت تک پوشیدہ رکھونگا جب تک میری سزا اس سے کم نہ ہو\nکہ میرے جسم کے چیر کر دو کر دیے جاوین اور جلا کر خاکستر کر دیے جاوین یہ خاکستر\n\n۲۴"}
{"book": "adl0234", "page": 195, "text": "۱۸۶\n\nچارون اصلی نقاط سمت کیطرف پریشان کر دی جاوے مصافحہ کا ڈھنگ جدا گانہ ہو\nاصطلاحی لفظ طیل قابل ہے۔ تین اشارے ہوتے ہیں۔ ان مین نہایت\nضروری تعزیری اشارہ ہے جو اسطرح کیا جاتا ہے کہ ہاتھ کو جسم کے درمیان\nپر کھینچتے ہین اور ایک طرف گرا دیتے ہین اور پیر اس کو اُٹھاتے ہین کہ انگوٹھے\nکی نوک ناف تک رہے۔\n\nمصافحہ برادری کے پانچ نکات مین سے ایک نکتہ ہے۔ اور اسطرح ہو\nکہ ایک دوسرے کی کلائی انگلیون کی نوکون سے پکڑ لیتے ہین۔ دوسرا نکتہ یہ ہو\nکہ ایک سیدہے پیر کو اندرونی سیدھو پیر کے مقابل رکھتے ہین۔ تیسرا نکتہ یہ\nکہ سیدہا گھٹنا سیدہے گھٹنے پر۔ چوتھا۔ سیدہا سینہ سیدہے سینہ پر پانچوان شانہ\nپر ہاتھ اسطرح رکھتے ہین کہ کمر کو سہارا رہے۔\nصرف سرگوشی مین کلمہ مہابون یا میکنیاگ بتلایا جاتا ہے۔ پہلے کے\nمعنی بھائی کی موت۔ دوسرے کے معنی بھائی مارا گیا۔\nداستان کی تشریح | اگر لغوی سمجھی جاوین تو ہیرام کے قصہ سے کوئی ایسی غیر معمولی\nبات نہ پائی جائے گی جسکی وجہ سے تین ہزار سال کے بعد تمام دنیا مین باقاعدہ\nدستور ورسوم کے ساتہہ یادگار تازہ دکہلانے کے قابل ہو۔ ایک مہندس کی موت\nکوئی ایسا ضروری واقعہ نہین ہے کہ اس سے زیادہ اُس کی وقعت کیجاوے\nجیسے کہ بہت سے فلسفی اور فاضلون کی یادگارین ظاہر کیجاتی ہے۔ جنہون نے\nاپنی جانین انسانی ترقی کے معاملہ مین کہپا ڈالین۔\n\nتاریخ مین ہیرام کا کچھہ ذکر نہین۔ صرف انجیل مین اتنا مذکور ہے کہ وہ پیتل\nکے کام مین سمجھدار و ہوشیار شخص تھا۔ روایت بہی اسکے بارہ مین اسقدر خاموش\nہے۔ اسکی یادگار بجز فرمیسنری کے کہین نہین ہوتی۔"}
{"book": "adl0234", "page": 196, "text": "۱۸۷\nیہ داستان درحقیقت تشبیہی ہے۔ اسکی دو طرح کی تشریح ہوسکتی ہے\nایک باعتبار علم دنیا ۔ دوم باعتبار علم ہیئت ۔\nباعتبار دنیا ہم اُس کے اندر دو نقیض قوتون کی دوی ظاہر کیجاتی ہوئی دیکھتی\nہیں جو تمام مشرقی مریدیون کا خاص حلیہ ہے۔ ندامت کے بھیدون کا ڈراما\nوالاحصہ ایک دیوتا یا انسان جو ایک خبیث قوت کا مقتول ہوا ۔ قدیم بھیدون\nمیں ہمیشہ ایک دردناک سانحہ کا بیان نکلتا ہے ایک ایسا واقعہ ہے جس\nسے بہت سی قومین جھگڑے اور رنج میں ڈوب جاتی ہیں اور اسکے بعد خوشی\nوفرحت حاصل ہوتی ہے۔\nباعتبار نجوم بالمقابلہ تشبیہ کامل ہے۔ ہیرام سورج کا قائمقام ہے۔ قاتل\nمغربی ۔ جنوبی ۔ مشرقی دروازون پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ یہ ملک وہ ہیں جنکو\nسورج روشن کرتا ہے ۔\nوہ لاش کو دفن کرتے ہیں اور اُس جگہ پر ببول کی ٹہنی نصب کرتے ہیں بارہ\nشخصونکا اس غمناک سانحہ میں ضروری فرایض ادا کرنا منطقۃ البروج کے بارہ\nبرجون کیطرف اشارہ ہے۔ تین قاتل جاڑہ کے ادنیٰ درجہ کے بروج ہیں یعنی\nمیزان عقرب ۔ قوس ۔ ہیرام مغربی دروازہ پر قتل ہوتا ہے یعنی سورج مغرب\nمیں غروب ہوتا ہے۔\nفرامین کا ببول وہ پودا ہے جو تمام قدیمی تشبیہات میں پایا جاتا ہے اور\nاس سے نئے نباتات کیطرف اشارہ ہے۔ ببول کو متقدمین خراب ہونیوالی چیز\nنہیں سمجھتے تھے۔ اس کی ڈالیاں دیوتا کی لاش چھپانے کے لیے مہندی و\nناریل اور دوسرے پودون سے زیادہ بہتر سمجھی جاتی تھیں۔ جنکا بیان قدیمی\nبھیدون میں درج ہے۔ ہیرام کی لاش سڑجانے کی حالت میں ہے لیکن"}
{"book": "adl0234", "page": 197, "text": "بیانات کے بموجب لاش ساتوین روز ملی تھی ۔ اس سے سورج کے پرطلوع\nہونے کی طرف اشارہ ہوگا۔\nیہہ بات ساتوین مہینہ مین ادئے درجہ کے بروج مین دورہ کرنیکے بعد\nچ مچ ہوتی ہے ۔ وہ دورہ جو دو برج مین نزول کہلاتا ہے ۔ ہیرام صرف شیر\nکی گرفت سے اُٹھایا جا سکتا ہے ۔ یعنی یہہ صرف اسد برج کے توسط سے ہو\nیہ بات اُسوقت ہوتی ہے جب سورج اس برج کے اندر دوبارہ داخل ہوتا ہے\nاُس کو دوبارہ زندگی ملتی ہے۔\nمین اسد درجہ مین خود کو بیوہ کے بچے سے موسوم کرتے ہین ۔ بیوہ کا لقب\nمیسنکن فرقہ مین بھی اپنی اصلیت رکھتا ہے جسکے پیرو بیوہ کے بیٹون کے نام\nسے مشہور ہین ۔\n\nمین مذہب اور نپولین عقیدہ اصلاح شدہ عدالتون اور جنگی عنود کے ساتھ مین مذہب\nنپولین فریمین مذہب کی حمایت کی کی تماشا طلب طبیعت پر تازہ ہوگئی یہہ فرقہ عذر فرانس\nسے پیشتر اور اوسکے بعد بھید کارگذار تھا ۔\nاسکی وجہ یہہ ہے کہ اُسکے نظم مین وہ لوگ تھے جو اُس کے اصولون کے ماہر\nاور لیاقت سے عمل کرتے تھے ۔\nنپولین کی اوّل اوّل نیت فریمین مذہب کو مسدود کرنے کی تھی جسمین خوف\nزدہ خیالات کے پیرو آسانی سے پناہ لے سکتے تھے ۔ گرینڈ اورینٹ کارپوریٹیو\nسسٹم (طریق قائمقامی) اُس کے شاہانہ اصول کے مخالف تھا۔\nاسکاچ رسیم کی حکومت امرا ۔ اوسکے شبہات کو تحریک دیتی تھی ۔ مگر پرنسین مبین\nفن خوشامد پر عمل کرتی تھین ۔ فرسٹ کانسل (مجسٹریٹ اوّل) و نیز بادشاہ کے روبرو\nکرتی تھین اور فضل کی خواستگار تھین ۔"}
{"book": "adl0234", "page": 198, "text": "۱۸۹\n\nنپولین کے شبہات دور نہین ہوے مگر اوسنے جابرانہ تدابیر سے پرہیز\nکرنے میں مصلحت دیکہی۔ اس فرقہ کو ترتیب کرنا مناسب سمجہا جو ممکن تہا کہ اوسکا\nمخالف ہو جاتا۔ لاجون مین ادنےٰ پولیس کے ملازمون کا زور رہتا تہا جنکو بہت\nجلد اعلیٰ مدارج حاصل ہوجاتے تھے۔ اور وہ شروع ہی میں کسی ملکی سازش کا\nپتہ لگا لیتے تھے۔\n\nنپولین کی ایک بات نے اُن کے درمیان صلح قایم کرنے مین بنسبت\nپہلی حکمتون کے زیادہ کام کیا۔\n\nگرینڈ اور منینٹ کچہری کا دفتر بن گئے اور مذہب مین ملازمین کی فوج ہوگیا۔\nجوزف نپولین کو گرینڈ ماسٹر کا عہدہ دیا گیا جسنے اپنے بھائی کی رضامندی سے\nاُس کو قبول کیا۔ رفتہ رفتہ فرانس کی تمام موجودہ مجلسیوں نے شاہی مصلحت\nسے اپنی گرویدگی ظاہر کی۔\n\nفرمین مذہب کی ترقی فرانیسی جماعت میں ایک گروہ کی ضرورت مان لی گئی تھی جو اپنی\nصورت مین آزاد تھی جو ایک قسم کی ملکی دیوار حفاظت کا کام دیتی تھی۔\n\nفرانسیسیون کو اپنی لاجون کا شوق ہو گیا جنکے اندر اُنہون نے خود مختاری کا\nجن دیکھ لیا تہا۔ یہان تک کہ ایک مبین مصنف کہہ سکتا ہے۔ مبین مذہب کے\nسینہ مین تہوڑی سی وہ حیات بخش ہوا دورہ کرتی ہے جو فیاض طبیعتوں کے لیے\nضروری ہے۔ بہت مقامون پر لاجین قایم ہوئین۔ شاہزادہ یوجین کو اٹلی کے\nگرینڈ اور مینٹ کا گرینڈ ماسٹر انتخاب کیا گیا۔ دو اعلیٰ درجہ کی مین حکومتون کا\nنپولین سرپرست تہا۔\n\nچونکہ عام زندگی۔ کوئی پارلیمنٹ کا مباحثہ یا کوئی مخالفت روزانہ اخبار نہین\nتہی اسلیے آبادی کا بڑا حصہ لاجون میں پناہ گیر ہوا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 199, "text": "۱۹۰\n۱۸۱۲ء مین ایک ہزار نواسی لاجین کل گرینڈ اور منٹ کی ماتحت تہین\nفوج مین اونہتر تہین۔\nمین مذہب کے فرمان پذیری چونکہ نپولین فریمن کے انسداد سے عاجز و نا خوش تھا\nاسلیے اوسنے اوس کو نومفتوحہ علاقون پر اور ایسے علاقون کے لیے جن کو قبضہ\nمین لانے کی نیت تھی فوج مین ملازم رکھہ لیا اور شاہی طریق کی مریدی سے اکثر\nلاجین نپولین کے قاعدون کا مدرسہ بن گئیں۔ لیکن میسنری کی ایک شاخ اُس کی\nحمایت مین داخل نہین ہوئی جسکو مخالف نپولین کہنا چاہیئے۔ مگر یہ بات یقینی\nہے کہ نپولین نے مین انجن کے ذریعہ سے اپنی فتوحات مین آسانی پائی اور\nنفع حاصل کیا۔ اسپین ۔ جرمنی۔ اٹلی۔ لاجون سے معمور ہو گئے۔\nنپولین کا مخالفت فریمین مذہب نپولین نے مدد حاصل کرنے کے لیے فریمین مذہب\nسے میل جول کر لیا تھا۔ کہتے ہین کہ اُس نے اُس سے کچھہ وعدے بھی کئے\nتھے لیکن چونکہ وہ اُن کے وفا کرنے مین قاصر رہا اِس لیے مین لوگ\nاُس کے مخالف ہو گئے اور وہی اُس کی مخالفت کا جزوِ اعظم ہوئے۔\nاُسکو نپولین کے زوال کی وجہ قرار نہین دیا جا سکتا لیکن قبول کرنا پڑتا\nہے کہ نپولین کے مخالفین کا خمیر مین فرقہ مین جوش پر تھا۔\n۱۸۰۶ء مین پولیس کا وزیر اُس سے واقف تھا اوسنے فریمیسنون کی\nخفیہ جلسون مین تعزیری قانون کی دفعات کا عملدرامد چاہا۔ لیکن کمباسیرس نے\nاُسکو بچا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان خفیہ جلسون نے نپولین کے ساتھہ اپنے\nمحسن کمباسیرس کو بھی باقی نہ چھوڑا۔ فریمن مذہب نے اگرچہ مخالفت کی علانیہ\nکارروائی نہین کی لیکن کم از کم اپنی بے پروائی سے نپولین کے زوال\nمین مدد دی۔"}
{"book": "adl0234", "page": 200, "text": "۱۹۱\n\nجس زمانہ مین نپولین کی خوش اقبالی کا آفتاب یورپ کے مملکتی آسمانون\nپر اکیلا چمک رہا تھا تو ایک من لاج بنائی گئی تھی جس کا منشار بوربن خاندان\nکی بحالی تھی جسکی کارروائی سرکاری کا غذات کی ذریعہ سے جو فرانس کی فوج\nمین پھیل گئے تھے اور جسکے نتیجہ سے ۱۸ء کی باغیانہ تحریک ہوئی ثابت\nہوسکتی ہے۔\nنپولین کے زمانہ مین کی نپولین اول کے عہد مین بہت سی لاجین اٹلی مین پائی\nگئین۔ فرقہ کے بڑے دوست اس بات سے انکار نہین کر سکتے کہ اوس\nزمانہ مین فریمیسنری کی حالت قابل رحم تھی۔ کیونکہ جس انجمن نے تمام دنیا کی\nحکومتون پر اپنی خود مختاری و فضیلت کی ہمیشہ شیخی ماری ہو وہ عبارت ذیل\nکے ساتہ ایک ایڈریس نپولین کے حضور مین پیش کرے اُس سے کس درجہ\nاُس کی ذاتی ذلت و حماقت ظاہر ہوتی ہے۔\nاو نپولین! تیرا فلسفہ ہماری قدرتی اور ربانی مذہب کی تائید کا ذمہ دار\nہے۔ ہم تیری عزت جیسا کہ تو اُسکے لایق ہے کرتے ہین اور تو ہم کو سوائے\nوفادار رعایا کے جو تیری عظیم الشان ذات کی ہمیشہ جان نثار ہے کچھہ\nنہ پائے گا۔\nمیمفس کی رسم یہ مسرایم کی نقل ہے۔ پیرس مین ۱۸۳۹ء مین قایم ہوئی تھی\nبعد مین برسلز- مارسلز تک پہونچ گئی اسکے اکیا نوے مدارج تین حصون اور\nسات جماعتون مین منقسم تھے۔ ایک بڑی جلد جو مقام پیرس مین مقدس\nذی حوصلہ خطاب سے چھاپی گئی تھی اس مین تمام حصون اور ان کے\nمنشار کا بیان ہے۔ پہلا حصہ اخلاق سکھلاتا ہے اور اشارات کی تشریح\nکرتا ہے۔ دوسرے مین علم طبیعات کے تاریخی فلسفہ کی تعلیم اور زمانہ قدیم"}
{"book": "adl0234", "page": 201, "text": "۱۹۲\nکی شاعرانہ داستانون کی تشریح ہے۔\nاُسکا منشاء ہے کہ اسباب و اصلیت کے مطالعہ مین ترقی ہو۔ تیسرا آخر\nحصّہ اس فرقہ کے قصہ کا نچوڑ ہے اسمین اعلیٰ درجہ کا فلسفہ بھرا ہوا ہے اور\nمختلف سنین مین نوع انسان کی مذہبی داستانون کا مطالعہ ہے۔\nافریقہ کے آرٹیکٹ ۱۷۶۵ء کے قریب پرشیا مین فریڈرک دوم کی سر پرستی\nمین افریقین آرٹیکٹ کا فرقہ قایم ہوا۔ جو تاریخی تلاش مین زیادہ مصروف ہوسکے\nساتھہ معماری و شجاعت کو خلط ملط کرتا ہے۔\nگیارہ مدارج تھے۔ ایک وسیع عمارت بنائی جسمین ایک بڑا زبر دست\nکتب خانہ۔ تاریخ قدرت کا ایک عجائب خانہ اور کیمیاوی آزمایشون کا\nکارخانہ تھا۔\n۱۷۸۴ء تک جبتک یہ انجمن درہم برہم ہوئی ہر سال سونے کا تمغہ مع\nپچاس ڈلو کٹ کے مین مذہب کے نہایت عمدہ تاریخی حالات لکھنے والے\nکو دیا کرتے تھے۔ یہ چند مین انجمنون مین سے ایک اصلی انجمن تھی۔\nافریقہ کے آرٹیکٹ زیب و زینت۔ تہ بند ۔ گلوبند اور زیور کی\nقدر نہین کرتے تھے اپنی مجلسونین وہ مضامین پڑھا کرتے تھے اپنی تلاش کے نتائج بتلایا کرتے تھے اُنکے\nسادہ و با تکلّف دعوتون مین تعلیم و سائینس کے متعلق تقریرین کی جاتی تھین\nاُن کے یہان کی مریدی سخت مین حاصل ہوتی تھی وہ سرگرمی سے محتاج\nبھائیون کو دل کھولکر مدد دیتے تھے اُنہون نے فرامین مذہب کی بہت سی\nضروری کتابین چھپوائین۔\nاپنے ہم خیال و ہم عقیدہ لوگون کی ہمدردی اس فرقہ کا بڑا فرض ہے\nایک مثال ایک صدی سے پہلے کی ملاحظہ ہو۔"}
{"book": "adl0234", "page": 202, "text": "۱۹۳\n\nفریڈرک ولیم سوم اور فری میسن اس نام کے شاہ پرشیا کی یکایک بازگشت ۱۷۹۲ء میں جلسہ\nکرنے کے بعد کبھی قابل اطمینان بیان نہیں کی گئی۔\nڈاکٹر ای۔ ای۔ ایگرٹ اپنی کتاب موسومہ فرقہ میسن کے قرار داد جرم شہادت کا رسالہ\nمیں ایم۔ ڈی باشندہ پیرس کی چٹھی کے حوالہ سے جو پیران وان۔ ایس مقام وائٹ\nکے نام ہے ذیل کی عبارت لکھتا ہے اور کہتا ہے کہ معتبر ہے۔\nشاہ پرشیا جاری حدود سے عبور کر چکا تھا۔ میرے یقین میں وہ ورڈن یا تھیان\nواگل پر تھا۔ شام کے وقت ایک محرم نوکر نے اوس سے ایک میسن اشارہ کیا\nاور اُس کو ایک زمین دوز گنبد میں لے گیا۔ جہان اوس نے شاہ کو تنہا چھوڑ دیا۔\nچراغوں کی روشنی سے جو کمرہ منور تھا بادشاہ نے اپنے مورث فریڈرک اعظم کو اپنے\nپاس آتے دیکھا۔ اُسکی آواز۔ لباس۔ چال اور حلیہ میں کوئی غلطی نہیں ہو سکتی تھی\nاُس روح نے بادشاہ کو فرانس کے برخلاف اسٹریا سے اتحاد کر لینے پر ملامت\nکی اور حکم دیا کہ وہ یہان سے فوراً چلا جاوے۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا جس سے\nاُس کے معاونین کو بڑی نفرت ہوئی۔ لیکن اوس نے اپنی علیحدگی کے وجوہات\nنہیں بتلائے۔ چند سال بعد مشہور نقال فلمیوری نے جسنے اپنے دو صفحوں کی\nنقل کی بدولت اسقدر شہرت ٹھیٹر فرینکیس میں حاصل کی تھی جس حصہ میں اُسنے\nفریڈرک اعظم کی ہو بہو صورت بنا کر دکھلا دی تھی اور یہہ بھی اقرار کیا تھا کہ میں ہی\nبھوت بنا تھا جو وقت ولیم سوم نے صورت سے دھوکہ کھایا۔ یہہ بات جنرل دموریز\nنے سوجھائی تھی اور یہہ دموریز فریمیسن تھا۔\nسلطنت عثمانیہ میں فریمیسن یہہ فرقہ ترکی سلطنت عثمانیہ میں پھیل گیا۔ مگر وہان پر جیسا کہ\nظاہر ہوتا ہے اُس نے عرصہ دراز تک عذاب یافتہ زندگی گذاری۔\nقسطنطنیہ۔ سمرنا۔ حلب میں لاجین قایم کی گئیں۔ یہہ بات فریمیسن کی جانبداری\n۲۵"}
{"book": "adl0234", "page": 203, "text": "۱۹۴\n\nمین بطور حق الامر بیان کی جاسکتی ہے کہ ترکی فرامین عموماً مشرقی لوگون سے جیسا کہ\nاُن میں معمول ہو تہذیب کے زیادہ اعلیٰ درجہ پر ہین وہ کثرت ازدواج کو ناپسند کرتے ہین\nکیپ کوسٹ کانسل مین ۱۸۳۵ء مین ایک لاج قایم ہو جانے سے فریمین\nمذہب افریقہ مین جاری ہو گیا تھا۔ اُسوقت مین راس الاسب جزیرہ مارنٹس\nمیڈا گاسکر سینٹ ہلینا۔ البرن۔ ٹونس۔ مراقش۔ قاہرہ۔ اسکندریہ مین لاجین موجود تہین۔\nجنوبی افریقہ کے مفصد جمہور دوست کی مین لاجین بہت سی صورتون مین درپردہ\nملکی انجنیں تہیں مثلاً گارٹیا مارٹیو جمہوری سلطنت ایکویڈور کے پریسیڈنٹ کا\nقتل ۱۸۷۵ء مین مین انجن ہی کا کام تھا۔\nایک شخص مسمی راجو قاتل سے جب جان بخشی کا وعدہ اس شرط پر کیا گیا کہ وہ اپنے\nشریکون کا حال بیان کرے تو اُس نے نرمی سے جواب دیا کہ میری جان\nبخشنا بیکار ہو گا۔ کیونکہ اگر تم نے چھوڑ دیا تو میرے رفیق مجہکو مار ڈالینگے مین بندوق\nسے بہ نسبت تلوار کے مارا جانا زیادہ پسند کرتا ہون۔\nاختیاری مین مذہب | مین مذہب کے اصلی قوانین سے ایک قاعدہ کے موافق\nعورتون کی شرکت | جو زمانہ قدیم کے بڑے اصول مین ہے۔ عورت اس فرقہ مین\nداخل نہین ہوسکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت راز کو مخفی نہین رکہہ سکتی۔\nملٹن۔ ڈلیلہ کی زبانی کہتا ہے کہ\n”مین تسلیم کرتی ہون یہ میری کمزوری تھی۔ لیکن یہ ہماری تمام جنس کا خاتمہ ہے۔ کہ\nبیدون کے تلاش کرنیکا از حد شوق رکہتی ہین۔ اور پہر اوسی شوق سے\nاُن کو افشاء کر دیتی ہین۔ یہہ دونون قصور عورتون کے عام ہین۔“"}
{"book": "adl0234", "page": 204, "text": "۱۹۵\n\nلیکن معلوم ہوتا ہے کہ گیگ لیٹرو نے عورتون کو مصری طریق مین داخل کیا تھا\nجب اٹھارہویں صدی کے شروع مین فرانس مین کئی فرقے پیدا ہوگئے ۔ جو\n\nلے گیگ لیٹرو جوزف بوبینٹ حرمین کا پہلا جانشین تھا جس نے لوئی پانزدہم کے دربار مین چارلس پنجم فرانس اول\nاور مسیح کے ہمعصر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور یہ کہ اسکے پاس اکسیر حیات اور بہت سے مخفی اسرار ہین اپنے\nاوستاد سے زیادہ عالی حوصلے اور وسیع منصوبے رکھتا تھا ۔ فرانس و باقی یورپ مین فرمیسن کے نہایت\nکارگذار نایبون مین سے ایک شخص تھا۔\nیہ بمقام پیار سو مین ۱۷۴۳ء مین پیدا ہوا کٹی سرکی دو خانقاہون مین تعلیم پائی ۔ جہان اُسے کسیقدر علم کیمیا سازی\nآگیا تھا۔ وہ ایک کتاب موسومہ رائٹ آف راپچیش میسنری کا مصنف تھا۔ روم مین بحالت اسیری\n۱۷۹۵ء مین مرگیا ۔ مصری طریق کو گیگ لیٹرو نے جارج کانٹن کی ایک قلمی کتاب پاکر جس مین\nفرمیسن مذہب کی اصلاح کی ایک عجیب حکمت کیمیاوی اور خیالی معنون مین پیش کی گئی تھی اوسی\nکے اوپر اپنے میسن کی بنیاد قایم کردی ۔ اور انسانی سریع الاعتقادی سے مستفید ہوکر دولتمند ہو گیا ۔ دوسری\nخفیہ انجمنون کی کارروائی مین امداد دیتارہا ۔ اوسنے اپنے شاگردون کو سمجھایا کہ مصری مین کا منشا یہ ہے\nکہ جسمانی و اخلاقی اصلاح کمال پر پہونچادی جاوین ۔ اور بیان کیا کہ اول الذکر مین عمل ادویہ پارس پتھر کی وجہ سے\nکبھی خطا نہین ہوتی جس سے انسان کے لیے جوانی کی طاقت اور حیات دائمی کا کلی یقین ہے ۔ اور\nدوسری بات اسم اعظم کے دریافت ہونے سے حاصل ہو سکتی ہے جس سے انسان اپنی ابتدائی\nمعصومیت پر پھر آسکتا ہے ۔ گیاگ لیٹرو نے یہ غلط بیان کیا تھا کہ اسی طریق کو اول اول انیوک (اخنوخ) نے\nقائم کیا تھا اور الیاس نے ترمیم کی ۔ مرد و عورت دونون لاجون مین داخل کرلیے جاتے تھے دونون کیونجہ عبد القادرے\nتھوڑے تفاوت ہو مقرر تھے ۔ عورت کو داخل کرنے کے وقت منجملہ اور تکلفات کہ یہ رسم بھی تھی کہ نو مریدہ کے چہرے پر ہیم\nملکے پہونگاری جاتی تھی کہ جو سچ میرے پاس ہو وہ تیرے دل مین جم جائو اور ترقی کرو تیرے دلمین نیک ارادے راسخ ہو جاوین\nپنچر سمال ادہمہنون کا ایمان تیرہ اندرستقل ہو جائو اسم اعظم کی نسبت گیگ لیٹرو تعلیم دی کہ وہ بہتر لوگونکو سات ابتدائی مرتبون کیتا\nچالیس روز تک آمد و رفت رکھنے کے بعد بتلایا جاوے گا اور یہ کہ اسم اعظم جاننے والے کو ۵۵۵۰ سال تک شادابی\n\n۲ تجدید حاصل رہے گی ۔ اور پھر اس مدت کے بعد وہ خواب شیرین کے ساتھ بہشت مین پہنچ جاو یگا اس اسم اعظم کو\nلندن پیرس سینٹ پیٹرسبرگ کو ہتر آزاد ہیونین ایسی کامیابی ہوئی جیسے کسی زمانہ مین پارس پتھر کو تھی ۔ اور بہت سا\nروپیہ جوان بنانے والی ادویہ کی چند رتیون کے واسطے دیا جاتا تھا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 205, "text": "۱۹۶\nاپنی ظاہری صورت مین فریمین مذہب سے مشابہ تھے۔ تو عورتین خارج نہین کی گین\nعورتین ایسے فرقون کی تعریف بلند آواز ہی سے کرتی تہین۔\nمین برادری نے چونکہ عورتین غیر مرغوب ہوئی جاتی تہین۔ اختیاری زنانہ لاج کی\nحکمت نکالی۔ یہ نام اسوجہ سے ہوا کہ ہر ایک ایسی لاج کو آخہ کار کوئی باقاعدہ\nمین لاج اختیار کر لیتی تہی۔\nگرمینڈ اور مینٹ آف فرانس نے اپنے انتظامی قوانین بنائے اور پہلی\nاختیاری لاج پیرس مین ۱۷۷۴ء مین کہولی گئی۔\nغدر فرانس سے اس طریقہ کی ترقی مسدود ہو گئی ۱۸۰۵ء سے پہر اس مین جان\nآگئی جبکہ شہنشاہزادی جو فائن امپریل دی انداپشن دی فرینکس شیونیراسٹر سبرگ\nمین اُس کی پریسیڈنٹ ہو گئی ۔\nتمام یورپ مین اس قسم کی لاجین پھیلی ہوئی تہین ۔ برطانیہ اعظم اس سے مستثنیٰ تہا\nمگر وہ جلد زوال پذیر ہوگئین اور آجکل اپنی اصلیت کی جگہ پر محدود ہین۔\nجیسوٹ لوگ جلد اختیاری مین مین گھس آئے۔ کیونکہ عورت کو پہانس لینا در حقیقت\nنوع انسان کے بہتر حصہ کو پہانس لینا ہے۔ نئی لاجین قایم کین۔ یا اُس طریق کی موجودہ\nلاجون کو اپنے اغراض کی بیشی کے لیے تبدیل کر دیا۔\nزنانہ مردانہ مین مذہب | اختیاری سن مذہب مین شجاعت اپنا طور پہلے سے دکھلاتی\nتہی۔ شجاعت فرانس ایک ہوشیاری کے فن مین تبدیل ہو گئی تہی۔ اپنے ہی مطلب\nکے موافق رسوم و مدارج بنا لیے تھے جو برائے نام مین تھے۔ عالمان تمدن شوقیہ\nسازشون سے معزول ہو گئے تھے۔ بڑے بڑے نتیجون کے شمار کرنے والے چھوٹے\nاسباب سے پیدا ہو گئے تھے۔ تاریخ کے اس باب مین اس امر کا ثبوت مل سکتا ہے کہ\nعلم تمدن کیسی فضول و اتفاقی چیز ہے۔ جبکہ اعلیٰ اخلاق کی تحریکین دینے والے"}
{"book": "adl0234", "page": 206, "text": "194\n\nاسباب سے اسکا انتظام نہین ہوتا تو خراب نہ ہو نیوالے قومی ایمان سحر کیونکر\nاُس کی صحیح حفاظت ہوتی ہے۔ کم درجہ لوگون کی سادہ متروک نیکی اپنے بالادست\nلوگون کی شاندار بُرائی سے بدلایتی ہے۔\nبعض مصلحت سے زنانہ مین قایم ہوے۔ جنہین مختلف فرقے۔ مختلف رسم و رواج\nمختلف اشارات۔ و مختلف اصطلاحی طریق جاری ہوئے۔\nطالبان مسرت کا فرقہ ایک فوجی فرقہ تھا۔ رسوم شجاعت اور دفتر عشق کی ضعیف\nتجدید تھی۔ ایک خوش کلام کے بیان سے ہم ذیل کا مضمون انتخاب کرتے ہیں۔\n\"ہمارا منشار اپنی زندگی کو زنیت دینے کا ہے۔ ہم ہمیشہ اپنی رہنمائی کیلئے\nیہ الفاظ لیتے ہیں۔ عزت۔ خوشی۔ نزاکت۔ علاوہ ازین ہمارا منشاء یہہ ہے کہ اپنے\nملک اور اُس بڑے بادشاہ کیطرف وفادار رہین جو دنیا کو اپنے نورانی نام سے\nمعمور کیے ہوئے ہے۔ ہر ایک معاملہ کی تعمیل کرینگے جو ہر ایک فیاض روح کو\nخوشنما معلوم ہوگا۔ بیہ بچوں اور معصومون کی حمایت ہوگی۔ بیگمات کے اور اپنے\nدرمیان ابدی تعلق قایم کرینگے۔ جو خالص دوستی سے پیوستہ رہیگا۔\nکہتے ہین کہ اس انجمن کو نپولین اوّل بہت عزیز رکھتا تھا۔ اسی سے ہم نتیجہ نکال سکتے\nہین کہ اسکا منشار ہر حال مین خوشی منانے کا نہین تھا بلکہ اپنی غرض و تمدن کو رونق\nدینے کا۔ یہ غور طلب بات ہے کہ ایک انجمن جو مین مذہب کی رہین رکھتی ہو وہ اپنے\nخدمات اُس زبردست بادشاہ کو دیدے جسنے اپنی مدد خالص فریمین سے ہٹالی ہو۔\nگلاب کی شجاع و پرزادعورتین اس فرقہ کو پیرس مین شاہ ء مین چامانٹ لے لومی فیلپ\nڈی الیانز کے خوش کرنے کے لیے جبکا وہ پرائیویٹ سکرٹری تھا قایم کیا تھا۔\nبڑے لاج کا جلسہ اُس سنہ کی مشہور عمارت پٹیا ئیش سین مین ہوتا تھا۔\nامراء نے اپنے مکانون مین لاجین مقرر کرلی تہین۔ ہر جان ایک پادری ملقب بہ"}
{"book": "adl0234", "page": 207, "text": "۱۹۸\nسینٹینٹ (خیال) کی مدد سے مردوں کو مرید کرتا تھا۔ اور بڑی پرو ہنانی ایک مادن\nملقب بہ ڈسکرشن (تمیز) کی مدد سے عورتوں کو مرید کرتی تھی۔\nنائٹ کے درجہ میں داخل ہونے کی عمر عشقبازی کی عمر تھی۔ اور عورتوں کی عام\nعمر فریفتہ کرنے اور محبوب بننے کی تھی۔ راز عشق اس فرقہ کا اشتہار تھا۔ لاج کا\nٹیمپل آف لو (معبد عشق) تھا۔\nجس میں پھولوں کے ہار عشقیہ علامات اور ایجادوں سے بڑی خوبی کیسا تھ\nزیبایش ہوتی تھی۔ نائٹ لوگ مہندی کا تاج پہنتے تھے اور بیگمات گلاب کا۔\nمریدی کے وقت ایک دُہند لی لالٹین میں سے جسکو تمیز کی پری تھامے\nرہتی تھی۔ دُہندلی روشنی آتی تھی لیکن بعد کو لاج بیشمار موم بتیوں سے روشن\nکیجاتی تھی۔ اُمیدوار زنجیروں سے گرانبار رہتا تھا۔ تاکہ اُن تعصبات کی\nعلامت ظاہر ہو جسمیں وہ مقید رہتے تھے۔ دریافت کیا جاتا تھا کہ تم یہاں\nکیا تلاش کرتے ہو۔ جواب میں وہ کہتا تھا۔ آسودگی۔ تب اُن کی رائے اور برتاؤ\nکی نسبت معاملات شجاعت میں سوال کیا جاتا تھا اور لاج میں دو مرتبہ ایسے\nتنگ راستہ میں جسپر محبت کی گرہوں کا جال پھیلا ہوتا تھا چلایا جاتا تھا۔ پہر اس کے\nاوپر سے لوہے کی زنجیریں اُتار لی جاتی تھیں۔ اور پھولوں کے ہار جو عشق کی\nزنجیر کہلاتے تھے اُن کی جگہ پہنائے جاتے تھے۔\nامیدواروں کو پہر ایک جگہ لے جاتے تھے جہاں وہ اخفاء کی قسمیں\nکھاتے تھے۔ اور پہر پوشیدہ باغیچوں میں جو ٹیمپل آف لَو کے قرب وجوار میں\nہوتے تھے چھوڑ دیا جاتا تھا۔ جہاں لوبان خوبصورت مشرمی اور اُسکے بیٹھنے\nکے لیے چڑہایا جاتا تھا۔\nاگر مرید بنا ہوا شخص نائٹ ہوتا تھا تو وہ اپنا مہندی کا تاج پچھلی مرید شدہ لڑکی"}
{"book": "adl0234", "page": 208, "text": "۱۹۹\n\nکے گلابی تاج سے بدل لیتا تھا اور اگر وہ پریزاد خفت ہوتی تھی تو وہ اینز گلابی\nتاج کو سینٹی نینٹ کے مہندی کے تاج سے بدل لیتی تھی۔\nغدر فرانس کے خوف سے یہ نائٹ اور نمف متفرق ہو گئے جو بے پروا\nبچون کی طرح آتش فشان پہاڑ کے اوپر کھیل رہے۔\n\nفریمین مذہب پر ایڈائیں\nاور اُن کے اسباب\n\nوہ راز داری جس سے میں فرقہ ہمیشہ اپنی کارروائیون کو پوشیدہ\nرکھتا ہے ممبرون کو بلاشک بہت خوشگوار ہے لیکن نقص و\nخطاء سے بری نہیں۔\nبیرونی دنیا قدرتی طور سے مان لیتی ہے کہ اس سے پیچھے سہی کوئی اور بات\nہوگی۔ جو چیز روشنی میں آنے سے خوف زدہ معلوم ہوتی ہے عموماً بُرائی سمجھی جاتی\nہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام گورنمنٹین جب تک لا علم رہتے ہیں کہ میں مذہب کیا ہے\nاُس کو عذاب پہونچانے وانسداد میں کو شان رہتے ہیں۔\nمگر جب اُنہون نے اُس کی اصلی منشاء وخاصیت کو دریافت کرلیا وہ اُسکی\nمعاون بن گئین ۔ اور یقین آگیا ۔ کہ جولوگ لاجون کی کارروائی میں تفریح پاسکتے ہیں\nوہ کبھی دریائے تھیس میں آگ نہ لگائیں گے۔\nپہلا عذاب فریمین مذہب پر ہالینڈ میں ۱۷۳۵ء میں ہوا۔ جاہل متعصب آدمیو نکا\nایک انبوہ جن کو پادریوں نے تحریک کی تھی۔ امسڑدم کی لاج میں گھس گیا۔ اور اُس\nکے تمام اسباب و زیبائش کو خاک میں ملا دیا۔\nجس زمانہ میں لاج ملکی انجمنین نبگئین اور مین مذہب کے اصلی مقصد کو علیحدہ\nکر کے کوئی بات زیادہ اہم لے لی گئی تو معاملہ کی دگر گون صورت ہوگئی۔"}
{"book": "adl0234", "page": 209, "text": "۲۰۰\nپوپ کلیمنٹ دوازدہم نے ۱۷۳۸ء مین فرقہ کے خلاف حکم جاری کیا\nاس کے بعد اگلے سال ایک زیادہ سخت اشتہار کا اعلان دیا جسکا مضمون تہا\nکہ جو شخص فریمین مذہب پر عمل کرنیکا مجرم پایا جاویگا۔ اُس کی سزا بلا امید رحم\nضبطی جائداد۔ اور موت ہوگی۔\nفیلپ پنجم والی اسپین نے جہازی غلامی تاحیات مشتہر کی۔ یا تعزیری سزای\nموت مع دیگر عذاب کے فریمین لوگون کی سزا ٹہری جسین سے بہت لوگون کو\nگرفتاری کے بعد یہ حکم سنایا۔ پیٹر تار دیتیا گرینڈ انکوئیز یٹر آف اسپین\nاوّل اقرار کر کے اور بریت حاصل کر کے فرقہ مین۔ اُسکا حال کہو لدینے کے صریح\nمقصد کیغرض سے شامل ہو گیا۔ وہ ۱۷۵۱ء مین شریک ہوا اور اس فرقہ کی شاخ\nو پتے پتے سے واقف ہو گیا۔\nاس کی وجہ سے ستانوے لاجون کے ممبر گرفتار شکنجہ عذاب مین مبتلا ہوئُ\nفرڈمینڈ ششم نے فریمین مذہب کو بڑی بغاوت قرار دی جو سزائے موت کی\nمستوجب ہے جسوقت فرانسیسی اسپین کے مالک ہوئے فریمین مذہب کو پہر\nفروغ ہوا۔ فرڈمینڈ ہشتم کی واپسی پر جسنے محکمہ تفتیش کو قایم کیا فنا کرنے والی\nکارروائی پہر شروع ہوئی۔\n۱۸۱۴ء مین پچیس آدمی جنپر فریمین کا شبہ تہا پابزنجیر جلیخا نہ پہونچائے گئے لیکن\nبعد کی گرفتار یان ایسی کثیرالتعداد تہین جنکا کوئی صحیح حساب نہین۔\nاسپین کی تفتیش اور ہولی الائینس کے شریف مقتولون مین سے ایک شخص ستی\nرا نیکو تہا جو اسپین کا ہیمپلٹن کہلاتا تہا۔ جو ۱۸۲۲ء مین سختی سے پہانسی دیکر مارا گیا\nجلاد پہانسی دینے سے پیشتر ناملام الفاظ مین بآواز بلند بولا۔ تم میرے قبضہ مین\nآگئے ہو جو کچہہ تمنے کیا ہے سب کا خمیازہ اُٹھانا پڑیگا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 210, "text": "۲۰۱\n۱۷۴۸ء مین ایک قانون مشتہر کیا گیا جس مین تمام میسنون کو اپنا حال ظاہر\nکر دینے اور تمام کاغذات و اسناد حوالہ کر دینے کے لیے حکم تھا ورنہ دغا کی سزا دیجائیگی\nاُسی سال وزیر جنگ نے ایک اشتہار کے ذریعہ سے اس فرقہ کے ہر ایک ممبر کو\nقانونی حقوق سے محروم کر دیا۔\n۱۸۳۹ء مین غرناطہ کی لاج کے ساٹھ ممبر قتل کیے گئے ۱۸۴۲ء مین اُسی\nشہر کی عدالتون نے مارکوئس لاور یانا و کپتان الور یز کو ایک لاج قایم کرنیکے جرم مین\nقتل کیا۔ ۱۸۵۲ء مین بیسن لوگون کا قتل بند ہوا۔ جہازی غلامی پر بھیجے جانے لگے\n۱۸۵۶ء کے قریب زمانہ تک میسن لاج کے ممبر گرفتار ہو کر قید کیے جاتے تھے۔\n۱۷۳۹ء مین کئی شریعت پرتگالیون نے اسپین مین ایک لاج انگلستان کی گرینڈ\nلاج کی ماتحتی مین قایم کی جسکا ماسٹر گار ڈن تھا۔ پادریون نے فوراً اُس کی پامالی کا ارادہ\nکیا۔ جان کو سٹس باشندہ سوئیٹزر لینڈ تفتیش کے نہایت مشہور مقتولون مین سے تھا\nیہ شخص ۱۷۴۲ء مین گرفتار کیا گیا۔ اور ایک زمین دوز قید خانہ مین ڈالا گیا جہان اُسکو\nتین مہینے مین نو دفعہ عذاب فریمسن مذہب کے بھید نہ ظاہر کرنے پر کیا گیا\nبالآخر پانچ سال تک جہازی غلامی کا کام انجام دینے کا حکم کیا گیا۔ مگر جب گورنمنٹ\nبرطانیہ نے اُس کی نسبت اپنی رعایا ہونے کا دعویٰ کیا تو وہ رہا کر دیا گیا۔\nتینتیس سال تک پرتگال مین فریمسن کی بابت کوئی بات سننے مین نہ آئی۔\n۱۷۷ء مین دو ممبر اس فرقہ کے گرفتار ہو کر چودہ مہینہ سے زیادہ جیلخانہ مین رہے\n۱۷۹۲ء مین ملکہ میر یا اول نے تمام فریمسینون کو تفتیش کے حوالہ کر دینے کا حکم\nدے دیا۔ بہت تھوڑے خاندان نیو یارک بھاگ کر بچے۔ اپنے امریکن بھائیون\nمین اون کو صرف پناہ ہی نہین ملی بلکہ ایک نیا وطن مل گیا۔\nسلطنت فرانس مین پرانی طرز حکومت کی بحالی پر پہلے تعصبات و عذاب پھر\n\n۲۶"}
{"book": "adl0234", "page": 211, "text": "۲۰۲\n\nشروع ہو گئے۔ ۱۷۵ء میں جان ششم نے بریزل سے ایک اشتہار تمام\nخفیہ انجمنوں کے خلاف مع فریمسنوں کے جاری کر دیا۔\n۱۷۴۳ء میں اس سے سخت اشتہار سپن میں دیکھنے میں آیا موت کی سزا\nاس میں مندرج تھی جو بعد کو تخفیف ہو کر جرمانہ اور افریقہ کو جلاوطن ہونیکی رہ گئی۔\nاسٹریلیا میں پوپ کے مسودوں سے عذاب و گرفتاریوں کو تحریک ہوئی ۱۷۴۴ء\nمیں تیس میں گرفتار ہوئے اور وانئامیں قید کیے گئے جب بریا تھیریا فرقہ\nکے خفیہ بھیدوں کو دریافت نہ کر سکے تو اوسنے تمام میسنوں کی گرفتاری کا\nحکم جاری کر دیا۔ لیکن یہ کارروائی شاہنشاہ جوزف دوم کی دانشمندی سے فسخ\nہوگئی جو خود میسن تھا اسوجہ سے جانتا تھا کہ فرقہ کی کارروائی بالکل بگناہی پر مبنی ہے۔\n۱۷۹۲ء میں تمام جرمنی میں فرقوں کا انسداد چاہا گیا۔\nوسط اٹلی میں فریمسن مذہب کی تاریخ گذشتہ و موجودہ صدیوں میں تکالیف اور\nمصیبتوں کا بار بار پیش آنا ہے۔ اس فرقہ کے ممبر متواتر سختیوں میں مبتلا رہے\nسوئٹزرلینڈ میں بھی میسن لوگ ایک زمانہ میں عذاب دیے گئے۔\n۱۷۴۵ء میں برن کی کونسل نے ایک قانون پاس کیا جسمیں لاج کے ممبروں کیلیے\nکسیقدر سزا تھی اسکی تجدید پر ۱۷۸۳ء میں ہوئی مگر آج کل منسوخ ہے۔\nفریڈرک اوّل شاہ سوئیڈن نے جاری ہونے سے ۶ سال بعد ۱۷۳۸ء میں\nفریمسن مذہب کی ممانعت کر دی اور حکم دیا بصورت انحراف سزائے موت عمل\nمیں آئیگی ۔ آج کل بادشاہ سوئیڈن فرقہ کا سرگروہ ہے۔\nفریڈرک گسٹس سوم والی پولینڈ نے ۱۷۳۹ء میں قانون شایع کرایا جس میں\nسخت تعزیر کے ساتھ اپنے قلمرو میں فریمسن مذہب کے رواج کی ممانعت کر دی۔\n۱۷۵۰ء میں اسٹرلنگ کی کمیٹی نے ایک ریزولیوشن جاری کیا جسکی رو سے تمام"}
{"book": "adl0234", "page": 212, "text": "۲۰۳\n\nفریمیسن مذہبی ضابطون سے روک دیے گئے تھے۔\n۱۷۹۹ء مین لارڈ ریڈز نے انگریزی پارلیمنٹ مین ایک مسودہ تمام خفیہ انجمنون خصوصاً فریمین مذہب کے خلاف تجویز کیا۔\nلارڈ لور پول نے بھی ۱۸۱۴ء مین اسی قسم کی بیکار کوشش اس فرقہ کے خلاف کی تھی لیکن آج کل یہ فرقہ قانوناً تسلیم کیا گیا اور پرنس آف ویلز اس کے گرینڈ ماسٹر ہین۔\n\nفریمیسن لوگون کے خلاف مطبوعہ رسالے\nفریمیسن مذہب کے خلاف ایک ابتدائی انگریزی رسالہ موسومہ فریمیسن ایک ہیڈ براس کے طور کی نظم لندن مین ۱۶۷۲ء مین طبع ہوا تھا وہ ذم کی ہندی طرز مین لکھا گیا جس مین میسنون کو بدستون کا مخمور گروہ بیان کیا گیا ہے جو تمام قسم کی ناپاک رسوم عمل مین لاتے ہین۔\nبہت سی کتابین عملی لیاقت سے معرّا ۱۷۳۰ و ۱۷۶۰ء کے درمیان مختلف وقتون مین نظر آئین جن کے اندر میسنون کے اسرار ظاہر کرنیکا دعویٰ تھا لیکن اُن کے مصنف ظاہراً اس فرقہ کی بابت کچھ نہین جانتے تھے ۱۷۶۵ء مین ایک دیوانہ شخص نے ایک وعظ موسومہ بین مذہب دوزخ کا راستہ ہو چھپوایا۔ یہ نکتہ چینی کے قابل نہین۔ اسی مضمون کی بہت سی کتابین جنین یہ دعوے ہے کہ فریمیسن مذہب کیا چیز ہے۔ اُسیوقت سے تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد انگلستان، فرانس، جرمنی، اٹلی مین نظر آئین مثلاً لیس سیکرٹس مسٹرس دی لا میسونیری لی ائیر اسٹریپی (حجاب دور کیا گیا) یا غدر کے خفیہ اسرار کو فریمیسن مذہب نے دلون مین ترقی دی۔ یورپ کے تمام مذہبون اور گورنمنٹ کی سازش کا ثبوت جو فریمیسن الومینشائی اور طلب ار کے خفیہ جلسہ مین ہوتی تھین رابیسن نے دیا۔ یہ وہ کتاب ہے جسنے جن لوگون کو کم تعجب نہ کیا ہو گا اور جسکی وجہ سے وہ\n\nمارگراف کے مکان مین\nدیکھو کتاب جنین و پولارڈ\nمصنفہ جوزف رو پر شن بورد\nایڈیشن دوم صفحات ۲۹۵،۲۹۶\nمطبوعہ لنڈن ۶۱۸۷۶ء ۱۲"}
{"book": "adl0234", "page": 213, "text": "۲۰۴\n\nاپنے دلون مین بلاشک مصنف کے زیادہ شکر گذار تھے کیونکه وہ در حقیقت\nمین لوگون کو بہت خائف اشخاص بتاتا ہے ۔ ابی بادل کی کتاب بھی اسی نمونہ کی ہو\nپروٹیسٹینٹ فرقہ نے بھی اس فرقہ کے خلاف بڑے زور شور سے لکھا ہے۔\nسڈنز کی کتاب میکنبیاک (۱۸۱۸) اور ہنگسٹنبرگ ۔ مولر کی کتابین جو بالکل\nزمانہ حال کی ہین ایسی ہی تحریرون کے نمونہ ہین۔\nمین فرقہ کے خلاف ایک بہت بڑی ضخامت کی کتاب ڈاکٹر ۔ ای ۔ ای\nایکرٹ باشنده اڈرن کی تصنیف سے ہے وہ تین ضخیم جلدون مین ہے\nجو مختلف مقامات پر ۱۸۵۲ء و ۱۸۵۸ء کے درمیان طبع ہوئیں ۔ جنکا خلاصہ ہو\nکہ فریمیسنون کو مجرم قرار دینے کے ثبوت کہ وہ تمام بربادی کی کاروائیوں کے\nاصل منبع ہیں۔ اس کو مین فرقہ ہر جگہ نظر آتا ہے حتی کہ چین مین خفیہ انجنیں مین\nایکرٹ کی راے کے موافق فریمین جرمنی مین الومنیشی و برشفٹ کے\nپیدا کرنے والے فرانس مین جیکوبن وحبتی ملیا کے۔ اٹلی مین کار بونیری کے\nاسپین لبرل اور جیو وائن اطالیہ کے موجد تھے۔ اعلیٰ درجہ کے میسنو پر حملہ کرنیکی\nوجہ سے یہ مصنف برلن سے نکالا گیا۔\nسب سے با وقعت کتاب تین جلدون مین مین مذہب کی مخالفت مین پیرو\nسٹامپ مصنف سابق کی تصنیف سے ہے۔ اسکا نام لیس سوسائیز سکریٹ\nامیٹ لا سوسائٹی ۱۸۸۲-۸۳ء ہے۔ اس کتاب کا مصنف جو پادری ہے اس فرقہ مین صرف\nیہ برائی دیکھتا ہے کہ در حقیقت تمام برائیان جو دنیا مین ہین خواہ ملکی ہو یا برادرانہ یا\nاخلاقی وہ مین لوگون کی پوشیدہ کارروائی کی وجہ سے ہے جنکا منشا تمام\nمذہب اخلاق و انصاف کو پامال کر دینا ہے۔\n۱۸۷۳ء مین ایک جرمنی تصنیف موسومہ کلیسا و گورنمنٹ سے فریمین کی"}
{"book": "adl0234", "page": 214, "text": "۲۰۵\nپوشیده جنگ (جسکا انگریزی ترجمہ ۱۸۶۶ء مین شایع ہوا تھا) اس نے ہر عظٰم پر انجمن\nکی کارروائی کے خلاف وہی الزام لگائے تھے ۔ اس مین مین مذہب کلیسا کے لیے\nخطرناک بنا ہوا ہے۔\n۱۸۷۶ء مین پوپ پایس نہم نے اس فرقہ کے خلاف دھمکی آمیز مسودہ شتہر کیا تھا\n۱۸۸۴ء مین بحیثیت گرینڈ ماسٹر مارک مین پرنس آف ویلز کے پوپ نے ایک ہر کلر\n(اعلان) جاری کر دیا جسکا نام ہیو منم جنیس تھا جس مین اوسنے فرقہ کو مجرم ناپاک\nباغی۔ اور ہر طرح سے خراب بیان کیا۔\nاس سال ۱۸۹۶ء کے ستمبر مین مین مذہب کے مخالف انجمن کلیسا کی ٹرم کی\nہوئی مجلس کا جلسہ مقام ٹرمینٹ پر ہوا تھا۔ ۲۰۰ پادریون کے قریب اسمین شریک ہوے\nتھے۔ اسکا پریسیڈینٹ کارونیل ایگلپارڈی تھا۔\nفریمین مذہب پر جو مختصر الزام اسقف نے لگائے تھے اُسکا مصالح پریسیڈنٹ\nکے پاس تھا یہ تمام کارروائی اُس جلسہ کی نقل تھی جو پہلی فروری ۱۸۹۶ء مین ہوا تھا۔\nپادریون نے بڑی سنجیدگی سے بحث کی مگر اُنہون نے معاملہ کو مشتبہ چھوڑ دیا۔\nڈاکٹر مٹیل نے ایک کتاب موسومہ اُنیّسویں صدی مین شیطان۔ تصنیف کی جو\nبڑی بھاری بطل اعتقادی کا نمونہ ہے ایک شخص کا ویٹ با ع سی نے بعد کو اُس کا\nایک جواب چھپوا کر تحقیر سے دیا تھا۔ جسمین وہ تاسف کے ساتہہ بیان کرتا ہے کہ\nبہت سے ذی مرتبہ اشخاص خصوصاً پادری لوگ اسطرح دہوکہ مین آگئے ہیں۔"}
{"book": "adl0234", "page": 215, "text": "۲۰۶\nفریسین مذہب کا زوال\nجسقدر فریسین مذہب کا حال مطالعہ ہوا وسیقدار اسکی بہانہ بازیون سے \nپیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ وہ آسانی اور کثرت جس سے ناکارہ چال و چلن کے لوگ\nاس فرقہ مین لے لیے جاتے ہیں۔ وہ طریقہ جس سے تمام قوانین سے بے اتفاقی\nکی جاتی ہے وہ نفرت جس سے ہر ایک بھائی کو جو اصلاح پر اصرار کرتا ہے باقی \nلوگ دیکھتے ہیں۔\nموذی ممبرون کو باہر خارج کرنے کے وقت بہت سی کاذب رسوم کا جاری ہونا\nاور خود رسوم کا دھوکہ باز طرز۔ جسکا منشاء اوسکو سیراب کرنے کے بغیر شوق کو تحریک دینا ہو\nعلامتون کی طفلانہ حالت بھیدون کی بے قدری جسوقت مزید پر ظاہر کی جاتی ہے\nاور اُسکی بُری طرح سے چھپائی ہوئی کراہت۔ جب وہ آخر کار (سین) پردہ کے\nپیچھے پہنچ جاتا ہے اور اُسکو سڑے ہوے ٹاٹ مین کچھ نظر نہیں آتا۔ جس کے \nمقابل خوشنما منظر بنا ہوا تھا۔ ان باتون سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ لاج نے\nفریسین مذہب کو خیر باد کہدیا۔ اس قسم کے فقرایا دلاورون کے مذہب کی اب ضرورت\nباقی نہیں رہی جب نہ کوئی ملکی اقتدار ہے نہ ملکی خواہش ہے۔ یا جب اوس کی\nکوئی ایسی خواہش ہوتی ہے تو اوسکو مجنونانہ بے اعتدالی سے ظاہر کرتی ہے۔\nمثلاً نپولین سوم کی مین عدالت کے روبرو طلبی۔ یا شہنشاہ جرمنی ۔ شاہزادہ ولیعہد\nپوپ اور مارشل ہیرم کا فرانس۔ اٹلی۔ اور اسپین کے مینون سے علیحدہ علیحدہ طلب کیا\nجانا اور ڈرا ما کیطرح جھوٹی تحقیقات کے بعد اسطرح طلب کیسے ہوے ملزم کو\nجس نے سفینہ پر توجہ نہ کی ہو سزائے موت یا سید ہی صاف انگریزی مین سزا کا \nحکم دے دینا ایک جرم ہے جو مارشل ہیرم کی ذات خاص پر کیا گیا۔\nاب یہ کسیطرح خفیہ انجمن نہیں رہی کیونکہ وہ انجمن جو گورنمنٹ سے منظور\nہو چکی ہے خفیہ انجمن نہیں کہلائی جاسکتی۔ جب انکا کوئی دارالقرار جسمانی یا دماغی"}
{"book": "adl0234", "page": 216, "text": "۲۰۷\n\nموت کا نہین ہے تو ضرور ہے کہ آخر کار خطور معدہ سے ہلاک ہو جاویگی۔ اسکی\nزندگی دراز ہو سکتی ہے بشرطیکہ تمام طریق و رسوم سے علیحدہ ہو جاوے۔ جو نہ سادے\nہین اور نہ شاندار۔ اور نہ کسی معتبر تصنیف یا اشارہ نامعنی پر مبنی ہین۔\nاور اسرارون حماقت آمیز بہانون کو چھوڑ دے۔ اپنے ذمہ دارانہ اصول سکھلانے\nمین مصروف ہو۔ صرف یہی ایک دلیل ہے جسپر فریمن مذہب اپنی زندگی کے\nبقا کا دعوےٰ کر سکتا ہے۔\nسن لوگون کی راے مین مذہب کی بابت مین لوگ ان بیانات سے خفا ہون گے لیکن\nاس فرقہ کے ایماندار آدمی جانتے ہین اور کبھی کبھی تسلیم کرتے ہین کہ بیان مذکورہ\nحق بجانب ہے۔\n۱۸۹۵ء مین ایک مین نے ایک ماہوار رسالہ مین لکھا تھا کہ زمیندار\n(جو ہمیشہ بہائی ہوتا ہے) شام کے لذیذ کھاتے اور شراب مہیا کر کے اتحاد بڑھاتا ہو۔\nجسکا نتیجہ زیادہ رات گذرنے تک بیداری و میخواری ہے۔ زمانہ حال کی دو ثلث\nکے قریب لاجین ایسی ہین جنمین اس قسم کا اتحاد ہوتا ہے۔\nلکھا ہے کہ ہیگار تھہ اس فرقہ کا ممبر تھا۔ اوسنے گریٹڈ اسٹوارڈ کے عہدہ کا کام\n۱۸۳۵ء مین ٹھیک ٹھیک انجام دیا تاہم اوسکی کتاب موسومہ شب کی تصویر\nمین عجیب بات یہہ ہے کہ ایک لاج کے ماسٹر کو اوس کی مخمور حالت مین\nایک کھپریل ساز نے پہونچایا۔\nیہ مصنف ناکارہ ممبرون کے آسانی سے مین مین داخل ہو جانے پر بہت\nتأسف کرتا ہے مثلاً (فریس ۱۸۸۳ء) برادر جان مارکر اپنی کتاب زمانہ قدیم\nکے مذہب و سائنس کے متعلق اسرار کی تفسیر (ہاگ ۱۸۷۲ء)\nایک بڑا پرجوش مین کہتا ہے چونکہ مین فرقہ کا اب انتظام ہوتا جاتا ہے۔ یہہ"}
{"book": "adl0234", "page": 217, "text": "۲۰۸\n\nفرقه جسله بان دیوانٹ کا فردوس۔ اُن سخی ریا کارون کا فردوس جو خیرات کے\nزیورون سے اپنے زیور و کو زینت دیتے ہیں۔\nبقید زمین زیور کا کاریگر وہ حرامزاده سیکرون سوداگرون بلکہ ہزار ونکود ہو کہ دنیا ہی\nاُن معدودے چند نرم طبیعتون کیطرف رجوع کر کے جو اپنے روپے کا خیال\nکرتے ہیں اور دوسرے ہم طبیعت جو امیری کے دعوون سے روپیہ یا اختیار\nحاصل کرتے ہیں جنکو انہوں نے ہمارے فرقے کیساتھ شامل کرلیا ہے۔\nیہ باتین میرے خیال میں اس امر کے ثبوت کے لیے کافی ہیں کہ میرے\nالزام ٹھیک بنا پر ہیں۔\nمیسنون کا علم الانشا میسنون کے علم انشا کے بارہ میں کچھہ بیان کرنا لغو بات ہی\nیہ فی الحقیقت ہے ہی نہیں۔ سواے۔ اولائیو۔ میکے ۔ فنڈل اور رگین کی لکھی\nہوئی کتابوں کے کوئی ایسی کتاب نہیں جو فریمن مذہب کی قابل مطالعہ ہو\nاور جو فریمن کی تصنیف سے ہو۔ جو فریمن بہائیوں نے بیشمار لیکچر دیے ہیں\nمحض ساده اور خالی از لطف ہیں۔ اس ملک میں اُسکا ماہر علم انشا ہر حال\nمیں بالعز ور گرب اسٹریٹ کی قسم کا ہے جسمین صرف تجارتی اشتہار ہیں ۔\nمشیخت مآب سوداگر اور خود نما اہلکار اسکی تاکید کرنے والے ہیں۔ جو اپنی\nلاج کی کارروائی کی منادی اسی وضع سے کرایا چاہتے ہیں جس سے گاہ گاہ کمزوری\nمترشح ہوتی ہے۔ تعلیم یافتہ اشخاص کو مین مذہب میں بہت کم لطف آتا ہے کیونکہ\nذہنی اعتبار سے جب نظر کیجاوے تو اُس کے اندر اُن کے لئے کچھہ نہیں ہے\nوہ میں ہی جو فرقہ کے ہر ایک فی پلس الشر امدرج پر پہونچ گئے ہیں اُن کی اصلیت\nو معنی کی بابت کچھہ نہیں جانتے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 218, "text": "۲۰۹\n\nفریمسن مذہب کے اس ضروری بیان کے بعد جو گذشتہ و\nحال سے متعلق ہے۔ یہہ سوال قدرتی طور سے خود بخود پیدا ہوتا ہے۔\n(س) اُسکا موجودہ فائدہ کیا ہے۔ کیا اُسکا دعویٰ بے بنیاد نہیں ہے۔ کیا وُہ\nایسا فرقہ نہیں ہے جو اپنے بنیاد کی منشاء سے زیادہ عرصہ تک قایم رہا ہو۔ کیا\nاُسکا موجودہ وجود ایک بیکار فعل عبث اور غلطی نہیں ہے۔ کیا یہہ تمام جو کچہہ\nلاجوں کے اندر کہا گیا اور کیا گیا اُن بھیدوں سے مطلع کر دینے کی بابت کوئی دعویٰ\nنہیں۔ یا بچوں کیطرح حلف لازمی کرنا کوئی سوانگ نہیں ہے۔ ان تمام سوالات\nکے جواب فریمن کے حق میں مفید نہ ہونگے۔\nجب میں مذہب کارگذار تھا یعنی صرف کاریگری داخل ہوتے تھے) تو اُسکا\nفائدہ بدیہی تھا جسوقت وہ خیالی ہوا یعنی پہلی قید اُٹھ گئی اور ذہین شخص شامل\nہوئے تب بھی ابتدائی مدارج میں زیادہ مفید تھا۔ کم از کم بر اعظم میں اور ایک\nواسطہ کے اعتبار سے اس ملک میں بھی۔ کیونکہ خود یا دوسری انجمنوں کی شرکت سے\nمثلاً الومینشائی۔ اسنے ملکی جبر و تعدی کا مقابلہ کیا جو اسوقت تمام یورپ میں پھیلا ہوا\nتھا۔ اور پادریوں (کیتھولک) کے اندھا دھند ظلم کے انسداد کے لیے محکمہ تفتیش کا نقیض محکمہ قایم\nکیا۔ جسوجہ سے پروٹسٹنٹ ۔ اور رومن کیتھولک حکام نے اُسکو یکسان عذاب پہونچایا\nوہ تیز ترقی جو زمانہ حال میں انسانیت و بے تعصبی سے حاصل ہوئی بلاشک\nاُس سیلان طبع کیوجہ سے ہے جو خیال میں فرقہ کو بعد میں پیدا ہوا تھا۔ ملکی\nکارگذاری کیوجہ سے یہی اس صدی میں تمام ملکوں میں سوائے انگلستان اوس\nزمانہ میں قایم ہوئی تھی جبکہ مذہبی علم و سائیں تحصیل کرنا صرف معدودے چند کا\nحصہ تھا۔ اس نے اُس علم کی جو اُس زمانہ میں فقط ایک چھوٹا سا چشمہ تھا غفلت\nو باطل عقائد کی گھاس کو جڑ سے اُکھاڑنے میں حفاظت کی۔ لیکن آج کل وہ\n\nمذہب میں مذہب کی حالت\n\n۲۷"}
{"book": "adl0234", "page": 219, "text": "۲۱۰\nچھوٹا سا چشمہ - زمانہ حال کے سائینس کے بے انتہا اور ہر روز ترقی کرنے والے\nسمندر سے ملگیا۔ جو اپنی تحقیقاتوں کو بہادری کے ساتہہ تمام دنیا میں\nمشہر کر سکتا ہے۔\nپس وہ جماعت جو معدودے چند کے لیے علم رکھنے کا دعوے کرے\nوہ تنزل پذیر فرقہ ہے۔ فیلوئے ۱۸۸۰ء کے قریب انگریزی مین کی جیسا\nکہ وہ اُسوقت مین تھا اور جیسا مناسب ہو سکا ہے یوں تعریف کی ہے۔\nلاجین بلا تمیز ممبرون کو داخل کر لیتی ہیں۔ رسومات ادا کرنے مین مصروف\nبھیدون کو بغیر سمجھے دکھلانا۔ خوب کھانا پینا ہضم کرنا۔ اور جسطرح کے باقاعدہ\nانگریزی لاج ہیں۔ کبھی کبھی خیرات بھی دیتے ہیں۔\nمین رسوم کی خود نمائی ہزارون عمدہ آدمی ایسے بھی ہیں جنہوں نے اندر سے لاج\nکی صورت اچھی طرح نہین دیکھی بہر بہی اصلی فریمین ہیں۔ سخی دل۔ مہذب قدرت\nاور نوع انسان کی ترقی کے مطالعہ مین مصروف خواہ اخلاقی ہو یا ذہنی۔ ایسے\nاصحاب جو ملکی و مذہبی تعصبات سے بری ۔ ایسے بھی ہزارون ہیں جو مین\nمذہب کے ہر ایک درجہ میں گذرے ہوئے تاہم مین نہین۔ وہ لوگ جہنوں نے\nمجاز کو حقیقت کی جگہ۔ ذریعہ کو نتیجہ کی جگہ رسومات کو فریمین مذہب کی جگہ سمجھ رکھا ہے لیکن لاج نے\nاپنی تمام علامات کے مین خیال کی فقط صورت ہے۔ مگر زمانہ موجودہ میں یہ\nصورت مناسب کیا۔ بلکہ اُس زمانہ مین عین ضرورت تھی جسوقت جاری ہوئی\nتھی اب تو غلط تاریخ ہوگئی۔ بعض رازون کی بناوٹ بچوں کے موافق مضرا\nکمزوری ہے جس مشار کی پیروی آج کل کے مین اصحاب ظاہر کرتے ہیں\nبرادرانہ محبت ۔ بنی نوع انسان کی امداد اور درستی ہے ۔ یقیناً مفید\nمقاصد کی پیروی کے لیئے کسی حصہ رسوم ۔ روایات اور تکلفات کی ضرورت\n+"}
{"book": "adl0234", "page": 220, "text": "۲۱۱\n\nنہین۔ با وجود اس بڑی نمائش کے جو مین رسالون مین اس فرقہ محترم کے مخصوص\nعلم و سائینس کے متعلق کی جاتی ہے کون سے نئو حالات یا اصول متعلقہ\nسائینس ایسے ہین جن کی بابت اہل مین دعوی کر سکتے ہین کہ یہ بطور خفیہ راز کی\nہین جو عرصہ دراز سے قایم ہین۔ جو لاجون کے اندر مطالعہ و غور کا نشانہ قرار دیے\nگئے ہین۔\n(ج) اس قسم کی کوئی بات نہین۔ شہنشاہ فریڈرک سوم کے عمدہ خصال کو صحافتن\nنے جو لنڈلپن مین فریمسین مرید کیا گیا تھا۔ گرینڈ ماسٹر کے عہدہ سے استعفا دلایا\nجو صبر و محنت کی تحقیقات کے بعد جسمین اعلیٰ رتبہ ہونے کی وجہ سے اُسکو غیر معمولی\nسہولت مل گئی تھی مین لوگون کے بے اصل و خود نما ہونے سے سیر ہو گیا تھا۔\nمین مذہب سے علم کی اشاعت نہین ہوئی۔ ہم کو بحیثیت مین ہونے کے سائینس و علم کچھ حاصل\nنہین ہوتا۔ یہ فرقہ اس ملک مین ملکی و مذہبی بحث سے حلفا انکار کرتا ہے اور ہی\nاُسکا دعوے ہو کہ نوع انسان ترقی کے بارہ مین میرے زیر بار احسان ہین۔ اگر وہ\nموقوف ہو جاوے تو دہنی تاریکی تمام دنیا مین پھیل جاوے۔ لیکن اس ترقی کا نتیجہ\nکسطرح سے عمل مین آئیگا۔ اگر اس کہنہ مرض مین دست اندازی نہ کی جاوے\nجو مذہبی و ملکی طریق مین موجود ہے۔\nاسکی مثال یہ ہے جیسے کوئی فرقہ علم کی ترقی کے واسطے علم کیمیا جبر ثقیل\nکے مسائل سے حلفا انکار کرے اور سائینس مین فوائد پہونچانے کی شیخی مارے۔\nیہ وہ پلٹ ہے جسکا ایک حصہ فروگذاشت کر دیا گیا ہے۔\nاگر مین مذہب آیندہ رہنے کی خواہش کرتا ہے تو اُسمین تعلیمیافتہ لوگون کی\nزیادہ لاجین بننی ضرور ہین اور صرف عام اشخاص اور سوداگر جنہوں نے آج کل\nلاجون کو اپنے اسباب کی منڈی بنا رکھا ہے کم ہو جانے چاہئیں۔"}
{"book": "adl0234", "page": 221, "text": "۲۱۲\n\nفریمسن مذهب باز حال اٹلی زمانۀ حال مین لاج اٹلی کا نیا انتظام ہوا ہے۔ اُس کا\nاشتہار قابل توجہہ ہے جسمین اُُن اصلاحون کو بتلایا ہے جس کی ضرورت نہ صرف\nاٹلی مین ہے بلکہ ہر جگہہ ہے جہان فریمسن مذہب موجود ہو اُسکا منشا فریمسن نہی\nیہہ ہے کہ بنی نوع انسان سے عالمگیر محبّت کو اعلیٰ پیمانہ پر بڑہایا جائے قومون\nمین خود مختاری و اتحاد کے اصول کو ترقی دیجاوے۔ ایک دوسرے کے\nساتھ برادرانہ واسطہ قایم ہو ہر مذہب مین بے تعصّبی و عبادت مین مساوات ہو\nمخلوق کے تمام گروہون مین اخلاقی وجسمانی ترقی ہو۔\nعلاوہ برین وہ اپنے آپ کو ہر ایک حکومت سے آزاد بیان کرتا ہے اور\nکہتا ہے کہ اٹلی کا فریمسن مذہب روئے زمین پر کسی دوسری بادشاہ کی قوّت کو تسلیم\nنہ کرے گا۔ بلکہ سچی دلیل اور عام ایمانداری کو تسلیم کریگا۔\nاُسکا بیان جو خاص توجّہ کا محتاج ہے وہ یہہ ہے کہ فریمسن مذہب اسلیئے\nنہین ہے کہ پوشیدہ علامات۔ مغرور رسوم و بے ٹھکانہ خواہشوں مین محدود ہو\nجس سے یہہ فرقہ حقارت مین دبا جاتا ہے چونکہ فریمسن تمام انسانوں کا مذہب\nعام ہے اسلیئے وہ گورنمنٹ کی صورت مین مصروف نہین ہوتا۔ بلکہ وہ ایسے\nخیالات مین مصروف ہوتا ہے جو مستقل وعام ہین۔\nبرادرانہ اصلاح مین مطلق قیاس سے جو سربستہ خواہشوں پر مبنی ہین پر ہیز کرنا چاہئیے۔\nمحنت کا معاوضہ مہذب برادری مین بہت ضروری ہے۔ فریمسن مذہب مجہولی\nوکاہلی کے خلاف ہے۔\nمذہبی سوالات فریمسن مذہب کی حد سے باہر ہین۔ ایمان انسان۔ بذاتہ خلاف\nورزی کے قابل نہین ہے۔ اُسکو مطلق کسی مذہب سے کوئی واسطہ نہین ہے\nمگر اپنے جوہر مین خود مذہب کو ظاہر کرتا ہے۔ برادری کے اصول پر جان دادہ ہو کر"}
{"book": "adl0234", "page": 222, "text": "۲۱۳\nوہ عام بے تعصبی کا وعظ فرماتا ہے۔ اُس کے نقد میں مختلف مذاہب کی بہت\nسی علامتین شامل ہیں۔ مختلف مذاہب کے مختلف اصول میں سے وہ خالص\nسچ کو انتخاب کر لیتا ہے۔ اُس کا مذہب و منشا ذات معبود کی پرستش ہے جس کا\nاعلیٰ درجہ کا ہر ایک پادری کے معاملہ سے علیحدہ ہو کر دنیا کے بڑی معمار\nکے معاملہ کیطرف ہے۔\nایمانداری و انسانیت مین دنیا مین معبود کا مجرد مغز ہے۔ عبادت کے\nظاہری طریقوں کے بابت یہہ ہے کہ فریمن مذہب نہ تو کسی طریقہ کو قایم کرتا\nاور نہ کسی کی تائید کرتا ہے۔\nاوسنے ہر شخص کو اُسکی خود مختار پسند پر اُس روز تک چھوڑ رکھا ہے جو شاید\nدور نہیں ہے جبکہ تمام آدمی بغیر درمیانی واسطوں اور بیرونی صورتوں کے حقایق\nکی پرستش کرنے لگینگے۔\nجو وقت انسان اپنے خفیہ تعلقات مین غیر محدود ذات کے ساتھہ مذہبی\nخیالات کو بار آور کرتا ہے وہ دنیا کے ساتھہ تعلقات میں سائینس کے خیال\nکو بار آور کرتا ہے۔ سائینس حق ہے اور فریمن مذہب کا نہایت قدیم شعار ہے۔\nمفرد انسان کے تعلقات اُسکے ہمعصرون کے ساتھہ مخصوص کرنے مین\nفریمن مذہب اس امر کی تائید کرنے کے لیے پابند نہین کرتا۔ کہ دوسرون\nکے ساتھہ وہ کیا جاوے جو کچھہ ہم چاہتے ہیں۔ کہ دوسرے ہمارے ساتھہ کرین\nبلکہ نیکی کرنا بُرائی کی مخالفت کرنا۔ ظلم کو تسلیم نہ کرنا۔ خواہ وہ کسی صورت مین پیش آوین\nسکھلاتا ہے۔\nفریمن مذہب اُس روز کا منتظر ہے جبکہ مانیٹر۔ اور میریک کے لوہے\nکی چادرین کٹ کر دخانی پُل بنجاوینگی۔ جب انسان۔ آزادی و سائینس سو نجات"}
{"book": "adl0234", "page": 223, "text": "۲۱۴\n\nپاکز ذبات کی خالص خوشی کا لطف اُٹھا دیگا۔ جبکہ صلح اُس دولت و\nطاقت سے زرخیز ہوکر جو اسوقت جنگ میں مصروف ہورہی ہے درخت\nزندگی کا نہایت خوبصورت پھل لادیگی۔\nمطلوبہ اصلاح | اسلئے میں کی رسوم میں طفلان مکتب کا سا کھیل ہونے پر بہت افسوس\nکیا جاتا ہے جو کہ ایک فرقہ کو زمان ماضیہ کیطرف پھر کھینچکر لے جاتا ہے۔ جو زمانہ\nآیندہ میں آگے دیکھنا چاہیئے۔\nیہ صاف ظاہر ہے کہ اب فریمین اس حالت میں قایم نہیں رہ سکتا۔ اسکی\nاصلاح ضروری ہے اور چونکہ ڈی کاسٹرو جس سے مضمون بالا لیا گیا ہے یہ خیال\nکرتا ہے کہ اسمیں اٹلی کی عزت ہوگی کہ ایسی اصلاح میں پیشوا بنجاوے اور ہر ملک کی آمین\nعزت ہو جو اسکی ابتدا کرے فریمین مذہب مجروحوں کے لیجانیکی گاڑی نہیں بلکہ مقدمۃ الجیش ہونا چاہیئے۔\nزمانہ حال کا فریمین مذہب | گذشتہ صدی کے شروع میں کہتے ہیں کہ میں مذہب کا کام\nکرنیوالا زمانہ ختم ہوگیا۔\n۱۷۱۷ء میں فقط چار لاج لنڈن میں موجود تھیں۔ ایک تجویز باتفاق\nپاس ہوئی کہ مین مذہب کے استحقاق صرف کارکن معمارون پر آیندہ سحر محدود\nنرہیں بلکہ مختلف پیشوں کے آدمیوں کے لیے وسیع کر دیے جاویں بشرطیکہ\nوہ باقاعدہ اس فرقہ میں شامل کیے جاویں۔\nموجودہ سنہ میں مذہب کا اسطرح شروع ہوا۔ اصلی قواعد۔ قدیمی نشانات\nعلامات اور رسوم قایم رہیں۔ اس انجمن نے برادرانہ محبت۔ مدد۔ اور صداقت\nکو اپنا رہنما۔ اصول مشتہر کر کے اپنی کارروائی کے لیے ایک وسیع میدان\nحاصل کر لیا۔ ان کے طریق کارگزاری نے کہانے پینے میں ظرافت تک بہت\nپیدا کردی۔"}
{"book": "adl0234", "page": 224, "text": "۲۱۵\nاس ملک مین جدید مین مذہب کی تاریخ مین کوئی ایسی بات نہین جو قابل\nتحریر ہو۔ لاج اور فرقہ کے درمیان چھوٹے چھوٹے جھگڑون سے مین ۔\nاخبارون کے پُر کرنے مین مدد ملتی ہے ۔ لیکن عام دنیا کے لیے اُس\nسے کوئی فائدہ نہین۔ اور کسی مفید علم کی نسبت جو اہل مین سے پیدا ہوسکے\nیہ تو صریح دہوکہ ہے ۔\nتاہم یہہ بات خیال کر کے اس فرقہ کے ممبرون کی تعداد لاکهون ہے\nموجودہ حالت اور آیندہ کی امیدین کسیقدر خیال کرنے کے قابل ہین ۔\nیہہ بات مسلّمہ ہے کہ اُس کی سخاوتین انگلستان مین کسیقدر وسیع\nپیمانہ پر کی جاتی ہین۔ اسکی وجہ باغوت پیشون کے سبب سے ہے ۔\nمین لوگ خصوصاً فرانس کے مین اپنے جو گہ کو فیاض انجمن کہلانے سے بہت\nاعتراض کرتے ہین ۔\n۱۸۶۱ء مین اُنہون نے بیان کیا تھا کہ ہماری سخاوتین ہمارے جلسے\nکا نتیجہ ہین ۔ اُسکا نشار نہین ۔\nکوایٹر کارونیٹی لاج مین مذہب کے علمی نقص جو بخیال حق الامر و بحیثیت. ہر\nلوٹ مورخ کے مجبوراً بیان کر دیے ہین ۔\nسمجھدار لوگ خوب جانتے ہین۔ اور اسی واقفیت سے ۱۸۸۶ء مین کاثور کا\nرونیٹی لاج کی بُنیاد پڑی ۔\nاس مین شریک ہونے کے لیے ممبرون مین علمی یا صنعتی لیاقت ہونی\nچاہیے۔ یہہ امر بذات خاص قابل امتیاز ہے ۔ جیسا کہ خیال گذرتا ہے\nیہ لاج مشہور مین مورخون اور علمائے علوم قدیمہ سے بنی ہے۔ اس وجہ ہر\nاس کی حیثیت اور مین لاجون سے بالکل جداگانہ ہے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 225, "text": "۲۱۶\nاس کے مقاصد یہہ ہین کہ مین علم کو کاغذات پڑہے جانے اور لاج کے\nاندر اُن پر بحث ہونے سے ترقی ہو ۔ کارروائیون کو شایع کیا جاوے ۔\nفریمن مذہب کے متعلق جو کمیاب اور قیمتی کتابین ہین۔ مثلاً\nقلمی کتب جو فریمسن مذہب سے متعلق ھین میتوکوک کی هارلین\nاور لیڈون کی قلمی کتابین۔ یا چھاپہ کی کتابین۔ مثلاً این ڈرسن کا ضابطہ\nقانون ۱۷۲۳ء یا میسنون کے ساڑٹیفکٹ کی تجدید۔\nان امور کو اس لاج نے اُن مجلدون مین شایع کیا ہے جو ارس کو\nایٹور کارونیٹورم کے نام سے موسوم ہین۔\nیہہ مجلد مشرح نہایت عمدہ چھپی ہے ۔ لاج سے متعلق ایک خط و\nکتابت کا محکمہ ہے جسکے ممبر دنیا کے تمام حصون مین رہتے ہین وہ\nگویا میسنون کی علمی انجمن ہے۔ جسکا نشا ء فرقہ کو ترقی دینا ہے۔ ترقی\nسے مراد صرف مین مذہب کی اشاعت سے ہے۔\nدوبارہ کی تالیفین اپنی پیش بہا انشا و فاضلانہ شرح سے جو اُن\nکے ساتہہ ہین۔ مین مذہب کی ایک حدتک وقعت بڑہاتی ہین جس سے\nانسانون کی ذہانت اُسکی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے۔ جو اب تک نہین\nہوتی تھی۔ اس وجہ سے کو ایٹور کارونیٹورم کی محنت اس قابل ہے کہ\nفرقہ اُس کی دل سے امداد کرے۔\nنہایت با وقعت ایشیا کے مین لاجین ہندوستان مین ہین۔ وہ\nانگلستان و اسکاٹ لینڈ کی گرینڈ لاجون کے ماتحت ہین۔\nکرہ ارض کے مختلف حصون مین نومی گرینڈ لاج اور قریب بارہ ہزار (کلاج مین)\nممبرون کی تعداد (۱۲۵۰۰۰۰) ہے۔ مستعد ممبرون کی تعداد جو ہمیشہ"}
{"book": "adl0234", "page": 226, "text": "۲۱۷\n\nلاج میں حاضر ہوتے اور چندہ دیتے ہیں اسکی نصف تعداد ہوگی ۔ انگلینڈ۔ جرمنی۔ فرانس ۔ اسپین۔ پرتگال میں\nسوئٹزرلینڈ۔ سویڈن۔ پولینڈ۔ ترکی۔ افریقہ۔ اوشینیا۔ امریکہ۔ وغیر ہ سب ہی جگہ۔ تو لاجیں ہیں۔\nفریمسن ہو یا کوئی اور خفیہ انجمن ۔ ہمیشہ زمانہ شور وشغب میں جبکہ فرمانروا کے\nعمل اختلاف کو برداشت نہیں کر سکتے وجود میں آیا کرتی ہے اسلیے ایسے\nجلسوں کی ضرورت سمجھی گئی کہ نیک طبیعت و دانشمند لوگ جو شورشوں کو ناپسند\nکرتے ہیں ایک جگہ جمع ہوکر آپس میں اپنی رسم و اتحاد کو بڑھائیں ۔ ملک و قوم\nکو نفع پہونچائیں۔\nحال میں ایک مخفی انجمن ایران میں قائم ہوئی تھی جسمیں علماء ۔ امراء ۔ اور تاجر\nشریک ہوئے اور جسکا نتیجہ اصلاح ملک اور تقرر پارلیمنٹ ہے۔\nکسی وقت میں روحانی قوتوں سے بھی کام لیا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ مرور دہور سے\nوہ روحانی قوتیں تو باقی نہ رہیں فریمسن میں یہی ربط و اتحاد کے اصول باقی رہ\nگئے ہیں۔\n\nفریمسن میں اسلام کے | فریمسن کی نسبت جو شبہات عوام میں پھیلے ہوئے\nخلاف کوئی بات نہیں | ہیں اُسکا بڑا سبب یہی ہے کہ واقعی حال غیروں پر کھلنے\nنہیں پاتا۔ بے تحقیق جسنے جو چاہا سمجھ لیا ۔ یہہ نام ہیہ انجمن اور اُس کے\nتمام متعلقات شبہ کی نگاہ سے دیکھے اور بد گمانی سے سنے جاتے ہیں\nلاج کو طلسم کدہ خیال کر رکھا ہے۔ عوام حتٰی کہ ملازمان لاج تک اس کو\nجادو گھر کہتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہم کو کسیقدر صراحت سے اسکا حال انتخاب\nکرنا پڑا۔ اس انجمن کا بجز اتحادی اغراض کے کوئی دوسرا پہلو خلاف ملک و\nملت اور مذہب نہیں ۔ ملکی و مذہبی بحثیں اسکے اصول کی رو سے قطعی خارج ہیں\nملحد۔ رومن کیتھلک ۔ مشرک۔ مجنون۔ فاترالعقل۔ اٹھارہ برس سے کم عمر والے اشخاص\n\n۲۸"}
{"book": "adl0234", "page": 227, "text": "۲۱۸\nعورتین اس انجمن کی ممبر نہین ہو سکتے۔\nقانون مین ایسے لوگون کو جو وحدانیت کے منکر یا ناقابل ہین اپنے فرقہ\nمین شامل کرنے کا سخت مخالف ہے۔ اسیطرح پولیٹکل و مذہب کی بحث کا\nمانع ہے۔ مثلاً ایک ممبر انگلینڈ کا۔ دوسرا روس کا۔ تیسرا جاپان کا چوتھا\nترکی کا رہنے والا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ ان ممبران مین سے کوئی شخص ایک\nگورنمنٹ پر نکتہ چینی یا دوسرے کی تعریف کرے۔ یا حیلتاً و صراحتاً۔ کوئی\nمذہبی تذکرہ چھیڑے۔\nجرمنی کے مشہور مصنف لیسٹنگ کا قول ہے۔ اسنے مین بنائے\nجانے کے بعد یہ بیان کیا تھا۔ جسوقت ماسٹر نے یہہ امید ظاہر کی کہ لیسٹنگ\nنے کوئی چیز خلاف سلطنت و مذہب و اخلاق کے اس فرقہ مین نہ پائی ہوگی\nتو لیسٹنگ نے جواب دیا۔ نہین۔ مجھے کوئی ایسی چیز نہین ملی۔\nجب ملکی و مذہبی تذکرون سے یہہ انجمن پاک ہے تو صرف اخلاقی و\nاتحادی جلسہ رہ گیا۔\nہر شریک کو حلف اُٹھانا پڑتا ہے مگر اُس کی پابندی ممبر کیواسطے بجز اسکے\nاور کچھہ نہین ہوتی کہ اخفا رکھے اور خاص اخلاقی فرائض کو پورا کرے اخلاقی\nفرائض کے اخفامین اہتمام بلیغ کا کیا جانا تعجب سے خالی نہین۔ خیر یہہ ایک\nمعاہدہ کی پابندی ہے لیکن یہہ امر وثوق کے ساتہہ کہا جاتا ہے کہ اسلام\nکے خلاف کوئی بات فریمین مین نہین ہے۔ ہمارے دوستون مین چند پاک\nنفوس ایسے اس مین شریک ہین جو بندگان خدا کے خیراندیش و فرائض پنجگانہ\nکے سختی کے ساتہہ پابند۔ تلاوت گذار۔ بزرگان دین کے معتقد۔ اسلامی\nہمدرد و خواهان و راست کردار مسلمان ہین۔"}
{"book": "adl0234", "page": 228, "text": "۲۱۹\n\nاور ایسے بھی ہونگے جو خود غرضانہ پالیسی کی بناء پر ہم قومون ہم مذہبون\nحتی کہ دوستوں و عزیزون کی ایذا دہی میں بدنام پائے جائینگے ۔ جو اپنے\nمذہب اسلام کی ہتک کرنی کو اپنا ذریعہ شہرت سمجھتے ہونگے ۔ اور ایسے بھی\nہیں جو کسی اعتبار سے درجہ امتیاز نہیں رکھتے۔\nکوئی مثال ہمارے علم میں اس زمانہ کی ایسی نہیں ہے کہ فریقین نے\nانسانی ہمدردی کی بنا پر یا اخلاقی لحاظ سے ظالمون کے سزا دلانے یا مظلومون\nکی دادرسی میں سعی کی ہو ۔ ممکن ہے کہ عام ہمدردی اس کے اصولوں میں شامل\nنہ ہو ۔ صرف ممبرون تک محدود ہو جو ہم پر ظاہر نہیں ہوسکتی ہے۔\nہندوستانیوں کی شرکت زیادہ تر اس بناء پر سنی گئی کہ بڑے\nبڑے معزز یورپین سے برابری کی ملاقاتیں ہوں گی ۔ لارڈ ۔ ڈیوک جتیٰ کہ\nقیصر تک کے مسن برادر کہلائیں گے۔\nہمنے خود اپنے ایک شناسا کو کہتے ہوئے سنا جبکہ وہ لندن جارہے تھے\nکہ قیصر ایڈورڈ ہفتم ہمارے مسن برادر ہیں ۔ اُنسے بے تکلف ملنا ہو گا ۔ یہ\nایک متناہی عزت افزائی اہلِ ہند کو اس جانب مائل کرتی ہے۔\nخوبیِ تقدیر سے اب ہندوستانیوں کے لاج علیحدہ کر دیے گئے وہ امتیاز بھی باقی نہ رہا\nرہی یہ بات کہ ان خوش صحبتون میں منہیات شرعی کا استعمال ہوتا ہے ۔\nقیاس چاہتا ہے کہ جو چیزیں آزاد قوم میں مستعمل ہیں اُنکا وہاں ہونا خلاف\nعقل نہیں ۔ مگر یہ فعل اختیاری ہے۔ اس کو میسن کے قواعد سے کوئی تعلق\nنہیں ۔ اگر عادت ناجائز اشیاء کے استعمال کی ہے تو بغیر مسن کے کون مانع ہو\nہاں یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ جلسۂ احباب کے لحاظ سے سوسائٹی کے رنگ\nمیں ڈوبنا زیادہ آسان ہے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 229, "text": "۲۲۰\nہماری رائے مین مسلمانون کے لیے شرکت مین کوئی محمود چیز\nنہین ۔ علاوہ بدگمانیون کے وہان کے اخراجات کا بار اوسط آمدنی کا\nشخص بخوشی برداشت نہین کرسکتا۔ اس کے سواکوئی کیسا ہی باوقار ہو\nاوسکو اوّل ایک ادنے ممبر لاج سے اپنے آپ کو کمتر درجہ مین تسلیم کرنا ہوگا\nکیونکہ لاج مین بتدریج ڈگریان، درجے عطا ہوتے ہین ۔ جب تک ایک\nزمانہ نہ گذرلے وہ کوئی درجہ امتیازی حاصل نہین کرسکتا۔\nلہٰذا کسی بڑے مرتبے والے کے لیے یہ کسقدر ننگ کی بات ہے کہ وہ معمولی\nآدمیون کا ماتحت بنکر رہے۔ اور پہر اس انجمن مین جہان دینی یا دنیوی یا\nملکی نفع کی آیندہ امید نہین ۔\nہمارے رہبر کامل سید المرسلین فخرِ عالم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم\nنے اسلامی اخوّت وہ قایم فرمادی ہے کہ مسلمان جسقدر چاہین اور جہان\nچاہین علانیہ بلا خوف مذہبی لاج عمدہ سے عمدہ قایم کرسکتے ہین اور قایم\nکرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ہماری ہر عبادت گاہ مسجد و خانقاہ بنے بنای\nلاج ہین جسمین تھوڑے سے اتّفاق و اصلاح کی حاجت ہے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 230, "text": "۲۲۱\n\nہمارے بانی مذہب یا اُن کے مقدس جانشینون نے جو ملک گیری\nجہانداری۔ اُلو العزمی۔ علوشان اور پاکیزہ اخلاق کے جلوے دنیا کو دکھا کر\nوہ کارنامے آج آئینہ کیطرح تاریخی صفحون پر ہمارے ہاتھ مین ہیں۔ اُن کے\nعلاوہ بڑے بڑے جلیل القدر اسلامی فرمانرواؤن کے تذکرون سے ہمارے\nدل و گوش بے خبر نہین۔\nمگر آج ہم اپنے قومی حکمرانون کا مرتبہ ایسے دائرہ مین محدود کرنا\nچاہتے ہین جو کسی متبرک امام مسجد یا کسی خانقاہ کے اہل سجادہ کے لیے\nزیادہ موزون ہے۔ جن کی صحبت مین سواے حال و قال کے دوسرا\nذکر نہین ہونے پاتا۔ یا معتقدین الدنيا جيفة وطالبها کلاب کا زمزمہ سناتے\nرہتے ہین۔ یہ حالتین بھی بجائے خود بشرطیکہ ریاسی نہون بحد قابل قدر ہین\nمگر ہمارے طبقہ اوّل کے اسلامی فرمانرواؤن اور مسلسل اُن کے جانشینون\nکے حالات سے کسیقدر بیگانہ ہین۔ اگر وہ تنہا گوشہ مین بیٹھکر سبحہ گردانی\nکرتے یا خانقاہ مین توجہ دیتے رہتے تو آج دنیا کی تاریخ مین مسلمانون کا\nنام چوسنہری اور جلی حرفون مین دوسری قومون کو نمایان نظر آتا ہے وہ\nکہان دکھائی دیتا۔\nہمارے مذہبی متادون کلام پاک کی تعلیم۔ ہمارے ہادی برحق\nکی تلقین۔ اُس کے مقدس جانشینون کی تقلید ہم کو صاف ہدایت\nکر رہی ہے کہ لا رہبانیۃ فی الاسلام۔\nدیگر پابندان مذہب ترک دنیا کے بعد زہد حاصل کرتے ہین۔\nلیکن مذہب اسلام کے پیرو دنیا مین رہکر لذات دنیوی پیش نظر رکھکر\nنیکی کے ساتھ دنیا کو برتتے ہین۔ اور زاہد ہوتے ہین۔"}
{"book": "adl0234", "page": 231, "text": "۲۲۲\nحکمای یونان میں ایک نامور حکیم کا طرز تعلیم یہ تھا کہ بُرائی سے بھلائی\nنکالتی ۔ پارسائی کی تعلیم کے لیے اپنے شاگردوں کو فسق و فجور کے مقاموں\nمیں لے جاتا۔ علم و فضل کی ہدایت کے واسطے جاہل اور ناشایستہ لوگوں\nکی صحبت دکھاتا۔ بالضد علاج بھی ایک طریقہ ہے۔\nاہل فقر میں بھی دو گروہ ہیں۔ ایک فارغ مشغول۔ جس کے حالات\nتارک الدنیا لوگوں سے مشابہ ہیں۔ جو دنیا سے فراغت حاصل کر کر\nتنہائی میں عبادات الہی بجا لاتے ہیں۔\nدوسرے مشغول فارغ ۔ جو باوصف محرکات دنیاوی اپنے نفس پر\nپوری قدرت رکھتے ہیں۔ اور جادہ اعتدال سے باہر نہیں ہوتے\nیہ مشکل مرتبہ اسلام زیادہ تر اسی طریقہ تعلیم پر مدار کرتا ہو۔\nاور امیر اسکے مصداق ہیں۔\nجہان تک ہماری یاد ہم کو مدد دیتی ہے ہمنے کسی تاریخی\nکتاب میں دیکھا ہے امیر تیمور صاحبقران ایک بزرگ\nصاحب نسبت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب اُن سے ملے\nتو اُن کی قوت روحانیت نے ایسا بے اختیار کیا کہ کمر سے\nتلوار کھولکر اُن بزرگ کے سامنے رکھدی اور استدعا کی کہ مجھ کو\nحلقہ مریدی میں لیکر تعلیم درویشی فرمائے۔\nوہ بزرگ مسکرائے اور فرمایا کہ آپ کی خواہش کا کل جواب دیا جائیگا\nشب کو عالم رویا میں امیر تیمور نے دیکھا کہ دربار حضور سرور عالم\nصلی اللہ علیہ وسلم منعقد ہے جس میں ہزارہا متبرک صورتیں حاضر\nہیں ۔ وہ بزرگ بھی جن سے امیر نے استدعا بیعت کی تھی موجود"}
{"book": "adl0234", "page": 232, "text": "۲۲۳\nہین۔ وہ بزرگ امیر تیمور کو لیکر پیشگاہ حضور مین با ادب حاضر\nہوئے اور عرض کی کہ یہ شخص سلطنت چھوڑ کر درویشی کا\nمتمنی ہے۔\nحضور اقدس نے ارشاد فرمایا کہ اے امیر تیمور سلطنت\nانعام الٰہی ہے۔ تم کو تلوار اس لیے عطا ہوئی ہے کہ دین الٰہی\nکی مدد کرو۔ بندگان خدا کی حاجتین بر لاؤ۔ یہی تمہاری ولایت\nو درویشی ہے۔\nیہ واقعہ اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ ایک منصف باخدا\nعادل۔ رعیت پرور بادشاہ کا مرتبہ ہرگز کسی صاحب روحانیت\nبزرگ سے کم نہین۔\nبادشاہ کی ایک ساعت کا انصاف عبادت صد سالہ کی برابر ہے\nهز مجسٹی امیر افغانستان کے حالات خود اس امر\nکے شاہد ہین کہ ان کا عہد حکومت۔ کیسا مبارک۔ اور\nبا انصاف دور ہے۔ ان کو اپنی جہانبانی کے ذمہ دارانہ\nفرائض ادا کرنے مین کس درجہ انہماک ہے ۔\nپر اون مین ایک تارک الدنیا امام ۔ یا گوشہ\nنشین صاحب سجادہ کے خصایل کی جستجو یا انسانی\nدائرہ سے بڑھ کر کسی فرشتہ کی خو بو تلاش کرنے\nحدود دانش سے بالکل علیحدہ ہے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 233, "text": "۲۳۴\n\nتمدن یا فیشن  کلام الملوک ملوک الکلام۔ یہ مقولہ ہر سلطنت کے خزاین معقولات کی کلید\nمستحکمہ میں سے ہے۔ فن معاشرت میں یہ بات بدیہات سے قرار دی گئی ہے\nکہ کسی قوم کی مجموعی قابلیت اُسکی سلطنت کی شکل میں عمل کرتی ہے۔ یا یوں کہنا چاہیے\nہر سلطنت میں افراد قومی کی قابلیت کا نمونہ اُسکی سلطنت ہوتی ہے۔ ہمیں خواہ\nکلام ۔ خواہ وضع ۔ خواہ لباس شمار کر لیا جاوے۔ اسی بنا پر مدبران وقت کی\nاجازت نہیں کہ عامہ خلایق رموز سلطنت سے متفحص ہو۔\nکسی مضمون پر بحث کرنے کے لیے ضرور ہے کہ بحث کرنے والا اُس فن\nکی تفصیل اور موضوعات سے واقف ہو۔ چہ جائیکہ بحث مضمون سلطنت سے\nہو اُسکے مراتب اُس کی رفعت اور اُسکا جلال ہمیشہ معمولی علم سے خارج اور معمولی\nنگاہوں کو خیرہ کرتا ہے۔\nہم نہیں چاہتے تھے کہ ایسی بلند ہواؤں کی آمد و رفت سے بحث کریں۔ چونکہ\nیہ بحث زبان زد خاص و عام ہوچکی ہے لہذا ضرور ہوا کہ اسکے مالہ و ما علیہ پر\nایک نظر سرسری ڈالی جائے۔\nبادشاہوں و سلاطین پر جو اعتراضات ہوتے ہیں اُن کا مجیب ہمیشہ الزام\nتملق کے خطرہ میں رہتا ہے۔ مگر اس ڈر سے اپنے منصبی فرض کو ترک کرنا نہ صرف\nدلیل کمزوری وجبن ہے بلکہ اُس حق کا خون ہے جو ہر مورخ کی گردن پر اُن فرمانروا\nعالم کا ہے جو اپنی زندگی ملک و قوم کی صلاح و فلاح میں صرف کرتے ہیں\nناعاقبت اندیشان و گوشہ نشینان ضرور ہر مجسٹی امیر افغانستان پر یہ اعتراض\nبھی کرتے ہیں کہ سیاحت ہند میں اعلیحضرت نے مالی حسن نظم و تتبع لباس اجانب\nکیا سب سے پہلے ہم کو وہی معذرت پیش کرنا ہے جسکا ذکر اجمالاً اوپر کر آئے ہیں یعنی ع\nرموز مملکت خویش خسروان دانند"}
{"book": "adl0234", "page": 234, "text": "۲۲۵\n\nاُس کے بعد یہ کہنا ہے کہ جہان تک ہم کو علم ہے اعلحضرت امیر کے اخراجات\nاس سیاحت ہندمین تین قسم سے خالی نہ تھے۔\nاوّل امورمفیدعام کی اعانت۔ دوسری خیرات۔ تیسری تحفظ شان جوسلاطین کے شایان ہو\nاوّل قسم مین وہ عطیات خسروانہ ہین جو آپ نے علی گڈھ کالج وحمایت الاسلام\nلاہور وغیرہ کے لیے مبذول کیے ۔ دوسری نذرات جوزیارت ومجاورون پر\nارزانی فرمائے یا غیر مذاہب کے معابد ومنا درکوعطا کیے اسی قبیل سے\nہن کے وہ اصراف ہین جو فینسی فیر وغیرہ مین محتاجونیکیلئے کیے گئے فینسی فیر\nاہل مغرب کے یہان وہ خاص موقعے ہین جہان میلے کے طور پر نفیس نفیس چیزین\nدولتمدون کی لیڈیان تاجرانہ شکل مین امراء کے سامنے پیش کرتی ہین۔ اور\nاُن کے محاصل سے حاجتمند وغربا کی مددکیجاتی ہے۔\nایسے موقعون پر خریدفروخت نہ تجارت کی غرض سے ہوتی ہے نہ نمائش کے خیال سے بلکہ محض\nامدادی اغراض وکارخیرکی بناء پر۔\nتیسرے وہ صرف جواپنی تحفظ شان ومرتبہ یاضرورت ملک کیخاطر کیے گئے مثلاً\nایک بادشاہ جسکی قوم سپہگری کے لیے نام آورہوغیرملک کیتجارکے یہان\nگھوڑے یا دیگر اسباب حرب دیکھے تو نہ صرف بلحاظ تہذیب بلکہ باعتبارضرورت\nاُس کو کچھ نہ ریدنا لازمی ہوجاتا ہے۔\nاسیطرح ضروریات لباس جو ایک ملک مین نہ ہوتی ہون اور دوسرے ملک کے\nاثنا ء سیاحت مین پیش آئین تواُن کا خریدکرنا ایک امرضروری خیال کیا جاتا ہے\nمعترضین سے ہم کو فقط اتنا پوچھنا ہے کہ اعلحضرت کے مصارف عالیہ مین سے\nکوئی جزو ان اغراض مناسبہ کے مخالف یامنافی ہوا ہے۔ اگر نہیں ہے تو\nاُن کی مقدس ذات پر حرف گیری کرنا ایک بڑا گناہ اپنے ذمہ لینا ہے اگر کوئی\n\n۲۹"}
{"book": "adl0234", "page": 235, "text": "۲۲۶\n\nماخوذ از رساله بغداد مصنفه خواجہ محمد عباداللہ صاحب ناظم بی اے اسلامی\n\nجزو اس سر خارج ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ جو طریقہ ممکن ہو اُس طریقہ سے وہ صرف خاص خود اعلحضرت متروک فرمائین جبتک مالی حالت ملک کی اجازت نہ دے اُس صرف کو حیز التوا مین رکھین۔\n\nاسباب معیشت مین لطافت وحسن جسقدر دلکش امر ہے اُسیقدر یہ ضروری ہو کہ اخراجات کسی حالت مین اندازہ امکان معقول سے باہر نہ جانے پائین۔ یہ بات ایک حد تک تسلیم کرنے کے قابل ہو کہ ترقی یافتہ ملکون کا جس جانب میلان اور حکمران و دولتمند قومون کا جسطرف رجحان ہوتا ہے ہر ترقی کرنیوالی قوم کی توجہ اُس پر مبذول ہو جاتی ہے یہی موقع مال کا سوچنے اور اعتدال ملحوظ رکھنے کا ہے۔\n\nعرب نے تمدن مین نمایان ترقی کی تھی۔ اسلام نے عرب کی طاقت کو متفق کر دیا تھا مدینہ طیبہ اس متفقہ طاقت کا مرکز تھا جزیرہ نما عرب کا وہ حصہ جسے حجاز کہتے ہیں اور جہان مدینہ منورہ واقع ہے خشک زمین مین ہے بنی امیہ نے دمشق کو دار الحکومت قرار دیا دمشق نے اہل عرب کو ایک زرخیز و نہایت سرسبز و شاداب ملک مین جمع کیا او نہین دیگر اقوام سے ملایا۔ اس میل جول نے کچھ اور ہی گل کھلایا بنی امیہ کے بعد حکومت نے پہلو بدلا اور بنی عباس کی نوبت آئی۔ بغداد دارالخلافہ قرار پایا۔ تمدن اپنا کام کر رہا تھا عرب نے نا شایسے کیسا تہ اسکو انتہائی درجہ پر پہنچنے کے لیے قدم بڑھایا جو کچھ اثر اسلام نے اُن کی طبائع پر کیا وہ اُن کے تمدن پر غالب رہا۔ اسکے ساتنہ وہ بھی سب قومونپر غالب رہے لیکن جون جن مدنی اُڑتا گیا وہ تمدن مین حیرت انگیز ترقی کرتے گئے یہی وہ زمانہ ہے جب اُن کا زوال شروع ہوا۔\n\nتمدن جسکا اظہار فخر کے ساتہ کیا جاتا ہے اسلام اُس کو اعتدال سے زیادہ نہین پسند کرتا۔ چاندی سونے اور جواہرات کا زیورات کی طرح استعمال ریشمی کپڑون اور رنگ نما لباس مصوری۔ بُت تراشی کی ممانعت ہے اور یہی اسباب ہین جنپر عرب\n\nایک قوم کا تمدن نات\nاب نے جسقدر تمد\nپر رکھنے کے لیے\nوقت اُس سے\nپراُس کو دنیا نہیں\nتھا اپنی تسید ورہن\nو جنیوا زمین و آسمان\nپہنچتی تھی قناعت ز\nجذب صادق کو م\nبان اس غرض سے\nاس لیے ہر ایک شا\nخراب بلکہ نقش و\nمدنظر رکھا ہے\nہم بعض حالتون م\nہم بھی اپنا کام پرین\nبا وجود کوتاہی معن\nتحقیق شوق و خلو\nکا بخروش سنگد لو\nتاریخ عالم\nاپنے اور ان است\nکی تجویذ پر پینیتی"}
{"book": "adl0234", "page": 236, "text": "۲۲۷\nایک قوم کا تمدن ناز کرتا ہے اور یہی سامان جب اعتدال سے بڑھتے ہیں تو زوال کا باعث ہیں\nعرب نے جسقدر تمدن میں ترقی کی اسیقدر ان میں زوال آتا گیا وہ سادہ تمدن جسکو\nقایم رکھنے کے لیے اسلام نے اصول و قواعد باندہ رکھے ہیں انکا دستور العمل رہا\nاور جسوقت اس سے تجاوز کیا وہ حقیقی ترقی کے زینہ سے نیچے آرہے اگر چہ وہ\nخود اور تمام دنیا خیال کرتی تھی کہ وہ عروج کر رہے ہیں ۔ خلفاء راشدین رض کا\nخلفاء بنی امیہ و بنی عباش سے مقابلہ کیا جاوے اور مدینہ و دمشق و بغداد کی شہریت پر\nغور ہو تو زمین وآسمان کا فرق معلوم ہوگا۔ خلفاء کے قصر کا تو ذکر کیا صرف مساجد\nکی تعمیر میں مختلف زمانوں میں جو کچھ تغیر واقع ہوا اُس سے اس امر کی تائید ہوتی ہے\nکہ عرب سادگی کو چھوڑ کر نمایشی تمدن کو ترقی دے رہا تھا۔ صدر اسلام میں مساجد\nصرف اس غرض سے تعمیر ہوتی تھیں کہ لوگ ایک جگہ جمع ہو کر نماز پڑھیں اور\nاس لیے ہر ایک شہر میں ضرورت سے زیادہ مسجدیں کہبی تعمیر نہ ہوئیں نہ انکے\nمحراب و منبر نقش و نگار سے آراستہ تھے۔ اسلام نے ہر ایک امر میں اتفاق\nکو مدنظر رکھا ہے ۔ لہذا نماز باجماعت کی تاکید ہے اور اسی لیے مساجد تعمیر ہوئیں\nورنہ بعض حالتوں میں تو اسکی ہی کچھ ضرورت نہیں۔ تمام زمین پر ہر ایک مسلمان\nجس جگہ چاہو نماز پڑھسکتا ہے اپنا آپ امام اور آپ مقتدی ۔ عبادت کے لیے کسی\nمعابد و گرجا کی ضرورت نہیں۔ احکم الحاکمین کے حضور فرش خاک پر سجدہ کرنا\nحقیقی خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے۔ قالین یا ریشمین مصلے دل کو نرم نہیں بنا سکتے\nپتھر کا فرش سنگدلوں کو موم نہیں کرسکتا۔\nتاریخ عالم موجود ہے اگر ہم ان اسباب پر غور کریں جو مختلف اقوام کی ترقی کا باعث\nہوئے اور ان اسباب پر فکر کریں جو اُن کے تنزل کے وجوہ ہیں تو ہم یقیناً\nاس نتیجہ پر پہنچ جائینگے کہ کسی قوم کی حالت میں تغیر واقع نہیں ہوتا جبتک کہ جادہ"}
{"book": "adl0234", "page": 237, "text": "۲۲۸\n\nاعتدال سے تجاوز نہیں کرتی۔ وہ تمدن میں ترقی کرتی ہے تو اس کے تنزل کا\nآغاز ہو جاتا ہے۔\nکوئی مذہب ہمیں اس تنزل سے بچنے کے وسائل نہیں بتاتا کوئی دین و نبی\nترقی کے اسباب نہیں سکھاتا۔ مگر اسلام میں یہ خوبی ہے کہ ان برائیوں سے باز\nرہنے کی ہدایت کرتا ہے جو ادبار۔ ذلت اور مسکنت کے باعث ہیں۔ اور ساتھ ہی\nان اوصاف حسنہ کی تعلیم کرتا ہے جو ترقی کا زینہ ہے۔ کسی مذہبی کتاب میں تنزل و\nترقی کے اسباب اسطرح صاف صاف الفاظ میں بیان نہیں کیے گئے جسطرح\nقرآن پاک میں بنی اسرائیل کی نسبت مذکور ہے۔\nپاره اول رکوع ساتواں وَ اِذْ قُلْتُمْ يٰمُوسىٰ لَنْ نَّصْبِرَ عَلىٰ طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ الخ\nاور جب تمنے کہا ای موسٰی! ہم ہرگز ایک کھانے پر قناعت نہ کرینگے پس آپ اپنے پروردگار سے دعا مانگئے\nہمارے لیے وہ چیزیں نکالے جو زمین اگاتی ہے۔ حضرت موسیٰ نے کہا کیا تم بہتر چیز\nکو ادنےٰ چیز سے بدلتے ہو۔ شہر میں اترو تم نے جو مانگا ہے ملیگا۔\nبنی اسرائیل شہری زندگی سے واقف تھے۔ حضرت موسیٰ انہیں مصر سے\nنکالکر لائے تھے۔ وہ جنگلون میں خانہ بدوشی کا زمانہ بھی بسر کرچکے تھے۔\nحضرت موسٰی پر ان کی خواہش کا اظہار ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کا تمدن تقاضہ\nکرتا ہے کہ شہریت میں ترقی کریں۔\nحضرت موسٰی نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ سمجھے۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شہری زندگی میں ترقی\nکرنے لگے مگر فی الحقیقت وہ تنزل کررہے تھے۔ اگر وہ حد سے تجاوز نہ کرتے\nاور تمدن کے ساتھ اعتدال کو قائم رکھتے تو ان سے حرکات بیجا سرزد نہوتیں۔\nمثیل موسیٰ کے لیے ضرور تھا کہ اپنی امت کو بنی اسرائیل کی مثال بیان کرکے\nان خرابیون کو ظاہر فرمائے جو ذلت و مسکنت کا موجب اور غضب خدا کا نتیجہ ہیں دوسرے"}
{"book": "adl0234", "page": 238, "text": "۲۲۹\n\nالفاظ مین جو اعتدال سے تجاوز کرنا ہے۔\nکلام پاک مین جہان اعتدال کی خوبی بیان کیگئی ہے ساتہہ ہی تجاوز کرنے اور برائیون\nکا اظہار ہے۔\nیٰٓاَیُّھَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِى الْاَرْضِ حَلَالًا طَیِّبًا ۖ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ۖ\nاِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ہ اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَالْفَحْشَآءِ وَاَنْ تَقُوْلُوْا\nعَلَی اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ہ\n\nلوگو زمین مین جو چیز حلال طیب ہے اُس مین سے (جو چاہو بے تامل) کہاؤ۔ اور\nشیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تو تمہارا کہلا دشمن ہے۔ وہ تمہین بدی اور بیحیائی\nہی (کے کام کرنے) کو کہیگا۔ اور یہہ (چاہیگا) کہ (اپنی طرف سے) بے سمجھے بوجھے خدا\nپر بہتان باندہو۔\nاِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِى الْاَبْصَارِ ه زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ\nالنِّسَآءِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَیْلِ\nالْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۭ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚ وَاللّٰهُ عِنْدَہٗ\nحُسْنُ الْمَاٰبِ ہ قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ\n\nاس مین شک نہین جو لوگ (دل کے) سوجہہ رکہتے ہین اون کے لیے اس (واقعہ)\nمین عبرت ہے۔ لوگون کو مرغوب چیزون یعنی عورتون اور سونے چاندی کے\nبڑے بڑے ڈہیرون اور عمدہ عمدہ گہوڑون ومویشیون وکہیتی کے ساتہہ ڈہنگی بہلی\nمعلوم ہوتی ہے حالانکہ یہہ دنیا کی زندگی کے (چند روزہ) فائدے ہین۔ اور اچها\nٹہکانه تو اُسی (اللہ) کے ہان ہے۔ (اے پیغمبر ان لوگون سے) کہو کہ مین تمکو\nاِن سے بہتر چیز بتاؤں۔\nقرآن مجید مین مذکورۂ بالا آیات کے علاوہ بہت سی آیتین گذشتہ زمانہ کے"}
{"book": "adl0234", "page": 239, "text": "۲۳۰\n\nاقوام کی تمدنی ترقی اور نمود و شان و شوکت وان کے تنزل و بربادی کے\nاسباب میں بیان کی گئی ہیں۔\nاحکام الہی سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کی ممانعت\nنہیں کی۔ رزق حلال وطیب کی اجازت ہے۔ مگر خواہشات نفسانی کہ پیچھے جانیکی ممانعت ہے\nہماری خواہشیں تو یہی ہیں کہ خوشجمال عورتوں کا ہجوم۔ اولاد۔ روپیہ پیسہ۔ مویشی\nصرف ظاہری نمود کے لیے ہوں اور زراعت ہی ہو۔ یہی تمدن کے اسباب ہیں\nمسلمان جب حد اعتدال سے گزر کر عیش و عشرت کیطرف مائل۔ اور ظاہری\nآرایش و نمائش بے سود نمود کی جانب راغب ہوگئے اور اس سادہ تمدن\nکو بھول گئے جو انہیں سکھایا گیا تھا۔ اور جسکی وجہ سے انہیں غلبہ حاصل\nہوا تھا تو ان کو ذلت و مسکنت میں مبتلا ہونا ہی ضرور تھا اور وہی انجام ہوا\nجو مسرفین کا ہوا کرتا ہے۔\nحالانکہ ان سے پیشتر مُسرف و جادۂ اعتدال سے تجاوز کرنے والی قوموں کو\nاللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھجانے کے باعث فنا کر دیا تھا۔ با وجود اسکے اہل اللہ\nان کو قوموں کی تباہی کا حال سُنا سُنا کر ڈراتے اور سمجھاتے رہے کہ اصراف سے\nباز آؤ۔ دیکھو رومیوں کا کیا حال ہوا۔ ایرانیوں پر کیا تباہی آئی۔\nپھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر مسلط کر کے خلیفہ بنایا تاکہ تم دنیا کو عدل و انصاف\nسے بہر دو اور گذشتہ قوموں کی تباہی سے عبرت پکڑو۔\nالہامی کتاب میں ہدایت ہے کہ سونے چاندی کا بطور زیورات\nکے استعمال ترک کرو۔ بے فائدہ روپیہ جمع نہ کرو۔ اگر روپیہ جمع ہو تو قومی کام\nمیں لگاؤ۔ ایسا لباس جو ظاہری آرائش ہے ناپسند کرو۔ اسراف سے باز\nآؤ۔ اگر ایثار نہیں کر سکتے تو خیرات میں حصہ لیا جاوے۔ اور یہ بھی نہ ہو سکے"}
{"book": "adl0234", "page": 240, "text": "۲۳۱\n\nتو زکواة تو فرض ہے مگر یہ تمدنی اسراف وہ عدوی جانی ہے جس کی موجودگی\nمیں نہ کسی قوی دشمن کی ضرورت۔ نہ زبردست مخالفت کی حاجت۔ تنہا\nحد اعتدال سے بڑا ہوا تمدن بربادی کے لیے کافی ہے۔ جسکو یہہ چوگيا\nوہ عمر بہر نہ پنیا۔\n\nتاریخ افغانستان اس امر کا فیصلہ پیش کر دینے والی ہے کہ وہ ولایت\nجہان اور خرابیوں سے مبرا ہے۔ مرض اسراف سے بھی اسی\nطور پر وہاں کی رعایا۔ و سلاطین پاک ہیں یہہ برات\nخواہ ملک کی مالی تمدن کا نتیجہ یا وہاں کے باشندوں کی روشن\nخیالی یا صحیح دماغی کا سبب یا اسلامی خوبیوں کی برکت ہو۔\n\nضیاء الملت والدین مرحوم فیشن کے مخالف تھے پس نصراللہ خان\nواعتماد الدولہ۔ سردار عبد القدوس خان امیر مرحوم کے قدم\nبقدم ہیں۔\n\nاعلیحضرت ہز مجسٹی امیر افغانستان جیسے روشن دماغ۔ باخبر\nاور وقت و مرتبہ شناس کے روبرو سلطان عبد العزیز خان\nشنشاہ ترکی کی معزولی کے اسباب وحکومت وجان کا جانا۔\nشاہ ناصر الدین قاچار کے دل میں نئے تمدن کی امنگوں کا آنا۔ اور\nخزانہ کا حالی کر دینا۔ شاہ مظفر الدین قاچار کا دولت ملک کھو کر\nقرضدار بن جانا :\n\nعبرت کے لیے یہ حال کی مثالیں پیش کرنا۔ خالی از سود ادبی نہیں ہے۔\nتمام دنیا کی سیاستی و تمدنی خرابیوں کا استقرار اگر\nکیا جاوے تو بڑا حصہ ہر شخص کی پریشانی کا اُس کے اسراف کے سبب"}
{"book": "adl0234", "page": 241, "text": "۲۳۲\n\nسے پایا جائیگا ۔ ایشیا کا تجربہ کار اور فلاسفر اس مضمون کو چھ سو برس پہلے کیا\nخوب فرمایا گیا ہے ۔ ع\nبر احوال آنکس بباید گریست\nکه دخلش بود نوزده چرخ بیست"}
{"book": "adl0234", "page": 242, "text": "۲۳۳\nلارڈ منٹو کی حالات\nتصویرین ہمیشہ نیم رخ رہتی ہے۔ اگر محض مہمان کے حالات پر اکتفا کیا جاوے اور\nمیزبان یا قایم مقام معظم میزبان کا حال فرو گذاشت کر دیا جاوے۔ تقاضائے تکمیل بیان\nہے کہ ہم مختصر حالات اپنے معزز میزبان لارڈ منٹو وایسرائے کشور ہند زیب قلم کرین\nیہ نامور وایسرائے کریم ابن کریم ہے۔ برخلاف اُن کامیاب وایسرایون کے\nجن کو حسن کارگذاری یا محض حسن اتفاق نے اس مرتبہ اعلیٰ پر پہونچایا۔ اسلیے ضرور\nہے کہ ان جیسے دو قسم کے حکمرانون مین گو اصول سلطنت ایک ہون مگر طریقہ عمل\nمین فرق ہوگا۔\nلارڈ کرزن با وجود تمام قابلیتون اور کامیابیون کے اعلیٰ حضرت شاہ\nافغانستان کی شرف مہانداری سے محروم و مایوس رہے۔ لارڈ منٹو کے اخلاق\nشاہانہ کا یہہ آسان نتیجہ تھا۔ اور کیون نہ ہو۔ اقتدار ان کا ترکہ خاندانی ہے ان\nکے جد امجد ۱۸۰۷ء مین گورنر جنرل ہند تھے۔ اور ۱۹۰۵ء مین ٹھیک ایک صدی\nکے بعد اب وایسرائے حال اُسی منصب پسند پر متمکن ہین جو اس امر کی دلیل\nواضح ہے کہ فضل عظمت اس خاندان مین کوئی امر اتفاقی نہین بلکہ ایک عنصر کیطرح\nہر ایک ممبر خاندان مین سرایت کیے ہوئے اور مسلسل بات ہے۔\nیہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ مسند حکومت اُن کی آبائی اور اجدادی عظمتون سے صد گونا\nفیضیاب ہے جس آسانی اور فراخ حوصلگی سے رسوم مہانداری ادا کی گئین اُس سے\nمعلوم ہوتا ہے کہ مراسم شاہانہ سے کسقدر وقوف ہے۔ اعلیحضرت کے دلپر جو اثر\nاس کشادہ دلی اور خلوص حسن اخلاق اور مہانداری کا ہوا وہ اُس وداعی تقریر سے\n۳۰"}
{"book": "adl0234", "page": 243, "text": "۲۳۴\nثابت ہوتا ہے جو ہز مجسٹی نے جمرود پر کی تھی جسکا لب لباب یہ ہے کہ اگر\nمین مہمان بنکر ہند مین نہ آتا تو مجھے اس خلوص اور یکجہتی گورنمنٹ برٹش کا صحیح اندازہ\nہونا محال تھا۔ یہ ایک اعجاز قانون میزبانی ہے۔ گو عوام نہ سمجھیں مگر استحکام کا یہ\nبنیادی تہہ ہے۔\nسرحد کے قلعون کے سلسلے۔ لشکرون کے ہجوم اور معاہدون کے شرائط\nہرگز یہ استحکام پیدا نہ کرسکتے تھے جو لارڈ منٹو کے اس اخلاق مہانداری نے پیدا کیئے۔\nہندوستان کے مسلمانون پر جو بہترین معنوی اثر ایسے حسن مراسم سے پڑا ہی\nوہ ایسی چیز نہیں جو کسی بیان مین آسکے۔ صرف مسلمانون کے دل جانتے ہیں\nاور مسلمان ہی اس کو پہچانتے ہیں۔\nاگر ہمارے مضمون کی حد سے باہر نہ ہوتا۔ یا ہمکو حدود پالٹیکس مین مداخلت بیجا کا\nاحتمال نہ ہوتا تو ہم ضرور اُس محفوظ ومستحکم پالیسی کی بھی تشریح بیان کرتے\nجس کی وجہ سے قابل وایسرائے حال نے قرنون کی مجرور رفتار ترقی کے\nبُرے اثرون کو حدّ خاص سے آگے بڑھنے نہ دیا۔ اور اپنے وقار۔ رائے\nاور جذہون کے عزم سے ترازوئے سلطنت مین پلّہ جات متقابل\nکو اعتدال سے ہٹنے نہ دیا۔\nہز اکسیلنسی مین وقار خاندانی کے ساتھہ علم وفضل۔ متانت و تہذیب\nاخلاق و تدبیر کے جوہر موجود ہیں۔\nوہ مختلف جنگون مین شریک ہوے اور ولایت کے مختلف رسالون مین علمی\nمضامین اُن کے قلم سے نکلے وہ اہل قلم ہی ہیں در اہل سیف بھی۔ ہز مجسٹی شاہ\nافغانستان سے محترم مہمان کا لارڈ منٹو سا مغزز میزبان ہونا چاہیے تھا۔ ہم ہز اکسیلنسی\nلارڈ منٹو کے علم وفضل کے معترف اُن کے احسانون کے مشکور ہیں۔"}
{"book": "adl0234", "page": 244, "text": "۲۳۵\n\nهمراهان امیر\n\nاعلیحضرت ہزمیجسٹی کے ہمرکاب اکیس سو آدمیوں کی خبر تھی اور اسی تعداد\nکے لحاظ سے انتظامات کیے گئے تھے ۔ لیکن گیارہ سو آدمی آئے ۔ جنمین پندرہ\nاعلیٰ سردار ۔ چالیس سرداران و افسر درجہ دوم۔ انشی جوانان معتمد باڈی گارڈ باقی\nفوج و شاگرد پیشہ اشخاص تھے۔ ہم سرداران اعلیٰ و ذی مراتب کا حال لکھتے ہیں۔\n\nسردار یوسف خان\tیہ دونوں بزرگوار حقیقی بھائی مصاحب خاص و مقرب اعلیحضرت\nسردار آصف خان\tکے ہیں آپ کے پدر عالی مرتبہ سردار یحییٰ خان خلف سردار\nسلطان محمد خان طلائی برادر امیر دوست محمد خان تھے ۔ سردار یحییٰ خان مدت تک\nہندوستان مین بمقام ڈیرہ دون گورنمنٹ انگریزی کے وظیفہ خوار رہے جب وہ\nہندوستان آئے تو گورنمنٹ ہند نے اُن کو احترام سے لیا ۔ اور سولہ سو روپیہ ماہوا\nوظیفہ مقرر فرمایا ۔ یہ دونوں سردار بھی اپنے پدر عالیقدر کے ساتھ تھے۔\nسردار آصف خان بعہد امیر یعقوب خان گورنر لغمان تھے ۔ ان کی حقیقی\nہمشیر امیر یعقوب خان کی خاتون ہیں۔ سردار یوسف خان ہزمیجسٹی امیر کے خسر ہین\nضیاء الملۃ والدین امیر مرحوم نے سردار یحییٰ خان کو بڑی محبت و آرزو کر\nبلایا اور اُس اعزاز سے جو گورنمنٹ انگریزی میں تھا بڑھکر اعزاز فرمایا۔\nعلی آباد مین جو کابل سے تین میل فاصلہ پر ہے ایک نفیس عالی شان کوٹھی رہنے کو\nعنایت کی۔\nاب ہزمیجسٹی امیر بھی ان اپنے عزیز مصاحبوں کی بدرجہ غایت عزت فرماتے ہیں چونکہ\n\nلے سردار سلطان محمد خان امیر دوست محمد خان کے بھائی بڑے ہوشیار اور دلاور تھے۔ کابل کے فرمانروا ہو کر پشاور میں رہے۔ سکھونکے سردار ہری سنگھ نلوہ کو سردار اکبر خان اور سردار عبداللہ وسیس خان فرزند دوست\nمحمد خان نے تہ تیغ کیا ۔ مگر سردار سلطان محمد خان کے خلف الصدق بھی کابل میں دُودیہ لقب طلائی مشہور تھے ۔ یعنی جب یہ پہنا کر و پہنا لباس زردیا سنہرے گوٹہ کا تمام ساز و سامان طلائی رکھتے تھے ۱۲"}
{"book": "adl0234", "page": 245, "text": "۲۳۶\n\nیہ شورائے دولت ہیں اس لحاظ سے خاص کابل میں جرنیل غلام حیدر خان چرخی\nسپہ سالار مرحوم کا عالیشان مکان ایک لاکھ روپیہ کو خرید فرما کر انہیں عنایت کیا گیا\nہے۔ علاوہ تنخواہوں کے ہمیشہ عطیہ و ہدایہ شاہی سے یہ سرفراز کیے جاتے ہیں۔\nبمبئی میں بھی ایک رقم معقول مرحمت کی تھی۔\nانصاف یہ ہے کہ ان دونوں سرداروں کی جو کچھ عظمت و عزت کیجاوے۔ وہ\nاسکے مستحق بھی ہیں۔ نہایت سنجیدہ متین۔ ستودہ خصال صاحب اخلاق انسان ہیں\n\nاصل میں یہ لفظ\nایشک آقاسی ہو\nسردار سلیمان خان | یہ شاہ غاسی نظامی یعنی ملٹری سکریٹری سردار آصف خان کے\nفرزند رشید ہیں۔ حلیم۔ خوش خلق۔ قابل شخص ہیں۔ عموماً اہل افغانستان کو انسے\nخوش پایا۔ یہ بھی اعلیٰحضرت کے ہمیشہ مورد لطف و عنایت رہتے ہیں۔ ان کے\nنائب محمد عزیز خان آپ کے بھائی ہیں۔ جنہیں اُن کی خاندانی خوبیاں سب پائی جاتی\n\nسردار محمد نادر خان | بریگیڈ حضوری۔ سردار یوسف خان کے فرزند دلبند ہیں۔ آٹھ ہزار\nسالانہ تنخواہ پاتے ہیں۔ ہزمیجسٹی امیر کو ان سے خاص محبت ہے۔ سپاہ ان سے بیحد رضا مند\nہو انکا برتاؤ فوج کیساتھ برادرانہ ہے۔ سپاہ میں ہر دلعزیزی کے وجوہ ان کی ذاتی\nاوصاف ہیں۔\n\nیہ لفظ پشتو زبان کا\nہو لونی بمعنی کلان\nنائب کا لفظ نائب کا\nیعنی اعلیٰ نائب۔\nعلی احمد جان | شاہ غاسی ملکی یعنی سکریٹری مال۔ سردار خوشدل خان۔ مخاطب بہ لونی نائب\nکے صاحبزادہ ہیں۔ آدمی قابل انگریزی دان ہیں۔ ان کی پھوپی اعلیٰحضرت کی خاتونوں\nمیں بڑے پایہ کی بی بی ہیں۔ سراج الخواتین جنکا لقب ہے۔ ان کے نائب محمد عالم خان\nسردار زادہ نہایت لایق و سمجھدار آدمی ہیں\n\nسردار فتح محمد خان | امین العسس یعنی کمشنر پولیس ہیں یہ سردار محمد زکریا خان بھائی"}
{"book": "adl0234", "page": 246, "text": "۲۳۷\nسردار یحیی خان کے خلف رشید ہین۔ آدمی مستعد متقظ - باخبرہین۔ انتظام پولیس\nان کی وجہ سے عمدہ حالت مین ہے عام طور پر لوگ ان کے ثنا خوان ہین\n\nمحمد رفیق خان امین المقابلہ کی خدمت پر مامور ہین۔ مدت تک ہندوستان مین\nاپنے نانا سردار ولی محمد خان کے ساتھ بمقام امرت سر رہے۔ خان قلات میر\nخداداد خان جواب گورنمنٹ کی زیر حفاظت ہین ان کے بہنوئی ہین۔ اہل کابل\nکو ان کا مداح نہ پایا۔ ہمنٰے جہان تک دیکھا آدمی ذہین خوشمزاج قابل معلوم ہوئے\n\nکرنیل ڈاکٹر غلام نبی خان یہ بزرگوار پنجاب کے رئیس ہین۔ عرصہ سے اعلحضرت ہزمیجسٹی\nکے مشیر طبی ہونے کی ان کو عزت حاصل ہے۔ ہز مجسٹی آپ کا اعزاز فرماتے ہین\nلاہور کے جلسہ مین بھی خود بدولت نے انہین پائین دیکہکر اپنے قریب بالا بلایا\nجس سے حاضرین نے ان کو بہت وقعت کی نگاہ سے دیکھا۔ آدمی ملنسار معقول ہین\n\nمنشی عظیم اللہ خان ترجمان یعنی انٹر پریٹر۔ آدمی قابل اور اپنے کام مین عمدہ مہارت رکہت ہین\nمحمد زمان خان ۔ خازن کتب ذی فہم شخص ہین۔\nسردار زادہ شاہ محمود خان و شاہ ولی خان و شاہ دلی خان و احمد شاہ خان ۔\nسردار زادہ محمد ہاشم خان خلف سردار یوسف خان ۔ سردار زادی افسران باڈی گارڈ\nمقربان اعلحضرت سے ہین ۔ سب کے سب گو نو عمر ہین مگر مہذب۔ اپنے خاندانی\nاوصاف سے متصف ہین اور اُردو نہایت صاف و فصیح بولتے ہین۔\n\nسردش یعنی باڈی گارڈ ۔ اسمین خوانین زادے مقرر کیے جاتے ہین۔"}
{"book": "adl0234", "page": 247, "text": "۲۳۸\n\nغلام بچہ گان۔ ان کی دو تفریق ہیں۔ ایک غلام بچہ گان حضوری۔ یہہ سب\nخوانین زادے تعلیم و تربیت یافتہ مزاج شناس اعلیحضرت کے ہیں۔\nدوسرے غلام بچہ گان ہمرکابی۔ یہ سب نوجوان جدید الاسلام ہیں جو ملک\nمفتوحہ سے لائے گئے۔ اعلیحضرت ہزمیجسٹی نے اپنے عہد سلطنت میں ان کا رسالہ\nترتیب دیا ہے۔ یہ لوگ پابند ارکان مذہب خوش عقیدہ خوش اخلاق مسلمان ہیں۔\n\nغرضکہ ہمراہیوں میں کیا مصاحبین کیا مقربین۔ کیا افسران۔ کیا\nسپاہ نہایت نیک طینت نیک کردار منکسر المزاج ایسے خوش عقیدہ ہیں جن پر\nمسلمانوں کو فخر کرنا چاہیے۔ بیشتر مقام پر فوج کو کھانا نا وقت ملا۔ سرداروں کو خلاف\nوقت وید پہونچایا مگر نہ وہ حرف شکوہ زبان پر لائے اور نہ اپنی ایذا و نارضامندی کا اظہار\nفرمایا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ان کی حق بجانب تھا۔ مگر نہیں۔ اُنہوں نے اپنے شریفانہ\nاخلاق کا پورا ثبوت دیا۔ یہہ اُنہین کی نیکیوں کا نتیجہ تھا کہ منتظمین مہمانداری ہر شکایت\nسے محفوظ رہے۔ ورنہ مہمانون و نیز برٹش افسران کے لیے شکایتوں کے پہلو\nخارج از بیان تھے۔"}
{"book": "adl0234", "page": 248, "text": "۲۳۹\n[ILL]\nیہ سردار امیر دوست محمد خان کے بھتیجے سردار سلطان محمد خان کے خلف الرشید\nاعتماد الدولہ سردار عبد القدوس خان موجودہ پریم بینہ کابل کے بھائی ہیں۔\nاول مرتبہ ۶۱۸۸۵ء میں ہند وستان آئے۔ چودہ برس تک رہے۔ ۱۸۹۹ء میں کابل واپس\nگئے۔ پانچ برس تک ضیاءالملت والدین امیرمغفورکی حضوری کا شرف حاصل رہا۔\nاگست ۱۹۰۴ء مین امیر مرحوم و مغفور نے عہدۂ سفارت ہند دستان پر ممتاز کیا\nتقرری کے وقت فرمایا کہ ہنستے سفارت ہند کے لیے اُس سردار کو منتخب کیا ہے جو\nاس ذمہ دارانہ عہدۂ جلیلہ کے لیے ہر طرح موزون ہے۔\nکارنامے امیر مرحوم ممدوح نے جن مصلحتون کو مد نظر رکھ کر خدمت سفارت تفویض\nفرمائی تھی اُس کے وہ اہل ثابت ہوئے۔\nسرداران وقبائل فراری ومنحرف کو مطیع ومنقاد بنا کر تخت کابل کو اطینان وتقویت\nدنیا ان کی خدمات مین وقیع خدمت ہے۔ سردار یحیٰ خان اور ان کے صاحبزادگان\nسردار آصف خان و سردار یوسف خان۔ اور سردار محمد عظیم خان ولد امیر دوست محمد خان\nوسردار محمد امان خان نواسۂ امیر دوست محمد خان۔ وسردار احمد خان ولد سردار\nسلطان محمد خان۔ وشاہ غاصی محمد اکبر شان ولد شاہ غاسی عطاء اللہ خان\nولوی ناب سردار خوشدل خان۔ وسید محمود بادشاہ مع جمعیت کلان۔ و میر بچہ خان\nکوہستانی جو ۱۸۸۰ء مین لارڈ رابرٹس سے بر سر پیکار و جہانداد خان احمد زئی\nجو بعد وفات ضیاء الملت والدین مغفور مرتکب بغاوت ہوئے ان کی جمعیت\nسات ہزار افغانوں کی تھی۔ یہ سب رضامند وفرمانبردار بنا کر کابل روانہ کیے گئے\nوقت وفات امیر عبد الرحمان خان مرحوم پشاور مین بکثرت با اثر فراریان"}
{"book": "adl0234", "page": 249, "text": "۲۴۰\nکابل مقیم تھے اُن کی نگرانی خاص طور سے کرائی۔\nان خدمات کے صلہ مین نشان (تمغہ) صداقت اعلیٰحضرت سراج الملت والدین\nنے مرحمت فرمایا۔\nحمایت الاسلام لاہور مین چھہ ہزار سالانہ کا عطیہ جسکو اس سیاحت مین ہز مجسٹی\nنے المضعف فرما دیا۔ شہزادہ عنایت اللہ خان کا ہندوستان مین تشریف لانا۔\nہندوستان کی سیاحت شاہ افغانستان اور علی گڑھ میں مہمان بننا۔ ایک رقم کثیر\nدوامی و یکمشت عطا فرمانا۔ یہہ انہین کے زمانۂ سفارت کی باوقار یادگارین ہیں۔\nان یادگارون کا ان کو محرک یا مویّد اگر نہ کہا جاوے تو انصاف کا خون کرنا اور دفعاً\nسے بے خبری کی دلیل ہے۔\nوہ مہمان نواز۔ خوش اخلاق ۔ با مروّت ۔ یار و اغیار سے خندہ جبینی و مدارات\nسے پیش آنے والے شخص ہیں۔ اکتوبر ۱۹۰۶ء مین جو ڈپوٹیشن معززین اہل اسلام\nکا وایسرائے کے حضور مین بمقام شملہ پیش ہوا تھا اُسکے تمام ممبران کی دعوت\nجس فراخ حوصلگی سے کی گئی وہ اُن کی فیاضانہ مہمان نوازی کا بیّن ثبوت ہے۔\nان سے پہلے جو جو بزرگوار منصب سفارت ہندوستان مین رہے\nاُن مین کسی کو یہ دعویٰ نہیں ہو سکتا کہ ہند و افغانستان کی سلطنتون مین\nایسا عمدہ اتحاد قایم ہوا جیسا کہ اب ہے۔\nجنرل میر احمد خان جو سب سے پہلے سفیر افغانستان کی حیثیت سے یہان آئے\nاُنہون نے شملہ مین قضا کی اور سرہند مین دفن ہوئے۔ ضیاء الملۃ والدین\nان کی بیحد عزت کرتے تھے اور اُن مین بہت سی خوبیان تھین۔ مگر جو صحیح دماغ\nقدرت سے کرنل سردار محمد اسمعیل خان کو ملا ہے۔ اسپر خود بہی جسقدر شکر و ناز کرین\nبجا ہے جس خوش اسلوبی سے اتحاد ہر دو سلطنتون کے یہہ باعث ہوئے وہ"}
{"book": "adl0234", "page": 250, "text": "۲۴۱\n\nان کا خاص حصہ ہے ۔\nاکثر مقدس بزرگوار ان کی آزاد حالت و بے تکلفانہ رنگ سے نارضامند ہیں ۔ اُن\nکے زندہ دل ۔ رنگین مزاج ۔ خوش مذاق طبیعت دار ہونیکا ہمکو بھی اعتراف ہے ۔\nانسان کی ریائی حالت سے یہہ رنگ بدرجہا بہتر ہوا کرتا ہے ۔ اس سے کسی کو دھوکہ\nنہیں ہوتا ۔ ہم بھی پبلک کے سامنے فرشتہ کی شان یا مجتہد کی حیثیت سو اُن کو\nپیش کرنا نہیں چاہتے ۔ وہ انسان ہیں اور بحیثیت انسان اُن پر اس قسم کے اعتراض\nہونے آسان ہیں ۔ مگر اُن کے خوش عقیدہ مسلمان ہونے میں کیطرح ہمکو شک نہیں ۷\nوضع صفی نہ پوچھو اک رند پارسا ہے لب پر صنم صنم ہے دلمیں خدا خدا ہے\nوہ با اقبال ۔ صاحب تدبیر خوش نصیب ہیں ۔ مگر اپنے احباب کی طرف سو خوش\nقسمت نہیں ۔ اور تعجب یہہ ہے کہ جسقدر زیادہ جس شخص سے اُنکا واسطہ خصوصیت پا\nاُتنا ہی زیادہ اُس سے وہ مایوس ہوتے ہیں ۔ اس موقع پر بھی اُن کو خاص احباب سے\nشکایت کا پہلو ہاتھ آیا اور ان کے احباب میں سے کسی نے خبر اُڑائی کہ ہز مجسٹی امیر\nاپنے سفیر سے نارضامند ہیں ۔ کسی نے مشہور کیا کہ وہ اس عہدہ پر اب قایم نہیں رہ سکتی\nکسی نے شہرت دی کہ جوابدہی کے لیے کابل طلب ہونگے ۔ غرضکہ بہت\nسی افواہیں اُڑائیں ۔ مگر ۳ ۔ مارچ ۱۹۰۷ع کو بمقام لاہور ہز مجسٹی امیر نے اپنے\nسفیر سے برٹش افسران کی موجودگی میں فرمایا ۔\n”لوگوں نے یہہ خبر غلط مشہور کی ہے کہ ما بدولت آپ سے ناخوش ہیں ۔\nآپ کو معلوم ہے کہ کون اس کا باعث ہے “\nسفیر نے گزارش کیا کہ جس اپنے ملازم پر نظر عنایت باد شاہ ہوتی ہے\nاُس کے ہزاروں حاسد ہو جاتے ہیں ۔ میں کس کا نام عرض کروں ۔ “\nالبتہ ہمنے یہہ ضرور سُنا کہ سفیر صاحب برای چند یوم دامنی اپنی خدمات\n\n۳۲"}
{"book": "adl0234", "page": 251, "text": "۲۴۲\nسے سبکدوشی چاہتے تھے۔ مگر اعلحضرت ہز مجسٹی نے اُسوقت اُن کی استدعا\nکو نامنظور فرمایا۔ اسپر اُنہوں نے کوئی عرضداشت مصاحبان اعلحضرت کے سپرد\nکی جسکے مضمون و نتیجہ سے اب تک ہم لاعلم ہیں۔\nاُن کے احباب مین صرف ایک حکیم حافظ محمد اجمل خان رئیس دہلی سچے\nخیر اندیش ہیں۔ مگر حکیم صاحب فطرتاً اس قسم کے انسان ہین جو اپنے\nمخالفون کے بھی بدخواہ نہین ہوتے۔\nسفیر صاحب میں بھی یہ خاص صفت ہے کہ وہ تمام اپنے احباب سے\nیکسان برتاؤ فرماتے ہیں۔"}
{"book": "adl0234", "page": 252, "text": "۲۴۳\n\nکمیٹی مهمانداری\n\nمعمولی طور پر کمیٹی مهمانداران ایسی چیز نهیں جس کو ضروری جزو کتاب\nکیا جاوے۔ اس کا اثر نه ملک کے پالیٹکس پر پڑتا ہے۔ نه سوسائٹی کے\nمتعلقات سے سمجها جا سکتا ہے۔ مگر اس خاص صورت میں هم اس کو ایک\nنهایت ضروری امر سمجهتے هیں که اس کے ارکان میں سلطنت کابل و برٹش انڈیا\nکے ملازم و افسران مقرره اور چند ان ہندوستانیوں کا تعلق ہے جو ملازمت\nسے الگ هیں۔\nایسے مجموعه مختلف القابلیت کی خدمات پر نظر ڈالنا اور مصالح ترکیبی سے بحث\nکرنا قرین مصلحت سمجها۔ اور یهه دکهلانا مناسب معلوم هوا که کسی مجموعه کی\nناموزون ترکیب مقاصد اصلیه کو کس طرح نقصان پهونچاتی ہے۔ اور خاص\nنامناسب طریقه کے اثر کسطرح منجر به نتائج عام هوجاتے هیں جس سے\nایک قوم یا ملک کے باشندوں کی نیکنامی و بدنامی پر اثر پڑتا ہے۔ اور\nسب سے زیاده یهه دکهلانا مقصود ہے که قدرتی اخلاقی بڑهائی کس طرح سے\nهجوم کشاکش میں آخر کار ممیز و ادق هوتی ہے۔\nاس کمیٹی میں تین قسم کے ارکان تهے۔ ایک یورپین ملازمان برٹش گورنمنٹ\nدوسرے سفیر افغانستان۔ تیسرے هندوستانی جنہیں قریب قریب\nسب اهل پنجاب تهے۔\n\nانگش پارٹی یورپین جماعت میں سر هنری میکمهن چیف کمشنر بلوچستان۔ مسٹر\nڈابس ڈپٹی فارن سکریٹری۔ ڈاکٹر میجر برڈ۔ میجر ڈیوک۔ میجر بروک کپٹن ریزری"}
{"book": "adl0234", "page": 253, "text": "۲۴۴\n\nکیپٹن ڈرمینٹ تھے۔ ان مین ہر ایک افسر اپنے فرایض و ذمہ داری\nسے آگاہ۔ خدمات مفوضہ کی بجا آوری مین مجسم اہل اور قابلیت مہمان نوازی\nکی بنا پر انتخاب تھا۔\nسر ہنری میکموہن بلحاظ حکمران صوبہ سرحدی مہمانون کی طرز معاشرت سے\nباخبر۔ پشتو و فارسی کے زباندان۔ فطرتی و ذاتی قابلیت کے اعتبار سے\nمتین۔ دور اندیش مستعد۔ جفاکش جن کی باتون مین نرمی اخلاق مین خدا داد\nتہذیب ہے۔ انتظام مہمانداری مین جس اعلیٰ مرتبہ پر وہ تھے اسی لحاظ سے\nاپنے فرائض کے بجا لانے مین انہین انہماک تھا۔\nمسٹر ڈابس۔ بربناء شرکت ڈیمینیشن اہل افغانستان کے اخلاق سے\nواقف اور فارسی کے ماہر۔ رموز تہذیب سے آشنا۔ نہایت سنجیدہ جفاکشی\nو با خبری مین شاید ہی کسی کو ان کی ہمسری کا دعویٰ ہو۔\nمیجر برڈ۔ ان کو شاہ افغانستان کے معالج ہونے کا شرف حاصل ہے۔ گورنمنٹ\nآف انڈیا کی طرف سے ہر مجسٹی امیر کے علاج کی غرض سے آپ افغانستان بھیجے\nگئے تھے۔ ان کے حسن خلق۔ خوش مزاجی۔ اور قابلیت کا وہ شخص صحیح اندازہ کر سکتا\nہے جو ان سے ایک دفعہ بھی مل لیا ہو۔\nمیجر ڈیوک۔ میجر بروک۔ کیپٹن رییزی۔ کیپٹن ڈرمینٹ۔ ان مین ایک سے ایک\nبہتر عادات و اطوار مین شریف الخصال۔ خوبی انتظام و حسن مہمانداری مین\nاپنی آپ مثال ہے۔\nحق یہ ہے کہ خداوند عالم جس زمانہ مین جس قوم کو زمین کا وارث بناتا ہے اور\nجس کے ہاتھ مین عنان سلطنت دیتا ہے اس قوم کے اطوار۔ افعال اور اقوال\nمعاملات اخلاق بحیثیت مجموعی عام طبقون مین برتر و ممیز ہو جایا کرتے ہین۔"}
{"book": "adl0234", "page": 254, "text": "۲۴۵\n\nیورپین حکام نے ابتداے سفر سے تا اختتام سفر ہز مجسٹی امیر کے راحت و\nآرام پہونچانے مین کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ ذرا ذرا سی بات کا خیال\nرکھا۔ جس امر مین اعلیحضرت امیر کی ناپسندیدگی کا شبہ گذرا۔ اُسکو نہونے دیا\nجس چیز کی ضرورت محسوس ہوئی وہی حاضر جس شے کی حاجت پیش آئی معلوم\nہوئی وہ طلب سے پہلے موجود ۔ اپنی تمام آسائیشین فراموش۔ رات دن اسی دُہن مین\nرہے کہ کوئی پہلو نا خوشی یا بے لطفی کا نہ نکل آئے۔ شبانہ روز کی راحتین قربان\nکردین۔ مگر ہز مجسٹی امیر کی طبیعت پر گرانی نہ آنے دی۔ باتین کین وہ جس سے فرحت\nہو۔ سامان بہم پہونچائے تو ایسے جن سے راحت ملے پورا پورا اتباع صاحبان\nموصوف الصدر کا تمام مقامی برٹش افسران نے بھی کیا۔\nانگلش پارٹی عموماً اور سر ہنری میکموہن ومسٹر ڈابز خصوصاً مراسم مہمانداری\nبجالائے۔ فرائض مدارات ادا کرنے کے صلہ مین بعید مستحق تحسین و آفرین ہین\nوہ ہر موقع پر ایک رفیق مزاجدان و مصاحب دلسوز کیطرح ساتھ رہے جس خوبی\nو خوبصورتی سے اُنہون نے یہہ ڈیوٹی انجام دی وہ خارج از توصیف ہے۔\nبعد مراجعت ہز مجسٹی امیر کے بمقام پشاورے، مارچ ۱۹۰۷ء کو سر ہنری\nمیکموہن نے فرمایا کہ مجھے تمام زمانہ سیاحت مین صرف ۵ گھنٹے دن رات\nمین ملتے تھے جن مین کچھہ آرام کر سکتا تھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ جب حضور وائسرائے\nنے سفر بعافیت ختم ہونے وصحت و تندرستی کی دعا پر اظہار مسرت کا آخر تار\nہز مجسٹی امیر کو دیا تو اُس کے جواب مین اعلیحضرت شاہ افغانستان شکریہ کے ساتھہ\nاس اظہار پر مجبور ہوئے کہ یوراکسیلنسی نے سر ہنری میکموہن ایسے لایق افسر کو میرا\nمہماندار مقرر کیا اور سر ہنری نے جو انتظام کیا اور مدد دی اُس سے مین غایت\nدرجہ خوشنود ہوا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 255, "text": "۲۴۶\n\nاس سے زیادہ ہمارے بیان کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔\nدوھ کرنیں سردار محمد اسمعیل خان سفیر دولت خداداد افغانستان نگران\nکمیٹی تھے جن کی خدمات و حالات کسیقدر صراحت سے جداگانہ بیان ہوچکے\nہیں بیان اعادہ کی ضرورت نہیں۔\n\nہندوستانی جماعت\nتیسرے ہندوستانی۔ اس طبقہ کی ترکیب یوں تھی :\nفقیر سید افتخار الدین صاحب ممبر رال ٹونک۔ سید مراتب علی شاہ داماد فقیر صاحب موصوف\nسید مراتب علی شاہ ہموطن فقیر صاحب - غلام جیلانی خانصاحب زمیندار منٹگمری\nمرزا محمد اکبر علیخان صاحب دہلوی - غلام قادر صاحب پشاوری ممبران\nو مرزا محمد منظور علی خان صاحب سکرٹری\nان کا انتخاب سفیر صاحب کابل کی رائے سے ہوا۔ فقیر سید افتخار الدین\nاس کمیٹی کے میر مجلس بلحاظ ملازمت گورنمنٹ قرار پائے۔\nیورپین جماعت کی حُسن خدمات کے جو اچھے نتائج پیدا ہوئے وہ ایک امر\nبدیہی ہے اور ان کی پوری قدر و توصیف برٹش گورنمنٹ یا دولت افغانستان\nکر سکتی ہے۔\n\nاہل ہند کا اس سلسلہ نظم میں اندراج پبلک کی نگاہ میں ابتداً باستثناء مرزا محمد\nاکبر علی خان و مرزا محمد منظور علیخان نامناسب سمجھا جاتا تھا (اور تعجب یہ تھا\nکہ خطہ پنجاب جہان قسم کے قابل نظم با اثر ذی وقعت صاحب ثروت اصحاب\nلے غلام قادر کا نام ضرور تھا مگر کام نہیں لیا گیا۔\n؎۲ اس کر پہلے مرزا محمد اکبر علی خان صاحب بوقت تشریف آوری شہزادہ عنایت اللہ خان کلکتہ میں خدمت مہانداری بجا\nلا چکے تھے مرزا محمد منظور علی خان کچھ زمانہ تک کابل میں قیام کی عزت دربار ہز میجسٹی کے حضور میں باریابی کا شرف حاصل\nکر چکے تھے علاوہ ازیں خاندانی اعتبار و ذاتی لیاقت و وجاہت کے لحاظ سے بھی وہ درجہ امتیاز رکھتے ہیں۔"}
{"book": "adl0234", "page": 256, "text": "۲۴۷\n\nبکثرت موجود ہون اور وہان سے ایسا انتخاب، پس جسقدر اچھا یا برا وقوع مین آیا\nاُسپر استعجاب کا موقع نہین۔ اسلیے کہ ایسے عظیم الشان موقعون پر جہان اسقدر\nعالی اخلاق و تربیت کی ضرورت ہو اور صرف خطیر ہاتون مین رہے۔ ضرور ہے\nکہ بے جانچے ہوئے اخلاق قابلیت و مقاصد کے ممبران کے ہاتھ مین وہ نتائج\nنہ پیدا کرے جو مہمان یا میزبان کے دل و دماغ مین ہون۔\nان ہندوستانی اصحاب کی حالت وہ تھی جسکو حالت محتملہ کہتے ہین۔ یہہ نہ\nاُس مرتبہ پر تھے جن کے اخلاق و قابلیت کی جانچ ہوچکی ہو۔ نہ ان مسلم الثبوت\nطبقہ مین سے ہین جن کو شروع سے تربیت کا موقع ملتا ہے۔ اور اکتساب\nدنیا کو خادم آبرو سمجھتے ہین۔ ایسے اشخاص کیسی خدمت کو خواہ اچھی طرح ادا\nکرین یا برعکس مگر نگاہ خلایق مین ہمیشہ استنباہ سے دیکھے جاتے ہین اور ان\nکے افعال اگر حد معقول تک محمود نہون تو ہمیشہ طرح طرح کی بدگمانیون اور غلط نتیجہون\nکا موقع ملتا ہے ان کی بدنامی اُس قوم اور ملک سے منسوب کیجاسکتی ہے جس\nملک و قوم مین وہ ہون۔ ہم کسی شہادت تفصیلی کی بنا پر کوئی حتمی رائے نہین\nقائم کرسکتے۔ کہ ان کی خدمات خاطر خواہ تہین یا نہین۔\nمگر قیاس دانخواہ داعی ہے کہ اغلباً خالی از اعتراض نہ ہون۔ خاصکر اُن معاملات\nمین جن مین منافع ذاتی کا احتمال ہے اگر کوئی صورت اس قسم کی پیش آئی یا آئیگی\nوہ بڑی افسوسناک بات ہے۔\nاولاً اسلیئے کہ اس مجلس کے سرگروہ ایک معزز ملازم سرکار فقیر سید افتخار الدین\nتھے جنکا فرض منصبی تھا کہ خود احتیاط سے کام کرتے اور ایسے لوگون کی قابلیت\nکا اندازہ کرنے کے بعد سب حالات اپنے یورپین افسران کی اطلاع مین لاتے\nاور صحیح خبرین پہونچاتے اور ذاتی قرابتون و دوستانہ تعلقون کی پرواہ نہ کرکے"}
{"book": "adl0234", "page": 257, "text": "۲۴۸\n\nپبلک خدمات کا حق ادا کرتے۔\nدوسری بڑی خرابی یہ ہے کہ مثلاً ایسے موقع پر جہان برٹش گورنمینٹ\nنے ایسی فراخ حوصلگی سے سامان مہمان داری کیا ہو ۔ اور ایسے محترم مہمان کی\nمہمان داری ہو۔ وہان کیسی شرمناک و تعجب خیز بات ہے۔\nاگر کسی کی زبان پر یہ آئے کہ اس شخص کے مطالبہ مین انصاف نہیں ہوا\nیا اُس شخص کو معاوضہ اُس کی چیزون کا نہیں ملا۔ یا خدمات کے بدل سے وہ\nمحروم رہا۔ یا برٹش گورنمینٹ کا روپیہ جو بعد مناسب اخراجات کے بچنا چاہئیے\nتھا نہ بچا گیا بیجا ہے۔\nاگر برٹش حکام ایسی شکایتون کے بعد یہ گمان کرین کہ ایشیائی قابلیت۔ یا\nدیانت کبھی قابلِ اعتبار نہین۔ ایسی صورت مین ملک کا خون ان حضرات\nکی گردن پر قیامت تک رہیگا۔ یا پبلک جو نازک فرقون مین بہت کم امتیاز\nکرتی ہے۔ یہ کہہ بیٹھے کہ برٹش گورنمینٹ کے فلان معزز میزبان کی مہانداری\nمین جو مطالبات جسطرح ادا ہونا چاہئیں تھے ادا نہین ہوئے۔ ایسے محتمل\nسے گورنمینٹ کی فیاضانہ منظور شدہ رقم کے ساڑھے سات لاکھ روپیہ اکتیس سو مہمانون کیلئے تھی\nمگر مہمان گیارہ سو آئے پھر وہ نقشہ جات و گوشوارے اخراجات جو کمیٹی نے تیار کیے تھے۔ اور جن پر\nمیان کریم بخش سیٹھ پشاور نے اعتراض کیا تھا۔\nاُن کا مقابلہ گورنمینٹ کی عطیہ رقم سے کیا جاوے ۔ اسکے ساتھ ہی محمد وحید طالبعلم\nعلی گڑھ کالج جنھون نے دانا پور مین اہتمام مہمان داری کیا تھا اور اپنے پاس سے کچھ رقم\nخرچ کر دی ہے۔ ان سے دریافت کیا جاوے کہ اُن کے حق مین کیا انصاف\nہوا۔ اُسوقت حقیقت کھلے اور بسا تعجب ہو۔\n\nاور شکائشی کہ موقع پرانی خدمات شیا قابلیتا ادا کرنا اور ا میزبان کو سدایسی تک مندر کی قیمت بودین بی جماعت کاک کام"}
{"book": "adl0234", "page": 258, "text": "۲۴۹\nاور اُن کی اس اخلاقی و عقلی عظمت کا نتیجہ تھا جسنے اُن کو فرمانروای وسیع السلطنت\nبنایا ہے۔ ذالک فضل الله یوتیہ من یشاء۔\nخدا ہندوستان کی قسمت مین ایسے مبارک موقع مہانداری کے پھر لائے\nاور ہماری یہ استدعا برٹش گورنمنٹ کے پایہ قبول تک پہونچائے کہ ایسی کمیٹیون\nکی ترکیب مین خاص توجہ مبذول رہی مسلم الثبوت خاندان و اعلیٰ طبقہ و مراتب کے\nممتاز لوگ جو دل کے سخی ہون انتخاب کیے جائیں۔ اگر سب ہندوستانی منتظم\nایسی قابلیت کے ہوتے جیسے مرزا محمد منظور علی خان و مرزا محمد مسرور علی خان\nخلف مرزا محمد اکبر علی خان ہین تو خدمات مهمانداری بہت زیادہ فروغ و فراغ\nسے انجام پاتین۔ آگرہ و کلکتہ کے انتظام اِسکے شاہد ہین۔\nجن لوگون یا قومون مین آثار ترقی پائے جائین مان لینا چاہیے کہ اُن کی\nنیت کا پھل اور راستی معاملہ کا ثمرہ ہے۔ اور جو لوگ بُرائی مین نفع حاصل کرنیکا نام\nخوش تدبیری رکھین۔ اپنی خطاؤن کو عزیز جانین۔ عیبون کو ہنر سمجھین۔ غلطیون پر فخر\nکرین گو اُن کو اپنی کامیابی پر ناز ہو۔ مگر اطمینان قلبی نہین ہوتا۔ اُن کا کانشس\nخود اُن پر ملامت کرتا ہے۔ پھر یہ خیال سخت معیوب و خطرناک ہے۔ بُرائی۔ یا\nبدعہدی کی سزا۔ خداوند عالم کے حضور سے بہی جلد یا بدیر ضرور ملتی ہے اور جو بد نما\nداغ جبین ناموری پر لگ جاتا ہے۔ اُسکو ہفت قلزم ہی نہین دہو سکتی ہے ارشاد\nرسول کریم ہے کہ تم بندگانِ خدا کا فرض ادا کرنے مین سچے رہو۔ کیونکہ جس شخص کو\nلوگون کا کام سپرد کیا جاتا ہے اور وہ اس فرض کو راستبازی سے ادا نہین کرتا\nتو خدا اُسپر بہشت حرام کر دیتا ہے۔\nاوپر بیان ہو چکا ہے کہ اعلیٰ برٹش منتظم رفیق سفر کو تمام زمانہ سیاحت مین کسی\nدن پانچ گھنٹے سے زیادہ آرام کرنیکا وقت نہ مل سکا۔ اب اِدھر کی حالت دیکھیئے\n۳۲"}
{"book": "adl0234", "page": 259, "text": "۲۵۰\n\nبعد نماز صبح بیدار ہوئے۔ اتفاق کی بات دوسری ہے ورنہ ٹھیک وقت\nیہی تھا۔ حوائج ضروری سے فارغ ہو کر غسل فرمایا۔ چا، آئی۔ اُسکے ساتھ ہر قسم کی\nمٹھائیاں۔ کیک بسکٹ۔ میوہ جات۔ اب چائے کے بنانے مین۔ چائے کے پینے\nکو وقت چاہیے۔ پھر کیک وغیرہ کھانے مین۔ اچھا گھنٹہ سوا گھنٹے صرف ہوا۔\nاس کے بعد تبدیل لباس کیا۔ انگریزی فیشن ڈبل سوٹ برجس کے ساتھ۔ جس کا\nپہننا ہندوستانی کپڑوں کیطرح آسان نہین لباس پہنا۔ ٹائی کا لر کو آئینہ مین دیکھا\nسواری صبح سے تیار کھڑی تھی سوار ہوئے جو راہ مین ملا اُس سے اپنی عدم الفرضتی\nکا اعلان۔ تکالیف و محنت کی منادی کرتے ہوئے یورپین پارٹی میں حاضر ہوئے\nروہر اُدہر کی باتین کین۔ غمگین صورت بنا کر دبے لہجہ مین۔ اپنی حالت۔ سفیر کی\nکیفیت پر سوز پڑہے۔ تھوڑی سی رقت ہوئی اپنے دِل کا بخار نکل گیا۔\nدوسرے کا خیال بدل گیا۔ پھر افغان پارٹی مین پہنچے۔ یہاں بھی اپنی کم فرصتی\nاور مشکلات کی شکایت کی۔ ایک بڑے فرض سے نجات پائی۔ اتنے مین بریک\nفاسٹ کا وقت آیا۔ ہارے تھکے قیامگاہ پر پہنچے۔ کپڑے اُتارے خدا کی\nرزاقی کے قربان جائے ( ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب)\nجو پشتون کے لئے جسکو چاہتا ہے رزق عطا فرماتا ہے۔ خوان پر خوان آنے\nشروع ہوئے جو کھانے مہمانوں کو فرمایش پر ملنے دشوار۔ وہ یہاں بےطلب موجود\nنہ موجود ہونے کی وجہ۔ تمام عزیز و اقارب ایجنٹ میکائیل بنے ہوئے متعدد\nاقسام کی لذیذ کھانے۔ بھوک کھلی ہوئی کسیقدر اشتہا سے زیادہ کھایا۔ اب\nدستر خوان سے اُٹھے یا اُٹھائے گئے۔ تو بیٹھنا دشوار۔ وہم سے پلنگ پر اور تکیہ بتید\nے لفٹنٹ محمد اکبر خان ڈاچھی نے اس احتیا بطعام کو محسوس کر کے اپکی شکایت کی تھی دیگر بچون کو بھی اسکا شاکی پایا\nمہمانون مین بھی اکثر کو یہ بات معلوم ہوئی مگروہ اپنی کریم النفسی سے کوئی شکایت زبان پر نہین لائے +"}
{"book": "adl0234", "page": 260, "text": "۲۵۱\n\nے کثرت آب وغذا سے واقعی آتی ہے نیند۔\nبشکل تمام بعد عصر آنکھ کھلی۔ تو تفنن کا وقت حاضر۔ اس سے فرصت پائی کپڑے\nپہنے۔ سیر و تفریح کو روانہ ہوے۔ نہ جائین تو بنے کیسے۔ رفع تکان وانشراح\nطبیعت کے لیے یہی وقت نکالنا ضروری بات۔ راہ مین کوئی بے تکلف شناسا ملگیا\nتو زیادہ سیر کی۔ ورنہ پہر پھرا کے صورت پر کا رہر کز پر آئے۔ اتنے مین ڈنر کا وقت آگیا\nمگر بادل ناخواستہ کھایا۔ کچھ سو ہضمی کی بھی شکایت زبان پر آئی۔ یہہ خدا نے معدہ\nہی ایسا قوی عنایت فرمایا تھا ورنہ اس کثرت غذا پر تو تخمہ کا خوف تھا۔ سو ہضمی کیسی\nجبکہ کسی قسم کی محنت و ورزش نہو تو یہہ خوف بیجا نہ تھا۔\nاب وہ وقت آیا جو آزاد طبیعتون کے لیے مال کار شادمانی ہے۔ یہان ہم سکوت سے\nکام لیتے ہین کیونکا صاف صاف حال لکھنا مشکلات سے خالی نہین۔ بھلائی مین\nتعلق کا اندیشہ اسکے عکس مین دل شکنی کے الزام کا خطرہ گو دونون سچے ہی کیون\nنہون۔ پہر ذاتیات سے بحث کرنا ہمارے مقصد سے خارج ہے۔ صرف یہہ سوال\nیہان پیدا ہوتا ہے کہ جسکو عمدہ اور مقوی غذائین میسر آئین۔ ہو اسے خوش طبیعت\nمین فرحت پیدا کرے اور استفراغ طبیعت نہ ہو تو دماغ پر گرانی کا احتمال ہے\nاور یہہ حالت منجر بجنون ہو جائے تو تعجب انگیز نہین۔ اس صورت مین خداوند عالم\nکی خاص رحمت افغان مہمانون اور یورپین منتظمون پر خیال کرنا چاہیے کہ باوصف قوت و\nاختیارات کسی مشغلہ شباب کیطرف بھولے سے بھی رغبت نہ فرماتے تھے۔\nعلاوہ مذکورہ بالا شغلون کے دوست و احباب کی ملاقاتین۔ آئے گئے کی مدارات\nاہل وطن وعزیز واقارب کی فرمائشات کی تعمیلات۔ ذاتی خرید و فروخت خط و کتابت\nغرضکہ کھانا ضروریات زندگی۔ سونا صحت کے لحاظ سے واجب۔ احباب و دوستان\nسے ملنا۔ اخلاقی فرض۔ ذوالقربی و ہمسایہ کے ساتھ احسان کرنا تعمیل احکام الٰہی"}
{"book": "adl0234", "page": 261, "text": "۲۵۲\nیورپین حکام کے یہان حاضری موجودہ و آیندہ کے خیال سے تمام فرایض سے بڑہکر\nافغان مہمانون کی خدمت مین جانا کار منصبی- رہگئے اشغال سیر و تفریح- یہہ ہی زندگی\nکے لوازمات سے بیگانہ نہین ہین- اس تفریق اوقات پر غائر نظر ڈالی جائے تو کسی\nوقت کی نماز تک ادانہ ہوتی تھی ؎\nسر سرکش نہین سجدہ سے واقف\nنماز صبح رخ کبرن قضا کی\nگلابی ہے مرے تقوے کا جامہ\nاگر ابہی ہون تو قبلہ کے مخالف\nتراویح شب گیسوا دا کی\nردائے دختر رز ہے عمامہ\nاس سے شاید بشکل انکار ہو سکے کہ جسقدر مذہبی عظمت و اسلامی رنگ دلمین\nہوگا اسیقدر خوف خدا اور اسی پایہ کی اخلاقی حالت ہوگی۔ منتظمان کمیٹی کے مسلمان\nہونے مین کسی کافر کو شک ہو سکتا ہے۔ مگر مسلمان کے لئے مایہ فخر ہونے مین کلام\nہو تو چندان عجب نہین- ؎\nعجب ہے کہ جو قوم ہو سب سے اعلیٰ\nمجھے یاد آتی ہے اک نقل زیبا\nاُسی کے ہون افسوس اطوار بیجا\nکسی نے یہہ کہتے ہین سعدی ؒ سر و پا\nکہ سید اگر ہو شرابی جواری\nتو احکام کیا اُس پہ ہوت ہین جاری\nلکہا شیخ نے ایک قطعہ جوابی\nبنی فاطمہ ہاشمی ۔ بُو ترابی\nکہین مینے دیکہی نہین یہ خرابی\nغضب ہے کہ ہووین جواری شرابی\nخدا نے کیا ہے انہین نور طاہر\nطہارت ہے قرآن سِے ان کی ظاہر\nاور ایسا اگر ہے تو اے وائے قسمت\nانہین سے پیمبر کو کب ہوگی فرصت\nقیامت مین امت پہ ٹوٹی مصیبت\nکہ آئیگی اپنی شفاعت کی نوبت"}
{"book": "adl0234", "page": 262, "text": "۲۵۳\n\nانہین کے بکھیٹرون مین وہ دن تو سارا\nنکل جائیگا کون ہے پہر ہارا\nاس عنوان پر اگر ہم تفصیلی لکھنا چاہین تو دفتر ہو جائے اور داستان ختم نہو ہمنے\nہندوستانی کمیٹی کا ایک ادہورا نا تمام اور اجمالی خاکہ دکہلایا ہے۔ اگر اصلی صورت مع خط\nو خال پیش کی جائے تو پبلک کو عجیب و غریب جلوے نظر آئین۔\nاسکا ہم کو اقرار ہے کہ فقیر صاحب کے خوش تدبیر ہوشیار مصاحب\nنصیب ہونے مین شک نہین۔ بخت و اتفاق نے جس چھوٹی ملازمت سے\nانہین اس ترقی کے زینہ پر پہنچایا یہہ انہین کا حصہ ہے۔ میری مال\nٹونک مین جو بات اُنہون نے چند دنون مین حاصل کی لوگون کو پشتون\nمین جاکر نصیب نہین ہوتی۔ تمام ریاست مین دخل بختیار عزل و نصب سب\nاپنے ہاتہہ مین۔ سید اقبال علی شاہ حقیقی بھائی سید مراتب علی شاہ لاہوری اپنے\nہموطن کو یکبارگی ناظم ریاست بنا دینا تھوڑے اختیار کی بات نہین۔\nانٹرٹینمنٹ کمیٹی کی سپرنٹنڈنٹی نے بڑے بڑے حصول مراتب کے ذرایع بخشے\nاعلیٰ برٹش حکام و افغانی سردارون سے بے تکلف ملاقاتین۔ کمانے کا انتظام\nاچھے اچھے نامور امراء کی حاضری۔ اور آخر مین برٹش ایجنٹی کابل۔ یہہ وہ قابل\nرشک باتین ہین جن کی تمنا امراء و روساء کو ہو۔ تو ناز بیا نہین۔\nمانا کہ برٹش ایجنٹ مقرر ہونے کے وقت آپ بخوشی نہین گئے۔ آپ نے اپنی\nضعیفہ مان سے علیحدگی اور اپنی خانگی ضرورتون کے عذرات پیش کیے۔ مگر\nمین اس تقرر پر کہرام تہا۔ ایسے جلیل القدر عہدہ ملنے پر بہی جس گھر مین ماتم\nہو تو شگون نیک نہین اسلیے ضرورت سے زیادہ احتیاط کی حاجت ہو\nورنہ بعض اوقات اختیار و مرتبہ اعلیٰ بخت عاشق کیطرح اُلٹا پڑتا ہو"}
{"book": "adl0234", "page": 263, "text": "۲۵۴\nاٹیچیان\nکمیٹی مہانداری کا ایک جزواٹیچیان کو بھی خیال کرنا چاہیے۔ بارہ اٹیچی\nمع چند اسٹینٹ اٹیچیون کے مامور ہوئے تھے۔ جنین خان بہادر میرشمس شاہ\nاکسٹرا اسسٹینٹ کمشنر صوبہ سرحدی ۔ وسردار محراب خان رئیس کوئٹہ بلوچستان\nجن کی سرسبزی میکوہن خاص عزت فرماتے تھے اور بلوچستان مین پہلے\nتعلیمی یافتہ سردار ہین۔ دونون موصوف الصدر اصحاب مہذب اور با اخلاق\nہین۔ لفٹینٹ آنر بیل ملک عمر حیات خان ٹوانہ سی۔ آئی۔ ای ۔ ولیفیٹنٹ\nمحمد اکبر خان رئیس ہوتی مردان۔ دونون جوان خوش طبع ۔ رنگین مزاج ۔ با مذاق\nو خوش خلق ہین۔ باقی دیگر اٹیچیان مختلف العمر ومختلف المزاج مگر سب کے سب\nقابل و انتخاب تھے۔\nان حضرات کے ذمہ کمین مہمانون کا اسباب اُتروانا ولدوانا۔ کہین کرایہ\nکی گاڑیون کا اہتمام۔ کہین اسباب کی گاڑیون کو مہمانون کے قیامگاہ پر پہنچوایا\nکبھی غلام بچہ گان حضوری کی نگرانی ۔ باقی اسپیشل ٹرینون مین ہمراہی\nمہمانون کے سفر۔ یونیفارم مین اسٹیشنون پر نزول اجلال اور سیر وتفریح۔\nاسسٹینٹ اٹیچیون مین محمد حیات ڈپٹی انسپکٹر پولیس ڈیرہ اسمعیلخان\nنے بڑی سرگرمی و محنت سے اپنا کام متعلقہ انجام دیا۔\nالبتہ حسان بہادر شیخ مولا بخش جو مستقل فارن اٹیچی گورنمنٹ آف\nانڈیا ہین۔ ان کے ذمہ نازک و ذمہ دارانہ خدمات تہین۔ ہز مجسٹی\nشاہ افغانستان کے حضور مین ان ہی کو باریابی کا شرف حاصل ہوتا تھا\nباس متین ۔ بے شر۔ مجسم اہل ۔ بے مثل ۔ قابل بزرگ نے"}
{"book": "adl0234", "page": 264, "text": "۲۵۵\nجس شایستگی و حُسن لیاقت سے اپنی خدمات مفوضہ انجام دین\nوہ فی الحقیقت قابل تحسین و تعریف ہے ۔\nان کی قدردان خود ان کی گورنمنٹ ہے وہ ان کے حُسن خدمات\nکے صلہ میں ضرور خاص توجہ مبذول فرمائے گی ۔ *"}
{"book": "adl0234", "page": 265, "text": "۲۵۶\nافغانستان برٹش گورنمنٹ کا سید ہا بازو ہے۔ برٹش گورنمنٹ سے اتحاد افغانستان کے لیے ترقی کا سید ہا\nراستہ ہے بیسوین صدی کے مورخ یا بحث کرنیوالے کو اس امر کی ضرورت باقی\nنہین رہی کہ وہ اتفاق و اختلاف شخصی یا سلطنتی کے مقابلہ مین تضیع وقت کری\nیہ امر علوم متعارفہ مدبران وقت کا ہو چکا ہے۔ تا وقتیکہ کسی سلطنت کا فنا\nکر دنیا ایک مادۂ فاسد کی طرح قرین مصلحت یا ضرورت حالت نہ ہو یا اختلاف\nسلطنتی بدتر سے بدتر خرابیون کیطرف منجر ہوتا ہے۔ اور یہہ خرابیاں صرف\nکمزور ہی سلطنت کے متعلق نہین ہوتین بلکہ قوی سلطنت کو بہی متزلزل کر دیتی\nہین ۔ اور زیادتی قوت جو نفسانیت کے لیے کمزور قوت کے مقابل عبادآناً\nکام مین لائی جاتی ہے۔ اُسکا مواخذہ نہ صرف خدا وند عالم کے سامنے\nہوتا ہے۔ بلکہ زیادتی کرنے والوں اور انکی نسلون کے سامنے آگے پیچھے\nآتا ہے جب زبردست فریق کو اپنی نفسانی غرضون کی وجہ سے اپنی ۔\nزیادتیوں کا خمیازہ اُٹھانا پڑتا ہے۔ تو ضرور ہے کہ کمزور فریق کو بطریق\nاولے اپنی جہالت و کمزوری کا نتیجہ بھگتنا پڑے۔\nسلطنت کی مصلحتین بھی قریب قریب انہین اصولوں پر مبنی ہیں جو شخصی\nزندگی کے لیے مہتم بالشان ہین۔ مثلاً کہی شخص کے دو پڑوسی ہون تو ضرو\nہے کہ ان تینون کے حالات معاشرت و تمدنی مین ۔ خواہ باعت بار دوت\nخواہ باعتبار علم۔ خواہ باعتبار قوت جسمانی فرق ہوگا ۔ ان مین سے زبردست\nسے زبردست یا دولتمند سے دولتمند یہہ نہین کہہ سکتا کہ مجہہ کو اپنے ہمسایہ\nکی ضرورت نہین ۔ اسیطرح اضعفین مین کوئی یہہ خیال نہین کر سکتا کہ وہ"}
{"book": "adl0234", "page": 266, "text": "۲۵۷\nاپنے اعلیٰ پڑوسی کی مدد سے مستغنی ہے یا اُسکو مشتعل کرکے اپنے کو بری ازخطر\nسمجھے ۔ یہ قیاس پوری قوت سے امورِ سلطنتہائے متقارببین سے تعلق رکھتا ہو\nبڑی سے بڑی سلطنت یہ نہ سمجھے کہ اُسکو خواہ ابقائے سلطنت میں یا اقویٰ\nسلطنت کے معاملات میں اپنے غیرمساوی ہمسایہ اور اقرب سلطنت کی\nضرورت نہ پڑے گی ۔ چہ جائیکہ سلطنت متوسط کو جسے جانبین کی دو سلطنت\nاُس سے قوی تر اور غیر موافق الاصول سے واسطہ ہو ایسی صورت میں سلطنت\nمتوسط کو کسقدر ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے جانبین کی اقویٰ سلطنتوں\nمیں امتیاز کرتا رہے کہ کس کی شرکت قابلِ اعتبار اور اُسکے ملک کی صلاح و\nفلاح کے لیے انسب و اولیٰ ہے۔\nاسیطرح ہر سلطنت اعلیٰ اس امر کی حاجتمند ہے کہ جس سلطنت کو وہ اپنا\nمعاون بنائے اُس کے ساتہہ روابط ومراسم میں کسدرجہ خلوص کام میں لانا\nچاہیئے۔ ہمکو اُن مدبرون کے ساتہہ ہرگز اتفاق نہیں جو غیر ملکوں کے ساتہہ\nبرتاؤ میں محض خودغرضی ملحوظ خاطر رکھتے ہیں ۔ اور تمام تعلقات ومعاملات کو\nایک امر سرسری صرف مشکلات موجودہ کے حل کرنے کے لئے قرار دیتے ہیں۔ دنیا\nکے تمام اصول جن پر بقائے صلاح وفلاحِ عالم ہے۔ صدق وراستی پر مبنی ہیں۔\nتلمیع معاملت گو اہل معاملت کے لیے تھوڑی دیر کے واسطے ایک کو کامیاب اور\nدوسرے فریق کو خاسر بنائے مگر یہہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ کتاب میں\nایک باب یا چپٹر کے غلط ہونے سے تمام کتاب غلط ہو جاتی ہے۔\nاور باعتبار اصول اخلاق جس طرح گلاب کے حوض میں ایک قطرہ نجاست\nپڑنے سے تمام حوض ناپاک ہوجاتا ہے۔ اسی طرح قوم کی زندگی میں کسی قرن\nمیں مدبران سلطنت سے خودغرض پالیسی کیوجہ سے کوئی غلطی عمداً یا ارادتاً\n۳۳"}
{"book": "adl0234", "page": 267, "text": "۲۵۸\nکی جاتی ہے۔ تو گو بظاہر عارضی طور پر کامیابی سمجھی جائے۔ یا اس حساس\nمدبر کے لیئے تھوڑی دیر کو مایہ افتخار ہو۔ مگر اس قوم کی حیات مجموعی مین وہ ایسا\nناپاک دھبہ اخلاقاً سمجھا جاتا ہے جو ابدالآباد تک حقارت کی نگاہ سے دیکھا\nجاتا ہے۔ بیغرض خیال کرنے والے کیلئے یہ بحث ایک عجیب دلکش مناظرہ\nہے کہ افغانستان و ہند کی سلطنتون مین کس قسم کے روابط و اتحاد رہنا چاہین\nخاصکر ایسی حالت مین کہ روس کے اغراض سلطنت ہند کے موافق نہون۔\nاس مین شک نہین کہ گورنمنٹ ہند ایک نہایت با وقار۔ اور حدِ کمال\nتک پہونچی ہوئی سلطنت ہے۔ مگر کیا کوئی شخص اس کہنے کی جرأت کر سکتا ہی\nکہ اسکو افغانستان جیسے ہمسایہ سے اتحاد کی ضرورت باقی نہین\nرہی۔ کسی مرتبہ کا زبردست صاحب علم یا صاحب ثروت آقا ہو مگر کیا وہ کہ سکتا\nہے کہ کسی وقت مین ایک ادنیٰ ملازم اس کو نقصان نہین پہونچا سکتا۔ مثلاً\nبیماری۔ یا تنہائی کی حالت مین ڈاکٹر یا دوسرے معاونون کی مدد میسر آنا۔ بھی\nاسی ادنیٰ نوکر کی معاونت پر منحصر ہوتا ہے۔\nسلطنت کسی مرتبہ کمال یا استحکام پر ہو مگر یہ نہین کہا جاسکتا کہ خود اُس کی رعیت\nسے کیا خطرے پیش آسکتے مین یا دوسرے سلطنت گو اس درجہ کی نہ ہو اسکو\nکسقدر نفع یا نقصان پہونچا سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہہ کہہ لیجئے کہ سلطنت\nقوی تر کو سلطنت ضعیف سے اُتنے موقع ہراس و معاونت کی نہین پڑتی۔\nجتنے سلطنت ضعیف تر کو مگر جب ایک تیسری قوت برابر کی رقیب ہو رہی ہو\nتو اُس قوت کا جو حد مشترک کے طور پر فیمابین سلطنتین واقع ہے۔ اندازہ اُس کی\nقوت اصلی سے نہین کرنا چاہیے۔ بلکہ اُس قوت سے اندازہ کرنا چاہئے۔ جو\nاُس کو ایک قوت سے ملکر دوسرے فریق مخالف کو مقابل مین حاصل"}
{"book": "adl0234", "page": 268, "text": "۲۵۹\n\nہوسکتی ہے ۔ مثلاً دو مخالف قوتین برابر کی ہین ۔ اور ایک قوت ان سے کم\nتو صاف ظاہر ہے کہ جسطرف اس کم قوت کا میلان ہوگا۔ اُس کا مجموعہ\nدوسری قوت مخالف منفردہ سے بہت زیادہ ہوجائیگا۔ اسیلیے وسیع النظر\nمدبران سلطنت ہند کا فرض ہے کہ وہ کابل جیسی قوت کو اپنی سلطنت کے\nبقا و ترقی کی خاطر ایک فیکٹر یا جزو اتحادی سمجھین۔\nدونون سلطنتون کے ہوا خواہوں کو مبارکباد کا مقام ہے کہ سلطنت\nہند کی عنان جن ہاتہون مین ہے۔ اُن کا طرز عمل اسی اصول پر مبنی ہے۔ اور\nاُنہون نے قدمی درمی سخنی اس باب مین کوئی دقیقہ اُٹھا نہین رکھا۔ اور ایک\nمبارک علامت ہے کہ حال کے فرمان روائے افغانستان ایسے روشن خیال\nترقی پسند ہین جنہوں نے با وجود ملکی دفتون کے ایسے موقعون سے بڑے مردانہ\nطور پر فائدہ اُٹھایا۔\nایشیا کی تاریخ مین شاید یہ پہلی مثال ہے کہ ایک ایشیائی بادشاہ ایک\nیورپ کی سلطنت کا اس طور پر مہمان ہوا اور جانبین سے اس طور پر روابط اتحاد\nو مرافقت مستحکم ہون۔ نظر غائر بین سے پوشیدہ نہین رہ سکتا کہ اس قسم کے\nروابط بڑہانے سے اعلحضرت اس امر کی ضرورت سمجھتے ہین کہ افغانستان کی\nآیندہ ترقی کِسقَدَر سلطنت ہند کی دوستی پر منحصر ہے۔\nسچا بیان اور خاصکر کسی کمی یا ضعف کے متعلق ایک امر ناگوار سا ہوتا ہے\nالحَقُّ مُرَّۃٌ ایک متفق علیہ مثل ہے جو شخص افغانستان کا سچا خیر خواہ ہے اُسکو\nاس امر کے اصرار کرنے کی ضرورت ہے کہ افغانستان مین جہان بہترین جواہر\nعقل و دانش۔ قوت و بنیش کے بالقویٰ موجود ہین۔ اوسی کے ساتھ اون مین\nفعلیت کی ضرورت ہے۔ گویا مرتبہ امکان سے مرتبہ عمل مین آنا باقی ہے"}
{"book": "adl0234", "page": 269, "text": "٢٦٠\nجسکے لیئے بہترین مواقع درکار ہیں ۔ کوئی قوت اپنا عمل پورے طور پر نہیں کرسکتی\nجب تک اسکو وسعت مقامی حاصل نہ ہو ۔ اسی لیے تمام عالم کی تاریخ دیکھنے سے\nمعلوم ہو سکتا ہے کہ کسی قوم نے مدارج ترقی طے نہ کیے ۔ جب تک اُس کو\nبہترین مواقع اطراف خارجیہ سے حاصل نہوئے ۔\nللہ الحمد افغانستان جو قدرتی اوصاف میں اس قدر نام آور ہے ۔\nاور اتفاق سے ابھی تک پوری ترقی کا اُسے موقع نہیں ملا ۔ اعلیٰ حضرت جیسے\nوسیع الخیال فرمانروا کی فرمان روائی میں ہے ۔ موقع یمین ویسار موجود ہیں ۔\nاعلیٰحضرت کو اس امر کی سچے طور پر اپنے دل میں تصفیہ کی ضرورت ہے ۔ کہ کام\nمیں لانے کے لیے سلطنت یمنہ یا سلطنت یسرہ انسب و اوفق ہے ۔\nاس کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہر سلطنت کو اپنی حفاظت کے لیے ایک\nخاص احتیاط کی ضرورت ہے اور اپنی قوت پر خاص حد تک منحصر رہنا چاہیئے\nجس طرح حد سے زیادہ عدوان ومخالفت متضاد وجہ وصیح ہے ۔ اوسی طرح\nانحصار لا ینبغی مورث ضعف ورکاکت ہے ۔ اور کبھی خالی از خطر نہیں اس\nحد اعتدال کو نظر میں رکھنے کے بعد ایک ترقی کرنے والے افغانستان\nجیسے ملک کو حاجت ہے کہ اپنی تجارت ۔ تعلیم ۔ صنایع ۔ استعمال معدنیات\nطب ۔ تمدن ۔ سامان و آلات حرب ۔ دولت ملک کے لیے کسی متحد الاغراض۔\nمغربی سلطنت سے مستفید ہو۔ اور اس استفادہ کے لیے صرف دوسلطنتین\nروس۔ برٹش اُسکے قریب ہیں۔ ہم کو سلطنتی تعلقات سے بحث کرنے کی\nضرورت نہیں۔ اتنا لکھنا کافی ہے کہ روس بجائے خود وحشت کی حالت میں ہے\nاور گو کیسی ہی وسیع سلطنت ہو مگر اُس کے اصول سلطنت ہرگز اس قابل نہیں\nکہ دوسرے اُن سے نفع اُٹھائیں ۔ وہ اصول جو نظم سلطنت قائم رکھنے کے لئے"}
{"book": "adl0234", "page": 270, "text": "۲۶۱\nکافی نہین تنزل موجودہ اُسکی حالت بحران نامحمود کی سی بنائے ہوئے ہے\nصرف برٹش سلطنت اس قابل معلوم ہوتی ہے کہ اس سے نفع اُٹھایا جائے\nنہ صرف اِس لیے کہ دونون ہند و افغانستان متفق الاغراض ملک ہیں۔ بلکہ\nاس بنیاد پر کہ برٹش گورنمنٹ کی تہذیب دنیا کی اوّل تہذیبون مین سے ہے اور\nجو نفع افغانستان کو پہونچ سکتا ہے وہ آسان سے آسان طریقہ سے برٹش\nگورنمنٹ ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔\nاس امر مین تہذیب انگلستان کا کسی قسم کا خود غرضانہ بخل اوتنا ہی\nافسوسناک ہو گا جتنا کہ افغانستان کا کسی تنگ خیالی سے انگلستان کی تہذیب\nو اتحاد سے نفع نہ اُٹھانا۔\nبرٹش گورنمنٹ کی یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ افغانستان اُس کی سلطنت کا\nسید با بازو ہے۔ اُس کی قوت سے اس سلطنت کی قوت اور اُسکے ضعف سے\nبرٹش سلطنت کا ضعف ہے۔ اور افغانستان کے لیے برٹش گورنمنٹ لے تحا\nسب سے سیدھا راستہ اُسکی ترقی اور آیندہ صلاح و فلاح کا ہے۔ افغانستان\nکی ہر طرح بہتری اِس مین ہے کہ وہ برٹش سلطنت کی دوستی کو غنیمت جانے\nمدبران سلطنت برطانیہ کا دلی منشاء ہے کہ عملداری افغانستان مستحکم ہو کر اُسکے\nاور روس کے درمیان حائل رہے۔ روس برخلاف اس کے ہمیشہ یہ چاہتا\nہے کہ افغانستان سد راہ ہے درمیان سے اُٹھ جائے۔\nامیر دوست محمد خان مرحوم ہندوستان مین بحیثیت نظر بند کے کچھ زمانہ\nرہے۔ یہ حالت ایسی ہے کہ انسان کو چندان تجربہ نہین حاصل ہونے دیتی\nتاہم امیر موصوف جنگ افغانستان کے خاتمہ پر جب کابل جا رہے تھے\nتو اُنہون نے رخصت ہوتے وقت گورنر جنرل سے بیان کیا تھا کہ ہندوستا"}
{"book": "adl0234", "page": 271, "text": "۲۶۲\n\nمیں جب سے آیا ہوں آپ کے علاقہ کو دیکھ رہا ہوں ۔ آپ کے قلعے۔ آپ کے\nسلح خانے۔ آپ کے جہاز قابل تعریف ہیں۔ آپ کی تجارت آپ کی ٹکسال\nنے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ انگریزی صاحب دانش و دولتمند\nقوم کابل جیسے ملک پر جہاں پتھروں و چٹانوں کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ قبضہ\nکرنے کی آرزومند ہو ۔\nامیر دوست محمد خان نے ہندوستان سے جا کر کچھ اصلاحین کیں۔ اول یہ کہ\nجو ورک شاپ اسلحہ جنگ بنانے کے سلطنت افغانستان میں جاری ہیں\nان کی بنیاد پہلے پہل امیر مرحوم موصوف نے اپنے لایق فرزند امیر\nمحمد افضل خان کے زیرنگرانی بلخ میں ڈالی۔ ان کارخانوں کا ذکر امیر عبدالرحمٰن خاں\nمرحوم کی سوانح عمری میں مذکور ہے ۔ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ اپنی طفولیت میں تعلیم و\nتدریس چھوڑ کر کارخانہ میں لوہاروں کے ساتھ بندوق سازی سیکھا کرتے تھے\nدوم باقاعدہ توپخانہ ۔ ترپ رسالہ پلٹنوں کے انتظام کی بنیاد ۔ امیر مرحوم\nممدوح نے ہی ہندوستان کی واپسی پر رکھی ۔ وہ اس کو ضروری سمجھتے تھے\nکہ اپنی فوج کو انگریزی طریقہ جنگ کی تعلیم دلائیں۔ اس غرض کے پورا کرنے\nکے لیے افسران فوج جو غدر ۱۸۵۷ء میں بھاگ کر افغانستان چلے گئے تھے\nملازم رکھ لیا اور ترکستان ۔ بخارا کی فوج میں مامور کر دیا۔ اس سے ثابت ہو\nکہ اگر امیر موصوف ہندوستان تشریف نہ لائے ہوتے تو ان کی توجہ اس\nضروری اصلاح کی جانب ہرگز مائل نہ ہوتی۔\nاعلحضرت ہزمیجسٹی امیر نے تمام شاہان افغانستان سے زیادہ ہندوستان\nکی سیر کی۔ امیر شیر علی خان انبالہ ۔ اور آپ کے پدر عالی قدر راولپنڈی تک\nآئے کسی نے جانا۔ کسی نے نہ جانا ۔ مگر ہزمیجسٹی نے قریب قریب تمام"}
{"book": "adl0234", "page": 272, "text": "۲۴۳\nہندوستان کی سیاحت فرمائی۔ آزادانہ پھر کر ہر چیز کو نظر غائر سے دیکہیا\nاُن کے اطوار ۔ اقوال نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک باخبر بیدار مغز حکمران\nہوشمند انسان اور راست کردار مسلمان ہیں۔ اُن کا قول ہے کہ میں سپاہی\nملا۔ اور بادشاہ ہوں۔ اور یہ بالکل سچ ہے۔ اگر افغانستان کا حکمران\nان ہر سہ صفات سے متصف نہیں تو کچھ بادشاہ نہیں۔\nوہ یہان ملک گیری اور فاتح کی حیثیت سے نہیں آئے تھے\nمگر اُنہوں نے فتح پائی۔ بلا امتیاز مذہب وملت وبلا استثناء قومیت\nوذات سب کو اپنے حُسنِ اخلاق سے مُسخر کیا۔ لوگوں کے دلوں پر اپنی محبت\nکا سکہ بٹھایا۔\nزور حکومت انسان کے جسمون کو مسخر کرتا ہے لیکن یہ شرف صرف\nاخلاق وبے تعصبی کو حاصل ہے جو انسان کے دلوں پر قبضہ کرتا ہے جسکو\nنہ کوئی قوت ہٹا سکتی ہے۔ نہ مدت بُھلا سکتی ہے۔ نہ جبر و وری کا اثر پڑسکتا\nہے۔ آپ کی باخبری و روشن خیالی سے امید ہے کہ جو بصیرت یہان\nکی سیاحت سے حاصل کی ہے اوسکو اپنی بہبودی ملک کے کام میں\nلائینگے۔ اپنے مفید خیالات کا اظہار عملاً فرمائینگے۔\nہندوستان کو زرخیز ملک ۔ رعایا کو بظاہر خوشحال۔ لوگوں کی جان\nمال کو محفوظ۔ ہر جگہ امن وامان پایا۔ اس اثر سے آپ متاثر ہوئے ہونگے\nاور اپنی سلطنت میں اس کی طرف توجہ مبذول فرمائینگے۔ ناواقف و\nنادانون کا یہ گمان تھا کہ ہز مجسٹی کو فن سپہگری کے متعلق اعلیٰ پایہ کی\nشاید واقفیت نہ ہو۔ مگر انگریزی فوج کی حالت دیکہ کر جو دلچسپی ظاہر\nکی اُس سے اس خیال کی تردید ہوگئی۔ جو خیال انگریزی سپاہ دیکہکر"}
{"book": "adl0234", "page": 273, "text": "۲۴۴\nقایم ہوا ہوگا اسکا تقاضا ہے کہ اپنی بہادر قوم کو تربیت یافتہ اُسی پایہ کا\nبنائین جو موجودہ زمانہ کے لشکرون کی مدافعت مین سپر کا کام دے۔\nانبالہ مین امیر شیر علی خان نے فوج کا ریویو دیکھکر جو رائے ظاہر\nکی تھی ہز مجسٹی نے اُسکے برعکس رائے قایم فرمائی۔ امیر شیر علی خان\nنے قواعد فوج انگریزی کو سُنا ہے کہ ایک طفلانہ کھیل سمجھا ۔ مگر ہز مجسٹی\nامیر حبیب اللہ خان نے اُسپر غائر نظر ڈالی۔ فوج کی آراستگی۔ فوج کی\nشایستگی۔ فوج کی تربیت ۔ فوج کی قواعد دیکھکر بے ساختہ تعریف کی ۔ اپنے\nسرداران کو مخاطب کرکے فوج کی خوبیون کی طرف خاص طور پر متوجہ کیا\nاس سے صاف ظاہر ہے کہ اعلحضرت فنون جنگ مغربی سے وقوف\nتام رکھتے ہین۔ یہہ واقعہ کابل کے دو فرمان رواؤن کے اخلاق\nوسابق وحال کی تہذیب پر ایک حد تک روشنی ڈالتا ہے۔\nگو سفر ہز مجسٹی دوستانہ دعوت کی غرض سے اور اُن کا تشریف لانا\nبطور سیر و تفریح تھا۔ لیکن غیر ممکن ہے۔ اس دوستانہ ملاقات ومحبت کا اثر\nپولیٹکل امورات پر نہ پڑا ہو۔ ایک امر تو یہی بیان کیا جاتا ہے کہ زکا خیل\nآفریدی جو سرحدی اقوام مین ایک جرگہ ہے اور جن کا دوستانہ واسطہ\nگورنمنٹ انگریزی سے نہین ہے۔ جب اُنہون نے ملاقات چاہی تو ہز مجسٹی\nامیر نے اُن کے ملنے سے انکار کر دیا۔\nیہان ایک واقعہ عہد ضیاء الملۃ والدین مرحوم کے بیان کی ضرورت"}
{"book": "adl0234", "page": 274, "text": "۲۶۵\nمعلوم ہوتی ہے۔ جس زمانہ میں سرحدی جنگ ہو رہی تھی اوسوقت ممتر یا جو رو دیگر سرحدی اقوام \nناکام ہوکر جلال آباد میں پہونچے۔ امیرمرحوم نے گورنجلال آباد کوحکم بھیجا کہ ان لوگوں کوتا حکم ثانی \nکابل آنے سے روکو لیکن اونکو بطور ایک مسافر مہمان ٹھہراؤ۔\nسنا گیا کہ گورنمنٹ ہند کو جب یہ خبر ملی تو امیرمرحوم سے اسبارہ میں استفسار کیا گیا۔ مرحوم\nمغفور نے لکھا کہ میں نے کوئی بات خلاف عہد نہیں کی۔ میرے اور آپکے معاہدہ میں کوئی \nایسی شرط نہیں ہے کہ میں اپنے بھائی مسلمانوں کو جو میرے ملک میں بحالت تباہی کسیطرح \nپہونچ جائیں۔ میں اونکو ایک وقت کے کھانا دینے سے مجبور سمجھا جاونگا۔ البتہ مجھپر یہ ضرور \nفرض ہے کہ آپکے مخالفون کو مدد قوجی یا امداد مالی ندی جاوے اسکامیں سختی کے ساتھ پابند \nہوں۔\nاب اسکا ثبوت یہی لیجئے۔ ملاہڈا کا ایک نائب جو شورش جاہلاء میں بڑا محرک تھا ایک \nدفعہ اوسکے مقام سکونت پر حملہ ہوا۔ اوس مقام کے باشندے بھاگ گئے تھے۔ گانون میں آگ \nلگادی گئی لیکن قبل لگانے آگ کے سردار قبیلہ کے گھر کی تلاشی لی گئی۔ جسمیں سے ایک \nفرمان دستخطی امیرمرحوم نکلا جو طلب امداد کے جواب میں تھا۔ فرمان میں تحریر تھا کہ میں جس\nگورنمنٹ سے معاہدہ کر چکا ہوں اوسکے خلاف کوئی امرکرنا مذہبًا واخلاقًا بُرا جانتا ہوں۔ اگر \nعہد کے خلاف ورزی کرون تو خدا و رسول کے روبرو گنہگار ٹھیرون تم لوگوں نے جو شورش \nبرپا کر رکھی ہے میں اسکو بھی مذہب کے خلاف جانتا ہوں جنگ اسلامی کے شرائط تمام مفقود\nہیں تمکو اس باغیانہ طریقہ سے باز آنا چاہئے۔\nناظرین یہ ہے راستبازی اور عہد کی پابندی جسکی اسلام تاکید کرتا ہے ہزمیجسٹی نے \nسرحدی قوم سے ملنے میں ناحق مضائقہ فرمایا۔ یہ امر بظاہر پولیٹکل حیثیت سے کوئی برا نہ تھا \nاگر اون لوگوں سے ملتے اور ہزرمی اپنے عادت و خصلت کی رو سے اون لوگوں کے \nتالیف قلوب فرماتے توکچھ عجب نہیں کہ اوسنکے ذریعہ سے وہ گروہ ہماری گورنمنٹ کا مطیع \n۳۴"}
{"book": "adl0234", "page": 275, "text": "۲۶۶\nو منقاد ہو جاتا۔ اور اوس گروہ کو بھی نفع پہونچتا۔\nاخبارات کی رائے سفر و سیاحت کے متعلق\nڈیلی ایکسپریس۔ افغانی و انگریزی تعلقات مستقل طور پر اطمینان بخش طریقہ سے قایم ہو جائینگے\nلطف آمیز پالیسی حسب خواہش نتائج پیدا کرنے میں کامیاب ثابت ہوگی۔\nسٹنڈرڈ۔ افغانستان کی ترقی اور آزادی۔ سرحدی استحکامات کی تجاویز کا ایک لازمی جزو ہے\nمارننگ پوسٹ۔ اس سیاحت سے پبلک پر یہ اثر ہوا کہ دو ہمسایہ سلطنتوں میں دوستانہ\nتعلقات ہیں۔\nڈیلی میل۔ رقم کرتا ہے چونکہ امیر صاحب ہمارے دوست ہیں انکی مدارات نہایت\nتپاک سے کریں انکی سیاحت موجودہ سے دوستانہ تعلقات اور بھی زیادہ مضبوط ہو جائینگے\nنصائح امیر عبد الرحمن خان مغفور\nامیر مرحوم نے جو نصیحتین اپنے جانشینون کو نہایت مفید و پیش بہا کین اونمین سے\nچند یہان لکھی جاتی ہیں۔\n(۱) بلا رو رعایت لوگون کو جو ملازمت اختیار کرین یا ملک مین اگر سکونت پذیر ہون مساوی\nحقوق عطا کرین اور انکو بلا امتیاز قوم وملت اپنی رعایا کی مانند سمجھین۔\n(۲) اپنے خاص لوگون اور عزیزون کو الاونس وغیرہ سے مدد دیگر کام کی طرف راغب کرین\nمگر جو کچھ انہین دیا جاے اوسکے مطابق کام بھی اون سے اوتنا ہی لیا جائے۔\n(۳) برطانیہ اعظم کی محض مدد پر بھروسہ کر کے غافل نہون ممکن ہے کہ وہ روابط سلطنت\nجو اسوقت افغانستان کے ساتھ ہین بدل دے یا کسی وقت افغانستان کو مدد دینا اپنی\nمصلحت کے خلاف سمجھین۔"}
{"book": "adl0234", "page": 276, "text": "۳۶۷\n(۴) ہمیشہ اوس سچے حکمت عملی کی پیروی کرنا چاہیئے جو ہمارے مذہب نے ہمکو سکھائی ہے\nیعنی ہر دشواری کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو اور خدا پر بھروسہ کرو ۔\n(۵) کوئی یورپین ملک میں آباد ہونے پائے جس وقت کوئی یورپین ملازم یا کاریگر یا معلم\nاپنا کام ختم کر چکے اور اہل ملک کو بخوبی کام آجاوے اور وہ اوسکی تعلیم کے محتاج نہ رہیں\nتب اوسکو ہدایت ہو کہ پیر وہ اپنے ملک کو واپس جائے ۔\n(۶) اگر افغانستان کو ایک عظیم الشان سلطنت بنانا چاہتے ہیں تو اتفاق کی قدر کریں\nکل شاہی خاندان ۔ امراء اور رعایا سب یک دل یک رائے ہمخیال ۔ متفق الاغراض\nہو کر اپنے گھر کی حفاظت کریں ۔\n(۷) اگر با وجود صلحناموں کے انگریز میرے خاندان کے دشمنوں کو مدد دیں تو اوس حالت\nمیں بہادروں کی طرح لڑ کر فیصلہ کر لیں اپنے دشمن کو ملک سے نکال دیں اگر خود شکست\nکھائیں تو انگریزوں کے خلاف کسی دوسری سلطنت کی حمایت میں جاویں ۔\n(۸) بمقابلہ متوسلین برطانیہ کے روس کے متوسلین سے زیادہ ہوشیار رہیں ۔\n(۹) میرے بیٹے کو چاہیے کہ قوم پر ثابت کردے کہ وہ ایک مستقل مزاج مصائب الرآ\nجفاکش اور محب وطن بادشاہ ہے ۔\n(۱۰) اس درجہ خود رائے نہو کہ کبھی اپنے مشیروں سے مشورہ نہ لے اور نہ کوئی مشیر اسکے\nمزاج میں اتنا دخیل ہو کہ اسے موم کی ناک بنائے ۔\n(۱۱) ملک میں ہر شخص میرے لیکر فقیر تک اسبات کا مجاز ہو کہ کسی معاملہ میں اگر وہ بادشاہ\nکو اطلاع دینا چاہے تو براہ راست خط و کتابت کر سکے ۔\n(۱۲) علاوہ روزانہ فرائض کے اپنا علم و معلومات بڑھانے کیلئے کوئی وقت مقرر کریں ۔\n(۱۳) سلطنت کے استحکام کے لئے فوج کی جانب توجہ اور اوسکا نو ایجاد اسلحہ سے مسلح ہونا\nجدید فنون جنگ کی کتابیں پڑھنا نہایت ضروری ہے ۔"}
{"book": "adl0234", "page": 277, "text": "۲۶۸\n\n(۱۴) غلے کے انبار خانے اور صلح خانے ہمیشہ بھرے رکھیں۔\n(۱۵) محکموں کے قوانین اور ملکی عدالتوں کی توسیع کریں ملک کی ترقی و تہذیب کے\nلحاظ سے قانون میں اصلاح کرتے جائیں۔\n(۱۶) نئی سٹرکیں بنوائیں مگر ریل و تار کا بنوانا اسوقت تک ملتوی رکھیں جب تک ہمارے\nپاس ملک کی حفاظت کے لیے کافی فوج جمع نہ ہو جائے۔\n(۱۷) محکمہ مخبری و خفیہ پولیس کو ہمیشہ اچھی حالت میں رکھیں۔\n(۱۸) معدنیات و دیگر ذرایع دولت سے فائدہ اُٹھائیں۔\n(۱۹) کبھی غیر ملک والے کو ریل یا معدنیات کا ٹھیکہ نہ دیں بلکہ خود ریل بنائیں اور کانیں\nکھودیں اگر غیر ملک والوں کو اجارہ دینے کی ضرورت و مصلحت ہو تو کم کم اجارے دئے\nجائیں۔ اور اون اقوام کو دئے جائیں جنکے ملک ہمارے ملک سے متصل نہون مثلاً\nاطالے ۔ امریکن ۔ جرمن بلکہ یورپین ملازموں کی ضرورت پیش آئے تو بہی انہیں لوگوں\nکو ترجیح دیں۔\n(۲۰) اپنے قول اور وعدہ پر ثابت قدم رہیں۔ ہمیشہ جھوٹے وعدہ شکنی سے احتراز کریں\n(۲۱) جب ریل و تار لگانے کا وقت آئے تو پہلے ملک کے اندرونی حصہ میں سرحدوں\nسے دور بنائیں۔\n(۲۲) جب افغانستان کو سمندر تک رسائی ہوگی تو ملک بہت جلد دولتمند و آسودہ\nحال ہو جائیگا۔ افغانستان کا جنوبی و مغربی کونہ خلیج فارس و بحر ہند سے ملا ہوا ہے اور\nاوسی کے قریب ایک چھوٹا سا میدان قندہار ۔ بلوچستان ایران اور کراچی کے درمیان\nواقع ہے میرے بیٹون اور جانشینوں کو چاہیے کہ ہمیشہ اوس کونے کی تاک میں رہیں\n(۲۳) مختلف ممالک کی طرز حکومت پر غور کریں جو طریقہ زیادہ پسندیدہ ہو اور حسب\nحال ملک ہو اوسے اختیار کریں۔ میرے نزدیک بہترین اصول حکمرانی وہ ہے جو دنیا کے"}
{"book": "adl0234", "page": 278, "text": "۲۶۹\nسب سے بڑے مقنن نبی برحق محمد مصطفیٰ صلعم نے قایم کیا تھا یہ جمہوری سلطنت کا\nاصول تھا ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل تھا اور غلبہ آرا کی پیروی کیجاتی تھی\n(۲۴) آخرین یہ کہونگا کہ اگر خدا نے مجھے چند سال اور زندہ رکھا یا میرے بعد\nافغانستان خانگی جھگڑوں اور بیرونی حملوں سے محفوظ رہا اور میرے بیٹے وجانشین\nمیری ہدایت و نصیحت کے موافق چلے تو دولت افغانستان کا انجام بہت اچھا ہوگا\nاور مجھے امید ہے کہ انشااللہ یہ دنیا میں ایک عظیم الشان سلطنت ہوگی۔\nاب یہاں چند تجاویز پیش کیجاتی ہیں\nبڑی ضرورت اسکی ہے کہ ملک میں جو جگہ مناسب ہو ایک سالانہ اجتماع کانفرنس\nکی شکل میں ہونا چاہیے جسمیں بڑے بڑے سرداران قبائل عموماً اور طبقہ علماء و ملا کو خصوصاً\nشرکت کی تحریک کیجائے تاکہ تبادلہ خیالات کا لوگوں کو موقع ملے اجنبیت دور ہو کر\nیکجہتی کی بنیادیں مستحکم اور خاندانی و قبایلی عداوتیں رفع ہوں۔ کانفرنس کے ساتھ ضرورتاً\nملک کے لحاظ سے ایک نمائش کھولی جائے اور جسقدر اشیاء ملک کی قدرتی و صنعتی\nبہم پہونچ سکتی ہیں وہ وہاں لائے جائیں۔ اسکے علاوہ جن ضرورتوں کو ملک نہیں پورا\nکرتا ہے اور جو اشیاء ممالک غیر سے منگوائی جاتی ہیں وہ بھی اس نمائش میں فراہم\nکی جاویں تاکہ اہل ملک کو انکے بنانے کی جانب رغبت ہو اور ترغیب دی جاوے\nاس ذریعہ سے ضرورت کی چیزیں بآسانی ایک جگہ سالانہ مل سکیں گی۔\nمسلمانوں کی حالت آئیڈیل نہیں کے فرق سے ہر ایک ممالک میں یکساں ہے\nلیکن ہر شخص اس قوم کا اپنے ملک سے دوسرے ملک کے مسلمانوں کو اچھی حالت\nمیں خیال کرتا ہے اسکا بڑا سبب یہ ہے کہ تبادلہ خیالات اور ایک کو دوسرے کے\nصحیح حالات کا اندازہ نہیں ہوتا۔"}
{"book": "adl0234", "page": 279, "text": "۲۷۰\nنہایت افسوس و دلسوزی سے کہا جاتا ہے کہ آجکل مسلمانون کی حالت کسی ملک مین\nہون ۔ اعلی ہون یا ادنیٰ آسودہ ہون یا تنگدست یکسان تنزل پذیر ہے۔ نہ اونمین اخلاق کا\nجوش نہ تہذیب کی روشنی نہ قومی فیلنگ نہ سچی مذہبی جذبات نہ خون مین گرمی نہ\nدلون مین غیرت اُخوت و اتفاق کا شیرازہ بکھر گیا ہے ۔\nایک حال کا مورخ لکھتا ہے کہ اب مسلمان رعونت و پندار سے جو اونکے دماغون\nمین موجزن ہے یورپ کے تمام ذہنی و دماغی ترقیون کو اپنے اسلاف کے تاریخی نوشتوں\nمین ٹٹولتے ہیں ۔ بیسوین صدی کی سویلزیشن کو قرطبہ و غرناطہ کی مسجدون مین تلاش کرتے\nہیں وہ یورپ کے علما کا سلسلہ شاگردی اسپین کے مسلمان علما تک پہونچاتے ہیں اور\nاسی پر بس کرتے ہیں۔ مکینکس (جر ثقیل) کی حیرت انگیز ترقی ۔ اسٹیم انجن بارود و آتش\nفشان اسلحہ جنگ کی ایجاد نے مسلمانون کی جسمانی و ذہنی ترقی کو یک لخت روکدیا۔ اونکے\nعلمی عملی حدود کو بالکل تنگ کر دیا۔ مسلمان اس عظیم الشان انقلاب کو بے پروائی سے\nسرسری سمجھتے ہیں۔ اور اب تک اونگو وہی دلفریب خواب نظر آتے ہیں جو اونکے گذشتہ\nفتوحات کی دہندلی تصویر کھینچتے ہیں۔ اون کا تنزل روز افزون و عالمگیر ہے وہ اسباب\nتنزل سے بیخبر ہین اور اسی لئے قومون کی علمی عملی دوڑ مین منزلون پیچھے رہ گئے ہیں۔\nعیسائی مورخ کا یہ مقولہ تلخ و دل حراش ہے مگر بالکل سچ ہے ۔ مورخ نے ہماری\nموجودہ حالت کی صحیح تصویر اپنے الفاظ مین کھینچی ہے ۔ ہم اپنی قومی تاریخ کے رنگین\nالفاظ بار بار دہراتے ہین مگر اپنی پستی و تباہی سے بالکل بخبر ہین کوئی آئینہ ایسا سامنے\nنہین جسمین ہمارے خط و خال صاف نظر آئین ۔\nسالانہ کانفرنس ہی ایسا مفید مجمع ہو گا جو اس بڑے نقص کو رفع کر سکے گا ۔ اور نمایش\nزیادہ نفع پہونچائے گی ۔\n۱؂ ماخوذ از لکچر مولوی محمد وحید الدین سلیم پانی پتی کانفرنس شاہجہانپور ۔"}
{"book": "adl0234", "page": 280, "text": "۲۷۱\n\nافغانی طلبا و آمدنی کانفرس ۔ نمایش و نیز سلطنتی وظایف سے ہر سال یورپ امریکا\nو جاپان کے دارالعلومون مین تحصیل علوم و فنون کی غرض سے بھیجے جایا کرین ۔ جو بعد\nتعلیم اپنے ملک مین اشاعت فنون و کمالات کے ذرایع ہون ۔ نوجوانون کے یورپ\nبھیجنے مین جو خطرات پیش آتے ہین انکے انسداد کا خیال پہلے سے ملحوظ رکھا جاوے\nورنہ نوجوانون کا وہان جانا نقصانات سے بری نہین ہوا کرتا ہے ۔\n\nجلیبیہ دارالعلوم کے لئے تعلیم یافتہ ملکون سے پروفیسر بلائے جائین اپنے دوستون\nکے ملکون سے ہم مذہب استاد جہان تک مل سکین انکو ترجیح دیجاوے ورنہ دوسرے\nملکون سے غیر مذہب کے علما وے لئے جاوین بڑے بڑے مرکزون مین مردم شماری\nکے اعتبار سے اس کالج کی شاخین ہون ۔ تعلیم کے ساتھ ابناے ملک کو حب الوطنی\nسکھلائی جاوے ۔ دست کاری و حرفت کو ترقی دیجاوے ۔\n\nافغانستان مین مطالع و اخبارات کا قانون وضع ہو کر مطابع کی توسیع کی جاوے\nدنیا کے مشہور اخبارات و رسالہ منگوایے جاوین انکا ضروری و مفید انتخاب ملکی\nزبان مین شایع ہوتا رہے جس سے اہل ملک با خبری حاصل کرین۔\n\nایک سررشتہ تالیف و تراجم کا قایم کیا جاوے جسطرح آجکل یورپین سائینس کی کتابین ترکی\nزبان مین موجود ہین ۔ فارسی مین بھی اوسی قسم کا ذخیرہ جمع ہو ۔ اس غرض کے پورا کرنے\nکے لئے اگر ایران و مصر و ترکی سے کچھ اہل علم جہان تک مصلحت و زمانہ اجازت دے\nبلواے جائین ۔ طہران مین بہت سے علوم و فنون کی کتابین ترجمہ ہو کر فارسی مین طبع\nہو چکی ہین۔ مصر مین بہت سے سائینس کی کتابون کے عربی ترجمے موجود ہین وہ منگواے\nجائین حتی الامکان اپنی زبان کو زیادہ ترقی دیجاوے ۔ بیگانہ زبان سے خیر کا ہے فائدہ\nسمجھے اپنا ہو سو خیریت ہے اسکے لئے یہ ہونا چاہئیے کہ جن باتون مین اس زمانہ کو ناز ہے\nانکی تحقیق و تحصیل کیجاوے اور علوم جدیدہ کو اپنی زبانین لایا جاوے ۔ ترکی زبان مدارس"}
{"book": "adl0234", "page": 281, "text": "۲۷۲\n\nمیں جاری ہو۔ جو فارسی خوان و عربی دان کو چند مہینوں میں بآسانی آسکتی ہے زبان ترکی\nمیں ایک سلطنتی زبان ہونے کی وجہ سے علوم جدیدہ کے بڑے ذخیرے پائے جاتے\nہیں ۔ اور جو علوم ایشیائی زبان میں نہ ملیں وہ یورپ کی زبان میں حاصل کئے جائیں۔\n\nعلوم سے خدا کی حیرت انگیز قدرت کا مطالعہ ہوتا ہے\n\nکلام ربانی علوم کے سیکھنے کی ہدایت فرماتا ہے ۔ اور تمامی علوم سے جنکو علوم طبیعیہ\nیا علوم جدیدہ یا نیچرل سائینس کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ ملکوت السموات والارض\nکا مشاہدہ اور خدا کی عظیم الشان و حیرت انگیز قدرت کا مطالعہ ہوتا ہے ۔ اسٹرانومی\nAstronomy (علم ہیئت) سے خدا کی لا انتہا قدرت کے عجائبات جو آسمان\nپر جلوہ گر ہیں معلوم ہو سکتے ہیں ۔ جیالوجی Geology (علم الارض) مٹرالوجی\nMeteorology (علم معدنیات) سے خدا کی تعجب خیز قانون قدرت کی نشانیاں\nجو کرہ زمین کا اندر پوشیدہ ہیں میٹرالوجی Meteorology (علم حوادث جویہ) کے مطالعہ سے فطرت\nکے وہ عجیب جلوے جو ہوا سے محیط کرہ زمین نمایاں ہیں زوالوجی Zoology (علم الحیوان) بوٹینی\nBotany (علم نباتات) جو قدرت کے عمیق اسرار جو طرح طرح کے جانوروں اور رنگارنگ نباتات کی طبیعت\nمیں ودیعت ہیں ہیومن اناٹومی Human Anatomy (علم تشریح الانسان) اور ہیومن فیزیا لوجی Human Physiology\n(علم افعال اعضائے انسانی) سے خدا کی اون نشانیوں کو جو اوس نے انسان کی\nجسمانی ترکیب واعضا کے مختلف حرکات میں رکھے ہیں دریافت کر سکتے ہیں۔\n\nعلوم میں تحقیقات کا سلسلہ\nجاری ہے۔\nفی زمانہ علوم میں حیرت انگیز تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے\nعام تاریخ کو لیجئے تو فن کتابت کے ایجاد سے زمانہ حال تک\n\nکل قوموں کے حالات و واقعات پر تمدنی ہوں یا اخلاقی نہایت تفصیل سے بحث\nماخوذ از الیکسیر مولوی وحید الدین سلیم ۔"}
{"book": "adl0234", "page": 282, "text": "۲۷۳\nہوتی ہے۔ تاریخ خاص کو دیکھتے تو ایک زمانہ ایک قوم۔ ایک ملک۔ ایک سلطنت\nایک شہر۔ ایک خاندان۔ ایک شخص یا ایک موضوع خاص پر بسیط بحث کیجاتی ہے۔\nتاریخ خاص کی بہت مثالین ہین مثلاً تاریخ تمدن جسمین کسی قوم یا ملک یا زمانہ کی تہذیب و\nتمدن کے مسلسل حالات بیان کئے جاتے ہین۔ اسیطرح علوم کی تاریخ۔ اخلاق صنعت\nحرفت۔ تجارت۔ مذہب۔ نظم سلطنت۔ فلسفہ۔ شاعری۔ زبان۔ ایجاد و انکشاف\nقانون۔ رسم و رواج۔ بحری و بری معرکے۔ فوجی انتظامات۔ ریلوے۔ ٹیلیگراف\nاسٹیمر و انجن۔ ڈاک۔ تجارتی کمپنیون کی تاریخ جن مین واقعات کو ترتیب دینے اور\nاونکے اسباب و نتائج نکالنے۔ ایک سلسلہ کو دوسرے سلسلہ سے مربوط کرنے پر\nنہایت شرح و بسط سے بحث کی گئی ہے۔\nاسی پر آپ علوم ریاضیہ کو قیاس کرین جسمین۔ علم حساب۔ مساحت۔ ہندسہ\nمثلث مستوی و کردی۔ جبر و مقابلہ۔ فصول۔ مخروطی بالہندسہ وبالجبر حساب الکلیات\nحساب الجزیات۔ حرکت۔ سکون۔ ہیئت۔ موسیقی وغیرہ شامل ہین۔\nعلوم طبیعہ جسمین علم طبعی۔ کیمیا۔ برق۔ مقناطیس۔ آواز۔ ہوا ۔ آب۔ روشنی\nحرارت حیوانات ۔ نباتات ۔ جمادات۔ افعال الاعضا۔ تشریح۔ طب۔ علم الارض\nجغرافیہ۔ حوادث۔ جویہ وغیرہ داخل ہین۔\nدیگر علوم جیسے فلسفۃ النفس والقوی۔ علم تمدن۔ قوانین۔ علم الاخلاق\nاقتصاد سیاسی سیاست۔ فلسفہ مذہب۔ فلسفتہ الامثال وغیرہ ہین۔\nعلوم کے دائرہ کو روز بروز وسعت ہے۔ کوئی پیشہ کوئی کام کوئی فن اور کوئی ہنر نہین\nہے جسمین ان علوم کی مدد سے ترقی نہوتی ہو۔\nمسلمانون کو مہربان مربی کی ضرورت ہے جو اونکو تجارت و صنعت و حرفت کے\nسامان مہیا کردے اونکو تعلیم دلائے تاکہ اونکے دماغ شگفتہ۔ دل زندہ ہون ہوشیاری"}
{"book": "adl0234", "page": 283, "text": "۲۷۴\nو قابلیت سے وہ اپنے فرایض کو انجام دین۔ اور وہ مارشل اسپرٹ پیدا ہو جسکے لئے\nہمارے بہادرالوالعزم بزرگان سلف نامور ہین۔ مذہبی علوم مین بھی ایسی ہی ترقی\nکرین جیسے دنیوی علوم مین اونکو عمدہ اخلاق و تہذیب سکھا ؤ و تربیت دینے کے\nلیے روحانی معلم ہون جنکے مذہبی تقدس و دینی تبحر کا مرتبہ قوم مین مسلم ہو اور وہ شایستہ\nاخلاق وعمدہ ترین صفات کا نمونہ ہون ہر دیکھے مسلمان گروہ گروہ اور جوق جوق نظر\nآئین جو اخلاق و شرافت کے زیور سے مزین۔ جنکے دماغ علم کی روشنی سے منور\nجنکے خیالات پاکیزہ ۔ رائین سلیم جنمین قومی جوش اسلامی حمیت کوٹ کوٹ کر بھری ہو\nقوم کے پر زور عنصر۔ ملک کے سچے خیر خواہ۔ اور سلطنت کے طاقتور بازوجو قومی عزت\nقایم رکھنے اپنے ملک کو دشمن کے حملہ سے بچانے ۔ اور گورنمنٹ کی اطاعت مین\nوفاداری و نمک حلالی کے جوہر دکھانے مین ثابت قدم ہون اونمین ایک گروہ ہو\nجو امریکہ دیورپ و جاپان مین اشاعت اسلام کے لئے زبان سے قلم سے سرگرمی\nکے ساتھ مصروف رہے۔ ایک جم غفیر ہو جو تمام روی زمین پر اپنے ملک کی مصنوعی\nدست درتی اشیاء کو جہازون مین بھر بھر پہنچاتا و پہلاتا۔ اور بحری و بحری ملکون مین اپنی تجارتی\nقوت کا نقشہ جماتا اور قومی دولت بڑہاتا نظر آئے۔ او نمین مین ایک گروہ ہو ایجا د\nو اختراع سے نئے نئے صنعتین و نئی نئی چیزین پیدا کرتا اور مہذب قومون کے\nصناعون سے مقابلہ کرتا دکھاے دے۔\nایک جماعت محققین علما و فضلا کی ہو جنکے دماغی محنتون و ذہنی سرگرمیون سے\nعلمی دائرہ ہر روز وسیع ہوتا جائے۔ واعظ جدا ہون جو قوم کو خوفناک برائیون سے مطلع\nکرتے رہین۔\nکچھ ان مین ایسے ہون جو کئیکر کر زمین کا چکر لگا چکے ہون۔ اور مختلف ملکون\nاور قومون کے حالات دیکھکر اپنے ملک وقوم کے حالات سے موازنہ کر چکے ہین۔"}
{"book": "adl0234", "page": 284, "text": "۲۷۵\n\nاپنی سیرو سفر سے قوم کے عیوب و خرابیان پر تنبہ کرچکے ہین۔ غرضیکہ اونین ہر قسم\nاور ہر طبقہ کے لوگ ہون جو قوم و ملک کے سچے بہی خواہ قومی دولت قومی جاہ حشمت\nقومی عزت۔ قومی تہذیب کے ترقی دینے مین یکسان بے چین و یکسان مصروف\nہون اونین علمی سوسائٹیان۔ مذہبی انجمن۔ اخلاقی کلب۔ صنعت و حرفت کے\nکارخانے۔ تجارتی کمپنیاں۔ کتب خانے۔ کالج موجود ہون تاکہ ایک سرے سے\nدوسرے سرے تک قوم کے اجزا متحرک و موجزن ہون اور ملک مین ایک تنفس بھی\nبے شغل نہ پایا جائے۔\nترقی کے لیے جغرافیے حیثیت۔ مقامی حالت۔ گورنمنٹ ہند سے اتحاد\nپوری آزادی۔ روس و انگلستان کا متحدالاعراض ہونا۔ بجز انگلستان نہ کسی سلطنت کے\nکا سفیر۔ نہ غیر قوم کا مشنیری۔ ہر طرح امن و امان زمانہ موافق۔ قوم قوی القویٰ صحیح الدماغ\nمستقل المزاج۔ پابند مذہب۔ محنتی۔ جفاکش اور ہر زمانہ کی ضرورتون کا اوسمین\nاحساس۔ غرضیکہ سامان سب قابل اطمینان مہیا ہین۔ پس کچھہ وقت اور فضل خدا\nدرکار ہے جو ہر ترقی کرنے والے ملک و قوم کے لئے لازمی ہے۔\nمعاہدہ روس و انگلستان جو حال مین ہوا ہے ممکن ہے کہ اسکا آیندہ افغانستان\nپر کوئی اثر مرتب ہو مگر سمجھ دار و قومی قوم ہر حال مین یارو اغیار سے نفع ہی اوٹھاتی ہے۔\nجس فرمان روا کو امیر عبدالرحمن خان جیسے دانشمند۔ مصلحت بین۔ مدبر۔ دعررض\nحکیمانہ خیال حکمران سے بی بہا نصایح و تربیت حاصل ہوئی ہو۔ اور جو خود بھی روشن\nخیال رفتار زمانہ سے آشنا۔ قومی ضرورتون سے باخبر ہے اسکی ذات سے ہر طرح\nامیدین بہبودی و بہتری کی ہین۔\nاب ہم بارگاہ صمدیت مین خلوص سے دعا کرتے ہین کہ اعلیٰحضرت شاہ افغانستان\nہر مجسٹی امیر حبیب اللہ خان خلداللہ ملکہ کی حیات مین سلطنت کابل اوج کمال کو پہنچے\n\nحاشیه:\nله معاہدہ انگلستان و روسیہ\nکا سفیر یہان قائم ہو۔ مؤلف"}
{"book": "adl0234", "page": 285, "text": "۳۷۴\nاوسکے باشندے آباد اوسکے خزاین معمور۔ اوسکے قلعے مستحکم بالکل۔ اوسکے پہاڑ سرسبز۔ اوسکے مدارس مشحون بالعلوم۔ اوسکے کارخانے مملو۔ اوسکے جاہ وجلال کے سمندر۔ موجزن ۔ اوسکے وقار کے آسمان با تمکین اوسکے دشت شاداب! وسوقت تک رہین جب تک آفتاب مین روشنی ۔ ثوابت کو قرار اور سیار کو دوار ہے۔ اے رب العزت فرمان روائے افغانستان کو\nدین و دنیا مین آبرو دیجیو        دونون عالم مین سرخرو کیجیو\nمصرع این دعا از من و از جمله جهان آمین باد\nخاکسار\nنادر علی"}
{"book": "adl0234", "page": 286, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0234", "page": 287, "text": "گزارش\nخداکے فضل وکرم سے یہ مطبع چالیس برس سے جاری ہے\nاسمین عربی فارسی اُردو ہندی ہر قسم کی کتابت نہایت صحت اور\nصفائی اور ہر قسم کی خوبی سے چھپ سکتی ہے تصفیہ چھپائی\nبذریعہ خط کتابت کے طے ہو سکتا ہے۔\nنہایت بیش بہا کتابین اور قرآن مجید مطبع مین فروخت\nکے لئے موجود ہین جن کی فہرست درخواست کرنے پر بھیجی\nجائیگی اور ہر قسم کامال شرائط مقررہ کے موافق ہماری معرفت\nقیمت آنے پر یا ویلیو پے ایبل کے ذریعہ سے روانہ ہو سکتا\nہے۔ کسی خاص معاملہ کے اطمینان کو ہزارون روپیہ کی\nگارنٹی دی جاسکتی ہے۔\nنی منداکر\nخواجہ صدیق حسین منیجر مطبع آگرہ اخبار- آگرہ"}
{"book": "adl0234", "page": 288, "text": "مصنف کی دیگر تصانیف\n۱- انتخاب نادر۔ اس کتاب میں طب قانونی کے مسلمہ اصول ۔ غوامض قوانین کی\nتوضیح ۔ مضامین مشکلہ کی تشریح ۔ واقعات سے نتائج نکالنے اور شہادت پر قیاس قائم\nکرنے کے قواعد ۔ تفتیش و بحث و تجویز کے طریقے مختصر و جامع الفاظ میں بیان کئے\nگئے ہیں۔ خاص مسائل فوجداری و میڈیکل جیورس پروڈنس میں اس جامعیت\nکی کوئی دوسری کتاب واحد اب تک موجود نہیں قیمت ۶/\n۲- مرائت العرب ۔ اس کتاب میں ارکان و آداب حج وزیارت کے ساتھ\nعرب کے طرز تمدن و معاشرت ۔ تجارت و صنعت و حرفت و سیاست و\nبردہ فروشی وغیرہ مضامین پر بحث کی گئی ہے ۔ مسافران حجاز کے لئے\nیہ بہترین رہنما ۔ اعلیٰ رفیق اور کامل ہدایت نامہ ہے جس کی موجودگی میں\nنہ مطوف کی ضرورت نہ مزور کی حاجت ۔ یہ عرب کے اصلی خط وخال اور\nصحیح حُسن و جمال کی ہو بہو تصویر ہے ۔ قیمت ۴/\n۳- واقعات حجاز ۔ جسمیں واقعات حجاز ۱۳۲۶ ہجری کے حالات و سفر حج جناب\nبیگم صاحبہ بھوپال ۔ برٹش گورنمنٹ کی شاہانہ عنایات و سلطان المعظم کے خسروانہ الطاف\nو احسانات ۔ اہل عرب کی سچی فیاضیاں ۔ ہندوستانیوں کی غلط فہمیاں و حج میں\nفیما بین عرب و اہل ہند کے جو غلطیاں پیدا ہو گئی تھیں ۔ یا ہوتی جاتی تھیں اُنکے\nرفع کرنے میں مصنف کو ایک حد تک کامیابی ہوئی ہے۔ قیمت ۱۲/\nالمشتہتر ۔ خواجہ صدیق حسین پروپرائٹر آگرہ اخبار ۔ آگرہ"}
{"book": "adl0234", "page": 289, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0234", "page": 290, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0234", "page": 291, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0234", "page": 292, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0234", "page": 293, "text": "[BLANK PAGE]"}
